Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 1
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 1
Fareb Nazar by Gazal Saima
“کیا مصیبت ہے،،، آج ہی اتنی ٹھنڈ پڑنی تھی،،،، اف میرے ہاتھ تو برف ہو رہے ہیں،،، بی کی بات مان لینی چاہیے تھی،،، گلفس بھی پہن کر نکلنا چاہیے تھا مجھے،،،،،، اب ڈیڑھ بجے
تک تو یونیورسٹی میں میرا کبھاڑا ہوجانا،،،،،بات نہ مان کر کتنا غلط کیا ناں تم نے لائبہ بدو،،،،”
اس نے ایک زور کا دھپ خود ہی اپنے سر پر مارا۔
“انہیں اپنے ہاتھوں پر پہن لیں،،،”
اچانک ہی اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی۔ چونک کر اس نے آواز کے تعاقب میں دیکھا۔ گہرے ریڈ کلرکےگلفس ہاتھ میں لیے وہ اسے ہی گھور رہا تھا۔ اسکے دیکھتے ہی وہ ہلکا سا مسکرایا اور اپنی بات دہرائی۔ جسے سنکر اسکا پارہ چڑھ گیا۔
“انہیں آپ اپنے پاس ہی رکھیں،،،،مجھے انکی ضرورت نہیں
ہے۔سمجھے”
تندہی سے اسے جواب دیتی،،، گردن موڑ کر پھر سے سیدھی کھڑے ہو کر وہ باہر دیکھنے لگی۔
اچانک ہی پوائنٹ کو زور کا بریک لگا،،،اور لائبہ کے پیچھےکھڑا وہی گلفس والا اسکے اوپر آگرا۔
وہ تو بالکل بھوکلا کر ہی رہ گئی،،،،،، وہ اسکے نیچے اور وہ اسکے اوپر گرے گرے ہی پھر سے بولا،،،،
“آپ بڑبڑا رہیں تھیں ناں،،،ٹھنڈ زیادہ ہے،،،قلفی بن جانی تو اسلیے میں نے سوچا آپکو اپنے گلفس دے دوں،،، ہوسکتا مجھ سے زیادہ انکی ضرورت آپکو ہو،،،، اور ویسے بھی آپ تو بہت
نازک،،،بلکہ کمزور سی ہیں،،،،ٹھنڈ لگ گئی تو اگلا پورا ہفتہ
آپکی اسٹڈیز کا لاس ہو جانا،،،”
اسکے نازک سراپے اور شہد جیسی آنکھوں میں دیکھتے،،، وہ روانی سے کہتا ہی گیا۔
اسکے نیچے دبکی لائبہ اپنی سانس تک روکے،،، اپنے اوپر سے اسکے اٹھنےکا ویٹ کر رہی تھی۔
جتنی تندہی سے لائبہ نے اسے ٹرخانا چاہا تھا،،،، اس سے کہیں زیادہ نزدیکی سے وہ اسے کنونس کر رہا تھا۔ لائبہ کی
دھڑکنیں سو میٹر کی رفتار سے بھاگنے لگیں۔
“ہائے اللہ،،، اب میرے اوپر سے اٹھو گے بھی،،، یا فلمی
ہیرو کی طرح مجھے یونہی دبوچے رکھنے کا پلان ہے تمہارا،،، مجھے تو تم شکل سے ہی ایک نمبر کے لچے لفنگے لگتے ہو۔”
نروس ہونے کی وجہ سے جو کچھ لائبہ کے منہ میں آیا وہ اسے
سنائے گئی۔
فلموں کے رومانس سین کیطرح،،،، اسکے نیچے بےبس پڑے وہ اپنی خوش قسمتی یا بدقسمتی کے بیچ،،، اچھی خاصی کنفیوز تھی۔
اپنے نیچے اسے بےبس دیکھ کر،،،، وہ اس پر لیٹا اور بھی اسمائل کرنے لگا،،،، البتہ دھڑکنیں اسکی بھی سو میٹر کی رفتار ہی سے دوڑنے لگیں تھیں۔ لائبہ نے اس پر سے نظریں ہٹائیں اگر اسکا بس چلتا تو وہ اسی وقت بم سے اڑا دیتی۔
“بریکس کی غلطی ہے سب،،،آئی ایم سوری،،،،آپکو چوٹ تو
نہیں آئی۔ سب اسٹوڈنٹس کو اپنی جانب متوجہ پاکر اسے بھی
گڑبڑ ہونےکا احساس ہوا اور وہ جھٹ سے لائبہ کے اوپر سے اٹھ گیا۔
“تھینک گاڈ”،،،، سکھ کا سانس لیتے لائبہ اسی کے ہاتھ کا
سہارا لیتی واپس اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی،، اور ساتھ ہی اسے
کھری کھری سنا ڈالیں۔
“ارے تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے،،،سمجھ نہیں آئی ایک بار
میں،،،،، مجھے ٹھنڈ لگے یا گولی،،،،،بھلا تم ہوتے کون ہو مجھے مشورہ دینے والے،،،،،، اور اگر اتنا ہی زیادہ شوق ہے شوشل ورک کا،،،،، تو کوئی این جی او جوائن کرو جاکر،،،،
اور وہاں جاکر اپنا شوق پورا کرو،،، انڈراسٹینڈ۔”
تیور دکھاتے،،،کافی روڈ انداز تھا لائبہ کا اس بیچارے کو جھڑکنے کا۔
“اوکے،،،،ایز یو وش،،، بٹ آئی لائک یور ایڈوائس،،،”
ڈیٹائی میں وہ بھی اول درجہ کا ڈیٹ نکلا۔
“اگر آپ بھی میری ایڈوائس پر،،،، ٹھنڈے دل سے غور کرتیں تو مجھے خوشی ہوتی۔”
پھر سے اسمائل کرتا،،،لائبہ کی شہد آنکھوں میں دیکھتا،،،
بڑے ریلکس موڈ میں کہتا وہ پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔
“قسم سے حد ہے یار۔”
اسکی ڈیٹائی اور جرآت پر لائبہ بن بھنا کر ہی رہ گئی۔
○●□■○□□■○●
” اسفر چندا۔ کل سے میں نے آپکو اپنا نک کال لانےکو کہا ہوا ہے لیکن آپکو اپنی گرینی کا ذرا بھی خیال نہیں۔”
منہ پھلائے گرینی نےکمرے میں مرر کے سامنے کھڑے اسفر وقار الملک کو پکارا۔
دس بجے تک اسے لازمی ہیڈ آفس پہنچنا تھا۔
کیونکہ آج اسکا جاب انٹرویو تھا۔ نک سک سے تیار ہوئے خود کو مرر میں دیکھتے وہ گرینی کو خاموشی سے سنے گیا۔
“نک کال نہیں گرینی نیک کالر،،،”
لیونگ روم میں داخل ہوتے اظہر وقار الملک نے خالص انگریزی لہجے میں گرینی کی غلطی درست کی تھی۔
ایسا وہ تقریبا” روز ہی کرتا تھا۔ جب بھی گرینی غلط انگریزی بولتیں تب وہ کسی پروفیسر کیطرح انہیں درست تلفظ بتاتا تاکہ وہ درست بول سکیں۔
“اس فسادی انگریزی کے جلوے،،، صالحہ بیگم کو دکھانے کی کوشش بھی مت کرنا اظہو چندا،، آپ جانتے ہیں انگریزی لائک کرتی ہے میری جوتی۔”
گرینی نے اپنے سلیپرز کیطرف اشارہ کیا،،،،تو اظہر سمیت لیونگ روم میں موجود رامین بھی کھل کھلا کر ہنس پڑی۔
“ہاہاہاہا،،،،آپ بھی ناں گرینی،،،کمال کرتی ہیں۔ ایک یہی
زبان تو ہے جسے فقیر بھی بول کر خود کو رچ فیل کرتاہے۔”
اظہر نے ہنستے ہوئے ایک اور ٹوکا دیا۔
اسے اچھی طرح معلوم تھا صالحہ بیگم یعنی اسکی گرینی انگلش سے کتنا نالاں رہتی ہیں تبھی جب وہ انہیں انگلش کے الفاظ کو غلط بولنے پر ٹوکتا تو گرینی بھڑک اٹھتیں۔
“گرینی آپکو کیا پتا،،، غریبوں کی ذہنی عیاشی ہے انگلش،،، کچھ لوگ صرف انگریزی بول چال سے ہی خود کو امریکہ،،، آسٹریلیا کی مخلوق میں شامل کر کے،،،دل ہی دل میں خوش ہوجاتے ہیں۔”
اظہر کو ٹونٹ کرتے رامین برجستہ بولی۔
اظہر نے اپنی اس نخرچو بہن کو گھورا۔
جو اس سے صرف ایک سال ہی بڑی تھی لیکن اس پر رعب ایسے جماتی تھی جیسے اسکی ماں ہو۔
“ارے رہنے دیں رامی بٹیا،،،ایسے عقل کے ماروں پر خدا کی مار پڑنی۔”
گرینی کو کیا پتا اس نے اظہر کو ٹونٹ کیا ہے،،،وہ اپنی ہی
روانی میں بولیں گئیں تھیں،،،جسے سن کر اظہر منہ لٹکا کر باہر چل دیا۔
البتہ گرینی واپس اپنی،،،، پسندیدہ شاعری سننے میں مگن ہو گئیں ،،،،یہ شاعری اسپیشلی انکے لیے،،، دوسرے جہان پہنچ جانے والے انکے شوہر نامدار کی کانوں میں رس گھولتی آواز میں
ڈب تھی اور جسے گرینی دن میں کئی بار اور رات میں سونے سے پہلے ایک بار سننا ہرگز نہیں بھولتی تھیں۔
وہ پرانے زمانے کی تھیں اور پرانے زمانے کے ان لوگوں کا محبت
کو نبھانے اور محسوس کرنےکا اپنا ہی الگ ڈھنگ ہے۔ انکی اس
محبت پر ملک مینشن کا ہر فرد رشک کرتا تھا۔
“گرینی مجھے بالکل یاد ہے،،،آپ فکر نہ کریں۔
میں آج ضرور لیتا آونگا۔”
ٹائی کو اسکی جگہ پر کالر پہ سیٹ کرتا ہوا وہ نہایت ہی عجلت
میں کچن کیطرف جاتا،،،ہلکی سی جھلک گرینی کو دکھاتا،،،
پھر سے آسرا کراتا، انکی آنکھوں کے بالکل سامنے سے نکلا تھا۔
“کبھی گرینی سے دعا بھی لے لیا کریں،،،سلام دعا کرنا تو یہ آج کی نسل بالکل ہی بھول گئی ہے۔”
گرینی نے بھی اسی کا ہونے کے باوجود اپنی چیل کے جیسی تیز آنکھوں سے اسے کچن میں جاتا تاڑ ہی لیا۔
“اوہ،،،،آئی ایم سوری گرینی،،،،میں بس آپکے پاس ہی آرہا تھا۔ دعا کرنا مت بھولیے گا،،آج میرا انٹرویو زبردست نہیں گیا ناں تو اسفر وقار الملک نے صالحہ بیگم سے روٹھ جانا ہے۔”
کچن سے ہاتھ میں ایک عدد کلب سینڈوچ اٹھائے وہ گرینی کے پاس آیا،،،اور ان سے زیادہ ہی فری ہونے کیوجہ سے اپنے فرینک
انداز میں ان سے دعائیں وصول کیں۔
“جیتے رہیں،،،جیتے رہیں،،،،گرینی کی دعائیں آپکے ساتھ ہیں۔”
گرینی نے اسے اور بھی پیار سے دعائیں دیں۔
“تھینکس گرینی،،،” پرفیوم کے بپھکے اڑاتا،،، اسمائل کرتا،،، سینڈوچ کے بڑے بڑے بائٹ لیتا وہ باہر نکل گیا۔
“سنیں رامین بھٹیا،،،بھاگ کر جائیں اور میرے انور کو جاگا دیں۔
آفس سے لیٹ نہ ہو جائے کہیں ہمارے لاڈلے۔”
گرینی نے رجسٹر میں کچھ لکھتے ہوئی رامین کو پکارا۔
“اچھا گرینی جاتی ہوں۔”
ہلکے ہلکے وہ اسٹیرز چڑھتے انور کو جگانے جانے لگی۔
“سستو کہیں کی،،،،صبح صبح بھی انکی ہڈیوں میں جان نہیں۔”
گرینی ہلکے ہلکے جاتی رامین کو دیکھ کر بڑبڑائی تھیں۔
○●□■○●□■○●
“نمل بیٹا جلدی کریں،،،لنچ بکس لینا مت بھولنا،،،کل بھی ماما کو پہنچانا پڑا تھا آپکے اسکول۔”
آمینہ جلدی جلدی صوفی کا پمپر چینج کرنے لگی۔ اسکے بعد
اسے صوفی کا فیڈ بھی کرانا تھا۔ وہ ابھی صرف پانچ ماہ کا تھا۔
“اوکے ماما،،،آئی ڈونٹ فارگیٹ،،،میں نے رکھ لیا ہے۔”
نمل نے بریک فاسٹ ختم کر کے سب سے پہلے اپنا لنچ بکس بیگ میں ڈالا،،،،اور ماما کو کسی کرنے روم میں آئی۔
“ماما صوفی بے بی ڈارلنگ کب بڑا ہوگا،،،میں نے بھی اسکے ساتھ اسکول جانا ہے جیسے اریج اپنے بھائی کے ساتھ آتی ہے۔ اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پکڑ کر،،،ہی از ویری کیوٹ۔”
نمل نے اپنی پونی ٹیل کو ہلا ہلا کر کہا تو آمینہ کو ہنسی آگئی
وہ دونوں اسکی جان تھے،،،چار سال کی نمل بھی کونسی اتنی
بڑی تھی لیکن خود کو بڑا بتانے کیلیے وہ صوفی کو بےبی ڈارلنگ
ہی کہتی تھی۔
پو پو ،،،انکی باتوں کے دوران ہی نمل کی وین آگئی۔
“چلو نمل سوئیٹ ہارٹ،،، اب بے بی ڈارلنگ کو کسی دو اور باہر بھاگو آپکی وین آگئی ہے۔”
آمینہ نے اسے پیار سے خود سے لگایا۔ وہ دونوں ہی اسکے جینے
کی وجہ تھے،،،ورنہ طلاق کے بعد ایک بار تو وہ ڈس ہارٹ ہو کر
خودکشی تک کرنے لگی تھی،،،لیکن پھر معصوم نمل اور دودھ
پیتے صوفی کا سوچ کر ایسی بیوقوفی کرنے کا خیال بھی کبھی
دوبارہ دل میں نہیں لائی۔
منیر سے طلاق ہو جانے کے بعد اب اسکے جینے کی وجہ اور ہنسی خوشی زبدگی گزارنے کا مقصد وہ دونوں ہی تھے۔
“اوکے ماما،،،بے بی ڈارلنگ ماما کو زیادہ تنگ نہیں کرنا،،،پرامس۔”
نمل معصومیت سے کہتے،،،صوفی کو کسی دے کر،،،روم سے
نکل گئی،،،باہر وین اسکا ویٹ کر رہی تھی۔
“ابھی تک اس لڑکی نے کال نہیں کی،،،کہا بھی تھا جیسے ہی یونیورسٹی پہنچ جاو،،، مجھے کال ضرور کرنا لیکن اس لڑکی کو اپنی بی کی تو ذرا بھی پرواہ نہیں۔”
آمینہ نے غصے سے اپنا موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کرنے لگی۔
○●□■○□□■○●
“آپکو پتا ہے یہ پیشنٹ کتنا سریس ہے،،،آپ کیسے اسکے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں،،،جلد از جلد اسے آپریشن تھیٹر میں شفٹ کریں،،،اور انکی فیملی کو بھی انفارم کر دیں۔”
نائٹ شفٹ ختم کر کے سیف بس نکل ہی رہا تھا کہ وہ پیشنٹ درد سے کراہنے لگا،،، اور جب اس نے اسکا معائنہ کیا تو اسے آپریشن تھیٹر میں جلد سے جلد شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
” اسکی طبیعت کافی سیور ہے اگر اور تھوڑی دیر ہو گئی تو اپنڈکس پھٹ سکتا ہے۔ جسکے نتیجے میں اسکے جسم میں زہریلا مادہ پھیل جائیگا اور امیڈیٹ اسکی موت بھی ہوسکتی ہے۔ کیا آپکو اندازہ ہے آپ نے کتنی بڑی لاپرواہی کا ثبوت دیا ہے۔”
سینئر ڈاکٹر کی لاپرواہی پر سیف بالکل شاک ہو کر ہی رہ گیا۔
” ڈاکٹر جب میں نے اسے چیک کیا،،،وہ بالکل ٹھیک تھا۔
اٹس نوٹ مائی ہیڈیک”
ڈاکٹر ابھی بھی بحث کرنے میں وقت ضائع کر رہا تھا۔
“لیکن اب وہ مرنے کے قریب ہے اور اب کیا کہنا ہے آپکا۔ ایک
ڈاکٹر ہونے کے ناطے کیا آپ اسے یونہی موت کے منہ میں جاتا
چھوڑ دینگے۔”
سیف نے برہمی سے کہا۔
“میرے ڈیوٹی آورز کمپلیٹ ہو گئے ہیں اب یہ پیشنٹ میری ذمےداری نہیں۔”
کندھے اچکا کر بےفکری سے سیف کو جواب دیتا ہوا وہ ڈاکٹر وہاں سے جانے کے لیے نکل گیا۔
“ویری بیڈ۔ پروفیشن سے زیادہ انہیں اپنے گھر جانے کی پڑی
ہے۔ ٹیریبل۔”
افسوس سے کہتا ہوا سیف خود پیشنٹ کو آپریٹ کرنے آپریشن تھیٹر کطرف بڑھ گیا۔
○●□■○●□■○●
اچھو،،،اچھو،،،چھینک چھینک کر لائبہ کی ناک لال ہوچکی تھی،،،اور آنکھوں سے پانی بھی بہنے لگا تھا۔
“اوہ،،،شاید مجھے ہلکا ہلکا بخار ہو رہا،،،”
تیز تیز قدم اٹھاتے وہ جلدی ہی گھر جانے کے لیے نکلی تھی۔ یونیورسٹی کے گیٹ پر کھڑے اپنی بس کے آنے کا ویٹ کرنے لگی کہ سامنے سے اسے وہی صبح والا شوشل ورکر آتا دکھائی دیا۔
“اب پھر سے یہ کوئی آلاپ شالاپ نہ بولنے لگے۔”
اسے اپنی ہی طرف آتا دیکھ کر لائبہ دھیرے سے بڑبڑائی۔
” کیا پتا شوشل ورکرز کےکان اتنے تیز ہوتے ہوں کہ اتنے فاصلے سے بھی بڑبڑاہٹ سن لیں۔
اسلیے وہ بڑبڑائی تو کہ ایسا کرنے کی اسکی پرانی عادت تھی۔ لیکن اس مرتبہ اس نے اپنی آواز کا ولیوم آہستہ رکھا تاکہ صرف وہی اپنی بڑبڑاہٹ سن سکے اور آس پڑوس کے لوگ اس سے محظوظ نہ ہوں۔
اور اپنی اس بری عادت کا ادراک اسے اسی شوشل ورکر ہی کی بدولت آج صبح ہوا تھا۔
شولڈر پر لٹکے بیگ سے جلدی سے اس نے اپنے سن گلاسزز نکال کر آنکھوں پر لگائے،،،البتہ وہ سن گلاسزز دھوپ سے آنکھوں کو بچانے کے علاوہ اسلیے بھی لگالیتی تاکہ گلاسزز لگا کر وہ خود کو زیادہ کانفیڈنٹ محسوس کرسکے۔
“اچھا ہوتا اگر آپ میری بات مان کر صبح مجھ سے گلفس لے کر پہن لیتیں،،،کم از کم اسطرح بیمار تو نہیں پڑتیں۔”
اسکے اندازےکے عین مطابق وہ ڈیٹ صفت شوشل ورکر اسکے پاس کھڑا پھر سے اسے لیکچر دینے لگا۔
لائبہ کی ہمت جواب دے گئی۔
آخر وہ خود کو سمجھتا کیا ہے جو اسے وقت بے وقت فولو کرتا،،،، بک بک کرنے پہنچ گیا۔
وہ بولے گیا لیکن لائبہ اسے سننے کے بجائے اپنے دل کی سنے گئی۔
○●□■○●□■○●
“مسٹر شوشل ورکر اسے میری لاسٹ وارننگ سمجھتے ہوئے مجھ سے دور رہنے کی کوشش کریں،، ورنہ مجھے یوں سر راہ پریشان کرنے کا خمیازہ آپکو بہت جلد بھگتا پڑ سکتا ہے،،،انڈر اسٹینڈ۔”
سن گلاسزز میں چھپی اپنی غصیلی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے لائبہ کسی خونخوار شیرنی کی طرح غرائی تھی۔
اور اسی کے ساتھ سامنے سے آنے والی اپنے نمبر کی بس میں سوار ہوگئی۔
“ہائے،،، میں،،، صدقے”
شوخیانہ انداز سے کہتے ہوئے مسٹر شوشل ورکر نے اسکی بس کا نمبر نوٹ کیا تھا۔
“اب آئے گا اصل مزا۔”
وہ دھیرے سے بڑبڑاتا ہوا مسکرایا تھا۔
جو بھی تھا لیکن لائبہ اسکے دل پر نوک کرچکی تھی۔ اور اب کسی بھی لمحے وہ دل دروازہ کھول کر اسے خوش آمدید کہنے والا تھا۔
اور پھر ادائے بےنیازی سے مین گیٹ سے ہوتا ہوا یونیورسٹی میں داخل ہوگیا۔
ڈیٹائی میں واقعی کوئی اسکا ثانی نہیں تھا۔
