584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 27

Fareb Nazar by Gazal Saima

“کیا ہوا ہے؟؟ یہ کیسی آواز تھی؟؟”

گرینی نے باہر لان میں جھانکا تھا۔ ساتھ ہی نرمین اور نورین بیگم بھی متوجہ ہوئی تھیں۔

“مجھے لگتا ہے کوئی گڑبڑ ہے۔” نورین بیگم نے جھٹ گرینی کی تائید کی۔

“زیوا۔ زیوا۔” گرینی نے نہایت ہی عجلت میں میڈ کو پکارا۔

“جی مادام۔” مؤدب زیوا پھرتی سے وہاں آئی۔

“باہر جاکر پتا کریں کیا مسئلہ ہے؟؟”

آنکھ کے اشارے سے گرینی نے زیوا کو حکم دیا۔

“جی مادام۔” مؤدب زیوا تیزی سے باہر نکل گئی۔

○●□■○●□■

:خبیث انسان ایسا کرنے کی تم نے ہمت بھی کیسے کی؟؟”

اسفر کا زوردار مکا شاہان کا جبڑا ہلا چکا تھا۔

عین وقت پر پہنچ کر اس نے لائبہ کو اس وحشی سے بچایا تھا۔

لائبہ نے کچھ کہا نہیں لیکن اسکی حالت دیکھ کر ہی اسفر سب

سمجھ گیا۔

“کچھ نہیں کیا میں نے۔۔ کچھ بھی نہیں۔

تمہاری بیوی ایک نمبر کی مکار اور ڈرامے باز ہے۔”

سنبھلنے کے ساتھ ہی شاہان نے سارا الزام لائبہ کے سر تھوپنا چاہا۔

لائبہ سے دسترازی کرنے کے پیچھے اسکا اصل مقصد یہی تھا

کہ اسفر کے دل میں اسکے لیے بدگمانی پیدا کر دے اور پھر لائبہ سے جھوٹی ہمدردی جتا کر اسکا فائدہ اٹھا سکے۔

لیکن لائبہ اس سے پہلے ہی اسفر کا دل اپنے لیے صاف کر چکی تھی اور اب بھی اس نے شاہان کو کاٹنے کا قدم اس لیے اٹھایا

تھا تاکہ شاہان کی غلیظ نیت کو اسفر کے سامنے آشکار کردے۔

“تم نے جو کچھ کہا تھا اسے نبھایا نہیں ہے۔”

اسفر نے اسے پیچھے کیطرف دھکا دیا تھا۔

شاہان دور جاگرا تھا۔

لائبہ ششدر بس ان دونوں کو گھور رہی تھی۔

لڑتے ہوئے وہ دونوں اس پرانے اسٹور روم کے بالکل پاس پہنچ چکے تھے۔

“تم انسان کہلانے کے حقدار نہیں ہو۔ ایک طرف نرمین کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھنساتے ہو اور دوسری طرف لائبہ پر بھی بری نظر رکھے ہوئے ہو۔”

اسفر کی خونخوار نگاہوں سے قہر برس رہا تھا۔

“اسفر چلیں یہاں سے۔ چھوڑیں اسے۔”

اچانک ہی لائبہ انکے بیچ آگئی تھی۔

“ہٹ جائیں آپ لائبہ۔ اس شخص کو آج میں سبق چکھا کر ہی رہونگا۔”

اسفر نے وہاں پڑی لوہے کی راڈ اپنے ہاتھ میں پکڑی تھی۔

شاہان اسکا ارادہ بھانپ کر ٹھنڈا پڑ گیا تھا اور اپنے آپکو بچانے کی کوشش کرنے لگا۔

جبکہ لائبہ اسفر کو بازو سے پکڑ کر مسلسل روکنے کی کوشش

کر رہی تھی۔

تھوڑی ہی دیر میں سب خراب ہوگیا تھا۔

طیش میں بھپرا اسفر ضرور اسکی جان لینے والا تھا۔

اسکی جلن۔۔۔ اسکا حسد۔۔۔ آج اسے بےبس کر کے شاہان پر

اپنا سارا غصہ اتار لینے کو اکسا رہا تھا۔

“نہیں۔۔۔ نہیں اسفر۔۔۔” لائبہ اب رونے لگی تھی۔

“پلیز نہیں اسفر۔ آپکو میری قسم۔ اسفر۔”

روتے ہوئے اس نے اسفر کے قدموں میں خود کو گرایا تھا۔

اسفر یکلخت ہوش میں آیا۔ روتی بلکتی لائبہ کی قسم وہ کیسے توڑ سکتا تھا۔ کیسے اسے دکھ دے سکتا تھا۔

اسکے قدم زنجیر ہوئے۔ وہ جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔

شاہان نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور چابکدستی سے وہاں سے بھاگ نکلا۔

نشیلی رات کا سحر ٹوٹ گیا۔

تاریکی میں ڈوبا لان کا وہ حصہ پرانی کہانی دہراتا رک گیا۔

ہر چیز ٹھہر گئی ہو جیسے۔۔۔ سب سماں ٹھہرگیا ہو۔

“آپکی قسم کو میں نے نہیں توڑا لائبہ۔ بالکل نہیں۔”

عجیب بگڑی حالت تھی اسفر کی جب اس نے شانوں سے پکڑ کر لائبہ کو اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔

لیکن وہ مزید کچھ اور سننے سمجھنے سے پہلے ہی بیہوش ہوگئی تھی۔

“لائبہ۔۔۔ لائبہ۔۔۔۔ آنکھیں کھولیں۔ میری طرف دیکھیں۔”

دیوانہ وار اسفر نے اپنے بازوں میں جھولتی لائبہ کو جھنجھوڑا تھا۔ لیکن اس میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔

“آپکو یہ سب نہیں بھولنا ہوگا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ اس دھوکہ باز

انسان کا یہ روپ آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔”

عالم بےنیازی میں اسے جھنجھوڑتا اسفر کہتا ہی گیا تھا۔

○●□■○●□■

“آخر وہاں کیا ہو رہا ہے۔ آپ ہم سے کیا چھپا رہیں زیوا؟؟”

گرجدار آواز میں گرینی زیوا پر گرج رہی تھیں۔

جو چپ سادھے بالکل بت بنی کھڑی تھی۔

لان کے اس اندھیرے حصے کا حال اس نے بیان نہیں کیا تھا۔

اسکی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی۔

“لگتا ہے ہمیں خود ہی جاکر دیکھنا پڑے گا۔”

گرینی نے اپنی شال اٹھا کر اپنے گرد غصے سے لپیٹی تھی۔

نورین بیگم نے تیزی سے انہیں وہاں جانے سے روکا تھا۔

“نہیں اماں جان آپکو وہاں نہیں جانا چاہیے۔ بچوں کے آپس کا جھگڑا ہے وہ خود ہی نپٹ لیں گے۔”

سرعت سے نورین بیگم نے کہا۔

“ہمیں کیا کرنا ہے، کیا نہیں یہ ہم آپ سے بہتر جانتے ہیں نورین بیگم۔”

“ہمارے ساتھ آئیں زیوا۔”

زیوا کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے گرینی لان کی سمت بڑھ گئی۔ نورین بیگم پیچ و تاب سہہ کر وہیں کھڑی رہ گئیں۔

نرمین کی تو سمجھ ہی کچھ نہیں آیا تھا۔ حیرت سے وہ بس

تکتی ہی رہی۔

“او میرا خدا۔ یہ کیا ہوا آپکو شاہان۔ کہاں سے آرہے ہیں آپ۔

کس نے کیا آپکا یہ حال؟؟”

شاہان سامنے سے آتے ہوئے گرینی سے خود کو چھپا نہیں پایا۔

“جلدی سے ڈاکٹر کو کال کرو زیوا۔ ہری اپ۔”

اسکے پیچھے آندھی طوفان کی رفتار سے اسفر اپنے بازوں میں

لائبہ کو اٹھا کر لاتا پوری طاقت سے چلایا تھا۔

“کیا ہوا انہیں اسفر؟؟ لائبہ چندا کیا ہوا آپکو؟؟”

یک دیگرے انہیں آتا دیکھ کر گرینی سٹپٹا کر رہ گئیں۔

“آپ فکر نہیں کریں۔ بیہوش ہوگئی ہیں لائبہ۔ ابھی ہوش آجائیگا۔”

اسفر نے گرینی کو تسلی دی اور لائبہ کو اندر لے گیا۔ اسکے ساتھ ہی شاہان اور گرینی بھی اندر کیطرف لپکے۔

کال کی تم نے۔ زیوا کو دیکھتے ہوئے اسفر نے عجلت سے پوچھا۔

“یس سر۔ ڈاکٹر آرہے ہیں۔”

مؤدب زیوا نے سرعت سے ڈاکٹر کو کال کر دی تھی اور اب کچھ ہی دیر میں وہ آنے والا تھا۔

“آنکھیں کھولیں لائبہ۔”

اسفر ایک بار پھر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔

“کیا ہوا ہے تمہیں شاہان۔ کس نے کیا ہے تمہارا یہ حال؟؟”

متنفر انداز میں نرمین نے شاہان کے منہ سے خون نکلتے ہوئے

دیکھ کر پوچھا تھا۔

“باہر کچھ مشکوک لڑکے گھوم رہے تھے ان سے جھگڑا ہوگیا۔”

شاہان کے بجائے اسفر سرعت سے بولا۔

شاہان نے گھور کر اسے دیکھا۔

“ہناں شاہان۔ ویسے تم فکر مت کرو۔ اب کبھی ایسی غلطی دوبارہ نہیں کرینگے۔”

آنکھوں ہی آنکھوں میں شاہان کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسفر نے کہا۔

“جی بالکل۔”

شاہان کے پاس اسکی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ فوری اس نے اسفر کی تائید میں اثبات میں سر ہلایا۔

“چلو تم اپنی شرٹ بدل لو۔”

نرمین نے شاہان کو فکرمندی سے دیکھا۔ اوکے۔ شاہان جلدی سے کہتا اسکے ساتھ چل دیا۔

مزید وہاں رہ کر وہ اسفر کی موجودگی میں اپنی ذلت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

لیکن اسفر کے دل میں تو لڈو پھوٹ رہے تھے کیونکہ آج اسکا یہ

حال خود لائبہ نے کیا تھا۔

پیار بھری نظر اس نے اپنے پاس صوفے کم بیڈ پر فرصت سے لیٹی لائبہ پر ڈالی۔

اسکی وہی شوخ لٹ ابھی بھی اسکے چہرہ پر جھول رہی تھی۔

وہ مسکرا دیا۔ لائبہ کی شرماہٹ بھری مسکان اسکی آنکھوں میں تازہ ہوئی تھی۔

بلیک کلر کا وہ سوٹ اس پر ویسا ہی جچ رہا تھا لیکن اب اسکا

دامن مٹی مٹی ہو رہا تھا۔ کیونکہ وہ اسکے قدموں میں گرتے

وقت مٹی میں بےفکری سے بیٹھی تھی۔

اسفر نے تصور میں اسے اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھا۔

ایک آنسو اسکی آنکھ سے بہتا رخسار تک آیا۔

اسکا مضطرب دل بےاختیار لائبہ کی پیشانی چھومنے کو کیا۔

لیکن گرینی کی وہاں موجودگی کی وجہ سے اس نے خود کو بڑی مشکل سے روکا۔

البتہ لائبہ کے فلور پرفیوم کی دلفریب مہک اسکے پورے وجود میں پھیلے ہوئے اسے مکمل کرنے لگی۔

اس نے ایک سیکنڈ کو بھی اپنی نگاہیں اس پر سے ہٹائی نہیں تھیں۔

“اسفر وقار الملک میں آپکے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہوں۔

آپ بہت بڑے رئیس ہونگے ہر چیز کو اپنے ایک اشارے سے خرید

سکتے ہونگے لیکن میں کوئی چیز نہیں،،، ایک جیتی جاگتی لڑکی ہوں،،، میرے کچھ خواب ہیں،،،،کچھ پلان ہیں اور میں

آپکو اسکی اجازت ہرگز نہیں دونگی کہ آپ اس طرح اچانک سے

میری زندگی میں آئیں اور سب کچھ برباد کر کے رکھ دیں۔”

گزرا ہوا وہ منظر اچانک ہی اسفر کی یادداشت میں تازہ ہوا۔

وہ پھر سے مسکرا پڑا۔ ایک طرف وہ اسکے لیے رنجیدہ تھا تو دوسری طرف اسکا اپنے لیے اظہار محبت سنکر خوشی سے نہال۔

وہ واپس حال میں لوٹ آیا جہاں سامنے اسکی محبوبہ موجود تھی۔

“ڈاکٹر آگئے۔” زیوا تیزی سے باہر گئی تھی تاکہ ڈاکٹر کو اپنے

ساتھ اندر لے آئے۔

“شکر خدا کا۔” گرینی نے سکون کا سانس لیا۔

انکی توجہ باہر کی جانب تھی جب اسفر نے موقع غنیمت جان

کر لائبہ کے دہکتی پیشانی کو بےصبری سے چوما تھا۔

“اف انہیں تو بہت تیز بخار ہو رہا ہے۔”

عجلت سے وہ گویا ہوا تھا۔ گرینی نے اسے تعجب سے گھورا تھا۔

○●□■○●□■

“میری خواہش تھی کہ تم میرے آرٹ اسٹوڈیو کی تاریک دنیا سے نکل کر میرے گھر کی روشن اور جیتی جاگتی دنیا میں ایک دن اپنے قدم ضرور رکھو۔ جتنا خوبصورت میں تمہیں تصور کرتا ہوں اتنا خوبصورت تم میرے لیے میری اس دنیا میں بھی نظر آو۔

تم صرف میرا تصور نہیں میری حقیقت بھی ہو۔”

اس پینٹنگ کو کئی سال بعد وہ آج دوبارہ بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا۔

“لائبہ فردین تم پر جس دن میری پہلی نظر پڑی تھی اسی دن میں نے تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی تھی۔”

“تمہیں اپنے دل میں اتنے سال بسائے رکھنےکا اہتمام میں نے کیے رکھا تو بدلے میں تمہیں بھی اب میرے گھر کی دنیا کو اپنے آپ سے بسائے رکھنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔”

“ورنہ میرے اس چھوڑے ہوئے شوق کی طرح تم بھی میری ایک

یاد بن کر میرے عالیشان محل نما گھر کے کسی کونے میں پڑی ہوئی ملو گی۔”

ہڑبڑا کر وہ اٹھ بیٹھا۔ اسکا پورا بدن پسینے سے شرابور تھا۔

“یہ کوئی خواب تھا یا ماضی کی ایک بھٹکتی پرچھائی۔”

سائیں سائیں کرتے دماغ پر اس نے زور دیا۔

“کوئی ڈراونا خواب نہیں وہ میرے بیتے ماضی کی پرچھائی ہے

جسے لائبہ کے وجود نے پھر سے زندہ کردیا ہے۔”

زیرلب بڑبڑاتا وہ گہری گہری سانس لے رہا تھا۔