Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 17
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 17
Fareb Nazar by Gazal Saima
“آپ ہمارے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے۔”
اسے وہاں دیکھ کر دیکھ کر وہ بدگمان ہوئی۔
دوپٹہ پھیلا کر اپنے اوپر ڈالتی وہ ایک جھٹکے سے اسفر سے دور ہوئی۔
“آپ غلط سمجھ رہی ہیں لائبہ۔
باخدا ہمارا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا۔”
اسفر تردید کرتا پیچھے ہوا۔
“بس۔ بس۔ رہنے دیں۔ سچ یہ ہےکہ آپ نے ہمارے نیند میں ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہا ہے اور ہم گرینی کو اس بارے میں بتائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔”
جوش میں کہتی لائبہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
دودھیا چاندنی کا سارا فسوں یکلخت اسکے چہرے سے غائب ہو چکا تھا۔
اسفر اپنے ہوش میں واپس آیا۔
“رک جائیں لائبہ۔ آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔”
ہاتھ پکڑ کر اسے اسفر نے روکا تھا۔
“ہم کچھ غلط نہیں سمجھ رہے۔”
اپنا ہاتھ اسکی گرفت میں دیکھ کر وہ اور بھی بدکی تھی۔
“آپ جانتے بوجھتے ہم پر الزام لگا رہی ہیں۔”
اسفر نے اسکی شہد آنکھوں میں تڑپ کر دیکھا تھا۔
“اور ہم اپنا الزام سچ ثابت بھی کر دکھائیں گے۔”
عالم طیش میں اس نے دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں سے سجی کلائی سائڈ ٹیبل سے ٹکرائی تھی۔
کلائی میں موجود رنگ بھرنگ چوڑیاں ٹوٹ کر فرش پر بکھری تھیں۔
“کیا پاگل پن ہے یہ لائبہ۔”
اسکی حرکت پر اسفر اور بھی بھڑک اٹھا۔
“تو پاگل پن صرف آپکو ہی دکھانا آتا ہے کیا۔”
غصے سے وہ پنکاری تھی۔
اسفر کو اسکی نظروں میں اپنے لیے نفرت دکھائی دی۔
وہ نفرت جو بدگمانی اور وسوسوں کا ایسا جنگل اگا دیتی ہے جس میں عمر بھر بھٹکنا پڑتا ہے لیکن نجات کا کوئی راستہ ہاتھ نہیں آتا۔
اسفر کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ اور بھی بھڑکی۔
اور اسی پل بالوں کو بکھیر کر اپنے چہرے پر ڈالا۔
“ہوش میں آئیں لائبہ۔ ایسا کر کے بھی آپ مجھے مجرم نہیں ثابت کر پائیں گی۔”
اسفر کے لیے اسکا رویہ غیر متوقع تھا۔
اسکے لہجےکی تشنگی کے جواب میں لائبہ کو اسکی رتی برابر بھی فکر نہیں تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لائبہ کی زخمی کلائی سے خون کے قطرے نکل کر اسفر کی شرٹ کو رنگنے لگے۔
چوڑیاں ٹوٹنے سے اسکی کلائی بری طرح زخمی تھی۔
“ہوش میں تو ہم اب آئیں ہیں اسفر وقار الملک۔”
لائبہ نے ڈریسنگ ٹیبل پر سجی ہر چیز اٹھا کر فرش پر دے ماری۔ لیکن اسکے پاگل پن میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
“تو آپ ہمیں مجرم ثابت کرنا چاہتی ہیں۔”
اسکے پاگل پن کے نتیجے میں اسفر بھی طیش میں چلایا تھا۔
اسکا ضبط جواب دینے لگا تھا۔
“آپکا ارادہ ہمیں اپنے شکنجے میں جکڑنے کا تھا۔
آپ ہمارے سوتے ہوئے ہمارے پاس اسلیے آئے کہ آپ ہمیں گرینی کی نظر میں قصور وار ٹھہرا کر رخصتی کے لیے ہمیں مجبور کرسکیں۔”
پوری قوت سے لائبہ چلائی تھی۔
بیخودی کے عالم میں کی گئی اسکی ایک غلطی نے لائبہ کو اس سے اور بھی متنفر کردیا تھا۔
اسکو خود سے متنفر دیکھ کر اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔
لائبہ کا ایک ہاتھ ابھی بھی اس نے پکڑا رکھا تھا۔
لیکن اسے روکنے کی کوشش اس نے ایک بار بھی نہیں کی تھی۔
طیش میں آکر وہ جو توڑ پھوڑ کررہی تھی اسفر نے ویسا کرنے سے اسے ایک بار بھی نہیں روکا تھا۔
اپنی بھڑاس نکال کر لائبہ نے خود کو وال سائز مرر میں دیکھا۔
اسکا حلیہ بگڑ چکا تھا۔
اب وہ اسفر کو اپنا مجرم ثابت کرنے کے لیے بالکل تیار تھی۔
البتہ اسفر اسکا ارادہ بھانپ لینے کے باوجود اپنے لب آپس میں پیوپست کیے ساکت و جامد کھڑا رہا۔
لائبہ کے کمرے سے آتی شور شرابے کی آوازیں گرینی سمیت سبھی کو وہاں کھینچ لائی تھیں۔
آمینہ بدحواسی میں بھاگتی ہوئی آئی تھی۔
“کیا ہوا میری جان۔ میری لائبہ۔”
کمال فنکاری سے سبکو دھکیل کر وہ سب سے پہلے کمرے میں
داخل ہوئی تھی۔
اندر ہر چیز بکھری پڑی تھی۔ پورا کمرہ تہس نہس ہوا ہوا تھا۔
آنکھیں پھاڑے سب ہی اس منظر کو شاک کی کیفیت میں دیکھ رہے تھے۔
وہ اسفر وقار الملک تھا جو اس سبکے لیے مورد الزام ٹھہرایا جانے والا تھا۔
جس نے پورے دس سال اس مورت کا انتظار کیا تھا جو اسے ہی
اپنا مجرم قرار دینے والی تھی۔
آمینہ کے پیچھے پیچھے گرینی اندر داخل ہوئی تھیں۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ٹکٹکی تھیں۔
لائبہ کی کلائی سے نکلتا ہوا خون اسفر کی شرٹ لال کر چکا تھا۔ وہ اسکا ہاتھ ابھی بھی پکڑا ہوا تھا۔
اور پھر کچھ بھی بولے بغیر وہ لائبہ کو اپنی گود میں اٹھائے پورچ کی جانب تیزی سے بھاگا تھا۔
لائبہ پر غشی چھانے لگی تھی۔ اسکی نبض ڈوبنے لگی تھی۔
اسفر کا چہرہ بھی اسکی کے ساتھ اسکی طیش بھری نگاہوں میں ڈوبنے لگا تھا۔
“شاہان۔” عالم بیہوشی میں لائبہ کے لبوں سے ادا ہونے والا
وہ آخری نام تھا جسے اسفر نے کمال ضبط سے سنکر درگزر کر دیا تھا۔
اس وقت اسکے لیے سب سے ضروری لائبہ کو ہسپتال پہنچانا تھا۔ کار کی پچھلی سیٹ پر لائبہ کو لیٹا کر وہ عجلت سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور زن کر کے کار مینشن سے باہر نکالی تھی۔
اسکی کار کے پیچھے ہی انور اور اظہر کی کاریں بھی روانہ ہوئی تھیں۔
○●□■○●□■
“آخر مینشن میں کیا ہو رہا ہے یہ سب نورین بیگم۔ کیا بچوں کی تربیت کی ذمےداری آپ نے اسی طرح نبھائی ہے۔”
اس دن کے واقعہ پر اور آج ہونے والے تازہ واقعہ پر گرینی خاصی برہم تھیں۔
نورین بیگم جو ابھی کسی فیشن شو سے گھر لوٹی تھیں اور آج کے واقعہ کے بارے میں انہیں گرینی سے ہی پتا چلا تھا۔
بجائے کچھ کینے کے چپ سادے بیٹھی تھیں۔
جیسے یہ سب انکے لیے بہت غیر متوقع ہو۔ وہ تو ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی ہوں۔
“پریس والوں کو اگر اس سبکی بھنک بھی پڑ گئی تو سوچا ہے آپ نے مینشن کی کتنی بدنامی ہوگی؟”
“سکندر حیات ملک کا نام ایک مذاق بن جائیگا اور ہمارے دشمنوں کو اس سب سے الگ خوشی ملے گی۔”
ناگواری سے کہتے گرینی رکی تھیں۔
زور سے چلانے کی وجہ سے انکی سانس پھولنے لگی تھی۔
“گرینی بچے اب بڑے ہوگئے ہیں۔ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔
آخر میں کب تک انکی چوکیداری کرتی رہوں۔”
نورین بیگم کافی دیر بعد بولیں تو وہ بھی اپنی صفائی میں۔
“بہت خوب کہا آپ نے نورین بیگم۔ بچے بڑے ہوجائیں تو والدین کی ذمےداری ختم ہوجاتی ہے۔ انہیں سمجھانے بجھانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔”
قدرے طنز سے گرینی نے کہا تھا۔
ساتھ ہی وہ اپنا سانس بحال کرنے میں لگی تھیں۔
“میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا گرینی۔ لیکن میں اب کچھ بولوں تو انہیں لگتا ہے میں انکی پرسنل لائف میں دخل دے رہی ہوں۔”
نورین بیگم خود بھی پریشان تھیں کہ اس ناگوار صورتحال سے کیسے نکلیں۔
اس سے پہلے کبھی انہیں گرینی کے سامنے اتنی شرمندگی نہیں محسوس یوئی تھی جتنی آج ہورہی تھی۔
“نورین بیگم آپ انکی ماں ہیں۔ انکی جنت ہیں۔ آپکو اپنا فرض آخری دم تک نبھانا ہے۔”
گرینی نے تھوڑے توقف سے کہا۔
اب انکی سانس بحال تھی۔
البتہ اس بار انہوں نے چلانے کے بجائے دھیمے انداز میں کہنا شروع کیا تھا۔
“اولاد کی تربیت سے والدین کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے۔
اولاد کا ان پر یہ حق ہے کہ انکے اچھے برے وقت میں وہ انکا ساتھ دیں۔ انہیں سمجھائیں۔۔۔ درست سمت کی نشاندہی کریں۔”
جب گرینی کچھ سمجھانے لگتیں تو انکا انداز اتنا ٹھنڈا اور میٹھا ہوتا کہ کسی ٹھنڈے ٹھار جھرنے کے بہنے کا گماں ہوتا۔
جسکا دیکھنے، سننے، چھونے غرض ہر طرح کا احساس کسی سحر سے کم نہیں ہوتا۔
نورین بیگم لاکھ انکے نقطہ نظر سے خائف ہوں مگر گرینی کی باتیں انکے دل پر اثر انداز ضرور ہوتی تھیں۔
“جی گرینی میں بات گرونگی۔ انور وقار الملک اور اسفر وقار الملک سے۔”
بالآخر ہمت جتا کر وہ مان ہی گئیں۔
“جیتی رہیے۔ کچھ کوتاہیاں ہمارے اندر بھی ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی زمانے بھر میں ہمیں دکھائی دیتی ہیں۔”
تاسف سے گرینی نے کہا تھا۔
جسکا جواب نورین بیگم نے بادل نخوستہ مروت میں۔۔۔ بڑی ہی عجلت میں دیا تھا۔
“جی آپ درست کہہ رہیں گرینی۔ میں آئندہ خیال رکھوں گی۔”
ایسا کہتے ہی وہاں سے وہ تھکن کا بہانہ بنا کر چلیں گئیں۔
لیکن گرینی کا اشارہ وہ خوب سمجھ چکی تھیں۔۔۔ تبھی مزید ایک سیکنڈ بھی وہاں رکنا انہیں گوارا نہیں ہوا۔
شاہانہ بیگم کو جس طرح وہ اپنی تنقید کا نشانہ بناتی آئیں تھیں آج وہی کچھ الٹ کر انہیں سچ مچ دیکھنا پڑگیا تھا۔
بس گرینی نے اشارے اشارے میں انہیں یہی باور کرایا تھا۔
○●□■○●□■
“اپنا ہاتھ ادھر لائیں۔”
سختی سے اسفر نے لائبہ کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تھا۔
اسکی مرہم پٹی کا فریضہ وہ خود ہی انجام دے رہا تھا۔
ٹریننگ کے دوران سیکھا فرسٹ ایڈ اب اسکے کام آرہا تھا۔
بجائے ہسپتال جانے کے وہ لائبہ کو اس کیفے ٹیریا میں لے آیا تھا جہاں وہ اپنا لیزر ٹائم گزارنے کا شغل فرماتا تھا۔
کیفے کا اسٹاف اس سے اچھی طرح واقف تھا۔
اسکے ایک ہی بار کہنے پر فرسٹ ایڈ کا پورا بکس اسکی ٹیبل پر پہنچ چکا تھا۔
البتہ کیفے میں آنے سے پہلے کار میں ہی وہ لائبہ کا بگڑا ہوا حلیہ سنوارنا نہیں بھولا تھا۔
بنی سنوری لائبہ اسکے سامنے بالکل خاموشی سے پرسکون بیٹھی تھی۔
لیکن یہ سکون بس ظاہری سا تھا وہ بھی خاصکر اسفر وقار الملک کو دکھانے کے لیے ورنہ اسکے اندر تو ایک طوفان اٹھا ہوا تھا۔
“ضد مت کریں لائبہ۔ اپنی کلائی دیکھ لینے دیں مجھے۔
پہلے ہی آپکا کافی خون بہہ چکا ہے۔”
اسکی کلائی اپنے ہاتھ میں لیتے اسفر نے خاصے رعب سے کہا تھا۔
“میرا خون آپکی وجہ سے بہا ہے۔ آپ ہیں میری اس زخمی کلائی اور میرے قطرہ قطرہ ضائع ہونے والے خون کے مجرم۔”
پھٹ پڑنے کے انداز میں لائبہ چلائی تھی۔
“ششش۔ آہستہ بولیں لائبہ۔ مینشن میں نہیں ہیں آپ اس وقت اور نہ ہی اپنے کمرے میں۔”
انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے اسفر نے خاصے روکھے پن سے کہا تھا۔
لائبہ کا چلانا اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔
“کیوں۔ کیوں بولوں میں آہستہ۔ جب میرا مجرم۔ میرا ستمگر میرے سامنے ہے تو میں آہستہ کیوں بھولوں۔”
دفعتا لائبہ نے اسکے ہاتھ میں سے اپنی کلائی کھینچی تھی۔
جس پر اسفر مرہم لگانے کے بعد بینڈج کر رہا تھا۔
“بس ایک منٹ۔”
اسفر کی گرفت کے آگے لائبہ کا بس نہیں چل پایا تھا۔
پوری طرح سے بینڈج کرنے کے بعد ہی اسفر نے اسکی کلائی چھوڑی تھی۔
اسکے چھوڑتے ہی سرعت سے لائبہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔
اور کلائی کو دوسرے ہاتھ میں لےکر سہلایا تھا۔
“اتنا بھی نہیں پتا کہ کسی نازک لڑکی کی کلائی اتنی زور سے نہیں پکڑتے۔”
دھیرے سے لائبہ بڑبڑائی تھی۔
“چاہے نازک لڑکی خود سائڈ ٹیبل سے ٹکرا کر اپنی کلائی ہی کیوں نہ زخمی کرلے۔”
اسفر کو اسکی بڑبڑاہٹ صاف سنائی دے گئی تھی۔
جسکے جواب میں اسپیڈ سے وہ بولا۔
لائبہ نے اسے گھور کر دیکھا۔
بڑبڑاتے ہوئے وہ ہمیشہ اپنی آواز دھیمی رکھنا بھول جاتی ہے۔
اسفر کا برملا تیکھا جواب سنکر اسے یاد آیا تھا۔
“جوس لو گی یا سینڈوچ؟؟”
کچھ دیر یونہی مسلسل چپ چاپ رہنے کے بعد۔۔۔ اسفر نے اس سے اچانک ہی پوچھا تھا۔
گہری سوچ میں غرق ہونےکیوجہ سے وہ بری طرح چونکی۔
“جوس یا سینڈوچ؟؟”
اسکا ہونکا چہرہ دیکھ کر اسفر نے دہرایا۔
“دونوں۔” جھٹ اسکے منہ سے نکلا تھا۔
جانےکب سے وہ بھوکی تھی۔
پھر اتنا بلیڈ بھی ضائع ہوچکا تھا۔
موقع غنیمت جانتے ہوئے اس نے اسفر کو انکار کرنے کی بیوقوفی نہیں کی۔
ورنہ اس جیسے ظالم انسان سے وہ بھوکا پیاسا رکھنے سے زیادہ کی توقع کر بھی نہیں سکتی تھی۔
اسکی جلد بازی دیکھ کر اسفر دھیرے سے مسکرایا تھا۔
“پاگل پن کے صرف اسے دورے ہی پڑتے ہیں۔ ورنہ تو کافی نارمل رہتی ہے۔”
اسکی شہد آنکھوں میں ڈوبتے اسفر نے فرصت سے سوچا تھا۔
جبکہ وہ سرو ہونے والے سینڈوچ اور جوس کو ندیدھے پن سے تک رہی تھی۔
اسفر اسکے اس طرح دیکھنے سے محظوظ ہونے لگا۔
