584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 22

Fareb Nazar by Gazal Saima

“کیا کر رہی تھیں آپ وہاں؟ کیا ضرورت تھی وہاں جانے کی؟”

اسفر کی خشمگی نظروں اور چبھتے سوالات کا سامنا کرتے ہوئے لائبہ شدید کوفت کا شکار تھی۔

“مجھے کچھ یاد نہیں اسفر۔ میرا یقین کریں۔”

آنسوؤں سے تر چہرہ لیے وہ بےبسی سے بولی تھی۔

اپنی اس بھولنے کی بیماری پر اسکا اختیار ہی کب تھا۔

“شاہان فاروق۔۔۔ وہی ڈیپارٹمنٹ تھا وہ۔ اسی کا۔”

انتہائی زہریلا انداز تھا اسفر کے جتلانے کا۔

لائبہ کا رنگ پھیکا پڑگیا۔ اس نے پلکیں اٹھاکر اس ستمگر کو دیکھا جو بہت غور سے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔

“مجھے کچھ بھی یاد نہیں اسفر۔”

مری مری آواز میں کہتی اپنا نچلا ہونٹ دبائے وہ اور بھی شرمندہ ہوئی۔

جانے کب کب مجھے۔۔۔ اور اس ظالم شخص کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا۔

سوچ کر وہ اور بھی الجھ گئی۔

“لائبہ اسفر۔ آپ اسے ہی وہاں ڈھونڈنے گئیں تھیں اور جب وہ آپکو نہیں ملا تو اس صدمے سے آپ بیہوش ہوکر گر پڑی۔”

اسفر کے چہرے پر پھیلی بےپناہ سختی لائبہ کے حواس شل کرنے لگی۔

ایک طرف اسکی من چاہی محبت اور دوسری طرف یہ ستمگر

لائبہ لب کاٹ کر رہ گئی۔ اسکے حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکنے لگا۔

اسکا اقرار یا انکار ویسے بھی اسے مطمئن کرنے والا نہیں تھا۔ ہنوز متورم آنکھیں لیے وہ خاموش رہی۔

“میرے کسی سوال کا آپکے پاس کوئی جواب نہیں۔”

خفگی سے وہ اسکی طرف جھکا۔

تاکہ اسکی آنکھوں میں براہ راست دیکھ سکے۔

اور اسے کوئی بھی جواب دینے پر اکسا سکے۔

لیکن لائبہ کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی۔

اسی طرح سے خاموش، خالی پن سے وہ اسے تکتی رہی۔

“ایک دن آپکو میرے سارے سوالوں کے جواب دینے ہونگے۔

ضرور دینے ہونگے۔”

مشکوک نگاہوں سے اس نے لائبہ کے چہرے کا طواف مکمل کیا۔

وہ اسفر کا شک دور کرنے میں ناکام رہی تھی۔

“چلیں ہمیں مینشن واپس جانا ہے۔”

دفعتا” اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ لائبہ اسے تھام کر باآسانی کھڑی ہوسکے۔

“اس مہربانی کی بھی کیا ضرورت تھی۔”

اپنی سوچ میں ڈوبی۔

اسکا ہاتھ تھامنے کے بجائے وہ سنبھل کر خود سے کھڑی ہوچکی تھی۔

ہسپتال کا وہ بیڈ جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ لیٹی ہوئی تھی اور

اسکا ٹریٹمنٹ کیا جارہا تھا خالی ہوچکا تھا۔

اسفر نے خفگی کی نظر اس خالی بیڈ پر اور پھر کچھ ہی

دور کھڑی لائبہ پر بڑی فرصت سے ڈالی تھی۔

“میں تم سے لائبہ اسفر یہی ایکسپٹ کر رہا تھا۔”

اسکی بڑبڑاہٹ ہمیشہ کی طرح بےآواز لیکن عین موقع کی مناسبت سے تھی۔ لائبہ اسے نہیں سن سکتی تھی۔

اگر وہ ضدی اور اکڑ مزاج تھا۔۔۔ تو وہ بھی خودسر اور اپنی مرضی کی مالک تھی۔

اپنے اوپر چادر درست کر کے ڈالتے اس نے اسفر کو ایک بار بھی دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔

اسکا مسلسل اگنور کرنا اسفر کو اور بھی غصہ دلا رہا تھا۔

لیکن اسے لیے بنا وہ بھی وہاں سے ٹلنے والا نہیں تھا۔

“کیا اب ہم چل سکتے ہیں؟”

اسے تمام فرصت سے کھڑا دیکھ کر اسفر نے خاصے روکھے پن سے پوچھا۔

“بالکل۔” سرسری سا جواب دے کر لائبہ نے باہر کیطرف قدم بڑھا دیے۔

“ضدی کہیں کی۔”

پیچھے آتے اسفر کی ایک اور بےآواز بڑبڑاہٹ ادا ہوئی۔

“اکھڑ کہیں کا”

آگے چلتی لائبہ کی ایک اور قدرے دھیمی لیکن سننے کے قابل

بڑبڑاہٹ نے اسفر کی سماعت پر دستک دی۔

اسکے پیچھے چلتے چلتے ہی اس نے ناگواری سے اسے گھورا تھا۔

“بہتر ہوگا کہ آپ تھوڑا آہستہ بڑبڑایا کریں۔”

لائبہ کے کان میں سرگوشی کرتا وہ اب اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

“بہتر ہوگا کہ آپ اپنے کان بند کر لیا کریں۔”

اسکو اپنے مقابل چلتا دیکھ کر وہ اور بھی بھڑکی۔

“یہ ناممکن ہے۔ کان بند نہیں کیے جاسکتے۔”

جواب ہی جواب میں جان بوجھ کر اسفر بات بڑھانے لگا۔

جھنجھلا کر لائبہ نے پلکیں اٹھاکر اسے دیکھا۔

اب وہ اسے موقع بے موقع دیکھنے۔۔۔ گھورنے۔۔۔ تکنے کی جسارت اکثر کرلیتی تھی۔

اسے ایسا کرنے پر خود اسفر نے ہی ابھارا تھا اور اسکے ایسا

کرنے پر وہ کسی بھی قسم کا ریکشن بھی شو نہیں کر رہا تھا۔

شاید وہ چاہتا تھا کہ لائبہ ڈرا ہوا۔۔۔ سہما ہوا۔۔۔ رہنے کے بجائے دیدہ دلیری سے اسے جواب دیا کرے۔۔۔ اسے گھور کر دیکھا کرے اور اسکی باتوں پر اپنا فل ریکشن ظاہر کیا کرے۔

جو بھی تھا لائبہ نے اسکی اس فراخ دلی کا پورا پورا فائدہ

اٹھانا شروع کر دیا تھا۔

“اپنی عادت بدلنا میرے بھی بس میں نہیں۔ یہ بھی ناممکن ہے۔”

وہ دونوں کار تک پہنچ چکے تھے۔ جب لائبہ نے اسفر کو گھورتے ہوئے برجستگی سےکہا۔

“تم مجھ پر کبھی خود کو مسلط نہیں کرسکتے اسفر۔”

خیالوں ہی خیالوں میں وہ سوچے گئی تھی۔

“تو پھر آپ بغیر آواز کے بڑبڑایا کریں۔ جیسے میں کرتا ہوں۔”

خاصی لاپرواہی سے کہتا ہوا اسفر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔

اسکی ڈیٹائی پر لائبہ نے زور سے لب بھینچے۔

اور پھر اسکی ساتھ والی سیٹ پر کھٹ سے بیٹھ گئی۔

اب اسے مزید اسفر سے کوئی بات نہیں کرنی تھی۔

وہ پوری طرح زچ ہوچکی تھی اسکی کڑوی کسیلی باتوں کا سامنا کرتے ہوئے۔

چپ سادے،،،خالی خالی نظروں سے وہ باہر بدلتے ہوئے منظر

پر اپنا سارا فوکس کیے ہوئے تھی۔ جبکہ اسفر اسی لاپرواہی

اور سردمہری سے میوزک آن کرچکا تھا۔

اگر اسے اسکے ساتھ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا تو وہ

بھی اسکے ساتھ ہونے کو یکسر فراموش کرنے پر بضد تھا۔

○●□■○●□■

“ہم کہاں جارہے ہیں؟”

اچانک ہی لائبہ کو کسی غیرمانوس راستے کا گماں ہوا۔

باہر بدلتے ہوئے مناظر وہ نہیں رہے تھے جنہیں دیکھنے کی وہ

عادی تھی۔

تعجب سے اس نے اسفر کو دیکھا۔

“میں کسی سے ملوانا چاہتا ہوں آپکو۔”

قدرے سنجیدگی سے اسفر نے جواب دیا۔

“کس سے؟؟” ہنوز تعجب سے لائبہ نے یوچھا۔

“جس سے مل کر آپکی آنکھوں پر بندھی پٹی کھل جائیگی۔”

اتنی ہی سنجیدگی سے اسفر نے لائبہ کے پوچھے گئے سوال کا جواب دیا۔

“میری آنکھوں پر پٹی ؟؟؟” لائبہ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔

اسکی حیرت میں اور بھی اضافہ ہوا۔

اسکی تشویش بھری نظریں اسفر پر ٹکی تھیں جو ایک نامکمل

انکشاف کر کے مکمل چپ ساد چکا تھا۔

“کیا مطلب ہے آپکے کہنے کا؟؟ مجھے بتائیں گے۔”

جھنجھلا کر لائبہ نے زور دے کر پھر سے پوچھا تھا۔

“میرے کچھ بھی بتانے سے بہتر ہے۔ آپ خود اپنی آنکھوں سے

دیکھیں اور خود اپنے کانوں سے سنیں۔ “

اسفر کے چہرے کی سنجیدگی برقرار تھی بلکہ پہلے سے اور بھی زیادہ ہوچکی تھی۔

لائبہ کی سوالیہ نظریں بدستور اسفر سے جاننے کی متمنی تھیں۔

لیکن وہ اور کچھ بھی کہنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا۔

ایک بار پھر خاموشی ان دونوں کے بیچ عود آئی تھی۔

کچھ دیر یونہی اسفر کے سپاٹ چہرے کو تکنے کے بعد تھک کر لائبہ نے اپنی نظر ہٹا لی تھی۔

باہر کے بدلتے مناظر ایک بار پھر اسکی توجہ کھینچ چکے تھے۔

“یہ شخص اتنا کھٹور۔۔ اتنا کھڑوس۔۔ اتنا بےرحم کیوں ہیں۔”

لائبہ ایسا سوچ کر دل مسوس کر رہ گئی۔

اسفر وقار الملک کو سمجھنا۔۔۔ اسکے لیے ناممکن تھا۔

اسکی مرضی کے بغیر وہ اس سے کچھ بھی جاننے میں کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔

اسکے دل نے اس سچائی کو مان ہی لیا تھا۔

○●□■○●□■

“میرا وعدہ ہے تم سے نرمین۔ میں کبھی تمہیں کوئی دکھ، کوئی تکلیف نہیں پہنچاوں گا۔ تمہیں ہمیشہ اپنی پلکوں پر بیٹھا کر رکھوں گا۔”

فارم ہاؤس کے اس لیونگ روم کو اچھا سا ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔ جہاں ابھی نرمین اور شاہان موجود تھے۔

“مجھے تم پر پورا یقین ہے۔”

اسکا ہاتھ تھام کر نرمین مسکرائی تھی۔

“تھینک یو۔ مائی لائف۔” شاہان نے بھی جوابا” مسکرا کر اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ جمایا تھا۔

وہ دونوں بہت خوش تھے۔ آج ہونے والی انکی منگنی کی یہ چھوٹی سی تقریب بھی انکے لیے انمول تھی۔

جن حالات میں وہ اس نئے رشتے میں بندھنے جارہے تھے۔ ایسے میں مینشن کے دیگر افراد کا نہ ہونا ہی انکے حق میں بہتر تھا۔

اسفر کے پلان کیمطابق پہلے انہیں منگنی کرنی تھی اور پھر اس خبر کو سب کے سامنے عام کرنا تھا تاکہ انکی شادی کے

بارے میں کوئی اعتراض نہیں کرسکے۔

لیونگ ہال کو خوبصورتی سے پھولوں کی لڑیوں سے سجایا گیا

تھا۔ نرمین کچھ دیر پہلے ہی تیار ہوکر وہاں آئی تھی۔ جبکہ

شاہان بس ابھی ابھی ہی وہاں پہنچا تھا۔ اب انہیں اسفر کا

انتظار تھا۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔”

شاہان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نرمین کی مسکارا زدہ پلکوں کو چوما تھا۔

نرمین اسکی جرات پر کسمسا کر رہ گئی۔

وہ ایسے ہی تو اچانک سے اسے سرپرائز کر دیتا تھا۔ نرمین کو

اسکی یہ عادت بہت پسند تھی۔

کبھی بھی۔۔ کچھ بھی۔۔ وہ شاہان سے ایکسپٹ کرسکتی تھی۔

جیسے وہ اسکی زندگی میں اچانک سے آیا۔۔ اچانک ہی اچانک

اسکے دل میں اترتا گیا۔۔ اچانک ہی اچانک وہ اسے بےپناہ چاہنے

لگی اور پھر اب ہونے والی انکی منگنی۔۔ سب کچھ کتنا اچانک

تھا۔۔ لیکن جو بھی تھا اب وہ شاہان کے بنا ایک پل تنہا جینے کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔

“کہاں کھو گئیں؟”

اسے گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر شاہان نے اسکی آنکھوں

کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ خیالوں کی دنیا سے واپس آئی۔

“کہیں بھی نہیں۔” نرمین نے اسے وارفتگی سے دیکھا۔

اسکی کومل صورت شاہان کو بےکل کرنے لگی۔

فل ایمبراڈری سے سجی پنک کلر کی اس لمبی فراک پر کھلے بازوں میں دوپٹہ لیے وہ کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اس پر اسکے کھلے ہوئے کرلی بال اور کانوں میں چمکتے وہ ہارٹ شیپ ائیر رنگز اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے۔

اگر شاہان کی نظر بار بار اسکی طرف اٹھ رہی تھی تو اس میں اسکا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ نرمین بڑے ہی سادہ سے انداز میں اسکے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔

“ویلکم لو برڈز۔ یکدم اسفر کی آواز نے انہیں ایک دوسرے کے سحر سے باہر کھینچ نکالا۔

کس وقت وہ وہاں پہنچا انہیں احساس تک نہیں ہوا۔

یا پھر اسفر کا ہی ارادہ انہیں فل سرپرائز کرنے کا تھا۔

جو انکے چونکنے پر خوب محظوظ ہوا تھا۔

“بھیا آپ کب آئے؟؟” نرمین آگے بڑھ کر اسفر کے گلے لگی۔

اسکے لیے اسفر کسی فرشتے سے کم نہیں تھا۔

ٹریجڈی کے پہلے دن سے وہ اسکے ساتھ تھا۔ وہ جتنا بھی

اسکی شکرگزار ہوتی جو کچھ اس نے کیا۔ اسکا بدلہ نہیں چکا سکتی تھی۔

“بس ابھی آیا۔ ڈونٹ وری۔”

مسکراہٹ سجائے اسفر نے اسے پیار سے تھپتھپایا۔

“کیسے ہو برادر ان لو؟؟”

نرمین کے بعد وہ شاہان کیطرف متوجہ ہوا۔

جو خاموشی سے ایک طرف کھڑا ان بہن بھائی کا ایک دوسرے کے لیے پیار دیکھ رہا تھا۔

“آئی ایم فائن۔” شاہان نے مسکرا کر کہا۔

“دٹس گڈ۔” اسفر خود ہی آگے بڑھ کر اس سے بغلگیر ہوا۔

“آئی ہیف ون سرپرائز فار یو۔”

اسفر نے پہلے شاہان اور پھر نرمین کو دیکھا۔

اسکی آنکھوں کی چمک نے نرمین سے زیادہ شاہان کو اپیل کیا۔

“کیا؟؟” شاہان کے منہ سے بےدھیانی میں نکلا تھا۔

تھوڑا بہت تو وہ اسفر کو پریڈیکٹ کر ہی سکتا تھا۔

“آجائیں سوئیٹ ہارٹ۔”

اسفر کے بلانے پر لائبہ اندر داخل ہوئی۔

شاہان کو اسے وہاں دیکھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔

جو بھی تھا لیکن اسفر وقار الملک سے وہ اور ایکسپٹ بھی کیا

کرسکتا تھا۔

لائبہ پٹی پٹی نظروں سے اسے تکتی رہ گئی۔

“نرمین یہ تمہاری بھابھی ہیں۔ لائبہ اسفر وقار الملک۔”

اسفر نے سرعت سے لائبہ کو نرمین سے انٹروڈیوس کرایا۔

اور پھر شاہان کطرف متوجہ ہوا۔

جو دم بخود کھڑا تھا۔

“اور لائبہ یہ نرمین کے فیونسی ہیں مسٹر شاہان فاروق۔”

خاص چبا چبا کر اسفر نے کہا تھا۔

لائبہ نے بےیقینی سے اسے سنا تھا۔

مقدر کا کھیل تھا یا حالات کی ستم ظریفی۔ اپنی ہی محبت کو

سرعام قتل ہوتا دیکھ کر بھی اسے بالکل پرسکون رہنا تھا۔

بہت خوش نظر آنا تھا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر انہیں انکی

شروع ہونے والی زندگی کی مبارکباد بھی اپنے دل پر پتھر رکھ

کر دینی تھی۔

اسفر سب ہی کچھ اسے پہلے کار میں سمجھا چکا تھا اور

اب اسے بالکل ویسا ہی کرنا تھا۔

آنسوؤں کو پیتے ہوئے۔۔۔ ساری قوت جمع کر کے اس نے اپنے

بازوں میں اٹھایا وہ بکے ان دونوں کی طرف بڑھایا۔

“بہت مبارک ہو۔ ہمیشہ خوش رہو۔”

چاہتے ہوئے بھی مبارکباد دیتے وقت وہ مسکرا نہیں پائی۔

ٹوٹے دل۔۔۔ ڈوبتی دھڑکن اور کانپتی آواز میں اس نے صرف اپنا فرض نبھایا تھا۔ اپنے کندھوں پر سے بھاری بوجھ اتارا تھا۔

شاہان نے اسے پھر نظر اٹھا کر دیکھا تک نہیں تھا۔

بدستور وہ نظر جھکائے ہی کھڑا رہا تھا۔

اسفر نے لائبہ کی کمر میں اپنا بازو حائل کرتے ہوئے اسے خود سے قریب کیا۔ جان بوجھ کر وہ لائبہ سے زیادہ ہی فرینکنس دکھا رہا تھا۔ خود لائبہ کو اسکے بدلتے ہوئے رویہ پر حیرت تھی

لیکن وہ جانتی تھی اسکا ایسا کرنا صرف شاہان اور اسے ہرٹ

کرنے کے لیے ہی تھا۔

“شاہان آپ نرمین کو رنگ پہنا سکتے ہیں۔”

اسفر نے شاہان کو متوجہ کیا۔

شاہان کے بےجان وجود میں حرکت ہوئی۔

اسکا ہاتھ اپنے کوٹ کی پاکٹ میں گیا اور ایک عدد بکس کے ساتھ باہر نکلا۔

نرمین سے اسکی منگنی طے شدہ تھی اور لائبہ کے وہاں آنے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔

لیکن کچھ غیر متوقع تھا۔۔۔ تو وہ تھا۔۔۔ لائبہ کے اس دل کا ہنستا بستا جہان۔۔۔ پل بھر میں اجڑ جانا جسے اس نے بڑے لگاو سے شاہان کے نام سے بسایا تھا۔

شاہان کے نرمین کو رنگ پہناتے ہی نرمین نے بھی شاہان کو رنگ

پہنائی تھی۔

اور اسکے بعد بڑے ہی بچکانہ انداز میں صرف اسفر نے کلاپ

کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی تھی۔

لائبہ اور شاہان کے دل پر جو اتنی سی دیر میں گزری تھی اس

سے قطع نظر اسفر بہت خوش دکھائی دے رہا تھا۔