Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 7
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 7
Fareb Nazar by Gazal Saima
♡♡آنکھوں سے نندیں چرانے آئیں ہوں♡♡
♡♡پیار کا جادو جگانے آئیں ہوں♡♡
♡♡سن لے او بے خبر کہتی ہے یہ نظر♡♡
♡♡تجھے اپنا دیوانہ بنانے آئیں ہوں♡♡
♡♡ہو گی نہ مجھ سی ہزاروں میں♡♡
♡♡باتیں ہیں جو دل کی سنانے آئی ہوں♡♡
♡♡میرے ان آنکھوں میں ترا ہی سپنا ہے♡♡
♡♡چھوٹی سی دنیا میں ایک تو ہی میرا اپنا ہے♡♡
♡♡تجھ کو ہی دل میں سجانے آئی ہوں♡♡
سنگر کی سریلی آواز کے جادو میں وہ سب آہستہ آہستہ کھونے
لگے۔ مینشن میں مدعو مہمان مہندی اور مایوں کے فنکشن میں
انواٹیٹڈ تھے۔
پیلے اور ہرے رنگ کے ربن اور بیلوں سے پورے ہال کو سجایا گیا تھا جبکہ ہرے اور پیلے رنگ ہی سے بنے خوبصورت فلاورز سے والز کو آراستہ کیا گیا تھا۔
جلھمل کرتی لاٹٹنگ میں وہ سب اب تھرک رہے تھے۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا،،،ہر کوئی آج روزانہ سے الگ اور منفرد دکھائی دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
مسٹر اینڈ مسزز وقار الملک ریسپشن پر خاص گیسٹس کے منتظر تھے جبکہ گرینی مہندی کی رسمیں انجام دینے کیلیے بنائے اس خصوصی پنڈال میں آرام دہ صوفے پر براجمان پورے
ہال پر نظر جمائے ہوئے تھیں۔ کسی کمی،،، کسی ذرا سی بھی لاپرواہی کو وہ آج ہرگز برداشت کرنے والی نہیں تھیں۔
سب ہی مہمان آہستہ آہستہ ہال میں آچکے تھے۔ لیکن اسفر کی آنکھوں کو وہ ابھی تک دکھائی نہیں دی تھی۔ بےچینی سے یہاں
وہاں ٹہلتا وہ اسکے آنے کا منتظر تھا۔ گرینی نے اسکی بےچینی
دور سے بھی صاف محسوس کرلی تھی۔
“سنو ذرا،،،”انہوں نے ہال میں موجود مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے والے ویٹر کو پکارا۔
“جی میم فرمائیے۔” مدعوب انداز میں وہ انکی بات سننے کو تھوڑا آگے کیطرف جھکا۔
“مسٹر اسفر وقار الملک تک میرا میسج پہنچا دو کہ گرینی نے اسے یاد کیا ہے۔”
ہلکی آواز کے ساتھ گرینی نے اسے کہا۔
“اوکے میم۔ ” ویٹر انکا میسج لےکر اسفر تک گیا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہیں تھیں۔
“اوکے تم جاو میں دیکھ لیتا ہوں۔”
اسفر نے ویٹر کو واپس بھیجا اور خراماں خراماں چلتا گرینی کے
پاس صوفے پر آکر بیٹھا۔
“کیا ہے گرینی ڈئیر آج بھی مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آج تو
مجھے آزادی سے انجوائے کرنے دیں۔”
مسکراتے ہوئے وہ گرینی کو بالکل کوئی جنٹلمین ہیرو لگا۔
ویسے بھی آج وہ پہلے ہی بہت اسمارٹ لگ رہا تھا اور اس پر
اسکا بےاختیار مسکرانا اسے اور بھی ڈیشنگ بنا رہا تھا۔
“ماشاءاللہ،،،ماشاءاللہ،،،جیتا رہے،،،خوش رہے،،،بس گرینی
نے یہی اسمائل دیکھنی تھی اپنے پرنس کے چہرے پر۔
اب گرینی کو سکون مل گیا۔”
اسے بغور دیکھتے گرینی نے شفیق مسکراہٹ اپنے چہرے پر
سجائے کہا تو وہ اور بھی کھل کر مسکرا اٹھا۔
ایک وہی تھیں جو اسکی نظروں سے اسکے دل کی کیفیت جان لیتی تھیں،،،اسی لیے تو وہ انہیں اپنے ہر دکھ سکھ میں شامل
کرتا،،،وہ اسکے دل کے بہت قریب تھیں۔ اسکی ترقی،،اسکی
کامیابی کیلیے دعائیں مانگنے والی گرینی اسکی جان تھیں۔
وہ انہیں مسکراتا دیکھ کر اور بھی مسکرانے لگا۔
“گرینی کیا خیال ہے آج اسفر فلرٹ کر سکتا ہے ناں۔ “
اچانک ہی وہ کچھ سوچ کر بولا تو گرینی نے اسکے یونٹوں پر
مچلتی شرارت دیکھ لی۔
“کون ہے وہ جسکے لیے قرعہ نکال رہا ہے۔”
اسے سوچتا دیکھ کر گرینی نے چھیڑا۔ اسی طرح وہ ہنستے ہنستے اسکے دل کی بات جان لیا کرتی تھیں۔
“کون سے کیا مطلب؟؟ ” خفا سا اسفر گرینی کو دیکھے گیا۔
“آپکو پتا ہے گرینی بہت اچھی طرح کہ اسفر کا دل کس کے ساتھ فلرٹ کرنے کو چاہ سکتا ہے؟؟؟ کون ہو گا اس قابل کہ وہ اسفر وقار الملک کے سامنے ٹھہر سکے۔”
برجستگی سے بولتا وہ انکے گھٹنے پکڑ کر بیٹھ گیا۔
“گرینی اسفر وقار الملک کے دل میں لائبہ کے علاوہ کوئی دوسرا
ہو ہی نہیں سکتا،،، یہ آنکھیں اسکی منتظر تھیں اور ہمیشہ اسی کی منتظر رہیں گی۔”
اسکی آنکھوں میں ابھرتی چمک اسکے دل کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے کافی تھی۔
“وہ صرف پرنس اسفر وقار الملک کی ہی ہوگی،،، یہ گرینی کا
وعدہ ہے۔”
گرینی نے اسکا ماتھا چومتے پورے یقین سے کہا اور اس بار انکا ایسا کہنا بالکل الگ تھا،،، بالکل ویسا جیسا وہ حتمی فیصلہ
کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں۔
اسفر وقار الملک کے دل میں مچی ہلچل اور بھی اتل پتل مچانے
لگی۔ شادی مرگ کی کیفیت میں وہ اسے پانے کا یقین لیے گرینی کے ہاتھوں کو محبت سے چومتا کھڑا ہی ہوا تھا کہ وہ
اسکی آنکھوں کے بالکل سامنے سے بالوں کی لٹیں سمیٹتی گرینی کو سلام کرنے کیلیے جھکی تھی۔
اسفر وقار الملک کی دھڑکنیں ایک سیکنڈ میں رکیں اور دوڑیں
تھیں،،، اسکی اتنی نزدیکی اسفر کو بےکل کرنے کے لیے بہت
تھی۔ وہ شاک کی حالت میں اسکے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔
اسکے پاس سے آتی مسحور کن خوشبو اسفر کے حواس پر چھائے ہوئی تھی۔
“اسفر بیٹا،،، ذرا ادھر آو۔”
اچانک ہی گرینی نے اسے پکارا تھا وہ انکی طرف جھکا تھا۔
“لائبہ بٹیا سے ملو،،،” گرینی نے اسفر کا ہاتھ تھامے اسے لائبہ کے بالکل روبرو کھڑا کر دیا تھا۔
چٹان کی طرح سخت اور کھر دماغ کا حامل وہ چھ فٹ لمبا انسان اسکی نظروں کی تپش سے سلگ اٹھا تھا۔ وہ ڈیشنگ
لگ رہا تھا تو وہ بھی کسی پرستان کی خوبرو پری دکھائی دی
رہی تھی،،، ان دونوں کے چھلکتے ہوئے حسن کے آگے کوئی
دوسرا ٹھہرنے والا نہیں تھا۔
لائبہ اسے مبہوت دیکھے گئی اور وہ اسے تشنگی نظر کی شدتوں سے خود میں اتارے گیا۔
“ہیلو آئی ایم اسفر وقار الملک۔”
اس نے ہمت جتا کر ہاتھ ملانے کیلیے آگے بڑھایا۔
“اوہ،،نائس ٹو میٹ یو۔”
جسے لائبہ نئ فورا” ہی اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ میں تھاما تھا۔
اسفر کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسکا پہلا لمس،،اسکی پہلی
نظر،،،سب کچھ کتنا منفرد تھا۔
وہ جو اسکا کئی سال پہلے سے دیوانہ تھا آج اور بھی دیوانہ بن
چکا تھا۔
“میں آپکو جانتا ہوں لائبہ فردین بہت پہلے سے۔”
اسفر کے کہنے پر وہ چونکی تھی۔ گرینی دوسرے مہمانوں سے
ملنے میں بزی ہو چکی تھیں۔ اب اسفر وقار الملک خود ہی اس
گیم کا پلیئر تھا جسکا آغاز گرینی نے اسے لائبہ کے روبرو کھڑا کر کے کردیا تھا اور وہ جس گیم میں شامل ہو جائے اس میں پھر
ہارا نہیں کرتا تھا یہ اسکا اصول تھا۔
“تب سے جانتا ہوں میں آپکو،،،جب سے آپ میرے نکاح میں
ہیں۔”
اسفر کے الفاظ لائبہ کو شاکڈ کر گئے۔ دیدے ہلائے بنا وہ اسے
دیکھے گئی۔
گرینی سمیت پنڈال میں موجود ہر فرد نے انکی طرف دیکھا اور
آمینہ فردین کے چہرے کا رنگ فق پڑ گیا۔
اس بات کا انہیں ہرگز اندازہ نہیں تھا۔ وہ لائبہ کے چہرے کے
بدلتے رنگ دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔
“آپ شرعی اور قانونی طور پر میری بیوی ہیں اور میں قانونی اور شرعی طور پر آپکا شوہر نامدار اسفر وقار الملک ہوں۔”
اسفر کے ہونٹ ہلتے ہوئے لائبہ کی سانسوں کو کھینچنے لگے۔
دم بخود کھڑی وہ پتھر کی ہو چکی تھی۔
“میں اس سے خود بات کرونگی،،، اسفر تم اسے اسطرح پریشان نہیں کرسکتے۔”
آمینہ فردین بلاآخر ہمت جتا کر آگے بڑھی اور اسفر کو گھورتے
ہوئے غصے سے بولی۔
“میں سب بتا چکا ہوں انہیں،،،آپ نے سنا ناں،،،ہماری بات ابھی ابھی تو ہوئی ہے۔”
آمینہ کو آج وہ کوئی بہت ہی خطرناک انسان معلوم ہوا جسکے سامنے بولنے کی غلطی کم از کم آج تو اسے وارا نہیں کھانے والی تھی۔ آمینہ باوجود کوشش کے کچھ اور نہیں بول پائی۔
اور وہ مین آف نائٹ،،، اسی ڈھٹائی،،، اسی رعب،،، اسی اپنائیت سے اپنی بات جاری رکھے ہوا تھا۔
“اور اب آخر میں،،، آپ سے میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ آپکی رخصتی آج ہی میرے ساتھ ہونے والی ہے اور آپ اس پر اعتراض نہیں کریں گی کیونکہ اسفر وقار الملک شرعی حیثیت سے آپکو اپنے ساتھ لیجانا چاہتا ہے۔”
اسکی گھمبیر آواز اور اسکی چھبتی آنکھیں لائبہ کو نروس
کرنے لگیں وہ اس سے خوفزدہ سی ہو گئی۔ اپنا اٹل فیصلہ سنا
کر البتہ وہ اسکے سامنے سے جا چکا تھا۔
اور لائبہ اسکے وہاں سے جاتے ہی چکرا کر نیچے گر پڑی تھی۔
سب ہی اسکی طرف بھاگے تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر گرینی اس پورے معاملے میں ایک بار بھی نہیں بولیں تھیں اور
نہ ہی کسی اور کو کچھ کہنے کی اجازت دی تھی۔
“لائبہ آج کی دلہن ہے،،، ہوش میں آنے کے بعد انہیں اچھا سا تیار کرو،،، انہیں سب سے خوبصورت نظر آنا ہے۔”
گرینی نے حتمی انداز میں کہا تھا اور آمینہ فردین کی سماعت کھڑے ہی کھڑے سن ہو چکی تھی۔
گرینی بھی اسفر وقار الملک کے ساتھ ہیں ایسا جب تک وہ سمجھ پائی تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور اسے اب ویسا ہی
کرنا تھا جیسا وہ دونوں چاہتے تھے۔
○●□■○●□■○●□■
(فنکشن سے ایک دن پہلے )
“باہر تیز بارش جاری ہے اوپر سے گھر پر لائٹ بھی نہیں ہے اور
لائبہ گھر میں نمل کے پاس بالکل اکیلی ہے۔ پلیز مجھے چھوڑ دو،،،مجھے جانے دو۔”
آنسو اسکی آنکھوں سے بل بل نکل رہے تھے۔ اسکی گود میں
صوفی سویا ہوا تھا۔ گھر سے کچھ ہی دور انڈر کنسٹرکشن بلڈنگ
کی بیس منٹ میں کالے رنگ کی کار میں موجود وہ بالکل بےبس تھی۔ کار کی پچھلی سیٹ پر اسے اسکے ہاتھ پاؤں بندھ کر بٹھایا رکھا گیا تھا اور اگلی ڈرائیونگ سیٹ پر اپنے چہرے پر خوفناک شکل کا ماسک چڑھائے وہ آدمی اسے گھور رہا تھا۔
“تم جانا چاہتی ہو تو ضرور جا سکتی ہو۔ لیکن ایک بات اچھی طرح سمجھ لینا کہ اگر تم نے ویسا نہیں کیا جیسا کرنے کو تم سے کہا گیا ہے تو اسکی ذمےدار تم خود ہوگی،،،اور وہ جسکے کہنے پر میں تمہیں پچھلے دو گھنٹے سے یہاں قید کیے ہوئے ہوں،،، اتنا خطرناک ہے کہ تمہیں گردن کاٹ کر مار کر تمہاری لاش کچرے کے ڈھیر پر پھنکوا دے گا اور پھر تمہیں گلی محلے کےکتے چبا کھائیں گے۔”
اسکی دھمکی سن کر آمینہ کا چہرہ پھیکا پھٹ پڑ گیا۔ خوف سے اسکا دل زور زور سے دھک دھک کر رہا تھا۔
“اسلیے ہوشیاری نہیں،،، بلکہ عقلمندی سے کام لینا۔ سمجھ گئیں۔”
خوفناک شکل کا ماسک پہنا وہ آدمی آگے کو جھکا تو آمینہ دبک
کر پیچھے کسک گئی،،، اسے اسکی وحشت ناک صورت سے
متلی ہو رہی تھی۔
“اچھے سے سمجھ گئیں،،، ہوشیاری نہیں عقلمندی۔”
ہمممم۔ اپنی بات پر روز دیتا وہ اسے گھورے گیا۔
خوف کے مارے آمینہ کی سانس رکنے لگی۔
“ہاں سمجھ گئی،،،جیسا چاہتے ہو ویسا ہی ہوگا۔ میں کوئی
ہوشیاری نہیں دکھاونگی۔”
اس سے اپنی جان چڑھانے کو سہم کر وہ سست روی سے بولی پائی تھی۔
“شاباش،،، ” آدمی نے سرعت سے کہا تھا۔
اور اسکے بعد آمینہ کو اسکے گھر کے سامنے اتار کر وہ کار
چلی گئی۔
ڈرتے ڈرتے آمینہ گھر میں داخل ہوئی،،،اسکے سارے کپڑے
تیز بارش کیوجہ سے بھیگ چکے تھے۔ وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی
تھی۔
“اوہ آپ آگئیں بی،،،اتنی دیر لگا دی،،، مجھے تو فکر ہونے لگی تھی،،،آپ میری کال بھی نہیں اٹھا رہیں تھیں۔”
آمینہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر لائبہ بولے ہی گئی۔
اس کی وجہ سے وہ بھی پریشان تھی،،، اسلیے خود کو روک
نہیں پائی۔
“نمل کہاں ہے لائبو؟؟ ” آمینہ کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی۔
“اسے میں نے سلا دیا ہے۔ لائٹ جانے کے پہلے ہی وہ سو
گئی تھی۔”
لائبہ نے آمینہ سے صوفی کو لیا اور اسکے گیلے کپڑے بدلنے
لگی۔
“اچھا،،،کیا گھر میں کوئی آیا تھا؟؟”
آمینہ نے خوفزدہ نظروں سے پھیلی کینڈل لائٹ میں ادھر ادھر
دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں بی،، اتنی تیز بارش ہو رہی کس نے آنا ہے۔”
لائبہ صوفی کے کپڑے بدلتے سرعت سے بولی۔
“اچھا،،،کل مینشن میں فکشن ہے مہندی کا،،،ہمیں جانا ہوگا،،،،،
تم سب تیاری وقت پر کر لینا،،،گرینی ہمیں پک کرنے کیلیے کار بجھوا دینگی۔”
سوچ میں ڈوبے آمینہ اسے بتائے گئی اور لائبہ اسے حیرت سے
سنے گئی۔
“لیکن ہم تو نہیں جانے والے تھے ناں بی؟؟؟”
لائبہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ہم ضرور جائینگے سمجھ گئیں۔ اب اور سوال نہیں،،،میں پہلے
ہی کافی تھک گئی ہوں،،،کپڑے بدل کر سونے کیلیے لیٹ جاونگی تم صوفی کو کوٹ میں سلا دینا۔”
سرعت سے کہتے آمینہ اسے حیرت زدہ چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“اور ہاں خود بھی جلدی سو جانا،،،تمہیں صبح یونیورسٹی بھی
جانا ہے۔”
حسب عادت اسے تنبیہ کرتے ہوئے کمرے سے آمینہ نے کہا تھا۔
دیر تک جاگ کر وہ پڑھائی نہ کرتی رہے اسلیے روز رات کو آمینہ
اسے جلدی سونے کی تنبیہ کرنا نہیں بھولتی تھی۔
“جی بی،،،اچھا۔”
لائبہ کے منہ سے پھنسا پھنسا نکلا تھا۔
اصل میں تو وہ یہ سوچ رہی تھی کہ بی نے اچانک ہی مینشن جانے کا پروگرام کیسے بنا لیا۔ ○●□■○●□■○●■■
“تم کیوں میرے ساتھ ویسا ہی کر رہی ہو ڈیفوڈل،،،، جیسا بگ برادر نے کیا۔ تم دونوں نے مجھے ہرٹ کیا ہے۔”
لال سوجی آنکھوں کے ساتھ موبائل پر وہ پہلے سیف کی اور پھر
لائبہ کی سیو پکچرز دیکھتا جارہا تھا اور شکوہ بھی کر رہا تھا۔
:یو بوتھ ہرٹ می،،،یو بوتھ بریک مائی ہارٹ۔”
اکیلے ویرانے میں بیٹھا وہ سگریٹ کی پوری ایک ڈبی پھونک
چکا تھا اور اب اس آخری سگریٹ کو جلانے کے لیے لائٹر جلا
رہا تھا۔ آج ہی اسے سیف نے مشعل کے ساتھ اپنی شادی کا
اچانک ہی سرپرائز دے کر ہرٹ کیا تھا اور آج ہی مینشن کے فکشن میں جانے کیوجہ سے وہ لائبہ سے بھی نہیں مل پایا تھا
اور یہی وجہ تھی ابھی ان دونوں سے اسکے خفا ہونے کی۔
ہوا کافی سرد ہوتی جارہی تھی،،،گھر سے نکلتے وقت وہ جیکٹ
تک لینا بھول گیا تھا اسلیے اب ٹھنڈ سے بری طرح ٹھٹھرنے لگا
تھا۔ کچھ دیر تک تو سگریٹ پھونکنے کا شغل فرماتے ٹائم کا پتا نہیں چلا لیکن اب وہ خود کو بہت تنہا اور اکیلا محسوس کر رہا
تھا۔ جانے کہاں سے اسکے اندر اچانک ہی اتنی ساری ناامیدی نے جنم لے لیا تھا کہ وہ حد سے زیادہ خود کو لاوارث محسوس کر
رہا تھا۔
“پاپا ماما آپ لوگ اپنے شاہان کو کیوں چھوڑ کر چلے گئے،،، میں کتنا اکیلا ہوں،،کتنا تنہا ہوں،،میرے پاس کوئی بھی نہیں ہے۔ بھائی نے اپنا وعدہ توڑا،،، مجھے بتائے بغیر ہی شادی کر لی،،مجھے کتنی تکلیف ہوئی،،،کتنا دکھ پہنچا،،،اسکی پرواہ نہیں انہیں،،،وہ دھوکے باز ہیں،،، جھوٹے ہیں،،، وعدہ فراموش ہیں۔”
غصے میں وہ نجانے کیا کیا بولتا گیا اسے خود بھی احساس نہیں ہوا۔ لیکن ایک بات تو طے تھی کہ سیف کے شادی کرنے پر وہ
سچ مچ بہت رنجیدہ تھا۔
“میں انہیں سزا دونگا،،،میں ضرور انہیں سزا دونگا،،پھر انہیں بھی پتا لگے گا کہ ہرٹ ہونا کیا ہوتا ہے،،، جب بھروسے اعتبار کو ٹھیس لگے تو دل کس بری طرح سے ٹوٹتا ہے۔”
لال سوجی گیلی آنکھوں کے کنارے صاف کرتا وہ کھڑا ہوا اور
تھوڑی ہی دور کھڑی اپنی بائیک کیطرف جانے لگا۔
“چلو جلدی کرو اسے یہاں جھاڑیوں میں پھینک دو،،کوئی نہیں
یہاں،،جلدی کرو،،اگر یہ مر گئی تو ہمارے گلے پڑ جائیگی۔”
اونچی اونچی جھاڑیوں کے دوسری طرف سے آتی آواز نے اسکے
اٹھتے قدم روک لیے۔
“ابے جلدی کر،،، پھینک سالی کو،،،ہمارا کام تو ہوگیا۔”
وہ آوازیں کچھ زیادہ دور سے نہیں آرہی تھیں۔ وہ لوگ اس سے
قریب ہی تھے۔ اسے جھرجھری سی آگئی۔
“جانے کون بیچاری ہے جسے یہ شیطان اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکے ہیں۔”
وہ انکی باتوں سے ہی انکے گناہ کے بارے میں جان گیا تھا۔
شاہان جلدی سے جھاڑیوں کی آڑ میں نیچے بیٹھ گیا۔ جھاڑیوں کے اسطرف وہ تین لوگ تھے اور اس لڑکی وہ گھسیٹتے ہوئے
وہاں تک لے کر آئے تھے۔ یعنی انہوں نے اسے اپنی درندگی کا
نشانہ اسی ویرانے میں بنایا تھا لیکن جب سے شاہان وہاں بیٹھا
تھا اس نے کسی کے چیخنے کی آواز نہیں سنی تھی۔
“ہوسکتا ہے لڑکی کو بیہوش کردیا ہو ان شیطانوں نے۔”
اسکے منہ سے بےساختہ ہی نکلا۔
لڑکی کو وہاں پھینک کر وہ تینوں سڑک کی جانب گئے جہاں ایک
کار آکر رکی اور وہ تینوں اس میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔
لڑکی ہوش میں تھی لیکن تکلیف سے کراہ رہی تھی۔
شاہان نے اسکی مدد کرنے کی ٹھانی اور جلدی سے اس تک پہنچا۔
“اوہ یہ تو بہت بری کڈیشن میں ہے۔”
لڑکی کو دیکھتے ہی وہ پیچھے ہوا۔ اسکا لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور وہ بری طرح سے زخمی تھی۔ اسکے جسم پر
انگنت نوچے جانے کے نشانات تھے۔
“حد ہے یار؟؟؟کیا سفاکیت ہے یہ؟؟؟اتنی درندگی؟؟؟جانور
کہیں کے۔”
ایسی حالت میں بھی لڑکی کی سانس چل رہی تھی یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
“اسے تو ہسپتال لیجانا ہوگا۔”
اس نے پاس ہی پڑے پھٹے پرانے چادر کے ایک بڑے سے ٹکڑے سے اسکے وجود کو ڈھانپا تھا۔
“مجھے گھر نہیں جانا،،،مجھے مار دینگے وہ،،،مجھے بچالو۔
مجھے نہیں مرنا۔”
تکلیف کی شدت سے نیم بیہوشی میں لڑکی بار بار یہی الفاظ دہرا رہی تھی۔ شاہان کو اسکی حالت پر بہت ترس آیا۔ اس نے
جلدی سے ایمبولینس کا نمبر ملایا۔
“تم پریشان نہیں ہو میں کسی کو کچھ نہیں بتاو گا۔ مگر تم ہو
کون اور یہ لوگ کون تھے؟؟؟”
اس نے لڑکی کو دلاسہ دیتے پوچھا تھا۔
“میں نرمین ہوں،،، نرمین وقار الملک۔”
لڑکی اٹک اٹک کر کہہ پائی تھی۔
وہ نام سنکر شاہان کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
“شوہر،،،اسفر وقار الملک۔”
ایک ہی دن پہلے لائبہ سے بات کرتے ہوئے اس نے اسی سر نیم
کے ساتھ اسے بڑبڑاتے سنا تھا۔
اسکا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ آخر قسمت اسکے ساتھ کیا کھیل کھیلنا چاہتی ہے۔ وہ بری طرح الجھ کر رہ گیا۔
ان ناموں کے علاوہ اسکے پاس اس پہیلی کو سلجھانے کا کوئی
دوسرا کلوو نہیں تھا۔
“لیکن یہ جتنی بھی مشکل پہیلی ہو،،، شاہان فاروق اسے بوجھ کر ہی رہیگا۔”
وہ کچھ دیر سوچ کر بولا تھا۔
