Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 10
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 10
Fareb Nazar by Gazal Saima
“ٹھیک ہے بیٹا،،، نہ کرو میری کال پک،،، کرو جتنے نخرے تم
نے کرنے ہیں۔ میں بھی اب کال کرنے والی نہیں۔”
اس نے اپنا موبائل سائڈ پر رکھا اور بیک سے بکس، نوٹ بک
نکالنے لگی پر ساتھ ساتھ بڑبڑاتی بھی رہی۔
“جیسے میں تو مرے جارہی ہوں ناں تمہارے لیے۔ دو دن سے کوئی اتا پتا نہیں اور بی کے نہ ہونے پر اس رات چوری چھپے میرے کمرے میں گھس کر مجھ پر اپنا حق ایسے جتا رہے
تھے جیسے میرا سب سے زیادہ خیال تمہی کو ہو۔ ڈرامے باز کہیں کے۔ ہنہ”
لائبہ نے منہ پھلائے جانے کیا کیا شاہان کو کہا اور نوٹس بنانے
میں مہو ہوگئی۔
![]()
حد سے زیادہ بھی نہ کسی سے محبت کرنا
جان لیتا ہے سدا، جان سے پیارا کوئی ![]()
![]()
جب لائبہ نے بھی انتقامی کاروائی کرتے ہوئے شاہان کی تیس کالز میں سے کسی ایک کو شرف قبولیت نہیں بخشا تو اس نے
ایک تڑپتا ہوا شدت مفارقت سے لبریز میسج اسکے نام کیا۔
لائبہ اور شاہان کی جب سے جان پہچان ہوئی تھی،، میسج پر انکی بات شاذ و نادر ہی ہوتی۔ زیادہ تر کال پر یا پھر ملاقات پر ہی وہ دونوں ایک دوسرے سے ڈھیر ساری باتیں کرلیتے تاکہ دوبارہ بات ہونے تک کوئی تشنگی نہیں رہے۔
لیکن ابتدائے محبت کی کہانی ےک تو ایسا چلتا رہا لیکن اب جب محبت کی بیل انکے دلوں میں پلنے پھولنے لگی تھی تو منٹوں سیکنڈوں کی دوری بھی انکی برداشت سے باہر تھی۔
ایک پل بھی ایک صدی کے برابر لگنے لگا تھا اور یہی وجہ تھی
کہ اب میسج پر بھی وہ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے تھے اور اس وقت شاہان کا میسج لائبہ کو کسی اور ہی جہان
میں پہنچا چکا تھا۔ وہ خفا ہونے کے باوجود اسکے پیار بھرے
شکوہ کا جواب دیے بغیر نہیں رہ پائی۔
![]()
چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پوچھا ہے
کیا کہیں ٹوٹ گیا خواب ہمارا کوئی![]()
![]()
اس نے مسکراتے ہوئے سوچ سوچ کر لکھا۔ اسے بھی محسن نقوی کی یہ غزل بہت پسند تھی۔
ایک ہی منٹ میں شاہان کا رپلائی اسے موصول ہوا۔
![]()
نہ وہ ملتا ہے نہ ملنے کا اشارہ کوئی
کیسے امید کا چمکے گا ستارہ کوئی ![]()
![]()
بےساختہ ہی لائبہ اسکا جواب پڑھ کر شرما پڑی۔ اور پھر کچھ
سوچتے ہوئے ایک اور شعر اسکے نام کیا۔
![]()
بیوفائی کے ستم تم کو سمجھ آجاتے
کاش تم جیسا اگر ہوتا تمہارا کوئی ![]()
![]()
کچھ دیر تک شاہان کا جب کوئی رپلائی نہ آیا۔ وہ تھک کر پھر سے نوٹس بنانے لگی۔ لیکن ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسکے کانوں میں شاہان کی گھمبیر آواز اپنی پوری مٹھاس کے ساتھ گونجی۔ وہ سٹپٹا کر رہ گئی۔
![]()
سب تعلق ہیں ضرورت کے یہاں شانی
نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی![]()
![]()
اپنے جواب کے ساتھ وہ خود بھی حاضر تھا اور دنیا و مافیا سے بےفکر اسکی شہد آنکھیں جی بھر کے تک رہا تھا۔
اسے یوں وارفتگی سے خود کو تکتے دیکھ کر،،، شرما کر لائبہ نے اپنی نظریں جھکا لیں۔
لیکن شاہان پورے موڈ میں تھا اسے یوں اپنے سامنے نظر جھکائے دیکھ کر اسکا شعری ذوق اور بھی بھڑک اٹھا۔
![]()
تو ہے جسکی جان اسی کی، تجھ کو نہیں پہچان سجن
تجھ پر میری جان نچھاور ،، اے میرے انجان سجن ![]()
![]()
معصومانہ انداز میں شعر پڑھتا وہ لائبہ کو اور بھی زیادہ اچھا لگا
کتنے معصوم تھے اسکے گلے نہ کوئی زور، نہ کوئی زبردستی،
نہ کوئی دھمکی ، نہ کوئی خوف ، نہ کوئی ڈر۔
کل کے واقعے کی ایک ہلکی سی جھلک بھی اگر وہ یاد کر بیٹھتی تو بےچینی اور اضطراب سے اسکا برا حال ہو جاتا
اور ایک وہ تھا جو صرف ایک نظر دیکھنے پر ہی جیسے سارے جہان کا سکون اسکی گود میں ڈال چکا ہو۔
اسفر سے وہ نظر ملانے کی ہمت نہیں کر پائی تھی اور شاہان سے اسکی نظر ہٹتی نہیں تھی۔
کتنے مختلف تھے وہ دونوں،،، اور کتنا جدا تھا انکا اس سے
اپنی بےانتہا محبت کرنے کا اظہار کرنا۔
لمحے بھر کو ہی لیکن وہ اسفر کو سوچ کر ہی ڈر گئی تھی اگر شاہان اسکا ہاتھ تھام کر اسے حال میں واپس نہیں لاتا تو وہ
پھر سے بیہوش ہوگئی ہوتی۔
اور شاہان کی بدولت ملے اتنے حسین اور یادگار لمحے بھلا بیٹھتی لیکن اسکے مسیحا نے بروقت اسکا ہاتھ تھام کر اسکے
لیے ان پلوں کو امر کر دیا تھا۔
“ویسے کسی شاعر کا کلام چرانا اچھی بات نہیں”
برجستہ وہ اسے تکتے بولی تھی۔
ہاہاہاہاہاہا۔ اسکی بات سنکر وہ بےاختیار ہی ہنس پڑا۔ اور لائبہ کو لگا جیسے دھوپ میں برسات ہونے لگی ہو۔
“ایک محبوب کو،،، اپنے محبوب کو دل کا حال سناتے ہوئے کلام
تک چرا لینے کی اجازت ہوتی ہے،،، اے میرے انجان سجن۔”
شرارت سے اسکا ہاتھ دباتے وہ اسے دیکھا گیا۔ جو اسکی شرارت
سے محفوظ ہوتے ہوئے پھر سے نظر جھکا گئی تھی اور ہولے
ہولے مسکرا رہی تھی۔
“تجھ کو نہیں پہچان سجن،،،اے میرے انجان سجن۔”
اور پھر زیر لب شرماتے ہوئے لائبہ نے اسی کے شعر کو موجودہ حالات کی مناسبت سے مختصر کر کے اسکی ہی طرف واپس لوٹا دیا۔ اسکی حاضر دماغی پر شاہان عش عش کر اٹھا۔
محبت کی کہانی کے وہ دونوں ہی انمول رتن تھے۔
محبت کا اظہار کرتے ہوئے بھی ،،، وہ دونوں پیار سے ایک دوسرے کو ،،، انجان سجن ہی پکار رہے تھے۔
کتنا منفرد گلہ تھا انکا ایک دوسرے سے ،،، محبت سے بھرپور ،،، محبت کا سوالی !!
○●●□■□○●□■
“لیکن گرینی یہ سب کچھ جو ہوا ہے،،، بالکل بھی سہی نہیں ہوا،،، آپ سب نے مل کر میرا اعتماد ،،، میری عزت لائبہ کی نظروں میں گھٹانے کی کوشش کی ہے اور میں یہ کبھی بھول نہیں پاونگی۔”
لائبہ کے یونیورسٹی جانے کے بعد ہی آمینہ مینشن پہنچ گئی اور
گرینی سے اعتراض کرنے لگی۔
“دیکھو آمینہ تم بیجا ضد کر رہی ہو۔ وہ سب ایک نہ ایک دن تو اسے پتا لگنا ہی تھا پھر اتنا شور شرابہ کس لیے۔”
گرینی نے اسے سمجھانے کی کوشش کرئی۔
“یا پھر تم اسے کبھی بھی یہ سب پتا چلنے ہی نہیں دیتیں۔
کہیں اسفر نے تمہارے کسی بنے بنائے کھیل کو خراب تو نہیں
کر دیا۔”
اسے مشکوک نظروں سے ابکی بار گرینی نے دیکھا تو وہ اپنی صفائی میں کچھ کہنے کیلئے لفظ جوڑنے لگی۔
“گرینی میں نے ہمیشہ آپکے فیصلے کا احترام کیا ہے۔ تب بھی جب انور سے صرف ایک مہینے بعد ہی میری منگنی ختم ہوگئی
تھی اور اس سب میں بھی میرا قصور نہیں تھا لیکن پھر بھی
آپکے کہنے کے مطابق میں چپ ہو گئی بالکل چپ۔”
خود کو بچانے کیلئے اس نے پینترا بدلا۔
“وہاں تمہاری غلطی تھی آمینہ۔ تم بھول رہی ہو تم نے خود انور
کو اپنے لیے اکسایا تھا اور اسفر کے عین وقت پر وہاں پہنج جانے
پر تم نے سارا الزام انور کے سر تھوپ دیا جبکہ اصل میں تم خود
قصوروار تھیں۔”
آمینہ کے پسینے چھوٹنے لگے۔ آج تک تو وہ یہی سمجھتی آئی تھی کہ انور نے اپنی بےعزتی ہونے کے ڈر سے اصل سچ کسی کو
بھی نہیں بتایا ہوگا لیکن وہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتی ہیں۔
سچائی سنکر اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
“نہیں گرینی یہ سب مجھے پھسانے کیلیے کیا گیا۔ آپ میرا یقین کریں میں جھوٹ نہیں بول رہی۔ میرے پاپا نے میری ایسی تربیت ہی نہیں کی کہ میں جھوٹ اور الزام تراشی کا سہارا لیکر خود کو بےقصور ثابت کروں۔ اگر ایسا کچھ بھی انور اور میرے بیچ ہوا ہوتا تو اسی دن آپکے سامنے آجاتا۔ اسطرح پیٹ پیچھےکہانی نہیں بنائی جاتی۔”
اپنے اوپر لگا الزام بہرحال وہ ماننے والی نہیں تھی۔
“جو ہوا،،، سو ہوا۔ اب کچھ ثابت ہو جانے سے بھی کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اپنی اپنی زندگیوں میں تم دونوں ہی آگے بڑھ چکے ہو۔ اچھا یہی ہے کہ اسے ایک پرانی غلطی سمجھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاو۔”
گرینی نے اسے بغور دیکھا۔ وہ انہیں کسی سوچ میں لگی۔ کسی
گہری سوچ میں۔
“تم ہمیں سن رہی ہو ناں آمینہ،،،میری جان۔”
اپنے مخصوص انداز میں انہوں نے اسے متوجہ کیا تو وہ بری طرح سے چونک گئی۔ وہ واقعی کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی تھی
“جی گرینی ،،، جی ،،،، میں آپکو ہی سن رہی ہوں۔”
اپنی غائب دماغی پر وہ الجھی لیکن پھر سنبھل گئی۔
“تو پھر کیا فیصلہ کیا ہے میری جان؟؟”
البتہ گرینی نے اسے پھر سے گھورا۔ اسکے دماغ میں کچھ تو چل رہا تھا جو وہ وہاں ہوتے ہوئے وہاں نہیں تھی بلکہ کسی اور بھی سوچ میں تھی۔ انہیں صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“ٹھیک ہے گرینی میں پھر کبھی دوبارہ اس بات کا تزکرہ نہیں کرونگی۔ مجھے واقعی اس بات کو بھلا دینا چاہیے۔”
اسکی آنکھوں نے کچھ ہی دن پہلے کا وہ منظر دوبارہ دیکھا جب
اسے کسی اجنبی آدمی نے کار میں باندھ رکھا تھا،،، اور اسے
زبردستی مینشن کی دعوت قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
اسے جھرجھری آئی وہ واقعی ایک عورت ہونے کے ناطے ایسا
کوئی رسک دوبارہ نہیں لینا چاہتی تھی۔
“جیتی رہو،،،میری جان،،، مجھے خوشی ہے کہ تم نے گرینی
کی بات مان لی۔”
انہوں نے اسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تو وہ بھی جلدی سے انکا دایاں ہاتھ چومنے کیلئے آگے بڑھی۔
○●□■○●□■○●■■
“اچھا اور اتنے مصروف تھے تم کہ ایک بار بھی میری کال پک نہیں کی۔”
لائبہ اپنی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے،،، پارک میں اسکے ہمراہ
آ ضرور گئی تھی لیکن شاہان سے فاصلے پر بیٹھی تھی۔
اور وہ اسکے خفا ہونے پر اسے منانے میں لگا تھا۔
غلطی بھی اسی کی تھی وہ ایک بار بھی اسے کچھ نہیں بتا پایا تھا اور اسی لیے وہ اس سے خفا تھی۔
“ویسے مجھے پکا پتا ہے۔”
اس نے اپنے مخصوص شرارت بھرے انداز میں کہا تھا۔ لائبہ نے
باوجود خفا ہونے کے اسے نظر بھر کے دیکھا۔
اس سے کچھ اور دیر خفا رہنا اب اسے دشوار لگ رہا تھا۔ وہ اسے
اگر ایک موقع دیتا تو وہ جھٹ سے اسکے گلے میں اپنی بانہیں ڈالے کب کی مان بھی گئی ہوتی۔
“کیا پتا ہے تمہیں۔؟” دل میں اس نے اسے بدو کہا۔
“یہی کہ اوپر اوپر سے تم مجھ سے روٹھنے کا ڈرامہ کر رہی ہو لیکن اندر سے تم میرے ساتھ ہی ہو۔ کیوں پکڑ لیا ناں تمہارے
دل کا چور؟”
کتنا میٹھا تھا وہ اور کتنا مٹھائی جیسا انداز تھا اسکا لائبہ کو
منانے کا۔ وہ اسکے واری گئی۔
“جی نہیں میں تب تک ماننے والے نہیں جب تک تم میرے لیے کچھ الگ سا نہ کرو۔”
“اتنی جلدی ماننے والے تھی میں بھی نہیں مسٹر شاہان۔”
وہ اسکے لیے کیا کرتا وہ دیکھنا چاہتی تھی۔”
دل ہی دل میں اس نے سوچا تو اسکی شہد آنکھیں چمکیں۔
“او یعنی تم میرے عشق کا امتحان لینا چاہتی ہو۔”
اسکی شہد آنکھوں میں دیکھتا وہ شوخیانہ انداز میں بولا۔ وہ اسکی آنکھوں کی چمک دیکھ چکا تھا۔
لائبہ کے چہرے کا رنگ گلابی رنگ میں ڈھلنے لگا۔ اسکی نظر
کا اسے وارفتگی سے دیکھنا،،، لائبہ کی کمر میں سنسناہٹ
کا احساس جگانے لگا۔
“اپنی نظریں ہٹاو مجھ پر سے،،، اے میرے انجان سجن۔”
اسے یوں خود کو ٹکر ٹکر دیکھے وہ نظر جھکا گئی۔
“کیوں ہٹاوں اپنی نظر۔ میری نظر کا قرار ہو تم۔ اے میرے انجان سجن۔”
لائبہ زیر لب مسکرا اٹھی۔ وہ جتنی شرمیلی تھی وہ اتنا ہی بیباک تھا۔
“مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ اے میرے انجان سجن۔” شرماہٹ سے اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا۔
اس نے محسوس کیا شاہان اسکا ایک ایک بدلتا نقش بڑی محویت
سے تک رہا ہے۔ وہ اور بھی بےکل ہونے لگی۔
“ہائے میں صدقے تم پر،،، اے میرے انجان سجن
وہی تو محبت ہے عشق ہے،،، اے میرے انجان سجن”
برملا کہتے وہ اسکی طرف بڑھنے لگا جیسے جیسے وہ پاس آتا
گیا،، لائبہ کو اپنی دھڑکن سو فیصد تیز بھاگتی محسوس ہوئی۔
اور پھر وہ اسکے بالکل پاس آگیا۔ سب فاصلہ طے کرکے۔
بالکل اسکے روبرو۔
لائبہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کی ہمت کی،، اب وہ کوئی غیر نہیں تھا،،،بلکہ اسکا اپنا تھا،،اسکی محبت کا مرکز ،،، اسکی بیچینیوں کا چین۔
کسمساتے ہوئے وہ اسکے بانہوں کے گھیرے میں سمٹ گئی۔
تاکہ اپنے دل میں اٹھے اس بیقراری کے طوفان کو روک سکے۔
شاہان نے اسکی مہربانی پر فرط محبت سے اسکے رخسار کو چوما۔ وہ اسکا عشق کا امتحان لینا چاہتی تھی،، اور وہ امتحان کے ساتھ ساتھ اسکے حواس پر بھی اپنی فتح کا جھنڈا لہرا چکا تھا۔
○●□■○●□■○●□■
“اگر آپ دونوں کی پرائیویسی میں،،، مداخلت کی ذرا سی بھی
گنجائش باقی ہے تو میں اسے انجام دینے ہی آیا ہوں۔”
ان سے چند قدم ہی دور کھڑا وہ اپنی دہکتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ کب اور کیسے وہاں آیا انہیں بالکل بھی نہیں
پتا لگا تھا لیکن اب وہ انکے بالکل سامنے موجود تھا۔
شاہان اور لائبہ دونوں نے ہی ایک ساتھ اسکی طرف دیکھا تھا۔
اسے دیکھنے کے ساتھ ہی لائبہ کے چہرے کی رنگت زدہ ہوگئی۔ وہ اسکے وہاں آنے پر ہکابکا رہ گئی۔
“کون ہو تم ؟؟ اور ہمیں ڈسٹرب کرنے کا لائسنس ہے تمہارے پاس؟؟؟”
شاہان نے اسے گھورتے ہوئے رکھائی سے کہا تھا۔
جتنا حق وہ اپنا لائبہ پر رکھتا تھا اسکے بعد کسی کا اس طرح انہیں ڈسٹرب کرنا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
“چلو اچھا ہے تم نے خود ہی لائسنس کا پوچھ لیا ورنہ یہ جرآت
مجھے ہی کرنے پڑتی۔”
اسکی دہکتی آنکھوں کی تپش اور بھی بڑھی۔
انکو ایک دوسرے کے مدمقبل دیکھ کر لائبہ کے پسینے چھوٹنے لگے۔ اگلے لمحے جو ہونے والا تھا اسے سوچ کر ہی اسکی سانسیں رکنے لگیں۔
“کہنا کیا چاہتے ہو تم۔ صاف صاف کہو۔ پہلیاں کیوں بھجوا رہے ہو۔”
شاہان کے چہرے پر غصے سے تیور ابھرے۔
“یہی کرنے تو آیا ہوں میں۔ ایک معصوم اور بھولے چہرے کا اصل
روپ دکھانے۔”
اس بار اس نے لائبہ کے وجود کو اپنے طنز کی کاٹ دار نظر سے ٹٹولا۔ لائبہ اسکی نظر کے بوجھ تلے دبے گئی۔
“نہیں۔۔پلیز ایسا کچھ نہیں کرنا۔”
دل ہی دل میں وہ التجا کرنے لگی۔
“بکواس بند کرو اور جو کہنے آئے ہو وہ سیدھا سیدھا کہو اور چلتے بنو یہاں سے۔”
شاہان کا غصہ بھی کچھ کم خوفناک نہیں تھا اور لائبہ اس سے
آج ہی واقف ہوئی تھی۔
“مجھے اسفر وقار الملک کہتے ہیں۔ اسسٹنٹ آف کمشنر پولیس اور یہ رہا میرا نکاح نامہ۔”
اسفر کے الفاظ لائبہ کی سماعت سن کر گئے تھے۔ شاہان نے
اسے تعجب سے گھورنا جاری رکھا۔
“اس سب میں میرے کام کی بات کچھ بھی نہیں۔”
لاپرواہی سے کہتا وہ لائبہ کا ہاتھ تھامے پلٹنے ہی لگا تھا کہ اسفر کے کہے اگلے جملے نے اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔
“اور اس نکاح نامہ میں درج ہے کہ لائبہ فردین میری بیوی اور میں یعنی اسفر وقار الملک انکا شوہر نامدار ہوں۔”
اسکی بات مکمل ہونے کے ساتھ ہی لائبہ بھی بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑی جبکہ شاہان فاروق کی پسلیوں میں کسی نے زوردار مکا جڑا ہو وہ جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
“اور اب تم مجھے اپنی بیہوش بیوی،،، کو ہسپتال لیجانے سے روکنے کی ہمت نہیں کرو گے،،،، کیونکہ ایسا کرنے پر میں تمہیں دس منٹ کے اندر اندر ،،، واپس لاک اپ میں سڑنے کے لیے پھنکوا دونگا۔”
اسفر وقار الملک نے انگارہ نظروں سے شاہان کو دیکھتے ہوئے
دھمکایا اور اسکے بعد بیہوش پڑی لائبہ کو اٹھانے کیلئے جھکا تھا۔
شاہان سکتے کی حالت میں،،، کچھ بھی کرنے سے لاتعلق ہی کھڑا رہا تھا۔ وہ جو کر رہا تھا جو کہہ رہا اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
سیف کے دکھ پہنچائے جانے کے بعد،، لائبہ کا سچ سامنے آنے
سے اسکا دل بری طرح کچلا گیا تھا۔ لب بھینچے وہ آس پاس
سے بالکل بےخبر مرتے قدموں کے ساتھ واپس جانے کے لیے پلٹ گیا۔
الفاظ کے جھوٹے بندھن میں![]()
![]()
اغراض کے گہرے پردوں میں![]()
![]()
ہر شخص محبت کرتا ہے![]()
![]()
حالانکہ کہ محبت کچھ بھی نہیں![]()
![]()
سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں![]()
![]()
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں![]()
![]()
کب کون کسی کا ہوتا ہے![]()
![]()
سب اصلی روپ چھپاتے ہیں![]()
![]()
احساس سے خالی لوگ یہاں![]()
![]()
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں![]()
![]()
اک بار نگاہوں میں بس کے![]()
![]()
پھر ساری عمر رلاتے ہیں![]()
![]()
یہ عشق و محبت، مہر و وفا![]()
![]()
سب رسمی رسمی باتیں ہیں![]()
![]()
ہر شخص خودی کی مستی میں![]()
![]()
بس اپنی خاطر جیتا ہے![]()
![]()
اسکی سماعتیں سائے سائے کر رہیں تھیں۔ کہیں پڑھی بہت
پرانی نظم اچانک ہی اسکی یادداشت میں ابھری تھی۔ وہ بری
طرح سے ٹوٹ گیا تھا۔
“نہیں کم از کم تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتیں لائبہ۔
مجھے دھوکہ نہیں دے سکتیں۔”
ٹرانس کی کیفیت میں بڑبڑاتا وہ پارک سے باہر نکل گیا تھا۔
