Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 35
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 35
Fareb Nazar by Gazal Saima
دسمبر کی سرد راتیں شروع ہو چکی تھیں۔ دن میں بھی سردی کا احساس قدرے بڑھ چکا تھا جبکہ رات کو تو ہیٹر یا آتش دان جلائے بنا گزارا کرنا ناممکن تھا۔ مینشن میں آئے دن ہی باربی کیو کی دعوت کسی نہ کسی کپل کیطرف سے تقریبا” روز ہی رکھی جانے رکھی تھیں۔ جسکے پیچھے مقصد صرف ایک ہی ہوتا گڈ ٹو گیدر جب سب ملکر فرصت کے پل ایک دوسرے کے ساتھ انجوائے کرسکیں۔ اسفر اور لائبہ کی رخصتی ہونا بھی طے پاچکا تھا بس ایک ہفتے بعد ایسا گرینی کے حکم کے مطابق ہی ہونے جارہا تھا۔ البتہ اسفر کچھ دنوں سے زیادہ ہی مصروف رہنے لگا تھا اب وہ مینشن دو تین دن کے بعد ہی لوٹ پاتا۔ خاصکر لائبہ سے اسکی یہ اگنورنس برداشت نہیں ہو پارہی تھی۔ پچھلے دو دن سے اس نے اسفر سے صاف صاف بات کرنے کا پلان بنا رکھا تھا لیکن وہ اسے ملے بھی تو۔۔ تب ہی تو وہ اپنے دل کے خدشات اسکے سامنے پیش کرپاتی۔
“چاند کتنا روشن ہے ناں آج۔”
لائبہ اور آمینہ ڈنر سے پہلے کچھ وقت ساتھ گزارنے باہر لان میں آگئی تھیں۔ انور کی بےرخی کیوجہ سے آمینہ اب زیادہ تر اکیلے ہی وقت بیتانے کی عادی ہوچکی تھی۔ مینشن کے کسی فرد کے دل میں وہ ابھی تک گھر نہیں کرسکی تھی گو کہ اب وہ خاصی خاموش طبع اور سنجیدہ مزاج ہوچکی تھی لیکن پھر بھی کہیں کوئی کمی ابھی بھی تھی جو انور کے ساتھ ساتھ باقی افراد بھی اس سے کھینچے کھینچے ہی رہتے۔ لیکن اب وہ گلے شکوے کرنے کے بجائے خود کو پرسکون رکھتے ہوئے قدرت کا لکھا ہوا سمجھ کر سب کچھ من و عن قبول کر چکی تھی۔
لائبہ سے بھی اس نے مزید اس بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ البتہ لائبہ اتنی ہی محبت اور خلوص سے اب بھی اپنا وقت اسکے ساتھ گزارتی تھی اور اسے اکیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیتی تھی۔
“ہاں بی واقعی!!۔” وہ جو اپنی ہی کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی آمینہ کے استفسار پر چونک پڑی۔
“روشن چاند ہمیشہ مجھے ماما پاپا کی یاد دلاتا ہے۔”
آمینہ بی زیرلب بڑبڑائی تھیں۔
شاید وہ لائبہ کا وہاں ہونا یکسر نظر انداز کر گئی تھیں۔ لائبہ نے تعجب سے انکی طرف دیکھا۔ خالی خالی نظروں سے دور چمکتے چاند پر ٹکٹی باندھے وہ جیسے کسی اور ہی جہان میں پہنچ چکی تھیں۔ لائبہ کان لگا کر انہیں سننے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ بہت ہی آہستگی سے کچھ کہہ رہی تھیں۔
“پاپا نے انور کو میرے لیے پسند کیا تھا۔
تب وہ بہت بیمار تھے اپنے پارٹنرز سے دھوکہ کھانے کیوجہ سے وہ بالکل ٹوٹ چکے تھے۔ لیکن
تب بھی انہیں ہماری فکر تھی۔۔۔ تمہاری اور میری۔”
لائبہ نے سنا وہ ٹرانس کی کیفیت میں بس کہتے ہی جارہی تھیں۔
“اس رات گرینی کو اپنا فیصلہ سناکر وہ بہت خوش تھے۔ انکے ذہن سے سارا بوجھ اتر گیا تھا۔ میں بھی بہت مطمئن ہوگئی تھی۔ لیکن پھر وہ آیا
ہمارے گھر ٹھیک اسی رات جب سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔ میں پاپا کو گڈ نائٹ کہنے آئی تھی وہاں۔۔۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اسکا چہرہ۔۔۔ رومال سے چھپا ہوا تھا۔۔ اسکے ہاتھ میں خنجر تھا وہ پاپا کو
مارنا چاہتا تھا۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی۔۔ میں
ماما کو بلانے انکے کمرے کیطرف بھاگی تھی۔۔
اور جب میں ماما کے ساتھ واپس لوٹی تو پاپا کا خون بیڈ پر پھیل گیا تھا۔۔ وہ بری طرح زخمی تھے۔۔ وہ مر چکے تھے۔۔ انکا قتل ہوا تھا۔۔ میں یہ سب دیکھ کر بیہوش ہوگئی تھی۔”
لائبہ کی سماعتیں سائیں سائیں کرنے لگیں۔
آمینہ کی آواز اسے کہیں بہت دور سے آتی محسوس ہوئی۔ درد کی ایک شدید لہر اسکے دل کے آر پار ہوئی۔ بغیر کچھ کہے وہ کانپ کر رہ گئی۔
“پتا ہے وہ کون تھا ؟؟”
اتنی دیر میں پہلی بار آمینہ نے لائبہ کیطرف رخ کیا تھا۔ اسکا سفید پڑتا چہرہ بی کو چونکا گیا لیکن وہ پھر بھی اسے اس قاتل کا نام بتائے بنا چپ کرنے والی نہیں تھیں۔
“کون تھا بی ؟؟”
لائبہ کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی بالکل ایسے جیسے وہ مرنے کے قریب ہو۔
“اسفر وقار الملک !!۔”
بی نے بالکل صاف کہا تھا لیکن لائبہ کو یقین نہیں آیا۔ دیدے پھاڑے وہ بےیقینی سے آمینہ کو گھورے گئی۔
“ہاں لائبہ میری جان۔ اسفر وقار الملک ہی پاپا کا قاتل ہے۔”
لائبہ کی بگڑتی حالت بھی آمینہ کو چپ نہیں کراسکی تھی۔ وہ اتنی ہی تندہی سے کہتے ہوئے
لائبہ کو خشمگی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“بی!!۔”
ہوش و حواس سے منہ موڑنے سے پہلے اسکی زبان پر آخری بار بی کا ہی نام آیا تھا۔ پھر وہ ایک اور مرتبہ بری طرح سے ہار گئی۔۔۔ ہمت۔۔ حوصلہ۔۔ بھروسہ۔۔ سب کچھ۔
“آنکھیں کھولو میری چندا۔ میری لائبہ!!”
آمینہ چیخ و پکار کرنے کے ساتھ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی لیکن سب بےمعنی تھا
جب تک وہ خود اسکے پاس نہیں آتا۔۔ اسکا نام نہیں
پکارتا۔۔ اسے واپس ہوش میں آنے کی تمنا ہی نہیں رہی تھی۔ اسکی یخ بستہ بند مٹھی آج بھی چاند کو اپنی گرفت میں قید کرنے سے قاصر رہی تھی۔
○●□■○●□■
“کچھ بھی ہو جائے مجھے اسکے پل پل کی خبر چاہیے۔ وہ کب کیا کرتا ہے؟ کہاں جاتا ہے؟ کس سے ملتا ہے؟ ایک ایک چیز کی۔”
اسفر بہت طیش میں تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ شاہان کو کیسے اپنے راستے سے ہٹائے لیکن
جب تک اسکے خلاف ٹھوس ثبوت وہ ڈھونڈ نہیں پاتا
تب تک وہ اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔
“یس سر۔”
انسپکٹر عمران نے مستعدی سے کہا اور اسکے آفس سے باہر نکل گیا۔
“اب دیکھتا ہوں کیسے بچ نکلتے ہو تم گھٹیا انسان اسفر وقار الملک کے شکنجے سے۔”
اسکے جانے کے بعد وہ دھیرے سے بڑبڑایا تھا۔
اسی کے ساتھ اسکا موبائل رنگ کرنے لگا۔
“ہیلو۔”
کافی عجلت میں اس نے کال پک کی تھی اسے کسی جگہ ضروری پہنچنا تھا لیکن بیچ میں
کال آگئی تھی۔
“اسفر بیٹا تم کہاں ہو۔ جہاں کہیں بھی ہو جلدی
ہسپتال پہنچو لائبہ بٹیا کو سیور شاک آیا ہے۔”
کال کے دوسری طرف گرینی اسے بہت زیادہ پریشانی کے ساتھ اطلاع دے رہی تھیں۔
“کیا؟؟” وہ بری طرح سے چونکا تھا۔
“لیکن کیسے؟؟ کیا ہوا اسے؟؟”
دم بخود وہ چلایا تھا۔ اسکے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین کسک گئی ہو۔
“اسکی ذہنی بیماری آخری سٹیج پر ہے۔”
گرینی کی کپکپاتی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔ اسفر کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسکے اعصاب شل ہوئے تھے۔ اسکے ہاتھوں پاؤں سے جیسے جان
نکلنے لگی ہو موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا۔ عالم مدہوشی میں وہ باہر کیطرف بھاگا تھا اسے جلد از جلد لائبہ کے پاس ہسپتال پہنچنا تھا۔
اسکے آفس سے نکلتے ہی انسپکٹر عمران محتاط انداز میں اسکے آفس میں داخل ہوا تھا۔ جبکہ آفس
کی لائٹس وغیرہ اندر سے آف ہوجانے کیوجہ سے باہر کوئی بھی اسکی وہاں موجودگی کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔
“اب مجھے اپنا کام سرعت سے مکمل کرنا ہوگا۔”
رازدارانہ انداز سے کہتا وہ اسفر کے لیپ ٹاپ پر
جھکا تھا۔ یقینی طور پر وہ اسکی غیر موجودگی میں اسکا کوئی بہت اہم راز چرانے والا تھا۔
○●□■○●□■
“ہمیں فوری انکا آپریشن کرنا ہوگا۔ آپکی پرمیشن چاہیے ان ڈاکومنٹس پر سائن کرنے ہونگے آپکو۔”
ڈاکٹر اور اسفر پچھلے آدھے گھنٹے سے لائبہ کے
آپریشن کے بارے میں گفت و شنید کر رہے تھے۔
اسفر کو لائبہ کی بیماری کے متعلق جاننے میں کافی دیر ہوچکی تھی۔ اسکی بیماری آخری سٹیج پر پہنچ کر سنگین صورت اختیار کرچکی تھی۔
آپریشن کی کامیابی کے صرف چالیس فیصد چانسز تھے۔ اسفر ہاں اور نہ کے شش و پنج میں مبتلا تھا۔
کہیں اسکا فیصلہ لائبہ کے لیے غلط ثابت نہ ہو یہ
خوف اسے کچھ بھی فیصلہ کرنے سے روک رہا تھا۔
“مسٹر اسفر آپکے پاس صرف پندرہ منٹ ہیں۔ جلد از جلد سوچ کر ہمیں جواب دے دیں۔ ہماری ٹیم پیشنٹ کے آپریشن کیلئے بالکل تیار ہے اور ایک بات یاد رکھیے گا اس آپریشن کے نتیجے میں لائبہ
بس کچھ ماہ ہی صحیح دماغی توازن کے ساتھ جی پائیں گی۔”
مایوسی سے کہہ کر ڈاکٹر اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔ اب اسفر اپنی سوچوں کے گرداب میں چکر کھاتا خود سے اکیلا جنگ کر رہا تھا۔
اگر وہ مضبوط اعصاب کا اڑیل انسان تھا تو قدرت
نے بھی اسکے لیے انتہائی کھٹن وقت چنا تھا جب
اسے خود کو ثابت کرنا تھا۔ چند ہی لمحوں میں اسکے سامنے لائبہ سے پہلی ملاقات سے لیکر آخری ملاقات تک کے سارے مناظر تیزی سے گزر گئے تھے۔ وہ ہر پل اسکی محبت میں اور بھی ڈوبتا ہی گیا تھا۔ اتنے دن کی دوری کے بعد آج وہ اسے فرصت سے دیکھ بھی پارہا تھا تو ایک کڑوے سچ
کیوجہ سے۔
اسکی آنکھوں کے بھیگے کونے اسکے ٹوٹتے ضبط
کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ وہ ہارنے لگا تھا۔۔ وہ اڑیل
شخص۔۔ کھر دماغ۔۔ ضدی انسان ان پلوں میں
جیسے ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنے والا تھا۔
“ٹھیک ہے آپ آپریشن کرسکتے ہیں۔”
جانے کیسے اپنی ساری ہمت جمع کرنے کے باوجود بھی جب وہ بولا تو اسکے لہجے میں ناامیدی صاف چھلک رہی تھی۔ ہر ایک نے اس اذیت ناک لمحے کی
تکلیف اس باہمت مضبوط اعصاب شخص کے چہرے پر صاف محسوس کی تھی۔
ڈاکٹرز کو اپنے فیصلے سے مطلع کرنے کے بعد وہ
بالکل خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا صرف ایک
نظر اس سراپہ حسن۔۔ پری پیکر کو دیکھنے جو
آنکھیں موندے اس سارے تکلیف دہ وقت سے بالکل بےخبر بیہوشی میں تھی۔
اسفر نے زیرلب اسکا نام پکارا تھا۔
“لائبہ! ! میری جان ہیں آپ۔”
آپریشن تھیٹر کی چھوٹی سی ونڈو اسے لائبہ کا
دیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوئی تھی۔ لائبہ کا گلابی مائل چہرہ جو اب سفید پڑا تھا اسفر کی
نگاہوں میں اپنا نقش چھوڑ گیا تھا۔
“مجھے معاف کر دیجئے گا۔ یہ فیصلہ میں نے صرف آپکو پانے کے لیے لیا ہے۔ مجھے آپ سے بےپناہ محبت ہے۔ مجھے چھوڑ کر مت جائیے گا۔ پلیز مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جائیے گا۔”
روہانسا ہوئے وہ دھیرے دھیرے کہہ رہا تھا جیسے
لائبہ اسے سن رہی ہو۔
“اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا اچھا موقع ڈھونڈا ہے۔”
اچانک ہی اپنے پیچھے اسے شاہان کی آواز سنائی
دی۔ وہ سرعت سے پیچھے پلٹا۔
لیکن وہاں سب کچھ غیر متوقع سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ نرس آپریشن تھیٹر کی ونڈو کو کلوز کرچکی تھی لائبہ کے آپریشن کا وقت ہوچکا تھا۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم وہاں موجود تھی۔ یہ ان سبکے لیے ہی اپنی نوعیت کا سب سے پچیدہ اور اہم ترین آپریشن تھا۔
جبکہ آپریش تھیٹر سے باہر شاہان اکیلا نہیں بلکہ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ اسے اریسٹ کروانے پہنچا تھا۔
بےتاثر چہرہ لیے اسفر نے اسے شعلہ زن نگاہوں سے گھورا تھا۔
“کیوں مسٹر اسفر وقار الملک سرپرائز کیسا لگا؟”
اتنے ہی تاثرات اپنے چہرے پر لیے شاہان نہایت بےباکی سے گویا ہوا۔
“یہ سب کیا ہے۔ انسپکٹر عمران آپ مجھے بتائیں گے؟؟”
اسفر نے شاہان کو نظر انداز کرتے ہوئے انسپکٹر
عمران سے پوچھا تھا۔
“سوری سر۔ ہم وارنٹ کے ساتھ آئیں ہیں۔”
انسپکٹر عمران نے مایوسی سے جواب دیا۔
“لیکن کس جرم میں وارنٹ ہے؟؟”
اسفر کو ابھی تک یقین نہیں ہوا تھا۔
“بہتر ہوتا اگر تم پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس بارے میں پوچھتے اس سے تمہاری بدنامی کم ہوتی۔”
بجائے انسپکٹر کے شاہان نے سرعت سے کہا۔
“اپنی بکواس بند کرو۔”
غصے سے اسفر چلایا۔ شاہان کو وہاں دیکھ کر ویسے ہی اسکا خون کول اٹھا تھا۔
سب ہی ان دونوں کیطرف متوجہ ہوچکے تھے۔
“اسکیئم۔۔ سالوں پہلے آرٹ کے نادر فن پاروں کو
چرانے اور جعلی فن پاروں سے بدل دینے کا جرم ہے آپ پر مسٹر اسفر وقار الملک۔”
قطعی اٹل انداز سے انسپکٹر عمران نے بتایا تھا۔
اسفر کے بےتاثر چہرے کا رنگ جسے سنتے ہی مزید پھیکا پڑا تھا۔
“حتی کہ یہ ایک بہت پرانا کیس ہے لیکن آپکے خلاف کیس کرنے والی مدعی اسے پھر سے ری اوپن کروانا چاہتی ہیں۔”
شاہان نے خاص ذومعنی انداز سے کہا تھا۔ اسفر
نے اسے اچنبھے سے اور بھی گھورا تھا۔
“لیکن کون ہے وہ ؟؟؟ یہ سب میرے خلاف سازش ہے۔”
غیر ارادی طور پر اسفر کے منہ سے نکلا تھا۔
“مسزز اسفر وقار الملک۔۔ لائبہ اسفر۔۔۔”
شاہان کا انکشاف اسفر کے ہوش اڑانے کے لئے
کافی تھا۔ وہ چکرا کر رہ گیا تھا۔
