584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 4

Fareb Nazar by Gazal Saima

“ذرا بھی شرم نہیں آتی ناں آپکو سیف؟؟”

مشعل اپنی کزن کا ولیمہ انٹیڈنٹ کرنے کے بعد ابھی ابھی اپنے

فلیٹ میں آئی تھی۔ لیکن خیالوں ہی خیالوں میں ابھی تک سیف

کی بانہوں کے حصار میں ہی تھی۔

“اللہ،، اگر مامی ہمیں دیکھ لیتیں تو قسم سے سارے کزنز کے سامنے میں نے شرم سے پانی پانی ہو جانا تھا۔ وہ ڈھنڈورا پیٹے

بغیر چین سے تھوڑی بیٹھتیں۔”

شوز اتار کر اپنے پاؤں کو نرمی سے دباتے وہ خود سے ہی باتیں

کیے گئی۔ زیادہ دیر تک ہیلز میں رہنے کی وجہ سے اسکے پاؤں پھول کر کپھا ہوچکے تھے۔

“ایک تو یار،،، تم لڑکیاں ڈرتی بہت ہو،،،اگر اتنا ہی ڈرنا ہونا ہوتا ہے،،،تو ہم بیچاروں کی دل میں انٹری ہی کیوں دیتی ہو۔”

جانے وہ کیسے وہاں بھی پہنچا گیا تھا۔

اسے اپنے ساتھ والےکاوچ پر اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا ہوا دیکھ کر مشعل کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلے رہ گیا۔

“اللہ،،، سیف کچھ خیال ہے آپکو میرا یا نہیں؟؟”

تعجب سے اسے تکتے مشعل نے معصومیت سے پوچھا۔

وہ اسکے انداز پر کھل کھلا کر ہنس پڑا۔

“بالکل ہے میری جان۔”

پھر اسکے تعجب زدہ ہونے کا مزا لیتے برجستگی سے بولا۔

اور ساتھ ہی اسے اپنی بھرپور نظروں کے احصار میں لے لیا۔

مشعل ابھی تک بھاری کام دار گھیر والی جھگ سفید رنگ کی فراک پہنے،،،، اپنے سوجے پاؤں کو ہاتھوں میں لیے اسکے سامنے بیٹھی ہوئی،،، اسکے پہلے ہی سے اپنے لیے پاگل دل پر زور زور سے نوک کرنے لگی۔

وہ اس سراپہ حسن کی مورت کے سحر میں کھوتا ہی گیا۔

مشعل کے نازیک پاؤں کی نیلے پلز سے سجی وہ خوبصورت پائل سیف کو اپنی طرف کھینچے گئی۔ سیف غیر محسوس طور پر مشعل کیطرف بڑھتا گیا۔

“اب یہ کیا کر رہے ہیں سیف آپ؟؟ پھر مجھے امتحان میں ڈال رہے ہیں۔”

اپنی کھلی زلفوں کو ہاتھ سے سمیٹ کر کمر پر ڈالتے،،، وہ اٹھ کھڑا ہونا چاہتی تھی لیکن سیف نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور وہ دھڑام سے اسکی گود میں آگری۔

“میں تو بس خود کو اپنی جان کے سپرد کر رہا۔”

شرارت سے کہتا وہ اسکی کمر کے گرد اپنے بازوں حائل کر چکا تھا۔ اسکےکلون کی خوشبو مشعل کے ہوش اڑانے لگی۔

سیف کی نزدیکی مشعل کو بےکل کرنے لگی۔

دل جسکے پیار میں گرفتار ہو اسکے پاس ہونے کا احساس کتنا خوش کن اور راحت بخش ہوتا ہے مشعل کو آج اندازہ ہوا تھا۔

“ہم آج ہی نکاح کر رہے ہیں میری جان۔”

اسکی پیشانی چومتا وہ ہلکے سے اسکے کانوں میں بولا تھا۔

“کیا؟؟؟آج ؟؟؟ لیکن اس وقت رات کے دو بج رہے سیف۔”

اپنے کانوں پر مشعل کو یقین نہیں ہوا۔

“اور نکاح سے پہلے میرے ارادہ تمہارے اور بھی قریب ہونے کا

ہرگز نہیں،،،میری بیوی بننے کے بعد ہی میں تمہیں اپنا آپ

سونپ سکوں گا۔”

اسکی کاجل بھری بڑی بڑی آنکھوں میں دلبرانہ نظر جمائے

وہ سرعت سے بولےگیا اور پھر موبائل نکال کر کوئی نمبر ڈائل

کیا۔ مشعل اسکے حصار میں کھوئی ہوئی،،، اسکے اگلے اقدام کے بارے میں سوچنے لگی۔

“لیکن یہ سچ تھا دل سے وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ نکاح کے بعد ہی اپنی تمام تر چاہتوں اور شدتوں کے ساتھ وہ خود کو اسکی مضبوط پناہوں کے سپرد کر دے۔”

○●□■○●□■○●□■

“گرینی میں نے مینشن لوٹنے کا فیصلہ صرف آپکے لئے لیا ہے۔

آمینہ فردین کبھی بھی اپنی گرینی کا حکم ماننے سے انکار نہیں کرتی۔ اسلیے ایک آواز پر میں اپنی پیاری گرینی کے پاس بھاگے چلی آئی ہوں۔”

کھاناکھانے کے بعد آمینہ،،، گرینی کے ساتھ انکی اسٹڈی میں

آگئی تھی،،، تاکہ کچھ ضروری باتیں گرینی سے اکیلے میں کر سکے،،،، جبکہ باقی لوگ ان سے اجازت لے کر اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے۔

“جیتی رہو میری جان۔ ہمیشہ شاد و آباد رہو۔”

گرینی نے آمینہ کی پیشانی چومتے پیار بھری نظر اس پر ڈالی۔

اسکے واپس آنے پر وہ واقعی دل سے بہت خوش تھیں۔

کئی سال بعد وہ،،، آج صرف انکی خواہش کے مطابق وہاں موجود تھی۔ اس سے بڑی بات انکے لیے،،،،،، اور کیا ہوسکتی تھی۔

نورین بیگم کی گز بھر لمبی زبان،،،، کو بھی اسے وہاں دیکھ کر جھٹ سے بریک لگے تھے،،،،،،، گرینی وہ پل بھلا نہیں سکتی تھیں،،، جب نورین بیگم کی پتلیاں آمینہ کو دیکھ کر تعجب سے پھیلیں تھیں۔ پہلی بار انکی توقع کے برعکس فردین کی نشانی انکے منہ پر انہیں چھپ کرانے خود وہاں موجود تھی۔

“ارے آمینہ،،، میری چندا،،،تمہارے دونوں لاڈلے دکھائی نہیں دے رہے ؟؟؟

گرینی نے بچوں کو نا پاکر حیرت سے پوچھا۔

“صوفی اور نمل گیسٹ روم کے گرم و گداز بستروں پر بڑے مزے سے نندیا کے مزے لوٹ رہے ہیں،،، آپ فکر نہ کریں گرینی۔”

آمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے،،،اب ہم آرام سے بیٹھ کر باتیں کریں گی۔”

گرینی نے آمینہ کو پیار سے پچھارتے ہوئے کہا۔

“لیکن گرینی شادی کے فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے میری ایک شرط ہے۔”

گرینی کو بغور دیکھتے ہوئے آمینہ نے سرعت سے کہا۔

اسکی بات سن کر گرینی کی پیشانی پر بل پڑے۔

“کیسی شرط آمینہ میری جان۔”

لیکن وہ اسی پیار بھرے انداز سے گویا ہوئیں

“انور وقار الملک مجھ سے معافی مانگے گا تب ہی میں اور لائبہ مینشن کی دعوت کھلے دل سے قبول کریں گے۔”

اس نے تو جیسے گرینی کی سماعتوں پر بم پھوڑا تھا۔

“یہ کیا کہہ رہی ہو آمینہ میری جان۔”

تذبذب کا شکار گرینی گھٹی گھٹی آواز کے ساتھ بولیں تھیں۔

“وہ اتنی چھوٹی بات نہیں تھی گرینی،،،کہ آپ سب اسے یوں

بھول جائیں،،،،، میں کوئی سڑک پر گری پڑی چیز نہیں تھی

جسکے ساتھ انور نے ایسا برتاؤ کیا،،،،،،،،مجھے اپنا حساب

پورا کرنا ہے،،،، اور اسے اپنی غلطی کی ہر حال میں مجھ سے

معافی مانگنی ہوگی۔”

آمینہ جوش میں بولتی ہی گئی،،،اور گرینی نے اپنی ساری ہمت جمع کر کے اسے بس سنتے رہنے پر ہی اکتفا کیا۔

“وقت مرہم ہوتا ہے،،، گہرے سے گہرا زخم،،، وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے،،،،، لیکن آمینہ نے اتنے سالوں بعد،،،،، پھر سے انکے زخم کو ہرا کر دیا تھا۔

○●□■○●□■○●□■

“اوہ بی،،،، کم از کم رات میں تو وہاں ٹھہرنے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا،،، میں اکیلی اب کس طرح سو گی،،، ڈر کے مارے مجھے تو نیند بھی نہیں آنی۔”

لائبہ کمفرٹر میں منہ دیے مسلسل سونےکی کوشش کر رہی تھی،،، لیکن نیند آ کے ہی نہیں دے رہی تھی۔

“ارے یار کیا مصیبت ہے،،،آخر نیند کیوں نہیں آرہی؟؟؟”

جھنجھلا کر وہ اٹھ بیٹھی۔

ٹھک ٹھک،،، اچانک ہی آنے والی آواز کی سمت دیکھتے ہی،،، وہ بری طرح سے اچھل پڑی۔

گیلری کے سلائیڈنگ ڈور پر پڑے کرٹن کی پتلی سی جھری سے وہ اپنی آنکھوں کا فاکس بناتا اسے ہی تک رہا تھا۔

لائبہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔

ان دونوں کی پراسرار لو اسٹوری میں،،، وہ ہر روز ایک قدم آگے بڑھتا جا رہا تھا،،،،،اور وہ اس سے ہار مانتی ہر روز ایک قدم پیچھے اٹھاتی جا رہی تھی۔

اسی لیے ان دونوں کے بیچ کے فاصلے بھی رفتہ رفتہ سمٹنے لگے

تھے۔ اور شاید انکے بیچ ایسا تب تک چلنا تھا،،،، جب تک لائبہ اسکے لیے اپنے دل کے تالے کھول نہیں دیتی،،،،،، ورنہ وہ تو تب تک،،،، یونہی ڈیٹائی سے ہر روز اسکے دل پر دستک دیتے رہنا والا تھا۔

“رات کے اس پہر آخر اسکی،،،، میری گیلری میں آنے کی ہمت کیسے ہوئی ؟؟” غصے سے لائبہ غرائی۔

“اسے کھولو۔۔۔” وہ بدستور جھری سے اسے تکتا ہاتھوں کے

اشارے بناتے،،،ڈور اوپن کرنے پر مجبور کرنے لگا۔

“تم،،، مرو گے،،، میرے ہاتھوں” لائبہ نے اسے مکا دکھایا۔

تو وہ زور سے ہنس پڑا اور اسی ڈیٹائی سے اندر آنے کا منتظر رہا،،، جیسے اسکا لائبہ سے کوئی سالوں پہلےکا افئیر ہو۔

“ارے یار،،، یہ لڑکی تو میری قلفی بنوائے گی،،،”

رات کے اس پہر بڑھتی ہوئی ٹھنڈ میں وہ جیکٹ لیے،،،گردن کے گرد مفلر لپیٹے اور ہاتھوں میں گلفس چڈھائے لائبہ کے ڈور کھولنے کا منتظر تھا۔ اتنی تیاری کے باوجود بھی ٹھنڈ اسکے

جیکٹ سے اندر گھستے اسے ٹھنڈا کر رہی تھی۔

“واپس جاو،،، میں نہیں کھولنے والی۔”

لائبہ اسے واپس بھیجنے پر بضد تھی۔

اگر وہ ڈیٹ تھا،،، تو وہ بھی کچھ کم ضدی نہیں تھی۔

“ارے نہیں یار،،، اب اتنی بھی ظالم نہیں بنو۔”

اس نے معصومیت سے اسے تکتے،،،پلیز کا اشارہ کیا۔

“بی نہیں ہیں گھر میں تم واپس چلے جاو۔”

اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے اسے پھر سے جانے کا اشارہ کیا۔

“بس ایک منٹ میری بات سن لو،،، پھر میں چلا جاتا ہوں۔”

انگلیوں کے اشارے بنا کر وہ اسے سمجھاتا،،،اسی طرح نظر بھر کر دیکھتا ریکسٹ کرنے لگا۔

“اف،،،پتا نہیں یہ شخص گڈ لکنگ ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا ڈیٹ

کیوں ہے؟؟؟”

جھنجھلا کر بولتی وہ بلاآخر ڈور ان لاک کرنے کیلیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“کچھ تو اثر کرنے ہی لگے ہو شاہان فاروق تم اس قاتل حسینہ ڈیفوڈل کے دل پر۔”

اسے ڈور کیطرف آتے دیکھ کر وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

○●□■○●□■○●□■

“اپنے نکاح کے مضبوط حصار میں مجھے لینےکا،،، سیف آپکا۔ شکریہ۔” مشعل عروسی جوڑے میں سر جھکائے اپنے محبوب کے بالکل سامنے گھونگھٹ نکالے بیٹھے ہوئے اسکی شدتوں کا مہور تھی۔ بلڈ ریڈ کلر کا امبرائیٹڈ جوڑا اس پر خوب جچ رہا تھا۔

“تم میری دھڑکن ہو،،،میری جان،،،بالکل میرے پاس،،، میرے سینے میں دھڑکتی ہوئی۔”

اسکا مہندی سے رنگا ہاتھ تھامے اپنے دل کے اوپر رکھتے سیف بڑے چاہو سے بولا تھا۔ مشعل کو اپنا وجود اسکی طرف کھینچتا ہوا محسوس ہوا۔

“سیف کیا شاہان ہماری شادی کو آسپٹ کر پائیگا؟؟

کیونکہ آپ دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ شادی کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا یعنی جب آپ شادی کرینگے تبھی شاہان بھی شادی کریگا۔ لیکن آپ نے اسے بتائے بغیر اور اس سے پہلے ہی شادی کر لی ہے۔ اب وہ ہرٹ تو ہوگا ناں؟؟؟”

اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ سیف اور شاہان دونوں ایک دوسرے سےکس قدر پیار کرتے ہیں،،، اور سیف کا شادی کرنا اب ضرور شاہان کو ڈسٹرب کریگا۔ اسلیے وہ ایسا سوچ کر پریشان بھی تھی۔

“وہ میرا بھائی ہے،،، میرا دوست ہے اور سب سے بڑھ کر میرے دل کا چین ہے،،،مجھے پورا یقین ہے میری خوشی دیکھ کر وہ بھی بہت خوش ہوگا۔”

سیف نے ابھی تک مشعل کا ہاتھ تھامے رکھا تھا۔ جس پر ہلکا سا زور دیتے وہ اسے پریشان نہ ہونے کا اشارہ دے رہا تھا۔

“اوکے اٹس ویری گڈ۔”مشعل نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسکے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھا تھا۔

“اچھا اب گھونگھٹ بھی اٹھاو گے یا ساری رات یونہی باتیں کرتے گزارنے کا ارادہ ہے؟؟”

تھوڑے توقف سے اسکے ہاتھ کو نرمی سے دباتے،،، مشعل بولی تو وہ چونک پڑا،،، واقعی وہ تو بالکل ہی بھول گیا تھا اور مشعل بےصبری سے اپنی منہ دکھائی کی متلاشی تھی۔

اب اس سے اور انتظار ویسے بھی نہیں ہو رہا تھا اسلیے خود ہی اسے یاد کراتے ہوئے،،،،، اپنی بےچینی کا برملا اظہار کر چکی تھی۔

ہاہاہاہاہاہا۔ اسکے بیباک اسرار پر سیف ہنس پڑا۔

“اوکے مائی سوئیٹ ہارٹ۔” اور پھر آہستگی سے مشعل کا گھونگھٹ اٹھا دیا۔

“بہت خوبصورت دکھ رہی ہو،،،میری جان،،، لگتا ہے چودھویں کا چاند میرے پہلو میں اتر آیا ہے۔”

اسے چھیڑتے ہوئے سیف نے اسکی روشن پیشانی پر اپنے لب رکھے تو مشعل کا انگ انگ اسکی محبت کی برسات میں بھیگنے کیلئے بےصبری سے مچل اٹھا۔

○●□■○●□■○●□■

“ہرگز نہیں اماں جان،،، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ مینشن میں بڑی خوشی کا موقع ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ اس موقع پر میرا انور اس آمینہ فردین سے معافی مانگ لے۔ اور اسکے آگے خود کو قصوروار تسلیم کر لے۔”

آمینہ کا مطالبہ سنتے ہی نورین بیگم کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی وہ ایسا کرنے کے ذرا برابر بھی حق میں نہیں تھیں۔

“نورین بیگم معاملہ کی نزاکت کو سمجھو،،، بچوں کی طرح ضد

کرنے کے بجائے،،، ٹھنڈے دل سے میری بات پر غور کرو۔”

“کیا غور کروں میں اماں؟؟ وہ لڑکی ہمارا مذاق بنانا چاہتی ہے۔

وہ چاہتی ہے ہم اسکے سامنے شرمندہ ہو کر خود کو گناہگار مانیں تاکہ وہ اپنا سر اٹھا کر خود کو معصوم اور انور کو برا ثابت کردے۔ واہ بہت خوب کیا زبردست پلان بنایا ہے اس نے ہمارے خلاف۔”

گرینی نے آمینہ کے جانے کے بعد پہلے اکیلے میں نورین بیگم سے بات کی تھی۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ نورین بیگم اپنے سب سے بڑے بیٹے کی معافی مانگنے کو غلط رنگ

دینے کی ضرور کوشش کرینگی۔

اسلیے پہلے انکی رضامندی لینا لازمی تھی تبھی بچوں سے

بھی اور خاص کر انور سے اس بارے میں کوئی بات کی جا

سکتی تھی۔ لیکن معافی مانگنے کا سنکر نورین بیگم تو ہتھے سے اکھڑ چکی تھیں۔

“اف نورین بیگم تم سے تو کوئی بات کرنا ہی فضول ہے۔ میں

وقار الملک سے بات کرتی ہوں۔”

گرینی اٹھ کر باہر جانے لگیں کہ اسفر وہیں پہنچ گیا۔

” واٹ اے سرپرائز،،آج دو تلواریں ایک ہی میام میں کیسے؟؟”

گرینی اور نورین بیگم کو ایک ساتھ دیکھ کر اس نے چھیڑا تھا۔

“ارے میرا شہزادے آگیا۔ کہاں تھے اسفر میاں تم سے تو کل سے میری ملاقات ہی نہیں ہوئی۔”

گرینی کا چہرہ اسفر کو دیکھ کر ہی کھل اٹھا،،،اب وہی بچا تھا جو انہیں اس مشکل سے نکال سکتا تھا ورنہ نورین بیگم تو

صاف صاف انکار کر چکی تھیں۔

“وہ ماما نے بوتیک کے کام سے بھیجا تھا کل رات ہی تو گیا تھا بس کام نبٹھا کر ابھی واپسی ہوئی۔”

تفصیلی جواب دیتا وہ گرینی کے کمرے میں آچکا تھا۔

“اچھا یعنی تمہاری ملاقات آمینہ سے نہیں ہو سکی پھر تو۔”

جان بوجھ کر گرینی نے ایسے کہا جیسے وہ ملاقات کے حوالے

سے شیور نہ ہوں۔

“آمینہ بی؟؟” اسفر ایک دم چونکا۔

“یہاں آئیں تھیں بی؟ اور کیا لائبہ بھی؟؟”

سوالیہ نظروں سے اس نے پہلے نورین بیگم اور پھر گرینی کو دیکھا۔

“ہاں میرے چندا بی آئی تھی اپنے بچوں کے ساتھ۔”

گرینی نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

“کیا واقعی گرینی؟” اسے ابھی تک یقین نہیں ہوا تھا۔

“ہاں سچ اور ایک بہت اچھا تحفہ بھی ہم سب کے منہ پر مار کر

گئی ہے۔ گرینی سے اسکے بارے میں بھی پوچھ لینا۔”

کافی دیر سے سڑی کھڑی نورین بیگم جلتے ہوئے بول کر کمرے

سے باہر نکل گئی۔

“تحفہ،کیسا تحفہ گرینی؟؟”

اسفر نے سوالیہ نظروں سے گرینی کیطرف دیکھا۔

“وہ چاہتی ہے انور وقار الملک اس سے اپنے پرانے برتاؤ کی معافی مانگے تب ہی وہ اور لائبہ مینشن کی دعوت قبول کرینگی۔”

:واٹ؟؟” اسفر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔

“ہاں میرے چندا۔۔۔ اور میں نے اسکی یہ شرط تمہارے اور لائبہ کیلئے مان بھی لی ہے۔”

گرینی نے اسے پرسکون رکھنے کیلئے پیار سے چمٹایا ورنہ اسکا غصہ کتنا خراب ہے مینشن کے ہر فرد کو اچھی طرح معلوم تھا۔

“میرے اور لائبہ کیلئے کیوں گرینی؟”

اسکا تعجب ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

“لائبہ اب تک تمہارے نکاح میں ہے اسفر۔ کیا اتنے سالوں میں تم نے اس سچائی کو فراموش کر دیا ہے؟؟”

گرینی نے اسے شکوہ کن آنکھوں سے گھورا۔

“مجھے تو وہ پل پل یاد ہے گرینی۔ جتنی بار میری سانس آتی جاتی ہے،،، جتنی بار میرا دل دھڑکتا ہے،،، اتنی ہی بار میں اسکے نام کی مالا جپتا ہوں،،،اتنی ہی بار وہ میری آنکھوں میں ابھرتی ہے۔”

اس نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔

جبکہ گرینی کے سامنے وہ بالکل خاموش ہی کھڑا رہا تھا۔

“مجھے تمہارا جواب چاہیے اسفر،،تمہاری خاموشی نہیں،،”

گرینی نے اسے زور سے جھنجھوڑا تھا۔

“مجھے یاد ہے گرینی،،،سب کچھ،،، ایک ایک پل،،،ایک ایک ساعت۔”

کہیں بہت دور سے اسفر کی آواز آتی گرینی نے سنی تھی۔

○●□■○●□■○●□■

“نہیں بی جیسا آپ سوچ رہیں ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

بس میں یونیورسٹی کی اسائنمنٹ بنا کر سونے کیلئے لیٹی ہی

تھی کہ مجھے گہری نیند آگئی اور میں صبح تک مزے سے سوتی

رہی۔”

لائبہ جو چھٹی ہونے کی وجہ سے آج یونیورسٹی نہیں گئی تھی

آمینہ کے گھر پہنچتے ہی پوچھے گئے سوالات کا بڑے ہی بےفکری سے جواب دیتی اپنا من پسند کوک ٹیل بنانے میں لگی تھی۔

“کیا تمہیں ایک بار بھی ڈر نہیں لگا لائبو؟؟؟”

بی کو سچ مچ بہت حیرت ہورہی تھی کہ وہ بالکل بھی گھبرائی

ہوئی نہیں۔ ورنہ تو وہ دن میں بھی گھر میں اکیلے رکنے کیلیے

تیار نہیں ہوتی تھی اور اب تو اس نے پوری ایک رات اکیلے گزاری

تھی۔

“ارے نہیں بی،،،اب میں نمل جتنی چھوٹی تھوڑی ہوں کہ ڈرتی

رہوں،،، اب میں بڑی ہو گئیں ہوں،،،میچور ہو گئیں ہوں،،، اپنے

بارے میں مجھے سوچنا چاہیے،،،دیکھیں تو میں کتنی خوبصورت ہوں،،،کتنے پیارے بال ہیں میرے،،،سلکی اور ڈارک براؤن،،،ورنہ

ایسے بال ہر کسی کے تھوڑی ہوتے۔ اور میری آئیز،،،یہ تو بہت

زیادہ ہی خوبصورت ہیں،،،شہد جیسے رنگ کی،،،ٹراسپارنٹ جو

دیکھنے والے کو اپنی بھول بھلیوں میں کھینچ لیتی ہیں۔”

لائبہ کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ اپنی ہی ترنگ میں کل رات کی

وہ ساری باتیں بی کے گوش گزار کر رہی ہے جو شاہان نے اسکا

دل بہلانے کو اسے بڑے پیار بھرے انداز میں بتائیں تھیں۔

بی اسکو ان نئے انکشافات کے برملا اظہار پر گھورتی ہوئی

اندر کمرے میں صوفی اور نمل کے کپڑے چینج کرانے چل دیں۔

“اس لڑکی کا تو بالکل دماغ خراب ہے،،، یونیورسٹی جاکر تو

اسکے پر نکل آئے ہیں،،،اپنی خوبصورتی کو لےکر کل کو اس

نے پارلر اور بوتیک کے چکر لگانے شروع کر دینے ہیں۔”

آمینہ کپڑے چینج کروانے کے ساتھ ساتھ لائبہ کے بارے میں

کافی کچھ سوچے گئی۔ جبکہ لائبہ اپنی غلطی کا احساس ہوتے

ہی بالکل چپ چاپ سے اپنا کام کرنے لگی۔

○●□■○●□■○●□■

“واو،،، واٹ اے لولی نائیٹ شاہان،،، اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت نائیٹ تھی یہ میری،،، میری ڈیفوڈل میری آنکھوں

کے بالکل سامنے جو تھی اور میں اسکی بھول بھلیوں والی شہد آنکھیں پڑھ رہا تھا۔”

“اف اٹس ویری رومینٹک شاہان۔”

خوشی سے نہال شاہان اپنی سب سے بڑی خوشی اپنے بگ برادر سے شئیر کرنے کے لیے بیتاب تھا لیکن وہ دستیاب نہیں تھے اور

اسی وجہ سے وہ اکیلے ہی اپنی گڈ نیوز سلیبریٹ کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

“اوکے بگ برادر پھر سرپرائز رکھتے ہیں اسے۔ آپ گھر آجاو شام

کو مل کر سلیبریٹ کرینگے۔”

خود سے سرگوشی کرتا وہ شام کے سرپرائز کی تیاری کے لیے

لسٹ بنانے لگا۔ ابھی اسکے ذمے بہت سارے کام تھے وہ ذرا سی

بھی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اسکا دماغ اور پین تیزی سے

اپنا اپنا کام سرانجام دینے لگے۔