584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 28

Fareb Nazar by Gazal Saima

“میری خواہش تھی کہ تم میرے آرٹ اسٹوڈیو کی تاریک دنیا سے نکل کر میرے گھر کی روشن اور جیتی جاگتی دنیا میں ایک دن اپنے قدم ضرور رکھو۔ جتنا خوبصورت میں تمہیں تصور کرتا ہوں اتنا خوبصورت تم میرے لیے میری اس دنیا میں بھی نظر آو۔

تم صرف میرا تصور نہیں میری حقیقت بھی ہو۔”

اس پینٹنگ کو کئی سال بعد وہ آج دوبارہ بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا۔

“لائبہ فردین تم پر جس دن میری پہلی نظر پڑی تھی اسی دن میں نے تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی تھی۔”

“تمہیں اپنے دل میں اتنے سال بسائے رکھنےکا اہتمام میں نے کیے رکھا تو بدلے میں تمہیں بھی اب میرے گھر کی دنیا کو اپنے آپ سے بسائے رکھنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔”

“ورنہ میرے اس چھوڑے ہوئے شوق کی طرح تم بھی میری ایک

یاد بن کر میرے عالیشان محل نما گھر کے کسی کونے میں پڑی ہوئی ملو گی۔”

ہڑبڑا کر وہ اٹھ بیٹھا۔ اسکا پورا بدن پسینے سے شرابور تھا۔

“یہ کوئی خواب تھا یا ماضی کی ایک بھٹکتی پرچھائی۔”

سائیں سائیں کرتے دماغ پر اس نے زور دیا۔

“کوئی ڈراونا خواب نہیں وہ میرے بیتے ماضی کی پرچھائی ہے

جسے لائبہ کے وجود نے پھر سے زندہ کردیا ہے۔”

زیرلب بڑبڑاتا وہ گہری گہری سانس لے رہا تھا۔

اسکی آنکھ لگ گئی تھی۔ وہ ابھی بھی لائبہ کے پاس ہی موجود تھا۔ البتہ وہ ابھی تک گہری نیند میں تھی۔ اسے یاد آیا ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ وہیں اسکے سرہانے بیٹھا رہا تھا۔

باہر بارش شروع ہوچکی تھی اور کھلی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا

کمرے میں داخل ہورہی تھی۔

شاید انکے سونے ہوئے کوئی بھی وہاں نہیں آیا تھا ورنہ کھڑکی

ضرور بند کر دیتا۔

اسفر کھڑکی بند کرنے کے لیے کھڑا ہونے لگا تو اسکی نظر

لائبہ سے ٹکرائی جو دراصل صوفے کے بجائے اسکی گود میں

سر رکھے ہوئے بےخبری سے سو رہی تھی۔

شاید کسی پہر وہ جاگی تھی اور تب ہی اسکی گود میں اپنا سر

رکھ چکی تھی۔

کھڑے ہوتے ہوتے وہ دوبارہ بیٹھ گیا وہ اسے ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا۔

اسکا معصوم چہرہ اور اس پر اسکی شہد رنگ بند آنکھیں اسفر کو

اپیل کر رہی تھیں۔

“پیار کی صرف نظر تو کافی نہیں ہوتی۔

اظہار بھی تو ضروری ہوتا ہے ناں۔”

خمار آلود آواز اسفر کی سماعت سے ٹکرائی۔

کسی اور کی نہیں وہ لائبہ کی دبی دبی آواز تھی۔

یعنی وہ جاگ گئی تھی۔ اور اسکا ارادہ بھی بھانپ چکی تھی۔

“آپ جاگ رہی ہیں لائبہ۔؟”

وہ بری طرح سے چونکا تھا۔ کہیں وہ اسکے ساتھ کچھ کر گیا ہوتا تو جانے لائبہ اسکی بیخودی کا کیا مطلب نکالتی۔

اس نے لائبہ کا نم لمس اپنے ہاتھ کی پشت پر محسوس کیا۔

“میں تب سے جاگ رہی اسفر جب سے آپ نیند میں کچھ بڑبڑا

رہے تھے۔”

اتنے ہی دبی دبی آواز میں لائبہ نے ناز سے اسکے بازوں میں خود

کو بھرتے ہوئے کہا۔ وہ اٹھ کر سیدھی ہوئی اسکے سینے سے

جالگی تھی۔

اسفر ٹھٹھک کر رہ گیا۔

کیا اس نے سن لیا وہ جو اس نے دیکھا تھا۔

ٹھنڈے پسینے کے چند قطرے اچانک ہی اسکی پیشانی پر

نمودار ہوئے۔

“آپ نے کیا سنا لائبہ؟”

اسکے اب بھی دہکتے رخسار چومتے ہوئے وہ تھوڑا نروس ہوا۔

لیکن لائبہ پر وہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

بخار کی حدت ابھی بھی اسے گھیرے ہوئی ہے اسفر کو صاف

محسوس ہوا۔

“لائبہ فردین تم پر جس دن میری پہلی نظر پڑی تھی اسی دن میں نے تمہیں اپنا بنانے کی قسم کھائی تھی۔”

رسان سے لائبہ دہراتی گئی۔

حرف حرف جو وہ سن چکی تھی۔

“اسفر مجھے افسوس ہے کہ آج تک میں نے آپ پر، آپکی مجھ سے بےپناہ محبت پر ہمیشہ شک کیا۔ آپکے جذبات کو کبھی

سمجھا ہی نہیں۔”

لائبہ کی گرم سانسیں اسفر کو اور بھی بےکل کرنے لگیں۔

اسکا انکشاف پہلے ہی اسکی نسوں میں گدگدا کر اسے شل کر گیا تھا۔

“کیا بس اتنا ہی؟”

اسکے خشک حلق سے پھنسا پھنسا نکلا۔

جسے لائبہ صاف سے سن نہیں پائی۔

اسلیے جواب دینے کے بجائے وہ بدستور خاموش تھی۔

“کیا آپ نے لائبہ کچھ اور بھی سنا تھا؟”

گلہ صاف کر کے اسفر نے قدرے زور سے پھر سے دریافت کیا۔

“اسفر آپ نے کچھ اور بڑبڑایا ہی نہیں۔ لیکن ہمارا دل چاہ رہا تھا کہ آپ یونہی کہتے رہیں اور ہم سنتے رہیں۔”

کہتے ہوئے دبیز مسکان اسکے چہرے پر عیاں تھی۔

اسفر جو سانس روکے اسکے جواب کا منتظر تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ لائبہ کو یک ٹک تکے گیا۔ تاکہ وہ اسکا

پورا سچ نہ جان پائے۔

“اگر مجھے پتا ہوتا کہ آپ مجھے سن رہی ہیں تو میں کبھی

خاموش نہیں ہوتا لائبہ۔”

اسکا برملا جواب سنتے ہوئے لائبہ اسکو اپنی جانب متوجہ پاکر

شناسائی سے مسکرائی۔

لائبہ کو لگا اسفر نے سب کچھ بہت ہی پرسکون انداز میں اپنی

خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ اسکے اور بھی قریب ہوئی۔ وہ اسے اور بھی محسوس کرتا ہوا بےبس ہوا۔

“بس جلدی سے آپکے ایگزیمز ختم ہوجائیں پھر رخصتی پکی۔

مجھ سے لائبہ اب اور آپ سے دوری سہی نہیں جاتی۔”

ایک دم ہی وہ سنجیدہ ہوا تھا۔ ایک دم ہی لائبہ کو وہ سب سے خوبصورت، ہینڈسم، گڈ لنگ اور وجیہ لگا تھا۔ اسکا ہمیشہ کے

جیسا گمبھیر اور نرم لہجہ چاشنی بھری تپش کے جیسا لائبہ

کی سماعتوں پر سحر کرنے لگا۔

سادگی اور معصومیت کی پیکر اور بھی اس پر فریفتہ ہونے لگی۔

اسکی بلیک کلر کی قمیض سے جھلکتے بازو اسفر کو اور بھی

محظوظ کر رہے تھے۔

خوشی اور مسرت ان دونوں کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔

باہر بارش میں تیزی آچکی تھی۔ اب ٹھنڈی ہوا کے ساتھ پانی

کی جھڑی بھی اندر آرہی تھی جسکی وجہ سے ان دونوں کے چہرے نم ہو رہے تھے۔

“ایک منٹ میں ذرا وہ کھڑکی بند کر دوں ورنہ آپکو ٹھنڈ لگ جانی۔”

اسفر سرعت سے کہتا کھڑکی بند کرنے اٹھا تھا۔

“ورنہ میرے اس چھوڑے ہوئے شوق کی طرح تم بھی میری ایک

یاد بن کر میرے عالیشان محل نما گھر کے کسی کونے میں پڑی ہوئی ملو گی۔”

اسفر کی بڑی گول آنکھوں کے ڈیلے پھیلے تھے۔ اسکے قدم

زنجیر ہوئے۔ اسکی سماعت پر گویا لائبہ نے بم پھوڑا تھا۔

لب آپس میں پیوپست کیے ساکت وجامد کھڑا وہ بےیقینی سے

لائبہ کی سمت مڑا تھا۔

“آپ نے کچھ ایسا بھی کہا تھا اسفر مجھے ابھی یاد آیا۔”

بظاہر سرسری سے انداز میں کہا تھا لیکن اسکی اپنی جانب

شاکی نگاہیں اسفر خوب پہچانتا تھا۔

جانے اسے ابھی اور کیا کچھ یاد آنے والا تھا۔

اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔

○●□■○●□■

آخر تمہیں وہاں جانے کی ضرورت ہی کیا تھی شاہان؟؟

نرمین اس پر خاصی غصہ تھی۔

کیا پڑی تھی تمہیں کہ ان آوارہ گرد لڑکوں کے منہ لگے؟؟

برہمی سے کہتے وہ اسے چبھتی نگاہوں سے گھور رہی تھی۔

ارے سوئیٹ ہارٹ غلطی ہوگئی ناں۔ اب میں ایسا کچھ نہیں

کرونگا۔ ڈونٹ وری۔

شاہان نے اسکے شانے پیار سے تھپتھپائے تو نرمین کھل اٹھی۔

شاہان کا ساتھ اسکے لیے سب کچھ تھا۔ سکون اور اطمینان کا

ایک بھرپور احساس اسے اپنے اندر سرائیت کرتا محسوس ہوا۔

مسحور سی وہ شاہان کو یک ٹک دیکھے گئی۔

تیز بارش کی وجہ سے انکا سفر کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا تھا

اور وہ دونوں ابھی فارم ہاؤس واپس پہنچے تھے۔

تمہیں یاد ہے ناں گرینی نے کیا کہا تھا ؟؟

نرمین نے شاہان کے کوٹ کا کولر لاڈ سے تھام رکھا تھا۔

دونوں بالکل پاس پاس کھڑے تھے۔

“نہیں مجھے تو بھول گیا سوئیٹ ہارٹ۔”

جان بوجھ کر شاہان نے بھولنے کی ایکٹنگ کی۔

وہ نرمین کو ستانے کے فل موڈ میں تھا۔

“اوہ۔ کیا واقعی تم بھول گئے؟”

قدرے افسوس سے نرمین نے کہا۔ اسکی بھنویں سیکڑیں تھیں۔

شاید وہ کچھ زیادہ ہی ناامید ہوئی تھی۔

“تم بتاو ناں سوئیٹ ہارٹ تمہاری گرینی نے کیا کہا تھا؟؟”

استہزائیہ انداز میں وہ گویا ہوا۔

اسکی بلیو آئی بالز نرمین کو اور بھی متوجہ کیے ہوئے تھی۔

گنگ سی کھڑی وہ ہلکا سا مسکرائی۔

“ہماری شادی اس جمعے کو کنفرم ہے۔”

شوخی بھرے انداز میں کہتی وہ شرمائی تھی۔

“واو۔۔۔ رئیلی۔ کیا تم سچ بول رہی ہو سوئیٹ ہارٹ”

تحیر سے سر جھٹکا۔ وہ خوشگوار حیرت کے زیر اثر تھا۔

“یپ۔” کھنکھتی آواز میں کہتے ہوئے لائبہ نے سرعت سے سر کو اثبات میں جنبش دی۔

○●□■○●□■

مینشن کے بجائے اس شادی کو فارم ہاؤس پر ہی انجام دیا جارہا

تھا اور ایسا کرنے کا اسفر وقار الملک کا آڈر تھا۔

اور اسکا آڈر نہ ماننے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔

اسلیے سب ہی وہاں موجود تھے۔ فارم ہاؤس روشنیوں کی دلکش

جھلملاہٹ سے منور تھا۔ آج نرمین وقار الملک رشتہ ازدواج میں

شاہان فاروق کے ساتھ بندھنے جارہی تھی۔

“بھاری لہنگا سنبھالوں یا پھر اس پھولوں سے سجی ٹرےکو۔”

سنبھل سنبھل کر پاؤں پاؤں چلتی نرمین بس گرنے ہی والی تھی کہ اسکا مسیحا بالکل صحیح وقت پر پہنچ گیا۔

“سنبھل کر بےبی۔ سنبھل کر۔”

آنے کے ساتھ اس نے اسکا ہاتھ تھاما۔

لیکن وہ اتنی بدحواس ہوئی کہ پھسل کر اسی کے بازوں میں جھول گئی۔

“اچھا طریقہ ہے اپنے نئے نویلے منگیتر سے فلرٹ کرنےکا، بےفکری سے وہ کہتا ہوا اسکی نیک پر ابھرے اس براون تل کو کس کر گیا۔”

“ارے۔ارے۔کچھ شرم ہے کہ نہیں آپکو۔”

اکھڑی اکھڑی سانس لیتے وہ اسی کے بازوں میں مقید مچلی۔

“شرم نہیں میری جان۔ مجھ تم سے پیار ہے۔ بےانتہا اور بےاختیار۔”

اسکی نیک پر وہ ایک اور کس کر چکا تھا۔

اسکے کانوں کی لہویں سرخ پڑی تھیں۔

“میری کمر چھوڑیں شاہان کوئی دیکھ لے گا۔”

کسمساتے ہوئے نرمین نے خود کو اسکے حصار سے چھڑانے کی ناکام کوشش کی۔

“کوئی دیکھ لیگا تو نظر جھکا لیگا۔ کسی کی پرائیویٹ لائف میں انٹری دینا کوئی اچھی بات جو نہیں۔”

بلیک پینٹ کوٹ اور وائٹ شرٹ کا یونیورسل کمبنیشن پہنے۔ ہونٹوں پر شرارت سے لبریز مسکراہٹ سجائے وہ اسے اور بھی کنفیوز کر رہا تھا۔

“ویسے بھی ہماری انگیجمنٹ ابھی ہوئی نہیں ہے۔ وہ تو

بس بڑے بھیا کی خواہش پر اس دن میں نے رضامندی ظاہر

کر دی تھی۔”

اسے ٹرخانے کیلئے نرمین نے تھوڑے جھوٹ کا سہارا لیا۔

جبکہ دل ہی دل میں وہ اسکی دیوانی تھی۔

“اچھا۔ تو یہ بات ہے یعنی مجھے ابھی اسفر بھیا سے بات کرنا ہوگی۔”

ماتھے پر بل ڈالے وہ خفگی سے بولا۔

اسکا ذرا سا خفا ہونا۔ اسے بےچین کر گیا۔

انکے درمیان سرد جنگ چھڑ گئی۔

وہ خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانے لگی اور وہ اسے کسی بھی صورت خود سے دور کرنے کو تیار نہیں تھا۔

“ہائے صدقے۔ آپکی یہ نازک مزاجیاں۔”

نرمین پر نظر جمائے اسکے منہ سے بےساختہ ہی نکلا۔

اسکا ایک بہت پرانا خواب اسکے حق میں حقیقت ثابت ہوا تھا۔

“خوابوں کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے۔”

وہ زیرلب بڑبڑایا تھا۔ اسکی بڑبڑاہٹ کو پاس سے گزرتی لائبہ

نے بغور سنا تھا۔ لیکن نظر انداز کر کے وہ آگے بڑھ گئی۔

اب اسے غیر متوقع صورتحال پر غور کرنا گوارا نہیں تھا۔