Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 24
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 24
Fareb Nazar by Gazal Saima
“کیا سوگوار ماحول بنا رکھا ہے مینشن میں۔ لگتا ہی نہیں یہاں نئے شادی شدہ جوڑے بھی موجود ہیں۔”
گاڑھا طنز کے نشتر چلاتی۔۔۔ ٹی پنک کلر کے فل ایمبراڈری سوٹ میں ملبوس نئی نویلی دلہن کی نزاکت دکھاتی۔۔ ایک ادا سے چلتی ہوئی آمینہ ناشتے کی ٹیبل پر تشریف لائی تھی۔
اور آنے کے ساتھ ہی طنزیہ مسکراہٹ سے باری باری وہاں موجود نفوس کو آنکھ بھر کر دیکھا تھا۔
“آمینہ آپ خاصی لیٹ ہیں۔ ہم ناشتہ کر کے فارغ ہوچکے۔”
جوابا” گرینی نے سب سے پہلے اپنے مخصوص ٹھنڈے انداز میں اسے مسکرا کر دیکھا۔
“سوری گرینی۔ دراصل میرے کمپینین نے تو مجھے جگانا تک
گوارا نہیں کیا۔ بس اسی لیٹ ہوگئی۔”
خاصا ڈرامائی انداز تھا کن انکھیوں سے انور کو دیکھ کر آمینہ
کے جتلانے کا۔
“میں کسی کی چوکیداری کرنے کے لیے شوہر نہیں بنا ہوں۔
کل سے آلارم سیٹ کر لینا۔”
نہایت ہی کھردرے انداز میں انور نے سرعت سے کہا اور آفس
جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
آمینہ کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔
سبکی موجودگی میں اسکا یہ جواب اسے ہضم نہیں ہو سکا تھا۔
لیکن مینشن کے اصولوں و ضوابط کے مطابق وہ کسی قسم کا
جوابی حملہ فلحال تو ہرگز نہیں کرسکتی تھی۔
لب بھینچے وہ خاموشی سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔
آفس جانے سے پہلے انور نیہان کے روم میں گیا تھا۔
آمینہ کی شکی نظریں اب وہیں ٹکی تھیں۔
“شادی کی پہلی صبح ہی کیا اس چڑیل کے پاس جانا اتنا ضروری تھا۔”
دل ہی دل میں کڑتے ہوئے وہ زیرلب بڑبڑائی تھی۔
“بھابھی آپ تو ماشاءاللہ اور بھی کھل گئی ہیں۔”
رامین نے اسکی توجہ نیہان کے کمرے سے ہٹانے کے لیے اسکی تعریف کی۔
“تھینکس ڈئیر۔” آبرو اچکا کر آمینہ نے کچھ زیادہ ہی اترا کر کہا۔
ہانیہ نے خاص اسکا انداز نوٹس کیا تھا۔
لیکن وہ اسے کوئی ویلیو دیتی ہی کب تھی جو اسکے انداز پر
جلتی۔
نظریں جھکائے وہ اپنا ناشتہ کرنے میں مہو رہی۔
“گرینی اب ہمیں اجازت دیں۔”
اظہر اپنے لاگیج کے ساتھ جانے کے لیے پورچ کیطرف جاتے ہوئے گرینی کو الوداع کہنے آیا تھا۔
“اوہ تو انکا پلان کہیں جانے کا ہے۔”
تیاری دیکھ کر آمینہ نے دل میں سوچا۔
“جیتے رہیں۔۔۔ جیتے رہیں۔۔۔”
گرینی نے اسکی پیشانی چومتے ہوئے اسکے سر پر شفقت سے
ہاتھ پھیرا۔ اظہر کی تقلید میں ہانیہ بھی فوری وہاں پہنچ گئی۔
گرینی سے دعائیں لینے کے بعد وہ دونوں ساتھ ہی باہر نکل گئے۔
“زیوا ہم ناشتہ کر چکے ہیں۔۔۔ ٹیبل صاف کرا دیں۔”
اچانک ہی نورین بیگم وقار الملک کے ساتھ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئیں۔ یقینی طور پر وہ لوگ بھی جانے والے ہی تھے بس گرینی
سے اجازت لینے ادھر آئے تھے۔
آمینہ نے خاص طور پر محسوس کیا نورین بیگم نے ایک بار بھی
اسے نہیں دیکھا تھا۔
یعنی وہ ابھی بھی آمینہ سے دل میں کینہ رکھے ہوئے تھیں۔
البتہ انور کے پاپا وقار الملک صاحب نے ضرور اسکے سر پر اپنا دست شفقت رکھا تھا۔
انور ابھی تک نیہان کے روم سے باہر نہیں آیا تھا۔
آمینہ کو اب اسکی فکر ہو رہی تھی۔
“ایسا بھی کیا چل رہا انکے بیچ۔ جو پچھلے آدھے گھنٹے سے
وہ اندر ہی ہے۔”
اچنبھے سے آمینہ نے ایک بار اور نیہان کے روم کیطرف دیکھا تھا۔
اور پھر اسکے پاؤں کے نیچے کی دھرتی ہلی تھی۔
انور وقار الملک بڑے ہی چاہو سے نیہان کی کمر میں بازو ڈالے
اس سے خوش گپیوں میں مگن باہر نکلا تھا۔
○●□■○●□■
آمینہ سمیت گرینی، رامین، نورین بیگم اور وقار الملک سب ہی انہیں ایک ساتھ دیکھ کر شاکڈ ہوئے تھے۔
لیکن جتنا وہ لوگ حیران تھے۔۔۔ اتنا ہی وہ دونوں بالکل نارمل دکھائی دے رہے تھے۔
البتہ آمینہ کے چہرے پر ہوائیاں ضرور اڑ رہی تھیں۔
نیہان کی جگہ کبھی وہ نہیں لے سکے گی۔ ایک پل کو اسے اس
سچائی کا پورا پورا یقین ہوا۔
جس خوشدلی سے مسکرا مسکرا کر نیہان نے سب کو شاکڈ کیا تھا اس سے تو آمینہ کو خود کا چڑھتا چاند کہیں نہیں دکھائی دے رہا تھا۔
اوپر سے انور کی اسکے لیے مہربانیاں اور یک طرفہ رویہ دیکھ کر
وہ ٹکٹک کر ہی رہ گئی۔
“اوکے گرینی ہم نکلتے ہیں۔”
انور نے لجاجت سے کہا اور ایک پل میں نیہان کو لیکر وہاں سے
نکل گیا۔
پتھر کا مجسمہ بنی۔۔۔ پتھرائی نظروں سے۔۔۔ آمینہ انکا ایک دوسرے سے پھر سے قریب آنا دیکھ کر دل برداشتہ سی ہوگئی
اور ناشتہ ادھورا چھوڑ کر ہی اٹھ گئی۔
“کیا بات ہے آمینہ چندا۔ آپ نے ناشتہ ختم نہیں کیا۔؟؟”
گرینی نے اسکا اترا ہوا چہرہ شاید نوٹس کر لیا تھا۔
“بس گرینی میرا دل نہیں کر رہا اور کھانے کو۔”
بیزاریت سے آمینہ نے جوابا” کہا تھا۔
نورین بیگم اور وقار الملک وہاں سے تب تک جاچکے تھے اور رامین بھی اٹھ چکی تھی۔
گرینی اور وہ ہی اب ٹیبل پر باقی بچے تھے۔
“انور کی محبت پر آپکے ساتھ ساتھ۔۔۔ نیہان کا بھی برابر حق ہے۔ آپکو نیہان سے جیلس نہیں ہونا چاہیے۔”
گرینی نے اسکی دکھتی رگ پکڑ لی تھی۔
آمینہ لب کاٹ کر رہ گئی۔ گرینی کے آگے وہ بولنے کی مجال بالکل بھی نہیں کرسکتی تھی۔
وہ اسے بغور دیکھے پرسکون رہنے کی ہدایت کر رہی تھیں
لیکن آمینہ کے تن بدن میں آگ لگ چکی تھی۔
اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے اسے قرار آنے والا نہیں تھا۔
“بڑی ہی ہمت سے اس نے آپکو انور کی زندگی میں شامل ہونے
دیا ہے اب آپ بھی دل بڑا کریں اور اسے انور پر اپنا حق پورا پورا
استعمال کرنے دیں۔”
گرینی نے بڑے ہی پیار سے سمجھایا اور پھر فیصلہ کرنے کے لیے اسے اکیلا چھوڑ کر اپنی اسٹڈی کیطرف چل دیں۔
لیکن کسی بھی نصیحت کا اس پر اثر چلنا ہی کب تھا۔
اسکے دل کو تو حسد کی چنگاری جلانا شروع کر چکی تھی۔
“جو میرا ہے۔۔۔ وہ کسی کا نہیں۔۔۔ میری محبت کو دو حصوں
میں تقسیم کرنے کا اختیار کسی کو نہیں۔۔۔ آپکو بھی نہیں
گرینی۔”
توقف سے وہ خاصے طیش میں چلائی تھی۔
○●□■○●□■
“زیوا۔ لائبہ کل سے دکھائی نہیں دیں۔ انہیں کہیں گرینی نے یاد کیا ہے۔”
ااسٹڈی میں آنے کے بعد گرینی نے لائبہ کو بلایا تھا۔
اسکے بارے میں دن بدن وہ بہت حساس ہوتی جارہی تھیں۔
ایک طرف اسکی بیماری اور دوسری طرف وہ مینشن میں آنے کے بعد سے چپ چپ رہنے لگی تھی۔
اور یہ دونوں ہی باتیں گرینی کو اسکے لیے فکرمند کر رہی تھیں۔
“آداب گرینی۔” لائبہ دھیرے سے کہتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔
“ارے میرا چندا۔ میری جان۔ کہاں تھیں آپ؟؟”
اسے اپنے گلے لگا کر گرینی نے تھپتھپایا۔
“وہ ہم ایگزیم کی تیاری کر رہے تھے۔ کل ہمارا پہلا پیپر ہے۔”
کل اسکے ساتھ کیا ہوا وہ یکسر نظر انداز کر گئی۔
“اوہ۔ لیکن چندا آپکی آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہیں اور رنگ
بھی زرد پڑا ہے۔ کہیں آپکو بخار تو نہیں۔ کیا آپ رات بھر روتی رہی ہیں لائبہ چندا۔”
ایک دم ہی گرینی اسکے لیے بہت زیادہ فکرمند ہو گئی تھیں۔
اپنی اجڑی حالت وہ سب سے چھپا سکتی تھی لیکن دو لوگوں سے ایسا کرنا بالکل بیکار تھا۔
ایک گرینی اور دوسرا اسفر وقار الملک۔
انکی آنکھوں میں لائبہ کبھی دھول جھونک ہی نہیں سکتی تھی۔
“زیوا۔ زیوا۔”
زور سے گرینی نے میڈ کو پکارا۔
“آپ یہاں بیٹھیں میرے پاس۔” اور ساتھ ہی لائبہ کو اپنے پاس بٹھایا۔
اسکے کچھ بھی کہنے کو وہ اب سن ہی نہیں رہی تھیں۔
یقینی طور پر وہ بیمار تھی اور بہانے بناکر اپنی بیماری چھپانا چارہی تھی۔
“جی مادام۔”
زیوا سر جھکائے ہاتھ باندھے تعظیم سے اندر آئی۔
“اسفر وقار الملک کہاں ہیں اس وقت؟؟ انہیں ابھی کے ابھی یہاں ہونا چاہیے۔”
بارعب انداز میں گرینی نے استفسار کیا۔
“وہ شاید آفس کے لیے نکل چکے ہیں مادام۔”
اتنے ہی ڈرتے ہوئے زیوا بولی۔
“ہمارا موبائل لائیے۔” گرینی نے موبائل لانے کو کہا۔
لائبہ تو بالکل سٹپٹا گئی تھی۔ اس نے خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر جانا۔
زیوا نے موبائل گرینی کو دیا اور سائڈ پر کھڑی ہوگئی۔
موبائل پر لازمی گرینی نے اسفر کا نمبر ہی ملایا تھا۔
لائبہ ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوپست کیے نروس
ہونے لگی۔
ایک بار پھر اسے اس ستمگر کا سامنا کرنا ہوگا۔
اسکی آنکھوں کے ممکنہ اشاروں کو برداشت کرنا ہوگا۔
ایک وہی تو تھا اسکا ہمراز۔ ایک ایسا شخص جسے وہ کبھی
بھی اپنا نہیں سمجھ سکی تھی۔۔۔ جس سے اسے بےتحاشا
نفرت تھی۔۔۔ جسکے سامنے ہونے پر اسے شدید گھٹن کا احساس ہوتا تھا۔
“یہ کیسی لاپرواہی ہے اسفر وقار الملک۔ وہ معصوم یہاں آپکے
لیے سب کچھ چھوڑ چھاڑ بیٹھی ہیں اور آپ ان سے اتنا ہی
کتراتے ہیں۔۔۔ دور بھاگتے ہیں۔”
اسفر شاید کال پک کر چکا تھا اور اب گرینی کی کھری کھری
سن رہا تھا۔
“ہمیں کچھ نہیں پتا۔ آپ ابھی اور اسی وقت مینشن واپس آئیں۔” قطعیت سے گرینی نے کہا۔
لائبہ دل میں شرمندہ ہوئی۔ اسکے حصے کی ساری ڈانٹ اسفر کو سننا پڑی تھی۔
“جہاں کہیں ہیں آپ۔ ہمارے فیصلے میں اس سے فرق نہیں پڑنے والا۔ بس آپکو اگلے دس منٹ میں یہاں ہونا ہے۔ میری نظروں کے سامنے۔”
تہنیت سے کہتے ہوئے گرینی نے لائن ڈسکنٹ کر دی۔
لائبہ بت بنے سب سنتی رہی۔
○●□■○●□■
“میں یا وہ۔ آپکو ہم سے کسی ایک کا فیصلہ تو ہر قیمت پر کرنا
ہی ہوگا لائبہ۔”
متنفر اسفر گرینی کی ڈانٹ کے بعد لائبہ پر بھڑک رہا تھا۔
“آپ شاہان کو بیچ میں مت لائیں اسفر۔”
بضد لائبہ اتنی آسانی سے اسکی بات ماننے والی نہیں تھی۔
“مجھے ضرورت بھی نہیں ہے اسے ہمارے بیچ لانے کی۔ میرے نزدیک تو اسکا اس وقت تذکرہ کرنا بھی فضول ترین ہے۔”
جان بوجھ کر اسفر نے لائبہ کو چھڑانے کے لیے ایسا کہا۔
اسکی شاہان کے لیے فیلنگز کا قفس وہ ایسے ہی توڑ سکتا تھا۔
ورنہ اپنی اس سراپہ حور۔۔۔ نازک اندام۔۔۔ شوخ و چنچل محبوبہ
سے کسی قسم کی زبردستی کرنے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
“ہم نے اسے بہت چاہا ہے اسفر۔ ہماری پہلی اور آخری محبت ہے شاہان۔”
لائبہ اپنے جذبات کا برملا اظہار کرنے کے بعد ٹھٹکی۔
اس ستمگر اور ظالم شخص کے سامنے ایسی بیوقوفی کیسے کرسکتی ہو تم لائبہ۔
اسکا دل زور سے دھڑکا۔
“آپکی پہلی اور آخری بھول ہے شاہان۔ آپ نے اسے نہیں چاہا لائبہ۔ اس نے آپ پر خود کو مسلط کیا ہے۔”
لائبہ نے نفی میں گردن ہلائی۔
“نہیں۔ نہیں اسفر۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم نے خود چاہا ہے اسے۔ بہت زیادہ۔”
لائبہ اپنی بھیگی پلکیں اٹھائے اسفر کو اپنا یقین دلانا چاہتی تھی۔
اس سے قطعی نظر کہ اسفر اسکی پلکوں کے سائے میں اپنا
ہر شکوہ، ہر گلہ کتنے پہلے ہی رکھ کر خود کو اس بھاری بوجھ سے آزاد کرا چکا ہے۔
پورے ضبط سے شاہان کیلئے اسکا اقرار، دل پر پتھر رکھ کر اسفر نے پوری یکسوئی سے سن تھا۔
لیکن بس سنا تھا۔ کسی قسم کا کوئی ردعمل اس نے ظاہر نہیں کیا۔
“اگر آپ ہمیں آزمانہ چاہتی ہیں لائبہ تو اسفر وقار الملک اپنے
ضبط کی چٹان کو کبھی آپکے سامنے پاش پاش نہیں ہونے دیگا۔”
اسکے لبوں پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔ مرعوب سی خاموشی۔ جو لائبہ کو بار بار اپیل کر رہی تھی۔
اس سے دور کھڑے ہوکر۔۔۔ نظریں ملانے سے انکاری۔۔۔۔
بضد اور روتی تڑپتی لائبہ۔ اسے بھرپور اگنور کرنے کے باوجود
اسی کے گرد چکر لگا رہی تھی۔
شاید لاشعوری طور پر اس سے ایسا ہوا تھا لیکن اسفر نے اسکی
گردش حیات کو اس ایک پل میں خود سے جڑا۔ بہت ہی بےصبری سے محسوس کیا تھا۔
وہ چاہے لاکھ انکار کرے۔ لاکھ دلیلیں دیں۔ لاکھ بہانے بنائے لیکن اسفر کی موجودگی میں وہ خود کو ایک بھرا پورا وجود سمجھنے لگی تھی۔
جسکے احساسات تھے۔۔۔ جسکی پسند ناپسند تھی۔۔۔ جو
اپنی سوچوں اور خیالوں میں جو تصور کرتی تھی۔۔۔ اسے کہنے
بتانے کا پورا پورا حق رکھتی تھی۔
اس وقت وہ اسے اور تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
“آپ تو اتنی معصوم ہیں لائبہ کہ ابھی بھی اسی کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ایک فراڈیہ۔۔۔ ایک پہروپیے کا۔
اسفر سوچ کر دل مسوس کر رہ گیا۔
“ماہ و سال کے گرداب میں۔۔۔ میں نے آپکو صرف چاہا ہی نہیں
ہے لائبہ۔۔ بلکہ اپنا سب کچھ آپکو سونپا ہے۔”
اسکا انداز ویسا ہی تھا پہلے جیسا۔ لیکن اسکی نظر کا زاویہ بدلا ہوا تھا جسکی لائبہ عادی نہیں تھی۔
“آپ میری زندگی ہیں لائبہ۔۔۔ اور مجھے میری زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا پورا حق ہے۔”
لاشعوری طور پر لائبہ کا سر اثبات میں ہلا تھا یا وہ واقعی اسفر
کی شخصیت سے مرعوب ہوئی تھی۔ اسے خود بھی پتا نہیں چلا تھا۔
“لائبہ۔” یکدم اسفر نے اسکے شانوں پر اپنے ہاتھ رکھے تھے۔
لائبہ ٹھٹھک کر رہ گئی۔
آخر کیوں وہ ہمیشہ اسکے سامنے ہار جاتی ہے۔ وہ کیسے
اور کیوں اس پر خود کو حاوی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے
شدت سے اسے احساس ہوا۔
“مجھے آدھا ادھورا کرنے کا کوئی حق نہیں آپکو۔
اسفر وقار الملک سے لائبہ اسفر کو چھینے کی کوشش اگر کسی نے کی تو۔۔”
لائبہ نے اسفر کے چہرے پر اس پل دہشت دیکھی۔ وہ دہشت جسکے بعد وہ انکار کرنے کی ساری طاقت گنوا چکی تھی۔
“تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔”
حتمی فیصلہ سناتے ہوئے اسفر نے اسکے شانوں کے بعد اسکے
دہکتے گالوں کو بڑی ہی نرمی سے چھوا تھا۔
جیسے وہ چھو کر دیکھنا چاہتا ہو کہ لائبہ کے اندر کا لاوا سرد
ہوا کہ ابھی بھی دہک رہا ہے۔
لائبہ نے نظر جھکائے خود کو اس سے پیچھے دھکیلا۔
اپنے اور اسکے بیچ فاصلہ برقرار رکھنے کو وہ اور بھی بےکل ہوئی۔
اسکو گریزاں دیکھ کر اسفر نے وہاں سے جانے میں لمحہ بھر کی
دیر نہیں لگائی۔
وہ واقعی کسی زبردستی کا ہرگز قائل نہیں تھا۔
اسکے جانے پر لائبہ نے لمبا سانس اندر کھینچا۔
“وہ جاچکا ہے لائبہ۔”
اور پھر خود کو پرسکون کرنے کے لیے زیرلب بڑبڑائی۔
گارڈن کے اس انتہائی اندھیرے حصے میں خود کو تنہا محسوس
کرتے ہوئے یکلخت اسے جھرجھری آئی تھی۔
“اسفر۔۔۔ اسفر۔۔۔”
اسکے حلق سے سہمی سہمی صدا بلند ہوئی۔
لیکن بدقسمتی سے اسفر واقعی وہاں سے جاچکا تھا اور اب لائبہ
وہاں بالکل اکیلی تھی۔
○●□■○●□■
“نہیں میں کبھی پہلے نہیں ملی لائبہ بھابھی سے۔
انفیکٹ وہ ہماری ریلیٹف ہیں لیکن کئی سالوں بعد ان سے ملنا ملانا ہوا ہے۔”
شاہان کے استفسار کرنے پر نرمین نے اسے بتایا تھا۔
اپنی انگیجمنٹ کے بعد وہ دونوں اسفر کی پرمیشن سے باہر
ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے آئے تھے۔
باتوں ہی باتوں میں شاہان نے لائبہ کا تذکرہ بھی کر دیا تھا۔
“اوہ۔ اچھا تو وہ تمہاری ریلیٹف ہیں۔”
شاہان پر گویا انکشاف ہوا تھا۔
“اسفر نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی ان سے؟؟”
بےدھیانی میں اسکے منہ سے نکلا۔
“شادی؟؟” نرمین چونکی۔
“تمہیں کیسے پتا کہ اسفر بھائی نے شادی نہیں کی۔”
نرمین اسکا مطلب بالکل نہیں سمجھ سکی تھی۔
“وہ میرا مطلب ہے کہ کب ہوئی تمہارے بھیا کی شادی۔
پکچرز وغیرہ ہیں تو مجھے بھی دکھانا۔”
دافعتا” شاہان بات بدل گیا۔
کسی نہ کسی طرح وہ یہ پتا لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ
لائبہ کی اسفر وقار الملک سے شادی اسکی رضامندی کے بغیر
ہوئی ہے۔
لیکن نرمین کو اس بارے میں بالکل بھی علم نہیں تھا۔
اسکے پوچھنے پر وہ الجھ گئی۔
“اسفر بھیا سے خود ہی پوچھ لینا۔”
جب نرمین سے کوئی جواب نہیں بن پایا تو بیزاریت سے اس نے اپنی جان چھڑانا چاہی۔
“اوکے۔ اوکے۔ ڈونٹ وری سوئیٹ ہارٹ۔”
شاہان نے فورا” کہا۔
