584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 32

Fareb Nazar by Gazal Saima

“اسکا منہ بند کر دیا ہے۔ اب وہ ہمارے خلاف کچھ نہیں بولیگا۔ سوائے اسکےکہ جو ہوا وہ اسکا خود ذمےدار ہے۔”

ازلی ڈیٹ شخص کی آبرو اوپر کو اٹھی۔

جو اس بات کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ اسے یقین نہیں آیا۔

“سب اس فلیش ڈرائیو میں محفوظ ہے۔ اقرار جرم سے لیکر انجام جرم تک کا آنکھوں دیکھا حال۔”

ان چاروں میں سے تیسرا کافی دیر بعد کہتے ہوئے خباثت سے مسکرایا تھا۔ ازلی ڈیٹ شخص کو یقین دلانا ضروری تھا کیونکہ وہی ان چار کے پلان کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ تینوں نے بیک وقت اسکی جانب دیکھا۔

“اگر کسی نے بھی ہوشیاری دکھائی تو جان لینا زر اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتا۔”

باوجود انکا ساتھی ہونے کے اس نے اُنہیں وارننگ دی تھی۔

“ہمارا حصہ وعدے کے مطابق ہمیں مل گیا ہے۔ اب اس قصے کو یہیں ختم سمجھو۔ نہ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ثبوت۔”

دوسرے نے لاپرواہی سے کہا تھا وہ بس اسے بالکل مطمئن کرنا چاہتا تھا۔

“ابھی رات کے تین بج رہے ہیں اور صبح اجالا پھیلنے سے پہلے ہم تینوں دوسرے ملک کیلیے روانہ ہوچکے ہونگے۔ یہاں کیا ہوا تھا سب یہیں فردین ملک کے ساتھ دفن ہوجائیگا۔ فکرمند نہ ہو۔”

چوتھا ساتھی اب سب راز جان چکا تھا گویا ہوا۔ ازلی ڈیٹ شخص کے علاوہ باقی دونوں نے اسے نظر بھر کر دیکھا۔

“ٹھیک ہے اب ہمیں نکلنا چاہیے۔”

ازلی ڈیٹ شخص سرعت سے کہتا کھڑا ہوا اور اپنا خفیہ راستہ اختیار کرتا ہوا اس بلڈنگ سے بہت دور نکل گیا۔ جبکہ باقی تینوں بھی اپنے اپنے راستے ہولیے۔کون کس طرف گیا اسے جاننے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ اب وہ ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی تھے۔

ان چاروں میں سے پہلا یعنی ازلی ڈیٹ شخص ابھی ایئرپورٹ پہنچا ہی تھا کہ اسے ایک ان نان نمبر سے بار بار کال آنے لگی۔ جسے ہر بار وہ پک نہ کرنے کی غرض سے ڈسکنٹ کردیتا لیکن کال پھر بھی آتی رہی۔ تھک ہار کر اس نے موبائل کو سائلنٹ پر کیا اور لمحے بھر کو کچھ سوچا۔

“اب اس آخری وقت میں کون ہوسکتا ہے جو کچھ بہت اہم بتانے کیلئے بیتاب ہے۔”

کچھ دیر سوچ کر بلاآخر اس نے تذبذب کے ہاتھوں ہار مانتے ہوئے ان نان نمبر سے آنے والی اس کال کو پک کر ہی لیا اور موبائل کو کان سے لگایا۔

“۔۔۔ یس باس یہ اندر کی بالکل درست خبر ہے۔”

کال کی دوسری طرف جو بھی تھا اسکا انداز خاصا رازدارانہ تھا۔

اسے یقین کرنے میں تھوڑا وقت لگا۔

“ٹھیک ہے لیکن اس خبر کو اپنے اور میرے درمیان ہی رکھنا۔ کسی اور کو اسکی ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے۔”

اسکا یکدم اترا چہرہ دیکھ کر صاف ظاہر تھا کہ کال کرنے والے شخص نے جو کچھ بتایا ہے اسے سنکر وہ ناخوش تھا۔ کچھ سوچ کر ہی وہ گویا ہوا تھا لیکن دوسری طرف موجود اس خبر دینے والے شخص کو تنبیہ کرتا ہوا جبکہ اسکا لہجہ کسی بھی

قسم کے فوری ردعمل سے بالکل پاک تھا۔

آخری لمحات میں کچھ جاننے کی اسے بالکل بھی امید نہیں تھی۔ کچھ دیر میں وہ ویسے بھی ملک چھوڑنے والا تھا اور اسکے ملک چھوڑنے کے ساتھ ہی یہ سب ایک پرانا قصہ بنکر رہ جانا تھا۔

بےفکری سے اس نے شانے اچکائے تھے۔

“اوکے باس۔” اسکی توقع کے مطابق دوسرے شخص کا جواب اثبات میں تھا۔

“ویری گڈ۔” وہ سنکر ہلکا سا مسکرایا اور پھر انکے بیچ رابطہ منقطع ہوگیا۔

○●□■○●□■

“ایئرپورٹ سے باہر جاتے ہوئے یہ اسکے لیے آخری اہم کال تھی جسے سن لینے کے بعد اسے مزید اب کسی کال کا انتظار نہیں رہا تھا۔ ان چاروں میں سے وہ واحد تھا جسے اس راز کے بارے میں پتا تھا اور اس نے یہ راز ملک چھوڑنے سے پہلے تک کسی اور کو نہیں بتایا تھا۔”

اسفر وقار الملک کی نگاہیں دور آسمان پر چمکنے والے چاند پر ٹکی تھیں۔ البتہ لائبہ فردین کی سماعتیں اسے بہت غور سے سنتی رہی تھیں۔

لائبہ کو بتانے کے لیے اسکے پاس پورا مکمل سچ تھا لیکن وہ ابھی اسے بس اتنا ہی بتا پایا تھا۔

اور وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک بار اسکا بھروسہ کرنے کے بعد کہیں لائبہ دوبارہ اس سے بدزن نہ ہو جائے۔ مناسب وقت اور مناسب موقع ملتے ہی اس نے اپنے سینے میں دفن اس سچائی کو لائبہ کے سامنے بیان کر دیا تھا تاکہ لاعلمی میں وہ کوئی بھی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھے اور اسے ایسا کرنے سے باز رکھنے کا ایک ہی طریقہ اسفر کی سمجھ میں اس وقت آیا تھا جب وہ اسٹور روم کا سچ جاننے کیلئے بےچین تھی کہ اسے اسکے ماضی کی سچائی سے واقفیت کرا دی جائے۔

اسفر کے خاموش ہوتے ہی اسکی آواز کا جادو جس نے لائبہ کو اپنے اثر میں لیا ہوا تھا یکدم ٹوٹا تھا۔

نظر اٹھا کر اس نے شاکی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔ اسکا آدھا سچ بتاکر خاموش ہوجانا لائبہ کے لیے تشفی بخش نہیں تھا۔ اپنے پورے وجود میں اسے بےچینی سی محسوس ہو رہی تھی۔

اوپر سے اتنے گھمبیر سچ کو ہضم کرنا اسکی برداشت سے ویسے ہی باہر تھا۔

“آپکو پانے کے بعد سے آج تک مجھے خود پر فخر ہوتا تھا کہ میرے شوہر اسفر وقار الملک کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ آپکے وجود سے نکلنے والی محبت کی کرنیں لائبہ اسفر کو ہمیشہ تمانیت کا احساس دلاتی رہینگی مگر آج مجھ پر انکشاف ہوا ہے اسفر وقار الملک کے میں غلط تھی۔”

دم بخود لائبہ روانی سے کہتی گئی اور اسفر وقار الملک پتھر کا مجسمہ بنے بس اسے سنتا رہا۔

چاند پر ٹکی اسکی نگاہوں کا نہ زوایہ بدلا نہ رنگ۔

“کیونکہ آپ نے اپنا راز تو کبھی مجھے بتایا ہی نہیں۔ جس نے آپکو میرے لیے بےچین کر رکھا تھا۔ جو مجھے حاصل کرنے کی واحد اور اہم ترین وجہ تھا۔”

لائبہ کی شاکی نگاہوں کے ساتھ ساتھ اب اسکا لہجہ بھی دہکتے انگاروں کی تپش لیے تھا۔

اسفر کو اپنی سماعتیں دہکتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔

لیکن پھر بھی وہ ساکت و جامد بیٹھا رہا۔ بالکل خاموش۔ ظاہر میں بالکل پرسکون۔

اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی اس نے کوشش نہیں کی۔

ابھی وہ فرصت سے صرف لائبہ کا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا۔ اسکی اس شعلہ بیانی کا اسے پہلے سے

اندازہ تھا۔ وہ اپنے سے جڑا کوئی بھی سچ بس ایسے ہی مان لینے والوں میں سے نہیں تھی۔ اسکی کھوج کا آغاز تو اب شروع ہونا تھا۔

اسفر کے دماغ میں اس سچائی کو جان لینے کے بعد لائبہ کا ہر مکمن ردعمل اور اس ردعمل کی نہج پر اٹھایا جانے والا اسکا ہر قدم پہلے ہی ثبت تھا۔

بس اب وہ اسکے ہمقدم رہ کر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس طرح اس آدھے سچ کا بقیہ سچ تلاش کرتی ہے۔

لان کے اس اندھیرے حصے کا وہ فاونٹین جو نجانے کتنے سالوں سے خشک پڑا تھا ان دونوں کے پیچھے کی سمت میں موجود آج بھی اپنی پرانی بناوٹ لیے ہوئے تھا۔ گو کہ اسکے ارگرد بنائی گئی سفید ماربل کی وہ دیوار گرد آلود ہونے کی وجہ سے اپنی پرانی چمک دمک مکمل طور پر کھو چکی تھی لیکن ان دونوں کے کمر ٹکا کر آرام سے بیٹھنے میں کافی مددگار ثابت ہوئی تھی۔

فاؤنٹین کی وہاں موجودگی کو یکدم ہی اسفر اور لائبہ نے محسوس کیا تھا۔ جب پتا نہیں کیسے اس پرانے اور بوسیدہ فاؤنٹین کے منہ سے پانی کی باریک جڑی انہیں بھیگونے لگی۔ قدرت کے کاموں میں کوئی کب داخل دے سکتا ہے۔ اور شوہر بیوی کے رشتے میں کوئی شک کوئی بدگمانی کب تک راز رہ سکتی ہے۔ انکے لیے قدرت کی طرف سے یہ ایک یاد دہانی تھی، ایک تنبیہ تھی یا ایک اٹل حقیقت تھی۔ وہ دونوں حیرت سے فاؤنٹین کی جانب دیکھ رہے تھے۔

یکدم اسفر کی نظر وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر لگے پیڑوں کے عقب میں موجود کسی سائے پر پڑی تھی۔ بجلی کی تیزی سے وہ اس طرف لپکا تھا۔

وہاں کوئی چھپ کر انکی باتیں سن رہا تھا۔

اسفر کے اندر کا پولس آفیسر جاگ اٹھا۔ اس نے بڑی ہی چالاکی سے پھرتی کے ساتھ اس جاسوس کو اپنے مضبوط شکنجے میں جکڑ لیا تھا ایسے کہ آنن فانن اس ابتلاء پر وہ جاسوس اسفر کے شکنجے میں بالکل ہی بےبس ہوچکا تھا۔

آخر کو وہ ایک پروفیشنل پولیس آفیسر تھا اور اس

قسم کی صورتحال میں استعمال کرنے والے پیچ و خم سے پوری طرح ٹرینڈ بھی۔ اس سے پہلے کہ جاسوس خود کو اس سے بچانے کی کوشش کر پاتا اسفر اسے قابو بھی کر چکا تھا۔

“مبارک ہو۔ ہمارا دشمن پکڑا گیا۔”

اس موقع پر ضرور لائبہ اس سے ایمپریس ہوئی ہوگی اسے اپنی اس کامیاب کاروائی سے اور بھی محظوظ کرنے کے لیے وہ زور سے چلایا تھا۔

عین ممکن تھا کہ وہ اس پر اپنا اور بھی امپریشن

جمانے کے لیے اپنے شکنجے میں قید اس جاسوس کو ٹانگ پر فائر کر کے ہلکا پھلکا زخم بھی دے دیتا

لیکن لائبہ نے عین اسی پل جاسوس کو اسکی اس جیکٹ سے پہچان لیا تھا۔

“اسفر ڈونٹ شوٹ۔” اپنی پوری طاقت سے وہ چلائی تھی۔ لان میں مکمل خاموشی ہونے کیوجہ سے اسکی آواز کافی زیادہ تیز سنائی دی تھی۔

لیکن ایسا اس نے صرف اسفر کو پلک جھپکتے میں روکنے کی غرض سے کیا تھا ورنہ وہ فائر کر چکا ہوتا۔

“شاہان فاروق ہے یہ۔ شاہان فاروق!”

اس نے پھولی سانس میں عجلت سے کہا تھا۔

اسفر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا۔

سرعت سے اسکے چہرے کا نقاب ہٹا کر اس نے اسے پہچانا تھا۔

“تم!” اسے پہچانتے ہی وہ اچنبھے سے پکارا۔

اسے وہاں دیکھ کر اسفر کا تو میٹر ہی گھوم گیا۔

“میں رکا ہی کیوں۔ مجھے ایک کے بجائے دو فائر کرنے چاہیے تھے۔”

زیرلب وہ بڑبڑایا تھا۔ شاہان کی صورت دیکھتے ہی اسکا پارہ چڑھ چکا تھا۔ البتہ جواب میں شاہان چپ ہی رہا۔

“حد ہے یار۔” اسفر زچ ہوکر اپنے گھٹنوں پر ہاتھوں

کے پنجے کا دباؤ ڈالتے ہوئے کافی غصے میں آچکا تھا۔ چند منٹ پہلے کا وہ پرسکون اور مطمئن اسفر

جھٹ سے کہیں کھو گیا تھا۔

چھپ کر ہماری باتیں سننے کی ہمت بھی کیسے کی تم نے۔”

اچانک ہی رعونت سے چلاتے ہوئے اسفر شاہان کیطرف لپکا تھا۔ اسے اس پر شدید غصہ تھا۔

وہ وہی بدنصیب تھا جس نے انکی خلوت میں دخل اندازی کرنے کی جرآت کی تھی۔ اسفر نے اسکی ناک پر زوردار مکا مارنا چاہا لیکن عین اسی وقت لائبہ اسکے اور شاہان کے درمیان آگئی۔

“اسے جانے دو اسفر۔ یہ بس سچ جاننا چاہتا تھا۔”

ڈرے ہوئے لائبہ نے بمشکل کہا تھا۔

اسے اسفر کے غصے سے بہت ڈر لگ رہا تھا۔

اسفر نے تعجب سے اپنی بھنویں اچکائیں اور ابکی بار بجائے شاہان کے لائبہ کو گھورا۔

جلن کی دہکتی لہر اسکے پورے وجود میں دوڑی تھی۔ وہ پھر سے اسکا ساتھ دے رہی تھی۔ اسفر

کو زور کا دھچکا لگا تھا۔ اسکی غیر موجودگی میں

وہاں کیا ہوا تھا پہلی بار اسکو خطرے کا احساس ہوا۔

“کیوں؟ اسے کیوں جاننا تھا؟”

اسے یقین ہی نہیں ہوا تھا لائبہ کے کہنے کا۔

“اسکا اس سب سے کیا لینا دینا؟؟”

قطعی ناگواری سے اس نے لائبہ کو دیکھا تھا۔

لائبہ نے اپنی نگاہیں نیچے کر لیں۔

“وہ سب اسی نے مجھے بتایا تھا۔”

قدرے توقف سے وہ بجھے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔

اسکے منہ سے سچ سنکر اسفر ٹھٹھک کر رہ گیا۔

وہ ابھی بھی ان دونوں کے بیچ غلط فہمیاں پیدا کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔

غصے سے اسفر نے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں۔

لان کی خاموشی ان تینوں وجودوں کی موجودگی کے باوجود اور بھی بڑھ گئی تھی۔

فاؤنٹین سے اچانک ہی جاری ہونے والی پانی کی وہ جھڑی بھی خودبخود ختم ہوگئی تھی۔ تاریک رات کا راز ان دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ ثابت ہوا تھا۔

لائبہ کا بجائے اسفر کے شاہان کو اس سے بچانے کیلئے اتنا تشویش مند ہوتا دیکھ کر اسفر کا دل تو جیسے کٹ کر رہ گیا تھا۔ اس نے آخری بار اسے

شکوہ کن نگاہوں سے تکا اور پھر تیزی سے باہر پورچ کیجانب قدم اٹھا دیئے ابھی اسے گرینی کے پاس پہنچ کر انکی اچانک طبیعت بگڑنے کی اصل

وجہ کا بھی پتا لگانا تھا۔

○●□■○●□■

اگلی صبح کی شروعات ان سب کے لیے کافی پرسکون تھی۔ گرینی کو ہسپتال میں داخل رہنا بالکل پسند نہیں تھا اسلیے اسفر نے ڈاکٹرز کی رضامندی سے مینشن میں ہی انکے لیے سب بندوبست کرا لیا تھا۔ نیہان اور انور بھی واپس آچکے تھے گرینی کے ہارٹ اٹیک کا سننے کے بعد انہوں نے اپنا ہنی مون مختصر کردیا تھا۔ لیونگ ہال میں اس وقت سب افراد ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد گرینی کے ارگرد بیٹھے تھے۔ ان کے بیچ ہلکی پھلکی بات چیت چل رہی تھی۔ انور اور نیہان اپنی تصاویر دکھا رہے تھے اور ساتھ ساتھ انکے بارے میں کچھ نہ کچھ بتا بھی رہے تھے۔ گرینی بھی ان دونوں کی تصاویر دیکھنے میں مشغول تھیں جب اچانک ہی اسفر نے انہیں مخاطب کیا۔

“آپکی طبیعت یوں کیسے اچانک خراب ہوگئی تھی گرینی؟؟”

ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک انہیں ہارٹ اٹیک کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ اسلیے

وہ اس بارے میں لاعلم ہی تھیں۔

اسفر کے اچانک استفسار کرنے پر انکی نظر غیر ارادی طور پر آمینہ کی جانب اٹھی تھی۔

اسفر سمجھ گیا تھا جو بھی ہوا تھا اس میں کچھ نہ کچھ قصور تو آمینہ بی کا ضرور ہی تھا۔ لیکن وہ

بالکل انجان بن گیا جیسے اس نے کچھ بھی نوٹس

ہی نہیں کیا۔

“ہماری عمر کافی ہوگئی ہے اسفر چندا۔ اب طبیعت کب بگڑ جائے کب سنبھل جائے اسکا کوئی اعتبار نہیں رہا ہے۔”

حسب عادت گرینی نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا تھا۔

لیکن وہ اسفر ہی کیا جو سیدھی سادھی بات کو بھی چھانٹ پھٹک کر اس میں سے اپنے مطلب کی

بات نہ نکال پائے۔ ایک شک بھری نظر اس نے وہاں موجود ہر فرد پر ڈالی تھی اور آمینہ بی پر تو خاص

اس نے گھورنے کا دورانیہ اور بھی بڑھا دیا تھا۔

“کچھ بھی ہو گرینی لیکن اسفر وقار الملک اصل وجہ پتا لگائے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا۔ آپ بےفکر ہوجائیں۔”

اس نے گرینی کا ہاتھ تھام کر عقیدت سے چوما تھا۔ ان سے پیار جتانے کا اسکا ہمیشہ سے یہی

انداز رہا تھا۔ جوابا” گرینی نے مسکرا کر اسکی پیشانی پر اپنا پیار بھرا لمس چھوڑا تھا۔ وہ اسکے پیار کے بدلے ہمیشہ اسکی پیشانی چوما کرتی تھیں اس سے انہیں بہت سکون محسوس ہوتا تھا۔

اسی پل نرمین اور شاہان بھی لیونگ ہال میں داخل

ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو پیار

سے تھام رکھا تھا۔ نرمین کی شاہان سے محبت پر تو اسفر کو قطعی شک نہیں تھا اسے خوش دیکھ کر وہ ہمیشہ ہی اچھا محسوس کرتا تھا لیکن شاہان کی نرمین سے محبت کی کہانی کا وہ ابھی تک یقین نہیں کرپایا تھا۔ اسی لیے شاہان کے آتے ہی

اسے ایک عجیب سی بےچینی محسوس ہونے لگتی تھی۔

سرعت سے وہ اپنی نشست تبدیل کر کے لائبہ کے بالکل ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوا تھا تاکہ اس پر مکمل طور پر دھیان دے سکے۔ ویسے بھی گزری

رات کے واقعے کے بعد سے لائبہ نے اس سے کوئی

بات نہیں کی تھی اور اسکے لیے اسکی خاموشی

کو سہنا کافی کھٹن ثابت ہورہا تھا۔ جب سے ان

دونوں میں اجنبیت کی دیوار گری تھی اور وہ ایک

دوسرے کے قریب آئے تھے تب سے ایسا لائبہ کی

طرف سے پہلی بار ہوا تھا اور اسفر کو ناچاہتے ہوئے بھی ایسا برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔

“آپ مجھ سے ابھی تک خفا ہیں لائبہ؟؟”

اسکےکان میں سرگوشی کرتا وہ بالکل اسکے شانے

سے نزدیک ہوا تھا۔ شاہان کی نگاہوں کے تعاقب میں ساتھ ہی اس نے سبک رفتاری سے دیکھا تھا۔

اسے شک ہوا وہ بھی اسکی اور لائبہ کی جانب متوجہ تھا۔ لیکن شاہان اپنی چوری کے پکڑے جانے

کے ڈر سے فوری اپنی نظر بچا گیا۔

البتہ لائبہ اتنی دیر میں صوفے سے اٹھ کر لاؤنج کی طرف جا چکی تھی۔ اسکے وہاں سے جاتے ہی اسفر بھی اسکے پیچھے پیچھے لاؤنج میں تیزی سے آیا

تھا۔

“اب میں آپکو کبھی بھی اکیلا چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتا۔”

وہاں آنے کے ساتھ ہی اسفر نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کہا تھا۔ اسکو سننے کے باوجود لائبہ چند قدم اور آگے چلتی گئی اور پھر یکدم رکی تھی۔

اسفر اس سے کچھ ہی قدم دور کھڑا اسکی ہر حرکت نوٹس کرتا اسکے جواب کا منتظر تھا۔

وہ جیسے ہی اسکی جانب پلٹی اسکی شعلہء زن نگاہیں اسفر کی نگاہوں سے جا ٹکرائیں۔ دونوں کے قدم زنجیر ہوئے۔

“میرے پاپا کے اصل قاتل آپ ہیں۔”

جانے کب اس نے پسٹل اٹھا لی تھی وہ نہیں جان پایا تھا اور اب وہ اس ہی کی پسٹل اس پر تانے اسکے بالکل سامنے کھڑی تھی۔

وہ اتنے زور سے چلائی تھی کہ اسفر یکلخت ٹھٹھکا تھا۔

اندر موجود سب ہی افراد انکی جانب متوجہ ہوسکتے تھے۔ وہ بےیقینی سے اسے تک رہا تھا۔

“پلیز چپ ہوجائیں لائبہ۔ آپ کچھ نہیں جانتیں۔”

آواز دھیمی رکھ کر وہ اسکی جانب بڑھا تھا تاکہ اسے چپ کراسکے۔

“وہیں رک جائیں اسفر وقار الملک۔ آپکا اصلی روپ لائبہ فردین جان چکی ہے۔ آپ ہی میرے پاپا کے قاتل ہیں اور میں اپنے پاپا کا بدلہ آپ سے ضرور لونگی۔”

بجائے چپ کرنے کے لائبہ کی آواز اور بھی تیز ہوئی تھی۔ وہ واقعی شاہان کی باتوں میں آکر اسفر کو ایک خونی سمجھ رہی تھی۔

“اوکے دین شوٹ می۔ واٹ آر یو ویٹنگ فار۔”

لائبہ کو پسٹل تانے دیکھ کر وہ دل برداشتہ ہوا تھا۔ اسکی سرد مہری نے اسفر کو بالکل ہکابکا کردیا تھا۔ اندر موجود سب ہی افراد لاؤنج کیطرف بھاگے تھے۔ ان دونوں کے چلانے کی آوازیں وہ سب سن چکے تھے۔

“شوٹ می ناو۔” اسفر بےخوفی سے بار بار لائبہ کو فائر کرنے کیلئے اکسا رہا تھا۔ اسے لائبہ کے ہاتھوں جیسے مرنا بھی قبول تھا۔

فائر کرنے اور نہ کرنے کے بیچ لائبہ سولی پر لٹکی تھی۔ شاہان کی باتوں میں آکر وہ ضرور اس پر پسٹل تان چکی تھی لیکن اسفر کو جان سے مارنے کی ہمت وہ کیسے کرتی۔ اسفر سے اسکی محبت کی ہتھکڑی اسے فائر کرنے سے باز رکھے ہوئے تھی۔ شش و پنج میں مبتلا لائبہ یکدم فرش پر گری تھی۔ کل سے اب تک جس شدید ذہنی دباؤ کا سامنا اسے کرنا پڑا تھا وہ بلاآخر اسکے حواس پر حاوی ہو کر اسے شل کر ہی چکا تھا۔ وہ ایک بار پھر ہار گئی تھی۔ البتہ اسفر اسکے گرتے ہی بجلی کی تیزی سے اسکی جانب لپکا تھا۔ لائبہ کے ہونٹوں کی پرپراہٹ سے ادا ہونے والا اپنا نام اسے پورے ہوش و حواس میں سنائی دیا تھا۔ جسے سنکر سکون کی ایک لہر اسفر کے تن بدن میں دوڑی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا ایسا سب وہ صرف ردعمل

کے نتیجے میں کر رہی ہے یہ اسکے دل کی مرضی ہرگز نہیں تھی۔