584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 19

Fareb Nazar by Gazal Saima

رات کا جانے کونسا پہر تھا جب نیہان کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر وہ اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بمشکل اسکے ہاتھ اپنا موبائل لگا۔

فوری اس نے ٹارچ روشن کی اور بیڈ سے نیچے اتری۔

باہر جانے کا فائدہ نہیں تھا۔ سب ہی لوگ سوئے ہوئے ہونگے

اس نے سوچا۔ غیر ارادی طور پر اسکی نظر وال کلاک پر گئی

سوا تین بج رہے تھے۔

انور سے جھگڑےکے بعد وہ الگ روم میں رہ رہی تھی۔

ایک پل کو اسے اپنا آپ بہت زیادہ تنہا محسوس ہوا۔

انور کے ساتھ ہوتے ہوئے تنہائی اور خاموشی کا تصور ہی اسے ہلکان کر دیتا تھا اور اب وہ اسکے بغیر تین دن سے اسی تنہائی اور خاموشی کو برداشت کر رہی تھی۔

گھٹن کا احساس ختم نہ ہونے پر اس نے روم کی ساری ونڈوز اوپن کر دیں۔

اسکے بالکل سامنے کی ونڈو مینشن کے سبزہ زار میں کھلتی تھی۔ پورا سبزہ زار تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔

“شاید بجلی فیلیر ہوا ہے۔”

اس نے بےدھیانی میں کہا۔

آج سے پہلے کبھی اسے سبزہ زار سے خوف محسوس نہیں ہوا تھا لیکن آج اسکا تاریک نظارہ نیہان کو خوفزدہ کر رہا تھا۔

تیزی سے اس نے ونڈو بند کی تھی۔

اور پھر اتنی ہی تیزی سے باقی ونڈوز کو بھی بند کر دیا تھا۔

تازہ ہوا اندر آنا بند ہوگئی۔

سرعت سے وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔

انجانا سا خوف،،،انجانا سا احساس اسکے حواس شل کرنے لگا۔

اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

○●□■○●□■

“مجھے مت مارو۔ مجھے جانے دو۔ مجھے چھوڑ دو۔”

کسی کے زور زور سے چلانے کی آواز بوٹ کیطرف سے آرہی تھی۔

“میرا خیال ہے وہاں کوئی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔”

پہلو بدل کر اس نے دیکھا۔

ان سے کچھ ہی دور کنارے سے ٹکی بوٹ میں کوئی چلا رہا تھا۔ شور سنکر وہ ٹٹکا تھا۔

“پاگل ہو کیا؟؟ چھوڑو انہیں۔

کافی دیر سے لڑ رہے ہیں شاید میاں بیوی ہیں کسی بات پر جھگڑا ہوگیا ہے۔ ہم چلتے ہیں یہاں سے۔”

اسی طرف سے آتی نیہان کا چہرہ بالکل ماند پڑا ہوا تھا۔

شاید وہ ان میآں بیوی کو بری طرح لڑتا دیکھ کر گھبرائی ہوئی تھی۔

“مت مارو۔ مت مارو۔”

چلانے کی آواز اور تیز ہوئی تھی۔

“ایک منٹ نیہان تم یہیں رکو۔ میں دیکھ کر آتا ہوں مسئلہ کیا ہے آخر۔”

اس نے نیہان کو وہیں کھڑا چھوڑا اور بوٹ کیطرف بھاگا۔

“رک جاو انور۔ خدا کے لیے رک جاو۔ وہاں مت جاو۔”

اسکو بوٹ کیطرف جاتا دیکھ کر نیہان زور زور سے چلانے لگی۔

لیکن وہ نہیں رکا۔ اسے ہر حال میں پتا لگانا تھا وہاں کیا ہورہا۔

بھاگتے ہوئے وہ بوٹ میں انٹر ہوا تھا۔

لیکن کاٹیج میں انٹر ہونے کے ساتھ ہی حیرت کا شدید جھٹکا اسے لگا۔

وہ کوئی اور نہیں نیہان کی اسٹیپ مدر تھیں۔

جو چلا چلا کر اس کالے بدھے آدمی سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھیں جس نے ان پر پسٹل تان رکھا تھا۔

اسکا ارادہ انہیں جان سے مار دینے کا تھا۔

“ہیے ڈونٹ شوٹ۔”

انور صورتحال سمجھ کر چلایا تھا۔

لیکن وہ آدمی اسکے چلانے سے پہلے ہی تین فائر کر چکا تھا۔

خاتون خون میں نہا گئی تھیں۔ اور موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔

“کیوں مارا ہے انہیں۔ کیا جرم تھا انکا؟؟”

بدحواسی میں انور نے کالے بدھے آدمی کو اپنے شکنجے میں جکڑا تھا۔

“شی آڈر می۔”

اس نے باہر کیطرف انگلی کا اشارہ کیا تھا۔

انور نے اسکے تعاقب میں باہر دیکھا تو سامنے نیہان اس کالے بدھے آدمی پر پسٹل تانے کھڑی تھی۔

اور انور کچھ بھی سمجھ پاتا اس سے پہلے ہی اس نے دو فائر تاک کر اسکے سر پر کیے تھے۔

بلٹ سوراخ بناتے ہوئے اسکی کھوپڑی سے آر پار ہوگئے تھے۔

انور شاکڈ کی کیفیت میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔

ایک پرانا منظر اس کمرے کے اس خوفزدہ ماحول میں نیہان کی آنکھوں میں گھوم کر رہ گیا تھا۔

پسینے سے شرابور اسکا جسم کپکپانے لگا۔

پیاس سے اسے حلق میں کانٹے چھبتے محسوس ہوئے۔

“پانی۔ پانی۔” اسکے لب ہلے۔

○●□■○●□■

مرنے سے زیادہ خوفناک کسی اور کو ناحق مارنے کا خوف ہوتا ہے۔

وہ بھی ایک ایسا ہی خوفناک پل تھا۔ جب نیہان نے خود اپنی اسٹیپ مدر کو جان سے مارنے کا حکم دیا تھا اور اسکے ایسا کرنےکی وجہ تھا انور وقار الملک۔ جسے وہ کسی قیمت پر

کھونا نہیں چاہتی تھی۔ جبکہ اسکی اسٹیپ مدر کو اسکا چپ چپ کر انور سے ملنا بالکل پسند نہیں تھا۔

تب انکی فیملی سی شور کے پاس ہی اس چھوٹے سے ہٹ نما گھر میں رہتی تھی۔ انور ایک دن وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ پکنک بنانے گیا تھا اور وہیں اسکا دل نیہان پر آگیا تھا۔

نیہان بہت خوبصورت پری کے جیسی اسکی آنکھوں کو خیرہ

کر رہی تھی۔ اسکے نازک نازک پاؤں ہلکے ہلکے پانی میں ڈوبے

چھلک رہے تھے اور چہرے پر لہراتی ریشم زلفیں اسکے حسن

کو چار چاند لگا رہی تھیں۔

وہ ایک پل ہی انور وقار الملک کے لیے اسکے عشق میں مجنوں بننے کے لیے کافی تھا۔ پھر روز روز انکی ملاقاتیں ہونے لگیں

اور انکی نزدیکیاں بڑھتی ہی گئیں۔

لیکن ایک شام جب تنہائی میں انہیں ملتے نیہان کی اسٹیپ مدر نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تو وہ ساری رات نیہان کو اپنے فادر کی

تلخ و تیز باتیں برداشت کرتے گزارنی پڑی۔

شرمندگی کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ اجالا ہونے تک جاری رہا۔ اس دن نیہان کو اپنی اسٹیپ مدد سے اس درجہ نفرت ہوئی کہ وہ انکا چہرہ دیکھنا تک پسند نہیں کرتی تھی۔

جب تک وہ گھر پر رہتیں نیہان اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے خود کو مقید کرلیتی۔ نہ اسے انکے ہاتھ کا پکایا پسند آتا نہ ہی

دھونا دھلانا۔ اسی طرح کتراتے کتراتے نیہان نے پورا ایک مہینہ گزار دیا لیکن اپنا دل انکے لیے صاف نہیں کرسکی۔

اس عرصے میں اسکا انور سے ملنا بھی نہیں ہوسکا۔

اسکے اندر ہی اندر ایک لاوا پک رہا تھا۔ جسے بالآخر ایک دن

پھٹ پڑنے کا موقع مل ہی گیا۔

○●□■○●□■

سی شور سے ٹکراتی لہریں جلترنگ مچائے ہوئے تھیں۔

نیہان کا ہاتھ انور نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔

کئی دن کی جدائی کے بعد آج وہ دونوں ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ پورے انہماک سے انور جھرنے کی طرح بہتی خوبصورت آواز اور نرم لہجے میں نیہان کی باتیں سن رہا تھا۔

“پتا ہے انور میں نے تمہیں کتنا یاد کیا؟”

آدھا چاند نیہان کی نرگسی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔

انور نے اس پل اسے وارفتگی سے دیکھا تھا۔

جتنا بےضرر اسکا سوال تھا اتنی ہی بےضرر وہ خود تھی۔

دھیمے دھیمے کہتے ہوئے اس نے بیخودی میں انور کے شانے

پر اپنا سر ٹکایا تھا۔

چلتے چلتے وہ دونوں کافی دور نکل آئے تھے۔

بہت پیچھے کہیں نیہان کا ہرٹ نما گھر رہ گیا تھا۔

“کتنا؟” انور نے اسکی ٹھنڈی ناک کی نوک کو مسکرا کر چھوا اور قدرے تجسس سے پوچھا۔

“جتنے اس نیلے خاموش تاریک آسمان پر تارے ہیں۔”

گہرا سانس لیتے ہوئے نیہان نے کہا تھا۔

“کیا واقعی؟” انور کو سنکر خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔

محبت کا یہ احساس نہ کبھی اسے پہلے ہوا تھا اور نہ ہی کبھی

اس نے خود اسے کھوجا تھا۔

جو بھی تھا سب نیہان کی ہی بدولت اسے نصیب ہوا تھا۔

اس نے فرط محبت میں اسکی چاندنی میں نہائی پیشانی کو اپنے لبوں سے چوما تھا۔

انکے دل کی دھڑکنیں ایک ساتھ زور زور سے دھڑکی تھیں۔

جلترنگ مچاتی لہریں کنارے سے گلے مل کر واپس جاتی انکے پاؤں بھگو رہی تھیں۔

“ہاں بالکل۔”

نیہان کی مترنم آواز انور کی سماعت سے ٹکرائی تھی۔

انکی محبت کی کہانی کا یہ سب سے خوبصورت موڑ تھا۔

واپسی پر انور اسے چھوڑنے گھر تک آیا تھا۔

اچھا بس دو منٹ رکو مجھے تمہیں کچھ دینا ہے۔

آدھے چاند کی چاندنی نیہان کی آبرو پر ٹکی تھی۔

“کیا ؟؟؟” انور نے لجاجت سے پوچھا۔

یہ پل اور اسکا فسوں اس پر جادو کر رہا تھا۔

“ابھی لائی بس دو منٹ میں۔”

اسے وہیں کھڑا کر کے نیہان گھر کی سمت دوڑی تھی۔

جیسے ہی تحفہ لینے وہ گھر کے اندر آئی۔ پچھلی طرف بوٹ سے اسٹیپ مدر اترتی دکھائی دیں۔

بدقسمتی سے نیہان کی اسٹیپ مدر گھر واپس لوٹی تھیں۔

جبکہ اسکا اندازہ تھا کہ وہ دو دن سے پہلے آنے والی نہیں۔

کیونکہ اسکی خالہ کا انتقال ہوگیا تھا اور صبح سویرے ہی انکے جنازے میں شرکت کے لئے اسٹیپ مدر نکل گئی تھی۔

مگر اسکا اندازہ غلط ثابت ہوا۔

“بیہودہ۔ موقع ملتے ہی پھر اپنے عاشق کو بلا لیا۔”

بلند اور درشت آواز میں نیہان پر وہ چلائی تھی۔

ساتھ والے گھر سے وہ کالا بدھا آدمی نکلا اور ان تک آیا۔

شاید وہ کافی وقت سے نیہان کے عشق میں پاگل تھا۔

اسٹیپ مدر کا اس پر چلانا اسے بالکل بھی برداشت نہیں ہوا۔

اس نے اپنی جیکٹ سے ہاتھ نکالا تو اسکے ہاتھ میں پسٹل تھی۔

“ہاں۔ ہاں۔ جب میرا دل کرے گا بلاونگی۔”

جان بوجھ کر نیہان زور سے چلائی تھی۔

آدمی نے پسٹل سیدھا تانا ہوا تھا۔

باہر لہروں کی جلترنگ نے انور کو اس سب سے بےخبر کر رکھا تھا۔ بدستور وہ دور کھڑا نیہان کے لوٹنے کا منتظر تھا۔

“اسے مار دو۔ پلیز اسے مار دو۔ میری زندگی کی ہر خوشی اس نے مجھ سے چھین لی ہے۔ خدا کے لیے مجھے اس سے نجات دلا دو۔”

یکدم ہی نیہان کالے بدھے آدمی کا ارادہ بھانپتے ہوئے آنسو بہانے لگی۔

اسے روتا دیکھ کر کالے بدھے آدمی کا دل پسیج گیا۔

اسٹیپ مدر کو بھی اسکے ارادے کا اندازہ ہوچکا تھا۔

وہ واپس بوٹ کیطرف جان بچانے کو بھاگیں۔

انکے پیچھے کال بدھا آدمی بھی دوڑا۔

اور پھر وہ دونوں بوٹ پر چڑھ گئے۔

نیہان نے کوئی چیز جلدی سے اٹھائی اور بھاگتی ہوئی واپس انور کے پاس آئی۔

کتنا تکلیف دہ تھا نیہان کے لیے اپنے ماضی کا گناہ یاد کرنا۔

اسکا پسینے سے شرابور جسم دہکنے لگا۔

انجانا سا خوف،،انجانا سا احساس اسکے حواس شل کرنے لگا۔

اس نے آنکھیں کھولیں لیکن لائٹ ابھی بھی نہیں آئی تھی۔

کمفرٹر اپنے اوپر ڈال کر وہ اس میں دبک کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔

چار طرف پھیلا اندھیرا اسے اور بھی محسوس ہونے لگا۔

اسکے موبائل کی ٹارچ ابھی بھی روشن تھی۔ لیکن اندھیرا

اس پر بھی حاوی تھا۔

اس نے اپنی آنکھیں اور بھی مضبوطی سے بند کر لیں۔

کون ہے وہاں؟

اچانک سے اسے کسی کے کمرے میں ہونےکا احساس ہوا۔

مگر آنکھیں کھولنے کی ہمت وہ نہ کر پائی۔

البتہ قدموں کی چاپ اسے صاف سنائی دی تھی۔

وہ جو کوئی بھی تھا اسی کیطرف بڑھ رہا تھا