584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 11

Fareb Nazar by Gazal Saima

” لائبہ تم آج یہیں رک جاؤ۔ کل مینشن میں پارٹی رکھی ہے

اسکے بعد ہی جانا اب تم دونوں۔”

رامین بھی آج مینشن آئی ہوئی تھی اور لائبہ کے ساتھ باتوں

میں مگن تھی۔

“اچھا لیکن میری طبیعت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہے۔

پارٹی میں انجوائے نہیں کر سکو گی۔ مجھے گھر جاکر

آرام کرنا چاہیے ۔”

لائبہ جلد از جلد مینشن سے جانا چاہ رہی تھی۔ اور اسکے وہاں سے جانے کی ایک ہی سب سے بڑی وجہ تھی یعنی اسفر وقار الملک۔ جسکا سامنا کرنا اسے دنیا کا سب سے خطرناک ترین

کام لگتا تھا۔ اور جب سے وہ اسکے اور شاہان کے بارے میں

جان چکا تھا تب سے تو وہ اور بھی اسکے سامنے آنے سے کترا رہی تھی۔

لیکن ہوا وہی جس سے بھاگنے کی کوشش میں وہ تھی۔ وہی

اسکے بالکل سامنے آکھڑا ہوا۔

“کیسی ہیں آپ؟؟؟ طبیعت کیسی ہے اب؟؟؟”

چٹان کی طرح اسکا راستہ روکے وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔

گرینی کے ساتھ وہ ابھی ابھی لیونگ روم میں داخل ہوا تھا۔

اس سے پوچھنے کے ساتھ ہی وہ گرینی کا ہاتھ پکڑے انہیں

آرام سے انکی آرام دہ ریولونگ چئیر پر بیٹھنے لگا۔

“جی ٹھیک ہوں اب۔”

باوجود کوشش کے لائبہ کے منہ سے پھنس کر نکلا۔

جسے اس سے فاصلے پر ہونے کیوجہ سے اسفر وقار الملک

سن نہیں پایا۔

اور چابکدستی سے اس تک آیا۔

“میں نے سنا نہیں کیا کہا آپ نے؟؟”

اسکی آنکھوں میں براہ راست دیکھ کر وہ بولا۔

اسکے اتنے پاس آنے پر لائبہ سٹپٹا گئی۔ اس سے جتنا دور وہ

بھاگنا چاہتی تھی۔ وہ اس سے اتنا ہی قریب کھڑا اسکے جواب

کا منتظر تھا۔

“اب ٹھیک ہے۔”

ساری ہمت جمع کر کے بھی وہ مختصر ہی بول پائی۔

“اچھی بات ہے۔ میرا اچانک پہنچنا آپکے کام آگیا۔”

آنکھوں ہی آنکھوں میں دیکھتے وہ لائبہ کو کچھ وارن کرتا لگا۔

اس نے جلدی سے نظر جھکا لی۔ اسے کچھ اور دیر دیکھنے پر

وہ شاید پھر سے بیہوش ہوکر گر پڑتی۔

“تم اچانک کیسے چلے گئے لائبہ چندا کی یونیورسٹی؟ ؟”

اچانک ہی گرینی نے اسفر سے سوال کیا۔ انکا سوال لائبہ کو ہوش کی دنیا میں واپس لایا۔ وہ ذہن پر زور ڈالنے لگی۔

جب وہ یونیورسٹی آیا تھا تو کیا ہوا تھا۔ لیکن اسکی یادداشت کا

ساتھ اسکے مشکل وقت میں کب اسکے کام آتا تھا۔ جتنا زور وہ دماغ پر ڈالتی گئی اتنا ہی چھٹا کورا جواب اسے ملتا رہا۔

“آپ لائبہ سے پوچھ لیں ناں گرینی۔ اسی نے مجھے بلایا تھا۔”

اسے مشکل میں ڈال کر فرصت سے صاف جھوٹ بولتا وہ باہر جانے کے لیے قدم بڑھا چکا تھا۔

“نہیں تو۔ مجھے کچھ یاد نہیں۔”

اپنی زبان سے کہتے معصومیت سے وہ یک بعد دیگرے سب کو دیکھے گئی۔

اسکی غائب دماغی کہیں انکے لیے مزاح کا بہانہ تو نہیں۔

دل ہی دل میں اپنی بیماری کے بارے میں سوچ کر وہ بری طرح

الجھ گئی۔

“میری چندا تمہیں یاد کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔

اسفر تو بس مذاق کر رہا ہے۔”

گرینی نے اسکی ہمت بڑھائی۔

“تم دونوں نکاح میں ہو۔ اپنے ملنے نہ ملنے کیلئے کسی کو جواب دہ نہیں۔ پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔”

مسکراتے ہوئے وہ اسے حوصلہ دینے لگیں۔ تو لائبہ اور بھی نروس ہونے لگی۔

ایک ایسا بندھن جسکا اپنی زبان سے وہ اقرار کر چکی ہے لیکن

جسکا دل انکاری ہے۔ اسے اپنے پلو سے باندھ کر رکھنا کتنا دشوار ہے۔ یہ صرف وہی جانتی تھی۔

“آپکو پتا نہیں بھابھی اسفر بھائی بہت مذاق کرتے ہیں۔”

رامین کے بھابھی بلانے پر وہ جتنا چونکی تھی اسفر نے اتنی

ہی دیدہ دلیری سے اسکا متغیر ہوتا چہرہ تکا تھا۔

وہ نظر جھکائے بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی۔ ایسی صورتحال بھی

اسے فیس کرنی پڑسکتی ہے اس نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ کیسا رشتہ، کونسا تعلق اسکے اندر تو سب خالی تھا

بالکل خالی۔

لب بھینچے وہ ساری طاقت جمع کر کے چپ رہی۔

“اوکے میں چلتا ہوں۔”

اسکا جواب سننے ہی اسفر ٹھہرا تھا۔ لیکن اسے

تذبذب کا شکار دیکھ کر وہ فوری چل دیا۔

اسکے جاتے ہی لائبہ کے وجود میں زندگی کا احساس لوٹا۔

لمبا سانس لیتے اس نے خود کو ریلکس کیا۔

♢♢ یہ خدا کی دین عجیب ہے کہ اسی کا نام نصیب ہے

جسے تو نے چاہا وہ مل گیا، جسے میں نے چاہا ملا نہیں۔

اسی شہر میں کئی سال سے میرےکچھ قریبی عزیز ہیں

انہیں میری خبر نہیں، مجھے انکا کچھ پتا نہیں ♢♢

اپنی دربدر حالت سوچتے لائبہ کی شکوہ کناں آنکھوں کےکنارے گیلے ہونے لگے تو وہ چہرہ دوسری طرف موڑے انہیں پونچھنے لگی۔ گرینی اور رامین میں سے کسی نے اسے ایسا کرتا نہیں دیکھ پایا۔

○●□■■□■

○●□■■□■

❤❤ یاد آؤں تو بس اتنی سی عنایت کرنا

اپنے بدلے ہوئے لہجے کی وضاحت کرنا💘💘

❤❤تم تو چاہت کا شاہکار ہوا کرتے تھے

کس سے سیکھا ہے الفت میں ملاوٹ کرنا💘💘

❤❤ہم سزاؤں کے حقدار بنے ہیں کب سے

تم ہی کہہ دو کہ جرم ہے کیا محبت کرنا💘💘

❤❤تیری فرقت میں یہ آنکھیں ابھی تک نم ہیں

کبھی آنا میری آنکھوں کی زیارت کرنا💘💘

لیپ ٹاپ پر سیف کی اچانک شادی کے شاک بعد لکھی گئی

غزل کے مصرعے مکمل کرتا وہ اپنے لیے جینے کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔

کیونکہ اگر سیف کے سرپرائز نے اسکا دل توڑا تھا تو لائبہ کا

اچانک ہی سامنے آنے والا سچ اسکے دل کی موت تھا۔

محبت سے عاری دل اب میرے کس کام کا۔ جس جس پر میں نے اعتبار کیا۔ بھروسہ کیا اسی نے مجھے تکلیف دی۔ اسی نے میرا

دل توڑا۔

شاہان سوچتے ہوئے بلک بلک کر رو پڑا۔ اذیت کے پلوں کو سہنا

اور پھر ان سے کشید کیے درد کو جھیلنا کس قدر جان لیوا ہوتا

ہے شاہان اسے بیان کرنے سے قاصر تھا لیکن اس درد اس چبھن

کو پل پل اپنے وجود میں محسوس کرتا وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔

مرد کی مردانگی اسے بلک کر رونے نہیں دیتی، درد کی

شدت سے چاہے اسکے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں لیکن وہ عورت

کی طرح واویلا نہیں کر پاتا۔

خود کو کمزور،،، کم ہمت ،،، ٹوٹا ہوا ظاہر نہیں کر پاتا۔

اور شاہان بھی بدنصیبی کے اسی کھٹن دور سے گزر رہا تھا۔

اسکا دل کرچی کرچی تھا اور وہ اس کرچی کرچی دل کے درد

کو جھیلنے پر مجبور تھا۔

اسی دوران اسکے روم کا ڈور ناک ہوا۔

اندھیرا کیے وہ روم میں پچھلے کئی گھنٹوں سے بیجان وجود کیطرح پڑا تھا۔ کھانا کھانے پانی پینے تک کی سکت نہیں تھی

اس میں۔

“آجائیں۔ ” مری مری آواز میں اس نے کہا۔

اندر آنے والا سیف تھا۔ اسکی تتر بتر حالت دیکھ کر وہ گھبرا ہی گیا اور تیز تیز چلتا اسکے بیڈ تک آیا۔

“تم ٹھیک تو ہو اسمال برادر۔”

اس تک آتے وہ اسکے پورے وجود پر ایک نظر ڈال چکا تھا۔

“بس مرنے والا ہوں۔ بگ برادر۔”

طنز کی کاٹ لیے شاہان نے کہا۔

تو سیف کو اپنا دل کٹتا محسوس ہوا۔ وہ لب دبائے خود کو مضبوط بنائے اسکے پاس کھڑا ہوا۔

“بگ برادر کو معاف کردے اسمال برادر۔ انجانے میں بگ برادر

نے تمہیں بہت ہرٹ کردیا۔ پلیز مجھے معاف کر دے میرے بھائی۔”

اسکے سینے سے جڑے سیف معافی مانگنے لگا۔

“مرنے سے پہلے معافی تلافی کرنے کی رسم اچھی ہے۔

کسی کی بےبسی کا مذاق اڑانےکا اس سے اچھا طریقہ

اور ہو ہی نہیں سکتا۔”

طنز کے تیر برساتے شکوہ کناں آنکھوں سے شاہان نے اسے دیکھا۔

“سب کچھ بہت اچانک ہوا شاہان۔ بگ برادر مجبور تھا۔”

اسکا ناراض ہونا بجا تھا لیکن سیف کی بھی اپنی مجبوری تھی۔

وہ اسے کنونس کرنے لگا جو اسکی اب کسی بات کا بھی یقین کرنا چاہتا ہی نہیں تھا۔

“مجبور آپ نہیں بگ برادر میں ہوں۔ مرنے والا میں ہوں۔

مجبور بھی میں ہوں۔”

سرخ پڑتی اسکی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

“کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔ کیوں سوچ رہے ہو ایسا۔ میں تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دونگا۔ شاہان میری جان۔”

سیف اسے گلے سے لگانے کو ایک بار پھر جھکا۔ لیکن شاہان نے

ہاتھ سے اسے پیچھے دھکیل دیا۔

“شاہان کو اور دھوکہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے آپ اور پھر وہ ڈیفوڈل دونوں ہی دھوکے باز ہیں۔ آپ لوگوں کی ضرورت نہیں شاہان کو۔ جائیں چلیں جائیں یہاں سے۔

مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔”

چلاتے ہوئے شاہان آپے سے باہر ہو گیا۔

تو سیف کو اسے اکیلا چھوڑنا ہی پڑا۔ لیکن دل سے وہ اسے

اکیلا چھوڑنا ہرگز نہیں چاہتا تھا۔

“اب میں اپنی زندگی جیو گا۔ کسی محبت، کسی پیار، کسی

امید کے بغیر۔ بدلے کی زندگی۔”

سرخ پڑی اپنی آنکھوں کو رگڑتے شاہان نے سیف کے وہاں سے

چلے جانے کے بعد پختہ یقین سے کہا تھا۔

○●□■○●□

○●□■○●□

“لائبہ چندا ایسا کرو تم اسفر وقار الملک کے ساتھ شاپنگ پر چلی جاؤ۔ کل کی پارٹی میں پہنے کے لیے اچھا سا ڈیزائنر ڈریس، شوز اور باقی جیولری وغیرہ سب لے لینا۔”

گرینی نے لان میں اکیلی یہاں وہاں ٹہلتی لائبہ کو متوجہ کرتے ہوئےکہا تو وہ انہیں اچانک ہی اپنی طرف آتا دیکھ کر بالکل ہی بوکھلا گئی۔

اور اسی بوکھلاہٹ میں اپنے ہاتھ میں پکڑا اسٹرابری کے جوس کا بھرا گلاس جو کچھ منٹ پہلے ہی اسے میڈ نے لاکر دیا تھا۔

ڈاکٹر نے اسے فریش جوس پینے کو کہا تھا اور جسکے نتیجے میں اس وقت اسے جوس پینے کا گرینی کا سختی سے آڈر تھا۔

سامنے سے آتے اسفر وقار الملک پر گرا دیا۔

“اوہ سوری۔ آئی رئیلی سوری۔

میں نے آپکو بالکل دیکھا نہیں تھا۔ آئی ایم رئیلی سوری۔”

ہڑبونگ کا شکار ہوئے وہ نظر جھکائے اپنی غائب دماغی پر

پشیماں ہوئی۔

“دیکھا نہیں یا دیکھ کر ان دیکھا کر گئیں۔”

اسفر وقار الملک نے اپنی شرٹ پر گرے جوس کی فکر کرنے کے بجائے اسکے ہاتھ کو جکڑ لیا۔

لائبہ اسکے ہاتھ کی حدت محسوس کرتے ہی اچھل پڑی۔

اور سرعت سے پیچھے ہوئی۔

“اسفر وقار الملک کی قربت سے دور بھاگنے پر اختیار ہے کیا آپکو؟؟”

اسکے ہاتھ کو جکڑے وہ اسکے وہاں سے کسکنے کے سب ہی

راستے مفقور کرچکا تھا۔

اسفر وقار الملک کی اپنی طرف اٹھی برجستہ سوالیہ نظریں لائبہ کے پورے وجود میں سنسناہٹ مچانے لگیں۔ اس نے اپنی نظریں جھکائے رکھنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔

“اسکا اختیار صرف اسفر وقار الملک کو ہی ہے۔

میری اجازت کے بغیر مجھ سے دور بھاگنے کا کوئی سرپھرا خیال اپنے دماغ میں لائیے گا بھی نہیں۔”

اپنی طاقت کا بےدریغ استعمال کرتے ہوئے وہ اسے پہلی بار

براہ راست وارنگ دے چکا تھا۔ لائبہ سن ہوئے اسے سنتے ہی

گئی تھی۔ انکار یا اقرار کرنے کی کوشش بھی اسکے وجود

نے نہیں کی تھی۔

“کیا ہوا چندا؟؟؟ اور جوس لا دیگی میڈ۔ “

گرینی جو اتنی دیر میں اب ان تک پہچ گئیں تھیں۔ انہیں سے مخاطب تھیں۔

” گرینی میں ان سے کہہ رہا تھا کہ میں شرٹ پر گرا جوس میڈ سے صاف کروا لیتا ہوں لیکن یہ میری بات ماننے پر راضی ہی نہیں۔”

اسکے پھر سے صاف جھوٹ بولنے پر لائبہ کا چہرہ متغیر ہوا۔

“اسفر وقار الملک آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ محبت انہی چھوٹے

چھوٹے خیال کرنے والے کاموں سے تو بڑھتی ہے۔ ہماری لائبہ

چندا اس معاملے میں آپ سے زیادہ سمجھدار ہیں۔”

گرینی نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ان دونوں کی پریشانی

سلجھاتے ہوئے کہا۔

“بالکل گرینی ان معاملات میں یہ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں۔”

اسکی جھکی نظر پر اپنی بھرپور نظر ڈالے ذومعنی انداز میں

اسفر وقار الملک برملا کہہ گیا اور لائبہ اسکی نظروں کی تپش سہنے کے جواب میں بالکل چپ ہی کھڑی رہی۔

یونیورسٹی اچانک پہنچنے پر اس روز شاہان اور اسکے درمیان جتنی نزدیکی اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ وہ اسی کی

جلن میں ایسا کہہ گیا تھا لیکن لائبہ کو ایسا کچھ بھی یاد نہیں تھا اسی لیے وہ اسکے طنز کو سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔

♢♢ درپیش صبح و شام یہی کشمکش ہے اب

اس کا بنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں

“اوکے پھر میں روم میں ہوں اپنے۔ آپ اسے وہیں لے آنا کلین کرنے کے بعد۔”

لائبہ کے ہاتھ میں اپنی شرٹ تھماتے وہ معصومیت سے بولا۔

گرینی ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر اب لان میں لگے پھول پودوں کا جائزہ لینے میں مگن ہوچکی تھیں۔

شرٹ لیس اسفر وقار الملک اپنی شرٹ تھمانے کے بعد بھی لائبہ کا پہلے سے جکڑ رکھا ہاتھ ویسے ہی جکڑا ہوا تھا۔

“میرا ہاتھ چوڑیں مجھے جانا ہے۔”

بےبسی سے لائبہ بولی۔

“اور نہ چھوڑوں تو۔ اسے زچ کرتے وہ بدستور اسکا ہاتھ جکڑا رہا۔

تو یہ شرٹ کلین ہونے سے رہ جائیگی اور اس پر لگا داغ اور بھی پکا ہو جائے گا۔”

لائبہ نے نظر اٹھا کر کہا تھا۔ اسفر وقار الملک نے اسکی آنکھوں

سے چھلکتی بیزاریت صاف محسوس کی۔

“شرٹ پر لگا داغ نہ بھی کلین ہوا تو اسفر وقار الملک کو پروا نہیں لیکن لائبہ اسفر کے کردار پر کسی داغ کی ہلکی سی پرچھائی تک اسفر وقار الملک کو قابل قبول نہیں ہوگی۔”

اسکا ہاتھ چھوڑ کر وہ آگے کی طرف قدم بڑھا چکا تھا۔ لیکن اسکے کہے گئے الفاظ کی بازگشت لائبہ اسکے وہاں سے چلے

جانے کے بعد بھی محسوس کر رہی تھی۔

“لائبہ فردین کا کردار اجلا ہوا صاف ہے مسٹر اسفر وقار الملک۔ آپ ہوتے کون ہیں میرے کردار پر اپنا حق استعمال کرنے

والے۔ آئندہ میرے قریب آنے کی ہمت بھی کی تو چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لونگی۔ پھر آپکو پتا لگے گا لائبہ فردین چیز کیا ہے۔ ہنہ۔ بڑے آئے میرے کردار پر نظر رکھنے والے۔”

اسکے وہاں سے چلے جانے کے بعد وہ اسی کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بڑبڑاتے جارہی تھی لیکن وہ بھول گئی تھی کہ اسکی بڑبڑاہٹ کی بھی اتنی تیز آواز ہوتی ہے کہ اسکے علاوہ آس پاس موجود لوگ بھی اس سے محضوظ ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔

○●□■○■

○●□■□○

اسکی بڑبڑاہٹ سنکر یا اپنی مرضی سے بہرحال اسفر وقار الملک چلتے چلتے ہی رکا اور پھر پیچھے مڑا تھا۔

اسکے پیچھے پیچھے چلنے کی وجہ سے اسکے رکتے ہی وہ بھی اتنی ہی چابکدستی سے رکی تھی۔

کیا ہوا آپ رک کیوں گئے ؟؟ معصومیت سے وہ اسفر وقار الملک

کو اپنی ہی جانب دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔

رکا میں نہیں آپ ہیں کیونکہ آپ میرے راستے میں کھڑی ہیں۔

“اوہ آئی ایم سوری۔”

اپنی بیوقوفی کا احساس ہوتے ہی لائبہ جھٹ سے ایک طرف ہوگئی اور راستہ ملتے ہی اسفر وقار الملک اپنے راستے ہو لیا۔

اتنے میں گرینی پودوں کی جانچ پڑتال سے فارغ ہو چکی تھیں اور انہیں کی طرف آرہی تھیں۔

“اسفر وقار الملک آج لائبہ کو اپنے ساتھ لیجا کر شاپنگ کرانا مت بھولنا۔کل کی پارٹی کے لیے سب چیزیں اسکی پسند کے مطابق ہونی چاہئیں”

دور سے ہی انہوں نے اسفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔ جو

لان کی دوسری طرف جاتے جاتے ہی یکدم چونک کر رکا تھا۔

“اچھا تو کیا آج یہ میرے ساتھ شاپنگ پر جانے والی ہیں۔”

اسکے چہرے پر اچانک ہی خوشی کی لہر دوڑی تھی البتہ پیچھے کھڑی لائبہ کی حالت اس سے یکسر مختلف تھی۔

“اب اسفر وقار الملک کو لائبہ اسفر کی پسند ناپسند جاننے کا موقع تو ملیگا”

وہ ایسا سوچ کر ہی کھل اٹھا تھا۔

“اف اب سارا وقت منہ بند کیے اسکو برداشت کرنا پڑے گا۔”

وہ جتنا خوش ہوا تھا وہ اتنی ہی غمگین ہوئی تھی۔

حسب عادت بڑبڑانےکا شغل فرماتے لائبہ آنے والی تشویش ناک صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے خود کو حوصلہ دینے لگی۔

“خیر میں بھی کسی سے کم نہیں۔ دیکھتی ہوں کیسے چلاتا ہے اپنی مرضی مجھ پر۔”

پاؤں پٹختے ہوئے وہ اسکی کافی دیر سے ہاتھ میں پکڑی شرٹ مسلتی ہوئی اندر کی جانب چل دی۔