Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 13
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 13
Fareb Nazar by Gazal Saima
“ابھی اور اسی وقت مجھے طلاق چاہیے۔ مجھے ایک دن بھی اس شخص کے ساتھ اور نہیں گزارنا۔”
نیہان نے ہوش میں آنے کے ساتھ ہی شور شرابہ شروع کر دیا۔
“میرا کوئی قصور نہیں نیہان میرا یقین کرو۔ انور نے ہی میرے ساتھ زبردستی کی کوشش کی ہے۔”
آنسو بہاتی آمینہ اسے یقین دلانے کے لیے فوری بولی۔
“بکواس بند کرو گھٹیا عورت۔ جان بوجھ کر تم نے یہ سب کیا ہے۔”
انور وقار الملک اسٹیرز اترتے ہوئے زور سے اس پر چلایا۔
“میں ہوں گھٹیا یا پھر تم ہو انور وقار الملک جو اتنے سال بعد بھی مجھ پر بری نظر رکھے ہوئے ہو۔”
سبکی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آمینہ نے انور پر ڈیٹائی
سے الزام لگایا اور اپنا منہ دوپٹے میں دے کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
لیکن اسکی چنگاری کام دکھا گئی اور نیہان کے کان اسکی
بات سنکر کھڑے ہوئے۔
“اتنے سال بعد۔ اسکا کیا مطلب ہے انور؟
یہ کیا کہہ رہی ہے؟”
غصے سے اس نے انور کو گھورا تھا۔ غصے سے اسکا پورا وجود
کانپ رہا تھا۔
“دیکھو نیہان یہ سب جھوٹ بول رہی ہے صرف اپنی بھڑاس نکال
رہی ہے اور کچھ نہیں۔ تم اسکی باتوں پر بالکل دھیان مت دو۔”
انور نے نیہان کو سمجھانے کی کوشش کی۔
“گرینی صرف آپ سے وعدے کرنے کیوجہ سے میں خاموش رہی
اور سب کچھ بھول جانے پر تیار ہوگئی تھی لیکن اب اس شخص
نے دوبارہ مجھ پر دست درازی کی کوشش کی ہے اور اب میں بالکل چپ نہیں بیٹھوں گی۔”
گرینی کے پاس آکر آمینہ اور پھوٹ کر رہ پڑی۔
“ابھی تم خاموش کر جاو آمینہ معاملہ اور خراب نہ کرو۔”
گرینی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ رہنے کی تنبیہ کی۔
باقی لوگوں نے بھی ایک دوسرے کیطرف تشویش سے دیکھا۔
□□■□●○■□●○
“دیکھو لائبہ مینشن میں اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کرنا۔
اور میں بھی نہیں کرونگا۔”
کار سے اتر کر لائبہ اور اسفر لیونگ ہال کیطرف ہی آرہے تھے۔
“کیسی بات؟” لائبہ اسکے کہنے کا مطلب بالکل بھی نہیں سمجھ پائی۔
“لائبہ یو نو اب ہمارا رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ اور ہمیں اپنی پرسنل باتیں کسی تیسرے سے ڈسکس کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
اسفر نے اسکے ساتھ چلتے ہوئے اپنے اور اسکے بیچ کا فاصلہ گھٹایا اور دھیمے سے کہا۔
“جی اچھا۔”
جواب میں لائبہ نے اسکی بات ماننے میں ہی اپنی بھلائی جانی اور سر جھکائے اسکے ساتھ چلتی ہوئے لان کراس کر کے سامنے آنے والی اسٹیرز پر چھڑنے لگی۔
اسفر چلنے کے ساتھ ساتھ اس پر نظر بھی رکھا ہوا تھا۔
اس نے محسوس کیا وہ کسی سوچ میں ڈوبی بےدھیانی سے
قدم اٹھا رہی ہے۔
اس نے بڑی ہی چالاکی سے اپنا پاؤں چلتے چلتے ہی اسکے پاؤں میں ہلکا سا اڑسا جسکے نتیجے میں وہ بری طرح سے گرتے گرتے بچی۔
کیونکہ وہ اسے اپنی بانہوں کے ہالے میں سمیٹ چکا تھا۔
ایک لمحے کو اس نے اسفر کو ڈری ڈری نظروں سے دیکھا
اور پھر نظر جھکا گئی۔
اپنی بانہوں میں سمیٹے وہ اسے یونہی کھڑا رہا اور ٹکٹکی باندھ کر شوخ لٹوں کو اسکے چہرے پر جھولتے ہوئے دیکھ کر محظوظ ہوتا رہا۔
“آئی ایم سوری۔”
ایک بار پھر لائبہ نے معذرت چاہی اور یہ آج کے دن میں دوسری بار اسکے ساتھ ہوا تھا جب اسے اسکے سامنے شرمندہ ہونا پڑ رہا تھا۔
“ارے کوئی بات نہیں۔ اٹس اوکے۔”
کمال بےنیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا۔
لائبہ کو اور بھی شرمندگی محسوس ہوئی۔
بار بار وہ اسے معاف کر رہا تھا اور بار بار وہ غلطی کر رہی تھی۔
اپنا آپ اسے اسفر کے سامنے بہت کمزور لگا۔
شاپنگ پر اسکے ساتھ جانے سے پہلے وہ جتنی پراعتماد تھی
واپسی پر وہ بالکل بھی ویسا فیل نہیں کر پائی تھی۔
ایسا سوچ کر لائبہ اور بھی افسردہ ہوگئی۔
اسی پل لیونگ روم سے رامین برآمد ہوئی اور ان دونوں کو ایک دوسرے کی بانہوں کے گھیرے میں دیکھ کر سبکو انکی جانب
متوجہ کرنے کیلئے کافی زور سے انہیں مخاطب کرتے ہوئے بولی۔
“اللہ آپکی جوڑی کتنی پیاری لگ رہی اسفر بھائی اور لائبہ بھابھی۔ اللہ کرے سدا آپ دونوں یونہی ایک دوسرے کے ساتھ
خوش باش رہیں۔”
اسے وہاں موجود پاکر لائبہ ایک دم گھبرا گئی اور جلدی سے
اسفر سے دور ہٹی۔
اسکی جلد بازی دیکھ کر اسفر ہلکا سا مسکرایا۔
رامین نے اندر کی ٹینشن کم کرنے کے لیے جان بوجھ کر ان
دونوں کو ہائی لائٹ کیا تھا تاکہ سب انکی طرف متوجہ ہوکر
اس کوفت زدہ ماحول سے باہر نکل سکیں۔
گرینی تو اسی پل کے انتظار میں کب سے تھیں اور اب آمینہ
کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بعد ایسا ہونا بہت ہی زیادہ ضروری
ہوگیا تھا کہ ان دونوں کی بھی اب رخصتی کر ہی ڈالی جائے۔
ورنہ انکی ایک دوسرے کے نزدیک ہونے کی تشنگی انور اور آمینہ کے جیسا ایک اور واقعہ جنم دے سکتی تھی۔
کافی دیر غوروخوض کرنے کے بعد گرینی نے سبکو اپنی اسٹڈی میں آنے کا حکم دیا اور لیونگ روم سے بالکل خاموشی سے چلیں گئیں۔
آج کا واقعہ مینشن کے لیے کافی ناگوار رہا تھا۔
گرینی کا اسطرح چلے جانا اور اسٹڈی میں سبکو جمع ہونے کا حکم دینا اس سبکا مطلب وہ سب بہت اچھی طرح جانتے تھے۔
□■●○■□●○□■
“کچھ بھی ہو لیکن گرینی کا سبکو اسٹڈی میں آنے کا حکم دینا اسکے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی مقصد چھپا ہے۔”
اظہر، ہانیہ اور رامین تینوں اس وقت رامین کے کمرے میں موجود آج ہونے والے واقع اور گرینی کے حکم پر روشنی ڈالتے ہوئے محو
بحث تھے۔
“ہاں تو آمینہ باجی کے ساتھ ہوا بھی تو بہت برا ہے۔”
ہانیہ ظاہر ہے ابھی مینشن میں نئی تھی اور وہاں کے مسئلے
مسائل کے بارے میں اتنا نہیں جانتی تھی اسلیے پھٹ سے اپنی
رائے کا اظہار کر بیٹھی۔ جس پر اظہر نے اسے خاموش رہ کر
صرف باتیں سنے کا اشارہ کیا۔
“مسئلہ یہ نہیں کہ بی کے ساتھ برا ہوا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب
وہ اپنی کیا شرط گرینی کے سامنے رکھنے والی ہیں۔”
رامین نے پرسوچ انداز میں کہا تو اظہر نے بھی اسکی تائید کی۔
“ہاں وہ ایسے تو اتنا شور مچانے والی نہیں کچھ نہ کچھ تو اس سب کے پیچھے اصل وجہ ہے۔”
“اصل وجہ مطلب ؟؟؟” ہانیہ پھر سے بیچ میں کودی۔
“ہانی جان تمہیں ابھی ان باتوں کا نہیں پتا ہے اور اچھا بھی ہے
تمہارے لیے ویسے یہی کہ تم مینشن کے ان نازک مسئلوں سے
خود کو دور ہی رکھو۔”
اپنی نئی نویلی دلہن کا ہاتھ تھامتے ہوئے اظہر نے لاڈ سے کہا۔
“لیکن اب تو میں بھی مینشن کا ایک فرد ہوں۔”
جواب میں ہانیہ نے اپنی حفگی کا اظہار کیا۔
“یس مائی وائفی بالکل ایسا ہی ہے لیکن پہلے ہمیں اپنا ہنی مون تو منا لینے دو پھر یہ ساس بہو کے جھگڑے شروع کرلینا۔”
شوخی سے اظہر نے اسکی پیشانی چومی تو ہانیہ نے شرماتے
ہوئے اسکی طرف پیار سے دیکھا۔
“چلو جی آپ لوگوں کا تو رومانس سین چالو ہو پڑا اب مجھے یہاں سے نکل ہی جانا چاہئیے۔ ویسے بھی مجھے کباب میں ہڈی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔”
ان دونوں کو اپنےکمرے میں اکیلا چھوڑ کر رامین بڑبڑاتے ہوئے خود کمرے سے باہر نکل گئی۔
■□●○●□■□□●
“یار تم اپنے شوہر پر اعتبار کرنے کے بجائے کسی تیسرے کی بات پر بھروسہ کر رہی ہو۔”
انور اور نیہان ابھی تک ایک دوسرے سے جھگڑا کر رہے تھے۔
لیکن اس وقت وہ دونوں اپنے کمرے میں آچکے تھے۔ آمینہ نے
شک کا جو بیچ نیہان کے دل میں بویا تھا اسے وہ چین ہی نہیں لینے دے رہا تھا۔
“تم نے مجھ سے کچھ تو چھپایا ہے انور۔
سب کی موجودگی میں اس نے الزام لگایا تم پر اور کسی ایک
نے بھی اسکی تردید نہیں کی۔
اس سبکا اب میں کیا مطلب سمجھوں؟؟؟”
ڈریسنگ ٹیبل پر سجی ہر چیز وہ اٹھا کر فرش پر مار چکی تھی لیکن اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
“جھوٹ بول رہی ہے وہ نیہان میری جان۔ اس سب میں مجھے پھنسا رہی ہے۔ تم آرام سے بیٹھ کر میری بات تو سنو۔ مل کر
ہم سب سوٹ اوٹ کرلینگے۔ تم فکر مت کرو۔”
انور نے نیہان کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اسے کول ڈاون
کرنا چاہا۔
“کچھ بھی نہیں ہے سوٹ آوٹ کرنے لائق۔ مسٹر انور
تمہارا اسکے ساتھ افیر تھا اور وہ اسی لیے تم پر اتنی ڈیٹائی سے الزام لگا رہی ہے”
غراتے ہوئے اس نے انور کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹک کر
گرایا تھا۔
“اب تمہیں کیسے یقین دلاوں میں نیہان میری جان۔”
وہ اسکے شک کے آگے بالکل بےبس ہے۔ انور کے کہنے کے انداز میں بےبسی صاف جھلک رہی تھی۔
“تمہاری کسی بات کا یقین کرنے سے بہتر ہے میں خود آمینہ
کے منہ سے تمہارے بارے میں وہ سب کچھ سنو جو اسکے اور تمہارے بارے میں وہ جانتی ہے۔”
پاؤں پٹختی نیہان چبھتی نظروں سے انور کو گھور کر وہیں
اکیلا ہکابکا کھڑا چھوڑ کر باہر نکل گئی۔
“اب یہ کیا نئی مصیبت ہے یار۔”
نیہان کے وہاں سے چلے جانے پر انور جھنجھلا کر چلایا۔
“تمہیں تو آمینہ میں چھوڑوں گا نہیں۔”
اایک سیکنڈ کچھ سوچ کر وہ بھی بڑبڑاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
■□●○■□□○●■
“کہاں کا ایڈریس ہے تم نے اچھی طرح چیک کیا ہے ناں۔”
اسفر لیونگ ہال میں آنے کے بجائے پہلے اپنے روم میں چلا گیا تھا اور وہیں اسکے موبائل پر کسی ان نان نمبر سے کال آئی تھی
اور اب وہ اسی کال کرنے والے سے بات کر رہا تھا۔
“یس باس میں نے خود چیک کیا ہے۔”
دوسری طرف جو بھی موجود تھا سرعت سے بولا۔
“اوکے پھر آج رات کی سب تیاری کر لو اس کام کو آج ہی ختم کرتے ہیں۔”
ایسا کہنے کے ساتھ ہی اسفر نے لائن ڈسکنٹ کردی۔
“بھیا نرمین میری کال پک نہیں کر رہی دو دن سے۔ مجھے اسکی
فکر ہو رہی ہے۔”
رامین پریشان سی اسکے روم میں داخل ہوئی اپنے ہاتھ میں اس نے موبائل پکڑ رکھا تھا جس سے یقینی طور پر وہ اسے کال کرتی رہی تھی اور جب اس نے اسکی کال پک نہیں کی تو اب وہ پریشانی میں اسفر کے پاس آئی تھی۔
کیونکہ ایک وہی تھا جو اسکی پریشانی کا سدباب کرنے کی پوری
طاقت رکھتا تھا۔
مینشن کی ہر مشکل، ہر پریشانی، ہر مسئلے کا حل نکالنے میں اسفر بالکل پرفیکٹ تھا۔ اپنی پراسرار کاروائیاں وہ ان سب
سے کبھی بھی شئیر نہیں کرتا تھا لیکن اسکے باوجود وہ سب اچھی طرح جانتے تھے کہ اسکے بس سے باہر کی کوئی پریشانی کوئی مشکل کوئی مسئلہ ہو ہی نہیں سکتی۔
“تو میں کیا کروں۔ تمہی لوگوں کا فیصلہ تھا ناں اسے گرلز ہاسٹل میں رہنے کی پرمیشن دینے کا۔ اب مجھ سے کیا پوچھ رہی ہو۔ جاو اور جاکر اپنی بہن کو تلاش کرو۔”
رامین اور نرمین کا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اسنے اسے
اسکی ذمےداری کا احساس دلایا۔
“بھیا مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ مینشن کی خوشیوں میں اسے میں نے بالکل فراموش ہی کر دیا اور اب جب فری ہوکر اسےکال کرنا چاہی تو وہ میری کال پک ہی نہیں کر رہی۔ شاید مجھ سے ناراض ہوگئی ہے۔”
رامین نے سب کچھ اسفر سے صاف صاف کہہ دیا۔ لیکن جواب میں اس نے کچھ بھی نہیں کہا اور خاموش کھڑا رہا۔
“بھیا آپ اسے کال کریں ناں ہوسکتا ہے وہ آپکی کال پک کر لے۔”
رامین نے آہستہ سے اسکا ہاتھ تھام کر لاڈ سے کہا۔
“تم جانتی ہو میں اسکے ہاسٹل جانے کے فیصلے کے بالکل خلاف تھا وہ مجھ سے تب ہی سے بات نہیں کر رہی۔”
اسفر چاہ رہا تھا وہ خود نرمین سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے۔
“اوکے پھر میں اسکے ہاسٹل ہی چلی جاتی ہوں۔ بس پھر یہی ایک راستہ ہے میرے پاس۔”
رامین نے سوچتے ہوئے کہا۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے۔ اسطرح اسکی تم سے ناراضگی بھی ختم ہو
جائیگی لیکن تم وہاں اکیلی نہیں جاو گی بلکہ میں بھی تمہارے
ساتھ چلوں گا۔”
اگر وہ اکیلی جاتی تو گڑبڑ ہوسکتی تھی اسلیے اسفر اسے
اکیلا جانے دینے والا ہرگز نہیں تھا۔
“ٹھیک ہے بھیا پھر کب جائینگے آپ ہی بتا دیں کیونکہ آپکی
مصروفیات کے بارے میں مجھے نہیں پتا ناں۔”
“ہاں چلو ایسا کرتے ہیں میں تمہیں کنفرم کر کے رات تک بتادونگا۔ لیکن تب تک تم اسکا نمبر ٹرائے کرتی رہو اور جب
بھی تمہاری اس سے بات ہو مجھے ضرور بتانا۔”
اسے سمجھاتے ہوئے اسفر نے کہا۔
“اوکے بھیا۔ میں کرتی ہوں پھر سے ٹرائے اسکا نمبر۔”
رامین اثبات میں سر ہلا کر پھر سے اسکا نمبر ملانے لگی۔
■□●○●□■●●
♡♡ بچھڑ کر تم سے اکثر یہ سوچتا ہوں میں
ذرا سے وقت میں کتنا بدل گیا ہوں میں ♡♡
فارم ہاوس کے چاروں طرف لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے بچ نکلنے کی کوشش کرتا تو سیکورٹی پر موجود باڈی گارڈز کی گنز اسکا قصہ پاک کر دیتیں۔
لیکن شاہان کے اندر جلنے والی انتقام کی آگ کو ان سب سے اب
کیا لینا دینا تھا اس پر تو بس کسی بھی طرح اسفر وقار الملک
سے بدلہ لینے کی دھن سوار ہوچکی تھی۔
بلیک جینز پر کریم کلر کی شرٹ اور اس پر ڈارک براون کلر کی جیکٹ پہنے شاہان فاروق اپنی کاروائی کرنے کیلیے بالکل ریڈی ہو کر فارم ہاؤس کی پچھلی گلی میں کار میں بیٹھا ٹھیک وقت کا انتظار کر رہا تھا۔
ابھی کچھ وقت اسے اور انتظار کرنا تھا۔ اسی وقت کو کاٹنے
کیلئے اس نے میوزک آن کرلیا تھا اور میوزک پلے کرنے کے ساتھ
ہی لائبہ بھی اسکی آنکھوں میں اتر آئی تھی۔ وہ اسکی یادوں
میں کھونے لگا۔
“شاہان فاروق پوائنٹ سے نیچے اترتے ہی لائبہ کے ساتھ قدم
قدم ملا کر چلنے لگا تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ چلتا نوٹ کرے اور
اسے بات کرنے کا موقع مل جائے۔
“یہ کیا حرکت ہے مسٹر شوشل ورکر؟؟؟ لائبہ نے جیسے ہی اسے ساتھ ساتھ چلتے دیکھا بھنا کر بولی اور یہی تو وہ چاہ
رہا تھا۔
“اب بات سے بات بنے گی،،، تو ہی ہماری لو اسٹوری آگے
بڑھے گی ناں مائی اینجل۔”
دل ہی دل میں لائبہ کو اپنی بانہوں میں سمٹے دیکھ کر وہ خوشی
سے نہال ہوا۔
“ہیلو مسٹر،،،شوشل ورکر،،،آئی ایم آسکنگ ٹو یو؟؟” چٹکی بجاتے لائبہ نے شاہان کو خوابوں کی دنیا سے باہر نکالا۔
“کچھ نہیں میں تو بس ڈسٹنٹ میژر کر رہا،،کہیں تم ڈیپارٹمنٹ تک پہنچنے میں زیادہ قدم تو نہیں چلتیں؟؟؟”
اسے اپنے لیے رکے دیکھ کر شاہان کا دل زور سے اچھلا۔
“ایک وقت آئیگا لائبہ فردین جب تم بھی شاہان فاروق کے پیار میں پاگل ہو کر ایسے ہی راہ چلتے خوابوں کی دنیا میں کھوئی رہو گی۔”
لائبہ کی شہد آنکھوں میں دیکھتے اس نے سوچا۔ صبح صبح ہی اسکی شہد آنکھوں میں اپنی بیتابیوں کو کنارہ ملتے،،،،، اسکا تیز تیز دھڑکتا دل شاد ہوگیا۔ وہ اسے بغور دیکھے گیا۔
“اور میرے زیادہ قدم چلنے سے تمہارا کونسا بل آتا ہے؟؟؟”
وہ بھی اسے بغور دیکھے گئی۔لیکن اسکی زبان کینچی کی طرح
چلتی گئی۔
“بل نہیں آتا لیکن یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ تم زیادہ قدم چل کر زیادہ انرجی پھونکتی ہو اور میں کم قدم چل کر کم انرجی۔”
عجیب منطق دیتا وہ اسے کوئی پاگل لگا،،،اکر وہ اتنا ہینڈسم اور گڈ لکنگ نہیں ہوتا تو لائبہ اسکے پاگل ہونے کا پورا پورا یقین کر لیتی۔
“اور اس سے کیا ہوتا پھر؟؟؟” اسکو بغور دیکھتے ہوئے وہ اسکی بلیو شیڈ آئی بالز کو نوٹ کرچکی تھی۔
“یہ کہ تم اتنی نازک اور پتلی کیوں ہو۔”
اسمائل کرتا ہوا وہ اسے اب کچھ بھلا لگا۔ جواب میں وہ بھی
مسکرا دی۔ وہ ازلی ڈیٹ ہے اسے پکا پتا لگ چکا تھا اور اب اسکا
ارادہ اسے پاگل بنانے کا تھا۔
اسکو روبرو مسکراتا دیکھ کر شاہان فاروق کی پسلیوں میں ٹھنڈ کا احساس دوڑا ،،،،، موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے فورا”
اپنا تعارف لائبہ کے گوش گزار کیا۔
“مجھے شاہان فاروق کہتے ہیں،،،، ٹیکسٹائل ڈیزائنگ کے فائنل
ائیر میں ہوں۔ تمہارے گھر کے بالکل پیچھے والا گھر میرا ہے۔” اسکی صاف گوئی پر لائبہ اسے بس گھورے ہی گئی۔
اس شام جب وہ چھت پر بیٹ منٹن کی پریکٹس کر رہی تھی
تو اسے سامنے والے گھر کے ٹیرس میں کسی کے ہونے کا بار
بار احساس ہوا تھا لیکن جب اسے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا
تو وہ اسے اپنا وہم سمجھی تھی۔ یعنی اس وقت وہی تھا وہاں اور چھپ چھپ کر اسکے نظارے کرتا رہا تھا۔
شرم کے مارے اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا۔
اسکی بھنویں پہلے سیکڑیں اور پھر پھیلیں۔ شاہان اسے ایک
ایک منٹ نوٹ کر رہا تھا۔ کیونکہ جس قدر وہ اسے تکتا جاتا
اس قدر ہی طمانیت کی لہر اپنے پورے وجود میں اسے اترتی محسوس ہوتی۔
“یعنی تم مجھے چھپ کر دیکھ رہے تھے،،،ذرا بھی شرم نہیں تمہیں،،،کسی لڑکی کو یوں چھپ کر دیکھنا کوئی اچھی
بات ہے۔”
اسے جھاڑتے وہ تنک کر بولی۔ اس نے بھی پینترا بدلا۔
“ارے یار تمہیں بس موقع چاہیے،،، مجھ معصوم کو جھاڑ پلانے
کا۔ اب چھپ کر نہیں دیکھتا تو کیا،،،، تم اسی طرح دو گھنٹے میری آنکھوں کے سامنے کھیلتی رہتیں،،،،نہیں ناں۔”
اسے تکتے،،،شہد آنکھوں میں ڈوبتے وہ گویا تھا۔ لائبہ کی پیشانی پر بل پڑے۔
“اچھا یعنی تم نے پورے دو گھنٹے مجھے گھورا”
تنک کر کہتے اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
وہ اسے جتنا مکار سمجھی تھی وہ اس سے کہیں زیادہ مکار تھا۔ مگر اسکی بلیو شیڈ آئی بالز لائبہ کو اپنا دیوانہ کرنے لگی تھیں۔ اسکی جان پر بنے گئی تھی۔
“ہاں،،، لیکن میں نے تمہیں بس کھیلتے ہوئے ہی امیجن کیا تھا اس پوری رات اپنے سوئیٹ ڈریمس میں۔”
لائبہ کے کانوں کی لہویں گرم ہوگئیں،،،وہ شوشل ورکر تو اس سے بھی زیادہ منہ پھٹ نکلا۔ ایک کے بعد ایک دل دہلا دینے
والا انکشاف کرتا جا رہا تھا۔
“میں چلتی ہوں،،،میری کلاس کا ٹائم ہو رہا۔”
لائبہ جان بجا کر اسکے پاس سے کسکنے لگی۔
“اچھا سنو آئی لائک یور نیک مول”
اس نے پیچھے سے ایک اور لائبہ کا دل دہلانے والا انکشاف اسکے گوش گزار کیا تھا۔ اسکا دل زور سے دھڑکا۔
“یو باسٹرڈ،،،چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔”
فرسٹ فنگر دکھاتے لائبہ نے اسے چلتے چلتے پیچھے مڑ کر وارن کیا۔
“میں بھی تو یہی چاہتا ہوں لائبہ عرف مائی اینجل۔”
شوخی بھرے انداز میں اسے اپنا نام لیتے لائبہ نے دور جاتے بھی
سن لیا تھا۔ اور اسکی جرات دیکھ کر وہ چلتے چلتے ہی دھیرے
سے مسکرائی تھی۔
شاہان فاروق کا دلچسپ تعارف تو اس نے سن لیا تھا لیکن اپنا
تعارف کرانے سے پہلے ہی وہ جان چکی تھی کہ وہ اسکے بارے
میں سب کچھ پہلے سے ہی جانتا ہے۔
اور وہ گلفس دینے والا واقع،،اس پر گرنا،،،یونیورسٹی گیٹ پر
اسے فولو کرتے پہنچنا وہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ اسکا پلانٹڈ تھا،،،لائبہ نے ایسا سوچ کر زور سے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں۔
نئے سفر پر جو چل پڑے ہو
مجھے خبر ہے کہ خوش بڑے ہو
یہ کون اجڑا تمہارے پیچھے
یہ کس کے ٹوٹے ہیں خواب چھوڑو
محبتوں کے وہ سارے وعدے
نبھائے کس نے بھلائے کس نے
تمہیں پشیمانی ہوگی جاناں
جو میری مانو حساب چھوڑو
اسے یاد کرتے کرتے شاہان آس پاس سے بالکل ہی بےخبر ہوگیا
تھا۔ کتنا دلکش تھا انکا پہلی بار ایک دوسرے کو جاننے کا منظر
کہ اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہا تھا کہ اسکے بالکل سامنے
جہاں وہ پچھلے ایک گھنٹے سے نظریں ٹکائے بیٹھا تھا ایک بلیک
کلر کی بی ایم ڈبلو آکر رکی۔
شاہان نے اس ہر کچھ دیر تو توجہ دی لیکن جب کچھ دیر تک اس
سے کوئی اترا نہیں تو وہ اپنی توجہ اس پر سے ہٹا کر فارم ہاؤس کے گیٹ پر لگا چکا تھا۔ پچھلی گلی میں اس فارم ہاؤس میں اندر جانے کیلیے وہ اسے ہی استعمال کرنے والا تھا۔
■□●○●□■■●○
تمہیں میں کچھ نہیں ہونے دونگا نرمین میری جان۔
شاہان کے کچھ دور کھڑی اس بی ایم ڈبلو میں کوئی اور نہیں
بلکہ اسفر وقار الملک تھا اور وہ بھی اس وقت وہاں کسی پلان
کے تحت ہی موجود تھا۔
لیکن کیا تم اسکے بعد کبھی مجھے معاف کرسکو گی۔ لیکن
مجھے تمہاری معافی کی ضرورت ہی کب ہے۔
اسفر وقار الملک زیر لب بڑبڑایا تھا۔
مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ایسا سوچنا بھی کبھی نہیں۔
مجھے تم سے شکوہ ہے اور بہت زیادہ شکوہ۔ لائبہ اسفر وقار الملک۔
اس نے اچانک ہی لائبہ کو یاد کیا تھا۔ لیکن کیا یہ واقعی اچانک ہی تھا یا وہ بھی اسی کی محبت میں بھٹکتے ہوئے قرار پانے
وہاں پہنچا تھا۔ صحیح وقت کا انتظار کرتے ہوئے وہ بھی لائبہ
سے اپنی پہلی ملاقات یاد کرنے لگا۔
سب ہی مہمان آہستہ آہستہ ہال میں آچکے تھے۔
لیکن اسفر کی آنکھوں کو وہ ابھی تک دکھائی نہیں دی تھی۔ بےچینی سے یہاں وہاں ٹہلتا وہ اسکے آنے کا منتظر تھا۔ گرینی نے اسکی بےچینی دور سے بھی صاف محسوس کرلی تھی۔
“سنو ذرا،،،”انہوں نے ہال میں موجود مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے والے ویٹر کو پکارا۔
“جی میم فرمائیے۔” مدعوب انداز میں وہ انکی بات سننے کو تھوڑا آگے کیطرف جھکا۔
“مسٹر اسفر وقار الملک تک میرا میسج پہنچا دو کہ گرینی نے اسے یاد کیا ہے۔”
ہلکی آواز کے ساتھ گرینی نے اسے کہا۔
“اوکے میم۔ ” ویٹر انکا میسج لےکر اسفر تک گیا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہیں تھیں۔
“اوکے تم جاو میں دیکھ لیتا ہوں۔”
اسفر نے ویٹر کو واپس بھیجا اور خراماں خراماں چلتا گرینی کے
پاس صوفے پر آکر بیٹھا۔
“کیا ہے گرینی ڈئیر آج بھی مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آج تو
مجھے آزادی سے انجوائے کرنے دیں۔”
مسکراتے ہوئے وہ گرینی کو بالکل کوئی جنٹلمین ہیرو لگا۔
ویسے بھی آج وہ پہلے ہی بہت اسمارٹ لگ رہا تھا اور اس پر
اسکا بےاختیار مسکرانا اسے اور بھی ڈیشنگ بنا رہا تھا۔
“ماشاءاللہ،،،ماشاءاللہ،،،جیتا رہے،،،خوش رہے،،،بس گرینی
نے یہی اسمائل دیکھنی تھی اپنے پرنس کے چہرے پر۔
اب گرینی کو سکون مل گیا۔”
اسے بغور دیکھتے گرینی نے شفیق مسکراہٹ اپنے چہرے پر
سجائے کہا تو وہ اور بھی کھل کر مسکرا اٹھا۔
ایک وہی تھیں جو اسکی نظروں سے اسکے دل کی کیفیت جان لیتی تھیں،،،اسی لیے تو وہ انہیں اپنے ہر دکھ سکھ میں شامل
کرتا،،،وہ اسکے دل کے بہت قریب تھیں۔ اسکی ترقی،،اسکی
کامیابی کیلیے دعائیں مانگنے والی گرینی اسکی جان تھیں۔
وہ انہیں مسکراتا دیکھ کر اور بھی مسکرانے لگا۔
“گرینی کیا خیال ہے آج اسفر فلرٹ کر سکتا ہے ناں۔ “
اچانک ہی وہ کچھ سوچ کر بولا تو گرینی نے اسکے یونٹوں پر
مچلتی شرارت دیکھ لی۔
“کون ہے وہ جسکے لیے قرعہ نکال رہا ہے۔”
اسے سوچتا دیکھ کر گرینی نے چھیڑا۔ اسی طرح وہ ہنستے ہنستے اسکے دل کی بات جان لیا کرتی تھیں۔
“کون سے کیا مطلب؟؟ ” خفا سا اسفر گرینی کو دیکھے گیا۔
“آپکو پتا ہے گرینی بہت اچھی طرح کہ اسفر کا دل کس کے ساتھ فلرٹ کرنے کو چاہ سکتا ہے؟؟؟ کون ہو گا اس قابل کہ وہ اسفر وقار الملک کے سامنے ٹھہر سکے۔”
برجستگی سے بولتا وہ انکے گھٹنے پکڑ کر بیٹھ گیا۔
“گرینی اسفر وقار الملک کے دل میں لائبہ کے علاوہ کوئی دوسرا
ہو ہی نہیں سکتا،،، یہ آنکھیں اسکی منتظر تھیں اور ہمیشہ اسی کی منتظر رہیں گی۔”
اسکی آنکھوں میں ابھرتی چمک اسکے دل کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے کافی تھی۔
“وہ صرف پرنس اسفر وقار الملک کی ہی ہوگی،،، یہ گرینی کا
وعدہ ہے۔”
گرینی نے اسکا ماتھا چومتے پورے یقین سے کہا اور اس بار انکا ایسا کہنا بالکل الگ تھا،،، بالکل ویسا جیسا وہ حتمی فیصلہ
کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں۔
اسفر وقار الملک کے دل میں مچی ہلچل اور بھی اتل پتل مچانے
لگی۔ شادی مرگ کی کیفیت میں وہ اسے پانے کا یقین لیے گرینی کے ہاتھوں کو محبت سے چومتا کھڑا ہی ہوا تھا کہ وہ
اسکی آنکھوں کے بالکل سامنے سے بالوں کی لٹیں سمیٹتی گرینی کو سلام کرنے کیلیے جھکی تھی۔
اسفر وقار الملک کی دھڑکنیں ایک سیکنڈ میں رکیں اور دوڑیں
تھیں،،، اسکی اتنی نزدیکی اسفر کو بےکل کرنے کے لیے بہت
تھی۔ وہ شاک کی حالت میں اسکے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔
اسکے پاس سے آتی مسحور کن خوشبو اسفر کے حواس پر چھائے ہوئی تھی۔
“اسفر بیٹا،،، ذرا ادھر آو۔”
اچانک ہی گرینی نے اسے پکارا تھا وہ انکی طرف جھکا تھا۔
“لائبہ بٹیا سے ملو،،،” گرینی نے اسفر کا ہاتھ تھامے اسے لائبہ کے بالکل روبرو کھڑا کر دیا تھا۔
چٹان کی طرح سخت اور کھر دماغ کا حامل وہ چھ فٹ لمبا انسان اسکی نظروں کی تپش سے سلگ اٹھا تھا۔ وہ ڈیشنگ
لگ رہا تھا تو وہ بھی کسی پرستان کی خوبرو پری دکھائی دی
رہی تھی،،، ان دونوں کے چھلکتے ہوئے حسن کے آگے کوئی
دوسرا ٹھہرنے والا نہیں تھا۔
لائبہ اسے مبہوت دیکھے گئی اور وہ اسے تشنگی نظر کی شدتوں سے خود میں اتارے گیا۔
“ہیلو آئی ایم اسفر وقار الملک۔”
اس نے ہمت جتا کر ہاتھ ملانے کیلیے آگے بڑھایا۔
“اوہ،،نائس ٹو میٹ یو۔”
جسے لائبہ نئ فورا” ہی اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ میں تھاما تھا۔
اسفر کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسکا پہلا لمس،،اسکی پہلی
نظر،،،سب کچھ کتنا منفرد تھا۔
وہ جو اسکا کئی سال پہلے سے دیوانہ تھا آج اور بھی دیوانہ بن
چکا تھا۔
“میں آپکو جانتا ہوں لائبہ فردین بہت پہلے سے۔”
اسفر کے کہنے پر وہ چونکی تھی۔ گرینی دوسرے مہمانوں سے
ملنے میں بزی ہو چکی تھیں۔ اب اسفر وقار الملک خود ہی اس
گیم کا پلیئر تھا جسکا آغاز گرینی نے اسے لائبہ کے روبرو کھڑا کر کے کردیا تھا اور وہ جس گیم میں شامل ہو جائے اس میں پھر
ہارا نہیں کرتا تھا یہ اسکا اصول تھا۔
“تب سے جانتا ہوں میں آپکو،،،جب سے آپ میرے نکاح میں
ہیں۔”
اسفر کے الفاظ لائبہ کو شاکڈ کر گئے۔ دیدے ہلائے بنا وہ اسے
دیکھے گئی۔
گرینی سمیت پنڈال میں موجود ہر فرد نے انکی طرف دیکھا اور
آمینہ فردین کے چہرے کا رنگ فق پڑ گیا۔
اس بات کا انہیں ہرگز اندازہ نہیں تھا۔ وہ لائبہ کے چہرے کے
بدلتے رنگ دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔
“آپ شرعی اور قانونی طور پر میری بیوی ہیں اور میں قانونی اور شرعی طور پر آپکا شوہر نامدار اسفر وقار الملک ہوں۔”
اسفر کے ہونٹ ہلتے ہوئے لائبہ کی سانسوں کو کھینچنے لگے۔
دم بخود کھڑی وہ پتھر کی ہو چکی تھی۔
“میں اس سے خود بات کرونگی،،، اسفر تم اسے اسطرح پریشان نہیں کرسکتے۔”
آمینہ فردین بلاآخر ہمت جتا کر آگے بڑھی اور اسفر کو گھورتے
ہوئے غصے سے بولی۔
“میں سب بتا چکا ہوں انہیں،،،آپ نے سنا ناں،،،ہماری بات ابھی ابھی تو ہوئی ہے۔”
آمینہ کو آج وہ کوئی بہت ہی خطرناک انسان معلوم ہوا جسکے سامنے بولنے کی غلطی کم از کم آج تو اسے وارا نہیں کھانے والی تھی۔ آمینہ باوجود کوشش کے کچھ اور نہیں بول پائی۔
اور وہ مین آف نائٹ،،، اسی ڈھٹائی،،، اسی رعب،،، اسی اپنائیت سے اپنی بات جاری رکھے ہوا تھا۔
“اور اب آخر میں،،، آپ سے میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ آپکی رخصتی آج ہی میرے ساتھ ہونے والی ہے اور آپ اس پر اعتراض نہیں کریں گی کیونکہ اسفر وقار الملک شرعی حیثیت سے آپکو اپنے ساتھ لیجانا چاہتا ہے۔”
اسکی گھمبیر آواز اور اسکی چھبتی آنکھیں لائبہ کو نروس
کرنے لگیں وہ اس سے خوفزدہ سی ہو گئی۔ اپنا اٹل فیصلہ سنا
کر البتہ وہ اسکے سامنے سے جا چکا تھا۔
اور لائبہ اسکے وہاں سے جاتے ہی چکرا کر نیچے گر پڑی تھی۔
سب ہی اسکی طرف بھاگے تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر گرینی اس پورے معاملے میں ایک بار بھی نہیں بولیں تھیں اور
نہ ہی کسی اور کو کچھ کہنے کی اجازت دی تھی۔
“لائبہ آج کی دلہن ہے،،، ہوش میں آنے کے بعد انہیں اچھا سا تیار کرو،،، انہیں سب سے خوبصورت نظر آنا ہے۔”
گرینی نے حتمی انداز میں کہا تھا اور آمینہ فردین کی سماعت کھڑے ہی کھڑے سن ہو چکی تھی۔
گرینی بھی اسفر وقار الملک کے ساتھ ہیں ایسا جب تک وہ سمجھ پائی تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور اسے اب ویسا ہی
کرنا تھا جیسا وہ دونوں چاہتے تھے۔
اس نے کار میں بیٹھ کر انتظار کرتے ہوئے کئی ساعت اسکی یاد میں گزار دیے تھے لیکن دل تھا کہ اسے یاد کرنے سے بھرا ہی
نہیں تھا۔
وہ دونوں ہی لائبہ کے بارے میں اور بھی بہت کچھ سوچنا چاہتے تھے ابھی تو یہ صرف انکا اس سے پہلی ملاقات کا ماجرا تھا لیکن اب انکے پاس زیادہ وقت نہیں بچا تھا۔
جس پلان کے تحت شاہان فاروق اور اسفر وقار الملک وہاں پہنچے تھے اسے پورا کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ ایک ساتھ وہ دونوں
اپنی اپنی کار سے اترے تھے انکی ٹائمنگ بالکل سیم تھی۔
لیکن سمت ایک دوسرے کے بالکل خلاف تھی۔
شاہان فاروق پچھلے گیٹ کیطرف جبکہ اسفر وقار الملک اگلے مین گیٹ کیطرف قدم بڑھا اٹھا رہا تھا البتہ وہ دونوں ہی بہت
محتاط تھے۔ کیونکہ انکے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں
تھی۔
