Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 16
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 16
Fareb Nazar by Gazal Saima
“جینا بھی کتنا دشوار کام ہے۔ موت برحق ہے مگر آتی نہیں۔”
افسردگی سے کہتے ہوئے انہیں کھانسی کا شدید دورا پڑا تھا۔
“مادام گرینی کو پھر سے دورا پڑا ہے۔”
میڈ دوڑتے ہوئے سبکو خبردار کرنے بھاگی تھی۔
“کیا گرینی کو پھر سے دورا پڑ گیا؟؟”
ملک مینشن کا ہر فرد گرینی کی بگڑتی حالت پر پریشان دکھائی دینے لگا۔
ایمرجنسی میں انہیں فوری ہسپتال لیجایا گیا۔
بروقت ضروری ٹریٹمنٹ دیتے ہوئے ڈاکٹرز نے انکی بگڑتی ہوئی حالت کو سنبھال لیا۔
طبیعت سنبھلنے پر ہسپتال سے اگلے دن انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔
مینشن میں آنے کے بعد سے انہیں سب سے زیادہ فکر لائبہ ہی کی تھی جسکی رخصتی ابھی بھی ہونا باقی تھی۔
گرینی کی اچانک ہی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے مینشن میں ہونے والی پارٹی کے سب انتظامات دھرے کے دھرے رہ
گئے تھے۔
اب پارٹی دو دن بعد ہونے والی تھی۔
اور اس سے پہلے وہ لائبہ سے بات کر کے اسکی مرضی معلوم کرنا چاہتی تھیں۔
جب سے انہیں ہانیہ نے لائبہ کے ایک بار پھر سے بیہوش ہونے کی اطلاع دی تھی وہ اسکے لیے کافی فکرمند تھیں۔
“زیوا جاو آمینہ کو کہو گرینی نے بلایا ہے۔”
بیڈ کی چادر تبدیل کرتی میڈ کو گرینی نے پکارا۔
“جی مادام۔”
اثبات میں سر ہلاتی اپنا کام مکمل کر کے وہ جلدی سے آمینہ کو بلانے چل دی۔
کچھ ہی منٹ بیتے تھے کہ آمینہ گرینی کے روم میں داخل ہوئی۔
“آداب گرینی۔”
اندر داخل ہونے کے ساتھ ہی اس نے آگے بڑھ کر گرینی کا ہاتھ عقیدت سے چوما۔
“جیتی رہو۔”
اسکے سر پر گرینی نے اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔
“جی آپ نے مجھے بلایا۔”
پیچھے ہٹ کر وہ احترام سے کھڑی ہوگئی۔
“آو یہاں بیٹھو۔”
گرینی نے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“جی بہتر۔”
صوفے پر وہ محتاط انداز میں ٹک گئی۔
“آمینہ آپکو اندازہ ہے آپ نے ہماری بچی کے ساتھ کتنا ظلم کیا ہے۔”
گرینی گویا ہوئیں۔
“میں نے انور پر بیجا الزام نہیں لگایا گرینی وہ گنہگار ہے۔”
آمینہ نے اپنی صفائی میں جلدی سےکہا۔
“ہم انور کے حوالے سے نہیں بلکہ لائبہ کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔”
گرینی کا لہجہ تلخ ہوا۔
“اوہ اچھا۔ معاف کیجئے گا گرینی۔ میں سمجھی آپ نیہان کے بارے میں شاید کہہ رہیں۔”
آمینہ نے بھول پن سے کہا۔ نادانستگی میں اس نے غلط سمجھا تھا
“اب تو آپکو پتا لگ گیا ناں۔ کیا کہیں گی اب آپ اپنے اس جرم کے بارے میں۔”
گرینی کے لہجے کی تلخی برقرار تھی۔ آمینہ کو گڑبڑ کا احساس ہوا۔
“میں نے کوئی جرم نہیں کیا گرینی۔ وہ میری چھوٹی بہن ہے۔
ماما پاپا کے بعد میں نے اسے انکی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دی وہ میری پوری پوری ذمےداری میں شامل رہی ہے۔
اگر میں نے ایسا کیا تو صرف اسکی بھلائی کے لیے۔”
تکان سے کہتے آمینہ سانس لینے کو رکی۔
“آپ جانتی ہیں نکاح کے دن سے لیکر آج تک اسفر وقار الملک ہر دن لائبہ کو اپنا بنانے کا سوچتا آیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرا تب سے اب تک جب لائبہ اسکی سوچوں سے جدا ہوئی ہو۔”
اسے باور کرانا انہوں نے ضروری سمجھا۔
اسکا تردید کرنا گرینی کو مزید برہم کر گیا۔
اسے اپنی غلطی کا احساس تک نہیں تھا۔
” اس وقت لائبہ صرف بارہ سال کی تھی گرینی۔ میں نے جو بھی کیا اسکی بھلائی ہی کے لیے کیا۔”
خود کو بےقصور ثابت کرنے پر وہ بضد رہی۔
“نکاح آپکے پاپا فردین ملک کی خواہش کے مطابق ہوا تھا آمینہ آپکو یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہیے تھی۔”
گرینی نے خاصی تلخی سے کہا تو آمینہ کو خاموش ہونا ہی پڑا۔
“اسفر وقار الملک بہت پہلے ہی انہیں اپنانا چاہتے تھے لیکن صرف ہمارے حکم کی وجہ سے انہوں نے خود کو روکے رکھا۔
ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتےکہ اس عرصے میں سب بتانے کے بجائے سب چھپا کر آپ لائبہ کو انہیں کے شوہر سے متنفر کرتی رہی ہیں۔”
غصے سے گرینی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
انہیں اٹھتا دیکھ کر آمینہ بھی تیزی سے کھڑی ہوئی۔
ملک مینشن کے طور طریقے ہر ایک کے لیے یکساں تھے۔
کسی کوتاہی کی ہلکی سی گنجائش بھی نہیں تھی۔
“گرینی ہم نے تو وہی کیا جو۔۔۔”
“خاموش ہو جائیے۔ بالکل خاموش۔”
آمینہ کی ہٹ دھرمی دیکھ کر گرینی خائف ہوئیں۔
انہوں نے ڈانٹ کر اسے چپ کرا دیا۔
آمینہ ہونٹ بینچے خاموش کھڑی رہ گئی۔
“زیوا۔”
کافی تیز آواز میں گرینی نے میڈ کو پکارا تھا۔
آمینہ کی تیز نظریں انکے چہرے پر عیاں ناگواری ایک سیکنڈ میں بھانپ گئیں۔
زیوا دوڑتی ہوئی آئی تھی۔
اتنے غصے میں اس سے پہلے گرینی نے کبھی اسے نہیں پکارا تھا۔
“اسفر وقار الملک اور انور وقار الملک کو باخبر کر دیں رات ہم ان سے اپنی اسٹڈی میں ملاقات کرینگے۔”
زیوا کو حکم دیتے ہوئے گرینی نے آمینہ کو ناگواری سے دیکھا۔
انکی نظروں کی تپش سے آمینہ گھبرا گئی۔ اسکی پیشانی پر
دفعتا پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔
“جی مادام۔”
اتنے میں زیوا گرینی کا پیغام لیکر وہاں سے چلی گئی۔
“آمینہ ہمارے اگلے فیصلے کے لیے خود کو تیار کرلیں۔ اور اس بار ہمارا حکم ماننے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہوگا آپکے پاس۔ اچھا سا سمجھ لیں۔”
قطعی دو ٹوک انداز میں گرینی نے کہا تھا۔
“جی گرینی۔”
اثبات میں سر ہلاتے وہ نظریں جھکائے باہر نکل گئی۔
“تو میرا پلان کامیاب ہونے والا ہے۔”
مکاری سے اسکی آنکھیں چمکیں تھیں۔
جو کچھ آگے ہونے والا تھا اسے اسکا اندازہ پہلے ہی سے تھا۔
○●□■○●□■
“آنکھیں کھولیں میری جان۔ میری چندا۔ میرے فردین کی نشانی۔”
گرینی کی میٹھی آواز لائبہ کی سماعت سے ٹکرائی۔
آمینہ سے بات کرنے کے بعد پہلی فرصت میں وہ اسکے پاس آئیں تھیں۔
آہستہ آہستہ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں۔
اسکے ستمگر کے علاوہ وہاں سبھی موجود تھے۔
بلاشبہ لائبہ کے دل پر اسکا خوف اس قدر طاری تھا کہ آج ہوش میں آنے کے بعد سب سے پہلے اس نے اسی کو وہاں ڈھونڈا تھا۔
“گرینی مجھے کیا ہوا تھا ؟”
اپنے پاس بیٹھی گرینی کا ہاتھ تھام کر سوال کرتے وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی۔
سوال کرنے کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
اپنی بیماری کے ہاتھوں وہ بالکل بےبس تھی۔
“کچھ نہیں ہوا میری چندا۔ بس تمہیں چکر آگیا تھا۔”
ہمت بڑھانےکو اسکا ماتھا چومتے گرینی نے شفقت سے کہا تھا۔
کوئی کچھ بھی سوچتا ہو لیکن وہ انہیں بہت عزیز تھی۔
اسکا چہرہ انہیں اپنے بڑے بیٹے فردین کی یاد دلاتا تھا۔
وہ اسے اپنے ساتھ اپنے پاس خوش دیکھ کر بہت پرسکون محسوس کرتیں۔
“میری چندا۔ میری لائبہ گرینی کو تم سے کچھ بات کرنی ہے۔
کیا تم اپنی گرینی کی بات سننا چاہو گی۔”
سر پر پن سے ٹکے اسکے دوپٹے کو جو سرک کر پیچھے جاچکا تھا اپنی جگہ ٹکاتے ہوئے گرینی نے امید بھری نظر سے اسے
دیکھا۔
جواب میں وہ نہ کرنے کی ہمت بھی کیسے کرسکتی تھی۔
جو بھی تھا۔ لیکن وہ گرینی کا دل سے احترام کرتی تھی۔
“جی گرینی۔”
مختصر سا کہہ کر وہ چپ ہوگئی۔
پل پل بڑھتی بےبسی نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔
“مجھے اپنی پوتی سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔”
قطعی لہجہ اختیار کرتے گرینی نے ان سبکو وہاں سے جانے کو کہا۔
انکے حکم کے مطابق سب باہر جاچکے تھے۔
اب وہ اور لائبہ اس کمرے میں اکیلے تھے۔
عروسی جوڑے میں ملبوس لائبہ بیڈ پر لیٹی تھی۔
جبکہ گرینی برف کے جیسا ٹھنڈا پڑا اسکا ہاتھ تھامے وہیں بیڈ پر اسکے پاس بیٹھی تھیں۔
“لائبہ چندا۔ کیا ہمارا فیصلہ آپکو تکلیف دے رہا ہے۔”
پیار بھرے انداز میں گرینی نے استفسار کیا۔
لائبہ کے چہرے کی افسردگی اور گہری ہوئی۔
اسکا دل چیخ چیخ کر سچ کہنے کو کیا۔
“کیا آپکے مرحوم پاپا فردین ملک کی خواہش کو پورا کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔”
گرینی کے لہجے میں تھکان عود آئی۔
جیسے کوئی گم شدہ مسافر اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ پایا ہو اور خود کو امید دلاتے دلاتے تھک گیا ہو۔
انکی سیاہی مائل نظروں میں لائبہ کو حسرت کے سائے منڈلاتے دکھائی دیے۔
لمحے بھر کو اسے گرینی کسی گرداب میں چکر کھاتی لگیں۔
کچھ بھی بولنے کے بجائے وہ ہنوز خاموش تھی۔
خاموشی میں خود کو وہ زیادہ محفوظ محسوس کر رہی تھی۔
“اسفر وقار الملک سے آپکا نکاح فردین ملک کی خواہش کے مطابق طے ہوا تھا اور اب آپکی رخصتی کر کے ہم اپنے اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔”
گرینی کے فیصلے کے آگے “نہ”اور “ہاں” کے بھنور میں چکراتی لائبہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے گریزہ تھی۔
“آمینہ فردین نے سب کچھ آپکو نہ بتا کر بہت زیادتی کی ہے۔
آپ سے کچھ بھی چھپانے کا انہیں کوئی حق نہیں تھا۔
آپکو لاعلم رکھ کر انہوں نے اپنے پاپا فردین ملک کی خواہش کا
پاس نہیں کیا۔”
آمینہ کے بارے میں جان کر لائبہ کے دل پر کیا گزر رہی ہے اس بات سے قطعی نظر گرینی کی بات جاری تھی۔
“لیکن ہم اب کسی دھوکے میں آپکو نہیں رکھنا چاہتے اور نہ ہی رخصتی میں بغیر کسی شرعی عذر کے تاخیر کرنے کے متحمل ہونا چاہتے ہیں اسلیے آپکے دل میں جو بھی ہے آپ ہم سے کہہ سکتی ہیں۔ اگر رخصتی کا فیصلہ آپکے لیے زبردستی ہے تو ہم ابھی کہ ابھی اسے واپس لے لیں گے۔”
گرینی کا قطعی لہجہ اسے اور بھی قطعی ہوتا لگا۔
“اور منسوخ نکاح کے لئے کورٹ میں درخواست دائر کر دینگے۔”
اپنے کانوں پر لائبہ کو بالکل یقین نہیں ہوا۔
آزادی کا پروانہ اور وہ بھی اتنا غیر متوقع۔
اسکا انگ انگ جوش میں جھوم اٹھا۔
پہلی بار اس نے لبوں کو جنبش دی۔
کمرے میں پھیلے سکوت میں اسکی شفاف آواز گونجی۔
“لیکن یہ سب تبھی ہوگا جب آپ ایسا چاہیں۔”
گرینی کے کہنے کا اسے یقین نہیں ہوا۔
تجسس سے اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔
“اب آپکی کیا مرضی ہے آپ ہمیں بتا سکتی ہیں۔”
اسے اختیار دے کر گرینی جواب کی منتظر تھیں۔
لائبہ کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔
ایک جست لگا کر وہ مکمل آزاد ہوسکتی تھی۔
اپنی آزادی اور اپنی قید کے بیچ اب اسے فیصلہ کرنا تھا۔
“تھوڑا اور وقت چاہیے ہمیں گرینی دراصل فائنل ایگزیمز قریب ہیں اور ہمیں بہت ٹیشن ہو رہی ہے بس اسی وجہ سے ہم ابھی رخصتی نہیں کرسکتے۔”
ناچاہتے ہوئے بھی اسے جھوٹ بولنا پڑا تھا۔
ورنہ سچ تو یہ تھا کہ اسفر وقار الملک سے اپنے نکاح کو وہ تسلیم ہی نہیں کرپائی تھی۔
اندر ہی اندر وہ ڈری ہوئی بھی تھی۔
گرینی تو اسکا انکار مان لیں گی لیکن وہ انسان جو اسکے دل میں اپنا خوف بیٹھا چکا ہے وہ بھی کیا اسکا انکار قبول کرے گا۔
اسفر کا سوچ کر ہی لائبہ کا دل زور سے دھڑکا۔
“اوہ میری چندا۔ بس اتنی سی بات کو لیکر آپ پریشان ہیں۔
کمال کرتی ہیں آپ بھی لائبہ چندا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے فکرمندی کی۔ پہلے کیوں نہیں گرینی کو بتایا آپ نے۔”
البتہ گرینی کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی۔
انکے کاندھے سے لائبہ کے جھوٹ نے جیسے بھاری بوجھ
ہٹا دیا ہو۔
“ٹھیک ہے فائنل ایگزیمز کے بعد ہی آپکی رخصتی ہوگی۔ آپ بالکل ٹیشن نہ لیں۔”
دفعتا” مسکراتے ہوئے گرینی نے اسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔
رخصتی مؤخر ہونے کا سنکر لائبہ کی شہد آنکھوں میں شاہان کا چہرہ ابھرا تھا۔
ایک وہی تو تھا جسکی محبت کو اسفر کا خوف بھی کم نہیں کر پایا تھا۔ امید کے ہزاروں دیپ اسکی شہد آنکھوں میں روشن ہوئے تھے۔ اسکا نڈھال وجود یکدم توانائیوں سے بھر گیا تھا۔
○●□■○●□■
“آپ دونوں ہمیں بہت عزیز ہیں اور ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اپنی گرینی کو اس عمر میں دکھ دینےکا آپ قطعی سوچ بھی نہیں سکتے۔”
اسفر وقار الملک اور انور وقار الملک دونوں بھائی گرینی کے حکم کے مطابق انکی اسٹڈی میں موجود تھے۔
آمینہ فردین، لائبہ فردین کے بعد اب ان دونوں سے وہ کچھ ضروری بات کرنے والی تھیں۔
“بالکل گرینی۔ ایسا ہی ہے۔”
بیک وقت ان دونوں کی زبان سے نکلا تھا۔
گرینی نے انکی فرمانبرداری پر خوشی سے انہیں آنکھ بھر کر دیکھا تھا۔
“جیتے رہیے۔”
اپنے لیے انکا پیار دیکھ کر گرینی مسرور تھیں۔
“ہم نے دو نہایت ضروری فیصلے کیے ہیں اور یہ فیصلے ہم نے پوری ذمےداری اور فریقین کی مکمل رضامندی کے بعد کیے ہیں۔”
گرینی نے اپنی بات شروع کی تو وہ دونوں توجہ سے انہیں سننے لگے۔
“اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ان فیصلوں پر اپنی رضامندی ظاہر کرکے آپ دونوں بھی اس دشوار مرحلے سے نبٹنے میں ہماری مدد کریں۔”
وہ دونوں بنا کچھ کہے گرینی کی بات کان لگا کر سن رہے تھے۔
“آپکے لیے ہمارا فیصلہ یہ ہے انور وقار الملک کہ آپ اس سبکے بعد آمینہ فردین سے شادی کرینگے اور۔۔۔”
انور وقار الملک کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا۔
گرینی سے اسے اس فیصلے کی بالکل بھی امید نہیں تھی۔
لیکن اب تو فیصلہ ہو چکا تھا۔ لب بھینچے وہ خاموش کھڑا رہا۔
“اور آپ اسفر وقار الملک فلحال لائبہ فردین کی رخصتی کا ابھی اور انتظار کرینگے انکی خواہش کے مطابق جب تک انکے فائنل ایگزیمز نہیں ہوجاتے۔”
گرینی نے ایک ایک کر کے ان دونوں کو اپنے اپنے فیصلے سے
آگاہ کیا۔
اسفر وقار الملک نے کوئی ریکشن ظاہر نہیں کیا۔
اور ویسے کا ویسا ہی اطمینان سے کھڑا رہا۔
شاید اسے گرینی کے اس فیصلے کا اندازہ پہلے ہی سے تھا۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں گرینی۔ آپ نے جو فیصلہ کیا مجھے قبول ہے۔”
اسفر کا اثبات گرینی کے لیے کافی اطمینان بخش تھا۔
البتہ انور کا تذبذب سے خود کو دیکھا وہ بھانپ چکی تھیں لیکن
اسکے خاموش ہونے کو انہوں نے اسکی رضامندی ہی جانا۔
“آپکو کوئی اعتراض ہے کیا انور وقار الملک؟”
اسکو خاموش دیکھ کر انہوں نے خود ہی اس سے استفسار کیا۔
“نہیں گرینی۔ مجھے آپکا فیصلہ قبول ہے۔”
کچھ توقف سے انور بولا۔
“جیتے رہیے۔”
گرینی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اب وہ دونوں جاسکتے ہیں۔
پہلے اسفر اور پھر انور نے باری باری گرینی کا ہاتھ عقیدت سے چوما اور سرعت سے اسٹڈی سے باہر نکل گئے۔
“شکر ہے میرے اللہ تیرا۔”
گرینی نے ان دونوں کے وہاں سے جاتے ہی رب کا شکر ادا کیا۔
○●□■○●□■
شاکی شاکی نظروں سے آمینہ کے کمرے کے بالکل سامنے سے گزرتے ہوئے انور وقار الملک نے دروازے میں ہی اسےکھڑا دیکھ لیا تھا۔
“مبارک ہو انور وقار الملک۔ بہت بہت مبارک۔”
چہرے پر شوخی لیے آمینہ اسے اور بھی چڑانےکا فریضہ ڈیٹائی سے انجام دے رہی تھی۔
شاید وہ اسٹڈی کے دروازے سےکان لگائے سب کچھ سن چکی تھی اور اب اسے تپانے کیلیے وہاں کھڑی ایسا کر رہی تھی۔
“دیکھ لونگا تمہیں تو۔”
بدلے میں انور وقار الملک نے انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے اسے
دھمکایا تھا۔
“کیا واقعی۔” وہ اور بھی ڈیٹائی سے ہنسی تھی۔
“اٹس مائی پرامس۔”
دور جاکر بھی انور اسے جواب دینے سے باز نہیں رہا تھا۔
“دیکھا جائے گا مائی ڈئیر کزن۔”
بےفکری سے کہتی وہ کھل کر مسکرائی تھی۔
○●□■○●□■
اسٹڈی سے نکلنے کے بعد اسفر وقار الملک کے قدم لائبہ کے کمرے کیطرف خود بخود ہی اٹھ گئے تھے۔
گرینی کا فیصلہ اسے شل کر گیا تھا لیکن ایسے ہی مشکل وقت میں تو وہ خود کو چٹان جیسا مضبوط کرلیتا تھا۔
جو گرینی نے ایک بار کہہ دیا من و عن اسے تو پورا ہونا ہی تھا۔
ملک مینشن کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا تھا۔
لیکن اسے لائبہ سے کچھ کہنا ضرور چاہیے۔
یا شاید اپنے دل کے ہاتھوں مجبور وہ اسکی ایک جھلک دیکھنے کو
بےتاب تھا۔
جو بھی وجہ تھی لیکن وہ اسکے کمرے تک پہنچ چکا تھا۔
دو بار نوک کرنے پر اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو اس نے احتیاط سے کمرے کا دروازہ خود ہی کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔
ایک وہی اتنا ضدی اور اکڑ مزاج تھا کہ اسکے خود کے رولز
کے آگے پھر اور کوئی رول نہیں چلا کرتا تھا۔
خاموشی سے بغیر آہٹ کیے وہ ایک ایک قدم چلتا اسکے بیڈ کے بالکل پاس آیا۔
اسکے وہاں آنے سے بےخبر لائبہ گہری نیند میں تھی۔
کمرے میں پھیلا اندھیرا دیکھ کر وہ سمجھ گیاکہ مسزز لائبہ اسفر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہیں۔
لیکن اپنے دل کے ہاتھوں مجبور وہ واپس پلٹنے کے بجائے بیڈ پر کمبل اوڑھے سوئی ہوئی لائبہ کی طرف کھنچا چلا گیا۔
نیلگوں آسمان پر چار سو پھیلی ٹھنڈی چاندنی کھڑکی کے آدھ کھلے پٹ سے لائبہ کے چہرے پر گرتی اسکے تابناک حسن کو اور بھی واضح کر رہی تھی۔
اس بےخبری سے سوتی ہوئی وہ اسے اور بھی زیادہ حسین لگی۔
خمار آلود پل کے سپرد ہوئے اسکے بیباک حسن کی رعنائیوں میں
گم ہوتا اسفر اس سے قریب تر ہوا۔
انکے بیچ نزدیکی اتنی بڑھی کہ لائبہ کی گرم سانسیں اسفر کا دہکتا سینہ چھونے لگیں۔ وہ بےکل ہوگیا۔
“گستاخی معاف۔”
زیرلب بڑبڑاتا ہوا اسکے چہرے پر ابھی وہ جھکا ہی تھا۔
کہ بے دھیانی میں لائبہ کے کھلے بال اسکی شرٹ کے کف میں الجھ گئے اور بال کھینچنے پر گہری نیند سوئی لائبہ کی آنکھ فوری کھل گئی۔
اسے اپنے اوپر جھکا دیکھ کر اسکی تو روح فنا ہوگئی۔
“آ۔پ۔۔پپ۔۔پ۔۔آپ؟”
بمشکل اسکے خشک حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
اسفر اسے جاگتا دیکھ کر گڑبڑا کر پیچھے ہٹا۔
