Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

کچھ خود بھی تھے افسردہ سے
کچھ لوگ بھی ہم کو لوٹ گئے،
کچھ خود بھی زخم کے عادی تھے
کچھ شیشے ہاتھ سے چھوٹ گئے،
کچھ خود بھی تھے حسّاس بہت
کچھ اپنے مقدر روٹھ گئے،
کچھ ان کو سچ سے نفرت تھی
کچھ ہم سے نہ بولے جھوٹ گئے،
کچھ خود بھی بہت محتاط نہ تھے
کچھ لوگ بھی ہم کو لوٹ گئے،
کچھ تلخ حقیقتیں تھیں اتنی
کہ خواب ہی سارے ٹوٹ گئے!!!

انیکسی کا دروازہ انتہائی زوردار آواز سے کھلا۔ شبانہ بی خوف زدہ سی اٹھ کھڑی ہوئیں جبکہ مرحا بھی چونک کر بے تحاشہ دہشت زدہ سے اٹھ بیٹھی! آنے والی ہستی کو دیکھکر دونوں ماں بیٹی وہیں جم سی گئیں۔
میر سائیں۔۔۔ مرحا کے کانپتے ہونٹ دھیرے سے ہلے، اسے دیکھکر مرحا کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے رستے زخموں پر گویا کسی نے نمک چھڑک دیا ہو۔ وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ سرخ آنکھوں و بھینچے ہوئے ہونٹوں سمیت وہ سلگتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

میر س، سائیں ب، بات سنیں میری! شبانہ بی نے التجا آمیز انداز میں کہا۔
آپ جائیں یہاں سے فوراً، ۔۔۔ اس نے دہاڑتے ہوئے دروازے کی جانب اشارہ کیا۔ آنکھیں اس قدر سرخی لئے ہوئی تھیں ایسا لگتا تھا بس کسی بھی پل ان سے خون ٹپک جائے گا۔ اس کے تیور دیکھکر مرحا بے حد ہراساں ہو گئی، جبکہ شبانہ بی ایک پل کی بھی تاخیر کئے بنا وہاں سے نکل گئی تھیں۔
ان کے جانے کے بعد وہ سرد تیوروں و بھینچے ہوئے جبڑوں کیساتھ اس کی جانب بڑھا، مرحا بے اختیار لرز کر دو قدم پیچھے ہٹی۔
س، سائیں میری بات۔۔۔ جملہ اس کے منہ میں ہی رہ گیا جب ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے نازک گال پر آ لگا۔ وہ بستر پر اوندھی لڑھک گئی۔ تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ مرحا کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ گھلتا محسوس ہوا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار اشک برسانے لگیں۔
صرف ایک سوال، کیوں کیا تم نے ایسا جواب دو مجھے فوری طور پر، کوئی تمہید کوئی وضاحت نہیں سننی مجھے! اس کے بازوؤں کو اپنی آہنی گرفت میں جکڑ کر وہ اسے جھٹکے سے اس کے قدموں پر کھڑا کرتا بولا۔
جواب دو مجھے! اس کے لہجے میں بھوکے شیر کی سی دہاڑ تھی۔ مرحا کا دل جیسے بند سا ہونے لگا۔
سائیں، خدارا میرا یقین کیجئے۔۔ میں نے کچھ بھی نہیں کیا سائیں۔۔۔ اس نے سسکتے ہوئے میر سالار کے چہرے کو دیکھا۔
بکواس بند کرو، میں نے کہا نا کہ کسی بھی قسم کی کوئی تمہید مت باندھنا! رات کے سہہ پہر میرے کمرے میں آنے والی تم ہو، میرے وارڈروب میں وہ چیزیں رکھنے والی تم، سب کے سامنے میرے کردار کو مشکوک بنانے والی تم، اس کے بعد بھی خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے واؤ امیزنگ!! استہزائیہ انداز میں اسے سرتاپا دیکھتے ہوئے وہ اس لڑکی سے نفرت کے شدید ترین احساس میں گھرا ہوا تھا۔ مرحا کے بازوؤں پر اس کی گرفت سخت ترین ہو گئی۔ اذیت کے احساس سے مرحا کا چہرہ زرد سا ہونے لگا۔ اس نے زخمی نگاہوں سے میر سالار کی آنکھوں میں دیکھا۔

سائیں میرے دل میں جو آپ کے لئے محبت ہے میں قسم کھاتی ہوں کہ اس میں زرہ برابر بھی کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ میں آج سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے آپ کی محبت میں گرفتار ہوں، بس کبھی کہنے کی ہمت نہیں کر سکی۔ میرا یقین کریں سائیں یہ سب کیا دھرا روشی بی بی کا ہے؛ اس نے عاجزانہ انداز میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
یہ سچ ہے کہ میں نے آپ سے محبّت کی ہے، لیکن جیسا آپ سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے سائیں! میں نے یہ نہیں کیا میرا یقین کریں! وہ ہچکیوں سے رونے لگی تو میر سالار کی آنکھیں کچھ اور بھی سرخی سمیٹ لائیں،،

مجھ سے غلط بیانی سے کام مت لو ورنہ تمہارے جسم سے تمہاری سانسیں کھینچ لوں گا، تم جانتی نہیں ہو مرحا بخش کہ تم نے کیا غلطی کی ہے۔ بہت شوق ہے نا تمہیں میرے قریب آنے کا؟ اب انتظار کرو اس دن کا جب تم مجھ سے پناہ مانگتی پھرو گی؛؛ تمہاری زندگی جہنم نہ بنا دی تو میرا نام بھی میر سالار شاہ نہیں،،!! اس کا بازو دبوچتے ہوئے وہ پھنکار کر بولا، نفرت سے بھرپور لہجے میں آگ ہی آگ بھری ہوئی تھی، جس میں جل کر وہ خاکستر ہو رہی تھی!
ک کیا مطلب؟ اس کی آنکھوں میں خوف سمٹ آیا

مطلب بہت جلد تمہیں سمجھا دوں گا۔ میر سالار ہوں میں، تمہیں جب تک تمہاری اصل اوقات سے روشناس نہ کرایا چین و سکون مجھ پر حرام ہے سمجھیں تم! اسے خود سے قریب تر کرتے ہوئے وہ پھنکار کر بولا۔ اس کی سلگتی سانسیں مرحا کا تن من جلا رہی تھیں۔ جھٹکے سے اسے چھوڑتے ہوئے وہ تن فن کرتا باہر نکل گیا جبکہ پیچھے وہ لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچی۔ بے دم ہوتی ٹانگوں سے وہ نیچے زمین پر بیٹھ گئی اور اونچی آواز میں زار و قطار رونے لگی۔ یک کے بعد دیگرے جھٹکے نے اسے اندر سے توڑ پھوڑ دیا تھا۔
میر سالار کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت کو یاد کرتے ہی اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی۔

               ❤️❤️❤️❤️❤️

وہ حویلی میں داخل ہو کر برآمدے سے گزرتا ہوا زینوں کی جانب بڑھا کہ وہاج شاہ کے منہ سے اپنے نام کی پکار سن کر وہیں ٹھہر گیا۔ اور پلٹ کر دیوان کی جانب آ گیا۔ جہاں ابھی بھی چہ مگوئیاں جاری تھیں۔
“تم میں تھوڑی سی بھی غیرت باقی ہے سالار؟ ایک دو ٹکے کی ملازمہ کے لئے یہ جذبہ رکھتے ہوئے تمہاری غیرت نہیں جاگی؟، اور اب تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے میر؟ وہاج شاہ نے غصّے سے دانت کچکچاتے ہوئے پوچھا
دادا سائیں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ میں کسی بھی قسم کی کوئی وضاحت پیش نہیں کروں گا۔ البتہ آپ سب کو اپنے ایک نہایت ہی اہم فیصلے کی بابت بتانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ، میں “مرحا بخش؛ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں! اس نے تو وہاں موجود افراد کے سروں پر دھماکہ کر دیا تھا۔ روشانے کو تو الگ چکر آنے لگے۔۔ اس نے تو سوچا تھا میر سالار اپنی تذلیل پر اسٹریس لے گا، دنیا سے کٹ جائے گا، مزید یہ کہ ڈپریشن میں چلا جائے گا۔ مگر یہاں تو سب کچھ الٹ ہو رہا تھا۔ وہ تو سب کے مقابل کھڑا آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنے فیصلے سے آگاہ کر رہا تھا۔ اپنی ناکامی پر وہ دانت پیس کر رہ گئی۔
مورے نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا جبکہ وہاج سمیت زیشان شاہ مزید سیخ پا ہو گئے تھے۔ فریدہ بیگم سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ڈھے سی گئیں۔ حرم و عفاف بھی بے یقینی سے میر سالار کو دیکھ رہی تھیں۔
خاموش میر! لگتا ہے تم اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہو! اندازہ ہے تمہیں کیا بول رہے ہو تم ہاں؟ زیشان شاہ کا انداز ایسا تھا جیسے اسے کچا چبا جائیں گے۔

گستاخی معاف بابا سائیں، مگر میں مکمل ہوش و حواس میں ہوں، میں مرحا سے ہی نکاح کروں گا۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں۔۔ اس نے سب کے چہروں پر نظریں دوڑاتے ہوئے گویا ان کو دوبارہ جتایا۔
ہمارے اتنے برے دن نہیں آئے سالار کہ ایک ملازمہ جس کی اوقات ہمارے پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہے اسے اپنے خاندان کی بہو بنا لیں۔ سنا تم نے! ہمیں قطعی یہ منظور نہیں ہے۔ ویسے بھی اس کا رشتہ ہم نے امجد کیساتھ طے کیا ہے، کل نکاح ہے اس کا امجد کے ساتھ سنا تم نے؟! وہاج شاہ نے سخت و حکمیہ لہجے میں کہا تو میر سالار کی پیشانی پر لاتعداد بل پڑ گئے۔
میں آپ سب پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ میں کسی کی اجازت کا محتاج نہیں ہوں۔ کل اس کا نکاح بیشک ہوگا، لیکن امجد کیساتھ نہیں بلکہ میرے ساتھ،، تصحیح کر لیں! میری زندگی میں صرف اور صرف مرحا بخش شامل ہوگی۔ دیٹس اٹ!! اس نے سپاٹ لہجے میں بھرپور سنجیدگی سے کہا تو فریدہ بیگم اسے کینہ توز نظروں سے گھورنے لگیں جو خود کے آگے کسی کی نہیں سنتا تھا۔ مورے کے چہرے پر طنزیہ سا تاثر اتر آیا۔
لعنت ہو ایسی اولاد پر جو خاندان کی عزت خاک میں ملانے پر تل جائے۔۔ لوگ کیا کہیں گے کہ ہمیں یہ ملازمہ ہی ملی تھی بہو کے روپ میں! مورے نے کلستے ہوئے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔
“مجھے لوگوں کی باتوں کی ہرگز کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ میری زندگی ہے اسے میں اپنی مرضی کے مطابق گزاروں گا۔ میں ایک روز کے لئے یہاں ہوں، اور اسی ایک دن کے اندر میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، یہی میرا فیصلہ ہے! وہ دو ٹک انداز میں کہہ کر پلٹا،
“جہاں تک مجھے یاد ہے، تم تو فلحال شادی کے لئے تیار ہی نہ تھے تو اب کیا ہوا؟ اپنے پیچھے مورے کی طنز میں ڈوبی آواز پر وہ جو دروازے تک پہنچا تھا واپس پلٹا اور دونوں جیبوں میں آرام سے ہاتھ ڈالے نپے تلے قدموں سے چلتا ہوا تخت کے پاس آ رکا۔
“تب نہیں تھا، لیکن اب ہوں! بار بار ایک ہی بات کہنے کا عادی نہیں ہوں میں، اس لئے بہتر ہوگا کہ جتنی جلدی ہو سکے آپ سب اپنا مائنڈ میک اپ کر لیں؛۔ بات پوری کر کے وہ جھٹکے سے پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔ وہاج شاہ و زیشان شاہ وغیرہ تقریباً پیر پٹختے باہر کی جانب چلے گئے۔ باقی سب اپنی اپنی جگہ حیران و پریشان تھے۔ مورے چہرے پر زہر آلود تاثرات لئے بیٹھی ہوئی تھیں۔

                 💛💛💛💛💛

ذہنی ٹینشن و رات بھر رونے کا یہی انجام نکلا تھا کہ صبح اس کا بدن نقاہت سے چور چور ہو رہا تھا۔ شبانہ بی فجر پڑھ کر حویلی چلی گئی تھیں البتہ اسے ساتھ چلنے کو نہیں کہا۔ وہ بھی نماز پڑھ کر دوبارہ لیٹ گئی۔ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اس میں حویلی جا کر کام کاج کرنے کی ہمت ناپید تھی۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ حویلی والوں کو اس کی شکل دیکھنا گوارا نہ تھی، شاید اسی لئے شبانہ بی نے بھی آج اس سے ایک دفعہ بھی ساتھ چلنے کو نہیں کہا تھا

سوچتے ہوئے اس کا دل رونے لگا، ایک محبت کرنے کی اتنی بڑی سزا ملے گی اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
“آپ صحیح کہتے ہیں میر سائیں، مجھے واقعی اپنی اوقات کا پتہ ہونا چاہیئے تھا۔ آپ سے محبّت کرنے سے پہلے مجھے اپنی حیثیت کا تعین کرنا چائیے تھا۔ لیکن میرا ایک سوال ہے، کیا محبت پوچھ کر ہوتی ہے؟ نہیں!! محبّت کا یہی تو المیہ ہے کہ یہ بس ہو جاتی ہے۔ جس طرح باقی سب کو بھی بس محبت ایسے ہی ہو جاتی ہے، اسی طرح مجھے بھی آپ سے ہو گئی،، لیکن اس کا اندازہ مجھے آج ہوا کہ میں نے آپ سے محبّت نہیں بلکہ جرم کیا ہے! اور جرم ناقابلِ معافی ہوتے ہیں۔ آپ سے محبّت مجھے راس نہیں آئی میر سائیں!! اپنی جلتی آنکھوں کو میچ کر اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو پیچھے دھکیلا، اور اپنے نقاہت زدہ وجود کے ساتھ دوسری جانب کروٹ بدل لی۔

درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا

اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے!

              🌸🌸🌸🌸🌸

“میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا مورے کہ ایک معمولی سی ملازمہ میری بہو بنے گی، خیر اسے بہو تو میں مر کر بھی تسلیم نہیں کروں گی!! دوپہر کا وقت تھا فریدہ بیگم افسردہ سی مورے کی خوابگاہ میں بیٹھی اپنے دکھڑے سنا رہی تھیں۔ لہجے میں مرحا کے حوالے سے محض حقارت و نفرت ہی بھری ہوئی تھی۔ پاس ہی لال جوڑا پڑا ہوا تھا جو انہوں نے راکھی(ملازمہ) کو ڈرائیور کے ہاتھوں بھیج کر منگوایا تھا۔ راکھی اپنی پسند کا جوڑا لے آئی تھی۔ جبھی شنّو چائے لے آئی تو انہوں نے اسے شبانہ بی کو بلوانے کو بھیجا۔ کچھ اثناء کے بعد شبانہ بی وہاں چلی آئیں۔
آپ نے بلایا شاہ بی بی؟ وہ مؤدب سی سر جھکائے بولیں۔
ہوں! یہ لے جا، اور جا کر اس منحوس ماری کو دے آ، اس سے بولنا پہن لے یہ لال جوڑا، شام میں نکاح ہے اس کا! خیر مہارانی کو بتانے کی ضرورت بھی کیا ہے۔۔ اس کو تو سب پتہ ہوگا پہلے ہی،، کیوں صحیح کہہ رہی ہوں نا؟ مورے نے ان کی جانب جوڑا اچھالتے ہوئے سلگ کر کہا جبکہ اس انکشاف پر شبانہ بی سر اٹھا کر ساکت سی انہیں دیکھنے لگیں۔
نکاح؟؟ انہوں نے زیرلب کہا۔
ہاں نکاح، وہ بھی صرف اور صرف میر کی خواہش پر یہ،، ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لے، تیری بیٹی کو اس حویلی میں وہ درجہ کبھی نہیں ملے گا جس کی اسے خواہش ہے۔۔ یہ بات اچھی طرح اسے باور کرا دیو۔ اب دفع ہو!! کراہیت آمیز لہجے میں کہتے ہوئے انہوں نے شبانہ بی کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکل آئیں۔
بمشکل اپنے وجود کو سنبھالتے ہوئے وہ انیکسی آئیں جہاں وہ اب گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھی ہوئی تھی۔
آہٹ پر سرخ چہرہ اٹھایا تو شبانہ بی کو نیم جان حالت و ہاتھ میں پکڑے لال جوڑے کیساتھ کھڑا پایا۔
مرحا کی آنکھوں میں سوالیہ تاثر در آیا۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہے ہاں؟ جاننا چاہتی ہے یہ کیا ہے تو سن، شام میں تیرا نکاح ہے، میر سائیں نے تجھ سے نکاح کی بات کی ہے۔ پہن لے یہ جوڑا، کم وقت بچا ہے! کسی طرح نکاح ہو تیرا تو جان چھوڑے میری!! کہتے کہتے ان کی آواز بھرا گئی۔ انہوں نے پوری قوت سے سوٹ پلنگ پر پھینکا جبکہ مرحا کو یوں لگا جیسے اس کے وجود کے پرخچے اڑا دیئے گئے ہوں۔
“ی یہ ک کیا کہہ رہی ہیں اماں؟ وہ تڑپ کر اٹھی اور شبانہ بی کے قریب چلی آئی۔ پھنسی پھنسی آواز میں بے یقینی کا تاثر واضح تھا!
کیوں تو تو یہی چاہتی تھی نا، پھر اتنی حیرت کس بات کی ہے تجھے؟ شبانہ بی نے کاٹ دار لہجے میں کہا
جبکہ وہ بستر پر ڈھے سی گئی۔ اسے پتہ تھا میر سالار محض اس سے بدلہ لینے کے لئے یہ کر رہا ہے۔ سوچتے ہوئے اس کا دل وحشتوں میں گھرنے لگا۔

اماں میری بات سنیں خدارا! اس نے واپس جاتی ہوئی شبانہ بی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں اس کا ہاتھ بری طرح سے جھٹکار دیا۔
مر گئی تیرے لئے تیری ماں! کٹھور لہجے میں کہہ کر وہ تیز قدموں سے باہر نکل گئیں جبکہ ایک بار پھر وہ بے آواز رو پڑی۔

               🤍🤍🤍🤍🤍

لال جوڑے میں، لمبے بالوں کی چوٹی بنائے، متورم بھیگی پلکوں، کانپتے ہونٹوں، و بخار کی شدت سے سرخ دہکتے عارض کے ساتھ وہ اس سادگی میں بھی غزب ڈھا رہی تھی۔ پاس ہی صغریٰ، شنّو، و جلابی بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ ایک کونے میں نم آنکھیں لئے شبانہ بی بیٹھی ہوئی تھیں۔

مردان خانے میں گواہان کی جگہ شموئیل شاہ، زائد شاہ، ابراہیم شاہ و عون شاہ موجود تھے جو کہ وہاج شاہ کا حکم تھا۔ باقی وہاج شاہ سمیت ان کے کسی بیٹے نے اپنی موجودگی ظاہر کرنا ضروری نہ سمجھی۔ باقی لڑکے بھی پتہ نہیں کدھر غائب تھے۔ نکاح خواہ و ان چاروں گواہان کی موجودگی میں اس نے قبولیت کی شرف دی اور دعا کے بعد بھرپور سنجیدگی سے اٹھ کر باری باری ان سب سے گلے ملا۔۔۔ وہ سارے بھی چپ چپ سے تھے۔ ان سے گلے ملنے کے بعد وہ حویلی کی جانب بڑھ گیا۔ اسے اپنے کچھ ضروری سامان لے جانے تھے، وہ لینے کے بعد وہ اپنے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اترا تو نظر فریدہ بیگم کے بند کمرے پر جا ٹھہری۔ مورے بھی اپنی خوابگاہ میں موجود تھیں۔ باقی لڑکیاں بھی اوپر تھیں، جبکہ حرم و عفاف کا بھی کچھ پتہ نہ تھا۔ سختی سے ہونٹ بھینچتے ہوئے وہ حویلی سے باہر نکل آیا۔

اس کے بعد انہوں نے جلابی کو نکاح خواہ کی آنے کی اطلاع دینے کو انیکسی بھیجا۔۔ وہ واپس لوٹی اور پیغام پہنچانے کی سند دے دی۔
نکاح خواہ نے اس کی رضامندی جاننا چاہی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ دل و دماغ عجیب سی اذیت کا شکار تھے۔ اوپر سے شبانہ بی کا رویہ اس کی الگ جان نکال رہا تھا۔ بمشکل اس کے منہ سے “قبول ہے؛ کے الفاظ نکلے۔ شموئیل خان وغیرہ نکاح خواہ کیساتھ کمرے سے باہر نکل گئے۔
جبھی راکھی چلی آئی۔۔۔ مرحا سمیت سب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔
اوئے شبانہ، میر سائیں کا حکم ہے کہ اس کو شہر لے کر جانا ہے اس لئے چھیتی باہر بھیج۔۔۔ اس کی بات سن کر مرحا کے ہوش و حواس اڑ گئے، اس کے برعکس شبانہ بی نے کوئی خاص ردِعمل پیش نہیں کیا۔ مارے گھبراہٹ کے مرحا کے ہاتھ پاؤں سن سے ہونے لگے جبکہ آنکھیں ایک بار پھر مینا برسانے لگیں۔
شبانہ بی نے سختی سے اپنے آنسوؤں پر بندھ باندھ کر اسے بستر سے اٹھایا اور ایک شال اس کے وجود کے گرد لپیٹ کر اسے انیکسی سے باہر لے آئیں۔

اماں میں مر جاؤں گی آپ کے بغیر، مجھے خود سے جدا نہ کریں اماں! اس کی آواز نوحہ کناں تھی۔ وہ زار و قطار رو رہی تھی۔
میری دعا ہے کہ تو خوش رہے، یہاں تبھی آنا جب سب تمہیں دلی طور پر قبول کرنے کو تیار ہو جائیں۔۔۔ اب جا۔۔۔ انہوں نے آنکھیں رگڑتے ہوئے آبدیدہ لہجے میں کہا اور اسے صغریٰ کے ہاتھوں میر سالار کی گاڑی تک بھیجا۔ صغریٰ بھی اپنی جگری سہیلی کی جدائی پر بہت ہی اداس تھی۔

وہ جیسے ہی گاڑی کی جانب بڑھا وہاج شاہ کو خود کی جانب آتے دیکھکر ٹھہر سا گیا۔
بات سنو میر، اس لڑکی کو بھی یہاں سے لے جاؤ۔۔ یہاں اس کے وجود کی کوئی ضرورت نہیں ہے! انہوں نے کرخت انداز میں کہا۔
اگر آپ نہ بھی کہتے دادا سائیں، پھر بھی مجھے اسے لے ہی جانا تھا۔ چلتا ہوں، اللّٰہ نگہبان۔۔۔ اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا اور محافظوں کو اشارہ کرتا خود گاڑی میں بیٹھ گیا، گاڑی سٹارٹ کر کے سختی سے ہونٹ بھینچے اس نے سٹرئینگ پر دونوں ہاتھ جمائے اور سامنے دیکھنے لگا۔ دوسری جانب فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ جبھی صغریٰ مرحا کو لے آئی اور اسے گاڑی کی سیٹ پر بٹھا دیا۔ مرحا کا دل دھک سے رہ گیا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل و بہتی آنکھوں سے اس نے چور نگاہوں سے میر سالار کو دیکھا تو اسے بھینچے ہوئے جبڑے و پتھریلے تاثرات کے ساتھ سامنے دیکھتے پایا۔ مرحا کا سانس خوف کے مارے حلق میں ہی اٹک گیا۔
گاڑی جیسے ہی حویلی کے گیٹ سے نکلی اس کے آنسوؤں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ شبانہ بی کا خیال آتے ہی وہ سسکیاں لینے لگی۔ وہ اپنی اب تک کی زندگی میں پہلی بار اپنی ماں سے اتنا دور ہوئی تھی۔ اس کا غم بجا تھا۔ مگر مقابل بیٹھے شخص کا غصّہ اس وقت آسمان سے کلام کر رہا تھا۔ اس نے ایک نگاہِ غلط بھی مرحا پر نہیں ڈالی تھی۔ دم بہ دم اس کی سسکیاں تیز تر ہوتی اب گاڑی میں گونج رہی تھیں۔
دونوں آستینوں کے کف فولڈ کئے، ماتھے پر بکھرے بال، سیاہ کرتہ و پاجامہ میں، کندھے پر شال ڈالے، بھینچے ہونٹوں سمیت وہ انتہا سے زیادہ رش ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ پیچھے اس کے محافظوں کی گاڑیاں بھی رواں دواں تھیں۔

ڈیم اٹ، بند کرو یہ رونا دھونا، ورنہ کھڑکی سے اٹھا کر باہر پھینک دوں گا تمہیں۔۔۔ اس کے رونے پر وہ قہر آلود آواز میں دہاڑا تو مرحا کے آنسو جیسے آنکھوں میں برف کی مانند جم گئے۔
اب اگر تمہارے رونے کی آواز آئی تو اپنا انجام بھی سوچ لینا۔۔۔ یہ رو دھو کر معصومیت کا ڈھونگ مت رچاؤ میرے سامنے انڈر سٹینڈ، اچھی طرح جانتا ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کے بارے میں۔۔۔ چبا چبا کر کہتے ہوئے اس نے اسپیڈ مزید بڑھا دی تھی۔ خوف کے مارے مرحا کی جان ہوا ہونے لگی۔ اس نے زخمی نظروں سے میر سالار کی جانب دیکھا جس کے چہرے کے پتھریلے تاثرات اس کے غصّے کی شدت کا پتہ دے رہے تھے۔

یہ بھی نہیں کہ ساتھ ہے میرے وہ ہم نفس

ایسا بھی نہیں کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص

جاری ہے