584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 34

Fareb Nazar by Gazal Saima

“لیکن تم نے مجھے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا۔”

پچھلے ایک گھنٹے سے اسفر کے ساتھ آرٹ اسٹوڈیو میں موجود لائبہ ابھی تک شش و پنج میں مبتلا تھی۔ اسکے دماغ میں کچھ ایسا چل رہا تھا جو اسفر کا یقین کرنے سے اسے روک رہا ہو۔ تبھی جب اسے کچھ سمجھ نہیں آتا تو گوما پھرا کر اسفر پر

ہی شک کرنے لگ پڑتی۔

“پہلے جب کبھی میں نے تم کچھ بتانا چاہا آمینہ بی بیچ میں آجاتیں۔ شاید انہیں ہمیشہ کسی کا خوف رہا ہے جو وہ تمہیں اس سب سے دور رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتی رہی ہیں۔”

اسفر نے برجستگی سے کہا بغیر یہ سوچے کہ آخر

اسکے دماغ میں چل کیا رہا ہے۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی قربت میں اجنبیت کی دیوار گرا کر اپنائیت کے رنگ میں رنگ چکے تھے۔ لائبہ نے اسے “تم” کہہ کر مخاطب کیا تو جوابا” وہ بھی لائبہ کو” تم” سے مخاطب کرنے لگا۔

“اور ویسے بھی مائی ڈیرئی وائف۔ ضروری نہیں سب ویسا ہی ہو جیسا ہم سوچ رہے ہیں۔”

آبرو اچکا کر گویا لائبہ کو پرسکون کرنے کے لیے

جان بوجھ کر وہ اچانک کہہ گیا تھا لائبہ نے چونک

کر اسکی طرف دیکھا تھا۔ جتنا باہر سے وہ روڈ

اور ضدی دکھائی دیتا تھا اس سے کہیں زیادہ اندر سے عقلمند اور پرسکون انسان تھا۔

آہستہ آہستہ وہ اسکی ذہانت اور تحمل مزاجی کی قائل ہونے لگی تھی۔

“اچھا ذرا اب اس شاہکار کو دیکھو۔ ہو سکتا ہے تم بھی اس آرٹسٹ کی فین ہو جاؤ۔”

باتوں ہی باتوں میں وہ ایک بڑی سی پیٹنگ کور سے آزاد کر کے اسکے سامنے پیش کرنے والا تھا۔

لائبہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بےچینی سے اس پیٹنگ کو دیکھنے کیلئے اپنی شہد رنگ آنکھوں کو بڑی ہی ادا سے یہاں وہاں گول گمایا تھا۔ اسفر

نے اسکو ایسا کرتے صاف نوٹس کیا تھا۔ اسکی گھنی پلکوں کے سائے میں اسکی چمکتی آنکھیں

اس پر بجلیاں گرا رہی تھیں۔ اپنے مضطرب دل کو سنبھال کر بڑی ہی ہمت کر کے اس نے اپنی نظر

لائبہ کی آنکھوں سے ہٹانے کی جسارت کی تھی۔

ورنہ دل تو اسکا یہ کر رہا تھا کہ سب کچھ ایسے ہی اپنی اپنی جگہ ٹھہر جائے اور وہ فرصت سے بیٹھا یونہی گھنٹوں وارفتگی سے اسکی حسین آنکھوں کا دیدار کرتا رہے۔

“اب دکھا بھی دو اور میرے صبر کا کتنا امتحان لینا ہے۔”

یکدم لائبہ کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تو

وہ چونک ہی پڑا۔ یہ وقت ہی اتنا جادوئی تھا یا پھر

واقعی اس پر لائبہ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

وہ فیصلہ نہیں کرپایا اور اسکے توجہ دلانے پر کھلتی مسکان کے ساتھ کافی دیر سے اپنے بازوں میں تھامی اس پینٹنگ کا رخ لائبہ کے سامنے کر دیا۔

ایک ہی نظر میں لائبہ اس صورت کو پہچان گئی

وہ وہی تھی۔۔۔ لائبہ اسفر۔۔۔ پیٹنگ کے ایک کونے

پر خط کشیدہ الفاظ اسکی آنکھوں میں شرماہٹ کے ہزاروں دیپ جلا گئے۔ نظر جھکائے چپ چاپ کئی منٹ تک وہ بس یونہی گم سم پیٹنگ کو تکتی

رہی۔

“پری چہرہ” یکدم ہی اسفر نے اسکی شہادت کی

انگلی کو خود پکڑ کر پیٹنگ کے عین وسط میں رکھا

تھا۔ اسکا دل سینے میں اچھل ہی پڑا تھا اسفر کی

نزدیکی پر وہ سٹپٹا ہی گئی۔

“تب میں نے آپکو پہلی بار دیکھا تھا اور تب ہی آپکا اسیر ہوگیا تھا اور پھر قدرت نے بھی ایک دن میرے دل کی سن لی اور فردین انکل نے خود ہی آپکے لیے گرینی سے میرا رشتہ مانگ لیا۔”

لائبہ کے کان کی لہویں سرخ پڑی تھیں۔ اسفر

اسکے بالکل نزدیک ہی تھا۔ اسکی سانسوں کی

گرمی لائبہ کو اپنی گردن میں جذب ہوتی محسوس ہورہی تھی۔ اسکی دھڑکنوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔ گلاب کی پنکھڑی جیسے اپنے ہونٹوں کے بیچ اپنا سرخی مائل دوپٹہ کا کنارہ دبائے گہری گہری سانس لینے لگی تھی۔ اسکی بےکلی اسفر کو بہت

محظوظ کررہی تھی۔ ان کے بیچ کا فاصلہ اور بھی

سمٹا تھا۔ لائبہ اب اسفر کی بانہوں میں سمٹی ہوئی تھی۔

“اسفر مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔”

دافعتا” لائبہ کی خمار آلود سرگوشی نے ماحول میں پھیلی رومانیت کو اور بھی بڑھایا تھا۔

ہاں جی بولیں۔

اتنے ہی خماری سے اسفر نے اسے اجازت دی تھی۔ لائبہ کسمسائی اور پھر ہمت جتا کر اپنی شیریں آواز میں اسفر کی سماعتوں میں رس

گھولنے لگی۔

♡♡”زندگی بڑے عام سے انداز سے گزر رہی تھی۔۔۔

زندگی مجھے بسر کر رہی تھی۔۔۔

یا کہ۔۔۔

میں زندگی کو!!

اس تفریق سے مجھے آگاہی اس وقت ملی

جب ادراک کے کسی چاند لمحے نے۔۔۔

چپکے سے اتر کر۔۔۔

تجھے میری آنکھوں میں جگمگا دیا!!

اور پھر میں زندگی کو بسر کرنے لگی

کچھ اسطرح سے کہ۔۔۔

مجھ سے میری ہی ذات کی نفی ہونے لگی!!

اور پھر۔۔۔ اب۔۔۔تو۔۔۔

مجھے میری ذات کا ادراک دینے کی!!

تمہاری اس عنایت پر

مدتیں گزریں—

اب تو ایک ہی خواہش ہے

اے میرے ہم نفس!!

کہ۔۔۔آکر۔۔۔ہر پل

عنایت کر۔۔۔

ادراک کا وہی چاند لمحہ

کہ میں اپنے وجود سے کٹی

اپنی ہی ذات سے۔۔۔

ہر بار پھر ملاقات کر سکوں۔”♡♡

اسفر ان انمول لمحوں کی گرفت میں پور پور بھیگنے لگا۔ سرشاری کا بےپناہ احساس اسکے وجود میں

سمانے لگا۔

○●□■○●□

رات کافی دیر میں آرٹ اسٹوڈیو سے اسفر اور لائبہ واپس لوٹے تھے۔ انکے جانے اور واپس آنے سے

مینشن کا ہر فرد بےخبر ہی تھا۔ زیوا سے کہلائے گئےکہ مطابق وہ دونوں باہر گھومنے کی غرض سے

گئے تھے اور رات دیر سے لوٹنے والے تھے۔

لائبہ رات اتنی تھک گئی تھی کہ اپنے روم میں آنے کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹتے ہی گہری نیند میں اتر گئی جبکہ اسفر کافی دیر تک تذبذب میں جاگتے رہنے کے بعد صبح سویرے اجالا پھیلنے پر سویا تھا۔

صبح لائبہ جاگی تو کافی فریش تھی جلد ہی اسکی

آنکھ کھل گئی تھی۔ واش روم جاکر وہ جلدی سے

فریش اپ ہوئی، اپنا گزشتہ روز کا پہنا ڈریس جس میں رات وہ بیخبری سے سوتی رہی تھی تبدیل کیا اور اپنے لمبے سلکی بالوں کی اوپر کر کے ٹائٹ سی پونی بنائی اور خود پر ایک ستائشی نظر ڈالتے

ہوئے روم سے باہر نکل آئی۔ دبے قدموں چلتے ہوئے

اسکا رخ اسفر کے روم کیجانب تھا۔

“اللہ میاں بس وہ جاگے نہیں۔”

منہ ہی منہ میں اسکے نہ جاگنے کا ورد کرتی وہ

آہستگی سے اسکے روم کا ڈور کھول کر اندر داخل

ہوئی تھی۔ پورا روم کلون کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ ونڈوز پر کرٹن گرے ہونے کیوجہ سے اجالا ہونے کے باوجود روم آدھی رات کا منظر پیش کر رہا تھا۔

لائبہ نے اپنی شہد رنگ آنکھوں کو یہاں وہاں گھماتے چند سیکنڈ میں ہی اسکے پورے روم کا جائزہ لے لیا تھا۔ جسکی تلاش میں وہ وہاں آئی تھی وہ چیز اسے اتنی آسانی سے ملنے والی نہیں وہ خوب سمجھ چکی تھی۔

سامنے بیڈ پر اسفر الٹی کروٹ سویا ہوا تھا۔ کمفرٹر کا آدھا حصہ اسکی پشت پر جبکہ باقی کا

آدھا بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا۔ یکلخت لائبہ کی نظر اسکا جائزہ لیتے ہوئے اس پر ٹک کر ہی رہ گئی

تھی۔

“کیا کر رہی ہو یہ تم پاگل لڑکی۔”

اس نے خود کو زور کا ڈانٹا تھا اگر وہ جاگ گیا تو

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی۔

“جلدی کرو اپنی مطلوبہ چیز چراو اور یہاں سے رفوچکر ہوجاو۔”

سرعت سے بڑبڑاتے ہوئے وہ اسفر پر سے اپنا دھیان ہٹاکر روم کے دوسرے سامان پر اس چیز کو تلاش کرنے لگی۔ روشنی نہ ہونے کیوجہ سے اسے اپنے

سرچ آپریشن میں کافی دقت کا سامنا تھا لیکن وہ

اتنی آسانی سے ہار مانے والی نہیں تھی۔

“کچھ بھی ہوجائے ڈھونڈے بغیر یہاں سے جانے والی تو میں بھی نہیں۔”

مصصم ارادہ کرتے ہوئے اسکی سرگوشی نے روم

میں پھیلا سکوت توڑا تھا۔ اسکا ہاتھ سائیڈ ٹیبل

کی تلاشی لینے کے دوران اسکی مطلوبہ چیز جیسی کسی چیز سے ٹکرایا تھا۔

“اوہ مل گئی۔” خوشی کے مارے وہ کچھ زیادہ ہی اونچا بول گئی تھی۔ اسفر نے کروٹ لیتے ہوئے اسی کیطرف رخ بدلا تھا۔ اسکے سوئے ہونے کے باوجود وہیں بالکل سامنے کھڑی لائبہ سٹپٹائی تھی۔

“کہیں اس نے مجھے دیکھ تو نہیں لیا۔”

زیرلب بڑبڑا کر وہ جلدی سے نیچے جھکی تھی تاکہ اسکی نظروں سے خود کو بچا پائے۔

نیچے بیٹھ کر اس نے بڑی احتیاط سے اپنی مطلوبہ چیز کو چرانے کیلئے اپنا ہاتھ واپس سائیڈ ٹیبل میں ڈالا اور اسے اپنی مٹھی میں قید کر لیا۔

اب وہ روم سے باہر جانے کیلئے پاؤں پاؤں چلتی ڈور

کیجانب بڑھنے لگی۔ مگر ترچھی نظر سے وہ اسفر

کو بھی چیک کرتی رہی تھی کہ کہیں وہ جاگ نہ جائے۔

“اوہ شکر اللہ میاں۔ وہ جاگا نہیں۔”

روم سے باہر نکلتے ہی وہ بڑی معصومیت سے چلائی تھی لیکن اسکا چلانا سننے کے لیے وہاں فلحال کوئی نہیں تھا۔ اب اسکا رخ تیزی سے ایک

بار پھر آرٹ اسٹوڈیو کی طرف تھا۔

صبح سویرے وہ اسفر کے بغیر ہی وہاں جانا چاہتی تھی اگر وہ جاگ جاتا تو اسکا سارا پلان خراب ہو جاتا سو وہ بالکل خاموشی سے اسطرف آنکلی تھی۔

“اب دیکھتی ہوں کہاں چھپا رکھی ہیں اس نے میرے پاپا کی پینٹنگز۔”

دل میں سوچتے ہوئے اس نے آرٹ اسٹوڈیو کو کنگالنا

شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد کافی محنت سے وہ اس کبھاڑ سے کچھ پینٹگز ڈھونڈنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔

اپنی کامیابی پر خود ہی اپنے شانے تھپتھپاتے وہ زور زور سے شاباش شاباش پکاری تھی۔ اسکی آواز ہی اسکی وہاں موجودگی سے اسفر کو باخبر کرنے کیلئے بہت تھی۔ ایک منٹ ضائع کیے بغیر وہ اسٹوڈیو میں داخل ہوا تھا۔

اسکے اچانک وہاں پہنچنے پر لائبہ گھبرا گئی اور خود کو کبھاڑ کے پیچھے چھپا لیا۔

“اچھا تو مجھ سے چھپ کر یہاں آنے کی ضرورت

پیش آگئی آپکو۔”

اسے وہ دیکھ نہیں پایا تھا لیکن پھر بھی اسے سنانے کو بولا ضرور تھا۔

“اب جلدی سے میرے سامنے آجائیں کیونکہ میں

آپکی آواز پہلے ہی سن چکا ہوں۔”

لائبہ کے خاموش رہنے پر وہ جنجھلا کر بولا۔

“نہیں میں تو دراصل بس پاپا کی پینٹنگز دیکھنے آئی تھی۔”

اسے پتا تھا اگر وہ سامنے نہیں آئی تو اسفر خود

وہاں پہنچ جائیگا۔ جیسے پیچھے پیچھے آنن فانن آرٹ اسٹوڈیو پہنچ گیا جبکہ اس سے پہلے تک تو وہ بالکل بیخبر سو رہا تھا۔

“مجھ سے چھپ کر ؟؟” لائبہ کے سامنے آتے ہی

اسفر نے شانے اچکا کر تعجب سے دریافت کیا تھا۔

“نہیں۔ چھپ کر نہیں۔ بس میں تمہاری نیند نہیں خراب کرنا چاہتی تھی۔”

لائبہ قدرے جھنجھلاہٹ سے بول پائی۔

“اوہ رئیلی۔ یعنی میری خوبصورت وائفی کو میرا اتنا خیال تو ہے۔”

شرارت سے کہتا وہ اسکے قریب ہوا تھا۔

اسکا ارادہ جان کر لائبہ تھوڑا پیچھے کسکی تھی۔

بیتی رات کی ایک حسین جھلک اسکی آنکھوں میں

تازہ ہوئی تھی۔

“کیا تم مجھے بھی اپنے پلان کا حصہ بنا سکتے ہو؟؟”

اسفر کا دھیان بٹانے کو اس نے یکدم پوچھا تھا۔

اسکے اچانک ہی پوچھے گئے سوال پر اسفر چونکا۔

“کیسا پلان؟؟؟” ششدر اسفر نے تھوک نگلتے سرعت سے استفسار کیا۔

“اب تم پاپا کے دشمنوں سے بدلا تو لینے والے ہو ناں۔یا پھر انہیں انکے سنگین جرم کی سزا مجھے اکیلے ہی دینی ہوگی۔”

قطعیت سے کہتے لائبہ نے یوں شاکی نگاہوں سے

اسفر کو گھورا کہ چند سیکنڈ کے لیے وہ بولنا ہی

بول گیا۔

“تم کیسے بدلہ لوگی دشمنوں سے؟؟”

قدرے توقف سے وہ الجھ کر بولا تھا۔

لائبہ کے ارادے اسے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔

یقینا” اپنے پاپا کا بدلہ لیے بنا وہ سکون سے رہنے والی نہیں تھی۔

“سیدھی سی بات ہے تمہارا ساتھ مل کر۔”

معصومیت سے کہتے لائبہ کی شہد رنگ آنکھیں سکڑیں۔

“اف یہ لڑکی کتنی بھولی بنتی ہے اور اندر سے پوری چالاک لومڑی ہے۔”

اسفر زیرلب بڑبڑایا تھا۔

لائبہ نے اسے سر سے پاؤں تک گھورا تھا۔ اس نے جو کہا وہ سن چکی تھی۔

“لیکن یہاں سے انکی جاری لو اسٹوری اپنا سب سے دلکش موڑ مڑنے والی ہے۔”

وہ دل ہی دل میں سوچ کر دھیرے سے مسکرائی تھی۔

“میں پاپا کے دشمنوں کو بےنقاب کیے بنا چین سے

نہیں بیٹھوں گی۔”

لائبہ نے سر جھٹک کر بےدریغی سے کہا تو اسفر کو

اسکے مصمم ارادے کا یقین ہوگیا۔

“مجھے تو پہلے ہی شک ہوگیا تھا۔

اب اسے روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”

اسکا جوش دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا۔ البتہ لائبہ ابھی

بھی اسے مسکرا کر تک رہی تھی۔

○●□■○●□■

“نہیں۔ نہیں۔ ہرگز نہیں۔ مجھ سے بارگینگ کرنے

کا سوچنا بھی مت۔ اسی لاکھ سے ایک روپیہ بھی

شاہ کم نہیں لینے والا۔”

رعب سے کہتا ہاتھ جھاڑ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

مزید وقت ضائع کرنے کا اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

“ٹھیک ہے۔ مجھے منظور ہے۔”

اسے ڈیٹائی کے ساتھ وہاں سے جاتا دیکھ کر دوسرا شخص سرعت سے پکارا تھا۔

“لگتا ہے اب جاکر تمہاری موٹی عقل ٹھکانے آئی ہے۔”

طنزیہ لہجہ اختیار کرتا وہ واپس اسکی جانب پلٹا تھا۔

“اگر میرے لیے یہ ویڈیو اتنی ضروری نہیں ہوتی

تو بن حارث کبھی تم جیسے بلیک میلر کے سامنے

ہار نہیں مانتا۔”

اس نے نہایت بےبسی سے کہا تھا۔ جسے اسکے مدمقابل نے اپنا ایک اور احسان اس پر کرتے ہوئے بہت ہی لاپرواہی سے سنا تھا۔

“وقت وقت کی بات ہے بن حارث۔ ایک وقت تھا جب تم ملک ملک گھومتے پھر رہے تھے اور میں تمہارے اس راز کو اپنے ساتھ لیے تمہیں تلاش کرتا رہتا۔ اور اب یہ وقت ہے تم پر جب میرے پیچھے کئی دن سے تم خوار ہو رہے ہو۔”

اسکے آبرو اوپر اٹھے ہوئے تھے اور وہ روکھے پن سے کافی تیز رفتاری سے اپنی بات مکمل کرچکا تھا۔

اس سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی تھی وہ پورا کا پورا بلیک میلر تھا۔

ویسے بھی اسکا خود غرضیانہ انداز بن حارث کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا مگر وہ اسے برداشت کرنے پر مجبور تھا۔

“پیسوں کا بندوبست ہوتے ہی میں تمہیں جگہ اور وقت میسج کردونگا۔”

بن حارث نے تاسف سے کہا۔

“اوہ کیا واقعی؟؟ مجھے تمہاری بتائی جگہ پر آنا ہوگا۔”

جیسے اسے بن حارث کی تجویز بالکل پسند نہ آئی ہو۔ ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے خاصی بیزاری سے اس نے کہا تھا۔

“تو،؟؟” بن حارث کی برداشت اب ختم ہورہی تھی۔ ایک کامیاب بزنس مین ہوتے ہوئے اسے اس بلیک میلر کے سامنے پل پل اپنی بےعزتی برداشت کرنی پڑ رہی تھی۔

“ایک بار وہ ویڈیو میرے ہاتھ آجائے پھر دیکھنا اپنے

ہاتھ سے تجھے گولی مارونگا۔”

ایک پل کو بن حارث نے بلیک میلر کے خلاف سوچا تھا۔

“ایسا خیال دوبارہ کبھی اپنے دل میں نہ لانا بن حارث ورنہ تمہارا یورپ والا بزنس ایک شعلے کی طرح ہوا میں گل ہو جائیگا۔”

نجانے کیسے بلیک میکر اسکا ارادہ بھانپ گیا تھا۔

بن حارث کے چہرے کا رنگ یکدم سفید پڑا تھا۔

“وہ اسکی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔”

اسکے لاشعور سے آواز آئی تھی۔