584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 8

Fareb Nazar by Gazal Saima

♡♡ملے تھے راہ میں یوں تو ہزار ہا چہرے

میری نگاہ میں لیکن کوئی جچا ہی نہیں♡♡

♡♡میں بھول جاؤں تجھے ایسا کبھی ہوا ہی نہیں

تیرے سوا میرے دل میں کوئی بسا ہی نہیں♡♡

♡♡جو تم نے توڑ دیا تو کروں کیا اسکا گلہ

سکون دل کو تو میرے کبھی ملا ہی نہیں♡♡

♡♡تمام عمر کٹی انتظار میں اسکے

وہ جس نے پیار کبھی مجھ سے تو کیا ہی نہیں♡♡

♡♡یہی تھا اپنا ارادہ، تیرا تقاضا بھی

بچھڑ کے تجھ سےکوئی سانس میں جیا ہی نہیں♡♡

“اسفر وقار الملک میں آپکے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہوں۔

آپ بہت بڑے رئیس ہونگے ہر چیز کو اپنے ایک اشارے سے خرید

سکتے ہونگے لیکن میں کوئی چیز نہیں،،، ایک جیتی جاگتی لڑکی ہوں،،، میرے کچھ خواب ہیں،،،،کچھ پلان ہیں اور میں

آپکو اسکی اجازت ہرگز نہیں دونگی کہ آپ اس طرح اچانک سے

میری زندگی میں آئیں اور سب کچھ برباد کر کے رکھ دیں۔”

لائبہ فردین عروسی جوڑا پہنے اسکی دلہن بنے بالکل تیار تھی لیکن اس نے عین رخصتی کے موقع پر اسکے ساتھ جانے سے

انکار کر دیا تھا۔

گرینی سمیت ہال میں موجود سب ہی مہمان اسکے اس اچانک فیصلے پر حیرت زدہ رہ گئے۔

“لیکن بیٹا تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ تم جو کرنا چاہو وہ کرسکتی

ہو،،، اسفر تمہارے ہر فیصلے کا احترام کریگا۔ کسی قسم کی کوئی زبردستی تم سے کبھی نہیں کی جائیگی۔ یہ گرینی کا تم

سے وعدہ ہے۔”

گرینی نے لائبہ کو سمجھانا چاہا۔ اتنے مہمانوں کے ہوتے ہوئے

اسکا یوں انکار کرنا مینشن کے ہر فرد کیلیے باعث شرمندگی تھا۔

“اگر یہ میرے ہر فیصلےکا احترام کرینگے تو پھر اسکا آغاز آج

سے بلکہ ابھی سے ہی کرتے ہیں۔”

اس نے خود سے کچھ ہی قدم دور کھڑے اسفر وقار الملک کو دیکھا جو اسے بڑے ہی تحمل سے سن رہا تھا۔

اسے اتنا پرسکون دیکھ کر وہ چونکی۔

“تمہارا یہ سکون تو میں ابھی برباد کرتی ہوں۔” اپنے دل میں اس نے سوچا۔

“آج میری اسفر وقار الملک کے ساتھ رخصتی کو روک دیا جائے

کیونکہ میں ایسا نہیں چاہتی یہ میری مرضی اور پسند کے بالکل خلاف ہے،،، برائے مہربانی میرے ساتھ کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں کی جائے۔ گرینی مجھے آپکے وعدےکا یقین تب ہی ہو پائیگا۔”

سپاٹ لہجہ لیے لائبہ اپنا فیصلہ سنا چکی تھی۔

گرینی کو اس سے ایسے فیصلے کی امید بالکل بھی نہیں تھی

انہوں نے چونک کر عروسی جوڑے میں سجی اس ضدی دلہن کو

گھور کر دیکھا۔

“کیا بیوقوف لڑکی تم جانتی بھی ہو تم کس سے پنگا لینے جارہی ہو؟؟ وہ تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ چاہتا ہے۔”

گرینی نے کل کی اپنی اور اسفر وقار الملک کی باتیں یاد کرتے

ہوئے سوچا۔

انکے اسطرح حیران ہونے کا مطلب وہ بھی بہت اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اسکے فیصلے سے وہ خوش نہیں اسکا صاف صاف مطلب یہی تھا۔ لیکن پھر بھی وہ ڈٹ کر کھڑی رہی۔

“مجھے اپنے شوہر سے اس ایک وعدے کی پاسداری کے علاوہ

اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔”

تن کر تقاضہ کرتی لائبہ کے علاوہ ہر شخص خاموش تھا۔ حتی کہ اسفر وقار الملک بھی۔ بس ہر کوئی اب اسفر وقار الملک کے

فیصلے کا منتظر تھا۔

اسفر جو ابھی تک اسکی طرف پیٹ کیے کھڑا اسکو بغور سن رہا

تھا اسکے مقابل آنے کیلیے ایک قدم پیچھے ہوا تھا۔

تن کر کھڑے ہونے کے باوجود لائبہ کو اس سے ڈر محسوس ہوا۔

کیا آپ لائبہ فردین مجھے اپنا شوہر تسلیم کرچکی ہیں؟؟؟

اسکے اچانک پوچھے سوال نے لائبہ کو جھنجھوڑ ہی ڈالا۔

ابھی تک اس نے ایک بار بھی اسے اپنے شوہر کے طور پر تو سوچا

ہی نہیں تھا۔

لب بھینچے وہ چپ رہی۔

کیا آپکی خاموشی کو آپکی رضامندی سمجھوں؟؟

وہ اسے اور الجھاتا گیا۔ یک کے بعد دیگرے پوچھے گئے اسکے

سوالات نے لائبہ کی سٹی گم کر دی۔

“جو تقاضا آپ مجھ سے کر رہی ہیں وہ میرے لیے تب ہی قابل

قبول ہوگا جب آپ مجھے اپنا شوہر نامدار اپنی مرضی اور پسند

کے مطابق تسلیم کرلیں۔”

اس نے لائبہ کو کشمکش میں ڈال دیا۔ وہ اپنے ہی فیصلے کے

ہاتھوں اسکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔

“اور اگر آپ نے مجھے ابھی تک اپنا شوہر تسلیم ہی نہیں کیا تو

پھر آپکو گرینی کے وعدے کو صرف رخصتی سے بچ نکلنے کیلئے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔”

وہ اسفر وقار الملک تھا۔ اسے اختیار بھی تھا اور اپنی ذمےداری

کا پورا پورا احساس بھی۔ لائبہ اسے خود کیلئے ظالم اور بک ورڈ

سوچ کر اس سے بھڑنے کیلئے تو خود کو تیار کر چکی تھی لیکن

دلیل اور شعور کے ہاتھوں وہ ہی اسے مات دینے پر قادر ہوگا یہ اسے اب تک معلوم نہیں تھا۔

تذبذب کا شکار ہوئے وہ کوئی ہاری ہوئی شہزادی لگ رہی تھی۔

جو وقت اور حالات کے ہاتھوں مات کھانے پر مجبور ہوئی ہو ورنہ

ہوش میں آنے کے بعد جب اسے آمینہ فردین نے اسکے نکاح کے

حوالے سے سب کچھ بتا کر اسے ہی انکار کرنے پر ابھارا تھا تب

وہ بھی اپنی جیت کا سو فیصد یقین کر کے ہی اس اکھڑ اور

ضدی شخص کے روبرو آئی تھی۔ لیکن اپنی بازی کھیلتے ہوئے

اس نے ایک بار بھی اپنے مدمقابل کی بازی کے بارے میں نہیں

سوچا تھا اور یہی اسکی ہارنے کی وجہ تھی۔

“اگر تم ذرا سی بھی سمجھدار ہوتی،،،تو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار،،، ضرور اسفر وقار الملک کے بارے میں اپنی گرینی سے بات کرلیتں،،، میں تمہیں اسکے تمہارے لیے محبت بھرے جذبات سے آگاہ تو کر دیتی۔ لیکن اپنی بی کی باتوں میں آکر تم اسکے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی دشواریاں کھڑی کر رہی ہو۔”

لائبہ اور اسفر کو آمنے سامنے کھڑے دیکھ کر گرینی کو اب فکرمندی ہو رہی تھی۔

“میرے ہوچھے گئے تین سوالوں کے جواب میں آپ نے ابھی تک

صرف خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے،،،اور یہاں موجود ہر شخص

جانتا ہےکہ لڑکی کا اسکی مرضی پوچھے جانے پر خاموش رہنا

اسکی رضامندی سمجھا جاتا ہے۔”

لائبہ کے دل کی دھڑکن اس اکھڑ شخص کی زبان سے ادا ہونے والے ہر لفظ کے ساتھ تیز سے تیز ہو رہی تھی۔

“یعنی آپ مجھے اتنے سارے گواہوں کے سامنے اپنا شوہر نامدار

اپنی مرضی اور اپنی پسند سے تسلیم کرتی ہیں۔”

اسفر وقار الملک اب بالکل اسکے پاس کھڑا اسکی سانسیں تک

صاف سن سکتا تھا۔ اسکے دل کی تیز دھڑکن بظاہر پرسکون

کھڑی اس لڑکی کے دل کی قابل رحم حالت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہی تھی۔ وہ اسکا چہرہ گھونگھٹ میں چھپے ہونے کے باعث نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن وہ اسکی پتلی ہوتی حالت اسکے اتنے نزدیک آکر اچھی طرح جان چکا تھا۔

لائبہ کو اسکے کلون کی خوشبو اپنے پورے وجود میں محسوس یوئی وہ سمٹ کر اس سے تھوڑا دور ہوئی۔ لیکن وہ بدستور اسی

طرح کھڑا رہا۔

“مجھے آپ اپنے شوہر کے طور پر قبول ہیں۔”

یکلخت اسکے ہونٹ ہلے۔ اپنی زبان سے اپنی شکست کا اعلان

کرنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے لائبہ کو آج پہلی بار اسکا احساس ہوا۔ وہ جو منہ پھٹ اور ضدی مشہور تھی،، جو اپنی زبان درازی کے بل بوتے پر اپنے مدمقابل کے منہ پر سیکنڈوں میں تالا لگا دیتی تھی،،،آج وہی اپنی زبان سے اپنی ہار کے چند ہی الفاظ

ادا کر پائی تھی۔ آج اسکی ساری ہمت،،، ساری دلیری،،،

اسفر وقار الملک نے ایک ہی جھٹکے سے نکال دی تھی۔

“تو پھر آپکے شوہر نامدار ہونے کی حیثیت سے میں یعنی اسفر وقار الملک،،، اپنی گرینی کا وعدہ نبھاتے ہوئے اپنی بیوی یعنی

لائبہ اسفر کی رخصتی اپنے ساتھ موخر کرتا ہوں کیونکہ ایسا

میری بیوی صاحبہ چاہتی ہیں اور میں انکا شوہر ہونے کے ناطے

ان سے کسی بھی قسم کی زور زبردستی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔”

اطمینان سے اپنی بات مکمل کر کے وہ اسکے سامنے سے ہٹ

گیا۔ اسکے ہٹتے ہی لائبہ نے گہرا سانس لیا جسے وہ ابھی تک

اسکے اتنے نزدیک ہونے کی وجہ سے روکے رہی تھی۔

“واہ میرے پرنس تم نے تو بازی مار لی۔”

گرینی اسکی حاضر دماغی پر خوشی سے کھلکھلا اٹھیں۔

“خود کا پوتا ہونے پر گرینی کو تم پر فخر ہے۔”

انکے دل سے اسکے لیے بےتحاشا دعائیں نکلیں تھیں۔

آمینہ فردین نے البتہ پھرتی سے آگے بڑھ کر لائبہ کو سنبھالا

اور وہ اپنی بی کے ساتھ واپس اپنا عروسی جوڑا تبدیل کرنے چل پڑی۔

لیکن اسے وہ کہیں نہیں دکھائی دیا۔ وہ جسکے بارے میں اس نے سچ میں ابھی تک ایک بار بھی سنجیدگی سے نہیں سوچا تھا اور جس سے صرف اپنی جان چڑھانے کیلئے،،اتنے گواہوں کے سامنے،،، خود کو جھوٹ موٹ کا سنجیدہ ظاہر کرتے،،،، اس نے اپنا شوہر نامدار تسلیم کیا تھا۔

“کیا بیوقوفی کر دی ہے تم نے یہ لائبہ؟؟” گھونگھٹ میں منہ

چھپائے سنبھل سنبھل کر چلتی لائبہ کے دل سے آتی آواز اور

اسکے ساتھ اسے سہارا دیتی بی کی زبان سے ادا ہونے الفاظ بالکل ایک تھے۔ وہ ہکابکا رہ گئی۔

“کیا واقعی میں نے بہت بڑی بیوقوفی کر دی ہے؟؟؟”

اسکا دل دھک سے دھڑکا تھا۔

○●□■○●□■○●□■

“نہیں یہ محترمہ مجھے جھاڑیوں کے پاس زخمی حالت میں ملیں تھیں۔ میں نے جلدی سے ایمبولینس کو کال کیا اور انکو

لے کر یہاں ہسپتال آگیا۔”

شاہان نے جس لڑکی کی جان بچائی تھی وہ وقار الملک کی چھوٹی بیٹی تھی جو اپنی اسٹیڈیز کے لیے ایک پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اسی سمسٹر کے شروع میں

شفٹ ہوئی تھی۔

اور اثر و رسوخ والی فیملی سے تعلق ہونے کی وجہ سے شاہان سے تفتیش کی جارہی تھی کیونکہ وہی اسکو اس حالت میں

ہسپتال لایا تھا اور وہی عینی شاہدین میں بھی شامل تھا۔

“کہیں تم کچھ چھپانے کی کوشش تو نہیں کر رہے،،،قانون کو

چکر دینے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ تمہاری اتنی بری

درگت بنائیں گے کہ اپنی شکل خود بھی نہیں پہچان پاو گے۔”

پولیس آفیسر الٹا شاہان ہی کو دھمکاتے ہوئے بولا۔

“نہیں سر میں کیوں چکر دونگا،،میرا یقین کریں میں بالکل سچ

کہہ رہی ہوں۔ آپ اس لڑکی سے پوچھ سکتے ہیں وہ اس وقت ہوش میں تھی اسے سب یاد ہوگا۔”

شاہان تھوک نگلتے ہوئے جلدی جلدی بولا تھا۔

پولیس آفیسر کو یقین دلانے کی کوشش میں آدھی رات کا وقت

ہوچکا تھا لیکن پولیس آفیسر اسکی کسی بات کا یقین کرنے

کو تیار نہیں تھا۔

“جب تک اسکی فیملی نہیں آجاتی،،، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

یہ بڑے لوگوں کی لڑکی ہے۔ انکے مطابق ہی تمہارے ساتھ

معاملہ ہوگا۔ اسلیے ابھی لاک اپ میں آرام کرو۔”

اسے لاک اپ میں ڈالنے کے بعد وہ پولیس آفیسر تالا لگا کر چلا گیا۔

“ارے یار کیا مصیبت ہے؟؟ میں تو برا پھنس گیا۔:

افسوس کرتے ہوئے شاہان اب آگے اسکے ساتھ کیا ہوگا سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگا۔

○●□■○●■■○●□■

وہ اسکی آخری پیٹنگ تھی،،،اسکے بعد نہ کبھی اس نے کسی

صورت کو اتنی خوبصورتی اور باریک بینی سے کینوس پر اتارا،،نہ ہی کبھی اسکے دل میں ایسا کرنے کی کوئی خواہش جاگی۔

اسکا حسین ترین چہرہ پینٹ کرتے ہوئے اس نے کبھی سوچا

تھا کہ وہ اس چاند مورت کو اپنی دنیا کا جیتا جاگتا شاہکار

ضرور بنائے گا۔

“میری خواہش تھی کہ تم میرے آرٹ اسٹوڈیو کی تاریک دنیا سے نکل کر میرے گھر کی روشن اور جیتی جاگتی دنیا میں ایک دن اپنے قدم ضرور رکھو۔ جتنا خوبصورت میں تمہیں تصور کرتا ہوں،،، اتنا خوبصورت تم میرے لیے میری اس دنیا میں بھی نظر آو۔ تم صرف میرا تصور نہیں میری حقیقت بھی ہو۔”

اس پینٹنگ کو کئی سال بعد وہ آج دوبارہ بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا،،،لائبہ فردین تم پر جس دن میری پہلی نظر پڑی تھی اسی دن میں نے تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی تھی۔

“تمہیں اپنے دل میں اتنے سال بسائے رکھنےکا اہتمام میں نے کیے رکھا،،،، تو بدلے میں تمہیں بھی اب میرے گھر کی دنیا

کو اپنے آپ سے بسائے رکھنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔”

“ورنہ میرے اس چھوڑے ہوئے شوق کی طرح تم بھی میری ایک

یاد بن کر میرے عالیشان محل نما گھر کے کسی کونے میں پڑی ہوئی ملو گی۔”

اسفر وقار الملک مینشن کے اس پرسکون اور ہری بیلوں کے بیچ چھپے ہوئے اپنے آرٹ اسٹوڈیو میں موجود تھا۔ وہ کوئی خفیہ جگہ

ہرگز نہیں تھی لیکن وہ کوئی اتنی زیادہ نمایاں جگہ بھی نہیں

تھی۔ کئی سالوں پہلے وہ یہاں باقاعدگی سے آتا تھا،،،،،تب

چہرے پینٹ کرنا اور انکے نقوش کو باریک بینی سے بناکر وہ ان

چہروں کے تاثرات کو ایک نئے ڈھنگ سے تخلیق کرتا۔

○●□■●●□■

“تمہارے یہ فن پارے محض فن پارے نہیں،،،، بلکہ شاہکار ہیں اسفر تم ایک بہت ہی بڑے آرٹسٹ ہو لیکن تم نے خود کو چھپا رکھا ہے،،،آرٹ اسٹوڈیو کی ان دیواروں میں اپنے اس ٹیلنٹ کو

قید مت کرو،،، تمہارا فن پرواز کرنا چاہتا ہے اس قید خانے سے

باہر نکل کر شہرت کی بلندیوں پر جانا چاہتا ہے تو تم کیوں اسے

ان دیواروں میں اسے قید کیے بیٹھے ہو۔ ان فن پاروں کو آرٹ اسٹوڈیو کی اس تاریک دنیا سے نکال کر آرٹ کی جیتی جاگتی روشن دنیا میں لے جاو۔”

اسکے کانوں نے اچانک ہی وہ آواز سنی تھی۔

“فردین انکل میں ویسا ہی کرونگا جیسا آپ چاہتے ہیں۔”

وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچا ہوا تھا کہ اسکے موبائل کی رنگ ٹون نے اسکے انہماک سے کچھ یاد کرنے کی کوشش کو تتر بتر

کر کے رکھ دیا۔

اس نے کوٹ کی پاکٹ سے موبائل نکالا اور اپنے کانوں پر لگایا۔

“یس اسفر اسپیکنگ۔”

وہ سرعت سے بولا تھا ۔

“واٹ؟؟ کس پولیس اسٹیشن میں؟؟؟:

کال ڈسکنٹ کر کے وہ تیزی سے مینشن کیطرف بھاگا تھا۔