Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 36 (Last Episode)
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 36 (Last Episode)
Fareb Nazar by Gazal Saima
“تم نے کیا سوچا تھا شاہان فاروق اتنی آسانی سے میرے بھیا کو اپنے جال میں پھنسا کر تم خاموشی سے نکل جاؤ گے اور لائبہ کی نظروں میں بھی خود کو بےقصور ثابت کر دو گے۔”
شاہان ابھی فارم ہاؤس واپس لوٹا ہی تھا کہ نرمین
نے اسکا راستہ روک لیا۔
“کیا کہہ رہی ہو تم سوئیٹ ہارٹ۔ مجھے کیا ضرورت ہے خود کو کسی کی نظروں میں بےقصور ثابت کرنے کی۔”
شاہان کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔ کہیں نہ کہیں وہ نرمین کی بات سے پریشان ضرور ہوا تھا۔
لیکن پکڑے جانے کے خوف سے نرمین کے سامنے خود کو وہ بالکل نارمل ظاہر کر رہا تھا۔
“افسوس ہوتا ہے مجھے تم پر شاہان۔ اپنا بدلہ لینے
کے لیے تم نے مجھے بھی استعمال کیا ہے۔”
چلاتے ہوئے نرمین اب آپے سے باہر ہوچکی تھی۔
“تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ اپنی محبت کا مجھ سے ناٹک کیا ہے۔۔۔ تم ایک دھوکہ باز انسان ہو۔۔۔ شاہان۔”
غصے سے چلاتی ہوئی نرمین وہاں سے جانے کو
پلٹی۔
“ایک منٹ ابھی تم نہیں جاسکتیں۔ پہلے میرے سوال کا جواب دو۔”
رعونت سا کہتا شاہان اسکو بازو سے پکڑے روکے
ہوا تھا۔ اسے اسکی ذرا بھی فکر نہیں تھی بلکہ وہ
اس سے صرف اس شخص کا نام جاننا چاہتا تھا جس نے نرمین کو ساری سچائی کا یقین دلایا تھا۔
“میں تمہیں کچھ نہیں بتاونگی۔ آئندہ کبھی میرے
سامنے مت آنا۔ مجھے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی۔”
اسکی گرفت سے اپنا بازو چھڑا کر وہ سر جھٹک کر پھر چلائی۔ شاہان کا چہرہ ایک پل میں زرد ہوا۔ اسکے سامنے کوئی اور نہیں گرینی خود موجود تھیں۔ وہ بھی وہاں موجود ہیں اس نے ایسا تو سوچا ہی نہیں تھا۔ ویل چیئر پر ہونے کیوجہ سے وہ کھڑی نہیں ہوسکتی تھیں لیکن انکی شعلہ زن نگاہوں نے شاہان کو آنکھوں ہی آنکھوں میں وہاں سے چپ چاپ واپس چلے جانے کی تنبیہ کی تھی۔
“ہم نے اپنے پوتےکو کچھ دنوں کیلئے جیل بجھوایا ہے تاکہ وہ اپنے اوپر لگے ہر الزام کو جھوٹ ثابت کرسکے۔”
گرینی کے انکشاف سے شاہان کو زور کا دھچکا لگا۔
وہ ہل کر رہ گیا۔ تو انسپکٹر عمران نے کیا اسے
بیوقوف بنایا ہے۔ ایک پل کو اسکے دماغ میں ہلچل مچی۔ شاید اپنے بچھائے جال میں وہ خود ہی پھنسنے کو تھا۔ وہ چکرا کر رہ گیا۔
“اصل مجرم کون ہے جلد سب کو پتا چل جائیگا۔
اور پھر وہ اپنی خیر منائے کیونکہ اسکے بعد اسفر وقار الملک اسکو بخشنے والا نہیں۔”
گرینی کا چہرہ یکدم روشن ہوا تھا جیسے انھیں
اسفر کے بیگناہ ہونے کا صدق دل سے یقین ہو۔
البتہ شاہان کی حالت اس وقت اس ہارے ہوئے
کھلاڑی کیطرح تھی جسکی آخری چال بھی اسے
جیت نہیں دلوا سکی ہو۔
مردہ وجود لیے مرے مرے قدموں سے وہ لوٹا تھا۔
نرمین کے ساتھ ساتھ لائبہ اور باقی سب کا اعتماد
بھی وہ کھو چکا تھا۔
○●□■○●□■
“اچھا تو تمہارے لیے یہ محبت ہے۔ اپنی محبت کا
زمانے بھر میں تماشا بنانا۔ خود کو مظلوم ثابت کرنا
اپنی ہی محبوبہ کے شوہر کی بہن سے اسکی مجبوری کو بنیاد بناکر شادی کرنا اور پھر اپنی
بلیک میلنگ سے کبھی ایک کو کبھی دوسرے کو بلیک میل کرنا۔”
درشت لہجے میں لائبہ اسے مسلسل سنائے گئی تھی اور وہ پتھر کا بت بنا سب سن رہا تھا۔
“سب سے بڑے کریمنل تو تم ہو شاہان۔ تم میں تو
انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔”
لائبہ کی آواز اور بھی تیز ہوئی تھی۔
“اب اپنے کیے کی سزا بھگتنے کو تیار ہو جاؤ۔”
قطعیت سے کہتے اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔ شاہان نے خوف کے مارے اسکی جانب
دیکھا تھا۔
“ہینڈز اپ۔۔ یو آر اینڈر ارسیٹ۔”
اسی کے ساتھ انسپکٹر عمران پولیس کے ساتھ اندر
داخل ہوا تھا۔ شاہان کے فرشتوں کو بھی اس سبکا
علم نہیں تھا لیکن لائبہ بہت پہلے ہی سب پلان بنا چکی تھی۔ اب شاہان اور اسفر دونوں جیل میں تھے دونوں ہی کو اگلے ہفتے کورٹ میں پیش کیا جانے والا تھا۔ جسکے بعد اصل مجرم کا چہرہ سبکے سامنے واضح ہوجانا تھا۔ قدرے سکون سے لائبہ نے سوچا تھا۔ اپنے حصے کا کام وہ گرینی کی مدد حاصل کر کے باخوبی نبٹا چکی تھی۔
پولیس شاہان کو گرفتار کر کے لیجا چکی تھی۔ جو چند منٹ پہلے اس سے حساب لینے آیا تھا وہ اب
اپنے گناہوں کی سزا کاٹنے والا تھا۔ قدرت کا بھی
کیا عجب فیصلہ تھا۔
جب اسفر کو گرینی نے کال کر کے ہسپتال بلایا
تب لائبہ کو کچھ بھی نہیں ہوا تھا وہ بالکل ٹھیک تھی البتہ یہ سب اسکے پلان کا حصہ ضرور تھا۔
اسکے پلان کے تحت ہی ہسپتال سے اسفر گرفتار ہوا تھا اور اب شاہان کو بھی اپنی سزا مل چکی تھی۔
○●□■○●□■
“محبت جھوٹ نہیں تھی اسفر۔۔۔ بس میں اپنی محبت کو آزمانا چاہتی ہوں۔”
سر جھکائے۔۔ نظر جھکائے لائبہ بجھے بجھے دل
سے اسفر کے سامنے اعتراف کر رہی تھی۔ اس سے
اپنی محبت کا جو بھاری بوجھ اسکے دل پر آپڑا تھا
وہ اسکے ہاتھوں شل ہو کر رہ گئی تھی۔ ایک طرف
اسکا جرم تھا اور دوسری طرف محبت۔لائبہ مخمصے کا شکار ہوئے بالکل ہی نڈھال دکھائی دے
رہی تھی۔ پورے ایک ہفتے بعد وہ اس سے ملاقات کرنے آئی تھی۔ اتنا وقت دینے کا مقصد اسفر کو
اپنی سوچوں کے حوالے کرنا تھا تاکہ صحیح غلط
کا اندازہ لگا کر وہ خود فیصلہ کرے کہ لائبہ نے اسکے ساتھ صحیح کیا یا نہیں۔
“آپکو پورا حق ہے لائبہ مجھے آپکی ہر سزا قبول ہے۔ لیکن میری محبت خودغرض نہیں۔ اسکا یقین آپکو کرنا ہی ہوگا۔”
لائبہ کے چہرے پر اسفر کی نگاہیں ٹکی تھیں۔
اتنے دن بعد وہ اسے دیکھ پارہا تھا۔ اسکی آنکھوں
نے شکرانے کی تسبیح پلکیں جھپک کر ہزار بار پڑھی تھی۔ وہ اس سے ملنے آئی تھی اسکے لیے یہ ہی بہت تھا۔
“ظالم کو معاف کیا جاسکتا ہے لیکن اسکے ظلم کا
کیا؟؟ کیا اسکا ظلم بھلایا جاسکتا ہے؟؟”
اسکی آنکھوں میں الجھن تھی تو اسکے لبوں پر
شکوے۔ اسفر نے یکسر اپنی نگاہیں اسکے چہرے پر سے ہٹائیں تھیں۔ مجرم ہوتے ہوئے وہ اس پاک معصوم صورت کو تکے جانے کا حقدار ہی کب رہا تھا۔ لائبہ نے اسکی ہچکچاہٹ صاف محسوس کی تھی۔
“تو کیا وہ اپنا جرم قبول کر رہا تھا۔ وہ مجرم ہے اسے سچ سمجھا رہا تھا۔”
لائبہ وہاں سے چلے جانا چاہتی تھی۔ اسکے پاس سے دور۔ وہ عجلت سے پلٹی تھی۔
“مجھے اب جانا ہوگا اسفر وقار الملک۔”
جلدی سے کہتے ہوئے وہ قدم بڑھا چکی تھی۔
“ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا لائبہ۔”
مایوسیوں میں ڈوبی ہوئی اسفر کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تھی۔
“ہوسکے تو مجھے بھول جانا اسفر وقار الملک۔”
بیگھی آنکھوں کے کنارے رگڑتی وہ بےدلی سے زیرلب بڑبڑائی تھی۔ مگر ہمیشہ کیطرح اس مرتبہ بھی اسکی بڑبڑاہٹ اونچی تھی جسے صاف سنا جاسکتا تھا۔ لیکن آج اسکی بڑبڑاہٹ سننے والا
کوئی نہیں تھا۔ کتنا عجب تھا ناں قدرت کا اٹل فیصلہ!!۔ بوجھل قدموں سے وہ پولیس اسٹیشن کے احاطے سے باہر نکل آئی۔
○●□■○●□■
(گرینی کے ہارٹ اٹیک والا دن )
“ہاں یہ گناہ مجھ سے ہوا ہے۔ میں لائبہ اور اسفر کی گناہگار ہوں۔ لیکن میں مجبور تھی۔”
آمینہ نے گرینی کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خود
کو قصور وار تسلیم کر لیا تھا۔ گرینی نے حسرت
سے اسکی طرف دیکھا تھا۔
“وہ آپکی سگی بہن تھی۔۔ آپکے پاپا فردین ملک کی بیٹی۔۔ آپکو اس معصوم پر ذرا رحم نہیں آیا آمینہ۔”
گرینی نے خفگی سے اسے گھورنا جاری رکھا۔
“نہیں ہے وہ میری بہن۔ وہ میرے اور پاپا کی محبت کے بیچ کی دیوار ہے۔”
یکدم ہی آمینہ چلائی تھی۔ گرینی کی آنکھیں
حیرت سے پھٹی رہ گئیں تھیں۔ وہ کیا کہہ رہی ہے۔۔ گرینی کو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔
“آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں آمینہ؟؟؟”
گرینی نے سر جھٹک کر اسے دیکھا جو اوپر سے اچھا بننے کا ڈھونگ کرتی آئی تھی لیکن ایک بڑی حقیقت کا پتا ہونے کے باوجود آج تک خاموش رہی۔
“تو آپ لائبہ کے ماضی سے واقف ہیں۔ اور اسی لیے آپ اسکا آج تک فائدہ اٹھاتی آئیں ہیں۔”
خشمگی نظروں سے گرینی نے بہن کے روپ میں
ایک عیار اور مکار مورت کو دیکھا تو انکا دل کٹ کر
رہ گیا۔
“کس قدر سفاک ہیں آپ آمینہ۔ ہمیشہ محبت کو
دھوکہ دہی سے حاصل کرتی آئی ہیں۔”
گرینی نے اسکے بت بن جانے کے بعد خود ہی تانے
بانے بننے شروع کر دیے تھے۔ لائبہ کے لیے وہ اس
قدر فکرمند تھیں کہ یکلخت آمینہ کے انکشاف کے
بعد وہ خود ہی اس گھتی کو سلجھانے لگی تھیں۔
“وہ ہمیشہ سے ہی بیمار تھی۔ اسے اب مرنا ہی ہوگا۔ میرے حصے کی ماما پاپا کی محبت اور انکی
پراپرٹی ہر چیز میں وہ حصہ دار بن گئی جبکہ وہ
میرے پاپا کی اپنی اولاد تھی ہی نہیں۔۔۔ بلکہ وہ انکی چہیتی سیکرٹری سوزی کی اولاد تھی جسے
پاپا نے گود لے لیا تھا۔”
رسان سے کہتے ہوئے آمینہ سانس لینے کو رکی تھی جب اسکی نظر گرینی کی جانب اٹھی جن
کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
“کس نے بتایا ہے آپکو یہ سب ؟؟؟”
گرینی نے اٹکتے ہوئے دریافت کیا تھا جبکہ دل انکا
پورے زور سے دھڑک رہا تھا۔
“اسی نے جو سوزی کے پہلے قاتل شوہر کی اولاد ہے۔”
سرد مہری سے کہتی آمینہ اب وہاں سے جانے کے
لیے پر تول رہی تھی۔ جتنا کچھ وہ گرینی کے گوش گزار کر چکی تھی اسکے بعد انکا نارمل رہنا مشکل
ہی تھا اور وہ اس سے پہلے ہی وہاں سے غائب ہو جانا چاہتی تھی تاکہ اسکے اوپر کسی کو کسی قسم کا شک نہ گزرے۔
لیکن اسے گرینی کے روم سے نکلتے ہوئے خود لائبہ
نے دیکھ لیا تھا اور جب اس نے زیوا سے پتا لگایا تو
اسے پتا چلا کہ آمینہ اور گرینی کے بیچ کسی بات
پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔ پہلے تو وہ سمجھی کہ
شاید وہ انور اور آمینہ کے مسئلے کے متعلق ہو لیکن
پھر اس دن اسفر کے روم کی تلاشی لیتے ہوئے اسے
گرینی کی اسٹڈی میں لگے خفیہ ویڈیو کیم کا پتا لگا جسے اسفر یقینی طور پر گرینی پر نظر رکھنے کے لیے بڑی ہی چالاکی سے استعمال کرتا تھا۔
تب سے ہی لائبہ کا شک اسفر کے ساتھ ساتھ آمینہ بی پر بھی جانے لگا اور اصل وجہ کی کھوج لگانے
کے درپے ہوگئی۔
○●□■○●□■
“اس پلان میں تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا شاہان۔
تمہارے علاوہ میں مینشن کے کسی اور فرد پر ذرا برابر بھی بھروسہ نہیں کرسکتی۔ وہ سب اسفر کے
مددگار ہیں۔۔ اسکے بہن بھائی ہیں۔۔ وہ کبھی میرا
ساتھ نہیں دینگے۔”
یہ لائبہ کی شاہان سے ایک خفیہ ملاقات تھی اور
یہ ملاقات ٹھیک اس وقت اس نے شاہان سے کی تھی جب اسے اسٹور روم پر شک ہوا تھا اور وہاں
اسکی موجودگی اسے کھٹکنے لگی تھی۔
“ٹھیک ہے میں تمہاری مدد کرونگا لیکن بدلے میں
مجھے کیا ملیگا یہ سب کر کے؟؟”
شاہان اپنی عادت سے مجبور ابھی بھی اپنے فائدے
کے بارے میں ہی مضطرب تھا۔ لائبہ نے افسوس بھری نظر اس خودغرض انسان پر ڈالی۔
اس گرداب کے بیچ پھنسے وہ اپنا سب کچھ کھونے
والی تھی اور ایک وہ تھا جو ایسے وقت میں بھی
بدلے میں اپنا فائدہ جانے کا متلاشی تھا۔
شکوہ کن نگاہوں سے اس نے چند منٹ اس موقع پرست شخص کو تکا اور پھر سر جھٹک کر گویا
ہوئی۔
“اسکے بدلے تمہیں وہ ملیگا جسکا تمہیں اس سارے پلان کے آخر میں ملنا بہت ضروری ہوگا۔”
اشاروں میں کہتی وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اسفر وقار الملک کا سوتیلا بھائی اور سوتیلی بہن
اس جنگ میں تمہارا ساتھ ضرور دے سکتے ہیں بس
اگر تم انہیں میری ہی طرح اچھا سا کینونس کرنے میں کامیاب ہو گئی تو۔”
لائبہ کے اٹھے قدم یکلخت رکے۔ حیرانگی سے وہ
پیچھے پلٹی اور تیز تیز چلتی اس تک آئی۔
“کیسے سوتیلے بہن بھائی؟؟”
ہزار شکوے لیے اسکی شہد رنگ آنکھیں حیرت کے مارے پھیل کر بڑی ہوئی تھیں۔ لیکن اسکا مدمقابل ابھی بھی بالکل پرسکون تھا۔ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا اسکے سچ ہونے میں رتی برابر بھی اسے شک نہ ہو۔ لائبہ اسکا اطمینان دیکھ کر ٹھٹکی۔
“جی ہاں مسزز اسفر وقار الملک۔ سوتیلے بہن بھائی۔۔۔ اظہر وقار الملک اور نرمین وقار الملک۔”
الفاظ پیس پیس کر کہتا وہ ایک سانس میں سچ کہہ گیا لیکن لائبہ کو لگا جیسا اسکے کانوں میں گرم سیال انڈیل دیا گیا ہو۔ وہ بت کی بت بنی کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ اس جنگ میں جانے اسے ابھی
اور کتنے سچوں کا بوجھ اٹھانا تھا۔ وہ گہری سوچ میں پڑ گئی اور شاہان گویا اسکا خالی پن اور بڑھا
کر بڑے ہی ریلکس موڈ میں وہاں سے چلا گیا۔
“اب تمہیں پتا لگے گا لائبہ اسفر۔۔ اپنے چاہنے والوں کے دھوکے کا دل پر بوجھ لےکر جینا کیا ہوتا ہے۔”
زیرلب بڑبڑاتا وہ وہاں سے بہت دور جاچکا تھا۔ لیکن لائبہ اپنا ایک اور بھروسہ اسفر وقار الملک کے مقابل ہار بیٹھی تھی۔
○●□■○●□■
( کورٹ کے فیصلے کا دن )
“تمام گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی میں عدالت اس
فیصلے پر پہنچی ہے کہ مجرم شاہان فاروق پر بلیک میلنگ کا جرم ثابت ہونے پر عدالت اسے پانچ سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سناتی ہے۔ جبکہ اس کیس سے جڑے دوسرے مجرم اسفر وقار الملک جنھوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی سال تک قانون کو گمراہ کیے رکھا پر آرٹ اسکیئم میں ملوث ہونے کے جرم میں پندرہ سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانے کی سزا سناتی ہے۔”
عدالت سے آنے کے بعد سے مینشن میں خاموشی کا ڈھیرا تھا۔ جیسے کوئی بھی ایک دوسرے سے
بات چیت کرنے کا متمنی ہی نہ ہو۔ رشتوں اور ان سے جڑے دلی جزبات کا ان کچھ دنوں میں اتنی بری طرح سے پوسٹ مارٹم ہوا تھا کہ ہر فرد زخم
زخم تھا۔
وہ مینشن میں اسکی آخری رات تھی۔ سب پیکنگ
کرلینے کے بعد وہ مرے مرے قدموں سے گرینی سے
ملنے انکی اسٹڈی میں آئی تھی۔ اسفر کا ویڈیو کیم اب بھی وہی لگا تھا اسکی خواہش کے عین
مطابق۔۔۔تاکہ کبھی بعد میں وہ خود سے جڑے۔۔۔
اس سچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ اور سن سکے۔
بالکل اسکے میعار کے مطابق۔۔۔ اسی کے طریقے سے۔۔۔ لائبہ نے بھی اسکے لیے اپنا راز چھوڑنے
والی تھی۔
“فیصلہ ہوچکا ہے۔ بالآخر اتنے سال بعد قدرت کا انصاف پورا ہوا۔”
لائبہ مینشن کے اسٹڈی روم میں گرینی کے سامنے
سر جھکائے بوجھل وجود لیے بیٹھی تھی۔
“فردین نے ہمیشہ سوزی کے بچوں کو مینشن کا حصہ بنانا چاہا لیکن ہر بار وقار الملک اور نورین بیگم انکے راستے کی دیوار بن گئے۔”
گرینی بھی کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھیں۔
کچھ راز دل میں رکھے رکھے انسان خود سے بھی ہار جاتا ہے۔ شاید وہ بھی ہار گئیں تھیں۔ لائبہ نے خاصی دیر بعد اپنا جھکا سر اٹھایا تھا۔
“اور یہ بھی سچ ہے کہ لائبہ فردین بھی ان میں سے ایک ہے۔”
جانے کتنی دیر سے اسکی پلکوں پہ رکے آنسو بہہ کر اسکے گلابی مائل رخساروں پر بہہ گئے تھے۔
“آپ سب مینشن کا حصہ ہیں لائبہ اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک۔ ہم ہیں محافظ آپ سبکے۔”
گرینی کو جیسے اسکا ناامید ہونا بہت برا لگا تھا۔
اسے حوصلہ دینے کو وہ سرعت سے بولی تھیں۔
“لیکن پاپا کو اس روز جس شخص نے مارا وہ سوزی
کا پہلا شوہر بدر شاہ تھا۔ تب اسفر نے انہیں بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی تھی گرینی؟؟”
آمینہ کا بتایا آدھا سچ ابھی بھی اسکے دل میں
ایک پھانس بنکر چبھ رہا تھا۔ جانے سے پہلے وہ
بدگمانیوں ۔۔ غلط فہمیوں سے اپنا دل صاف کر لینا چاہتی تھی۔ تاکہ مستقبل میں اسفر کے حق میں فیصلہ کرتے وقت اسے کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
“یہ آدھا سچ ہے لائبہ چندا۔”
گرینی نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا۔
بہتے پانی کا وہی صاف شفاف جھرنا لائبہ کو اپنی
سماعتوں کے گرد بہتا محسوس ہوا جسے سنکر وہ
کسی اور ہی جہان میں پہنچ جاتی تھی۔
“اف گرینی آپ کتنا میٹھا بولتی ہیں۔”
اس نے پوری یکسوئی سے سوچا تھا۔
“اس رات فردین کے زخمی ہونے کی ویڈیو شاہان نے اپنے موبائل میں بنائی ہوئی تھی۔ شاہان وہ نہیں لائبہ جسے آپ جانتی آئی ہیں بلکہ اسکا اصلی کردار اس بلیک میکر کا ہے۔۔۔ جو فردین کے ان چار
دھوکہ باز پارٹنرز میں سے ایک کی اولاد ہے۔ وہی پارٹنر جسے فردین ملک کے زندہ بچ جانے کی اطلاع ملک چھوڑنے سے پہلے ہی مل چکی تھی۔”
گرینی سانس لینے کو رکی تھیں۔ لائبہ نے تشنگی
بھری نظر ان پر ڈالی۔ گویا وہ پورے سچ سے واقف
تھیں۔ اسکا دل زور سے دھڑکا۔
“یہ سب اسی کا پلان تھا دراصل شاہان کو تیار کر
کے یہاں لایا گیا تھا وہ ابھی تک مینشن کے ہر فرد
کا صرف اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلیے استعمال
کرتا آیا ہے۔”
گرینی کا حلق خشک ہوا تو انہیں کھانسی ہونے لگی۔ پانی پینے کے لیے انہوں نے ہاتھ ٹیبل کیطرف
بڑھایا تاکہ جگ سے پانی گلاس میں نکال سکیں تو
لائبہ نے آگے بڑھ کر انہیں روک دیا اور خود گلاس میں پانی نکال کر انکی طرف بڑھایا۔
“جیتی رہیں۔”
گرینی کے خشک لب ہلے اور انہوں نےلائبہ کے ہاتھ سے گلاس پکڑ کر لبوں سے لگایا۔
“لیکن آپ نے مجھے کیوں مینشن کا حصہ بنانے سے آمینہ بی کو روکے رکھا؟؟”
یکدم لائبہ کا لہجہ سپاٹ ہوا تھا۔
پانی پیتے ہوئے گرینی نے اسے بےیقینی سے دیکھا۔ پانی کا آخری گھونٹ انکے حلق میں ہی
رک گیا۔ انہیں زور کا ٹھسکا لگا۔ ایک بار پھر وہ
کھانسنے لگیں۔
جو کچھ ہوا وہ سب قبول کرچکی تھی۔ کسی سے
کوئی گلہ کوئی شکوہ اس نے نہیں کیا تھا لیکن اسفر اور اسکا نکاح ہوجانے کے بعد بھی ہجر کا جو زہر اب تک اسفر پیتا آیا تھا اور جسے جاننے کے بعد وہ بھی ہراساں رہی تھی اسکا کیا ؟؟
اسکا ضبط بھی آخرکار ٹوٹ ہی گیا۔۔۔ محبت کی
کہانی میں وہ بھی پاؤں پاؤں بھٹکتی رہی تھی۔ اسکا شکوہ اب بھی اپنی زبان پر نہ لاتی تو پھر کب لاتی۔ اسے اسفر کے لیے اپنا پورا سچ پیچھے چھوڑ کر جانا تھا۔ اب وہ صرف نظر کا تصور بھی نہیں کر
سکتی تھی۔ جسکا جو جرم تھا وہ عیاں ہونا ہی چاہیے تھا۔
کچھ سیکنڈ رک کر وہ پھر درشت سے گویا ہوئی۔
“اسفر وقار الملک کو جب اس سچ کا پتا لگےگا تب وہ بھی آپ سے یہی پوچھے گا۔ مجھے یقین دلانے کے لیے تو آپ کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں لیکن اسے یقین دلانے کے لئے۔۔ معقول وجہ ضرور ڈھونڈ نکالیےگا ورنہ وہ بھی میری طرح۔۔ آپکو ہی ہماری محبت کا مجرم قرار دیگا۔”
رسان سے کہتے ہوئے لائبہ اسٹڈی سے جانے کو
اٹھ کھڑی ہوئی۔ اب اسے مزید نہ کچھ کہنا تھا
اور نہ ہی کچھ سننا تھا۔
وہ اپنا راستہ۔۔ اپنی منزل۔۔۔ پہلے ہی چن چکی تھی۔ یہ سب تو بس اسفر کی خاطر تھا۔
ایک سچ کو اپنے پیچھے اسفر کے نام چھوڑ کر وہ نیویارک کیلئے روانہ ہوگئی۔ جہاں اگلے ماہ اسکی برین سرجری ہونے والی تھی جسکی کامیابی کا سو فیصد امکان تھا اور جسکے بعد وہ پھر سے اپنی زندگی جینے والی تھی۔۔۔ایک نئی زندگی۔
♡♡ اسکے فریب میں اسکی
آنکھیں بھی تھیں شامل ♡♡
♡♡اک آخری سچ تھا باقی
فقط وہ بھی فریب نظر کا♡♡
