Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 29
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 29
Fareb Nazar by Gazal Saima
“لیکن رخصتی کے بعد نرمین کہاں جائیگی شاہان کے ساتھ یا فارم ہاؤس؟؟” لائبہ کی تشویش بجا تھی۔
“آف کارس شاہان کے ساتھ اسکے گھر۔”
اتنا ہی بےفکری سے اسفر نے کہا۔
لیکن اسے لائبہ کا دوسروں کا خیال کرنا بہت پسند آیا۔
“لیکن شادی میں اسکے گھر سے کوئی شامل نہیں۔ کیا اسکی
باقی فیملی یہاں نہیں؟؟”
لائبہ کی تشویش کم نہیں ہوئی۔
“ڈئیر شاہان کا بڑا بھائی اور اسکی بھابھی لانے والے ہیں اسکی
برات۔” وہ خاصا پرجوش تھا۔ البتہ لائبہ کو شاک لگا۔
“لیکن شاہان نے تو ایسا کچھ نہیں کہا ورنہ گرینی ضرور ذکر کرتیں۔”
اسکی حیرانگی میں اور اضافہ ہوا۔
“ہاں کیونکہ یہ اسفر وقار الملک کا ملک مینشن اور خود شاہان فاروق کے لیے چونکا دینے والا بگ سرپرائز ہے۔”
ابکے وہ لائبہ کو اپنی بانہوں میں مقید کرچکا تھا۔
“کیا؟؟” اسکا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“ہاں۔” کہتے ہوئے وہ بالکل پرسکون تھا۔
“لیکن آپ کیوں پریشان ہو رہی مسزز اسفر۔ آپکو تو برات کی بھی ضرورت نہیں بس آپکی ایک ہاں ہی ہمارا بیڑا پار کر دے گی۔”
آنکھ کا کونا دبا کر کہتے اسفر کا انداز خاصا رومینٹک ہوا۔
“اچھا جی۔”
وہ شرمائی اور پھر گھبرائی بھی کیونکہ اس وقت وہ اسی کی بانہوں میں سمٹی ہوئی تھی۔
“ہاں جی۔” اس پر فدا اسفر نے شیرینی میں ڈوبا لہجہ اختیار کیا۔ اور دلفریب مسکراہٹ کا سہارا لیا۔
“بس ایگزیمز تک ویٹ کر لیں۔”
کسمساتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔
“اب یہ ایگزیمز کہاں سے آگئے ہمارے بیچ؟؟”
لائبہ کی پیشانی پر اس نے اپنے لب رکھے پیار بھرا شکوہ کیا۔
“اسفر کوئی دیکھ لے گا۔”
وہ فوری خود کو بچانے لگی۔
“اچھا نہیں کرتا کچھ بس۔”
اسفر نے ناچاہتے ہوئے بھی اپنی بانہوں کے گھیرے سے اسے
رہا کر دیا۔
“آئی لو یو۔”
اسکی شوخ لٹ پھر سے اسفر کو اپیل کرنے لگی۔
لیکن ابھی وہ جوابا” کچھ کہتا وہ وہاں سے کسک گئی۔
اپنے پیچھے اپنی دلفریب مہک اور جان لیوا مسکان کی پرچھائی
چھوڑ کر۔
○●□■●●□■
نکاح تو ہوچکا تھا اور بس رخصتی ہونا باقی تھی۔
سب ہی لوگ انتظار میں تھے کہ سیف فاروق اور مشعل سیف
اندر آتے دکھائی دئیے۔
شاہان کے ساتھ ساتھ سب کی ہی نظریں ان پر گڑی تھیں۔
“آئیے آئیے مسٹر سیف اینڈ مسزز سیف۔”
اسفر نے سب سے پہلے انہیں خوش آمدید کہا اور سیدھا گرینی کی جانب لے گیا۔
شاہان ہکابکا کھڑا سب دیکھتا ہی رہ گیا۔ اسفر نے اسکے لیے
کسی بھی قسم کا ریکشن شع کرنے کی گنجائش ہی نہیں
چھوڑی تھی۔
“گرینی یہ شاہان فاروق کے بڑے بھیا سیف فاروق اور بھابھی مشعل فاروق ہیں۔”
انٹروڈیوس کراتے ہوئے اسفر نے گرینی کو مخاطب کیا۔
“ارے جیتے رہیے۔ جیتے رہیے۔”
گرینی نے دونوں کے سر پر دست شفقت رکھا۔
“مجھے خوشی ہے کہ ہماری نرمین بٹیا آپکے گھر کی رونق
بننے جارہی ہیں۔”
گرینی نے تشکر سے کہا۔
“یہ تو ہماری خوش نصیبی ہے گرینی کہ آپ نے میرے بھائی کو
اس لائق سمجھا۔”
سیف نے خاصے خلوص سے کہا۔
“جیتے رہیں۔” گرینی کا چہرہ کھل اٹھا۔
لیکن شاہان اس سب پر شاک میں تھا۔
یقینی طور پر وہ دو ماہ سے اپنے گھر نہیں گیا تھا اور نہ ہی
سیف اور مشعل سے کوئی کانٹکٹ کیا تھا۔ حتی کہ اپنی نرمین سے شادی کے بارے میں بھی اس نے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا۔
البتہ انہیں دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگا تھا کہ وہ اس سب سے بےخبر ہیں۔
اور اس سب کے پیچھے اسفر وقار الملک تھا جس نے اپنے خفیہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے انکا پتا لگایا اور یہاں بلوایا۔
“شاہان آپ وہاں کیوں کھڑے ہیں۔ آئیے بھیا بھابھی سے دعائیں وصول کریں۔”
وہ بری طرح چونکا۔ گرینی نے اسے متوجہ کیا تھا۔
“جی گرینی۔”
سر جھکائے بوجھل قدموں کے ساتھ وہ آگے بڑھا کیونکہ اب اسکے حق میں یہی بہتر تھا۔
اسفر نے ایک فاتحانہ نگاہ چپکے سے لائبہ پر ڈالی تھی۔
جو سراپہ حور بنے اسکے بغل میں ہی کھڑی تھی۔
کن انکھیوں سے وہ اسے اپنی جیت باور کرانا چاہتا تھا۔
لائبہ بس زیرلب مسکرا دی۔
“اسفر وقار الملک آپ بہت ہی ان ایکسپٹڈ ہیں۔
کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔”
دل ہی دل میں اس نے پل بھر کے لیے سوچا۔
○●□■○●□■
رخصتی کے بعد نرمین جاچکی تھی اور باقی سب بھی مینشن واپس جاچکے تھے لیکن اسفر لائبہ کے ساتھ فارم ہاؤس پر ہی رک گیا تھا۔
باہر تیز بارش شروع ہوچکی تھی اور اتنے خراب موسم میں اسکا
مینشن واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
“ہم کب تک نکلیں گے اسفر؟”
لائبہ چینج کر کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے روم میں داخل ہوئی تھی۔ اسفر نے آنکھ بھر کر اسے دیکھا۔
وائٹ ٹراوزر پر سلیف لیس لانگ بلیو کلر شرٹ پہنے وہ کھڑکی سے باہر کا نظارہ کرنے لگی۔ اس بات سے بالکل بےخبر کہ وہ
اسے کتنی وارفتگی سے تک رہا ہے۔
اسکی توجہ باہر بارش پر مرکوز رہی اسفر کو جلن ہونے لگی۔
وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔
“اسفر وقار الملک نے واپسی کا پلان کینسل کردیا ہے۔”
قدرے توقف سے ٹرانس میں گویا اس نے کہا۔
چونک کر لائبہ اب جو اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
تو اس پر اسفر کی وارفتگی عیاں ہوئی۔
وہ سٹپٹا کر رہ گئی۔ جلدی میں وہ دوپٹہ بھی لینا بھول گئی تھی۔ شرم کے مارے اسکی ہچکی بندھ گئی۔
“آپکے بال بہت خوبصورت ہیں۔”
اسفر نے گویا اس سراپہ حسن کا غیر ارادی جائزہ لینا شروع کردیا تھا۔
“میں آپکے لیے کافی بنا کر لاتی ہوں۔”
جلدی سے لائبہ وہاں سے کسکنے لگی۔
“ہاں۔ ضرور۔”
اسفر نے اسے روکنے کے بجائے اثبات میں سر ہلایا۔
لائبہ سرعت سے روم سے نکلی اور سب سے پہلے اپنا دوپٹہ شانوں پر لیا۔ پھر کچن میں کافی بنانے کے لیے چل دی۔
“کیا ضرورت تھی مجھے اسطرح دیکھنے کی۔ میرے تو پسینے
ہی چھوٹنے لگے تھے۔”
بےخیالی میں بڑبڑاتے ہوئے وہ مڑی تھی کہ اس سے ٹکرا گئی۔
جو اسکی پریشانی کی واحد وجہ تھا۔
“آپکو نہیں معلوم لائبہ۔ میں خود کو آپ کے آگے کتنا بےبس محسوس کرتا ہوں۔ آپ مجھے بہت زیادہ اچھی لگتی ہیں۔”
شاید وہ ابھی بھی اسی کیفیت میں تھا۔
لائبہ کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔
اسکا گھمبیر لہجہ۔۔۔ تپتی نگاہیں اور اپیل کرتے لب لائبہ کو
باختہ کرنے لگے۔
پلکوں کی گھنی جھالر نے اسکی نگاہوں کو ڈھانپ دیا۔
خوبرو وجیہ مرد ہونے کی حیثیت سے اسفر کی کیفیت اس سے یکسر مختلف تھی۔
اسکی پناہ۔۔۔ اسکے وجود میں گھر کر جانے کی جبکہ لائبہ جھجکتے ہوئے بالکل ساکت کھڑی تھی۔
البتہ اسکی پیشانی بھیگنے لگی تھی اسفر کی حد درجہ قربت
اسے نروس کر رہی تھی۔
نچلا ہونٹ دبائے وہ تھوڑا پیچھے ہوئی تھی جب اسفر نے
اسکی کمر کے گرد اپنی بانہوں کو پھیلایا تھا۔
یک ٹک لائبہ نے اسفر کی تپش زدہ نگاہوں کی جانب دیکھا تھا۔
اسےجو ان گنت باتیں کرتی محسوس ہوئیں۔
وہ باتیں جنکا اظہار اسفر کرنے سے کترا جایا کرتا تھا۔
دم بخود لائبہ کے لبوں میں جنبش ہوئی۔
بےاختیار اسکی مترنم آواز اسفر کی سماعت میں رس گھولنے لگی۔
♡♡♡میں نے خود کو بہت تلاش کیا
حسن۔۔۔کانچ۔۔۔کلی۔۔۔رنگ اور خوشبو میں
مگر ناکامی مقدر بنکر میرے ساتھ ساتھ چلتی رہی
پھر آخرکار۔۔۔
تھک ہار کر میں نے آنکھیں بند کر لیں
اور پھر۔۔۔
اچانک ہی میری بند آنکھوں کے اندر
چہرے پر رقصاں اک فاتح کی مسکراہٹ کے ساتھ
تم میری ذات کا عرفان دے رہے تھے۔♡♡♡
گویا اسکے دل کی سچائی اسکے لبوں نے بیان کی تھی۔
اسفر نے اپنے بازوں میں اسے اور بھی خود سے نزدیک کیا تھا
“اب میرا حال دل سنیں۔”
اسکے انداز میں اپنائیت ہی اپنائیت لائبہ نے محسوس کی۔
عالم مدہوشی میں اسکی سرگوشی نے لائبہ کے کانوں کی لہویں گرم کیں۔
♡♡♡♡میں تو صرف ایک صاحب دل ہوں
محبت کے سارے جگنو تو تمہاری قید میں ہیں
جب میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں
تو میرا من اس ضدی بچے کی مانند ہوجاتا ہے
جو اپنی من پسند خواہش پر
محبت کے سارے جگنوؤں کو
صرف اور صرف اپنی ملکیت میں لینا چاہتا ہے
اور پھر میں
ان کیف آگیں لمحوں کی امرتا چاہوں
مگر کیسے؟؟
میں تو صرف ایک صاحب دل ہوں
اور
محبت کے سارے جگنو تو تمہاری قید میں ہیں♡♡♡
یکسر ان دونوں کی نگاہوں نے ایک دوسرے کے اقرار کو قبول کیا۔
پیار کی چاشنی انکے وجودوں سے پھوٹتی محسوس ہوئی۔
بارش کی شدت میں اضافہ ہوا اور زور کی بجلی کی کڑک کے ساتھ ہی فارم ہاؤس کی ساری لائٹس بجھ گئیں۔
مکمل طور پر فارم ہاؤس تاریکی میں ڈوب گیا لیکن وہاں چار سو پھیلی تاریکی کی پرواہ ہی کسے تھی۔
