584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 33

Fareb Nazar by Gazal Saima

“لائبہ یہ کیا بیوقوفی تھی۔ کیا مجھ پر بس آپکو اتنا ہی اعتبار ہے کہ میرے خلاف کسی نے کچھ کہا اور آپ نے فورا” یقین کرلیا۔”

صبح اسکے بیہوش ہونے سے لیکر اب تک وہ اسی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ پل بھر کے لیے بھی لائبہ

کو کسی دوسرے کے بھروسے تنہا چھوڑ کر جانے

کا اسکا دل نہیں کیا تھا۔

لائبہ ہوش میں آنے کے بعد سے کافی الجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اسکی دماغی بیماری دن بدن بڑھتی جارہی تھی لیکن اسکے اچانک ہی بیہوش ہونے کو ایک عام سی بات سمجھنے کی وجہ سے اسفر تک کو اسکی بیماری کے شدید تر ہونے کا احساس نہیں ہوپایا تھا۔ اوپر سے آمینہ بی نے بھی

آج تک اس سے اسکی بیماری کے بارے میں کبھی

کھل کر بات ہی نہیں کی تھی اسی وجہ سے لائبہ

خود بھی اپنی اس بیماری کی نوعیت اور شدت سے

بالکل بےخبر تھی۔ لیکن دن بدن اسکی زرد پڑتی رنگت سارا حال بتانے کیلئے کافی تھی لیکن اگر کوئی اسکی بیہوشی کو سنجیدگی سے لیتا تب۔

“کیا اعتبار کرتے ہم آپ پر اسفر۔ جب ہمارے ایسا

کہنے کے باوجود اپنی صفائی میں آپ نے کچھ نہیں کہا۔ الٹا ہمیں خود کو شوٹ کرنے کیلیے اور بھی اکسانے لگے۔ بھلا کوئی گناہگار ایسا کرتا ہے یا بھر بیگناہ؟ ہم کیا سمجھتے؟؟”

دھیمی آواز سے کہتی ہوئی لائبہ آخر میں روہانسی

ہوگئی تھی۔ اسفر نے کن انکھیوں سے اسکا جائزہ

لیا۔ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کی کشمکش وہ

ہلکان ہوئے جارہی تھی۔ بلاآخر اسفر نے اسے سب

سچ سچ بتانے کا پختہ ارادہ کر ہی لیا۔

“میری خواہش تھی کہ آپ خود سے جڑے اس ادھورے سچ کا بقیہ سچ خود ہی تلاش کریں تاکہ

غیر جانبداری سے آپ ٹھیک فیصلے تک پہنچ سکیں۔

لائبہ!”

سر جھکائے اسکے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر نڈھال بیٹھا اسفر روانی سے گویا تھا۔

اپنی محبت، اپنی زندگی، اپنی بیوی جس سے وہ بےپناہ محبت کرتا تھا کل رات سے اسے کھو دینے کا خوف اس پر مکمل طور پر طاری رہا تھا۔ رات سے نہ وہ ٹھیک طرح سے سو پایا تھا اور نہ ہی ماضی کے ان پرخار یادوں پر خود کو بھٹکنے سے روک پایا تھا۔ سچ بتانے اور اس سچ بتانے کے نتیجے میں لائبہ کیطرف سے ہر قسم کے ردعمل کا سوچ سوچ کر وہ تھک چکا تھا۔ مزید کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی اب اس میں ہمت نہیں تھی۔ یکدم وہ فیصلے پر پہنچا تھا۔اٹل اور جاہرانہ فیصلہ۔

“سچائی کا سامنا کرنا کسی بھی کھرے اور سچے

انسان کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں ہوتا۔ کیونکہ

اسکی نظر میں سچائی کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسفر آپ اس سچ کو جاننے کے سفر میں ہمارے قدم بقدم رہے تو ہمیں پورا سچ جاننے سے

کوئی بھی روک نہیں پائیگا۔”

جذباتیت سے کہتے ہوئے لائبہ نے اسفر کو امید بھری نظر سے دیکھا تھا۔

“میں آپکے ساتھ ساتھ ہوں لائبہ۔ اس دنیا کے ہر

کھٹن وقت میں بھی اور دنیا کے بعد اس غیرفانی جہان میں بھی۔”

اسفر وقار الملک کا دل اقرار کے اس لازوال پل میں اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے سینہ پھاڑ کر باہر نکل آئیگا۔ لائبہ کی پھر سے اسکا بھروسہ کرنے کی ایک ذرا سی امید بھی اسفر کو سر سے پاؤں تک سرشار کرنے کیلئے اکسیر ثابت ہوئی تھی۔

○●□■○●□■

ایش ٹرے میں آخری سیگریٹ کی راکھ گراتا انور

بیخالی میں کسی غیرمرئی نقطے پر کافی دیر سے غور و فکر کرنے میں مہو تھا۔ کتنی ہی دیر سے نیہان اسکی یہ بےتوجہی برداشت کر رہی تھی۔ اب اسکی بس ہوچکی تھی ایک تو پہلے ہی وہ اسے آمینہ جیسی عورت کے ساتھ بانٹنے پر مجبور تھی

اور پھر کچھ ہی دیر کو میسر آئے یہ خلوت کے پل

وہ کب سے بےسدھ بیڈ پر لیٹا گنوا رہا تھا۔ اکتا کر

نیہان سرعت سے لائٹ آف کر کے اسکے ساتھ لیٹ گئی اور اپنے کھلے بالوں کی لٹیں اسکے شانوں پر

ڈال دیں۔ اسکے بالوں سے آتی دلفریب مہک نے یکسر انور کی توجہ کھینچی تھی۔ وہ غیرمرئی نقطہ جس پر وہ کافی دیر سے سوچ بچار کر رہا تھا بھک سے

کہیں غائب ہو گیا تھا۔ اب اسکی پوری توجہ اپنے

ساتھ نیم دراز اپنی محبوبہ بیوی پر تھی۔

اپنی آنکھیں اس پر مرکوز کیے وہ تھوڑا اوپر ہوا تھا

اور اپنے لاڈ سے لبریز لمس اسکی پیشانی پر ثبت

کیا تھا۔ نیہان کھل ہی اٹھی تھی وہ اسکی انسیت

کا ہر پل یکدم یونہی سنوار دیا کرتا تھا۔

“کیا سوچ رہے تھے اتنی دیر سے؟”

اسکے اور بھی نزدیک ہوتے ہوئے وہ اسکے سینے پر

اپنا سر رکھ چکی تھی۔ قربت کے یہ پل ان دونوں کے لیے انمول تھے۔ ایسے میں جب انور کی زندگی میں آمینہ بھی داخل ہوچکی تھی پھر بھی نیہان کی جگہ خاص ہی رہی تھی۔

“کچھ نہیں بس یونہی۔” سرسری سا جواب دے کر انور نے اسے ٹالنا چاہا۔

“رات کے بارہ بج رہے ہیں۔ باہر ایک بار پھر سے پھوار پڑنا شروع ہوچکی ہے۔ مینشن کے تمام ہی افراد اپنے اپنے رومز میں جاچکے ہیں اور لان کے ساتھ ساتھ لاؤنج اور لیونگ ہال کی لائٹس بھی آف ہوچکی ہیں۔ گرینی کی طبیعت کافی سنبھل چکی ہے اور آپکے ممی ڈیڈی اپنی بزنس ٹرپ پر یورپ کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔۔۔”

“او پلیز نیہان۔ یہ کیا نیوز چینل کیطرح تم مجھے ایک ایک نیوز دے رہی ہو۔”

نیہان کی حرکت پر اچنبھے سے انور اٹھ بیٹھا تھا اور بیڈ کراون سے اپنی کمر ٹیک کر سیدھا بیٹھ چکا تھا۔ اسکو تنگ کرکے نیہان کافی خوش ہوئی تھی اور اب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔

“اتنی دیر سے جو تم کسی اور دنیا میں پہنچے ہوئے تھے تو میں نے سوچا کیوں ناں تمہیں واپس تمہاری دنیا کے بارے میں باخبر کردوں۔”

ہنستے ہوئے اسکی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے تھے۔

“تم بھی ناں نیہان۔ میرا مذاق اڑانے کا کوئی موقع

اپنا ہاتھ سے نہیں جانے دینا۔”

خجل ہوتا انور تھوڑا خفا ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا تھا۔

“نہیں تو میں بھلا کیوں اپنے شوہر نامدار کا مذاق اڑانے لگی۔”

وہ اب بھی مذاق کے موڈ میں تھی۔ شرارت سے بولی تھی۔ انور بھی جوابا” اسے خوش کرنے کے لیے مسکرا دیا۔

“انور کچھ دن پہلے میں بھی اس پرانے واقعہ کی

یاد میں اسی طرح ڈوب گئی تھی جیسے ابھی تم گم سم لیٹے ہوئے تھے۔ حتی کہ میں تو اس قدر ڈر گئی تھی کہ مجھے لگتا تھا کوئی مجھے بھی مار دیگا اور اس رات کا بدلہ پورا ہوگا۔”

یکدم ہی نیہان سنجیدہ ہوگئی تھی۔ کچھ دن سے وہ یہ سب انور کے ساتھ شئیر کرنا چاہتی تھی کیونکہ

ایک وہی تو تھا اس رات کا اسکا ہمراز۔ اب جو اسے

موقع ملا تو وہ سب کچھ اسے بتا دینا چاہتی تھی۔

“وہ سب ایک حادثہ تھا نیہان ڈارلنگ۔ محض ایک اتفاق۔ جس نے ہمارے لیے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بیتانے کا فیصلہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی۔”

انور نے نیہان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ وہ جانتا تھا

وہ رات اسے بھول نہیں پائی ہے اکثر وہ خواب میں

بھی ڈر جایا کرتی ہے۔ اسلیے اسکے بات شروع کرنے کے ساتھ ہی وہ سمجھ گیا تھا وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔

“کیا واقعی؟” نیہان کے استفسار کرنے کا بجھا بجھا انداز صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ اندر ہی اندر

اس واقعہ پر بہت شرمندہ تھی۔

“لیکن میرے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں بچا تھا۔

اور پھر وہ آدمی جانے کیوں میری مدد کو آپہنچا۔ اگر وہ فائر نہیں کرتا تو مما نہیں مرتیں۔”

اسکا ضبط جواب دے گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر بچوں کیطرح رو پڑی۔

“تم بالکل بےقصور ہو میری جان۔ کچھ حادثات ہماری پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔ ہمیں نئے موڑ سے روشناس کرانے کیلیے۔ انہیں خود پر سوار نہیں کیا

کرتے بلکہ قدرت کا لکھا ہوا مان کر قبول کرلیتے ہیں۔”

اسکے چہرے سے آنسو پونچھتے ہوئے انور اسے حوصلہ بھی دیتا جارہا تھا۔ نیہان کچھ دیر تک اسکی باتوں پر غور کرنے کے نتیجے میں خود کو پرسکون کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔

اسکا سر انور کے شانے پر ٹکا تھا اور ہاتھ انور کے

ہاتھ میں دیے اب وہ بالکل نارمل دکھائی دے رہی تھی۔

“تم ٹھیک کہتے ہو وہ سب ایک حادثہ تھا اور بس۔”

چند منٹ بعد خاصے اطمینان سے وہ بولی تھی۔

“جی جان جاناں بالکل۔”

اسکی روتی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر انور نے

لجاجت سے کہا تھا جسکے نتیجے میں وہ بالکل

پرسکون ہوچکی تھی۔

“کیا آمینہ سے شادی کا فیصلہ تم نے مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کیا ہے؟”

یکدم ہی اس نے پوچھا تھا۔ انور نے بےیقینی سے

اسے دیکھا۔

ہرگز نہیں میری جان۔ تم اچھی طرح سے جانتی ہو آمینہ نے کیا کھیل کر زبردستی ہماری زندگی میں

گھسنے کی کوشش کی ہے۔ میں اسے کبھی ہمارے بیچ کی دئوار نہیں بننے دونگا۔

قطعیت سے کہتا ہوا انور ایک مرتبہ پھر نیہان کو اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔

ایک بھاری بوجھ نیہان کے دل پر سے آج ہلکا ہوا تھا وہ انور سے اپنی محبت پر اور بھی نازاں تھی۔

“مسرت کبھی بھی ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ یا ہنسی کا نام نہیں ہوتی۔ یہ تو ہمیشہ ہمدم دیرینہ کی روح میں بسی۔۔۔ دل سے لپٹی۔۔۔خوشبو کا نام ہوتا ہے۔”

دھیرے دھیرے نیہان کے لب ہلے تھے۔ ایک اعتراف تھا جو خودبخود اسکے ہونٹوں پہ آگیا تھا۔ ایک فسوں سا ان دونوں کے بیچ عود آیا تھا۔ وہ دونوں ایک ساتھ مسکرا اٹھے تھے۔

○●□■○●□■

“تمہارے پاپا مسٹر فردین ملک ایک کامیاب بزنس مین ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب آرٹسٹ بھی تھے۔ پورے یورپ میں انکی آرٹ کے فن پاروں کا چرچا ایف ایم کے نیم ٹیگ سے تھا۔ انہیں اپنے اصلی نام سے مشہور ہونے کا قطعی کوئی شوق نہیں تھا لیکن قدرت نے انکے ہاتھ میں کامیاب آرٹسٹ کی جو لکیر کھینچ رکھی تھی اسے تو اپنا عروج دیکھنا ہی تھا۔ سو انکی اپنی خواہش کے برعکس انکی مشہور زمانہ کوئین مارتھی کی یادگار پینٹنگ کو اس قدر پذیرائی ملی کہ آرٹ کی دنیا میں انکے کئی دشمن پیدا ہوگئے۔ جو انکا نام اور کام دونوں چرانے لگے اور

اسی بات سے فردین انکل بہت پریشان رہنے لگے تھے۔

اسفر کے منہ سے سچائی سنکر لائبہ دم بخود رہ گئی۔ اس نے تو کبھی اپنے خیالوں میں بھی ایسا کچھ نہیں تصور کیا تھا۔ سالوں پہلے کی اس سچائی سے روشناس کرانے اسفر اسے اپنے پرانے آرٹ اسٹوڈیو لاچکا تھا۔ یہ وہی آرٹ اسٹوڈیو تھا جسے دیکھنے کا اسے بہت زیادہ اشتیاق تھا اور جسے وہ آج سے پہلے تک اسٹور روم سمجھتی رہی تھی۔

اسٹور روم میں بیٹھنے کی جگہ تو نہیں تھی لیکن اسفر نے اسٹور روم کا ڈور بند کرنے کے بعد تاکہ اور کسی کو انکے وہاں ہونے کا پتا نہ لگ سکے۔ اسکے لیے ایک بوسیدہ لکڑی کے اسٹول کو بیٹھنے کے قابل بنا ہی دیا تھا۔ اب لائبہ بیفکری سے اسٹول پر بیٹھ کر ٹکٹکی باندھے اسے سننے میں مشغول تھی۔

رات کا کوئی آدھا پہر گزر چکا تھا لیکن متجسس لائبہ کا تجسس بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اسفر کی

منہ زبانی جتنا وہ جان پائی تھی اس سبکا سچ ہونے

کا یقین کرنا اسکے لیے بہت حیران کن رہا تھا۔

“کیا ان لوگوں میں آپ بھی شامل تھے اسفر جنہوں نے میرے پاپا کا نام چرانا چاہا تھا مشہور ہونے کے لیے؟”

اسفر کے خاموش ہوتے ہی وہ تھوڑے توقف سے بولی تھی۔ اسکی شہد رنگ آنکھیں اسفر کو ایک بار پھر شک سے تک رہی تھیں۔

بجائے نفی میں سر ہلانے کے اسفر نے اسے بس

خاموشی سے پل بھر تکا تھا۔

“میرے بارے میں کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے کے لیے لائبہ آپ بالکل آزاد ہیں۔ اس اسٹوری

میں میرا رول ایک ہیرو سے زیادہ ایک ولن کا ہوسکتا

ہے لیکن آپکے لیے میرے رول سے زیادہ اس اسٹوری کو جاننا زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ تو کنفرم ہے

کہ میں آپکے پاپا کا قاتل ہرگز نہیں ہوں۔”

قطعی انداز تھا اسفر کا لائبہ کو باور کرانے کا۔

البتہ لائبہ اسکا جواب سنکر کر تذبذب کا شکار ہو گئی تھی۔

اسے یونہی پریشان ہوتا چھوڑ کر وہ آرٹ اسٹوڈیو کے ایک کونے سے کچھ پینٹگس اٹھا لایا تھا جنہیں بڑی احتیاط سے مضبوط میٹالک شیلڈ سے بنے کورز میں محفوظ کیا گیا تھا۔ لائبہ نے انہیں بڑے اشتیاق سے دیکھا تھا۔ جلد از جلد وہ ان میں موجود سالوں پرانی ان پینٹگس کو دیکھنا چاہتی تھی جو اسکے پاپا کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ اسفر نے انہیں کس محبت اور توجہ سے اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا وہ ششدر رہ گئی۔ کتنا عجیب تھا یہ سب اسکے لیے۔۔۔ اپنے پاپا کا ایک ایسا سچ جو آج سے پہلے اسے کبھی نہیں پتا تھا اور انکے سچ سے جڑی وہ پینٹگس جنہیں دنیا میں کبھی ماسٹر پیس مانا جاتا تھا لیکن وہ اسکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی اور ایک وہ تھا جو اتنے سالوں سے اس راز کو اپنے سینے میں لیے اس پل کا انتظار کر رہا تھا کہ جب لائبہ کے دل میں اس سب حقیقت کو جاننے کی خواہش پیدا ہو۔ واقعی لائبہ کبھی اسفر وقار الملک کو مکمل جاننے کا دعوٰی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ بہت ان پریڈیکٹیبل تھا۔

“یہ میرے ہاتھ سے بنائی کچھ میری خود کی پینٹگس ہیں۔”

اسکے سوچنے کے دوران وہ ان کورز میں سے کچھ

پینٹگس اسے دکھانے کے لیے الگ کرچکا تھا۔

“کیا سچ مچ تم بھی ایک آرٹسٹ تھے؟؟”

تعجب سے لائبہ کی شہد رنگ آنکھیں پھیلیں تھیں۔

“بالکل۔ ایک آرٹسٹ۔ جس نے اپنی آخری پینٹنگ

کسی بہت ہی حسین چہرے کی پینٹ کی تھی۔”

قدرے سنجیدگی سے اسفر نے کہا تھا لیکن لائبہ

نے اسکی آنکھوں میں جلتی جوت صاف محسوس کی تھی۔

“تمہارے یہ فن پارے محض فن پارے نہیں بلکہ شاہکار ہیں۔ اسفر تم ایک بہت ہی بڑے آرٹسٹ ہو لیکن تم نے خود کو چھپا رکھا ہے۔ آرٹ اسٹوڈیو کی ان دیواروں میں اپنے اس ٹیلنٹ کو قید مت کرو۔ تمہارا فن پرواز کرنا چاہتا ہے اس قید خانے سے

باہر نکل کر شہرت کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے تو تم کیوں اسے ان دیواروں میں قید کیے بیٹھے ہو۔ ان فن پاروں کو آرٹ اسٹوڈیو کی تاریک دنیا سے نکال کر آرٹ کی جیتی جاگتی روشن دنیا میں لے جاو۔”

یادداشت کے پنے پر اچانک ہی اسے اپنا آپ دکھائی

دیا تھا۔

“فردین انکل میں ویسا ہی کرونگا جیسا آپ چاہتے ہیں۔”

اور اپنے الفاظ بھی سنائی دیے تھے۔

جسکے بعد اپنے انکل فردین ملک کی موت تک کا ساری ٹرو اسٹوری اسے لائبہ کے گوش گزار کرنی تھی۔