584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 25

Fareb Nazar by Gazal Saima

واپسی کے لیے لائبہ نے جیسے ہی قدم اٹھائے۔

اسکی نظریں سامنے درختوں کی جھولتی ٹہنیوں کے پار الجھ

کر رہ گئیں۔

ڈھلتی شام کے سائے ابھی پوری طرح وارد نہیں ہوئے تھے۔ ہری بھری ٹہنیوں کی اوٹ میں اسے پرانے اسٹور روم کا گماں ہوا۔ متجسس وہ اسی طرف قدم بڑھانے لگی۔

ان گنت ہری ٹہنیوں نے اسٹور روم کو ڈھکا ہوا تھا اور اندر

جانے کا بظاہر کوئی راستہ لائبہ کو دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

آس پاس اس نے نظر دوڑائی لیکن کسی کے وہاں آنے یا جانے کے کوئی آثار اسے نہیں ملے۔

مغرب کی اذان اسے سنائی دینے لگی تو فوری وہاں سے پلٹ آئی۔ لیکن سارا رستہ اس نے ڈر ڈر پار کیا تھا۔

“ضرور اسٹور روم میں کوئی راز چھپا ہے۔

سسپنس موویز کیطرح ایک پراسرار سچ۔”

لان کے اگلے حصے میں پہنچ کر گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو وہ ریلکس کرنے لگی۔

“ابھی تک آپ یہیں ہیں۔” اچانک ہی اسفر وہاں آیا تھا۔

“ذرا سا بھی خیال ہے آپکو میرا۔” بجائے چونکنے کے لائبہ نے قدرے جھنجھلاہٹ سے کہا۔

“آپ کو پسند ہی کب ہے میرا خیال رکھنا۔”

“ازلی ڈیٹ۔” لائبہ منہ میں بڑبڑائی۔ کہیں وہ پھر نہ سن لے۔

“ہاں آپ کہہ سکتی ہیں۔”

نہ وہ خجل ہوا نہ شرمندہ۔ بلکہ سنجیدگی سے اثبات میں سر

ہلایا۔

“میرا مطلب تھا وہاں اندھیرے میں ہمیں اکیلا چھوڑ کر آپ

چلے گئے تو ہم ڈر گئے تھے۔”

مودب کھڑی لائبہ نے فوری بات سنبھالی۔

“جب آپکو میرا ساتھ پسند ہی نہیں تو میں رک کر کرتا بھی کیا۔”

شانے اچکا کر اسفر نے بےفکری سے کہا۔

لائبہ لاجواب ہو گئی۔

“اب فیصلہ آپکو کرنا ہے لائبہ میں یا وہ دھوکہ باز۔ فراڈیا۔”

اس بار اسفر نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

جب تک لائبہ کوئی فیصلہ نہیں کرلیتی وہ اب پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔

شاہان کو دھوکہ باز۔ فراڈیہ بلانے پر لائبہ نے تنک کر اسے گھورا تھا۔

چلو اس بہانے لائبہ نے اسے بغور دیکھا تو تھا۔

اسکے چہرے پر مسکان کی رمق ابھری۔

اسکی شہد رنگ آنکھوں کی تپش بھی اسے گوارا تھی۔

“اوکے۔ میں چلتا ہوں ڈنر پر ملاقات ہوگی۔”

اسے حیرت زدہ کھڑا چھوڑ کر وہ پھر سے جاچکا تھا۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ اس سے ہار گئی تھی۔

سر جھکائے بوجھل قدموں سے وہ اندر جانے لگی۔

شام مکمل ہوچکی تھی۔۔۔ چاند درختوں کے پتوں کے جھرمٹ سے جھانکتا شب بخیر کا اشارہ کرنے لگا۔ لیکن وہاں اسے تکنے

کی پرواہ ہی کسے تھی۔

○●□■○●□■

“ہیلو۔ انور اسپیکنگ۔” ادائے بےنیازی سے کال کے دوسری طرف سے وہ گویا ہوا۔

“انور کہاں ہیں آپ؟”

آمینہ کی آواز میں فکرمندی صاف ظاہر تھی۔

“جہاں مجھے اس وقت ہونا چاہیے آمینہ بی۔”

اسکا طنزیہ جواب سنکر آمینہ تلملا کر رہ گئی۔

“وہ جہاں کہیں بھی تھا بہت ہی اچھے موڈ میں تھا۔”

اور آمینہ یہ تو پہلے ہی سے جانتی تھی کہ وہ اور نیہان ساتھ ہنی مون پر گئے ہیں۔ انور کی آواز ہشاش بشاش آواز نے بھی تصدیق

کی تھی۔

“ہماری شادی کا پہلا دن آپ یوں کیسے اسپوئل کرسکتے ہیں”

قدرے انجان بن کر اس نے شکوہ کیا۔

“او رئیلی۔ تھینکس یاد دلانے کے لئے۔”

بےفکری سے انور نے کہا۔

آمینہ ششدر رہ گئی۔ اسکا انداز آمینہ کو ہرٹ کرنے والا تھا۔

“ایسا کیسے کرسکتے ہو تم میرے ساتھ انور وقار الملک۔”

آگ بگولا ہوئے وہ زور سے چلائی تھی۔

“آواز نیچی۔ اوکے۔”

ریسور کے دوسری طرف سے وہ انتہائی نخوت سے غرایا۔

“تم نے مجھے دھوکے سے حاصل کیا ہے جسکے بدلے میں میرے پاس تمہارے لیے صرف انتقام ہے۔ انڈراسٹینڈ۔”

دھاڑتے ہوئے انور نے کہا تھا۔

آمینہ کی سماعت سن ہوگئی۔

ہکابکا کھڑی وہ پتھر کی بن چکی تھی۔

“جو بویا ہے تم نے آمینہ بی اب وہی کاٹو بھی۔”

چیخ کر کہتا وہ لائن ڈسکنٹ کر چکا تھا۔

خود غرضی نے آمینہ کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔

وہ دیکھ ہی نہیں پائی تھی کہ جو کچھ وہ ڈیٹائی اور اپنی زخمی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے کر رہی ہے اسکا اسے خمیازہ بھی ضرور بھگتنا پڑے گا۔

موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاگرا تھا۔

جسے وہ اپنی فتح سمجھ رہی تھی وہی اسکے گلہ پڑ چکا تھا۔

اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

اپنی ٹانگوں سے اسے جان نکلتی محسوس ہوئی۔ من پر منوں بوجھ لیے وہ کسی ریت کی دیوار کے جیسی ڈھا گئی۔

○●□■○●□■

“زیوا۔۔ سب انتظامات اچھے سے دیکھ لینا۔ اسفر وقار الملک کے اسپیشل گیسٹ کو کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔”

نورین بیگم اپنی نگرانی میں ڈائننگ ہال میں ڈنر کا اہتمام کراتے ہوئے ہدایات دے رہی تھیں۔

زیوا ادب سے ایک طرف کھڑی انکی ایک ایک بات پوری توجہ سے سن رہی تھی۔

“آپ فکر نہ کریں میم۔ آپکو کوئی کمپلین نہیں ہوگی۔”

مودب زیوا تمام ہدایات لیکر فارغ ہونے کے بعد دھیرے سے بولی۔

کافی پرانی میڈ ہونے کی وجہ سے مینشن کے اصولوں و ضوابط کا اسے اچھی طرح سے اندازہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے کبھی بھی کسی کو شکایت نہیں ہوتی تھی۔

زیوا ہمیشہ سے ہی اپنا کام پوری لگن اور بڑی مستعدی سے کرنے کی عادی تھی۔ وہ بہت محنتی اور زیرک تھی اسی لیے گرینی نے کچھ سال پہلے اسکا سلیکشن مینشن کے لیے بطور

ہیڈ میڈ کیا تھا۔

“ویلڈن۔”

نورین بیگم نے ایک آخری نظر ڈائننگ ہال سے نکلتے ہوئے

ڈالی تھی۔ انکا چہرہ بتا رہا تھا زیوا کے انتظامات سے وہ

بالکل مطمئن ہوچکی تھیں۔

ایک زیوا کی ہی اتنی اچھی لک تھی۔۔۔ کہ اسے پہلی ہی نظر میں نورین بیگم کی ستائشی نظروں کا دیدار حاصل ہو جاتا تھا ورنہ مینشن میں کئی آئے اور گئے ایسی خوش قسمتی کسے کے حصے میں نہ آپائی۔

اسی دوران لائبہ کا اسطرف آنا ہوا تھا۔

“کیا کسی دعوت کا اہتمام ہے؟؟”

اتنا عمدہ اہتمام دیکھ کر وہ چونک ہی گئی تھی۔

“یس میم۔ سر اسفر وقار الملک کے اسپیشل گیسٹ مدعو ہیں۔”

مختصر سا جواب دے کر زیوا پھر سے تمام انتظامات کو نورین بیگم کی ہدایات کے مطابق آخری ٹچ دینے لگی۔

“اسفر وقار الملک۔”

اسفر کا نام سنتے ہی لائبہ کے وجود میں اتھل پتھل ہوئی تھی۔

یقینی طور پر وہ اسکے ان اسپیشل گیسٹ کو گیس کرسکتی تھی۔ کیونکہ اب وہ اسفر وقار الملک کو اچھی طرح سے سمجھنے لگی تھی اور یہ بھی کہ آج کل اسکی سوئی شاہان فاروق پر بری طرح سے پھنسی ہوئی ہے۔

ابھی گیسٹ کے آنے میں دیر تھی اور اس سے پہلے لائبہ کو

ایک انتہائی ضروری کام سرانجام دینا تھا۔

سرعت سے وہ ڈائننگ ہال سے نکلی تھی اور اپنے روم کی سمت

بڑی ہی عجلت میں لپکی تھی۔

اسکو اتنی عجلت میں پہلے کبھی زیوا نے نہیں دیکھا تھا۔

بجز اسکے کہ وہ اپنا کام مکمل کرنے میں مہو تھی اس نے پھر

بھی لائبہ کو عجلت میں وہاں سے جاتے ہوئے ضرور نوٹس کیا تھا۔

○●□■○●□■

“جو آپکا بہت ہی اپنا ہو۔

وہی آپکا مان توڑ دے۔

وہی آپکو دھوکہ دے۔

تو وہ آپکا اپنا نہیں ہوتا۔

اسے چھوڑ دینا چاہئے۔

اسے توڑ دینا چاہیے۔

سو میں نے بھی ایک فیصلہ کیا ہے۔”

شاید وہ غیرشعوری میں کہے گئی تھی۔

لیکن اس نے جو کچھ کہا تھا۔

وہ لاشعوری میں بھی پورا سچ تھا۔

اسفر اور لائبہ کے بیچ کا پورا سچ۔

ہمہ تن گوش اسفر وقار الملک اپنی محبوبہ۔۔۔ اپنی حیات۔۔۔ اپنی منکوحہ۔۔۔ اپنی نور نظر کو پورے انہماک سے سن رہا تھا۔

اسکی شہد لبوں سے ادا ہونے والا ایک ایک حرف سیدھا اسفر

کے دل میں اتر رہا تھا۔

“شاہان فاروق کو بھول جانے کا۔

اسے اپنے دل سے نکال باہر کرنے کا۔

اسکے فریب کے قفس سے خود کو آزاد کرنے کا۔”

مضبوط لہجے میں لائبہ نے عزم سے کہا تھا۔

کال پر دوسری طرف موجود اسفر کی آنکھیں اسکا اقرار سنکر بھیگنے لگی تھیں۔

وہ بہت خوش تھا۔۔۔ بلکہ خوشی سے نہال تھا۔

اور بہت زیادہ خوشی بھی تو آنکھیں نم کر ہی دیتی ہے۔