Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 31
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 31
Fareb Nazar by Gazal Saima
“چلیں لائبہ ہمیں گرینی کے پاس ہسپتال جانا ہے۔”
تیزی سے آتا ہوا اسفر اسکے نزدیک پہنچ کر رکا اور اپنے وہاں آنے کا مقصد گوش گزار کیا۔
“لیکن مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔”
بجائے اسکے ساتھ جانے کے لائبہ ساکت و جامد رہی۔
“دیکھیں ہم واپسی پر بھی تو بات کرسکتے ہیں ناں۔ سب نکل چکے ہیں صرف ہم دونوں ہی باقی بچے ہیں۔”
اسے جانے کی جلدی تھی اسلیے وہ لائبہ کی آنسوؤں سے تر آنکھوں پر غور نہیں کر پایا۔
وہ اسے پھر سے آپ کہہ کر مخاطب کر رہا تھا۔ کیونکہ اپنی اور
اسکی نزدیکیاں بڑھنے کا وہ رخصتی سے پہلے کسی کو پتا نہیں
لگنا دینا چاہتا تھا۔ ورنہ خوامخواہ باقی لوگ انکے رشتے کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے اور یہ وہ کبھی گوارا نہیں کرسکتا تھا۔
“نہیں اسفر۔ ہم پہلے بات کرینگے۔”
لائبہ نے خاصے روکھے پن کے ساتھ ساتھ اٹل لہجہ اختیار کہا۔
اسفر پرسکون تھا لیکن کسی انہونی کا اسکی چھٹی حس ضرور اسے احساس دلا رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے آپ ٹھیک تو ہیں؟؟”
یکدم اسفر نے لائبہ کی پیشانی کو چھونا چاہا۔
لیکن لائبہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی تاکہ وہ اسے چھو نہ پائے۔
تو اسکا شک ٹھیک تھا کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ضرور ہوئی ہے۔
اسفر نے سوچ کے گھوڑے دوڑائے۔
“مجھے اس اسٹور روم میں جانا ہے۔”
اچانک ہی وہ پیچھے مڑی اور اسکے بالکل سامنے اپنا چہرہ لہرا کر انگارہ نگاہوں سے گھور کر بولی۔
“اسٹور روم۔” اسفر دافعتا چونکا۔
“ہاں اس اسٹور روم میں۔”
چھبتے لہجے اپناتے لائبہ نے درشت سے کہا۔
اور ساتھ ہی اپنی فرسٹ فنگر سے لان کے اس ویران اور اندھیرے میں ڈوبے حصے کیطرف اشارہ کیا۔
اسفر کا چہرہ یکدم فق ہوا۔ اگر وہ وہاں جانے کا ارادہ کرچکی ہے
تو لازمی اور بھی کافی کچھ جان چکی ہوگی۔
اندیشوں نے اسے گھیرا۔
اسکی بدلتی کیفیت سے لاتعلق سامنے کھڑی لائبہ اپنی انگارے برساتی نظروں سے اسے اور بھی ہراساں کرنے لگی۔
“وہاں آپکے دیکھنے کے لائق کچھ بھی نہیں لائبہ۔
وہ میرا پرانا آرٹ اسٹوڈیو ہے وہاں ایسا کچھ بھی نہیں جسے آپکو دیکھنا چاہیے۔”
اسکی شہد رنگ آنکھوں میں دہکتے انگارے اب وہ پوری طرح سے
دیکھ پارہا تھا۔ لیکن وہ کیسے اس سب سے واقف ہوئی۔
وہ شدید قسم کے مخمصے میں تھا۔
“پھر ڈرنا کس بات کا۔ چلو اور مجھے دیکھنے دو وہاں کیا ہے؟”
پتلیاں سکیڑے وہ بغور اسے دیکھ رہی تھی۔
شاید وہ اسکے چہرے کے بدلتے ہوئے زاویوں سے اسکے سچے یا جھوٹے ہونے کا یقین کرنا چاہ رہی تھی۔
زخمی نگاہوں سے اسفر نے اسے ایک نظر بھر کر دیکھا اور پھر بےبسی سے سر جھٹک کر دھیرے سے “اوکے” کہا۔
اس پر منکشف ہو چکا تھا کہ اگر اس وقت وہ اسکے تجسس کے راستے کی دیوار بنا تو وہ اسے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھے گی۔ اس لیے وہ چپ چاپ اسکے راستے سے ہٹ گیا۔
“آئیں میرے ساتھ۔”
بظاہر رعب دار انداز تھا اسکا لائبہ کو متوجہ کرنے کا۔
لیکن اندر سے وہ اتنا ہی پرسکون اور مطمئن تھا۔
بنا پلک جھپکے۔۔۔دم سادھے۔۔۔محتاط نظروں سے اطراف کا جائزہ لیتی ہوئی لائبہ اسکی پیروی میں چل دی ۔
○●□■○●□■
چمن زار میں موتیا کے سفید پھولوں سے سجے ٹیرس پر دو نفوس آمنے سامنے بیٹھے کسی اقرار کے آخری پل میں تھے۔
شاید ایسے لمحے دوبارہ انکی دسترس میں آنے والے نہیں تھے
تبھی وہ ہر فکر سے آزاد ہوکر ان آخری لمحات کو ایک دوسرے
کی قربت میں جی لینے کے متمنی تھے۔ دور پہاڑیوں کی چوٹیوں کے پیچھے غروب ہوتا سورج اس منظر پر اپنا الوداعی نارنجی رنگ ٹپکاتا امر ہونے جارہا تھا۔ ایک دوسرے کو الوداع کہنے والے وہ دو نفوس اس دلپذیر منظر کی مٹھی میں بند دنیا و مافیا سے بےخبر چند سیکنڈ بعد موت کو گلے لگانے والے تھے۔
“ایک ایسی موت جسے لوگ خودکشی کہتے ہیں ہماری منظور نظر ٹھہری۔”
ان میں سے گولڈن کرل بالوں والی عورت نے نہایت گرمجوشی سے بلونڈ اسٹریٹ بالوں والے مرد ساتھی کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے گرم ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا۔
لیکن گرمجوشی کی حدت بھی بلونڈ اسٹریٹ بالوں والے اسکے ساتھی مرد کے ٹھنڈے ٹھار جزبات کو جگا نہ سکی۔
“موت سے پہلے موت کو گلے لگانا وہ بھی اپنی مرضی سے ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ سرپھرے ہی اس قسم کے فیصلے کر کے خود کو تسکین پہنچاتے ہیں۔”
لمبا سانس اندر کھینچتا ہوا اسکا ساتھی مرد بڑی ہی ناامیدی سے گویا ہوا۔ اسکے پورے وجود کیطرح اسکا لہجہ بھی بالکل یخ بستہ تھا۔
“اور ہم وہی سرپھرے ہیں۔”
البتہ گولڈن کرل ہیرز والی عورت کی گرمجوشی اب بھی باقی تھی۔ ایک امید سے وہ شوخی سے بولی تھی۔
“آو اس پل کو امر کرتے ہیں اور مشروب ایک ساتھ حلق میں انڈیلتے ہیں۔”
بیک وقت وہ دونوں گویا ہوئے۔
جیسا کہ انکا سوچا سمجھا پلان تھا اور پھر مشروب کے گلاس
اپنے اپنے لبوں سے لگائے ایک دوسرے کو آخری بار دیکھا۔
پھر دونوں نے اپنی اپنی آنکھیں بند کیں اور زہر آلود مشروب کا
پورا بھرا گلاس اپنے اپنے حلق میں گھٹا گھٹ انڈیل دیا۔
خالی گلاس وہیں فرش پر چھوڑے اور چند ساعت بالکل ساکت
بیٹھے رہے اور پھر ٹھیک پانچ منٹ بعد بلونڈ اسٹریٹ بالوں والے مرد ساتھی نے عورت ساتھی کے شانوں کو بالکل نرمی سے پکڑ کر اسے ہلکا سے ہلایا تو اسکی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔
“آہ۔ تم مجھے چھوڑ گئیں۔”
مرد ساتھی بےبسی سے بڑبڑایا۔
اسکی پست آواز میں بھی عجیب کرب تھا۔ سب کچھ ہار جانے کا کرب۔ ایسا کرب جو کسی غلطی۔۔ کسی بھول کے بغیر ہی اسکے حصہ میں آگیا ہو۔ وہ اسکی بہت قریبی تھی جو اسکے چہرے پر الم کی پرچھائیاں ایک پل میں بھی کئی بار چھائی تھیں۔
“مجھے معاف کر دینا میری جان۔ زہر آلود مشروب صرف تمہارے لیے تھا۔”
اسکے لہجے میں لاچاری در آئی۔
جس طرح اپنے آنسو ضبط کیے وہ خود کو پرسکون رکھنےکی کوشش کر رہا تھا اس سے واضح تھا کہ وہ ایک باہمت اور باعزت انسان رہا ہوگا۔
لیکن وقت کی بساط پر جبرن اسے ہار ماننا پڑی ہوگی۔
اور قسمت کے اس غیر معمولی فیصلے پر وہ ٹوٹ کر رہ گیا ہوگا
جو موت کو گلے لگانےکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اسے سجھائی ہی نہیں دیا۔
اور پھر ساتھی عورت کے مردہ وجود کو بالکل سیدھا فرش پر لیٹا کر خود جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
ٹیرس کے داخلی دروازے پر جاکر وہ ایک منٹ کو رکا جیسے اسے
کچھ یاد آیا ہو۔
اور پھر کچھ سوچتے ہوئے آہستہ آہستہ لیکن متوازن قدم اٹھاتا
ساتھی عورت کے مردہ وجود کے پاس آتا گیا۔ جیسے جیسے
اسکا اور ساتھی عورت کے مردہ وجود کا فاصلہ کم ہوتا گیا ویسے
ویسے ہی بلونڈ اسٹریٹ بالوں والے مرد ساتھی کے چہرے کے
تاثرات بالکل سپاٹ ہوتے گئے۔
“لیکن مجھے بھی مرنا ہی ہوگا ورنہ فردین ملک مجھے پھر سے
ہراساں کرنے کی کوشش کریگا۔”
زیرلب روکھے لہجے میں بڑبڑاتا ہوا وہ ساتھی عورت کے مردہ وجود کو پھلانگ کر ٹیرس کے سامنے لگی ریلنگ سے چپک کر کھڑا ہوگیا۔ اپنی آنکھیں نیچے کی جانب مرکوز کیے وہ بس کودنے کے لیے بالکل تیار تھا۔
کبھی اپنی زندگی کا ایک ایک پل جوش و ولولے سے جینے والا وہ آج ہارا ہوا شخص ساتھی عورت کے مردہ وجود کو حسرت سے تکتا ہے۔ غم کی شدت اسکی آنکھوں میں واضح ہوتی ہے۔
اور پھر وہ ہلکا سا مسکراتا ہے۔
جو بھی تھا اسکی موت کا یقین خود اپنی آنکھوں سے وہ کرچکا
تھا۔ سکون کی ایک لہر اسکے وجود میں سرائیت کر جاتی ہے۔
چند پل کی راحت کو مکمل محسوس کرنے کے لیے اپنی ڈبڈبی
آنکھیں وہ فوری بند کرتا ہے۔ اسکا انداز بالکل کسی کامیاب بزنس مین کے جیسا تھا جو اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ایک ایک پل گن گن کر انجوائے کرتا ہے۔
بہت دیکھ بھال کر اور بہت احتیاط سے۔
خود کو بغیرکوئی گزند پہنچائے بس اپنی جیت باور کرانے کے لیے۔
○●□■○●□■
“بزنس مین۔۔” اسکی بھنویں سیکڑیں۔
“ہاں ایک کامیاب اور دل پھینک بزنس مین۔”
معنی خیز مسکان کا سہارا لیتے وہ ٹیبل پر آگے کیطرف جھک
کر زور دے کر کہتا ہے۔
“لیکن یہ اتنا آسان نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔”
اسکے ماتھے پر شکن ابھرے۔
“اچھا تو دیکھ لیتے ہیں یہ کتنا آسان ہے۔”
ازلی ڈیٹ پن سے کہتا وہ مسکرایا۔
“اس میں بہت رسک ہے سوچ لو۔”
اس نے اسے پھر سے ٹوکا۔
“اور رسک لینا میری فطرت میں شامل ہے۔ مسٹر ابراہم۔”
اسی لمحے آفس کا دروازہ کھلا اور وہ ہڑبونگ میں اندر داخل ہوا۔
“لگتا ہے کوئی گڈ نیوز آئی ہے۔”
ازلی ڈیٹ شخص قدرے توقف سے بولا تھا۔
باقی دونوں نے اسے بغور دیکھا۔
ان تینوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے ناواقف بالکل بھی دکھائی نہیں دےرہا تھا۔
بلکہ واقفیت کا یہ تعلق خاصا پرانا لگتا تھا۔
کیونکہ وہ تینوں ایک دوسرے کی آنکھوں کے اشارے بھی باآسانی سمجھ پارہے تھے۔
“مسٹر فردین اور مسزز فردین نے خودکشی کر لی ہے۔”
باہر سے آیا ہوا شخص افسردہ نظر آنے کی بہت اچھی اداکاری کرتے ہوئے بولا۔
وہ اطلاع تھی۔۔۔ بری خبر۔۔۔ یا ایک معمولی واقعہ۔
ان تینوں میں سے کوئی بھی چونکا تک نہیں۔
بدستور وہ تینوں نارمل تھے۔
انہیں پرسکون دیکھ کر چوتھے آدمی کو انتہائی مایوسی ہوئی۔
“اب اگلی خبر کا انتظار ہے۔”
تھوڑے تاسف سے ان میں سے ایک نے برجستہ کہا۔
“ہاں بالکل۔” باقی دو ہم آواز ہوئے۔
باہر سے آنے والا چوتھا شخص وہیں کھڑا انہیں تعجب سے
دیکھ رہا تھا۔
“تم لوگ مجھ سے کیا چھپا رہے ہو؟؟”
انتہائی عجلت میں وہ گویا ہوا۔
جیسے انکے بیچ کا راز جاننا اسکے لیے انتہائی اہم ہو۔
:وہی جو بس ابھی کچھ ہی دیر میں پتا لگنے والا ہے۔”
ازلی ڈیٹ شخص نے کندھے اچکا کر بےنیازی سے کہا۔
باقی دونوں نے چوتھے شخص کو معنی خیز انداز میں گھورا۔
○●□■○●□■
ریلنگ پر کھڑے ہوکر اس نے اپنے دونوں بازو فضا میں پھیلائے اور آنن فانن نیچے چھلانگ لگا دی۔ دو منٹ گزرے اور وہ نیچے چمن زار کے تاریکی میں ڈوبے لان میں دھڑام سے آگرا۔ اسی کے ساتھ اسکی سانس کی جھڑی منقطع ہوئی اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا۔
ٹھیک چودہ تاریخ چاند کی۔ چاند آسمان پر چمکتا اپنی چاندی جیسی چاندنی ہر سو بکھیرتا آج پورا تھا۔
لان کا وہ حصہ تاریکی میں ڈوبا ہونے کے باوجود چاند کی چاندنی سے روشن تھا۔ کوئی شاید بےخیالی میں ادھر آنکلا تھا اور ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ وہ اسی طرف آرہا تھا جہاں اس شخص کی لاش پڑی تھی۔
ساتھ ہی اپنی مدھر سریلی آواز میں وہ مسلسل کچھ گنگنا رہا تھا۔ رات کے اس پہر کا فسوں اس پر مکمل طور پر طاری تھا۔
اور اپنی ہی دھن میں وہ قدم آگے بڑھاتا ہی جارہا تھا کہ دافعتا
وہ چونکا۔
اسکے قدم زنجیر ہوئے۔ سامنے ایک شخص بری طرح زخمی چت
پڑا تھا۔ اسکی آنکھوں میں خوف عود آیا اور کچھ سیکنڈ پہلے کی اسکی متوازن دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگیں۔ پل بھر کے لیے وہ کچھ بھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ آخر یہ کون ہے اور وہ یہ سب کیا دیکھ رہا ہے۔
پھر رات کی خاموشی میں بری طرح سے زخمی شخص کی سانس لینے کی کوشش میں پیدا ہونے والی اس برائے نام آواز نے اسے شاک کی کیفیت سے باہر نکالا۔
“وہ زندہ ہے۔ ابھی وہ زندہ ہے اسفر وقار الملک۔”
سناٹے کو اسکی خوف سے کپکپائی آواز نے چیرا۔
بجلی کی تیزی سے وہ اسکی جانب بھاگا۔
اور اسکے پاس پہنچ کر اسے زور کا دھچکا لگا۔
کوئی اور نہیں وہ اسکے انکل فردین ملک تھے۔ جو اس وقت موت اور زندگی کی کشمکش میں تھے۔
“انکل۔۔ انکل۔۔۔ کیسے ہوا یہ سب؟؟ اپنی آنکھیں کھولیں۔”
حواس باختہ اسفر وقار الملک انہیں اپنے بازوؤں میں اٹھائے پورچ کی جانب دوڑا۔
جب سامنے سے اسے وہاں آمینہ آتی دکھائی دی۔ اسکے ساتھ لائبہ بھی تھی جو صرف دس سال کی تھی اور اپنے پاپا کو اس
حالت میں دیکھ کر بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔
“پاپا۔۔ کیا ہوا میرے پاپا کو؟؟”
اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا اور جسم بالکل برف کے جیسا ٹھنڈا۔
“بہت ڈر گئی ہے یہ۔ اسکی کنڈیشن ٹھیک نہیں۔”
اسفر نے سن کھڑی آمینہ کو لائبہ کیجانب متوجہ کرنا چاہا۔
جو خود بھی اس منظر کے زیر اثر اپنے حواس میں نہیں تھی۔
“کہاں لیجارہے ہو رہے ہو میرے پاپا کو؟؟؟
انھیں کیا ہوا ہے؟؟ کس نے کیا یہ سب؟؟”
ٹرانس کی کیفیت میں آمینہ چلائے گئی۔
“مجھے خود کچھ نہیں پتا بی۔ جب میں یہاں آیا انکل زخمی حالت میں لان کے تاریک حصے میں بیہوش پڑے تھے۔”
جو اسفر کو ٹھیک لگا آمینہ کو مطمئن کرنے کے لیے وہ اس نے کہہ ڈالا۔
“خون۔۔ بی خون۔۔” یکلخت لائبہ چلائی تھی اور اسی کے ساتھ بیہوش ہوکر گر پڑی۔
اسفر نے تیزی سے فردین انکل کو کار کی پچھلی سیٹ پر لیٹایا۔
وہ انہیں ہسپتال لیجانے والا تھا۔
اور اس سب سے آمینہ اور لائبہ کو دور رکھنے کے لیے اس نے
سرعت سے انور کو کال کر دی تھی۔
“کچھ ہی دیر میں انور پہنچ جائیگا آپ پریشان نہ ہوں بی۔ آپ لائبہ اور اندر آنٹی کو سنبھالیں۔ میں انکل کو ایمرجنسی میں لیجاریا۔”
عجلت سے آمینہ کو ہدایت کرتا وہ وہاں سے فوری روانہ ہو گیا۔
