Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode ( Part 1)

اسے آساں سمجھ لینے کی دُھن میں
میں اپنے آپ مشکل ہو گیا ہوں!!
بہت پتّھر بنا ہوں ٹوٹنے کو
مگر ایک چوٹ سے “دل؛ ہو گیا ہوں!!
میری فطرت رہی ہے قتل ہونا
مگر مشہورِ قاتل ہو گیا ہوں!!
مجھے دریا سے ملنے کی حوس تھی
بکھر کر ریگِ ساحل ہو گیا ہوں!!
غُبارِ ہمسفر کے ساتھ رہ کر
پسِ محرابِ منزل ہو گیا ہوں!!

رات کا پچھلا پہر ہو چکا تھا، مگر نیند اب بھی اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ راکنگ چئیر پر بیٹھے بیٹھے اس نے یونہی رات گزار دی تھی۔ اپنی یہ اضطراری کیفیت اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ اب جب حالات اس کے حق میں سازگار تھے تب بھی وہ مضطرب تھا۔
دوسری جانب چونکہ بی جان تک یہ “خوشخبری؛ پہنچ چکی تھی سو ان کی خوشی عروج پر تھی۔ فون کے ذریعے ان کا آسیہ بیگم سے بھی رابطہ بحال ہو چکا تھا۔ آپسی مشورے سے دو ہفتے بعد کی ڈیٹ فکس کی گئی تھی۔ سب کچھ ویسا ہی چل رہا تھا جیسا وہ چاہتا تھا مگر ایک پھانس تھی جو اس کے سینے میں بری طرح سے پیوست ہو چکی تھی۔ اسے شک نہیں بلکہ کامل یقین تھا کہ زوفا محض اپنے والدین کی خواہش کی بنا پر اس رشتے پر راضی ہوئی ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں سے زوفا کا شِدت بھرا انکاری روپ دیکھا تھا پھر وہ یکلخت اس کے اس “اقرار؛ پر یقین کرتا تو بھلا کس بنیاد پر کرتا۔
میر سالار سے اس موضوع پر گفتگو ہونے کے بعد سے ہی وہ اس کنڈیشن کا شکار تھا۔ خوش ہونے کے برعکس اب اس کی ٹینشن میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔
“آپ نے ایسا کیوں کیا زوفا؟ مجھ سے ہمدردی اور رحم جیسے جذبے کی مرتکب ہو رہی ہیں آپ اور کچھ نہیں، مگر شاید آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مجھے اگر زندگی میں نفرت کسی چیز سے ہے تو وہ اسی سے ہے۔ آپ میری سنگت میں دلی طور پر خوش نہیں ہیں اس احساس کیساتھ میں اپنی ساری زندگی آپ کے ساتھ کیسے گزار سکوں گا۔ آپ کی دل آزاری کا احساس ہر پل ہر لمحہ مجھے احساسِ ندامت کے سمندر میں غوطہ زن کئے رکھے گا۔۔۔،، یہ آپ نے ٹھیک نہیں کیا زوفا شاہ، ہرگز نہیں، نہ ہی اپنے ساتھ اور نہ ہی میرے ساتھ۔۔۔،،، سرخ آنکھوں سمیت لب بھینچے وہ راکنگ چئیر پر جھولتے ہوئے کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے اس وقت ضبط کے آخری دہانے پر تھا۔ رات کی خاموشی میں بس ایک تنہائی ہی تھی جو اس کی غمگسار بنی ہوئی تھی۔ اس کے الاوہ اس کی لاتعداد سوچیں تھیں اور چار سو ایک ہو کا عالم تھا۔

                💜💜💜💜💜

مِرحا کی خوشی دیدنی تھی۔ زوفا کی شادی کیلئے وہ بہت ایکسائٹڈ تھی۔ آسیہ بیگم نے میر سے بالخصوص مِرحا کو بھی ساتھ لانے کو کہا تھا۔ ان کی تو خواہش تھی کہ مِرحا ابھی سے چھوٹی حویلی آ جائے مگر چونکہ شادی کی تیاریاں تن تنہا کرنا بی جان کیلئے قطعی ناممکن تھا اس بات کا خیال کرتے ہوئے میر سالار نے بی جان سے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ شادی کی شاپنگ کیلئے مِرحا کو بلاجھجک اپنے ساتھ لے جا سکتی ہیں باقی اور بھی کسی چیز میں اگر انہیں مِرحا کی مدد درکار ہے تو وہ ان کے لئے حاضر ہے۔ بی جان تو اس کی پیشکش پر نحال ہی ہو گئیں۔ انہیں واقعی کسی ایسے فرد کی ضرورت تھی جو اپنی مدد اور مشورے سے ان کا کام آسان کر سکے۔ ایسے میں میر سالار کا اتنا کئیرنگ انداز دیکھ کر ان کے دل میں اس کے لئے محبّت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ آج پہلا روز تھا جب مِرحا بی جان کیساتھ شاپنگ پر گئی تھی، اس نے اپنے لئے بھی کچھ ڈریسز لئے تھے جبکہ بی جان نے اس کے مشورے سے ضرورت کی کچھ چیزیں خریدیں تھیں۔ یہ کام چونکہ ایک روز میں تو ہونا نہیں تھا سو چند اشیاء کی خریداری کے بعد وہ کل دوبارہ آنے کے ارادے سے واپس ہو لی تھیں۔ بعد میں میر سالار کے ڈرائیور نے اسے بی جان کے گھر سے پِک کر لیا تھا۔
رات کے نو بجنے کو تھے۔ میر سالار موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے صوفے پر براجمان تھا۔ اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر وہ آئینے کے سامنے کھڑی صوفے پر بکھرے مختلف ڈریسز کو باری باری خود پر رکھتے ہوئے انہیں سیلیکٹ کرنے میں مصروف تھی۔
“سائیں، یہ دیکھیں یہ ڈریس مجھ پر اچھا لگ رہا ہے نا؟ اس نے مصروف سے لہجے میں کہتے ہوئے آئینے میں نظر آ رہے میر کے عکس کو دیکھا۔
“آپ جو بھی پہن لیں وہ آپ پر خوبصورت ہی لگتا ہے میری زندگی،،، اس کے سوال پر وہ موبائل ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا، اور پرشوق نظروں سے اسے دیکھا جو اس تعریف پر خوشی سے پھول کر کُپّا ہو چکی تھی۔
“سائیں آپ بھی مجھے ہر حال میں اچھے لگتے ہیں؛ اس نے نثار ہو جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا جو اس وقت بلیک کرتا اور شلوار میں ملبوس کندھوں پر شال ڈالے اپنے لمبے قد و قامت سمیت ہمیشہ کی طرح ایک عجیب سی دلکشی لئے ہوئے تھا۔
“اب میں نے تعریف کے بدلے میں تعریف کا تو نہیں بولا تھا جانِ من! وہ اپنی امڈتی مسکراہٹ ہونٹوں کے گوشوں میں چھپاتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرے کی لائٹ آف کرتے ہوئے وہ اس کی جانب بڑھ گیا۔ سائیڈ ٹیبل لیمپ کی روشنی میں مرحا نے جوں ہی مدھم سی روشنی میں آئینے میں اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھا فوراً ڈریسنگ روم کی جانب لپکی مگر تب تک وہ ایک جست میں اس تک پہنچ چکا تھا۔
“کہاں مسز؟ اس کے دھان پان سے وجود کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں موجود ڈریس کو صوفے کی جانب اچھال دیا۔ مرحا کے لئے اس کی جانب دیکھنا بھی دشوار ہو گیا۔
“چھوڑیں تب بتاتی ہوں؛ وہ نظریں جھکائے منمنا کر بولی۔
“ایسے بتانے میں کیا قباحت ہے؟ وہ اسے خود میں مزید بھینچ کر مسکراتی آواز میں بولا۔
“جس طرح آپ دیکھتے ہیں اس کے بعد بھی مجھ سے یہ سوال کر رہے ہیں؟ وہ ہونٹ سکوڑ کر بولی تو بیساختہ میر کا قہقہہ گونجا تھا اور وہ اپنی ہی بات پر جھینپ سی گئی۔
“کیسے دیکھتا ہوں میں زرا وضاحت فرمائیں گی اس کی؟ وہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا جو اب بلش کرنے لگی تھی۔
“میں نہیں بتا رہی؛ نروٹھے انداز میں کہتی وہ ایک بار پیچھے ہٹنے کی کوشش میں تھی کہ یکدم میر نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔
“لیکن میں تو بہت کچھ بتانا چاہتا ہوں اسپیشلی یہ کہ تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ وہ نہیں سنو گی؟ وہ شدت بھرے انداز میں اس کے رخسار پر مہر ثبت کرتا مخمور انداز میں بولا تو مرحا کے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ بکھر گئے۔
“سائیں، کل بی جان کیساتھ شاپنگ پر بھی جانا ہے نا؟ خود میں سمٹتے ہوئے اس نے بچاؤ کی آخری کوشش کی۔
“تو؟ اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکتے ہوئے میر نے اس کے دوسرے گال پر ہونٹ رکھ دیا۔
“آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں! وہ اس کی شال پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولی تو میر سالار نے ہولے سے ہنستے ہوئے لیمپ کی روشنی میں اس کا معصومیت سے بھرپور انداز دیکھا جو لرزتی پلکوں کیساتھ اس کے سینے پر نظریں جمائے ہوئے تھی جبکہ چہرہ شرم کی شدت سے سرخی مائل ہو رہا تھا۔
“جانتا ہوں؛ جذبات سے چور لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کے لرزتے ہوئے گلابی مائل شہد آگہیں لبوں پر جھک گیا ساتھ ہی سائیڈ لیمپ کی روشنی گُل کر دی۔

“ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے گویا سینے میں تجھے دل کی جگہ رکھا ہے؛ ❤️❤️❤️❤️❤️

گاؤں کے سرپنچ کی بیٹی کی شادی تھی پھر بھلا گاؤں بھر میں اس کی خبر کیوں نہ ہوتی، جوں ہی بڑی حویلی تک یہ خبر پہنچی مارے خوشی کے حرم کا برا حال ہو گیا۔ اس کے لئے تو یہ خبر کسی ہفتِ اقلیم سے کم نہ تھی جبکہ بقیہ سب کی شرمندگی و ندامت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وقت نے بازی پلٹی تھی اور سب کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔ بڑی حویلی کے کسی بھی فرد کو ماسوائے “سالار اور مرحا؛ کے اس شادی میں شرکت کے لئے دعوت نہیں دی گئی تھی۔ چونکہ سالار نے کال پر سائرہ بیگم کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ زوفا کی شادی اس کے عزیز ترین دوست حسن سے ہو رہی ہے سو اب یہ اہم خبر بھی بڑی حویلی والوں سے چھپی ہوئی نہ تھی۔
رفتہ رفتہ زوفا کے مایوں کا دن بھی آ گیا۔ چھوٹی حویلی میں بہت دنوں کے بعد خوشیاں اتری تھیں۔ سب کے چہرے حقیقی خوشی سے چمک رہے تھے۔ آسیہ بیگم و زکا صاحب کو کافی عرصے کے بعد ذہنی سکون نصیب ہوا تھا۔ ان دونوں کے دل بس زوفا کے دعا گو تھے۔
دوسری جانب مِرحا اور بی جان کی شاپنگ بھی آناً فاناً ہی سہی پر بالآخر مکمل ہو چکی تھی۔ مرحا نے اپنی خریداری بھی پوری کر لی تھی۔ اس کے لئے چھوٹی حویلی سے بلاوا تو خیر ایک ہفتے قبل ہی آ گیا تھا پر چونکہ اب خریداری کا کام بھی اختتام پر جا پہنچا تھا تو وہ اب گاؤں کے لئے روانہ ہو جانے کو تھی۔
میر سالار اسے خیر و عافیت سے حویلی پہنچا کر واپس شہر جانے کا ارادہ رکھتا تھا کیونکہ اسے بارات کے ساتھ گاؤں جو آنا تھا۔ ویسے بھی اس کی مصروفیات اسے گاؤں رکنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھیں۔ شہر میں رہ کر وہ اپنا کام بھی مکمل کر سکتا تھا اور پھر وہاں سے باآسانی بارات کے ساتھ شاہ پور کے لئے بھی روانہ ہو سکتا تھا۔ فلحال وہ گاؤں جا کر مورے کی بھی عیادت کر لینا چاہتا تھا کیونکہ وہ ان کی خبر گیری کو اب تک وہاں کا چکر نہیں لگا سکا تھا۔
مصروف تو حسن بھی بہت تھا مگر میر سالار ان مصروفیات کے دوران بھی اس کے اکھڑے موڈ کا اندازہ بخوبی لگا سکتا تھا مگر فلحال وہ اس سے اب اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب حسن بھی اس کی طرح مطمئن اور خوش باش ہوگا۔ فلحال وقت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اس معاملے میں خاموشی اختیار کئے رکھے!!

💙💙💙💙💙 “تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوں

چھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں؛

سکندر شاہ دونوں ہاتھوں میں درد سے پھٹتے ہوئے سر کو تھامے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ پچھلے دو روز میں اس کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ ابتری کا شکار ہو چکی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ آخر خود کو نارمل کس طرح کرے، بیقراری سی بیقراری تھی کہ کسی بھی پل سکون نہ تھا۔ جب سے اسے زوفا کی شادی کے متعلق خبر ہوئی تھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا اس کا وجود کسی بے جان پتنگ کی مانند ہوا میں ہی معلق ہو کر رہ گیا ہے۔ چھوٹی حویلی میں بجتے خوشی کے شادیانے اور ڈھولکیوں کی یہ آوازیں ہر پل ہر لمحہ اس کے اندر عجیب سا حشر پیدا کر رہی تھیں۔ اسے لگا وہ اگر مزید اس فضا میں سانس لے گا تو اس کا دم نکل جائے گا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب شہر کے لئے روانہ ہو جائے گا اسے تو ویسے بھی شادی کے ایک ہفتے کے بعد اپنے کام کے سلسلے میں شہر جانا ہی تھا سو اب وہ یہی بہانہ کر کے یہاں سے فوری طور پر نکل جانا چاہتا تھا۔ فلحال شہر سے بہتر جائے پناہ اس کے لئے کہیں نہ تھی۔
“ہائے سکندر سائیں آپ کب آئے مجھے تو خبر ہی نہ ہوئی؛؛؛ حرم کی چہکتی آواز پر وہ سر ہاتھوں سے اٹھائے سیدھا ہو بیٹھا تاہم اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ اس کی خاموشی پر حرم نے بغور اسے چبھتی نگاہوں سے دیکھا جو لب بھینچے نہ جانے کن سوچوں میں محو تھا۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے ایک ادا سے اس کے نزدیک آ بیٹھی۔
“سکندر سائیں، یہ ڈھولکی کی آواز تن من کو کس قدر سرور بخش رہی ہے نا؟ مجھے تو آج تک ڈھولکی کی آواز اتنی پیاری نہیں لگی جتنی آج لگ رہی ہے!!! دونوں گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ کمالِ اداکاری سے آہ بھرتے ہوئے بولی۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہوں حرم؟؟ سکندر شاہ نے سرخ آنکھوں کو مسلتے ہوئے اسے دیکھا جو ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“میرا مطلب دیکھیں نا، اب زوفا بھی اپنے گھر کی ہو جائے گی اس سے اچھی بات بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔ چلو جی بالآخر اس کا بھی گھر بس رہا ہے اب؛؛ میں تو بہت مطمئن ہوں۔۔،،؛ حرم نے گویا سکندر کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ اس کی بات پر سکندر شاہ نے لب بھینچ لئے اور بنا کچھ بھی کہے سامنے خالی دیوار پر نظریں ٹکا دیں۔
“سکندر سائیں، ایک بات تو بتائیں،، پچھلے دو روز سے میں آپ کو ضرورت سے زیادہ مضطرب پا رہی ہوں۔ خیر تو ہے نا؟؟ حرم نے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھ کر سوال پوچھا۔
“سب خیر ہے حرم، تمہارا وہم ہے یہ، میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔ بس کام کے سلسلے میں زرا پریشان ہوں مجھے کل شہر کیلئے نکلنا ہوگا۔ مزید تاخیر کی تو کام کا حرج ہوگا۔۔؛؛ اس کے دو ٹک انداز پر حرم کی پیشانی شکن آلود ہو گئی۔
“مطلب کیا ہے آپ کا ہاں؟ ابھی ابھی تو ہماری شادی ہوئی ہے اور آپ شہر چلے جانا چاہتے ہیں؟ میں یہاں آپ کے بغیر کیسے رہوں گی اس بارے میں سوچا ہے آپ نے؟ کہیں نہیں جا رہے آپ فلحال۔۔؛؛ وہ تنک کر بولی۔ لہجہ قدرے ہٹیلا اور حکم دیتا ہوا تھا۔ اس کے انداز پر سکندر شاہ کے چہرے پر سرد سا تاثر پھیل گیا۔
“مجھ سے اس انداز میں بات مت کیا کرو حرم، مجھے تمہارا یہ انداز قطعی ناپسند ہے۔ رہی شہر جانے کی بات تو وہاں تو میں ہر قیمت پر جاؤں گا۔ مزید اپنے کام کا زیاں نہیں کر سکتا میں۔ تمہیں ساتھ چلنا ہو تو چلو دوسری صورت میں اگر تمہاری مرضی نہیں ہے تو بیشک یہیں رہو، مگر میں اب مزید یہاں نہیں رک سکتا!!! وہ بھی دو ٹک لہجے میں کہتا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ حرم کے چہرے پر زہر آلود مسکراہٹ پھیل گئی۔
“یہ کام کا زیاں دو روز پہلے تک تو نہیں ہو رہا تھا سکندر سائیں، اب یکایک سے آپ کو سود و زیاں کا احساس ستانے لگ گیا ہے واہ!!! وہ داد و تحسین کے انداز میں ہاتھوں کو جنبش دیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ سکندر نے بڑی مشکل سے خود پر ضبط کیا اور محض مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
“مجھے اچھی طرح سے اندازہ ہے کہ تمہاری ان باتوں کا مطلب دراصل کیا ہے مگر میں تمہارے ساتھ بحث و مباحثے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں حرم۔۔،، بہتر ہوگا جتنی جلدی ہو سکے اس بات کا فیصلہ کر لو کہ تم نے یہاں رہنا ہے یا میرے ساتھ کل شہر کیلئے روانہ ہو جانا ہے!! چبا چبا کر کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔
“ہونہہ، بہت اچھا ہو رہا ہے کہ شادی ہو رہی ہے اس کی، ایک بلا ٹل جائے گی میرے سر سے۔۔،، آپ مجھے جتنا بیوقوف سمجھتے ہیں میں اتنی ہوں نہیں سکندر سائیں، اچھی طرح معلوم ہے مجھے کہ یہ بزنس کا چکر آپ کو شہر جانے پر مجبور نہیں کر رہا بلکہ وجہ وہ زوفا ہے جس کی دیوانگی آپ کو شہر جانے پر اکسا رہی ہے؛؛؛ دانت پیس کر سوچتے ہوئے وہ بیڈ پر آ بیٹھی۔ اس پل اس کے اندر ایک عجیب سی آگ لگی ہوئی تھی جو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

                 💚💚💚💚💚

آج وہ مِرحا کو گاؤں لے آیا تھا۔ مِرحا کو چونکہ چھوٹی حویلی جانا تھا سو شبانہ بی سے ملاقات کے بعد اس کا ارادہ وہیں جانے کا تھا، جبکہ میر سالار کی آج ہی شہر کے لئے واپسی تھی۔ وہ مِرحا کو یہاں تنہا چھوڑ کر قطعی یوں واپسی کے حق میں نہ تھا مگر آسیہ بیگم نے اسے ہر طرح سے یقین دلایا تھا کہ “وہ بے فکر ہو کر اسے چھوٹی حویلی چھوڑ جائے یہاں اسے کسی سے بھی کسی بھی طرح کا خطرہ لاحق نہیں ہوگا اس بات کی گارنٹی وہ خود لیتی ہیں؛؛ ان کی یقین دہانی پر ناچار میر سالار کو ان کی بات ماننا پڑی تھی۔
دوپہر کی کڑی دھوپ سر پر منڈلا رہی تھی جب وہ بڑی حویلی پہنچے۔ حسبِ معمول حویلی کی گہما گہمی اپنے جوبن پر تھی۔ وہ دونوں حویلی میں داخل ہوئے تو اچانک انہیں سامنے دیکھکر سب سرپرائزڈ ہو گئے۔ وہ سلام کرتا سائرہ بیگم کے گلے آ لگا تو انہوں نے اسے ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے ہوئے مِرحا کی جانب دیکھا جو مؤدب انداز میں نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
“مورے کہاں ہیں امیّ سائیں؟ اس سے پہلے کہ سائرہ بیگم کچھ کہتیں میر سالار کے سوال پر انہوں نے اسے مورے کا بتایا تو وہ مِرحا کے ہمراہ ہی مورے کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ سائرہ بیگم بھی اسی جانب ہو لیں۔
وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو سامنے بیڈ پر بے سدھ و لاغر پڑے وجود کو دیکھ کر دونوں ہی ساکت رہ گئے۔ میر سالار حقیقتاً دنگ رہ گیا تھا۔ مورے کی یہ حالت دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی شاہ بی بی ہیں جو اپنے آگے کسی کو کچھ بھی سمجھنے کی قائل نہ تھیں۔ اب وقت اور حالات نے انہیں ایسے پڑاؤ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں ان کا خود سے ایک قدم بھی چلنا محال تھا۔ مورے چونکہ آنکھیں بند کئے پڑی تھیں سو انہیں میر کی آمد کا پتہ نہیں چلا۔ سائرہ بیگم کے آواز دینے پر انہوں نے آنکھیں کھولیں تو سامنے کھڑے سالار کو دیکھکر وہ پہلے تو چند لمحے کچھ بول ہی نہ سکیں اور پھر ان کی آنکھوں سے گویا اشکوں کا ریلا بہہ نکلا۔ ان کی حالت پر میر سالار تاسف اور افسوس سے لب بھینچے انہیں دیکھ رہا تھا جو بے تحاشہ رونے میں مصروف تھیں۔
“میر دیکھو میری کیا حالت ہو گئی ہے۔ یہ سب میرے ہی گناہوں کی وجہ سے ہے۔ میں نے جن جن لوگوں کے دل دکھائے ہیں آج ان کی آہ مجھے کھا گئی برباد کر گئی؛؛ مورے آنسوؤں کے درمیان آہیں بھرتے ہوئے بولیں۔ ان کی حالت پر مرحا کی بھی آنکھیں نم سی ہو گئی تھیں۔
“وقت سب سے بڑا استاد ہے مورے، یہ وہ سبق سکھا دیتا ہے جو ہم ہزار کتابیں پڑھ کر بھی نہیں سیکھ سکتے؛ آپ کی یہ حالت دیکھکر مجھے واقعی بہت دکھ ہوا ہے اور سچ کہوں تو میں بے یقینی میں بھی مبتلا ہوں، مگر خیر جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے چاہے ہم یا آپ اسے روکنے کی لاکھ کوششیں بھی کیوں نہ کر لیں۔۔۔،، میر نے گہرا سانس بھرتے ہوئے یاسیت سے بھرپور انداز میں کہا۔ اسی اثناء میں وہاں حفضہ بیگم بھی آ گئیں۔
“تم صحیح کہتے ہو میر۔ ہونی کو بھلا کون ٹال سکتا ہے۔ جب سے مجھے ساری حقیقت علم ہوا ہے میں تو خود ندامت کی عمیق گہرائیوں میں جا گری ہوں۔ میں تو زوفا سے معافی کی خواہشمند تھی اور ابھی بھی ہوں اسی لئے میں چند روز قبل راکھی کے ساتھ چھوٹی حویلی بھی گئی تھی مگر مجھے وہاں جانے کا میرا جو مقصد تھا وہ پورا نہیں ہو سکا۔۔،، ان کی بات پر وہ سب چونک سے گئے اور پھر ان کی آخری بات پر مورے کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی۔
“اتنا سب کچھ ہونے کے بعد اب اس سے معافی تلافی کی امید رکھنا حماقت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ویسے بھی اب وہ میرے عزیز ترین دوست کی شریکِ سفر بننے جا رہی ہے۔ بہت اذیت ناک مراحل سے گزر کر یہ خوشیاں اسے نصیب ہوئی ہیں سو بہتر ہے جو جیسا چل رہا ہے چلنے دیا جائے۔۔!! میر کے دو ٹُک انداز پر حفضہ بیگم نظریں چرا کر رہ گئیں۔ مورے بھی بیچارگی کی تصویر بنی چپ رہ گئیں، پھر ان کی نظر خاموش کھڑی مِرحا پر جا پڑی جو خود بھی ان کی حالت پر کفِ افسوس ملتے ہوئے انہیں دیکھ رہی تھی۔ ان کو اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ سر جھکا گئی۔
“اپنی دولت اور رتبے کے زعم میں میں نے ہر ایک کو اپنے قدموں تلے کچلنا چاہا تھا۔ بیشک وہ میرا ایک بدترین فعل تھا۔ مجھے معاف کر دو مِرحا، میں نے تمہارے اور شبانہ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا یہاں تک کہ روشی کی سچائی سے پردہ اٹھ جانے کے بعد بھی میں نے تمہیں دل سے نہیں اپنایا اور نہ ہی شبانہ سے نرمی برتی۔۔،، شاہ بی بی نے اپنے لرزتے ہاتھ مرحا کے سامنے جوڑنے چاہے تو وہ یکدم بوکھلا گئی ساتھ ہی لپک کر ان کے دونوں ہاتھ تھام لئے۔
“یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں شاہ بی بی، ہم نے تو ساری زندگی آپ کا نمک کھایا ہے۔ رہی معاف کرنے کی بات تو وہ واقعہ تو میں کب کا بھول بھی چکی ہوں، اور میری اماں کو بھی کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ وہ میری خوشی میں ہی خوش ہیں۔ اس بار میں انہیں شہر اپنے ساتھ لے جانے کے ارادے سے آئی ہوں۔۔،، اس کا لہجہ دھیما و شائشتہ تھا۔ شاہ بی بی یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھیں۔
“تم شبانہ کو ساتھ کیوں لے جانا چاہتی ہو مرحا؟ اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ تم ناراضگی میں یہ سب کر رہی ہو!! مورے کے سوال پر مِرحا نے ایک نظر پشت پر ہاتھ باندھے سرد تاثرات کیساتھ کھڑے سالار کو دیکھا اور پھر مورے کی جانب دیکھا جو اسے ہی سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
“انہیں ساتھ لے جانے کی وجہ آپ سب سے ناراضگی نہیں ہے بلکہ میں تو چاہتی ہوں وہ میرے ساتھ رہیں۔ اس طرح مجھے بھی سکون رہے گا اور انہیں بھی۔ وہاں ان کے ہونے سے رونق بھی رہے گی۔۔، بس وجہ یہی ہے۔۔،، اس کی بات پر مورے سر ہلا گئیں۔
“بعض اوقات ہم جسے کیچڑ کی مٹّی سمجھ بیٹھتے ہیں، درحقیقت وہی چیز ہیرا ثابت ہوتی ہے۔۔ افسوس اس بات کی آپ کو سمجھ تو آ گئی مورے مگر وقت آپ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے!!! کمرے کی خاموشی میں سالار کی گھمبیر آواز گونجی۔ سب کی آنکھوں میں تائید اتر آئی مگر کسی کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ حالات کی گردش نے انہیں اپنے شکنجے میں اس بری طرح سے جکڑا تھا کہ اب سوائے ان کے پاس گریہ زاری و پچھتاوے کے کچھ بھی نہ بچا تھا۔

                🌸🌸🌸🌸🌸