584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 3

Fareb Nazar by Gazal Saima

میرے دل کا چین لوٹا ہے تم نے،،، ڈیفوڈل،،،اور پھر یوں میری نظروں کے سامنے پڑھائی میں مہو ہوئے میرے چھوٹے سے دل پر دستک بھی دیے جارہی ہو۔ نوٹی کہیں کی۔”

دور ہی دور سے اس نے لائبہ کو فلائنگ کس دی اور پھر اسے اسکے نیک مول کے بالکل اوپر جذب ہوتا امیجن بھی کیا۔ ایسی امیجنیشن کے بعد اسکا دل زور سے دھڑکا۔

سر جھکائے لائبہ پورے انہماک سے نوٹس بنانے میں مصروف تھی۔ اسکی شہد آنکھیں کتاب سے نوٹ بک تک تیز رفتاری سے فاصلہ طے کرتی شاہان کے دل کے تار چھیڑنے لگیں۔ وہ چوری چوری اسے دیکھے گیا۔

لائبہ کا بازو پکڑ کر اسے اپنے روبرو کھڑا کیا۔ اور اس سے اپنی نزدیکیاں بڑھاتا گیا۔ اسکے نازک سے ہونٹ اور اس پر لگی پیچ شیڈ کے لپ گلو کی دبیز تہہ،،،شاہان فاروق کا دل مچلنے لگا۔ وہ ان پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔ طمانیت کا گہرا احساس اسکے تن بدن میں دوڑا۔ ۔ لائبہ کی گھنی پلکوں کے سائے اسکی نظر کی شرم جتاتے جھکنے لگے۔ وہ اسکی اور کھینچتا ہی گیا،،،،جو اپنی شہد آنکھیں جھکائے بڑے انہماک سے گرین کلر پین سے تیز تیز لکھتی ہی جارہی تھی۔

“میں ہی کچھ زیادہ امیجن کرنے لگا ہوں یا تم ہی اتنی قاتل حسن کی بےتاج ملکہ ہو ڈیفوڈل۔” خیالوں کی دنیا سے وہ باہرآیا۔

گرین کلر،،، پین کی گرین انک،،،،، شاہان کو کچھ یاد آیا۔

○●□■○●□■○

اگلے دن شاہان یونیورسٹی آیا تو لائبہ اسے کہیں دکھائی نہیں دی اسے ڈھونڈتا وہ لائبریری میں پہنچا تو وہاں اسے وہ نظر آئی۔ اسکی تو جیسے جان میں جان آئی ورنہ اسکا آج یونیورسٹی میں سارا دن بالکل بور جاتا۔ جب سے وہ لائبہ کے قریب آیا تھا،،، آنکھیں بند کرتا یا کھولتا صرف اسی کے چاند مکھڑے کا دیدار کرتا رہتا۔ اسکے ہلکے ہلکے پنک چیکس اور اس پر اسکی نرم و گداز گردن کا وہ براون تل،،، اسکی محبت کو اس حسن پیکر کیلیےکئی زیادہ بڑھا دیتے۔

“اف،،،تم اتنی خوبصورت کیوں ہو میری ڈیفوڈل،،،”

اسکے منہ سے برجستہ نکلا،،،،وہ اپنی ڈیفوڈل کو نظر بھر کر

دیکھتا رہا۔

بچپن سے اسے ڈیفوڈل بہت پسند تھے،،، وہ صرف ڈھائی سال

کا تھا جب اسکی فیورٹ آرٹس ٹیچر نے ایک دن اسے پیار سے چیکس پر کس کرتے،،،ڈیفوڈل کہا اور تب سے وہ اپنی ہر موسٹ فیورٹ چیز کو ڈیفوڈل ہی بلاتا۔ اسکے ننھے ذہن نے ڈیفوڈل کو اسکی پسند کا ہیش ٹیگ بنا دیا۔ جب بھی اسے کوئی چیز بہت پسند آتی اور وہ اسے ڈیفوڈل کہہ کر پکارتا تو ممی ڈیڈی فورا سمجھ جاتے کہ وہ چیز اسکی موسٹ فیورٹ ہے اور اب وہ اسے ہر حال میں اپنے پاس چاہیے۔ البتہ اسکا ڈیفوڈل بننا ہر چیز کے بس میں کہاں ہوتا اور جس چیز کو ایک بار اسکا ڈیفوڈل ہونےکا ہیش ٹیگ مل جاتا وہ پھر اسکے روم میں ہر حال میں موجود پائی جاتی۔ جسے وہ کسی کو ہاتھ تک بھی نہیں لگانے دیتا تھا۔ بس وہ صرف اسکی ہوتی اور وہ اسکا خود سے بڑھ کر خیال رکھتا۔

○●□■○●□■○

“آپ ہمارا یقین کریں گرینی،،،میں اور رامین، بی کے گھر سے آرہے ہیں،، انہیں مہندی کے فکشن کی دعوت دینے گئے تھے ہم دونوں،،،لیکن انہوں نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔”

اظہر نے نظر جھکائے ہوئے کہا۔ انہیں پتا تھا گرینی کیلئے یہ

خبر کتنی افسوسناک ہوگی۔

اظہر اور رامین مینشن لوٹے تو گرینی کو لان ہی میں ٹہلتے پایا۔

وہ انہیں دونوں کا بےصبری سے انتظار کر رہیں تھیں۔

“کچھ خیال ہے تم دونوں کو،،،اب مینشن کے طور طریقے بھی بھولتے جارہے ہو۔ یہ ٹائم ہے گھر لوٹنے کا؟؟؟”

غصے سے ان دونوں کو گھورتے گرینی نے خفگی سے کہا۔

“گرینی ہمیں معاف کر دیں،،،آئندہ خیال رکھیں گے۔”

رامین نے ہمت کر کے کہا ورنہ گرینی کے غصے کے آگے کسی

کے بولنے کی مجال نہیں تھی۔ لیکن وہ دونوں انہی کےکہنے پر آمینہ بی کو دعوت دینے گئے تھے،، اسلیے انہوں نے گرینی کے گوش گزار اصل بات کر دی۔

“مجھے خوشی ہے کہ تم دونوں وہاں گئے میری خواہش کے مطابق اور آمینہ کو ہمارے فیصلے سے آگاہ کیا۔ جیتے رہو”

گرینی کی آنکھوں میں آنسو آگئے،،وہ رنجیدہ ہوگئیں۔

“ارے اماں آپ رو کیوں رہی ہیں؟؟؟” نورین بیگم اور وقار الملک بھی لان میں پہنچ گئے تھے۔

“نہیں تو،،،نورین بیگم میں رو تو نہیں رہی۔”

گرینی نے آنکھوں کے کنارے ٹشو سے صاف کرتے ہوئے انہیں باری باری دیکھا۔ “یہ تو بس خوشی کے آنسو ہیں” وہ دھیرے سے بولیں۔

سب انکے لیے کتنے فکرمند تھے۔ بس ایک ذرا سی بات پر سبکے چہروں پر پریشانی عیاں تھی۔

گرینی کو لے کر وہ سب ہی بہت حساس تھے۔ اور گرینی کی

آنکھوں میں خوشی کے آنسو آنے کی وجہ بھی یہی تھی۔

دل ہی دل میں انہوں نے رب کا شکر کیا جس نے انہیں اتنی پیار کرنے والی اولاد اور پوتوں پوتیوں سے نوازا۔

○●□■○●□■○

مشعل گڑیا،،،،”کسی نے اسی طرف آتے پکارا تھا۔

“اف،،،،میرا خیال ہے بڑی مامی اسی طرف آرہی ہیں،،،خدارا اب تو سیف مجھے جانے بھی دیں۔”

وہ اسکی منت کرنے لگی۔ اگر کسی نے انہیں ایسے دیکھ لیا تو شامت پکی ہے۔ دل ہی دل میں وہ گھبرائی۔

“ٹھیک ہے،،،لیکن،،،،فرسٹ کس می،،، بہت ہرٹ کیا ہے

تم نے مجھے،،،دٹس وائے۔”

اس نے اسکی منت مانتے ہوئے اپنی شرط رکھی۔

وہ جتنی نروس تھی،،،وہ اتنا ہی پرسکون تھا۔

“نو،،،نو،،،،اٹس ویری بیڈ۔” شرم کے مارے وہ پھر سے اسکی بانہوں میں مچلی۔ اسکے سینے سے نہ ٹکرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے وہ نروس ہوئی۔

“ٹھیک ہے،،، پھر آئی ایم ویری بیڈ مین،،،” اپنے سینے سے لگائے سیف نے اسے ایک اور کس نیک کے بیک پر کی۔

شرم کے مارے اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ اور پھر اسے اپنی بانہوں کے حصار سے آزاد کر دیا۔

پیار کی پہلی نشانی،،،،مشعل کے دل میں اتر گئی۔

دیوانہ وار بھاگتے ہوئے وہ،،، وہاں سے چلے جانے والے سیف کے پیچھے گئی۔ جو اسے اپنے پیار کی پہلی نشانی دے کر،،، فنکشن کے شور شرابے میں کہیں کھو چکا تھا۔

○●□■○●□■○

بس اگر فردین کی بچیاں بھی میرا مان رکھ کر مینشن آنے کی دعوت قبول کر لیتں تو میں خوشی سے پھول کر کپھا ہوجاتی۔”

آبدیدہ ہوتے انہوں نے ان سے اپنا دکھ شئیر کیا۔ وہ سب ابھی بھی لان کے فریش ماحول کو انجوائے کر رہے تھے۔ اور ساتھ ساتھ ہلکی

پھلکی باتوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔

“بس اماں اب کیا کرسکتے ہیں،،،فردین بھائی نے جو کچھ اپنی

اولاد کو سکھایا،،وہی تو آج وہ لوٹا رہی ہیں۔”

نورین بیگم کی تیز زبان چلنے لگی۔ انہیں تو موقع مل گیا۔

“اگر انہوں نے اہنی بچیوں کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی کی فیملی اور آپکے لیے محبت ڈالی ہوتی تو وہ کبھی بھی مینشن میں آنے سے منع نہیں کرتیں۔”

یہ دیکھے بنا کہ گرینی کو اسکی باتیں کتنی تکلیف دے رہیں ہیں وہ بولے ہی گئی۔

“شاہانہ بیگم نے انکی پرورش میں ضرور کوتاہی برتی ہے،،،

جو وہ اپنے باپ کے سگے بھائی اور بوڑھی ماں کا احترام کرنا نہیں جانتی ہیں۔”

لان میں کھڑے نورین بیگم،،،زور زور سے فردین اور شاہانہ کی

برائی کرنے لگیں اور انہیں تو ایسا کرنے کا موقع ملنے کی دیر

تھی۔ وہ شاہانہ سے اپنی حسد کا کھل کھلا کر اظہار اسکی بچیوں پر کیچڑ اچھال کر کرنے لگیں۔

“گرینی آپکو آمینہ فردین کا سلام۔”

اچانک ہی آنے والی آواز پر ان سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

جہاں آمینہ نمدیدہ نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

کزنز میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے،،، سب اسے بی کہہ کر ہی پکارتے تھے۔

“آمینہ میری چندا،،،تم آگئیں میری جان۔”

اسے وہاں دیکھ کر گرینی کا چہرہ کھل اٹھا۔ وہ تقریبا” بھاگتے ہوئے اس تک آئیں اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

سب کو ہی آمینہ کو وہاں دیکھ کر حیرت ہوئی،،،انکے تو فرشتوں کو بھی اسکے وہاں آنے کا یقین نہیں تھا۔ البتہ نورین بیگم کا چہرہ اسے اچانک ہی مینشن میں دیکھ کر زرد پڑ گیا۔

انہوں نے جلدی سے رامین کے کان میں کچھ کھسر پھسر کی اور رامین جلدی سے اندر چلی گئی۔

○●□■○●□■○

“آمینہ میری جان،،تمہیں یہاں دیکھ کر تمہاری گرینی کا خون

بڑھ گیا ہے۔ جیتی رہو میرے فردین کی نشانی،،جیتی رہو۔”

آمینہ کے بعد گرینی نے باری باری پہلے آمینہ کی گود میں سوئے

ہوئے صوفی اور پھر آنکھیں مٹکا مٹکا کر ان سب کو گھورتی ننھی نمل کو کلیجے سے لگائے چوما۔

“آپ گرینی ہیں،،،نمل ڈارلنگ کے پاس آپکی فوٹو ہے۔”

معصومیت سے کہتے نمل نے گرینی کے ہاتھ پر کسی دی۔

اظہر نے آگے بڑھ کر اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ وہ تھی ہی

اتنی کیوٹ کہ ہر کسی کو پہلی نظر میں اپنی طرف متوجہ کر

لیتی۔

“تو ہماری ڈارلنگ نمل،،،باتیں بھی کرتی ہے۔”

اظہر نے اسکے پھول جیسے چیکس پر کس دی تو وہ کنفیوز ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی اور باقی سبکی ہنسی چھوٹ گئی۔

وقار الملک نے بھی آگے بڑھ کر آمینہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور دونوں بچوں کو پیار سے چوما لیکن نورین بیگم منہ پھلائے وہیں کی وہیں کھڑے اسے گھورتی رہیں۔ انکا زرد پڑا چہرہ آمینہ

نے بھی محسوس کیا لیکن اس نے بھی آگے بڑھ کر انہیں نہیں

بلایا۔

“چلو آمینہ چندا اندر چلو،،،اتنے سالوں بعد مینشن میں خوشی آئی ہے،،،کل ہی صدقہ نکال دینا وقار الملک۔”

خوشی سے نہال ہوتی گرینی،،، آمینہ کا ہاتھ تھامے اسے مینشن کے اندر لیجانے لگیں۔

باقی سب بھی انکے پیچھے پیچھے چل دئیے۔

○●□■○●□■○

اتنا بھاری لہنگا سنبھالوں یا پھر،،،اس پھولوں سے سجی ٹرےکو۔”

سنبھل سنبھل کر،،، پاؤں پاؤں چلتی،،،، وہ بس گرنے ہی والی تھی کہ اسکا مسیحا،،،، بالکل صحیح وقت پر پہنچ گیا۔

“سنبھل کر بےبی،،، سنبھل کر،،،آنے کے ساتھ اس نے اسکا

ہاتھ تھاما۔ لیکن وہ اتنی بدحواس ہوئی کہ پھسل کر اسی کے بازوں میں جھول گئی۔

“اچھا طریقہ ہے،،،اپنے نئے نویلے منگیتر سے فلرٹ کرنےکا، بےفکری سے وہ کہتا ہوا،،،اسکی صراحی جیسی نیک پر ابھرے اس براون تل کو کس کر گیا۔”

“ارے،،،ارے،،،کچھ شرم ہے،،، کہ نہیں آپکو۔”

اکھڑی اکھڑی سانس لیتے وہ اسی کے بازوں میں مقید مچلی۔

“شرم نہیں میری جان،،، مجھ تم سے پیار ہے،،،بےانتہا اور

بےاختیار،،،اسکی نیک پر ایک اور کس وہ دے چکا تھا۔”

“اسکے کانوں کی لہویں سرخ پڑ گئیں،،،”

“میری کمر چھوڑیں،،،کوئی دیکھ لے گا،،،”

کسمساتے ہوئے وہ خود کو اسکے حصار سے چھڑانے کی ناکام

کوشش کرنے لگی۔

“کوئی دیکھ لیگا تو،،،نظر جھکا لیگا،،،کسی کی پرائیویٹ لائف میں انٹری دینا،،، کوئی اچھی بات جو نہیں،،،”

بلیک پینٹ کوٹ اور وائٹ شرٹ کا یونیورسل کمبنیشن پہنے وہ،،، ہونٹوں پر شرارت سے لبریز مسکراہٹ سجائے،،،اسے

اور بھی کنفیوز کر گیا۔

“ویسے بھی ہماری انگیجمنٹ ابھی ہوئی نہیں ہے،،،وہ تو

بس بڑے بھیا کی خواہش پر اس دن میں نے رضامندی ظاہر کر دی تھی۔”

اسے ٹرخانے کیلیے اس نے تھوڑے جھوٹ کا سہارا لیا۔ جبکہ دل ہی دل میں وہ اسکی دیوانی تھی۔

“اچھا،،، تو یہ بات ہے،،،یعنی مجھے ابھی بگ برادر سے بات

کرنا ہوگی،،،”

ماتھے پر بل ڈالے،،، وہ خفگی سے بولا۔

اسکا ذرا سا خفا ہونا،،، اسے بےچین کر گیا۔

انکے درمیان سرد جنگ چھڑ گئی،،،وہ خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانےلگی،،اور وہ اسے کسی بھی صورت خود سے دورکرنے کو تیار نہیں ہوا۔

“ہائے صدقے،،،آپکی یہ نازک مزاجیاں۔” دور بیٹھی لائبہ پر نظر

جمائے اسکے منہ سے بےساختہ ہی نکلا۔