584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 26

Fareb Nazar by Gazal Saima

“میں آپ سے اپنے دل کا حال کبھی نہیں کہتی اسفر۔”

وہ دھک سے دل پکڑ کر رہ گیا۔ اقرار کے بعد یہ حجت کیسی۔ اسفر کا دل پتھر کا تو نہیں اور لائبہ کے لیے تو اسکا دل بہت زیادہ حساس تھا۔

“اگر میرے وجود نے اس پل، اس لمحے، آپکو اپنا ہمدرد نہیں پایا ہوتا جب شاہان فاروق کے چہرے سے نقاب کھینچ کر آپ نے مجھے اسکا اصل روپ دکھایا۔”

اسکی آواز کپکپائی تھی، اور آنکھیں بھی ضرور بھیگی تھیں۔

اسفر نے تصور میں اس چاند چہرے کو ماند پڑتے دیکھا۔

سچی محبت کی ایک اور نشانی اسفر کے دل پر گڑ گئی۔

وہ لائبہ کا اور احسان مند ہوا۔ چاہے وہ اپنے منہ سے سب نہیں کہتا تھا۔ لیکن اسکے رعب اور دبدبے کے پیچھے ایک بہت ہی معصوم، الہڑ اور ٹوٹ بٹوٹ اسفر وقار الملک چھپا تھا جسے آج

تک کوئی دریافت ہی نہیں کر پایا تھا۔

“مجھے یقین ہے لائبہ آپ نے جو کچھ بھی کہا پوری سچائی اور

پوری دیانت سے کہا ہے۔”

پہلی بار اس نے لبوں کو جنبش دی۔

پہلی بار لائبہ کے دل میں شدید تر خواہش جاگی۔

کہ وہ بولتا رہے۔۔۔ اور وہ سنتی رہے۔

وہ سب جو ان دس سالوں میں اپنے اور اسکے رشتے کو لیکر وہ

سوچتا رہا۔

سب آج صاف صاف وہ لائبہ کے گوش گزار کر دے۔

لیکن اسفر بس اتنا ہی کہہ کر چپ کرگیا تھا۔

شاید اتنے سالوں میں وہ اپنے لاشعور میں ہی اسے بسا کر حال دل سنانے کا عادی ہوچکا تھا۔

تب ہی اپنی زبان تک اسکی موجودگی میں بس وہی لاتا جسکی ضرورت ہوتی۔ جو موقع کی مناسبت سے درست ہوتا۔

جسے سنکر لائبہ کو تشفی اور خود اسکی حسرت پوری ہوجاتی۔

“آپکو جاننا چاہتی ہوں میں اسفر۔ آپکا بچپن۔ آپکی جوانی۔

آپکی پسند۔ آپکی ناپسند۔ آپکے بارے میں سب کچھ۔”

جانے کیوں اسفر کو لگا لائبہ اسکی قربت کے دعوے کو اتنے سارے خانوں میں بانٹ کر اسکا مذاق اڑا رہی ہو۔

بہت محبت تھی اسے لائبہ سے ناں۔ دس سالوں میں ایک بار بھی

وہ دونوں نہیں ملے تھے لیکن وہ اس سے اپنی محبت کو ایسے

جتاتا جیسے کبھی وہ اس سے دور ہی نہ ہوئی ہو۔

“اتنے فاصلے پر کھڑے ہوکر آپ مجھے صرف اتنا ہی جان پائیں گی لائبہ جتنا آپکو دکھائی دے گا۔”

جوابا” اسفر نے تاسف سے کہنا شروع کیا۔

کان لگا کر لائبہ اس چٹان سے گونجنے والی خودکلامی کو

انہماک سے سننے لگی۔

“اور دکھائی دینے میں۔ میں آپکو ہمیشہ ویسا ہی نظر آونگا جیسا میرے بارے میں مشہور ہے۔ یعنی ضدی۔ڈیٹ اور اناپرست۔ اگر آپ یہی سب جاننے کی متلاشی ہیں تو میں بالکل ایسا ہی ہوں۔ آپکو مزید زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔”

تکان سے کہتے ہوئے وہ لمبا سانس لینے کو رکا تھا۔

دوسری طرف مکمل خاموشی چھائی تھی۔

لائبہ اسکی آواز کے سحر میں گرفتار گویا قوت گویائی گنوا بیٹھی ہو۔

“آپ سن رہی ہیں لائبہ؟”

جان بوجھ کر اس نے پوچھا تھا۔

تاکہ اسکی آواز کے سائے میں لائبہ کی آواز کی پرچھائی گھل مل جائے اور اسکا خالی پن مکمل کر دے۔

“نہیں۔” بڑا ہی برجستہ جواب تھا لائبہ کا۔

جیسے دس سال وہ اسکی جدائی میں بنتا بگھڑتا رہا تھا اور وہ

سب سے بےخبر رہی تھی۔

بالکل ویسا ہی احساس اسفر کو پل بھر میں ہوا تھا۔

“میں اسے سن رہی ہو جو میری دھڑکنوں میں بج رہا ہے۔

جسکے سروں پر لائبہ کی شہد آنکھیں چمکنے لگیں ہیں۔

جو جدائی کے کسی عتاب کو سہنے کا بالکل روادار نہیں۔

جسکا حرف حرف بہتے پانی کی شفاف ہے۔”

اگر وہ باتوں کا سحر تھا تو وہ بھی باتوں کی سحرہ تھی۔

لیکن بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے وہ دونوں ایک دوسرے

ہی کو اپنے اپنے سحر سے جکڑ لینا چاہتے تھے۔

“میری جستجو کا ایک ہی مقصد ہے۔ اور وہ ہے اس فریب نظر کا پتا لگانا جسے دنیا محبت کہتی ہے۔”

ٹھنڈی پوار کا سرگم ختم ہوا۔

آس امید کی ڈور پلک جھپکنے میں کاٹ دی گئی۔

سرور کی راہ پر گامزن دلوں میں اندیشوں کا جنم ہوا۔

دھک سے اسفر کا دل دھڑکا۔

مزید کسی اور حسرت کو پنپنے کا موقع دیے بنا ہی وہ سنبھل گیا۔ بےتاثر لہجے میں سب کہہ کر وہ کب کی لائن ڈسکنٹ کر چکی تھی۔

وہ لائن جسے اس نے اسفر سے اقرار محبت کرنے کے لیے خود ہی ملایا تھا تاکہ شاہان کے وہاں آنے سے پہلے پہلے وہ اسکے دل کی ہر بدگمانی ختم کر دے۔

♡♡بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں

میں اب تجھ سے مُکرنا چاہتی ہوں

میں اپنی عُمر کے سارے اثاثے

نئے ڈھب سے برتنا چاہتی ہوں

یہ دل پھر تیری خواہش کر رہا ہے

مگر میں دُکھ سے بچنا چاہتی ہوں

کوئی حرفِ وفا ناں حرفِ سادہ

میں خاموشی کو سُننا چاہتی ہوں

میں بچپن کے کسِی لمحے میں رُک کر

کوئی جُگنو پکڑنا چاہتی ہوں♡♡

کسی اور ہی کیفیت کے زیر اثر لائبہ بڑبڑائی گئی تھی۔

اور حسب عادت اسکی بڑبڑاہٹ روم کی خاموشی میں جذب ہوتے ہوئے امر ہوگئی تھی۔

“آپکو یہ بھی جاننا چاہیے لائبہ کہ بات ادھوری چھوڑ کر

لائن ڈسکنٹ کرنا مجھے بہت برا لگتا ہے۔”

سرعت سے اس نے موبائل ڈش بورڈ پر پٹخا تھا اور ہینڈ فری اپنے

کانوں سے نکال کر دور سیٹ پر پھینکی تھی۔

○●□■○●□■

“آجاو۔ آجاو۔ میرے بچوں آجاو۔”

گرینی نے ان سبکو بڑھ کر سینے سے لگایا۔

وہ بہت خوش نظر آرہی تھیں۔

وہ ایسی ہی تھیں۔ سبکی غلطیاں معاف کر کے بڑے دل کے ساتھ سبکو گلے لگانے والی۔

“گلے۔ شکوے بھلا کر دوسروں کو ایک اور موقع دینا ہی اصل میں جرآت مندی ہے۔” گرینی اکثر کہا کرتیں۔

“اسفر میرے پرنس تم نے اس بار بھی اپنی گرینی کا دل جیت لیا ہے۔”

انہوں نے اسفر کو اپنے کلیجے سے لگایا۔

“پھر مان گئی ناں گرینی اپنے اس اسمارٹ پرنس کو۔”

آنکھ کا کونا دباتے ہوئے اسفر نے شوخی سے کہا۔

“ہاں۔ بالکل۔ اتنی ہی لجاجت سے کہتے ہوئے گرینی نے اسکی کمر پیار سے تھپتھپائی۔

اپنے ساتھ جن اسپیشل گیسٹ کو وہ مینشن لایا تھا۔

وہ کوئی اور نہیں نرمین وقار الملک اور شاہان فاروق تھے۔

اور اسفر وقار الملک کیطرف سے یہ ڈنر انکی انگیجمنٹ کی خوشی میں تھا۔

گرینی کو سمجھا بجھا کر اس نے جیسے بھی کر کے پہلے ہی رضامند کرلیا تھا۔

ویسے بھی گرینی کے لیے سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ انکی منگنی پر لائبہ بھی اسفر کے ساتھ وہاں موجود تھی۔

جانے کیا بات تھی کہ اسفر نے جیسے ہی گرینی کو لائبہ کے وہاں ہونے سے مطلع کیا گرینی نے اسکے بعد سے ایک بار بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔

“ہمیں نرمین کے بارے میں پہلے ہی کوئی فیصلہ کرلینا چاہیے تھا۔ ہم نے اپنی معصوم بچی کو اسکے حال پر چھوڑ کر بہت

برا کیا۔”

بجائے اعتراض کرنے کے گرینی اسفر کی منہ زبانی انگیجمنٹ کا سنکر رنجیدہ ہوگئی تھیں۔

“اب وہ آرہی ہے ناں گرینی۔ اسکو اپنا پیار دے کر اپنا یہ شکوہ دور کرلیجئے گا۔”

انہیں رنجیدہ ہونے سے باز رکھنے کے لیے اسفر نے راستہ نکالا۔

اور تب سے گرینی کو نرمین اور اسکے منگیتر سے ملنے کا بےصبری سے انتظار تھا۔

اب وہ دونوں جب انکے سامنے تھے تو انکی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔

اسی اثناء میں لائبہ بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔

شاید بلیک کلر جان کر اس نے پہنا تھا۔

اسفر کی نظر تو اس پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔

اور یہی تو وہ چاہتی تھی۔

آج اسکی ساری تیاری صرف اور صرف اسفر کیلئے تھی۔

ورنہ شاہان کو تو اس نے نظر اٹھا کر دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔

“آجاو۔ میری چندا۔ آجاو۔”

بڑے ہی چاہو سے گرینی نے اسے اپنے پاس بلایا۔

چہرے پر آئی لٹ ہٹاتی وہ ایک ادا سے اسفر کے بالکل پاس سے گزر کر گرینی تک گئی تھی۔

اسکے پاس سے آتی دلفریب فلور مہک نے اسفر کے قدموں زنجیر ہی کر ڈالا تھا۔

سکتے کی کیفیت میں وہ اسے تکتا ہی رہ گیا۔

لائبہ اسکی نظروں کا مطلب خوب سمجھ گئی تھی لیکن جان بوجھ کر انجان بنے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس سے نظر چرا رہی تھی۔

○●□■○●□■

لاکھ ضبطِ خواہش کے

بے شمار دعوے ہوں

اُس کو بھُول جانے کے

بے پناہ اِرادے ہوں

اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا

فیصلہ سُنانے کو

کتنے لفظ سوچے ہوں

دل کو اس کی آہٹ پر

برَملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے۔

برملا اقرار کے ایک اور انمول لمحے کو تسخیر کرتے ہوئے اسفر نے کمال بےنیازی سے لائبہ کی شہد رنگ آنکھوں کو وارفتگی سے

تکتے اسکے سامنے اپنا دل کھول رکھا تھا۔

ڈنر سے فارغ ہو کر وہ چہل قدمی کی غرض سے لان کیطرف

آنکلی تھی اور وہاں کے خوشگوار ماحول میں ہلکے ہلکے واک کرتے ہوئے ساتھ ساتھ کچھ سریلا سا گنگنا بھی رہی تھی۔

جب اچانک ہی اسفر نے آکر اسکی شوخ لٹ کو اسکے نرم و گداز چہرے پر جھولتے ہوئے بڑے ہی پیار سے اسکے کان کے پیچھے اڑسا تھا۔

“اصل میں بہت دیر سے میں نوٹس کر رہا تھا یہ لٹ آپکو تنگ

کر رہی۔”

اپنی اس حرکت کی وضاحت کے لیے اسکی دلیل بھی بہت

معصومانہ تھی۔

لائبہ شرماہٹ سے مسکرائے بنا نہیں رہ سکی۔

“یعنی آپکی توجہ یہیں تھی۔”

کاجل زدہ نگاہوں کو اس نے تیزی سے گھمایا تھا۔

اسکی آنکھوں کا اشارہ اسفر خوب سمجھا تھا۔

“ہاں بالکل۔” اور اتنے ہی حق سے بولا تھا۔

“اپنی منکوحہ پر میرا اتنا تو حق ہے ہی۔”

اسکے اصرار کا انداز لائبہ کے دل پر چھریاں چلا گیا۔

“ہو نہ ہو۔ لائبہ فردین تم اس ستمگر پر ضرور دل ہار بیٹھو گی۔”

سوچ کی پگڈنڈی پر وہ بھاگتی ہی گئی۔

اور وہ اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے محو سفر رہا۔

“سر اسفر وقار الملک آپکو گرینی نے یاد کیا ہے۔”

جانے کب زیوا وہاں آگئی تھی اور اسے وہاں سے جانا پڑا تھا۔

لیکن اس پل میں لائبہ نے اسے اپنی پوری شدت سے چاہا تھا۔

○●□□○●□■

اسکے جانے کے بعد ٹہلتے ٹہلتے بےخیالی وہ اس اندھیرے حصے میں پہنچ گئی۔

کچھ بھی تھا لیکن اس حصے سے اسے کچھ مانوسیت سی

محسوس ہونے لگی تھی۔

جیسے کوئی پکار پکار کر اسے اپنی طرف متوجہ کر رہا ہو۔

لیکن کیا؟؟ اچنبھے سے اس نے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کر

ادھر ادھر دیکھا تھا۔

اس اندھیرے، خاموشی، خوف سے اسے اپنا کوئی پرانا تعلق

لگتا تھا۔

ناچاہتے ہوئے بھی واپس پلٹنے کے وہ اور بھی آگے بڑھتی

گئی۔

“رکو۔” اسکا بازو کسی نے سختی سے پکڑ کر اسے روکا تھا۔

خوف کی ایک لہر اسکے پورے وجود میں دوڑی تھی۔

دیدے ہلائے بنا وہ پیچھے مڑی تھی۔

لیکن وہ کوئی اور نہیں شاہان تھا۔

“تم” طیش سے وہ چلائی تھی۔

“مجھے تم سے کچھ کہنا ہے لائبہ۔”

اگر لائبہ کو پتا ہوتا وہ اسے اتنا ٹیلی کر رہا تو کبھی وہاں آنے کی غلطی نہیں کرتی۔

“لیکن مجھے کچھ نہیں سننا۔”

اسکا ہاتھ جھٹک کر وہ پلٹی۔

“اس شخص نے تمہیں بیوقوف بنایا ہے۔ ہماری ڈیل ہوئی ہے۔”

شاہان نے اسکا بازو چھوڑنے کے بجائے تیزی سے کہا تھا۔

لائبہ اسکی جرآت مندی دیکھ کر ٹھٹکی۔

“احسان فراموش۔” غصے سے غراتے اسکی آواز کانپی تھی۔

لیکن اگلی ہی پل وہ خود کو مضبوط کرچکی تھی۔

“وہ شخص میرا شوہر ہے۔ میرا سب کچھ ہے۔”

لال شعلہ آنکھیں شاہان پر مرکوز کیے وہ ڈٹی رہی۔

“محبت اس دل میں قیام کبھی نہیں کرتی۔۔۔۔ جس میں منافقیت بستی ہو۔”

ایک جھٹکے سے اس نے اپنا بازو شاہان کی گرفت سے آزاد کرایا تھا۔

اسکی مضبوط گرفت بھی آج بہت ہی کمزور ثابت ہوئی تھی۔

کیونکہ آج لائبہ بہت مضبوط تھی۔۔۔ اسکا عزم بہت مضبوط تھا۔

“اسفر وقار الملک پر انگلی اٹھانے سے پہلے اتنا سوچ لیا ہوتا تو

اپنے اس منافق دل کی دہائی کبھی میرے گوش گزار کرنے کی

ہمت نہیں کرتے۔”

درشت سے کہتے ہوئے لائبہ کی آواز اونچی ہوئی تھی۔

اسفر نے ناچاہتے ہوئے بھی انکے تعاقب میں لان کے اس اندھیرے حصے کی طرف قدم بڑھائے تھے۔

“لائبہ۔۔۔”

اسفر کی قریب سے ہی آتی آواز اسے واضح طور پر سنائی دی۔

لیکن وہ چپ رہی تھی۔

مزید کسی بدگمانی کی پھانس اسکے دھڑکتے دل میں پیوپست

ہونے سے بچانے کے لیے۔

ساری نیت۔۔ سارا اخلاص۔۔۔ لائبہ کا سچ بنکر اسفر کو تحفظ دینے کے لیے جگا تھا لیکن شاہان کے دل میں اسی پل حسد نے جنم لیا تھا۔

لائبہ کی پیشانی پر چمکتے ننھے ننھے پسینے کے کئی قطرے۔۔۔ عین وقت پر اسے اسکی الجھن کا احساس دلا گئے تھے۔

مکروہ مسکراہٹ وہ اپنے چہرے پر لیے ہوئے آگے بڑھا تھا۔

اسکا پلان لائبہ کی خاموشی کو ہی استعمال کرتے ہوئے اسکا کردار اسفر کے سامنے داغدار کرنے کا تھا۔

“مجھ سے دور رہو۔۔۔ بہت دور۔۔۔”

گھٹی گھٹی آواز میں لائبہ غرائی تھی۔

تاکہ اسکی وہاں موجودگی کا اسفر کو علم نہ ہوں۔

لیکن شاہان کا منافق دل۔۔۔ اسفر کی نظر میں اسے خجل کرانے پر

تلا تھا۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسفر نے اسکا بھانڈا لائبہ کے سامنے اسکے منگنی والے دن پھوڑا تھا۔

“لائبہ۔۔۔” شاید اسفر کو کچھ سنائی دے گیا تھا۔

“لائبہ ۔۔۔۔” وہ اضطراری سے بار بار اسکا نام پکار رہا تھا۔

لیکن بجائے جواب دینے کے لائبہ لب بھینچے خاموش رہی۔

شاہان کی نظروں میں اسکا سراپہ سائے کی طرح لہرایا۔

“پیچھے ہٹو۔ شیطان کہیں کے۔”

اس بار اپنے ہاتھوں کا بروقت استعمال کرتے ہوئے وہ شاہان کو

خود سے پیچھے دھکیل چکی تھی۔

“آج کی رات تم دونوں ہمیشہ یاد رکھو گے۔”

بڑبڑاتے ہوئے شاہان خباثت سے مسکرایا تھا۔

“سوچو اگر وہ یہاں آگیا تو تمہارا کیا بنے گا۔”

درشتی سے اس نے اپنے نوکیلے دانت شاہان کی گردن میں پیوپست کیے تھے۔

اب چیخنے کی باری اسکی تھی۔

دلخراش چیخ اسفر کو صاف سنائی دی تھی۔

دیوانہ وار وہ اسطرف بھاگا تھا۔

“آئندہ ایسا کچھ بھی کرنے کی غلطی مت کرنا۔”

اسکے دانتوں پر خون لگا تھا۔

لیکن شاہان کی ہوس کا وہ سدباب کر چکی تھی۔