Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode (Part 2)

مورے کی مزاج پرسی کے بعد میر سائرہ بیگم کے ہمراہ ہی صحن میں موجود دیوان پر آ بیٹھا۔ مرحا بھی اس کی تقلید میں چلتی ہوئی دیوان کے ایک کونے میں آ ٹکی۔ شبانہ بی کو بھی چونکہ اس کی آمد کی خبر ہو چکی تھی سو وہ اس سے ملنے کو بیقراری سے بار بار حویلی میں اِدھر سے اُدھر کے چکر کاٹ رہی تھیں۔ مرحا خود بھی ان سے ملنے کو بے چین تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ کچھ وقت شبانہ بی کیساتھ گزار کر وہ چھوٹی حویلی چلی جائے گی۔
“حرم نظر نہیں آ رہی امی سائیں، کدھر ہے؟ سالار کے پوچھنے پر سائرہ بیگم قدرے آبدیدہ سی نظر آنے لگیں۔
“حرم تو آج صبح ہی سکندر کے ساتھ شہر کو چلی گئی ہے بیٹا۔ سکندر کو کام کے سلسلے میں شہر جانا ہی تھا۔ حرم نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی ساتھ ہی جائے گی سو دونوں آج صبح ہی روانہ ہو گئے ہیں۔۔،، ان کے بتانے پر وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔
“بالآخر حرم نے سکندر شاہ کے ساتھ شہر جانے کی حامی بھر ہی لی تھی۔ ویسے تو حویلی چھوڑ کر وہ ہرگز شہر نہ جاتی مگر مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اسے سکندر شاہ کے ساتھ وہاں جانا ہی پڑا تھا۔ وہ سکندر کو شہر کی رونقوں میں کسی قیمت پر اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اس کی شدت پسندی نے اس سے حویلی کی رونقوں کو چھوڑ کر بالآخر سکندر شاہ کے ساتھ وہاں جانے کی اپنی ضد منوا ہی لی تھی۔ ساتھ ساتھ جو چپقلش ان کے مابین جاری تھی وہ تو شاید اب عمر بھر ان کے رشتے میں چولی دامن کا کردار نبھانے کو تھی؛؛
“مرحا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے بیٹا، میرے پاس آ کر بیٹھو! سائرہ بیگم کے اندازِ تخاطب پر وہ دونوں ہی ٹھٹھک کر انہیں دیکھنے لگے۔ عفاف بھی بھائی کو دیکھ کر خوشی سے اچھلتی دیوان پر آ بیٹھی۔ مِرحا جھجھکتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے نزدیک آ بیٹھی۔ چہرے پر خوف اور تجسّس دونوں کے ہی سائے منڈلا رہے تھے۔ سائرہ بیگم نے اپنائیت سے اس کا ہاتھ تھام لیا تو وہ حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگی۔
“مرحا یہ سچ ہے کہ میں ایک کم حیثیت ملازمہ کو اپنی بہو کے روپ میں قبول کرنا تو دور کی بات ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی تھی مگر، یہ ماضی کی بات ہے۔ جب مجھے ساری حقیقت کا علم ہوا تو میں تمہارے ساتھ اپنے ناروا سلوک پر شرمندگی محسوس کرنے لگی۔ میں نے میر کو ہمیشہ تمہارے ساتھ مطمئن اور خوش باش پایا، اور آہستہ آہستہ مجھے میں بھی اس بات کا شعور پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ تم اس دنیا میں واحد وہ لڑکی ہو جو میرے بیٹے کو خوش رکھ سکتی ہے۔۔ میرے بدترین رویے کیلئے ہو سکے تو مجھے معاف کر دو۔۔،، سائرہ بیگم نے شرمندگی سے چور لہجے میں کہا تو مرحا حواس باختگی سے انہیں دیکھنے لگی، جبکہ سالار بھی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“یہ آپ کیسی بات کر رہی ہیں بی بی سائیں،، آپ بھلا معافی کیوں معاف مانگ رہی ہیں۔ ایسا نہ کریں۔ میں آپ سے ناراض بالکل بھی نہیں ہوں۔۔،، مرحا نے بھی خلوصِ دل سے ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خوشی سے بھیگی اواز میں بولی۔
“یہ تو تمہارا ظرف ہے مِرحا کہ تم میرے اتنے برے رویے کے بعد بھی سب کچھ بھلا کر مجھے معاف بھی کر چکی ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ آج کے بعد تم بھی مجھے سالار کی طرح “امّی سائیں؛ ہی کہو۔ مجھے بہت خوشی ہوگی۔۔،، انہوں نے اس کا گال سہلاتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ کچھ پل تو بییقینی سے انہیں دیکھتی رہی پھر بے اختیار ان کے گلے لگ گئی۔۔!! صحن کی سمت آتی شبانہ بی دور سے یہ منظر دیکھکر خوشی کی شدت سے نہال ہو گئیں۔ میر سالار نے بھی اس خوبصورت منظر کو آنکھوں کے رستے دل میں اتارتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا۔ عفاف بھی آگے بڑھتے ہوئے مِرحا سے لپٹ گئی۔ جبھی سائرہ بیگم کی نظر شبانہ بی جا پڑی جو تشکر کے احساس سے نم ہوئی آنکھوں کو دوپٹے سے صاف کر رہی تھیں۔
“یہاں آئیں شبانہ بی، سائرہ بیگم کے اواز دینے پر وہ فوراً ان کی جانب چلی آئیں۔
“جی بی بی سائیں؟ انہوں نے عاجزی سے سر جھکایا۔
“آپ کو اب کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح اس حویلی میں سبھی آزادی سے اپنی زندگیوں کو گزار رہے ہیں اب اسی طرح آپ بھی گزاریں گی۔ رہی بات گاؤں یا شہر رہنے کی تو مِرحا کی خواہش ہے کہ آپ اس کے ساتھ شہر میں رہیں سو آپ بلاجھجک شہر جا سکتی ہیں۔ جب آپ کا دل چاہے مِرحا کیساتھ یہاں کا چکر بھی لگا سکتی ہیں۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔،، انہوں نے اپنائیت سے مسکرا کر کہا تو شبانہ بی بے طرح خوش ہو گئیں۔ انہیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک ہی دن میں اتنی ڈھیر ساری خوشیوں کا تو نہ انہوں نے سوچا تھا اور نہ ہی مِرحا نے۔
“ٹھیک ہے بی بی سائیں،، بہت شکریہ جی، انہوں نے تشکرانہ انداز میں کہا۔
“اپنوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے شبانہ۔۔،، تم مرحا کیساتھ شہر جانے کی تیاری کرو، عفاف بیٹا تم زرا میرے لاکر سے طلائی چوڑیاں لا دو مجھے۔۔، شبانہ بی سے کہتے ہوئے انہوں نے ساتھ ہی عفاف سے کہا تو وہ سر ہلاتی اندر کی جانب بڑھ گئی۔ میر سالار دھیمی سی مسکراہٹ کیساتھ یہ سب کچھ دیکھے جا رہا تھا۔ چند ثانیے کے بعد عفاف لوٹی تو اس کے ہاتھ میں دو طلائی چوڑیاں موجود تھیں جو کہ انتہائی نفیس اور خوبصورت ڈیزائن سے کندہ تھیں۔ سائرہ بیگم نے وہ چوڑیاں اس سے لیتے ہوئے مرحا کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“یہ خاندانی چوڑیاں ہیں بیٹا اور اب یہ تمہاری ہوئیں۔ یہ تمہارا حق ہے جو کہ میں آج تمہیں سونپ رہی ہوں۔۔،، انہوں نے وہ چوڑیاں اس کے ہاتھوں میں سجا دیں ساتھ ہی اسے گلے سے لگا لیا۔ مرحا کی آنکھیں بے اختیار بھر آئیں۔ خوشی و سکون کا ایک بھرپور احساس اس کے رگ و پے میں اتر گیا تھا۔ اس نے میر سالار کی جانب دیکھا جو کہ لو دیتی آنکھوں سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے دیکھنے پر وہ ایک آنکھ دبا کر ہولے سے مسکرایا تو وہ جھینپ سی گئی۔ ہونٹوں پر پیاری سی مسکان جبکہ آنکھوں میں خوشی کے آنسو چمک رہے تھے۔ قریب ہی کھڑی عفاف اور شبانہ بی بھی بھرپور اطمینان سے کھل کر مسکرا دیں۔

                 ❣️❣️❣️❣️❣️

مِرحا شبانہ بی کیساتھ کچھ وقت گزار کر اب چھوٹی حویلی جانے کو تیار تھی۔ اس نے شبانہ بی کو ان کا بیگ پیک کرنے کی تلقین کر دی تھی، کیونکہ اسے زوفا کی رخصتی کیساتھ ہی شہر چلے جانا تھا، سو وہ شبانہ بی کو اپنے ساتھ ہی لے جانا چاہتی تھی۔
میر سالار شہر جانے سے پہلے اس کو چھوٹی حویلی چھوڑ گیا تھا۔ آسیہ بیگم نے اس کی آمد پر بیحد خوشی کا اظہار کیا۔ چھوٹی حویلی کی گہما گہمی عروج پر تھی۔ سب کے چہرے خوشی سے جگمگ کر رہے تھے۔ آسیہ بیگم سے ملنے کے بعد اس نے زوفا کا پوچھا تو انہوں نے اوپری منزل پر اس کی موجودگی کا بتایا وہ سر ہلاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
میر تھوڑی دیر تک سب کے ساتھ بیٹھنے کے بعد واپسی کیلئے اجازت لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے فوری شہر کیلئے نکلنا تھا۔
اوپری منزل پر آ کر وہ آسیہ بیگم کے بتائے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں گونہ گونہ ٹھنڈک سی اتر آئی۔ مایوں کے پیلے سوٹ میں ملبوس، دونوں ہاتھوں اور پاؤں پر رچی مہندی سمیت، زرتار دوپٹہ سر پر لئے، لمبی چوٹیوں کو آگے ڈالے تکئے کے سہارے بیڈ پر آنکھیں موندے نیم دراز وہ سیدھی دل میں اتر رہی تھی۔ چہرہ معصومیت کی کوئی اور ہی داستان بیان کر رہا تھا۔ اس وقت وہ کمرے میں تنہا ہی موجود تھی۔ آہٹ پر جو ہی زوفا نے آنکھیں کھولیں سامنے کھڑی مِرحا کو دیکھ کر پہلے تو وہ بے یقینی مبتلا ہوئی پھر بے ساختہ مسکرا دی۔ اس کی مسکراہٹ میں خوشی کا عنصر صاف طور پر نمایاں تھا۔ مرحا والہانہ اس کی جانب بڑھی اور اس کے گلے لگ گئی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو زوفا، اللّٰہ نظرِ بد سے بچائے۔۔ آمین۔۔، اس سے جدا ہوتے ہوئے اس نے چٹاچٹ اس کے دونوں گالوں کو چوم لیا۔ زوفا جھینپ کر سر جھکا گئی جبکہ آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔
“تم نے رونا بالکل نہیں ہے۔ مجھے پتہ ہے اب تم رونے کیلئے پر تول رہی ہو!!! مِرحا نے مصنوعی خفگی سے کہا تو وہ مزید آبدیدہ ہو گئی۔
“مجھے بہت ڈر لگ رہا مرحا! بے بسی سے کہتے ہوئے وہ اسے بیچارگی سے دیکھنے لگی۔
“ڈر؟؟ بھلا کس سے؟ حسن بھائی سے کیا؟ مرحا نے پہلے تو سنجیدگی سے پوچھا پھر آخر میں اس کا لہجہ شوخ سا ہو گیا۔ زوفا کا چہرہ نہ جانے کن احساسات کے تحت سرخ ہو گیا۔
“مجھے نہیں پتہ! اس نے نظریں چراتے ہوئے آہستگی سے جواب دیا۔ مرحا بیساختہ ہی ہنس پڑی۔
“تم بھی نا، بے جا فکر اور اندیشوں کو اب اپنی زندگی سے نکال پھینکو۔ انشاءاللّہ سب کچھ بہت اچھا اور محصور کُن ہوگا اتنا کہ جس کا تصور بھی تم نے نہیں کیا ہوگا۔۔، رہی حسن بھائی کی بات تو وہ بلاشبہہ بہت اچھے انسان ہیں۔ اللّٰہ پاک نے تمہیں بہتر سے گزار کر بہترین سے نوازا ہے۔ میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں زوفا۔ اللّٰہ پاک تمہیں ساری زندگی ہنستا مسکراتا اور خوش و خرم رکھے۔ آمین ثم آمین۔۔،، اس کے دل کو چھو لینے والے الفاظ پر زوفا نے بھی زیرِ لب آمین کہتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“میر ادا کہاں ہیں؟ زوفا نے سالار کا پوچھا تو اس نے اسے سالار کی شہر واپسی کے بارے میں بتایا ساتھ ہی اسے شوخ انداز میں سرتاپا دیکھنے لگی۔ اس کے اس انداز میں دیکھنے پر زوفا نے سوالیہ انداز میں کندھے اُچکائے تو وہ مزید اس کے قریب کھسک آئی۔ زوفا مزید تجسّس سے اسے دیکھنے لگی۔
“ویسے ایک بات تو بتاؤ، گھبراہٹ ہو رہی ہے؟ مرحا نے اس کے کان میں شرارتًا پوچھا تو وہ اسے گھورنے لگی۔
“بالکل بھی نہیں،، وہ ہونٹ سکوڑتے ہوئے بولی تو مرحا زور سے ہنس دی۔
“اب تو خیر تم غلط بیانی سے کام لے رہی ہو محترمہ، تمہارے چہرے کا رنگ ہی حسن بھائی کے نام پر اڑ گیا ہے، اور جب سے اڑا ہوا ہی ہے۔ فکر نہ کرو، حسن بھائی آدم خور نہیں ہیں۔۔!! اس نے اٹھلا کر کہا جبکہ زوفا ہنوز اسے گھورے جا رہی تھی۔
“چپ کرو تم، میں کوئی گھبرا نہیں رہی۔ میں بھلا کیوں گھبراؤں گی؟۔۔،، اس نے مِرحا کو ڈپٹ کر ساتھ ہی دل ہی دل میں خود کو بھی تسلی دی۔
“اب یہ تو تمہیں ہی پتہ ہوگا؛؛ مرحا نے آنکھیں گول گول گھماتے ہوئے مزے سے کہا۔ اس کے انداز پر زوفا نے اس کے کندھے پر ایک مکا دے مارا۔ وہ اپنا اندروں چھپانے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف تھی مگر درحقیقت وہ اندر سے سخت خوف زدہ تھی۔ اب تک اس کا جو بھی رویہ حسن کیساتھ رہا تھا اس پر وہ نادم بھی تھی ساتھ ہی اس کے متوقع ردعمل کا سوچ کر اندر ہی اندر لرز بھی رہی تھی۔
اس کی سوچوں کے تانے بانے جانے کہاں سے کہاں پرواز کرنے لگے تھے کہ وہ مرحا کی اواز پر چونک کر حال میں لوٹ آئی جو اب اس کی مہندی کی تعریف میں قصیدے پڑھ رہی تھی۔ ساری سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ بھی دھیمے انداز میں مسکراتی اس کی جانب متوجہ ہو گئی۔

                 🤎🤎🤎🤎🤎

بالآخر شادی کا دن آ پہنچا تھا۔ چھوٹی حویلی میں گونجتی شہنائیوں کی آواز مزید تیز ہو چکی تھی۔ بارات دروازے پر پہنچ چکی تھی۔ ایس۔پی۔حسن کی تو آج آن بان ہی نرالی تھی۔ وائٹ شیروانی میں ملبوس، اپنے لمبے قد و قامت سمیت، وہ بلاشبہہ بلا کا ہینڈسم و مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت لگ رہا تھا۔
‘نیوی بلیو تھری پیس سوٹ میں ملبوس میر سالار کی بھی بیحد پرکشش و جازب نظر لگ رہا تھا۔ بارات چونکہ ایک بجے گاؤں پہنچ گئی تھی سو رخصتی کی ٹائمنگ شام پانچ بجے طے پائی تھی۔ حسن کو دیکھکر فیاض و ارقم صاحب بھی دل سے مطمئن ہو گئے تھے۔
“خوبصورت ڈیزائن سے مبرا میرون غرارے میں ملبوس، سولہ سنگھار کئے زوفا اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ جو بھی نظر اس پر گئی تھی وہ چند لمحے کو ٹھہر سی گئی تھی۔ دلہن بنی وہ کوئی ربڑ کی گڑیا سے مشابہہ لگ رہی تھی۔ آسیہ بیگم نے اسے دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے والہانہ اس کی نظر اتاری۔ سب کے دل اس کی حقیقی خوشیوں کے لئے دعا گو تھے۔ مرحا بھی اس کی خوشی میں پیش پیش تھی۔
نکاح خواں نے جب اس سے اس کی اجازت چاہی تو وہ بیساختہ رو پڑی۔ اس کے نزدیک ہی بیٹھی سویرا و آسیہ بیگم نے بڑی مشکلوں سے اسے چپ کرایا۔ سسکیوں کے درمیان ہی اس نے اپنی قبولیت کا عندیہ دے کر اس پل اپنی زندگی اس شخص کے حوالے کر دی۔
دوسری جانب حسن بظاہر تو نارمل ہی رہا تھا مگر اندر سے اس کا تن من سلگ رہا تھا۔ اسے رہ رہ کر زوفا پر شدید قسم کا طیش آئے جا رہا تھا مگر فلحال وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھا۔ وقت کا تقاضا خاموشی ہی تھی سو فلحال اس نے خاموشی میں ہی بہتری سمجھی۔
نکاح کی رسم کے بعد حویلی میں زوفا کی رخصتی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ مرحا نے سوچا وہ بڑی حویلی جا کر سب سے ملاقات کرنے کے بعد ہی شبانہ بی کو لے کر وہاں سے نکلے مگر میر نے اسے کہا کہ ہو سکتا ہے چند دنوں میں منتہا کے نکاح کی تقریب میں ان کی گاؤں واپسی ہو۔ آپسی مشورے سے منتہا کا رشتہ منہاج شاہ کے دوسرے بیٹے ابراہیم سے طے پایا تھا۔ منتہا شموئیل شاہ کی جگہ کسی دوسرے شخص کو دینے کا تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی مگر قسمت کے کھیل میں وہ بھی بری طرح ہار کر بالآخر پست ہو گئی تھی۔ اس کیلئے یہی بہتر تھا سو جلد ہی بڑی حویلی میں اس کے نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی جس میں ظاہری سی بات تھی کہ سالار اور مرحا نے شرکت کرنی ہی تھی۔
زوفا ڈھیروں دعاؤں کے حصار میں بے تحاشہ آنسو بہاتے ہوئے اپنے نئے سفر پر رخصت ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ گاڑی میں مرحا اور شبانہ بی بھی موجود تھیں۔ جبکہ فرنٹ سیٹ پر ہونٹ سختی سے بھینچے براجمان ایس۔پی۔حسن موجود تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ڈرائیور موجود تھا۔ میر سالار اپنی کار میں ہی روانہ ہوا تھا۔ سبھی گاڑیاں شہر کی جانب رواں دواں ہو چکی تھیں جہاں آنے والی ہستی کا بے صبری سے انتظار ہو رہا تھا۔

                  💕💕💕💕💕

ایس۔پی۔حسن کے عالیشان گھر میں اس کا بھرپور سواگت ہوا تھا۔ بی جان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خوشی کے مارے بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیں۔ آج ان کے دل کی مراد بر آئی تھی۔ انہوں نے زوفا کی نظر اتارتے ہوئے اس کے نام کا صدقہ دیا۔ رشتے دار تو ان کا کوئی نہ تھا۔ پڑوسی تھے اس کے الاوہ حسن کے کچھ جاننے والے اور ان کی بیویاں موجود تھیں۔ بی جان شبانہ بی سے مل کر بہت خوش ہوئیں تھیں۔
تمام رسموں و رواجوں کے بعد زوفا کو حسن کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔ اسے کمرے میں لانے والی بھی مرحا ہی تھی۔ خوبصورتی سے سجا کمرہ نفاست کا الگ ہی نقشہ پیش کر رہا تھا۔ مرحا نے تعریفی نگاہوں سے کمرے کے چاروں جانب نظریں دوڑائیں ساتھ ہی احتیاط سے اسے بیڈ پر بٹھایا اور اس کے غرارے کو اطراف میں پھیلاتے ہوئے جھک کر اسے دیکھا جو آنکھیں بند کئے شاید خود کو کمپوز کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔
“کیا ہوا اتنی ٹھنڈی کیوں ہو رہی ہو ہاں؟ مرحا نے تشویش سے اس کا یخ بستہ ہاتھ تھاما۔
“مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے مرحا، تم یہیں رہو پلیز،، اس نے کانپتی آواز میں کہتے مرحا کا ہاتھ زور سے جکڑا تو وہ یکدم ہنس دی۔
“پاگل لڑکی، توبہ کرو، میں یہاں رہوں گی تو حسن بھائی کدھر جائیں گے؟ اس نے شوخی سے کہا تو زوفا کی گھبراہٹ مزید دو چند ہو گئی۔
“اب میں چلتی ہوں ہاں، کل انشاء اللّہ آؤں گی۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ فارم ہاؤس چلنا ہے۔ تم سے کل ملاقات ہوگی۔ خوش رہو۔۔، اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے اس نے گھونگھٹ اس کے چہرے پر گرایا اور عجلت میں کہتی ہوئی باہر نکل گئی جبکہ زوفا کو یوں محسوس ہو رہا تھا گویا وہ کسی بھی پل بیہوش ہو کر گر جائے گی۔ وہ بمشکل اپنے لرزتے وجود کو سنبھالے بیٹھی ہوئی تھی۔

“یار حسن، موڈ تو ٹھیک کرو اپنا۔ تمہارا موڈ یہی رہا تو میری بہن تمہیں دیکھ کر اپنے ہی ہوش و حواس گنوا بیٹھے گی۔۔،، میر سالار جو کہ بی جان کے پیغام پر اب حسن کے ساتھ گھر میں ہی داخل ہو رہا تھا اس کا ہنوز اکھڑا انداز دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا۔ حسن کے تو گویا سر پر لگی اور تلوؤں پر جا کر بجھی۔

“ہاں میں تو کوئی خونخوار جلاد ہوں نا جو محترمہ مجھے دیکھکر اپنے حواس قائم نہیں رکھ سکیں گی۔۔ اس کے قدرے جل کر بولنے پر بیساختہ سالار کا قہقہہ گونجا۔
اسی اثناء وہ دونوں بی جان کے پاس پہنچ گئے جو لان میں ہی موجود تھیں۔ ان کے پاس شبانہ بی و مرحا بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ میر نے ان سے اجازت چاہی تو وہ جو مرحا کی زبانی ان کی آج ہی واپسی کا سن چکی تھیں اپنی خفگی کا اظہار کرنا نہ بھولیں۔

“بی جان کل تو آنا ہی ہے نا انشاء اللّہ، فلحال اجازت دیں۔۔،، سالار نے ہنستے ہوئے سہولت سے کہا تو ناچار انہیں اس کی بات ماننا ہی پڑی۔ یوں وہ تینوں فارم ہاؤس کیلئے روانہ ہو لئے تھے۔

                  💝💝💝💝💝

وہ آنکھیں بند کئے مختلف دعاؤں کے ورد میں مصروف تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کے دل کی دھڑکنیں بے تحاشہ شدت پکڑ چکی تھیں۔
حسن نے دروازہ بند کرتے ہوئے سرد نگاہوں سے بیڈ پر گھونگھٹ میں موجود وجود کو دیکھا اور نپے تلے قدموں سے چلتا ہوا بیڈ کے قریب آ کھڑا ہوا۔ زوفا لاشعوری طور پر زرا پیچھے کو کھسکی تھی۔ کمرے کی خاموشی میں اس کی چوڑیوں کی آواز نے ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔ کلائی میں موجود واچ کو اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے اسے چند پل کو دیکھا جو اپنے آپ میں سمٹتی ہی جا رہی تھی۔
“یہ آپ کی رونمائی کا تحفہ ہے؛؛ مخملیں ڈبہ اس کے نزدیک رکھتے ہوئے وہ بھرپور سنجیدگی سے بولا۔ دوسری جانب کوئی جنبش نہ ہوئی۔ حسن نے استہزائیہ مسکراہٹ کیساتھ کالر کا بٹن کھولا ساتھ ہی گہرا سانس لیا اور سامنے موجود صوفے پر جا بیٹھا۔ جوتے و موزوں سے پیر کو آزاد کرتے ہوئے وہ چند ثانئے صوفے پر ہی بیٹھا رہا، پھر گردن موڑ کر بیڈ کی جانب دیکھا جہاں وہ اسی پوزیشن میں اب بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ یکایک غصے کی ایک شدید لہر اس کے جسم میں اٹھی تھی۔ وہ اس قدر سمجھوتہ کیوں کر رہی تھی کہ اب تک اس کے انتظار میں یونہی پتھر کی مورت کی مانند بیٹھی ہوئی تھی۔
“کیوں کر رہی ہیں یہ سب؟ کس نے مجبور کیا ہے آپ کو؟ کمرے کی خاموشی میں اس کی سلگتی ہوئی آواز ابھری تو زوفا جیسے ہوش میں آئی۔
“میں کچھ سمجھی نہیں،، آہستگی سے ہی سہی پر بیساختہ اس کے منہ سے یہ سوال نکلا۔ حسن نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اس کی پشت کو گھورا۔
“میں نے جو پوچھا ہے بس اس بات کا جواب دیں مجھے فوری طور پر، میری ذہنی حالت کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں۔ پچھلے دو ہفتوں سے میں کس قدر اذیت میں مبتلا ہوں اس کا اندازہ ہے آپ کو؟ جھٹکے سے صوفے سے اٹھ کر وہ بیڈ کے نزدیک آ کھڑا ہوا اور گویا لفظوں کو چبا چبا کر بولا۔
“مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ہے۔ میں اس رشتے کیلئے خود سے راضی ہوئی ہوں۔ قسم لے لیں۔۔،، زوفا نے لرزتی آواز پر قابو پاتے ہوئے بمشکل کہا۔
“مجھ سے غلط بیانی سے کام مت لیں زوفا، آپ وہی ہیں نا جو میرے رشتے کیلئے تو کیا بلکہ کسی بھی رشتے کیلئے راضی نہ تھیں، پھر یہ سب کیا ہے ہوں؟ حسن نے غصّے سے بل کھاتے ہوئے کہا، پھر تھکے ماندے انداز میں بیڈ پر ہی بیٹھ گیا۔
“میں وجہ بتانے کو تیار ہوں مگر بشرطیکہ آپ اس کا یقین کریں گے؛؛ چند ثانیے بعد زوفا کی اواز گونجی تو وہ گھونگھٹ میں چھپے اس کے وجود کو دیکھنے لگا۔ اس گھونگھٹ کو اٹھانے کی زحمت دونوں میں سے کسی نے نہیں کی تھی۔
“بتائیں وجہ، سمجھ لیں کہ میرے لئے یہ جاننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا انسان کو زندہ رہنے کیلئے سانس لینا ضروری ہے۔۔،، اس نے سنجیدگی سے کہا۔ زوفا نے دھیمی و ماحول پر سحر طاری کرنے والی آواز میں اپنے اس خواب کے متعلق بتانا شروع کیا۔ جوں جوں وہ سنتا جا رہا تھا اس کے دل کی حالت عجیب تر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اب خاموش بھی ہو گئی تھی مگر وہ اپنی جگہ مسمرائز ہو کر رہ گیا۔
“پتہ نہیں آپ کو اب تک یقین آیا یا نہیں مگر یہی سچ ہے۔۔،، اس کے کہنے پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اس کی آواز قدرے نمی لئے ہوئی تھی۔ حسن کے دل پر جیسے ٹھنڈی ٹھنڈی سی فوار پڑنے لگی تھی۔ منظر صاف ہوا تھا تو اب اس کا چہرہ دیکھنے کی خواہش نے زوروں سے سر اٹھایا تو بے اختیار اس کے زرا قریب ہو کر اس نے اس کا گھونگھٹ الٹ دیا اور پھر جیسے اپنی جگہ ساکن رہ گیا۔ وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔ وہ یک ٹک بے خودی بھرے انداز میں اس کا ہوشربا روپ دیکھے جا رہا تھا۔ زوفا کی پلکیں مزید بوجھل ہو کر رخساروں پر گر گئیں۔
اس کی مخمور نگاہوں کا سامنا کرنا ہی اسے بیحد مشکل لگ رہا تھا۔ دھک دھک کرتے دل کیساتھ وہ زرا اور پیچھے کو سرکی تو حسن جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹ آیا۔
“کدھر ہاں؟؟ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچتے ہوئے وہ اسے لو دیتی نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس اقدام پر زوفا کا چہرہ قندہاری انار کی مانند سرخ ہو گیا۔
“آپ، مم میرا مطلب، چھوڑیں مجھے پلیز،، اس کا حصار توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ ہکلا کر بولی ساتھ ہی ایک بار پھر پیچھے ہونے کی کوشش کی تھی کہ حسن نے اسے مزید خود میں سمو لیا۔ زوفا کیلئے اس کی نظروں کا سامنا کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ شرم اور گھبراہٹ نے بیک وقت اس پر حملہ کیا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ ان نظروں سے چھپ کر کدھر جائے۔

“مجھے یقین نہیں ہو رہا زوفا کہ آپ میری صرف اور صرف میری بن کر آج میرے روبرو موجود ہیں۔ اس پل کا یقین مانیں میں نے بہت شدت سے انتظار کیا ہے۔ پچھلے چند روز جو میں نے اذیت میں گزارے وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ میں یہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ آپ کسی جبر و زبردستی کی بنیاد پر اس رشتے کیلئے حامی بھریں۔ مجھے ہر حال میں آپ کی خوشی عزیز ہے۔ اور اب جب آپ نے خود اقرار کیا ہے تو یقین مانیں میں اب جا کر مکمل طور پر مطمئن ہوا ہوں۔۔،، اس نے اس کی ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر اس کا جھکا چہرہ اوپر اٹھایا اور والہانہ نظروں سے اس کے چہرے کے نقش نقش پر اپنی نظریں دوڑانے لگا۔
“میں واقعی میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ جیسا شخص ملا ہے۔ اس اوپر والی ذات کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے،، زوفا نے آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو بمشکل پلکیں جھپک کر اندر دھکیلنے کی کوشش کی۔
“خوش قسمت تو میں بھی ہوں کہ آپ جیسی لڑکی میری شریکِ سفر بنی ہے۔ اس سے بڑا اعزاز میرے لئے اور کیا ہو سکتا ہے! عقیدت سے چور لہجے میں کہتے ہوئے حسن نے اس کی پیشانی پر پہلی مہرِ محبت ثبت کی۔ زوفا کا چہرہ بلش کرنے لگا۔ رخسار اس کی گہری نظروں کی تپش پر تپنے لگے تھے۔
“اپنی رونمائی کا تحفہ دیکھ کر بتائیں، آپ کو پسند آیا یا نہیں! حسن نے اس کی توجہ بیڈ پر پڑے باکس کی جانب مبذول کرائی تو اس نے پاس پڑا وہ باکس اٹھا کر کھول لیا۔ اندر نہایت ہی دلکش و خوبصورت سا نیکلس پڑا آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ ستائش کے رنگ اس کے چہرے پر اتر آئے۔
“کیسا لگا؟ حسن کے سوال پر اس نے اپنی انگلیاں نیکلس پر پھیریں ساتھ ہی اسے دیکھا جو آنکھوں میں سوال لئے اس کے ہی جواب کا منتظر تھا۔
“بہت خوبصورت! اس کے جواب پر اس نے مطمئن ہو کر سر ہلاتے ہوئے باکس سے نیکلس اٹھا لیا۔
“پہنا دوں؟ اجازت ہے؟ شرارت آمیز انداز میں اس نے زوفا کو دیکھا تو وہ جھینپ کر سر جھکا گئی۔ گویا اجازت دی۔ اس کی دمکتی گردن میں وہ نیکلس ڈالتے ہوئے حسن نے خمار آلود انداز میں جھک کر اس کی گردن پر ہونٹ رکھ دئیے۔ زوفا کے پورے جسم میں برق سی دوڑ گئی۔
“پ، پلیز، اس کے منہ سے بمشکل یہ لفظ نکلا۔ حسن بیساختہ دھیمے سروں میں ہنس دیا۔
“چلیں پہلے اس وصل پر ایک شکرانے کا سجدہ ادا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں مکمل طور پر بہک جاؤں بہتر ہے یہ کام ابھی سر انجام دیں لیں؟؟ اس نے ٹیکہ اس کی مانگ پر درست کرتے ہوئے شوخی سے پوچھا تو زوفا مزید نروس ہوتی حنائی ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا گئی۔ اس کی اس ادا پر کمرے کے خوابناک ماحول میں ایس۔پی۔حسن کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا۔ زندگی ہر لحاظ سے خوبصورت تھی۔ دور دور تک کسی غم کا کوئی آثار نہ تھا۔ صرف خوشیوں کے ہنڈولے تھے اور وہ دونوں تھے۔
ان دونوں کا یہ ملن بیشک اس رب کا ان کیلئے بہترین تحفہ تھا۔

“ائے محبّت کے کُل جہاں میرے تیری آنکھوں میں میری دنیا ہے؛ 🖤🖤🖤🖤🖤

زوفا بہت پیاری لگ رہی تھی نا؟ وہ آئینے کے سامنے کھڑی جھمکوں کو کانوں سے اتارتے ہوئے میر سے پوچھنے لگی جو ابھی ابھی چینج کر کے ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تھا۔ شبانہ بی سکون سے اپنے نئے نویلے کمرے میں محوِ استراحت تھیں۔
“پیاری تو آپ بھی بہت لگ رہی ہیں محترمہ!! آئینے میں اس کے دل موہ لینے والے روپ کو دیکھتے ہوئے وہ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا اور اس کی کمر کے گرد اپنا مضبوط حصار باندھ دیا۔
“سائیں، مجھے چینج کرنا ہے۔ تنگ نہ کریں مجھے،،، وہ منہ پھلاتے ہوئے کھلے بالوں کو سمیٹنے کی کوشش کرنے لگی۔ فان کلر کے لہنگے میں، ہم رنگ چوڑیاں و جیولری پہنے، سلیقے سے کئے گئے میک اپ میں، کھلے بالوں سمیت وہ کسی ریاست کی ملکہ لگ رہی تھی۔
“کر لینا چینج بھی میری جان، ابھی میں نے آپ کی تعریف میں قصیدے ہی کہاں پڑھے ہیں! دھیمی و جانلیوا سرگوشی پر مرحا کی سانسیں گلے میں ہی اٹک گئیں۔ سالار نے اس کے گال سے اپنا گال رگڑا تو وہ خود میں سمٹ سی گئی۔
“سائیں، آپ تھکے ہوئے نہیں ہیں کیا؟ اس نے فرار کی راہ ڈھونڈنا چاہی مگر مقابل بلا کا زیرِک نظر تھا جو اندر تک جھانک لیا کرتا تھا۔
“اپنی تھکان ہی تو اتارنے کا بندوست کر رہا ہوں؛؛ اس نے جس لب و لہجے میں کہا مرحا گویا شرم سے بیحال گویا مرنے والی ہو گئی۔
“بہت ہی کوئی بے شرم انسان ہیں آپ! وہ چلبلا کر اپنی جھینپ مٹانے چلائی تو سالار بے ساختہ ہنس پڑا۔
“اب جیسا بھی ہوں تمہارا ہی ہوں مائی سویٹ ہارٹ،،، اس کے کندھے پر لب رکھتے ہوئے اس کا لہجہ خالص جذبات سے چور تھا۔ مرحا کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔
“میں نے میک اپ بھی صاف نہیں کیا ہے دیکھیں،، اس نے خفگی سے آئینے میں اپنے عکس کی طرف اشارہ کیا۔
“بے فکر رہو۔ اسے کیسے صاف کرنا ہے میں بخوبی جانتا ہوں۔۔،، اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے سالار نے لو دیتی آنکھوں سے اس کی کاجل سے بھری معصوم آنکھوں میں دیکھا اور اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے اس کی ٹھوڑی چوم لی۔ اس کی بات پر مرحا کا چہرہ خون چھلکانے لگا۔
“شرم تو زرہ برابر بھی نہیں آپ کو،، نظریں چراتے ہوئے وہ اس کی جانب دیکھنے سے مکمل اجتناب برت رہی تھی۔
“یہ شرم و حیا کا ڈپارٹمنٹ آپ کا ہے مسز،، وہ لب دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا ساتھ ہی جھک کر اس کے مرتعش وجود کو اپنی مضبوط بانہوں میں اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔ مرحا نے کوئی جائے فرار نہ پاکر بیساختہ اسی کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔۔،،
وجود پر سحر طاری کر دینے والے ماحول میں دو دل ایک ہی تال پر دھڑک رہے تھے۔ قطرہ قطرہ بھیگتی رات ان کی محبت کے رنگوں کو مزید گہرا کرتے ہوئے گزر رہی تھی۔ محبت ابرِ رحمت کی مانند ان پر سایہ کئے ہوئے تھی۔ ہر منظر مکمل تھا اور بلاشبہہ سب کچھ خوبصورت تھا۔۔!!!

“میں تیرے بِن ویران پیا تو میرا کُل جہان پیا؛ تمتُ البخیر