Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 23
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 23
Fareb Nazar by Gazal Saima
مینشن واپس آکر لائبہ نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ اس میں بات چیت کرنے کی سکت ہی نہیں رہی تھی۔
اسکا دل جس بری طرح سے کرچی کرچی ہوا تھا اسے لگا کبھی
وہ اسکے اثر سے باہر نہیں نکل سکے گی۔
کمرے میں اندھیرا کیے وہ جب سے آئی تھی اسی طرح بالکل ساکت بیٹھی تھی۔ اسکی آنکھوں میں شاہان کے ساتھ گزارے پرانے دن بار بار فلم کی صورت گھومے جارہے تھے۔
“دھوکہ۔۔۔اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔”
بےیقینی سے کہتے بہت دیر بعد اس نے گہری سانس اپنے
اندر کھینچی تھی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے ایک پرانا منظر اپنی پوری حسایت کے ساتھ ابھرا۔
اس منظر کا فسوں تھا یا لائبہ کی تشنہ دلی کہ وہ اسکے سحر میں کھونے سے خود کو روک ہی نہیں پائی۔
○○○○○○○○○
“ویسے مجھے پکا پتا ہے۔”
شاہان نے اپنے مخصوص شرارت بھرے انداز میں کہا تھا۔
لائبہ نے باوجود خفا ہونے کے اسے نظر بھر کے دیکھا۔
اس سے کچھ اور دیر خفا رہنا اب اسے دشوار لگ رہا تھا۔
وہ اسے اگر ایک موقع دیتا تو وہ جھٹ سے اسکے گلے میں اپنی بانہیں ڈالے کب کی مان بھی گئی ہوتی۔
“کیا پتا ہے تمہیں۔؟” دل میں اس نے اسے بدو کہا۔
“یہی کہ اوپر اوپر سے تم مجھ سے روٹھنے کا ڈرامہ کر رہی ہو لیکن اندر سے تم میرے ساتھ ہی ہو۔ کیوں پکڑ لیا ناں تمہارے
دل کا چور؟”
کتنا میٹھا تھا وہ اور کتنا مٹھائی جیسا انداز تھا اسکا لائبہ کو
منانے کا۔ وہ اسکے واری گئی۔
“جی نہیں میں تب تک ماننے والے نہیں جب تک تم میرے لیے کچھ الگ سا نہ کرو۔”
“اتنی جلدی ماننے والی تو میں بھی نہیں مسٹر شاہان۔”
وہ اسکے لیے کیا کرتا وہ دیکھنا چاہتی تھی۔
○○○○○○
لائبہ کی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگی تھیں۔
کچھ بھی ایسا نہیں تھا کہ وہ شاہان کا جھوٹ پکڑ سکتی۔
وہی منظر اسکے سامنے جاری رہا۔
دل ہی دل میں اس نے سوچا تو اسکی شہد آنکھیں چمکیں۔
“او یعنی تم میرے عشق کا امتحان لینا چاہتی ہو۔”
اسکی شہد آنکھوں میں دیکھتا وہ شوخیانہ انداز میں بولا۔
وہ اسکی آنکھوں کی چمک دیکھ چکا تھا۔
لائبہ کے چہرے کا رنگ گلابی رنگ میں ڈھلنے لگا۔
اسکی نظر کا اسے وارفتگی سے دیکھنا،،، لائبہ کی کمر میں سنسناہٹ کا احساس جگانے لگا۔
“اپنی نظریں ہٹاو مجھ پر سے،،، اے میرے انجان سجن۔”
اسے یوں خود کو ٹکر ٹکر دیکھے وہ نظر جھکا گئی۔
“کیوں ہٹاوں اپنی نظر۔ میری نظر کا قرار ہو تم۔ اے میرے انجان سجن۔”
لائبہ زیر لب مسکرا اٹھی۔ وہ جتنی شرمیلی تھی وہ اتنا ہی بیباک تھا۔
“مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ اے میرے انجان سجن۔” شرماہٹ سے اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا۔
اس نے محسوس کیا شاہان اسکا ایک ایک بدلتا نقش بڑی محویت
سے تک رہا ہے۔ وہ اور بھی بےکل ہونے لگی۔
“ہائے میں صدقے تم پر،،، اے میرے انجان سجن
وہی تو محبت ہے عشق ہے،،، اے میرے انجان سجن”
برملا کہتے وہ اسکی طرف بڑھنے لگا جیسے جیسے وہ پاس آتا
گیا،، لائبہ کو اپنی دھڑکن سو فیصد تیز بھاگتی محسوس ہوئی۔
اور پھر وہ اسکے بالکل پاس آگیا۔ سب فاصلہ طے کرکے۔
بالکل اسکے روبرو۔
لائبہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کی ہمت کی،، اب وہ کوئی غیر نہیں تھا،،،بلکہ اسکا اپنا تھا،،اسکی محبت کا مرکز ،،، اسکی بیچینیوں کا چین۔
کسمساتے ہوئے وہ اسکے بانہوں کے گھیرے میں سمٹ گئی۔
تاکہ اپنے دل میں اٹھے اس بیقراری کے طوفان کو روک سکے۔
شاہان نے اسکی مہربانی پر فرط محبت سے اسکے رخسار کو چوما۔
وہ اسکا عشق کا امتحان لینا چاہتی تھی،، اور وہ امتحان کے ساتھ ساتھ اسکے حواس پر بھی اپنی فتح کا جھنڈا لہرا چکا تھا۔
چٹخ چٹخ لائبہ کی آنکھوں میں وہ سارا منظر ٹوٹ کر چبھا تھا
اس ٹوٹے منظر کی کرچیاں اسے نہال کر رہی تھیں کہ یکلخت
اسکے روم کے ڈور پر ناک ہوا۔
لیکن لائبہ کو وہ ناک اس وقت اپنے دل پر دستک دیتا لگا۔ جو خاص
اسے واپس حال میں لوٹ لانے کیلئے تھا۔
ماضی کا قصہ تمام ہوا۔۔۔ اور اب وہ اپنی روتی لال آنکھوں کو
رگڑتی ڈور کھولنے بڑھ چکی تھی۔
یہ اسکا غم تھا۔۔۔ اسے کسی اور پر اسے ظاہر نہیں کرنا تھا۔
وہ ایسی مسافر تھی جسے بیچ راستے میں اپنی منزل کے سراب
ہونے کا پتا چلا تھا۔
اسکا غم بہت زیادہ تھا۔ لیکن بس اسی کے لیے۔
دوسروں کے لیے تو یہ اسکی بیوقوفی۔۔۔ حماقت اور بچکانہ
حرکت سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اسلیے اس نے غم کو اپنے دل سے لگائے رکھنے کی قسم کھائی اسے کسی کی ہمدردی کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ٹھک۔۔ٹھک۔۔۔ سوچوں کے گرداب میں چکر کھاتی لائبہ نے کھٹ سے ڈور اوپن کیا تھا۔
باہر اسفر کھڑا تھا۔ لائبہ غیر شعوری طور پر اسے تکتی گئی۔
بنا پلک جھپکے۔۔ یک ٹک۔۔ کچھ منٹ انکے درمیان غیر متوقع
خاموشی چھائی رہی۔
ایک دوسرے کے مقابل وہ دونوں بالکل خاموش کھڑے تھے۔۔۔ جیسے منجدھار کے دو انتہائی سرے۔
جنہیں ایک ہونا نہ بھی مقصود ہو مگر جنکا وجود ایک دوسرے کے لیے انتہائی ضروری ہو۔
“ایک چیز ہوتی ہے۔۔۔ فریب نظر۔۔۔ یعنی نظر کا دھوکہ۔۔۔
لوگ وہ نہیں ہوتے جو وہ دکھائی دیتے ہیں بلکہ لوگ وہ ہوتے
ہیں جو وہ چھپا کر رکھتے ہیں۔”
ذومعنی انداز میں کہتا ہوا اسفر خود ہی اسکے سامنے سے گزر کر
اندر داخل ہو چکا تھا۔
“بعض دفعہ جو ہم دیکھتے ہیں وہ ویسا نہیں ہوتا جو ہم سوچتے ہیں۔۔۔ اس میں غلط کیا ہے؟؟”
لائبہ نے تندہی سے جتاتے ہوئے گہری سانس اوپر کو کھینچی۔
وہ کم از کم اس ستمگر کے آگے تو خود کو کمزور ظاہر نہیں کرسکتی تھی۔
اور تیزی سے اپنی آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا۔
“کیا آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ شاہان کا اصل چہرہ دیکھ کر آپکو تکلیف نہیں ہوئی؟؟”
اسفر نے لائبہ کا بغور جائزہ لینے کے بعد کندھے اچکا کر پوچھا
تھا۔
“میں یہ کہنا چاہتی ہوں مسٹر اسفر وقار الملک کے آپ میرے
غم۔۔۔ میری تکلیف۔۔ بلکہ سب سے بڑھ کر میری پوری زندگی
سے دور رہیں۔۔۔ بہت دور۔۔۔ کیونکہ میں آپکو اپنا ہمدرد کبھی
تسلیم نہیں کرسکتی۔”
کرخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے لائبہ نے دو ٹوک انداز میں قدرے
زور سے کہا تھا۔
اسفر جوابا” اس پر اپنی نظریں مرکوز کرتا وہیں اسکے مقابل
ٹھہرا رہا تھا۔
ہر شے سے بےنیاز وہ اس لمحے بس اس ضدی لڑکی کو یک ٹک تک رہا تھا۔ جسکے دل کے ہزاروں ٹکڑے ہوچکے تھے لیکن جو
ابھی بھی خود کو مضبوط اور مستحکم ثابت کرنے پر تلی ہوئی
تھی۔
“شاید آپ بھول رہی ہیں لائبہ۔۔ آپ میری زندگی کا حصہ ہیں۔
لازمی اور ضروری۔”
اسفر نے اسکی جھکی نظر پر خاص فوکس کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
اسکا چہرہ نہ دیکھ کر ہی وہ اپنی بات کہنے پر مصر تھی۔
لیکن اسفر کسی نہ کسی طرح اسکی جھکی نظروں کو اپیل
کر ہی رہا تھا۔
اسکا برملا کہا ہوا جواب سنکر لائبہ کی سانس تنگ ہوئی، دل
تنگ ہوا، نگاہوں کے سامنے دائرے گھومتے دکھائی دیے۔
وہ اپنی جگہ منجمد ہوئے کھڑی رہ گئی۔
اس حق کا اختیار خود اس نے اسفر کو دیا تھا۔ اسکا اقرار خود
اس نے کیا تھا۔ اب وہ کیسے سب اسکے منہ پر جھٹلا سکتی
تھی۔ پھر اس میں اور شاہان میں فرق ہی کیا رہ جاتا۔
عجیب سی خفت نے لائبہ کو اس پل سر سے پاؤں تک گھیر لیا۔
“پلیز میں اس وقت بہت ڈسٹرب ہوں۔ مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔”
کوئی راستہ نہ پاکر اس نے جھک جانے ہی میں عافیت جانی۔
اسکا بدلتا رویہ دیکھ کر اسفر کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
ایک بات تو اسکی سمجھ میں اچھے سے آگئی تھی کہ وہ اس
سے اپنی بات منوا سکتا ہے لیکن منطق اور اصولی بنیاد پر۔
“آپ مجھ سے اپنا غم بانٹ سکتی ہیں لائبہ۔”
بجائے جانے کے وہ اسکے اور بھی قریب ہوا تھا۔
اپنے ہاتھوں میں اسکے ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے اسے پورے
یقین۔۔۔ پوری سچائی سے پیشکش کی تھی۔
لائبہ نے ناسمجھی میں اسے دیکھا تھا۔
اسفر کی نظر سے نظر ملانے کی کوشش بار آور ثابت ہوئی تھی۔
اسے مسحور سا لائبہ دیکھے گئی تھی۔
“پاکر کھو دینے سے بڑا کرب کوئی نہیں ہوتا۔”
لائبہ کا بےلچک اور خشک لہجہ اسکے ٹوٹے دل کی کیفیت بتانے
کے لیے کافی تھا۔
اسفر نے اسکے ہاتھوں کو اور بھی مضبوطی سے دبایا تھا۔
جیسے اسے یقین دلانا چاہتا ہو کہ کچھ بھی نہیں ٹوٹا۔۔ کچھ
بھی نہیں بدلا۔۔۔ سب ویسا ہی ہے۔
گرم ابلتے آنسو لائبہ کی ٹھوڑی سے پھسلتے ہوئے گردن تک
لڑھک رہے تھے۔ وہ اپنا ضبط کھو چکی تھی۔
تشویش کے عالم میں پہلی بار اسکی صراحی نما گردن کو
اسفر نے قدرے ہچکچاہٹ سے تکا تھا۔
اسکی گردن کا وہ سرمائی تل اسفر کو ایک پل میں اپنی جانب
متوجہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔
ابھی تک اس نے لائبہ کا اسکی اجازت کے بغیر مجموعی جائزہ نہیں لیا تھا۔ وہ تو بس اسکے چہرے اور ہاتھوں تک ہی خود کو
محدود رکھتا آیا تھا۔
اگر تم مسکراتی تو تمہاری نرم مسکراہٹ مجھے اپنی جان سے زیادہ پیاری ہوتی۔۔۔ تب تمہاری شہد رنگ آنکھیں میری واحد
پناہ اور تمہارا خوبصورت گلابی مائل چہرہ میری بیقراریوں کا مسکن ہوتا۔
خیالوں میں بہتا وہ جانے کہاں نکل چکا تھا۔
“محبت بہت مختصر ہے۔۔۔
لیکن اسے بھلانا بہت طویل۔۔”
باقی رہ جانے والا اور ایک آنسو لائبہ کی پلک سے ٹوٹ کر اسکے پژمردہ چہرے پر گرا تھا۔
“آپ اسکا غم منارہی ہیں جس نے آپکو دھوکہ دیا۔”
اسفر نے اسکے گال کا وہ واحد آنسو اپنی نرم پوروں سے پونچھتے
ہوئے اسے وارفتگی سے دیکھا۔
“نہیں۔۔۔ میں اسکا غم منارہی ہوں جسے میں نے اسکی محبت جان کر اپنے دل میں بسایا تھا۔”
اپنا چہرہ اپنی ہتھیلیوں کے بیچ چھپائے لائبہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اسفر نے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں۔
اسکے آنسوؤں کو چرانے پر قادر ہونے کے باوجود اسکے لیے
وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔
کتنا مجبور تھا وہ۔۔ کتنی آزاد تھی وہ۔
اسکے آنسو چرانے کے لیے بھی اسفر کو اسکی اجازت کی ضرورت تھی۔۔۔
جبکہ شاہان کی بیوفائی کے غم میں آنسو بہانے کے لیے
اسے اسکی کسی اجازت کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اسکے سامنے وہ خود کو اور بےبس نہیں دیکھ سکتا تھا۔
اسلیے انتہائی خاموشی سے اسکے روم سے نکل گیا۔
