584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 5

Fareb Nazar by Gazal Saima

“بگ برادر کال پک بھی کر لو یار،،، دو گھنٹے سے ٹرائی کر رہا ہوں اور تم ہو کہ کال ہی نہیں اٹھا رہے۔”

فاروق حسن کے دونوں سپوت آج بہت خوش تھے،،،کافی عرصہ بعد انکی زندگیوں نے جینے کا نیا ڈھنگ اپنانے کیلیے پر تولنے

شروع کر دیے تھے۔ سیف فاروق اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ

اپنی نئی زندگی کا آغاز کر چکا تھا،،،، جبکہ شاہان فاروق اپنی زندگی میں ہوا کے ٹھنڈے جھونکے کی طرح آنے والی لائبہ کے بارے میں سیف کو بتانے کیلئے بیتاب تھا۔

فاروق حسن مینشن کا ڈائننگ ہال اس وقت نہایت ہی عمدگی سے سجا ہوا تھا،،،کینڈلز کی دھیمی دھیمی روشنی،،،، اور مسحور کن خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ والز اور روف کئی رنگ کے بیلونز سے آراستہ تھیں جبکہ ڈائننگ ٹیبل کی زینت کیلیے شاہان نے اپنی اور سیف کی موسٹ فیورٹ ڈش چنی تھی۔ ایک بھائی کا ایک بھائی کو اپنی زندگی کے سب سے خوش کن فیصلے کو بتانے کا اپنا ہی منفرد انداز تھا۔ اور ایسا اسلیے تھا کہ شاہان نے فاروق حسن کی موت کے بعد سیف کو ہی اپنے دل کے سب سے زیادہ قریب پایا تھا،،، وہ اسے خود سے زیادہ محبت کرتا تھا،،، تو اب وہ کیسے اپنی خوشی کے لمحات کو اسکے ساتھ مل کر

سلیبریٹ نہیں کرتا۔

“اف یار بگ برادر اب تو فون اٹھا لو۔”

بار بار ملانے پر بھی سیف کا نمبر آف ہی جا رہا تھا۔ شاہان کو

سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر مسئلہ کیا ہے ایسا تو پہلے کبھی

نہیں ہوا کہ سیف اسکا فون نہ اٹھائے۔

اس نے ٹی وی آن کر لیا،،، تاکہ ٹائم گزار سکے،،،

“تھوڑی دیر میں بگ برادر نے بھی آہی جانا۔ ہوسکتا ہے پھر کسی آپریشن میں بزی ہو۔”

خود کو تسلی دیتا وہ ٹی وی دیکھنے لگا۔

○●□■○●□■○●□■

“لائبہ زرا دروازہ پر دیکھو کون ہے؟؟؟ کب سے بیل بج رہی تمہیں سنائی نہیں دے رہا کیا؟؟؟ کہیں وہ کالونی کا گارڈ اپنے پیسے

نہ لینے آیا ہو۔ اور دیکھو اگر وہ ہو تو کچن کی دوسری کیبنٹ میں میرا کلچ رکھا ہے نکال کر دے دینا۔”

کانوں میں ہینڈز فری لگائے،،، بےفکری سے لائبہ ڈرائنگ روم کی ڈسٹنگ کرنے میں لگی تھی۔ بی کی آواز اسے سنائی ہی نہیں دی۔

بیل پھر سے بجی تو آمینہ کو خود ہی ہلنا پڑا۔

“اف میرے خدا،،، اس لڑکی کا کیا بنے گا؟؟؟

جلدی سے صوفی کو گود سے اتار کر اس نے کاٹ میں سلایا

اور دروازہ کھولنے بھاگی ساتھ ہی لائبہ کو بھی سناتی گئی۔

“کیا سنائی نہیں دے رہا کب سے چلا رہی ہوں،،، دروازہ پر دیکھو کون ہے،،،مگر مجال ہے جو تم میری ایک بھی بات سن لو۔”

اپنی عادت کے مطابق وہ لائبہ کو سناتی ہوئی دروازہ کھول چکی

تھیں۔ لیکن سامنے جو کھڑا تھا اسے دیکھ کر وہ سکتے میں آگئی اور وہ بھی اسے دیکھتا اسی کیطرح سکتے میں تھا۔

“آئیے انور بھائی اندر آئیے،،، بی کو شاید شاک لگا ہے ہمیں یہاں صبح سویرے دیکھ کر،،،تبھی مہمانوں کو اندر آنے تک کا کہنا بھول گئیں ہیں۔”

انور کے پیچھے سے نکل کر اندر آتا وہ اسفر وقار الملک تھا اور ایک وہی تھا جو کرتا پہلے تھا اور سوچتا بعد میں تھا۔ اسلیے

اسے وہاں دیکھتے ہی آمینہ کی پیشانی پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہوئے۔

“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں،،، آئیں آپ لوگ اندر آئیں۔”

راستہ دیتی وہ جکدی سے سائڈ پر ہوئی۔

“میں یہاں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں،،، کہاں ہے وہ؟؟؟”

اسفر نے اندر آنے کے ساتھ ہی آمینہ پر بم پھوڑا۔

“کیسی بیوی؟؟؟ کیا بکواس کر رہے ہو؟؟؟”

آمینہ نے چور نظروں سے ڈرائنگ روم کیطرف دیکھا جہاں وہ اس سب سے بےخبر ڈسٹنگ کرنے میں مگن تھی۔

“کہیں وہ انہیں سن تو نہیں رہی ورنہ میرا بنا بنایاکھیل بگڑ جانا۔” آمینہ نے لمحے بھر کو سوچا۔

“اچھا میں اپنی منکوحہ کو لینے آؤں تو یہ بکواس ہے،،، اور آپ جو کل رات گرینی کے سامنے بک بک کر کے آئیں ہیں اسے کیا کہتی ہیں آپ؟؟؟”

انور ابھی تک بالکل خاموش تھا،،، اسفر ہی کافی تھا آمینہ سے نبٹنے کیلیے۔ اور ویسے بھی اسفر کے آگے بولنے کی ہمت کرنا

بالکل بیجا تھا،،، اپنے کھر دماغ کا وہ واحد ہی پیس تھا اس دنیا میں۔

“تمیز سے بات کرو اسفر،،،مت بھولو میں تم سے عمر میں دس

سال بڑی ہوں۔” آمینہ نے اسفر کو گھورتے ہوئے کہا۔

“اور آپ بھی مت بھولیں،،، کہ لائبہ میری بیوی ہے جسے میں آپکی وجہ سے خود سے الگ کرنے پر مجبور ہوا۔”

انگلی کا اشارہ کرتے وہ آمینہ کیطرف بڑھا۔

“بس کر اسفر،،،بس کر،،،آرام سے بات کرتے ہیں بیٹھ کر،،،

ہم یہاں جھگڑا کرنے نہیں آئے۔”

انور نے موقع کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے،،،، اسفر کے کندھے تھپتھپاتے کر اسے پرسکون ہونے کا اشارہ کیا۔

کون ہے بی؟؟؟ تعجب سے آمینہ کو دیکھتے لائبہ نے پوچھا تھا۔

اسی اثناء میں ڈرائنگ روم سے وہ باہر نکلی تو اسکی نظر دروازہ پر پڑی جہاں وہ تینوں کھڑے تھے اور اسے دیکھ کر چپ ہوگئے

تھے۔ تعجب سے وہ انہیں اور وہ اسے دیکھنے لگے۔

اسکے کانوں پر ابھی بھی ہینڈ فری لگی تھی،،،، وہ انکی بحث شاید نہیں سن پائی تھی۔

“تم اندر جاو لائبہ،،، اپنے کمرے میں،،،”

آمینہ کی گھورتی آنکھوں کا صاف مطلب سمجھتی وہ سمجھ چکی تھی۔

اس نے اسے وہاں سے جانے کو کہا تو وہ تیز تیز قدم اٹھاتے اپنے کمرے میں چلی گئی اور کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔

اسفر اسے بس دو سے تین منٹ ہی دیکھ پایا لیکن وہ اتنی سی دیر میں بھی اسکے دل کی اتہاگہرائیوں میں اتل پتل مچا گئی۔

“اندر آو بیٹھ کر اس مسئلے کا حل سوچتے ہیں۔”

اسکے جانے کے بعد آمینہ انہیں لے کر ڈرائنگ روم کیطرف بڑھ گئی۔

○●□■○●□■○●■

شام کے بعد رات ہوئی اور رات کے بعد صبح ہوگئی،،، لیکن سیف

فاروق گھر نہیں لوٹا۔ اسکا انتظار کرتے ہوئے،،،ٹی وی دیکھتے دیکھتے کب شاہان کی آنکھ لگی اسے پتا ہی نہیں چلا۔

موبائل کی رنگ ٹون پر وہ نیند سے بیدار ہوا،،،اور موبائل کو ہاتھ

میں لیے دیکھا تو ڈیفوڈل کے نام کے ساتھ لائبہ کی شہد آنکھیں اسے تک رہیں تھیں۔

♡♡♡رات ہے جسکے تصور میں کاٹی

آنکھ کھلتے ہی اسکا دیدار ہوا۔♡♡♡

“واہ کیا خوش نصیبی ہے آپکی شاہان فاروق۔ اب تو آپ شاعر بھی بن گئے ہیں۔”اپنے دل کی بیقرار دھڑکنوں کے ساتھ اس

نے لائبہ کی کال پک کی۔

“گڈ مارننگ ڈئیر فرینڈ۔”

اس نے خوشی سے اسے مخاطب کیا۔

“ہائی کیسے ہو؟؟” لائبہ نے چہک کر پوچھا تھا۔

“آئی ایم فائن۔ تم کیسی ہو؟؟؟”

اس نے بھی فل ریلکس موڈ میں جواب دیا۔

“میں بھی ٹھیک۔” وہ اور بھی اطمینان سے بولی۔

“اور تمہاری شہد آنکھیں کیسی ہیں؟؟؟”

شاہان نے اسکی آنکھوں کو تصور کرتے جھٹ سے پوچھا۔

ہاہاہاہا،،،وہ کھلکھلا اٹھی۔

“بالکل شہد جیسی ہی ہیں۔”

پھر اپنی آنکھوں کو خود بھی سامنے لگے مرر میں دیکھتے ہوئے شرما کر بولی۔

“ہاہاہا۔۔ ڈٹس گڈ۔”

اسکا معصوم جواب سنکر وہ بھی مسکرا پڑا۔

“اور تم کیا کر رہے ہو ؟؟”

لائبہ ابھی بھی اپنی آنکھوں کو مرر میں دیکھ رہی تھی۔

“تمہیں یاد۔” اس نے جھٹ سے کہا۔ لائبہ کے چہرے کی اسمائل اور گہری ہوئی۔

“مجھے یاد کیوں؟؟” اس نے خود کو مرر میں دیکھتے استفسار

کیا۔

“کیونکہ میرا دل کر رہا ہے ایسا،، وہ تمہیں یاد کرنا چاہتا ہے،،

اسلیے میں بھی تمہیں یاد کر رہا اسکے ساتھ ساتھ۔”

شاہان نے مسکراتے ہوئے ہلکے ہلکے سے کہا تو لائبہ کا چہرہ

بلش کرنے لگا۔

“اوہ اچھا۔” شرم کے مارے وہ اتنا ہی بول پائی۔

لیکن اسکی تیز ہوتی دھڑکنیں شاہان کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔

○●□■○●□■○●□■

“ٹھیک ہے پھر آپ بھی اسفر وقار الملک کا فیصلہ سن لیں۔”

“انور وقار الملک تبھی معافی مانگے گا،، جب آمینہ فردین اپنی چھوٹی بہن لائبہ فردین کو خوشی خوشی اسکے شوہر اسفر وقار الملک کے ساتھ رخصت کرینگی۔”

ڈرائنگ روم سے آتے شور کی آواز نے لائبہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ شاہان سے بات کرتے کرتے ہی وہ کمرےکا دروازہ کھول

کر ڈرائنگ روم سے آنے والی آوازوں کو سننے لگی۔

“ایسا کبھی نہیں ہوگا اسفر وقار الملک،،،تب تک تو کبھی نہیں،،، جب تک اسکی بڑی بہن آمینہ فردین زندہ ہے۔”

آمینہ کو زور سے کہتے لائبہ نے سنا۔ وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔

“یہ سب کیا چل رہا ہے؟؟”

غیر ارادی طور پر بڑبڑاتے ہوئے وہ کمرے سے نکل کر باہر آچکی تھی اور اب ڈرائنگ روم سے آتی آوازیں اسے صاف سنائی دینے لگیں تھیں۔

“زبردستی آپ اسے یہاں نہیں روک سکتیں،،،اور اسکی مرضی کے خلاف بھی نہیں۔”

“اس نے سنا کوئی کہہ رہا تھا لیکن وہ کون تھا،، لائبہ نہیں جانتی تھی۔

دل ہی دل میں وہ اس سے خوف محسوس کرنے لگی۔

“تم جو کوئی بھی ہو مسٹر،،، بہت ہی اکھڑ اور بدمزاج ہو۔

ورنہ میری بی سے اتنی بدتمیزی سے بات کرنے کا سوچتے بھی نہیں۔” دل ہی دل میں وہ اسفر کو برا کہے گئی۔

“اسفر وقار الملک میں آمینہ فردین ہوں،،، اور میری مرضی کے خلاف وہ کچھ بھی نہیں کرنے والی۔ اس خیال کو اپنے دماغ سے

نکال دو۔”

آمینہ کے پھر سے زور سے بات کرنے پر وہ چونکی۔

اسفر وقار الملک کون ہے یہ؟؟؟ لائبہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔

“وہ ویسا ہی کرے گی،،، جیسا اسکا شوہر چاہے گا،،،

سنا آپ نے۔”

“لائبہ فردین ویسا ہی کرے گی جیسا اسفر وقار الملک چاہیگا۔

سمجھ گئیں آپ۔”

اسفر کے چلانے سے وہ سہم کر رہ گئی۔

“شوہر۔” وہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔

اسکی شہد آنکھیں حیرت سے پھیلیں تھیں۔ شاہان کا چہرہ

ایک سیکنڈ میں اسکے سامنے ابھرا اور ڈوبا تھا۔

“بس آپ دیکھتی جائیں اب میں اسے کیسے لیکر جاتا ہوں۔”

وہی آواز اسکی سن سماعت سے پھر ٹکرائی۔ وہ گم سم کھڑی

ابھی تک موبائل ویسے ہی کان پر لگائے تھی۔ لیکن اب وہ بالکل

چپ تھی شاہان اسکے اچانک ہی چھپ ہوجانے پر بار بار اسے

پکار رہا تھا لیکن وہ اس سےکچھ بھی کہنے کی ہمت تک نہیں

کر پارہی تھی۔

اور پھر ان لوگوں کے وہاں سے جانے کی آواز اس نے سنی۔

بی دروازہ بند کر کے واپس لوٹیں تو اسے وہاں کھڑا دیکھ کر

انکے چہرے کا رنگ پھیکا پڑنے لگا۔

“تم سن چکی ہو،،،لائبو ،،،،کیا سب؟؟؟”

انکے دیدے حیرت سے پھیلے۔

“شوہر،،، اسفر وقار الملک،،،”

لاشعوری طور پر لائبہ بڑبڑائے گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہیں فرش پر گر پڑی۔

“لائبہ میری جان۔ میری لائبو۔”

بی اسکی طرف بھاگیں۔

موبائل کی دوسری طرف لائن پر موجود شاہان اسے بڑبڑاتا ہوا

سن چکا تھا اور وہ تیزی سے اسکے گھر کیطرف بھاگا تھا۔

○●□■○●□■○●□■

:لائبہ کو اپنی دلہن بنانےکا اس سے اچھا موقع مجھے ملنے والا نہیں تھا انو بھیا۔ شکریہ میرا ساتھ دینے کا۔”

کار میں ساتھ ساتھ بیٹھے انور اور اسفر مینشن کیطرف واپس لوٹ رہے تھے۔

اس بات سے بالکل بےخبر کہ لائبہ اپنے کانوں سے سب سن رہی تھی اور اسکے لیے یہ سب برداشت کرنا ناممکن ہو جائیگا۔

“لیکن گرینی کو کیا کہو گے اسفر،،، وہ تو بال کی کھال نکالے گیں۔”

انور نے سوالیہ نظروں سے اسفر کیطرف دیکھا۔

“گرینی مجھ پر پورا بھروسہ کرتی ہیں،،آپ فکر نہ کریں انہیں میں سنبھال لونگا اور لائبہ کو میری دلہن بنانے کی، ، شدت سے

وہ بھی منتظر ہیں اسلیے بے فکر رہیں،،،، سب کچھ اسفر وقار الملک کے کنڑول میں ہے۔”

مسکراتے ہوئے اسفر نے انور کو دیکھا۔

“بڑی چیز ہے تو اسفر میاں۔”

انور نے اسے آنکھ مارتے ہوئے لہک کر کہا تھا۔

ہاہاہاہاہاہا۔ اسفر نے اسکی بات پر زور کا قہقہہ لگایا۔

○●□■○●□■○●□■

“لائبہ میری چندا آنکھیں کھولو۔ مجھ سے بات کرو۔”

بی اسکا سر گود میں لیے بیٹھیں تھیں جب اسے ہوش آیا۔ کوئی

پانچ سات منٹ ہی وہ بیہوش رہی ہوگی۔

“مجھے کیا ہوا ہے؟؟؟ بی مجھے کیا ہوا ہے؟؟”

پریشانی سے کہتی وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔

“کچھ نہیں چندا،،،بس تمہیں چکر آیا اور تم فرش پر گر پڑی۔

منع بھی کیا ہے میں نے تمہیں کئی بار اتنا کام اکیلے مت کیا

کرو،،اتنی کمزور سی تو ہو لیکن تمہیں تو کچھ سنائی ہی نہیں دیتا۔”

ناراضگی کا اظہار کرتے بی اسے اٹھنے میں سہارا دینے لگیں کہ

ڈور بیل پھر سے بج اٹھی۔

“اف اب کون آگیا؟؟؟ کہیں وہ لوگ پھر سے تو نہیں آئے۔”

بڑبڑاتے ہوئے آمینہ اسے اسکے کمرے میں بیڈ پر لٹا کر دروازے کیطرف آئی۔

“کون ہے؟؟؟” اس نے آواز لگائی۔

“جی میں ہوں شاہان،،،شاہان فاروق۔”

باہر کھڑے شاہان نے زور سے کہا۔

“کیا کام ہے بولو؟؟؟” آمینہ دروازہ کھولے اسے گھورتے ہوئے بولی۔وہ اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی۔

“السلام علیکم۔” شاہان نے جھٹ سے سلام کیا۔

“وعلیکم السلام۔” آمینہ نے تعجب ہی سے گھورتے جواب دیا۔

“میں دراصل لائبہ کا کلاس فیلو ہوں۔”

شاہان رک رک کر بولا۔

“تو؟؟؟” آمینہ نے رکائی سے کہا۔

“انہیں یہ نوٹس دینے تھے۔”

اس نے ہاتھ میں پکڑے نوٹس آگے بڑھائے۔

“ٹھیک ہے،،،میں دے دونگی۔”

آمینہ نے جھٹ سے نوٹس پکڑے اور کھٹ سے دروازہ بند کر دیا۔

“اوہ شٹ یار،،، یہ تو کسی ایس ایچ او سے کم نہیں۔”

شاہان نے واپس پلٹتے افسوس سے کہا۔

اسکا لائبہ کو ایک نظر دیکھنے،،،کچھ دیر بات کرنے اور کال

پر جو وہ بڑبڑا رہی تھی،،، اس حوالے سے بات کرنے کا سارا پروگرام چوپٹ ہوچکا تھا۔