Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 15
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 15
Fareb Nazar by Gazal Saima
چاندنی بکھیرتا پورا چاند لائبہ آج بھی اپنی مٹھی میں بند نہ کر پائی تھی۔ جیسے آج سے پہلے اس سے کبھی نہیں ہوا تھا۔
“لیکن ایک دن تم میری مٹھی میں ضرور بند ہوگے۔”
ایک بار پھر نئے عزم سےکہتی وہ کھل کر مسکرائی تھی۔
اسی پل اپنے پیچھے اسے کسی کے کمرے میں ہونےکا احساس ہوا تھا اور وہ تیزی سے پیچھے پلٹی تھی۔
“تم۔” چونک کر اس نے کہا تھا۔
“ششش۔”اسکے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا وہ اسے شہادت کی انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
اس سے خود کو سنبھالنے کی کوشش میں اسکا پاؤں مڑا اور وہ گرتے ہوئے اسی کی بانہوں میں مقید ہوگئی تھی۔
♡♡نیت شوق بھر نہ جائےکہیں
تو دل سے اتر نہ جائےکہیں♡♡
سانس روکے لائبہ اسکو ششدر تکے گئی تھی۔
وہ جو اسکے بالکل پاس تھا بلکہ وہ اسی کی بانہوں میں سمٹی ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر اسکی شہد آنکھوں میں ہزاروں جگنو چمکے تھے جیسے پوری ایک صدی کی جدائی کے بعد وہ ایک دوسرے کے سامنے موجود ہوں۔
“تم” اسکی حیرت برقرار تھی۔
پل بھر کے لیے بھی اس نے پلک نہیں جھپکی تھی۔
اسے ٹکر ٹکر دیکھنے سے وہ خود کو روک نہیں سکی تھی۔
♡♡آج دیکھا تجھکو دیر کے بعد
آج کا لمحہ گزر نہ جائےکہیں♡♡
“بہت پیاری لگ رہی ہو۔” دھیرے سے اسکے ہونٹوں میں جنبش ہوئی تھی میٹھی سی اسکی سرگوشی لائبہ کے نڈھال وجود کو
پھر سے پرجوش کر گئی تھی۔
لیکن اسکا تعریف کرنا حقیقت میں اسکا شکوہ تھا۔
لائبہ نے اسکی بلیو شیڈ آئی بالز کو شکوہ کرتے محسوس کیا۔
وہ اس سے نگاہیں پھیر گئی مگر وہ اسے ویسے ہی والہانہ انداز سے تکتا رہا۔
♡♡ نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائےکہیں ♡♡
چند لمحے یونہی انکے بیچ اور بیتے۔ دونوں کی آنکھوں کی تپش
انہیں اور سلگانے لگی۔ لائبہ کی جھکی نظریں اپنی بےبسی کا اعتراف کررہی تھیں۔ باوجود اسکے کہ وہ اسے براہ راست نہیں دیکھ رہی تھی لیکن اسکا اجلا عکس وال سائز مرر میں اسے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا اس سے
بچھڑتے وقت تھا۔
♡♡آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں♡♡
زور سے اسکا دل دھڑکا تھا۔ اسکے گلے میں اپنی بانہوں کے ہار ڈالتی وہ بےخودی سے اسکے دائیں گال پر اپنے ہونٹ رکھ چکی تھی۔ اسکے ہونٹوں کی حدت سے وہ دہکنے لگا اور جواب میں جاتے جاتے بےاختیار ہی اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کا دہکتا لمس چھوڑ گیا۔
“عش۔۔۔شاہان۔۔ تم آگئے۔”
بےاختیار اسکے منہ سے نکلا تھا۔
“میری آنکھ لگ گئی تھی اور نیند میں۔۔ میں نے خواب دیکھا تھا۔ ایک خوبصورت خواب۔”
اپنے سر پر زور سے چھپت لگا کر وہ کھڑی ہوئی تھی۔
سامنے وال سائز مرر میں اسکا عکس ابھرا تھا۔
“یہ نیند بھی کیا چیز ہے سولی پر بھی آجاتی ہے۔”
خود پر ہی طنز کا قاری تیر چلاتے وہ زیرلب بڑبڑائی تھی۔
ٹک۔۔۔ ٹک۔۔ اسی پل کمرے کے دروازے پر ناک ہوا تھا۔
“تو تم آگئے دشمن جان۔”
درشتی سے اس نے سرگوشی کی تھی۔
●□○●□●○■□○■
رخصتی ہونے سے پہلے اسفر لائبہ سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔
اسے وہاں آتے ہی لائبہ کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔ کھینچ کھینچ کر جیسے زبردستی وہ سانس لے رہی تھی۔ چہرے کی رنگت پھیکی جبکہ رمک تو کہیں غائب ہی ہو چکی تھی۔
“اف کس قدر دشوار ہے لائبہ تمہارے لیے اس انسان کا سامنا کرنا۔”
اپنے دل میں اس نے اداسی سے سوچا تھا۔
“آپ سے لائبہ کچھ کہنا چاہتا ہوں میں۔”
نرمی سے اسکا لائبہ پکارنا بھی اسے بھلا معلوم نہیں ہوا تھا۔
اسکے برعکس اسفر دل و جان سے اسے تک رہا تھا۔
سرخ رنگ اس پر کچھ زیادہ ہی جچ رہا تھا۔ مکمل سراپہ حسن بنی وہ اسکے دل پر زور زور سے دستک دی رہی تھی۔
لیکن ابھی رخصتی ہونا باقی تھی۔
♡♡ربط الفت کہوں یا عشق کی معراج کہوں
اپنے سائے سے بھی اب تیرا گمان ہوتا ھے♡♡
فرط جذبات میں اسفر کے لب ہلے تھے اور لائبہ کی شہد آنکھوں میں ڈوبتے دو سائے ابھرے تھے۔
ایک وہ تھا جو اسکے سامنے کھڑا اسکی دھڑکنوں تک پر اپنی حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا اور دوسرا وہ تھا جو
سامنے نہ ہوتے ہوئے بھی اسکی دھڑکنوں پر حکومت کرتا تھا۔
“جی کہیے۔” ہمت جمع کر کے لائبہ بولی تھی۔
اسکی خاموشی کا وہ کیا مطلب نکال سکتا تھا ایک سیکنڈ کو ایسا سوچ کر لائبہ چپ نہیں رہ پائی تھی۔
میں زبردستی کوئی رشتہ قائم کرنےکا قائل ہرگز نہیں ہوں۔
“اوہ تو تم انکار کرنے کی نیت سے آئے ہو۔ “
لائبہ کے لب بےاختیار ہی کھلے۔ جبکہ اسفر بغور اسے دیکھتا بولے گیا۔
“میں ایسا صرف۔۔۔ ” لائبہ کا دل زور سے اچھلا۔
“کہہ دو اسفر وقار الملک۔ کہہ دو کہ تم مجھ پر یہ ظلم نہیں کرسکتے۔ تم انکار کرتے ہو۔”
لائبہ کا پورا وجود سولی پر لٹکا اسفر کا قطعی فیصلہ سننے کے لیے بیقرار ہوا۔
اپنی بات ادھوری چھوڑ کر اسفر نے اسکی ناک میں چمکتی نوز پن کو بڑے اشتیاق سے دیکھا تھا۔
اسکی نگاہوں کا بدلتا زاویہ لائبہ نے صاف محسوس کیا تھا۔
اور اسکا خود کو اس جی جان سے دیکھنا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
“دل تو کرتا ہے تمہاری آنکھیں پھوڑ ڈالوں۔”
زور سے اس نے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں۔
وہ شاید اسکی بےچینی ہی محسوس کرنا چاہتا تھا۔
جو بات ادھوری کر کے فرصت سے اپنی سجی سنوری سراپہ حسن دلہن کا مکڑا تکنے کا شفل فرما رہا تھا۔
“اب بول بھی دو کیا کہنا ہے تمہیں۔ کیوں میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا انتظار کر رہے ہو۔”
سیکنڈ سیکنڈ اسکی نگاہوں کی تپش خود پر سہتی لائبہ مسلسل دل ہی دل میں کڑ رہی تھی۔
ورنہ اسکے آگے اسکی مرضی کے بغیر کوئی ایک منٹ بھی ٹھہر جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ زمانے بھر میں وہ ایسے ہی تو نہیں منہ پھٹ مشہور تھی۔
لیکن اسفر وقار الملک کے سامنے اسکی ساری دیدہ دلیری جانے کیسے آڑن چھو ہوجاتی تھی وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتی تھی۔
لب بھینچے، سانس روکے، سپاٹ چہرہ لیے اپنا آپ اسے اسفر کے روبرو بالکل ہراساں لگتا۔
“میں صرف ایسا گرینی کا حکم پورا کرنے کیلئے کر رہا ہوں۔ کیونکہ ملک مینشن میں کچھ بھی ہو جائے جو حکم گرینی کی زبان نے ایک بار دے دیا وہ پورا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔”
اسفر کی گمبھیر آواز لائبہ کو واپس ہوش کی دنیا میں لے آئی تھی۔ جہاں وہ اپنی زندگی گزارنے کے لئے اسکی مرضی کی محتاج تھی۔
“جی۔” بمشکل ہی وہ بول پائی وہ بھی کسی زرخرید غلام کی طرح اثبات میں اپنی گردن ہلاتے ہوئے۔
“میں زبردستی کا قائل نہیں۔ رخصتی کے بعد بھی آپ مجھ سے فاصلہ برقرار رکھنا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”
لائبہ کی سوچ میں آئی انکار کرنے کی ساری امیدوں پر پانی پھیر کر کس تپاک سے وہ اسے اپنے اعلٰی ظرف ہونے کا یقین دلا رہا تھا۔
لائبہ کی شہد آنکھوں کی چمک بھک سے ماند پڑ گئی۔
“بہتر ہوتا تم ایک ہی بار میرا گلا دبا دیتے۔”
شکوہ کن نظروں سے لائبہ نے چوڑا سینہ تان کر کھڑے اس چھ فٹ لمبے انسان کو دیکھا۔
“ہوپ یو انڈراسٹین۔ لائبہ ڈارلنگ۔”
اسکا شانہ تھپتھپاتے عالم بےنیازی میں اسے صرف میرا ہونے کا
شدید احساس دلاتا وہ کمرے سے جا بھی چکا تھا۔
لیکن لائبہ کی سماعتیں ابھی بھی اسے سن رہی تھیں۔
“لائبہ ڈارلنگ۔” گونج گونج کر اسکےکانوں میں اسفر کا کہا۔۔۔
اسے پل پل شل کرنے لگا۔
♡♡ریزہ ریزہ ہے میرا عکس۔ تو حیرت یہ ہے
میرا آئینہ سلامت ہے تو پھر ٹوٹا کیا ہے♡♡
لائبہ کی شہد آنکھوں کے کنارے گیلے ہونے لگے تھے۔
چودھویں رات کا سارا فسوں اپنا وجود کھونے لگا تھا۔
ملک مینشن میں پھیلا سناٹا۔۔۔ پراسرارایت لیے پہلی بار لائبہ کو سرگوشیاں کرتا سنائی دیا تھا۔
اپنے آنسو پینے کی کوشش کرتے ہوئے کسی بےجان وجود کیطرح وہ فرش پر ڈھے گئی تھی۔
○●□■○●□■○●□■
♡♡ تیرے پیار کی حدت نے یہ کام کیا بس
ہر بار مجھے جلایا، ہر بار مجھے آزمایا ♡♡
دور آسمان پر موجود چودھویں کا چاند شاہان کی بلیو شیڈ آئی بالز پر پوری طرح سے حاوی تھا اور وہ بڑی عجلت میں اسکا آخری
بار دیدار فرمانے کا شوق پورا کر رہا تھا۔
“میں جانتا ہوں تم مجھے بھول گئی ہو۔ میرا احسان تک تمہیں اب یاد نہیں لیکن میں تمہیں نہیں بھولا اور شاید کبھی بھول بھی نہ سکوں۔”
مدہم نیلگوں روشنی اسکے چہرے پر پڑتی۔۔۔ اسکے گڈ لکنگ چہرے کے نقوش کو اور بھی پراثر بنارہی تھی۔
غور سے دیکھنے پر اسکی شبہات کسی ترکی شہزادے جیسی دکھائی دیتی تھی گردش ایام نے جسے مبم کررکھا ہو۔
البتہ اسکی بول چال میں صاف ترکی لہجہ چھلکتا تھا۔
کسی کو اپنا دیوانہ بنانے میں اسے بس چند منٹ ہی درکار ہوتے تھے اور پھر وہ تو پہلے ہی سے اسکے احسان کے نیچے دبی ہوئی تھی۔
“مائی ڈیفوڈل۔”
اسکی بلیو شیڈ آئی بالز نشیلے پن سے مقابل کا چہرہ تک رہی تھیں اور اسکا میٹھا لہجہ مقابل کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔
:تم اندازہ ہی نہیں کرسکتیں۔ تم میرے لیے کتنی اہم ہو۔
شاید میرے لان میں لگے ان ہزاروں ڈیفوڈل سے بھی زیادہ اہم۔ جنہیں میں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔”
کمال مکاری سے لفظ چبا چبا کر کہتا وہ اس پر اور بھی جھکا تھا۔
“زخمی عاشق جنگلی بھیڑیے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے
ایسا صرف حکایت نہیں حقیقت میں بھی شاہان فاروق ثابت
کر کے دکھائے گا۔”
سوچوں کے جنگل میں خود کو گھرا پاکر وہ ہوشیاری سے پھر سے مقابل کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔
“تمہارا درد۔۔۔ میرا درد ہے۔۔۔ اور میرا درد۔۔۔ تمہارا درد۔
نرمین مائی ڈیفوڈل۔ مائی پرنسس۔”
بیڈ پر نیم درزا نرمین کی پیشانی پر اپنے لب رکھے وہ اسے
اپنے پیار کے لازوال ہونے کا یقین دلاتا عالم خمار میں گویا ہوا۔
“یہ کام اتنا بھی مشکل نہیں ہے اسفر وقار الملک جتنا تم نے مجھے بتایا تھا۔”
فتح یابی سے نرمین پر مکمل دسترس حاصل کرتا وہ بےخوفی سے زیرلب بڑبڑایا تھا۔
مگر اتنا آہستہ کہ اسکی سانس تک کی گرمی کو صاف محسوس کرتی نرمین اسکے ارادے سے بالکل بےخبر رہی تھی۔
○●□■○●□■○●
“نہیں نہیں۔ بالکل بھی نہیں۔ کچھ بھی میڈیا میں نہیں آنا چاہیے۔”
موبائل پر بات کرنے کے ساتھ اسفر تیزی سے ڈرائیو بھی کر رہا تھا جلد از جلد اسے فارم ہاؤس پہنچنا تھا۔
مسلسل ہارن پر ہاتھ رکھےکافی رش ڈرائیونگ کرنے کے نتیجے میں وہ بیس منٹ میں فارم ہاؤس پہنچنے میں کامیاب رہا تھا۔
“اوکے مائی پرنسس۔ یو ٹیک ریسٹ اینڈ فیل ریلکس۔”
نرمین کو بیڈ پر لیٹا کر کمفرٹر اڑھا کر شاہان روم سے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے سے آتے ہوئے اسفر سے اسکا ٹاکرا ہوگیا۔
“ویلکم۔ ویلکم۔ مسٹر اسفر وقار الملک اسسٹنٹ آف کمشنر پولیس۔”
چڑھانے والے انداز میں کہتا وہ اسفر تک آیا۔
“یو باسٹرڈ۔”
اسے نرمین کے کمرے سے نکلتا دیکھ کر اسفر پہلے ہی طیش میں تھا۔ چلاتے ہوئے وہ اسکی شرٹ کا کالر پکڑ چکا تھا۔
“تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے پاس جانے کی۔
شاہان کو کالر سے پکڑے۔۔ جھنجھوڑ کر پوچھتا وہ غصے سے پاگل تھا۔”
“کالم ڈاون۔ اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔”
پرسکون انداز میں کہتا شاہان اسے اور بھی طیش دلانے لگا۔
:بکواس بند کر اپنی۔ تو خود کو سمجھتا کیا ہے۔”
ایک زوردار پنچ اسفر اسکے بائیں گال پر رسید کرنے ہی والا تھا
کہ شاہان نے اسکا پنچ اپنے ہاتھ کے مضبوط پنجہ کی گرفت میں لیکر اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔
“اس نے مجھے خود بلایا تھا۔ یقین نہیں آتا تو خود پوچھ لو۔”
اور آہستہ سے اسکے کان میں سرگوشی کرتا ٹھاٹ سے باہر نکل گیا۔
اسکی سرگوشی اسفر کے قدم زنجیر کرگئی تھی۔
○●□■○●□■○●□■
“اپنی ماں سے تمہیں بہت شکوے تھے ناں فردین ملک۔
صالحہ سکندر حیات ملک کبھی بھی تمہارے لیے اچھی ماں ثابت نہیں ہوسکی۔ جسکی وجہ تمہاری جان دل۔۔۔ تمہاری بیوی شاہانہ تھی۔ جس نے مکاری اور عیاری کی ساری حدیں پار کرتے
ہوئے تمہیں مجھ سے۔۔ تمہاری ہی ماں سے متنفر کر دیا۔”
بل بل گرتے آنسو انکے چادر کے پلو میں جذب ہوتے گئے۔
لیکن انکے رونے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔
“تقدیر کا لکھا۔۔۔ اٹل ہوتا ہے اور نرالا بھی۔
تقدیر نے تمہاری ماں کے حصے میں ایسا ہی لکھ رکھ تھا۔”
ہر بار کی طرح اپنے بوڑھے وجود کو کسی بجھتے دیے کی ہلکی ہلکی ٹم ٹم کرتی روشنی کی طرح تسلی دیتے ہوئے وہ جائے نماز سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“جینا بھی کتنا دشوار کام ہے۔ موت برحق ہے مگر آتی نہیں۔”
افسردگی سے کہتے ہوئے انہیں کھانسی کا شدید دورا پڑا تھا۔
“مادام گرینی کو پھر سے دورا پڑا ہے۔”
میڈ دوڑتے ہوئے سبکو خبردار کرنے بھاگی تھی۔
