584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 20

Fareb Nazar by Gazal Saima

ٹھک۔ ٹھک۔ نیہان کے کمرے کا ڈور ناک ہوا تھا۔

آنکھیں بند کیے خود پر کمفرٹر ڈالے سونے کی ہر ممکن کوشش

کرنے کے بعد بھی وہ سو نہیں پائی تھی۔

ڈور دوبارہ ناک ہوا۔

نیہان کی سماعتیں پھر سے گونجیں۔

کیا موت بھی ڈور ناک کر کے آتی ہے۔

اگر ایسا ہے تو میری پوری عمر کی یہ سب سے بھیانک ناک ہے۔ اسکی پسینے سے شرابور پیشانی کے بل اور گہرے ہوئے تھے۔

“کون ہے ؟؟” مری مری آواز اسکے خشک حلق سے نکلی۔

اسکا پوچھنا بےسود رہا۔ کوئی جواب اسے نہیں ملا۔

“کون ہے؟؟” وہ پھر سے چلائی۔

مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں آیا۔

جھنجھلا کر وہ کمفرٹر ہٹا کر بیڈ سے نیچے اتری۔

موبائل کی ٹارچ سے روشنی کرتے ڈرتے ڈرتے اس نے ڈور اوپن کیا۔

“نیہان۔” سامنے لائبہ کھڑی اسے تعجب سے گھور رہی تھی۔

” ڈور تم نے ناک کیا تھا؟”

نیہان کی سانس پھولی ہوئی صاف لائبہ نے محسوس کی۔

“نہیں۔ میں تو آپکے چلانے کی آواز پر آئی۔”

لائبہ نے اور بھی تعجب سے کہا۔

“سب لائٹس کیوں آف ہیں؟؟”

نیہان نے نظر دوڑائی باہر بھی چاروں طرف اندھیرا پھیلا تھا۔

سوائے نیہان کے کمرے کے جسکی لائٹ جل رہی تھی۔

اور آتے ہوئے وہ ڈور کھلا ہی چھوڑ آئی تھی اسلیے نیہان نے

لائٹ جلتی دیکھ لی تھی۔

“فیوز اڑ گیا ہے اوپر کا شاید۔”

لائبہ نے اب غور کیا تھا کہ نیہان کا کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ وہ موبائل ٹارچ روشن کیے کھڑی تھی۔

“اوہ۔ تو آپ ڈر گئی تھیں۔ آئی تینک۔”

اسکے بدحواس ہونے کی اصل وجہ اب لائبہ کو سمجھ آئی تھی۔

“ہاں۔ شاید۔ کوئی ڈراونا خواب دیکھ لیا تھا میں نے۔”

قدرے توقف سے نیہان نے کہا تھا۔

“میں پانی پینے نیچے کچن میں گئی تھی جب واپس آئی تو آپکے کون ہے کون ہے چلانے کی آواز سنی تو میں اسطرف آگئی۔ “

لائبہ کو نیہان کا چہرہ بالکل ماند ہوا لگا۔

“اٹس اوکے۔ اب سب ٹھیک ہے۔ تم جاو جاکر سو جاو۔ ڈونٹ وری۔”

نیہان نے عجلت میں کہا تھا اور ڈور بند کر دیا۔

لائبہ کو اسکی جلدبازی کی کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آئی۔

“عجیب ہیں۔”

وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔

ابھی تک وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ ہوا کیا ہے نیہان کو۔

خیر مجھے کیا ؟ کندھے اچکا کر وہ اپنے روم کیطرف چل دی۔

○●□■○●□■

“مسزز لائبہ اسفر۔کیا میں آپکا شوہر ہونےکے ناطے پوچھ سکتا ہوں رات کے اس پہر آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟؟”

جانے کب وہ بھی وہاں آدمکا تھا۔

اسکی بھاری آواز پر سرعت سے گردن گما کر لائبہ نے اسے اچنبھے سے دیکھا۔

“خدائی فوجدار کی طرح یہ اب کہاں سے آگئے؟”

زیرلب وہ بڑبڑائی۔ ساتھ ہی ابرو سکیڑیں۔

اسکا بڑبڑانا اور حیران زدہ ہونا دونوں کو اسفر نے بڑی ہی فرصت سے نوٹس کیا تھا۔

“وہ میں پانی پینے گئی تھی۔”

انتہائی ہڑبونگ انداز تھا لائبہ کے بتانے کا۔

نظر کہیں۔۔۔اشارہ کہیں۔۔۔

اور سب سے بڑھ کر اسکے چہرہ کا اڑتا رنگ۔

سر سے پاؤں تک اسفر نے اس حسن پرور مورت کو گھورا تھا۔

جو سلیپنگ سوٹ میں ملبوس اسکی بےکلی کو اور بھی بڑھا رہی تھی۔

“بہتر ہے کل سے آپ جگ میں پانی اپنے روم میں ہی رکھ لیجیے گا تاکہ آدھی رات گزرنے پر آپکو یوں پانی کی تلاش میں مارا مارا نہیں پھرنا پڑے۔”

اسفر کے برجستہ کہنے میں لائبہ کو طنز کی آمیزش معلوم ہوئی تھی۔

لیکن وہ اسکا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی تھی۔

مضبوطی سے اس نے اپنے لب بینچے تھے۔

جانےکیسی مجبوری اسے لاحق تھی کہ وہ اسفر کے سامنے

اسے منہ توڑ جواب دینے کی جرآت کبھی نہیں کر پاتی تھی۔

البتہ ٹکٹکی باندھے اس نے اسفر کو کچھ دیر دیکھا ضرور۔

جیسے اسکے دماغ میں جو چل رہا ہے اسکا پتا لگانا چاہتی ہو

اور پھر بغیر کچھ کہے ہی روم کا ڈور دھاڑ سے اسکے منہ پر بند کردیا۔

لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے پورا فلور گونجا اٹھا۔

“کچھ کچھ ہوتا ہے۔”

اپنی مخصوص ادائے بےنیازی سے اسفر بڑبڑایا تھا۔

جو بھی تھا وہ اسکے خوابوں کی ملکہ تھی اور وہ اسکے عشق

میں مجنوں۔

ایک پل ہی کیلیے وہ اسکی شہد آنکھوں میں قید ہوپائے اس کیلیے اس جان لیوا حادثے سے بڑھ کر کچھ تھا ہی نہیں۔

ایسے مرنے کی تو وہ بار بار دعائیں کرتا رہا تھا۔

کچھ دیر اسکی پیچھے رہ جانے والی اسکی دلفریب مہک کو یونہی محسوس کرنے کے بعد خاصے خوشگوار موڈ میں وہ نیچے اپنے کمرے میں جانے کے لیے سیڑھیاں اترنے لگا۔

○●□■○●□■

“ایک مرد کی شان کبھی یہ گوارا نہیں کرتی کہ کوئی لڑکی

اسکے روبرو خود کو کمزور یا پست ہمت جانے۔”

صبح کا اجالا پھیلنے سے پہلے ہی شاہان فاروق فارم ہاؤس کے

اس بڑے سے ہال میں نرمین کے ہاتھ تھامے اسکے پاس بیٹھا

اسکی ہمت بڑھا رہا تھا۔

رات فارم ہاؤس میں کسی نے گھسنے کی کوشش کی تھی اور

گارڈ کو اسے بھگانے کے لیے فائرنگ کرنی پڑی تھی۔

فائرنگ کی آواز سنکر نرمین کی نیند ٹوٹ گئی اور پھر وہ ساری

رات دوبارہ نہیں سو پائی۔

اس رات کا وہ بھیانک اور اذیت ناک منظر اسکی آنکھوں میں پھر

سے تازہ ہوا تھا۔

اسکے بعد گذشتہ رات صبح ہونے کا بےصبری سے انتظار کرتے اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹی تھی۔

اب وہ اپنے نڈھال وجود کے ساتھ شاہان کی حوصلہ افزا باتوں سے خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“اس لیے پلیز اب تم بالکل بھی نہیں رو گی نرمین۔”

شاہان نے اسکا تھاما ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا تھا۔

اسکا ٹوٹا دل نرمین کی پناہوں میں اپنا درد بھولنے لگا تھا۔

شاہان کا ادھورا پن نرمین کے آنے سے مکمل ہونے لگا تھا۔

اگر وہ اسے اچھی لگتی تھی تو اسکی واحد وجہ نرمین کے لیے اسکے دل میں نرم گوشے کی موجودگی تھی۔

جس ٹریجڈی کا اسے سامنا کرنا پڑا تھا اور موت کے منہ میں جاتے جاتے جسطرح وہ لوٹی تھی شاہان اسے کبھی بھول نہیں

سکتا تھا۔

اسی کے جیسا ایک انسان ہونے کے ناطے وہ اسکی تکلیف کا اچھی طرح اندازہ کرسکتا تھا۔

تم بہت باہمت ہو نرمین۔ رو رو کر خود کو کمزور ظاہر مت کرو۔

تمہیں کچھ بھی سوچ سوچ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔ سوئیٹ ہارٹ۔

اسکی آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کو اس نے اپنے لبوں سے لگایا

تھا۔

“تھینکس شاہان۔”

زیرلب مسکراتے نرمین اسکی قربت پاتے ہی پرسکون ہوچکی تھی۔

رات کے آخری پہر ہی وہ اسے کال کر کے فارم ہاؤس آنے کا

کہہ چکی تھی اور پھر شاہان نے اسکے ہی منہ زبانی کال پر اسکی حالت زار سننے کے بعد اس تک پہنچنے میں لمحہ بھر

دیر نہیں کی تھی۔

○●□■○●■□■

“آو شاہان بریک فاسٹ کرتے ہیں۔”

اسکا ہاتھ پکڑ کر نرمین نے اسے کھینچا تھا۔

“تم نے بریک فاسٹ کب بنایا؟ “

قدرے تعجب سے شاہان نے پوچھا۔

“تمہارے آنے سے پہلے ہی سب تیاری کرلی تھی۔”

نرمین نے اسے بغور دیکھا۔

کھڑا ہوکر وہ اب جمپنگ کر کے خود کو ریسیٹ کر رہا تھا۔

دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے نرمین نے بھی ویسا ہی

کرنا چاہا۔

“اچھا تو اب مجھے اتنا فولو کرنے لگی ہو۔”

شاہان نے اسکی دلچسپی اپنے لیے صاف محسوس کی تھی۔

“ہاں۔ مجھے تمہیں فولو کرنا اچھا لگتا ہے شاہان۔”

برجستگی سے نرمین نے کہا تھا۔

شاہان نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا۔

“اوکے پھر کل سے ڈیلی ایکسرسائز شروع کرتے ہیں۔”

کچھ توقف سے وہ سوچ کر بولا تھا۔

“رئیلی۔ مجھے منظور ہے۔”

ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا نرمین نے اسکی دی پیشکش کو ماننے میں۔

“پھر ہاتھ ملاو۔”

شاہان نے ہاتھ آگے بڑھایا۔

جسے نرمین نے جھٹ سے تھام لیا۔

اسکی ڈمپل زدہ مسکان کے آگے شاہان کو صبح کا اجالا بھی خام خام لگا۔

اسکے اسی پیار اور خلوص کی حقدار تھی وہ۔

کیونکہ وہ بہت جلد اسکی ہونے والی بیوی تھی۔

○●□■○●□■

“گڈ مارنگ سر۔”

گارڈ نے اسفر کو واپس جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

سرعت سے وہ دوڑتا ہوا اسکی سمت آیا تھا۔

جتنی خاموشی سے اسفر وہاں آیا تھا اس سے کہیں رازداری سے

وہ واپس جانے کے لیے پورچ کیطرف آرہا تھا جب گارڈ کی نظروں میں آگیا۔

سرسری سا اس نے سر ہلایا تھا۔

“شاہان صاحب کب آئے تھے یہاں؟”

گارڈ سے اس نے استفسار کیا۔

“سر وہ تو اجالا ہونے سے بھی پہلے ہی آگئے تھے۔ نرمین میم نے انہیں خود ہی بلایا تھا۔”

نرمین نے شاہان کے وہاں آنےکا گارڈ کو پہلے سے ہی بتادیا تھا۔

اس دن کے واقعہ کے بعد اسفر سے وہ خود شاہان کے بارے میں

وہاں آنے کی اجازت لے چکی تھی۔

جبکہ شاہان سے ڈیل کرنے کے بعد اب اسے روکنے کا اسفر کے

پاس فلحال کوئی جواز بھی نہیں تھا۔

سو وہ چپ چاپ خود ہی انکے بیچ سے ہٹ گیا تھا۔

کچھ بھی تھا لیکن شاہان کی آنکھوں میں وہ نرمین کے لیے

وہ محبت پنپتی دیکھ چکا تھا جسے آتش عشق بننے سے وہ

روک نہیں سکتا تھا۔

♡♡محبت قید ہے اس قید کا عادی نہ ہو جانا

سلاخیں ٹوٹ جائیں تو رہائی مار دیتی ہے♡♡

اور پھر دوسری طرف لائبہ۔۔۔ اسے ہزار بار بھی شاہان کا وجود

اپنے آس پاس کھلتا ہو لیکن لائبہ کی نظروں میں اسے فریبی ثابت کرنے کے لیے۔۔۔ خود کیلیے اسکا یہ ستم بھی اسے قبول تھا۔

عشق کی اس بازی کا سب سے ہرجائی فیصلہ۔۔۔ ان دونوں کے حق میں یہی تھا۔۔۔۔ کہ وہ دونوں ہی زخمی دل لیے آتش عشق پر پل پل سلگنے کے لیے خوشی خوشی رضامند تھے۔

جب تک لائبہ دل سے اسے اپنا نہیں مانتی تب تک اسکی قید محبت کو ہی اسفر نے ہنوز اپنے گلے سے لگائے رکھنے کا صدقے دل سے اقرار کیا تھا۔