Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 6
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 6
Fareb Nazar by Gazal Saima
“تمہارا کوئی کلاس فیلو یہیں قریب میں رہتا ہے کیا؟؟”
شاہان کے دیے نوٹس لیے بی واپس آئیں تو لائبہ سے پوچھنے لگیں۔
“نہیں،،،نہیں،،،ہاں اچھا وہ۔ میری کلاس میں نہیں وہ۔۔”
اٹک اٹک کر بولتے لائبہ نروس ہو گئی۔
“اچھا اچھا بابا ٹھیک ہے بس میں نے ایسے ہی پوچھا ہے اتنا
زیادہ بھی نروس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
بی نے سائڈ ٹیبل پر نوٹس رکھتے ہوئے پیار سے اسکے گال تھپتھپائے تاکہ وہ پرسکون ہو جائے۔
لائبہ منہ پھٹ اور ضدی ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے کتنا ڈرتی
تھی وہ اچھی طرح جانتی تھیں۔ اور اسکے اس انجانے خوف کی
وجہ بھی وہ خود ہی تھیں۔
منیر سے طلاق ہو جانےکے بعد جب وہ واپس گھر آئیں تو لائبہ
صرف تیرہ سال کی بہت ہی معصوم بچی تھی جو فردین ملک اور شاہانہ فردین کی بہت ہی لاڈلی بھی تھی اور انہیں اسکے نخرے اٹھاتے دیکھ کر آمینہ اندر ہی اندر اس سے جیلس ہوتی رہیں لیکن
کبھی اسے ایسا کچھ ظاہر نہیں کیا۔
اور جب ایک ہی سال کے اندر پہلے فردین ملک اور پھر شاہانہ بیگم اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو لائبہ کی تمام تر ذمےداری آمینہ
نے ہی نبھائی لیکن اس نے اسکے دل میں ہر چیز، ہر بات کا اتنا خوف بیٹھا دیا اور اسے حد سے زیادہ حساس بنا دیا۔ لائبہ اب ذرا سی پریشان ہوتی تو فورا” بیہوش ہوجاتی اور جب اسے ہوش آتا تو وہ کچھ دیر پہلے ہونے والی پریشانی بالکل بھول چکی ہوتی۔
جب آمینہ کو ڈاکٹر نے بتایا کہ دراصل لائبہ ایک دماغی مرض کا
شکار ہے اور یہ اسی وجہ سے اسکے ساتھ ہوتا ہے تو اس نے لائبہ
سے یہ بات چھپائے رکھی اور اسے اسکی اس بیماری سے کبھی
آگاہ نہیں کیا۔ اسلیے لائبہ آج تک اپنی اس بیماری کے بارے میں بالکل بےخبر تھی اور اسی وجہ سے جب اس نے آج وہ سب سنا اور پریشان ہوگئی تو اپنی اسی بیماری کے باعث بیہوش ہوگئی تھی اور ہوش آنے پر وہ پریشانی کے متعلق ہر بات بھول گئی۔
“اچھا لائبو،،، میری چندا،،،بی کا ڈولی بیبی،،، ایک بات تو بتاؤ۔” بی اسے لاڈ سے سہلاتے ہوئے بولیں۔
“جی بی پوچھیں۔”
انکے پیار پر وہ بالکل ہی انکے کہنے میں آگئی۔
“تم نے بھی کیا کسی کے زور زور سے بولنے کی آواز سنی تھی آج ؟؟؟”
تعجب سے آنکھیں سکیڑیں بی نے اسکا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے کچھ تھوڑا بہت یاد ہو۔
دراصل وہ اپنے دل کی تسلی کرنا چاہتی تھی۔
“زور زور سے بولنے کی آواز؟؟؟”
لائبہ نے یاد کرنے کیلیے اپنے دماغ پر زور ڈالا۔ لیکن اسے ایسا کچھ بھی یاد نہیں آیا۔
“نہیں تو بی میں نے تو کسی شور کی آواز نہیں سنی تھی۔”
معصومیت سے کہتے اس نے بی کو دیکھا جو پہلے ہی سے اسے
بغور دیکھ رہیں تھیں۔
“کیا واقعی تم نے کوئی شور نہیں سنا لائبو؟؟”
بی نے ایک بار پھر سے اسے کریدا۔
“نہیں بی بالکل بھی نہیں۔ آپکا وہم ہوگا۔”
لائبہ نے پورے اطمینان سے کہا۔
“ہاں ہوسکتا ہے پھر میرا وہم ہی ہو۔ نمل اور صوفی کے شور میں ویسے بھی کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔ مجھے بھی وہم ہی ہوا ہوگا۔”
بی نے اسکے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا تم کچھ دیر ریسٹ کرلو اتنا کام کر کے تھک گئی ہو۔”
پیلو کو اسکے سر کے نیچے سیٹ کر کے بی اسکے کمرے کی لائٹ آف کر کے باہر نکل آئیں۔
کونسے نوٹس لے آیا یہ ؟؟؟ اس نے بی کے جانے کے بعد سائڈ
ٹیبل پر رکھے ان نوٹس کو اٹھایا اور اپنے موبائل کی لائٹ آن
کر کے ایک نظر دیکھنے لگی۔
“چلو شکر ہے،،، اسے تو کچھ بھی یاد نہیں آمینہ،،،اب تم اپنا کھیل جاری رکھ سکتی ہو۔”
لائبہ کے کمرے سے نکلنے کے بعد بی نے سوچا تھا،،،،
خوشی انکے چہرے پر عیاں تھی۔
○●□■○●□■○●□■
شاہان نوٹس دے کر واپس آیا تو حسرت سے رات کی اپنی سب
تیاری کو دیکھا،،، ہر چیز ویسے کی ویسے ہی اپنی جگہ موجود
تھی،،،اسکے دل میں افسردگی کا احساس جاگا۔
“جب تک آپ نہیں آجاتے بگ برادر،،، تب تک شاہان ایک بھی
چیز کو اسکی جگہ سے نہیں ہٹائے گا۔ اس خوشی کی سلیبریشن
تو ضرور ہوگی،،، چاہے جتنا بھی وقت بیت جائے۔”
شاہان نے ایک نظر ڈائننگ ہال پر ڈالی اور پھر اپنے روم میں
چلا آیا۔ موبائل اٹھا کر دیکھا تو لاسٹ کال وہی لائبہ والی تھی۔
“ویئر آر یو بگ برادر ؟” تشویش سے کہتا وہ ٹاول اٹھا کر فریش ہونے کیلیے چل دیا۔
ابھی اس نے شاور کھولا ہی تھا کہ اسے ڈور بیل سنائی دی۔
“بگ برادر کمنگ بیک۔”
خوشی سے چلاتے اس نے ٹاول لپیٹا اور بھاگم بھاگ واشروم سے
باہر نکلا اور ڈور کھولنے دوڑا۔
“کہاں تھے آپ بگ برادر ؟”
سیف کو وہاں پاکر اسکی خوشی دیدنی تھی،،،، ڈور کھولتے ہی وہ بولا تھا۔ لیکن سامنے سیف کو کسی لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالا دیکھ کر وہ سٹپٹا گیا۔
“ہو از شی؟؟؟” تعجب سے شاہان نے پوچھا۔
“شی از مائی وائف،،،مشعل السیف”
سیف کے منہ سے اس لڑکی کے بارے میں جان کر شاہان کے دل پر زور کا پنچ لگا۔
“وائف؟؟؟” شاہان کی آنکھوں میں بےیقینی پھیلی۔ بگ برادر آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔ وہ خالی خالی نظروں سے سیف کو چند سیکنڈ تکتا رہا۔
“اسمال برادر کی بھابھی،،، اور میں تجھے منانے کیلیے بالکل تیار ہوں،،، اسلیے پہلے مجھے اندر تو آنے دے۔”
سیف نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے گلے سے لگانا چاہا۔
لیکن شاہان نے اپنا بڑھا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔سیف نے اسے اسکی حرکت پر اسے بےیقینی سے دیکھا۔
“congratulations “
شاہان سر کو جھکائے دھیرے سے بول کر پیچھے پلٹا اور واپس اپنے روم میں جاکر ڈور لاک کر لیا۔
“شٹ،،،، میں نے کہا تھا ناں آپ سے سیف،،، وہ ہرٹ ہو جائیگا۔”
مشعل نے سیف کیطرف فکرمندی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں منا لونگا اسے،،، یو ڈونٹ وری۔”
مشعل کی کمر تھپتھپاتے سیف نے اسے مسکرا کر دیکھا۔
وہ دونوں اندر آئے تو سامنے ڈائننگ ہال پر نظر پڑی جہاں کسی
سلیبریشن کی تیاری معلوم ہورہی تھی۔
“واو یہ سب کیا ہے؟؟ کیا وہ جانتا تھا؟؟؟ ہمیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔”
مشعل تعجب سے بولتی ٹیبل پر سجی ڈشز دیکھنے لگی۔ سیف بھی حیرانگی سے سب دیکھے گیا اور پھر اسکی نظر اس
ڈیفوڈل سے سجے کیک پر ٹک گئی جسے ٹیبل کے بالکل سینٹر
میں کاٹنے کیلیے رکھا گیا تھا۔
“یہ سلیبریشن ہمارے لیے نہیں،،،بلکہ اسکے اپنے لیے ہے۔”
سیف ڈیفوڈل کے فلیورز سے سجے اس کیک کو دیکھ کر سمجھ چکا تھا البتہ مشعل نے اسکے انکشاف پر حیرت سے اسکی
طرف دیکھا تھا۔ وہ اسے پراسرار لگا تھا جیسے کچھ دیر پہلے
ہی شاہان کو دیکھ کر اس نے محسوس کیا تھا۔
“تو کیا یہ دونوں برادرز ہی پراسرار شخصیت کے مالک ہیں اور مخھے انکی پہیلیاں خود ہی بھوجنی پڑیں گی۔”
مشعل نے لمحے بھر کو سوچا۔
○●□■○●□■○●■
“سر آپکے لیے لیٹر آیا ہے۔” اسفر مینشن میں داخل ہی ہوا تھا کہ ملازمہ نے اسے بتایا۔
“اسے میرے روم میں رکھ دو،،، اور میرے لیے کافی بنا کر گرینی کی اسٹڈی میں لے آنا۔”
اسفر سرعت سے کہتا گرینی کی اسٹڈی کیطرف چل دیا۔
“اوہ ہو تو میری پیاری گرینی کیا پڑھ رہیں؟؟”
گرینی کو پیار سے چمٹاتے وہ بڑے ہی لاڈ سے بولا۔
“ارے آگیا تو میرا شہزادہ!!”
گرینی نے اسکے گالوں کو پیار سے چومتے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔
“گرینی اب یہ شہزادہ اولڈ فیشن ہوگیا ہے،،، کچھ نیا کہا کرو ناں۔ میں آج کی دنیا کا شہزادہ ہوں،،، پرنس ہیلری چارلس
کی ٹکر کا تو ہوں ہی۔ ذرا اپنا نظر کا چشمہ ٹھیک سے لگا کر
تو دیکھو۔”
اسفر نے شرارت سے گرینی کو آنکھ ماری۔
“سدھر جا،،، میرے بچے سدھر جا،،، ورنہ تیری بیوی نے آکر
سب سے پہلے تیرے لتے لینے ہیں۔”
گرینی نے بھی شرارت سے بھرپور نظر اس پر ڈالی۔
“ارے گرینی وہ تو جو بھی لے،،، جو بھی مانگے،،، اسکا پرنس
خوشی خوشی دیگا اسے۔”
اسفر کے خیالوں میں لائبہ کا پورا وجود آکھڑا ہوا،،، وہ آج
ہی تو اسے ان سالوں بعد یوں اچانک دیکھ کر لوٹا تھا۔
لائبہ کو تصور میں لاتے ہی اسکا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
گرینی نے اسکے چہرے کو بغور دیکھا۔
“پرنس اسفر وقار الملک،،، گرینی کو شک پڑ رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ تو ضرور ہے”
اسے کسی کے خیالوں میں کھوئے دیکھ کر گرینی نے پھر سے
شرارت بھرے انداز سے کہا۔
“بہت زیادہ گڑبڑ ہے گرینی،،، بہت زیادہ۔”
“اس نے ایک دم سے گرینی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دل پر رکھا۔
اسکا خیال ہی پرنس اسفر وقار الملک کی دھڑکنیں تیز رفتاری سے دوڑانے کے لیے بہت تھا لیکن اب ایسا نہیں گرینی،،،اب
اسفر وقار الملک کو اپنی خوبرو بیوی،،، اپنے ساتھ چاہیے،،،
اپنے پاس چاہیے۔”
گرینی کا ہاتھ اپنے دل پر رکھے وہ مسلسل ہی بولے گیا۔
وہ یوں بےساختگی سے بولتا ہوا گرینی کو وہی سالوں پہلے والا
چھوٹا معصوم سا اسفر لگا،،،جسے اپنی پسند کی کوئی چیز
چاہیے ہوتی تو وہ اسی طرح انکے سامنے اپنے گھٹنوں پر بیٹھ
کر انکا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر اس چیز کیلیے اپنی شدت سے
ضرورت کا احساس دلاتا۔
اور گرینی کو اسکا وہ بھولا پن اتنا پیارا لگتا کہ اگلے ہی پل اسکی پسند کی وہ چیز اسکے ہاتھوں میں ہوتی۔
اور آج کئی سالوں بعد اس نے ایک بار پھر اپنی پسند کی شدت
سے ضرورت کا احساس گرینی کو اپنے اسی بھولے پن سے
کرایا تھا۔
گرینی اسے پیار بھری نظر سے دیکھ رہیں تھیں۔
وہ انکے دل میں سب سے الگ جگہ رکھتا تھا،، اسکو ہمیشہ ہی
گرینی کی سب سے جدا محبت ملی تھی،،، سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ انہیں سب سے زیادہ عزیز تھا۔ اسکی معصومیت،،،،اسکا بھولا پن،،، انہیں اسکی ایک ایک ادا سے
لگاو تھا،،، وہ انکا سب سے لاڈلا پوتا تھا۔ بس ایک چیز ایسی
تھی جو اسکے معاملے میں گرینی کو ہمیشہ پریشان کر ڈالتی
تھی اور وہ تھا اسکا غصہ،،،اسکی نفرت،،،اسکا بدلہ،،،
“اچھا تو بتاو ناں آمینہ سے کیا بات ہوئی؟؟”
“کیا وہ بھی وہاں آئی تھی؟؟”
گرینی نے بہت ہی لاڈ سے اس سے پوچھا۔
وہ جانتی تھیں،،، اسفر،،،،، لائبہ کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہے۔ اسکا دل بہلانا،،،، اسکی بات سننا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ اسلیے وہ اس سے خود ہی وہ سب پوچھنے لگیں جو اس وقت وہ مجنوں بنا محسوس کر رہا تھا۔
“ہاں آئی تھی لیکن بس دو تین منٹ کیلیے۔ بی کا اس پر بہت رعب لگ رہا تھا۔ وہ رکے بغیر ہی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
اور ایسا کرنے کا اسے بی نے ہی کہا تھا۔”
گرینی کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا اب وہ بتا رہا تھا لیکن
اسکی باتوں میں اتنی خفگی،،،اتنی بےبسی امڈ آئی تھی کہ
گرینی کو بھی اسکی حالت پر ترس آنے لگا۔
“لیکن اس نے ایسا کیوں کیا؟تم لوگوں کو ملوایا کیوں نہیں؟؟”
گرینی نے بےچینی سے پہلو بدلا۔
“اگر میں کہوں آمینہ بی اسکے ساتھ زبردستی کر رہی ہیں۔ وہ
اسے جانتے بوجھتے مجھ سے دور کر رہیں ہیں تو آپ کبھی بھی
میرا یقین نہیں کرینگی ناں گرینی؟؟؟”
کتنا درد تھا اسکا پوچھنے میں،،، جیسے وہ لائبہ کی ضرورت
شدت سے محسوس کر رہا ہو،،جیسے اسے ابھی اور اسی وقت اسکے پاس ہونا چاہئے۔
اسفر نے گرینی کو بغور دیکھا وہ شش و پنج کا شکار تھیں۔
ایک طرف وہ تھا جو انکا سب سے لاڈلا تھا اور ایک طرف انکے
مرحوم بیٹے کی بیٹی تھی۔ گرینی سوچ میں پڑ گئیں۔
“میں اب اور اسکی دوری برداشت نہیں کرسکتا،،،
اپنی دلہن بنا کر لانا چاہتا ہوں اسے،،،
آپکو میرا ساتھ دینا ہی ہوگا۔”
بلاآخر اسکا ضبط جواب دے گیا اور وہ اپنے دل کی خواہش
گرینی کے گوش گزار کر گیا۔
آپ میرا ساتھ دیں گی ناں گرینی؟؟؟
اسی درد،،اسی شدت،،،اسی خالی پن کا احاطہ کیے،،،
وہ انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
گرینی نے اپنے تڑپتے لاڈلے کو نظر بھر کے دیکھا۔
“اگر میرے بس میں ہوتا تو میرے چندا میں ابھی لائبہ کو
تمہاری دلہن بنا کر لے آتی۔”
وہ دل ہی دل میں سوچیں گئیں۔ بہرحال وہ گرینی تھیں،،انہیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ہر پہلو سے سوچنا تھا۔ وہ
چاہتے ہوئے بھی یکلخت کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
اسرار کرتا وہ گرینی کا ہاتھ ایک بار پھر سے تھام چکا تھا۔
اور اسکا ایسا کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ انکار کی صورت میں وہ کچھ بھی کر گزرے گا۔
“لائبہ کے بغیر جینے کا،،،، اسفر وقار الملک تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آمینہ بی کو سمجھائیں انور وقار الملک کی معافی انہیں تبھی ہی نصیب ہوگی جب وہ لائبہ فردین کو اسفر وقار الملک کے ساتھ رخصت کرینگی،،،،، اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر وہ اسفر وقار الملک کے دشمنوں میں شامل ہو جائیں گی اور اسفر وقار الملک اپنے دشمنوں کو کبھی معاف نہیں کرتا،،، گرینی اتنا
تو آپ جانتی ہی ہیں ناں۔”
مسکراتے ہوئے اسفر یہ سب کہہ رہا تھا لیکن گرینی اسکا ایسی سچویشن میں مسکرانے کا مطلب اچھی طرح سمجھ چکی تھیں۔ آخر کو وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھیں۔ اور ایک
یہی وجہ تھی جو انہیں اسکے غصے،،اسکی نفرت،،،اسکے
بدلے سے خوف آتا تھا۔
“تم فکر نہ کرو میرے پرنس،،، آمینہ کوئی بیوقوفی نہیں کرے گی۔” تحمل سے کہتے گرینی نے اسکا ہاتھ تھپتھپایا تاکہ وہ بالکل پرسکون ہوجائے۔
○●□■○●□■○●□■
شاہان باتھ لے کر باہر نکلا تو سیف ڈور ناک کر رہا تھا۔
“شاہان میرے بچے،،میرے بیٹے،،،ایک بار اپنے بگ برادر کی بات تو سن لو۔”
ناک کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شاہان کو مسلسل پکار رہا تھا۔
“مجھے کوئی بات نہیں کرنی،،، مجھے کچھ نہیں سننا،،،
سنا آپ نے،،،،اتنا ہی اگر میں امپورٹنٹ ہوتا آپکے لیے تو آپ مجھے ایک بار ہی ضرور بتا دیتے،،،لیکن نہیں میں تو آپکے لیے
کچھ بھی نہیں،،سب جھوٹ کہا کرتے تھے آپ،،،شاہان آپکے
دل میں بالکل بھی نہیں رہتا،،،بالکل بھی نہیں۔”
ڈور اوپن کیے،،، سیف کے سامنے کھڑا،،، اسکی غلطی کا
احساس دلاتے جذباتی انداز میں شاہان سناتا ہی گیا۔
“میرے چندا،،،، میری بات تو سنو،،،،مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دو،،، اسمال برادر۔”
سیف نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے
کچھ نہیں سنا۔ وہ واقعی بہت ہرٹ ہوا تھا اور اب اسے منانا
اتنا بھی آسان نہیں تھا۔
“آپ نے اسمال برادر کا دل توڑا ہے اور اب اسکی سزا آپکو
مل کر رہے گی۔”
غصے سے چلاتا ہوا شاہان اسے نظرانداز کرتا بائیک کی کیز اٹھاتا باہر نکل گیا۔
“وہ بہت ہرٹ ہوا ہے سیف،،،آپکو ایک بار اسے ضرور بتا دینا چاہیے تھا۔ جانے اس نے کیا سوچ رکھا تھا اور آپکے اس اچانک
سرپرائز نے اسے شاک ہی کر دیا۔”
مشعل نے اپنے گیلے بالوں کو ڈرائیر سے سکھاتے ہوئے سیف کو کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ وہ اسے اور بھی پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“مائی ڈارلنگ،،آپکو پتا ہے ناں،،آپکے ہیبی سے یہ کن انکھیاں
بالکل بھی برداشت نہیں ہوتیں،،،کم از کم ایک دو بار تو مجھے
پوری طرح دیکھ کر آپ بات کر ہی سکتی ہیں۔”
سیف نے مشعل کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے شکوہ کیا۔
“اوہ سوری،،،مجھے یاد ہی نہیں رہا۔”
مشعل نے اسکی بانہوں میں خود کو لاڈ سے سمیٹا۔
“آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ورنہ جرمانہ عائد کردونگا آپ پر۔”
اسکے گیلے بالوں کی مہک میں کھوتے سیف نے اسے اور بھی خود سے نزدیک کرتے ہوئے کہا تھا مشعل کے گیلے وجود میں
اپنے شوہر کی قربت میں ہوتے ہوئے ہلچل سی مچی تھی۔
