584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 12

Fareb Nazar by Gazal Saima

“لائبہ جائیں ٹرائے روم میں جاکر پہلے انہیں ٹرائے کر لیں۔ ہوسکتا ہے فٹنگ آپکو سیٹ نہ ہو۔”

گرینی کی ہدایت کے مطابق لائبہ بالآخر اسفر وقار الملک کے شاپنگ مال آگئی تھی۔ جو سب سے پہلے اسے ڈریس پسند

کروانے لے آیا تھا اور اب وہ دونوں فینسی ڈریسز کی ایک طویل

قطار میں سے اپنی اپنی پسند کا ایک ایک جوڑا چن چکے تھے۔

“اوکے میں ٹرائے کر کے آتی ہوں۔”

لائبہ ڈریس لے کر ٹرائے روم میں چلی گئی اور اسفر موبائل پر

بزی ہوگیا۔

کچھ ہی منٹ بعد لائبہ ٹرائے روم سے نکلی اور اسفر وقار الملک

سے چھپ کر باہر جانے لگی جبکہ وہ دونوں ڈریس بھی اس نے

اپنے ہاتھ میں پکڑا رکھے تھے۔

اسفر وقار الملک کا اسکی طرف دھیان ہی نہیں تھا اسلیے لائبہ

اسکی نظروں سے تو بچ گئی لیکن ریسپشن پر کھڑے سیلزمین سے نہ بچ پائی اور وہ تیزی سے اسکے پیچھے لپکا۔

“ایکسکیوزمی میم۔ ” پیچھے سے اس نے لائبہ کو پکارا۔

اسکے پکارنے پر جہاں اور لوگ لائبہ کی جانب متوجہ ہوئے وہیں

سرسری سا نظر اٹھا کر اسفر وقار الملک نے بھی دیکھا اور لائبہ

کو بھاگتا دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا۔

“پلیز لائبہ رک جائیں۔ کیا کر رہی ہیں آپ یہ ؟؟؟ “

سیلز مین کے ساتھ ساتھ وہ بھی اسکے پیچھے لپکا۔

لیکن جانے لائبہ کے دماغ پر کونسا بھوت سوار ہو گیا تھا کہ بجائے رکنے کے وہ اور بھی تیز دوڑتی گئی۔

ہر کوئی اس تماشے کو دیکھنے لگا۔ اور پھر اسفر نے اپنی اسپیڈ

بڑھاتے ہوئے اسے اسٹیرز اترتے ہوئے پکڑ ہی لیا۔

“ہوش میں ہیں آپ لائبہ۔ کیا حرکت ہے یہ ؟؟؟”

اسکا ہاتھ دبوچے کچا کھا جانے نظروں سے اس نے لائبہ کو گھورا۔

جسکے جواب میں لائبہ کچھ بھی بولنے کے بجائے چپ چاپ

اسے تکے گئی۔

“میم سر پلیز آپ اسکی پیمنٹ کرنے کے بعد اسے لیجا سکتے ہیں۔ سب سے ایکسپنسف ڈریسز ہیں یہ یہاں کے۔”

سیلز مین ہانپتے کانپتے ان تک پہنچا تھا۔

“آپ یہ کارڈ لیں اور ابھی اپنی پیمنٹ لے لیں۔ ڈونٹ وری میری

مسزز کو کوئی کنفیوژن ہوگیا تھا۔”

سیلز مین کی طرف اپنا کریڈڈ کارڈ بڑھاتے اسفر سرعت سے

بولا۔ معاملہ سلجھتا دیکھ کر لوگ بھی ان پر سے نظریں ہٹا کر

اپنی اپنی شاپنگ میں بزی ہوگئے۔

“اس سب کے کرنے کا مقصد بتا سکتی ہیں آپ مجھے؟؟”

ہنوز سکتے کی حالت میں کھڑی لائبہ پر نظریں گاڑے اس نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے پوچھا۔

لیکن جواب میں وہ اسی طرح پتھر کا بت بنے بالکل خاموش کھڑی رہی۔

“چلیں میرے ساتھ۔ اس سبکا حساب تو آپ کو چکانا ہی پڑے گا۔”

اسفر اسکا ہاتھ کھینچے اسے شاپنگ مال سے باہر لے آیا۔

“میرا ہاتھ چھوڑیں ورنہ ابھی چیخ چیخ کر لوگوں کو اکھٹا کرلونگی۔”

درشتی سے چلاتے ہوئے لائبہ نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑایا اور

واپس جاکر کار میں بیٹھ گئی۔

ہکابکا کھڑا اسفر بالکل بھی نہیں سمجھ سکا کہ آخر اسے ہوا

کیا ہے۔

اسی کشمکش کا شکار ہوئے وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے تیزی سے کار کیطرف آیا اور بغیر مزید کچھ بولے کار میں بیٹھ گیا۔

دو منٹ اسی طرح خاموشی سے بیٹھنے کے بعد اس نےکار اسٹارٹ کی اور زن کر کے شاپنگ مال کی حدود سے نکل گیا۔

○●□■○●□■

○●■■■□●●

“واہ بھئی واہ آج تو کمال ہوگیا۔ مینشن کا سب سے خوبصورت کپل شاپنگ کرنے گیا ہوا ہے۔”

آمینہ کے لیونگ ہال میں انٹر ہوتے ہی رامین چہک کر بولی۔

وہ شاید ابھی سو کر اٹھی تھی اسی لیے اسے وہاں کیا چل رہا

اسکا بالک اندازہ نہیں تھا۔

تعجب سے اس نے رامین اور پھر وہاں براجمان دیگر نفوس کو

دیکھا۔

“رامین کے کہنے کا مطلب ہے مسٹر اینڈ مسزز اسفر وقار الملک اس وقت شاپنگ کرنے گئے ہوئے ہیں۔”

رامین کی تائید میں ہانیہ بولی جو اظہر وقار الملک کی نئی نویلی دلہن تھی۔

“اوہ اچھا۔ مجھے لگا یہ تم میں سے کسی کا ذکر کر رہی ہے۔”

سرسری سا مسکراتے ہوئے آمینہ نے کہا۔

اور ایسا ظاہر کیا جیسے اس نے انکی بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔

“تم لوگ بتاو کل کے لیے سب تیاری ہوگئی۔”

انکی کے قریب براجمان ہوتے وہ نخریلی پن سے بولی۔

رامین نے تو اسکا نخرچو پن زیادہ محسوس نہیں کیا البتہ ہانیہ

کو اسکے پوچھنے پر تعجب ہوا۔ اور آمینہ کا مقصد بھی رامین کے بجائے اسے چھڑانا کا تھا۔ سو وہ اپنے مقصد میں کامیاب

رہی تھی۔

اسکے ہنوز خاموش رہنے پر آمینہ نے میڈ کو پکارا اور نمل اور صوفی کو جگا کر وہیں لے آنے کا تہنیت سے کہا۔

“میرے معصوم بچے تو مینشن میں جب سے آئیں ہیں بالکل

رل ہی گئے ہیں۔ “

منہ پھلائے چہرے پر افسردگی لیے آمینہ نے سرعت سے کہا

اور ہانیہ کی طرف پیٹ کر کے بیٹھ گئی۔

جسکا صاف مطلب اسے یہ باور کرانا تھا کہ مجھے بھی تم سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں۔

ہانیہ نے ناچاہتے ہوئے بھی اسکی حرکت نوٹس کر لی تھی اور

اسکے بعد سے وہ لیونگ ہال سے جا چکی تھی۔

○●□■○●□■

●■■○○□●■

“میں آپکی اس حرکت کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔”

اسفر کار کو سائیڈ پر روک چکا تھا یہ ایک قدرے سنسان روڈ تھا۔ اکا دکا ہی کوئی زن کر کے انکے پاس گزر جاتا۔

لائبہ سے وجہ جاننے کے لیے اسفر کے نزدیک اس سے مناسب جگہ نہیں ہوسکتی تھی۔

“اچھا تو مجھے ڈرانے اور اپنا رعب ڈالنے کے لئے آپ نے اس سنسان جگہ کا انتخاب کیا ہے۔ ویری گڈ۔ “

بےباکی سے کہتے وہ کار سے اترنے لگی لیکن اسفر نے اسے

روکنے کے لیے اسکا بازو کہنی کے پاس سے پکڑ کر اپنی گرفت

میں کر لیا۔

“میرے سوال کا جواب دیے بغیر آپ یہاں سے نہیں جاسکتی ہیں۔” سختی سے اسے روکتے اسفر نے کہا۔

“مجھ پر اپنی مرضی چلانے والے آپ ہوتے کون ہیں۔

کس سوال کا جواب دینا ہے۔ کس کا نہیں اسکا فیصلہ میں کرونگی۔ اوکے۔”

رکھائی سے کہتے وہ اسفر سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی تگ و دو

کرنے لگی۔

ٹھیک ہے پھر جب تک آپکا جواب مجھے نہیں ملتا ہم یہیں اس

روڈ پر کھڑے رہیں گے۔

اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑے اسفر کے کہنے کا انداز

قطعی تھا۔ لائبہ ایک لمحے کو گھبرائی لیکن پھر دوسرے ہی

لمحے واپس اپنی ضد پر اڑ گئی۔

“زبردستی آپ مجھ سے کچھ نہیں جان سکتے۔ میں کوئی غلام

نہیں جو آپکے اشاروں پر چلوں۔”

غصے سے کہتی وہ اسفر کا گریبان پکڑ چکی تھی جو ہنوز اسی

طرح سکون سے بیٹھا تھا۔

“شاید آپ غلط فہمی میں ہیں لائبہ۔ میں صرف آپ سے وجہ جاننا چاہتا ہوں زبردستی کرنے پر تو،،،،، آپ نے خود مجھے مجبور کیا ہے۔”

اسی طرح پرسکون بیٹھے وہ بڑے ہی اطمینان سے بولا۔

لائبہ کا اسطرح اپنے پاس آنا اسے برا لگنے کے بجائے بہت ہی

بھلا لگا تھا۔

اسکی قربت تو اسے ملی۔۔۔ چاہے اسکے غصے کرنے کی بدولت لیکن اسفر کے لیے یہ پل بہت انمول تھے۔

ٹکٹکی باندھے وہ اسے بھڑکتے دیکھتا رہا۔ اسکی بھڑاس اسے اپنے اوپر شبنم کے جیسی برستی محسوس کرنے لگا۔

“میں آپ سے بات کر رہی ہوں اسفر وقار الملک آپ سے۔”

یکلخت اسکے منہ سے اپنا پورا نام سنکر وہ چونکا۔

واقعی پچھلے دس منٹ سے وہ اسے سنائے جارہی تھی اور پچھلے دس منٹ ہی سے وہ اسے خود سے بےانتہا قریب ہونے پر صرف محسوس کرنے کا شغل ہی فرما رہا تھا۔

“بہتر ہے کہ آپ اپنا منہ اب بند کریں اور ضد چھوڑ کر مجھے ایسی فضول حرکت کرنے کی اصل وجہ بتائیں۔”

خود کو اسکے احساس کی مضبوط گرفت سے وہ بمشکل ہی

نکال پایا تھا لیکن ایسا کرنا ضروری بھی تھا۔

اس پر وہ کس قدر فریفتہ ہے—اسکا احساس وہ اسے آہستہ

آہستہ دلانا چاہتا تھا ناکہ ایک پل میں۔

“ہاں۔۔ ہاں۔۔ میں نے ایسا کیا ہے۔ اور میں آگے بھی ایسا وہ سب کچھ کرونگی جس سے آپکو پریشانی ہو۔۔۔ شرمندگی ہو

کیونکہ آپکی وجہ سے،،،، میری پرسنل لائف ،،،،، تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔”

سرعت سے کہتے وہ اسکا گریبان ہنوز جکڑے ہوئے تھی۔

اور وہ اسکی تند و تیز۔۔۔ تیر برساتی۔۔۔ پر شکوہ آنکھیں بےتحاشا ہی تکے گیا تھا۔

“میرے نکاح میں ہیں لائبہ آپ،،، اور آپ کہہ رہی ہیں کہ میں نے آپکی پرسنل لائف تباہ کر دی۔”

پہلی بار اس نے شکوہ کن الفاظوں کا استعمال کرتے ہوئے اس چاند چہرے کا احاطہ کیا۔ اس سے پہلے وہ ہمیشہ جسے اپنے پیار کی نظر ہی سے دیکھتا آیا تھا۔

لیکن اب اسکے شکوے کے جواب میں وہ بھی شکوہ کرنے کا حق استعمال کرگیا۔

“کیسا نکاح اسفر وقار الملک؟؟” وہ قدرے چلائی۔

“ایسا ہوتا ہے نکاح کیا؟؟؟ بغیر پسند۔۔۔ بغیر مرضی۔۔۔ بغیر رضامندی کے ایک دن آپ اچانک میری زندگی میں آئے اور مجھے

اپنے نکاح میں ہونے کی اطلاع دے دی۔ “

اسفر کے گریبان پر اسکا زور اتنا بڑھا کہ اسکی شرٹ کا اوپری

بٹن ٹوٹ کر علیحدہ ہوگیا۔

لیکن وہ اس سب سے بےخبر مسلسل اسکا گریبان جکڑے اسے جھٹکے دے دے کر اپنا شکوہ جاری رکھے ہوئے تھی۔

“کسی لڑکی کے لیے اسکا سہاگن ہونا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔۔۔ جس دن سے اسے اس بات کی سمجھ آتی ہے کہ ایک

دن اسے بیا کر کسی اور کے سپرد ہوجانا ہے۔ وہ اپنے گرد سپنوں کی ایک الگ ہی دنیا بنانے لگتی ہے۔ جس میں وہ خود کو کسی

شہزادی کے جیسا تصور کرتی ہے۔ اس دنیا کا ہر رنگ ہر ڈھنگ

صرف اسکی اپنی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔ کسی کی مداخلت

اسے اپنی اس دنیا میں برداشت نہیں ہوتی۔ لیکن آپ نے میری

اسی سپنوں کی دنیا کو اپنے ایک فیصلہ سے برباد کر ڈالا۔

آپ میرے بننے کے اہل ہی نہیں۔”

جذبات کی رو میں بہتی لائبہ اسکی شرٹ کے سارے بٹن زور

زور سے جھٹکے مار کر توڑ چکی تھی اور اسفر اسکی دیدہ

دلیری پر اسے دل ہی دل میں داد سے نواز رہا تھا۔

اپنی دہشت، اپنے رعب سے وہ بھی ایسے ہی کہرام اٹھا دیا

کرتا ہے جیسا آج لائبہ اسکے روبرو اٹھا رہی تھی۔

اسے ستائشی نظروں سے دیکھتا وہ خود میں سرشاری کا

احساس محسوس کر رہا تھا۔ وہ اسکی بیوی تھی وہ بھی بالکل

اسکے جیسی ہی۔

لیکن پھر اسکے ساکت وجود میں حرکت ہوئی۔

اب وقت آگیا تھا کہ وہ اس جذباتی لڑکی کو اپنے قابو میں کرلے تاکہ اسے اس حقیقت کا ادراک ہوسکے جسکا بھرپور اظہار وہ اسکی شرٹ کے تمام بٹن توڑ کر چکی تھی لیکن بیخبری میں۔

“مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی لائبہ۔”

اچانک ہی اسکے خاموش لبوں میں جنبش ہوئی۔

جسے سنکر لائبہ ان سنا کر گئی۔ وہ واقعی کافی مشتعل تھی

اور اسفر کو اسے ہوش میں لانے کیلئے وہ کرنا ہی پڑا جو اس

نے کبھی بھی ایسی صورتحال اور ایسے گھمبیر وقت میں کرنے

کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

چیختی چلاتی لائبہ۔۔۔ کے نازک لپسٹک زدہ۔۔ آگ برساتے ہونٹوں کو اس نے یکدم۔۔۔۔ اپنے پیاسے ترستے ہونٹوں۔۔۔۔ کی گرفت میں لے لیا۔

اسکی اس بیباک جرات مندی کے نتیجے میں لائبہ بالکل دنک

رہ گئی۔ اسکے ہونٹوں سے جڑے اپنے ہونٹوں کی پرپراہٹ اسے

بےکل کرنے لگی۔ چند سیکنڈ وہ اسی کیفیت میں رہی اور پھر

اسفر کو دھکہ دے کر خود سے دور کر دیا۔

“اوہ۔۔۔ سوری۔۔۔مجھے معاف کر دیں لائبہ۔۔۔ میں ایسا کرنا

نہیں چاہتا تھا لیکن میں مجبور ہوگیا۔۔ خود کو روک نہیں سکا۔”

عجلت میں کہتے وہ بار بار اپنی شرٹ کیطرف دیکھنے لگا۔ جسکے سارے ٹوٹے بٹن لائبہ کی ستم ظریفی کا منہ بولتا ثبوت

دے رہے تھے۔

لائبہ جو اب ہوش میں آئی اور اسکی نظر شرٹ پر پڑی تو وہ

ٹھٹھک کر رہ گئی۔

“آپ ہی نے مجھے مجبور کیا لائبہ۔ اگر آپ اتنا میرے نزدیک

نہیں آتیں تو میرے جذبات کبھی منہ زور نہیں ہوتے۔”

اپنی شرٹ کی طرف لائبہ کو ٹکٹی باندھے دیکھ کر اس نے سرعت سے کہا۔

“کیا یہ میں نے کیا ہے؟؟؟”

بےیقینی سے لائبہ کی آنکھیں پھیلیں۔ اس نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے ڈرے ڈرے انداز میں اسفر کی طرف نظر اٹھائی۔

“اگر یہ سب آپ نے میری وائف ہونے کی حیثیت سے کیا ہے تو

مجھے اس سبکو قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

کیونکہ آپ کا مجھ پر حق ہے لیکن اگر آپ نے یہ سب مجھے پھنسانے یا اکسانے کیلیے کیا ہے تو آپ سے برا کوئی نہیں لائبہ۔”

اپنی شرٹ کو ایک ہاتھ سے تھام کر وہ سوالیہ نظروں سے لائبہ کو تکنے لگا۔ جو حیرانگی میں ڈوبی اپنی اس بیوقوفی پر خود

کو کوس رہی تھی۔

“مجھے جواب دیں لائبہ۔ کیا ہے یہ سب؟؟ کیا کسی سے

اسکی محبت کے بدلے میں آپ اسی طرح کا برتاؤ کرتی ہیں اور وہ بھی وہ جو آپکے شوہر ہونے کے مرتبے پر فائز ہے۔”

یک بعد دیگرے وہ لائبہ کو اسکی غلطی کا شدید احساس دلانے

پر تلا ہوا تھا۔

“آئی ایم سوری اسفر۔ میں نے یہ کسی غلط نیت سے نہیں کیا۔ آئی ایم رئیلی سوری۔”

خود کو اس سے دور کرتے وہ سمٹ کر سیٹ سے بالکل چپک کر

بیٹھ گئی۔

“آپ نے یہ سب میری مجبت میں کیا ہے لائبہ۔ کیونکہ اوپر سے چاہے آپ مجھ سے خفا ہیں لیکن دل سے مجھے ضرور چاہتی

ہیں یہ سب آپکی محبت ہے لائبہ۔ آپکی مجھ سے شدید محبت۔”

اسفر اپنی رائے کا برملا اظہار کرتے ہوئے اسکے دونوں ہاتھوں

کو تھام چکا تھا۔ اور وہ بھونچکی بنی اس سب صورتحال پر سہمی ہوئی تھی۔

“چاہے آپ مجھ سے خفا رہیں۔۔۔ چاہے مجھ سے بات نہ کریں۔۔۔ لیکن دل سے مجھے چاہے جانے کا بہت تھینکس۔ مجھے آپکےکسی عمل پر کوئی اعتراض نہیں۔”

زیرلب مسکراہٹ سجائے وہ اپنی سیٹ سے آگے ہوا اور لائبہ

کے گال پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔

لائبہ کو تو جیسے کرنٹ لگا ہو وہ اچک کر سیٹ کی دوسری جانب سمٹ گئی۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ اسکی کس لے

چکا تھا۔

اور پھر مزید وقت ضائع کیے بغیر کار اسٹارٹ کر کے مینشن

کیطرف روانہ ہوگیا۔ اس بات سے بالکل بےخبر کہ لائبہ کے

دل پر اس ساری صورتحال میں کیا گزر رہی ہے۔

○●□■○●□■

●□■○●□■●

“اب اماں کو ان دونوں کو کل کی پارٹی میں انوائیٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ آخر مینشن کے طور طریقوں کے بارے میں جانتی ہی کیا ہیں؟؟”

نورین بیگم اپنے شوہر نامدار سے بحث کرنے میں مصروف تھیں۔ انکے ہاتھ لائبہ اور آمینہ کو کمتر ثابت کرنے کا ایک اور موقع جو

آگیا تھا۔

“اگر وہ پارٹی اٹینڈ کر رہی ہیں تو تمہیں اس سے کیا پرابلم ہے

آخر کو وہ دونوں اسی مینشن کا حصہ ہیں میرے بڑے بھائی کی

نشانی ہیں۔”

وقار الملک نے نورین بیگم کو فوری ہی ٹوکا۔

“ہاں۔۔۔ ضرور ہیں۔۔۔ لیکن پہلے حصے دار میرے بچے ہی ہیں

انہوں نے تو یہاں سے جانے کے بعد کبھی مڑ کر پیچھے نہیں

دیکھا۔ اور اب اچانک سے آکر میرے بچوں کا حق مارنا چاہتی

ہیں لیکن میں ایسا کبھی نہیں ہونے دونگی۔”

برہمی سے کہتے نورین بیگم اپنے بڑے سے کمرے میں یہاں وہاں ٹہلتی پھر رہیں تھیں جبکہ وقار الملک اپنے آفس کا کام پھیلائے

لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے انکی اس تند و تیز گفتگو کو سننے پر مجبور تھے۔

“اچھا مت ہونے دیجیے گا لیکن کیا میں ابھی اپنا کام توجہ سے

کرسکتا ہوں ورنہ آپکے کچھ بھی کرنے سے پہلے ہی ہمیں کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔”

اپنے کام کی نزاکت کا اندازہ دلاتے وقار الملک نے نورین بیگم کو

برجستہ کہا۔

“ہاں تو کریں آپ اپنا کام۔ میں نے کب دخل دیا ہے۔ ایک تو میری کسی بات کو سننے کا وقت نہیں ہے انکے پاس۔”

پاؤں پٹختی ہوئی نورین بیگم کمرے سے باہر چلی گئیں۔

“چلو اب سکون سے میرا کام تو ہوسکے گا۔”

نورین بیگم کے وہاں سے جانے پر سکھ کا سانس لیتے ہوئے وقارالملک اپنے کام میں بزی ہوگئے۔

○●□■○●□■

○●□■○●□■

“اگر اس دن میں نے کمرے میں تمہارے آتے ہی شور مچا دیا ہوتا انور وقار الملک تو آج تک تم اس بےعزتی کی اذیت برداشت

کر رہے ہوتے جو اتنے سالوں میں نے کی ہے۔”

مٹھیاں بھینچیں آمینہ غصے سے غرائی۔

“رہنے دو آمینہ۔ اب اتنے سالوں بعد اس بات کو کر کے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔”

انور وقار الملک جو شاید شاور لے کر نکلا تھا۔ اپنے باتھ گاؤن میں ہی اسکے بالکل سامنے کھڑا تھا۔ آمینہ صوفی اور نمل کو انکے

پلینگ روم میں میڈ کے ساتھ چھوڑ کر کوریڈور سے گزر رہی تھی کہ اسے انور وقار الملک اپنے گیلے بالوں میں جیل لگاتا اس بالکل سامنے والے کمرے میں نظر آیا۔

نیچے جاتے جاتے اسکے قدم رک گئے۔ یہ بات سچ تھی کہ وہ گرینی کے سامنے خود سے جڑی اس پرانی بات کو پھر نہ دہرانے

کا وعدہ کر چکی تھی لیکن اب جو اسکے سامنے کھڑا تھا وہ اس

کا مجرم تھا،،، ایک رات کے عوض اسکی پاک دامنی پر کالک ملنے والا۔ اسے تو وہ کسی صورت معاف کرنے والی نہیں تھی۔

تیز تیز قدم اٹھاتے وہ اس کمرے میں آئی اور اندر آنے کے ساتھ

ہی کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ انور وقار الملک اسے ایسا کرتا

بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ اسے بڑھ کر روکنے کی ہمت وہ کر ہی نہیں پایا کیونکہ جتنا وہ اسے کچھ بھی کرنے سے روکنے کی

کوشش کرتا وہ غصے اور انتقام کی آگ میں جلتی اتنا ہی واویلا

کرتی۔ سو وہ اسکے سامنے خود کو بالکل پرسکون ظاہر کر رہا تھا۔

لیکن اسکے پرسکون رہنا ہی آمینہ کو اور اشتعال دلا رہا تھا۔

اگر تمہاری بات مکمل ہو گئی ہو تو اب کمرے کا دروازہ کھول

دو ورنہ خوامخواہ تم سبکو پھر سے شک میں ڈال دو گی۔

انور نے جیل لگانے کے بعد اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا

جس پر وہ اور بھی بھڑک اٹھی۔

شک کرنے کی تو عادت ہے اس مینشن کے باسیوں کو چاہے وہ سالوں پہلے کیا ہو یا آج ابھی ابھی۔

عجیب طرح سے انور وقار الملک سے پیش آتے ہوئے آمینہ نے

طنز سے کہا اور اسی کے ساتھ اپنے گلے میں لٹکتا دوپٹہ گلے سے کھینچ کر بیڈ پر ڈال دیا۔

اسکی حرکت پر انور وقار الملک بالکل ہکابکا رہ گیا۔

“کیا حرکت ہے یہ آمینہ ؟ اسے اوڑھ کر میرے کمرے سے ابھی اور اسی وقت نکل جاؤ۔”

انگلی سے باہر نکل جانے کا اشارہ کرتے انور وقار الملک اسکے

قریب آیا تاکہ کمرے کا دروازہ کھول کر اسے باہر نکال سکے۔

“میں نے دیکھا تھا نیہان اسٹیرز کی طرف آرہی تھی ہوسکتا

ہے اسے تمہاری کمی محسوس ہورہی ہو اسی لیے وہ اوپر تمہارے پاس آنا چاہتی ہو۔”

اسکی آنکھوں میں براہ راست دیکھتے ہوئے آمینہ اسے اور بھی

نروس کرنے لگی۔

“بھئی نئی نئی شادی ہے اسکی اور تمہاری۔ اتنی بیقراری تو

بنتی ہی ہے ناں۔”

اسے اپنے بالکل قریب دیکھ کر آمینہ اور بھی زیادہ بولنے لگی۔ جسکا صاف مطلب اسے مشتعل کرنا تھا۔

“لیکن جب اسے پتا چلیگا کہ اسکا نیا نویلا ہیزبینڈ کتنی رنگین طبیعت کا مالک ہے کہ کمرے کا دروازہ بند کر کے اکیلے میں

اپنی کزن کے ساتھ راز و نیاز کرنے میں مگن ہے تو اس بیچاری

کا دل کس بیدردی سے ٹوٹے گا ناں۔”

وہ اسکی شرٹ کا کالر اپنے ہاتھوں میں پکڑ چکی تھی اور انور اس سے اپنا کالر چھڑانے کی کوشش میں پھسل کر اسی کے ساتھ بیڈ پر گرا تھا۔

اسی دوران کمرے کا دروازہ جھٹ سے کھلا اور انور وقار الملک

کی نئی نویلی دلہن نیہان اندر داخل ہوئی۔

لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر وہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی

کی کھڑی رہ گئی۔

بیڈ پر انور وقار الملک کے سینے پر سر رکھے آمینہ خود کو اس

سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس نے اپنی پوزیشن

اتنی تیزی سے بدلی تھی کہ انور وقار الملک کو سنبھلنےکا ٹائم

تک نہیں مل پایا تھا۔

اور جب تک وہ اسکی عیاری سمجھ پایا جب تک آمینہ خود کو

نیہان کے سامنے معصوم اور انور وقار الملک کو ٹھرکی ثابت

کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔

“ہٹیں۔ چھوڑیں مجھے۔ اپنا نہیں تو نیہان کا ہی کچھ خیال کریں اسے آپ پر کتنا بھروسہ کتنا یقین ہے اور آپ میرے ساتھ

تنہائی میں یہ سب کر کے اسکے بھروسے اور یقین کو کچل رہے

ہیں۔ شرم آنی چاہیے آپکو انور بھائی۔”

آنکھوں میں آنسو لیے وہ مکاری سے انور وقار الملک کو کوستے

ہوئے جلدی سے کھڑی ہوئی اور نیہان کو وہاں دیکھ کر اپنے

آنسو صاف کرتے اپنا دوپٹہ بیڈ پر ہی چھوڑ کر بھاگتی ہوئی

کمرے سے باہر نکل گئی۔

“اب تمہیں پتا چلیگا انور وقار الملک کے کسی کی عزت کا سرعام تماشا بنانے کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے اور پھر یہ تو میں ہوں آمینہ فردین تمہاری کزن۔ انور وقار الملک بھائی۔”

بھاگتے ہوئے آمینہ تیزی سے اسٹیرز اترتے ہوئے پاؤں پھسل جانےکی وجہ سے لڑھکتے ہوئے سبکے سامنے لیونگ ہال میں آگری۔ گرینی سمیت سب ہی اسکی طرف بھاگے تھے۔

نیہان کو وہاں دیکھ کر،،، انور وقار الملک کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں جبکہ نیہان یہ سب دیکھ کر غش کھا کر فرش پر گر پڑی تھی۔