584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 30

Fareb Nazar by Gazal Saima

“گرینی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے ہمیں ابھی مینشن کے لیے نکلنا ہوگا۔”

رات کے آخری پہر اسفر کو کال پر اطلاع ملی تو وہ ہڑبونگ میں لائبہ کو جگانے چلا آیا۔

نیند سے بوجھل آنکھوں کو مسلتے ہوئے وہ بمشکل ہی بیدار ہو پائی تھی کہ اسفر نے اسکی سماعت پر بم پھوڑا۔

“کیا؟؟ لیکن کیسے؟؟” کب ایک دم اسکے منہ سے سوالات کی بوچھاڑ ہوئی۔

اسفر کے ساتھ ساتھ اب گرینی سے وہ بھی کافی دلی لگاوٹ محسوس کرنے لگی تھی۔ اسی لیے اچانک انکی طبیعت کی ناسازی کا سنکر وہ شاکڈ ہوئی۔

“سب وہیں جاکر پتا لگے گا بس تم جلدی سے باہر پہنچو۔”

سرعت سے کہتے ہوئے اسفر باہر نکلا تھا۔

“یااللہ رحم کرنا۔” بےاختیار لائبہ کے منہ سے نکلا۔

تیزی سے وہ بیڈ سے نیچے اتری اور جلدی جلدی تیاری کر کے

باہر پہنچی جہاں اسفر پہلے ہی اسکا ویٹ کر رہا تھا۔

اسکے آتے ہی وہ کار میں بیٹھا اور زن سے مینشن کیطرف روانہ ہوا۔

“سب خیر تو ہوگی ناں اسفر۔”

پریشان لائبہ نے بےچینی سے کار دوڑاتے ہوئے اسفر کو یک ٹک دیکھا۔

“ہاں اللہ بہتر کریگا۔ تم فکرمند نہ ہوں۔”

اس وقت اسفر کو اگر اڑ کر بھی مینشن پہنچنا پڑتا تو وہ ایسا

کرنے میں سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کرتا۔

کار کی اسپیڈ ہر گزرتے منٹ کے ساتھ تیز ہی ہوتی جارہی تھی۔

اتنا تیز ڈرائیو کرتے یوئے بھی اسفر اسکی طرف بار بار دیکھتا

اور اسکو اطمینان دلاتا۔ البتہ تیز ڈرائیونگ لائبہ کی برداشت سے

باہر تھی اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔

“ڈونٹ وری سوئیٹ ہارٹ۔ مجھے تیز ڈرائیو کرنے کی عادت ہے۔

بس ہم ابھی پہنچ جائینگے۔ تم نروس مت ہو۔”

لائبہ کا متغیر چہرہ اسفر نے باخوبی پڑھ لیا تھا۔

تاکہ بجائے پریشان ہونے کے وہ ہمت سے کام لے وہ اسکا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔

لائبہ نے اثبات میں سر ہلایا لیکن سچ میں وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔

○●□■○●□■

“ایک سچ کیسے سارا کھیل بگاڑ دیتا ہے یہ تمہارے فرشتوں کو بھی نہیں پتا ہوگا اسفر وقار الملک۔”

اسکے چہرے کی مسکان خباثت لیے ہوئے تھی۔

اور آنکھوں کی چمک کسی فریب کا عکس۔

“میں کتنا خوش قسمت شخص ہوں کہ اپنی بےعزتی کا بدلہ لینے کے لیے میرے پاس کئی راستے ہیں۔”

اسکی پیشانی پر ابھرتی لکیر اور گہری یوئی۔

جیسے خوب سوچ سمجھ کر وہ کسی فیصلے پر پہنچا ہو۔

“اور شاہان فاروق کا خود سے وعدہ ہے کہ وہ ہر راستہ کو استعمال ضرور کریگا اپنی بےعزتی کا بدلہ لینے کے لیے۔”

اپنی گردن اور بھی اکڑاتے ہوئے اس نے اقرار کیا۔

نیلے رنگ کی اسکی آئی بالز پھیل کر سکڑیں۔

“اب میرے دشمنوں کے بارے میں بھی جان لو۔”

سپاٹ چہرہ لیے وہ خود کا عکس ہاتھ میں پکڑے شیشے کے خالی گلاس میں دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔

“اسفر وقار الملک۔۔۔ لائبہ فردین۔۔۔۔ کیونکہ تمہیں میں کبھی بھی لائبہ اسفر تسلیم کر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔ اسلیے تم ہمیشہ میرے لیے لائبہ فردین ہی رہوگی۔”

جنونیت کی لہر اسکے چہرہ پر دوڑی۔

“اور تیسرا وہ ہے جو ابھی مجھ سے روپوش ہے مگر وقت آنے پر

مجھ سے خود کو بچا نہیں پائیگا۔”

آخری دشمن کا تذکرہ کرتے ہوئے اسکا لہجہ کڑواہٹ سے بھر گیا۔ لیکن یہ بھی سچ تھا کہ وہ خود بھی ابھی اپنے آخری دشمن

کے بارے میں کچھ واضح نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“ہنی کیا خود سے باتیں کرنے کی تمہاری پرانی عادت ہے۔”

اچانک ہی نرمین ریڈ کلر کی شرٹ اور ریڈ ہی کلر کی لانگ اسکرٹ پہنے چینجنگ روم سے نمودار ہوئی۔

شاہان کو شاید بڑبڑاتے ہوئے وہ سن چکی تھی۔

“گڈ مارننگ ڈارلنگ۔” سرعت سے شاہان نے اپنا موڈ تبدیل کیا

اور اپنی طرف آتی نرمین کو مورننگ کس دی۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ نرمین کو اس پر ذرا برابر بھی شک ہو۔

اس لیے فوری خود کو بالکل پرسکون ظاہر کرنے لگا۔

“اتنا ویٹ بھی کراتا ہے کوئی اپنے نئے نویلے ہبی کو۔”

شرارت سے بائیں آنکھ کا کونا دباتے وہ نرمین کے گلے میں اپنی

بانہیں ڈال چکا تھا۔

“سوری ہنی۔ مجھے تیار ہونے میں اتنا وقت تو لگ ہی جاتا ہے۔

اب تم عادی ہو جاو گے۔”

نرمین نے اسکے بازوں کو سہلاتے لاڈ سے کہا۔

“ہاں عادی تو ہونا ہی پڑے گا۔”

مسکان سجائے شاہان گرمجوشی سے گویا ہوا۔

“سو اب ہم کہاں جانے والے ہیں؟”

نرمین نے جوش سے پوچھا تھا کیونکہ شاہان کے ساتھ اسکا

یہ پہلا پوری آزادی کے ساتھ کہیں جانے کا پلان تھا۔

وہ بہت ہی زیادہ آکسائیڈ تھی۔

“جہاں ملکہ عالیہ کہیں گی بندہ ناچیز وہیں لے چلیگا۔”

کمال اداکاری سے سر ہلاتے ہوئے شاہان مسکرایا۔

“او رئیلی۔” اسکی دلنوازی دیکھ کر نرمین جوم کر رہ گئی۔

“پہلے گرینی کو سلام کرنے چلتے ہیں۔”

یکدم سنجیدگی سے نرمین نے کہا۔

مینشن کی روایات کو وہ کیسے بھلا سکتی تھی۔

“وائے ناٹ۔”

شاہان کی آنکھیں فریب کا عکس لیے پھر سے چمکیں۔ شاید سب کچھ ویسا ہی ہونے جارہا تھا جیسا وہ پلان بنا چکا تھا۔

نرمین کا مینشن جانے کا امکان دراصل اسکے بنائے گئے خفیہ پلان کے بالکل عین مطابق تھا۔

○●□■○●□■

“مسٹر اسفر آپکی گرینی کو ہارٹ اٹیک آیا تھا لیکن بروقت ہسپتال لانے کی وجہ سے اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔”

ڈاکٹر کے انکشاف نے اسفر کو ہلا کر رکھ دیا۔

“ہارٹ اٹیک لیکن کیسے؟؟” وہ الجھ کر رہ گیا۔

گرینی تو بہت خوش تھیں بلکہ آخری وقت وہی تو انکے پاس تھا

پھر یہ ہارٹ اٹیک وہ خود کو مطمئن نہیں کر پارہا تھا۔

“اللہ کا شکر ہے اب خطرے کی کوئی بات نہیں۔”

آمینہ بی زیرلب بڑبڑائی۔ لیکن اسفر نے صاف سنا تھا۔

“مینشن واپسی پر مادام گرینی آرام کی غرض سے جب اپنے

روم میں جاچکی تھیں تو آمینہ بی کو میں نے انکے روم میں جاتے ہوئے دیکھا تھا لیکن بعد میں میرے پوچھنے پر وہ صاف مکر گئیں۔”

زیوا کی فون کال پر اسکی جو بات ہوئی تھی اسے دافعتا یاد آئی۔

“آمینہ بی آپکو لائبہ نیچے بلا رہی ہے ابھی مجھے کال کی اس نے۔”

اسفر نے آمینہ کو مخاطب کیا تو وہ چونک پڑی۔

“اوہ۔اچھا۔ ہوسکتا ہے مجھ سے کوئی کام ہو اسے۔”

آمینہ جلدی سے لفٹ کی جانب لپکی وہ خود بھی اسفر کی نگاہوں سے خود کو غائب کرنا چاہ رہی تھی کیونکہ وہ بال کی کھال اتارنے والا شخص تھا۔

اور اس وقت اسکا اور آمینہ کا سامنا نہ ہونا ہی ان دونوں کے حق میں بہتر تھا۔ لیکن اسفر کی چھٹی حس اسے پہلے ہی چوکنا کر چکی تھی۔ جتنی پھرتی سے آمینہ موقع پاتے ہی لفٹ کی جانب لپکی تھی اس سے بھی کئی زیادہ پھرتی سے اسفر نے پہلے ہی لفٹ پکڑ کر آمینہ کو اس میں آنے کی دعوت دی۔

وہاں اسفر کو دیکھ کر آمینہ کے تو پسینے چھوٹنے لگے لیکن

مرتی کیا نہ کرتی اسے لفٹ میں اسفر کے ساتھ ہی سوار ہونا

پڑا۔ کیونکہ انکار کر کے وہ اسفر کو کسی شک میں ڈالنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی۔

خاموشی سے وہ اسفر کے پہلو میں اپنے اترے چہرے کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اب آگے کیا ہوگا یہ سوچ کر ہی اسکا چہرہ زرد پڑگیا۔

○●□■○●■

“اچھا تو بہت یقین ہے ناں تمہیں اپنے شوہر اسفر وقار الملک پر۔”

خاصا ڈرامائی انداز تھا شاہان کا لائبہ کو لان میں اکیلا پاکر دھمکانے کا۔ لائبہ اسکی موجودگی پر سٹپٹائی تو لیکن پھر فوری ہی سنبھل گئی اب وہ شاہان کی مکاری سے خوب واقف تھی۔

اسفر اسے مینشن میں چھوڑ کر گرینی کے پاس ہسپتال گیا تھا

جب تک انکی طبیعت پوری طرح سنبھل نہ جائے اس نے اسے ہسپتال جانے سے منع کیا تھا۔

یقینا” اسے منع کرنے کے پیچھے اسکا کچھ نہ کچھ مطلب تو تھا لیکن خاصی تکرار پر بھی اس نے لائبہ پر کچھ عیاں نہیں کیا تھا۔

“اپنی بکواس کے ساتھ یہاں سے چلے جاؤ۔”

وہ زور سے چلائی۔

لیکن شاہان پر کچھ اثر نہیں ہوا۔

ڈیٹائی سے وہ اسکے اور بھی نزدیک آیا۔

“لگتا ہے اس دن کا اپنا حشر تم بھول چکے ہو ورنہ دوبارہ ایسی

غلطی نہیں کرتے۔”

نخوت سے شاہان کو گھور کر لائبہ نے کہا۔

“جو مجھے تمہیں بتانا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے جو تم اپنے اور اسفر کے رشتے کو لیکر سمجھ رہی ہو۔”

ناچاہتے ہوئے بھی لائبہ کے چہرے پر الجھن در آئی۔

“کیا بکواس کر رہے ہو؟”

اسکی آواز میں تلخی گھلی۔

“فردین ملک یہی نام ہے ناں تمہارے ڈیڈ کا؟”

شاہان نے اسے بغور دیکھا۔

“تو؟؟” تعجب سے لائبہ کی شہد رنگ آنکھیں سکڑیں۔

کیا کہنا چاہتا ہے وہ۔ اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔

“ایک مشہور آرٹسٹ۔”

شاہان نے خاصا پراسرار انداز اپنایا۔

:تو؟؟” وہ اور بھی الجھن کا شکار ہوئی۔

“25 دسمبر جس دن ایک کار ایکسیڈنٹ میں انکی موت ہوئی۔”

شاہان کی باتوں کا ادھورا پن لائبہ کو زچ کر رہا تھا۔

“جو کہنا ہے کھل کر اور صاف صاف کہو۔”

بھڑک کر وہ چلائی۔

“تو پھر سنو لائبہ فردین۔”

دانت پیستے ہوئے وہ گویا ہوا۔

لائبہ کا چہرہ پھیکا پڑا۔

“فردین ملک کو جان سے مارنے والا کوئی اور نہیں۔۔۔ اسفر وقار الملک خود ہے۔ تمہارے پاپا کار ایکسیڈنٹ میں نہیں۔۔۔۔ بلکہ اسفر وقار الملک کی ریوالور سے نکلنے والی گولی کا نشانہ بنے تھے۔”

ششدر سی خاموشی انکے بیچ در آئی۔ کچھ بھی کہے بغیر لائبہ

یک ٹک شاہان کو سنے گئی۔

“تمہارے پاپا کے مرنے کا یقین ہوجانے کے بعد اسفر وقار الملک

نے انہیں کار کی اگلی سیٹ پر بٹھایا اور کار کو پہاڑی راستے

پر ریس دے کر چھوڑ دیا تاکہ ایکسیڈنٹ ہونے کی تصدیق ہوجائے اور اس ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں فردین ملک کی موت کی تصدیق بھی۔”

کافی سفاکیت سے کہتا ہوا شاہان سانس بحال کرنے کو رکا۔

لائبہ کی سماعتیں سائیں سائیں کرنے لگیں۔

عنقریب اس کی ہمت جواب دے جانے والی تھی اور وہ بیہوش۔

“وہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ اسفر وقار الملک کا کیا گیا پلان مڈر تھا۔”

شاہان اسی سفاکی سے دوبارہ گویا ہوا۔

گرم ابلتے آنسو لائبہ کی آنکھوں سے پھسلتے ہوئے گردن تک لڑھک رہے تھے۔ اسکی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔ آنسوؤں نے

اسکے گلے میں پھندا ڈال دیا۔

وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔

اسکی ٹانگوں سے جان نکلنے لگی۔

ہمت ہار کر وہ دھڑام سے لان کی گھانس پر گھٹنوں کے بل بیٹھی۔ گرم گرم آنسو اسکی آنکھوں سے رواں تھے۔

شاہان سامنے کھڑا تھا لیکن اسکی بصارت دھندلا چکی تھی۔

وہ اسے دیکھ ہی نہیں پارہی تھی۔

“لائبہ۔ سوئیٹ ہارٹ۔”

اچانک ہی اسکے کانوں کی سنسناہٹ میں اسفر کی مانوس آواز گونجی۔ تیز رفتاری سے اسفر اسی کی جانب آرہا تھا۔