Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

وہ جیسے جیسے قدم آگے بڑھاتا جا رہا تھا سسکیوں کی آوازیں اس سے قریب تر ہوتی جا رہی تھیں۔ میر سالار نے دروازے کے قریب پہنچ کر ادھ کھلے دروازے کو پیچھے دھکیلا تو اندر کا منظر دیکھ کر وہ چند ثانئے کو اپنی جگہ ساکت کھڑا رہ گیا۔
کمرے کی واحد کھڑکی کا ایک پٹ جو کہ اوپر سے کھلا ہوا تھا اس کی وجہ سے باہری روشنی کا عکس کمرے میں بھی پڑ رہا تھا۔ زوفا جو کہ اب پھر سے پہلے والی پوزیشن میں زمین پر پڑی ہوئی تھی، آہٹ پر لرز کر سیدھی ہوئی اور میر سالار پر نظر پڑتے ہی وہ بھی اپنی جگہ ساکن رہ گئی۔ اس سارے عرصے میں وہ اسے پہلی دفعہ یہاں دیکھ رہی تھی۔ اس کی حیرانگی واضح طور پر اس کے چہرے پر دکھائی دی رہی تھی۔

“سالار ادا۔۔۔۔۔،، وہ زیرلب بڑبڑائی تو یکایک میر سالار جیسے ہوش میں آیا اور بے یقینی سے اس تاریکی اور گھٹن زدہ کمرے میں نظریں دوڑاتا دوبارہ اسے دیکھنے لگا۔

آئی کانٹ بلیو دِز!! وہ وحشت زدہ لہجے میں خود سے کہتا اندر چلا آیا۔ لہجے میں بے یقینی کی گہری چھاپ تھی۔
زوفا تم یہاں اس حالت میں؟ بتاؤ کس نے کیا ہے تم پر یہ ظلم؟ وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس کے کمزور وجود کو کندھوں سے پکڑ بٹھاتے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگا۔ لہجہ بھینچا ہوا جبکہ آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں۔ زوفا جو کہ یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ بھی باقیوں کی طرح اسے اس کی حیثیت و مرتبے کی یاد دہانی کرانے آیا ہوگا اس سوال پر چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ تمام کے تمام زخم جیسے اس ایک سوال پر ہرے ہوگئے تھے۔ میر سالار کی نظریں اس کے زخموں سے نیلے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے پھٹے کپڑوں پر گئیں جہاں سے اس کے اندرونی زخم بھی واضح ہو رہے تھے۔ اس نے ضبط کی شدت سے آنکھیں میچ کر چہرے کا زاویہ دوسری جانب پھیر لیا۔ زوفا نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے اندر بولنے کی سکت ہی نہ تھی۔

“کیا سکندر کو تمہارا یہ حال معلوم ہے! خود پر بے تحاشہ ضبط کرتے ہوئے اس نے اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے زوفا کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ بے ساختہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ میر سالار کو اپنا جواب مل چکا تھا۔ وہ گہرا سانس بھرتے ہوئے تاسف سے سر ہلانے لگا۔ سکندر جیسے ویل ایجوکیٹڈ شخص سے اسے اس جاہلیت کی قطعی امید نہ تھی۔

“میری بات سنو زوفا، پلیز ڈونٹ کرائے، میں تمہیں یہاں سے آزادی دلاؤں گا۔ کب کیسے اس بات کی فکر نہ کرو۔ تمہیں تمہاری زندگی کی حقیقی خوشیوں سے روشناس نہ کرایا تو میرا نام بھی میر سالار نہیں۔۔!! یہ میرا وعدہ رہا تم سے۔۔۔!!! وہ مضبوط لہجے میں اس کی ہمت بندھاتے ہوئے بولا تو زوفا آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔ اسے لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔ اس زندان سے ازادی؟؟ مطلب اس کی یہاں سے آزادی ممکن تھی؟ اسے لگا خوشی کے احساس سے اس کا نازک سا دل بند ہو جائے گا۔

آپ س سچ کہہ رہے ہیں؟ اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔ چہرہ جیسے کھل اٹھا تھا۔
“میں غلط بیانی سے کام نہیں لیتا، سچ کہہ رہا ہوں! میر سالار نے اپنائیت سے اس کا ہاتھ تھتھپاتے ہوئے کہا تو بے اختیار زوفا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔
“آپ کا بہت شکریہ میر ادا،، خدا کیلئے مجھے اس عذاب سے نکال دیں۔ میں مزید یہاں رہی تو مر جاؤں گی۔ مجھے یہاں سے لے چلیں پلیز!!! وہ اذیت سے گھٹ گھٹ کر روتے ہوئے ہاتھ جوڑنے کو تھی کہ میر سالار نے اسے سر کے اشارے سے منع کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر علیحدہ کیا ساتھ ہی اس نے اس کے لاغر وجود کو پکڑ کر اٹھاتے ہوئے سامنے پڑی بوسیدہ سی پلنگ پر لا بٹھایا۔ اس کا زمین پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر اس کے وجود کے گرد اچھی طرح لپیٹتے ہوئے اس نے کمرے میں آس پاس نظریں دوڑائیں تو ایک چھوٹی سی ٹرے زمین پر پڑی نظر آ گئی۔ اس میں موجود کھانا دیکھکر میر سالار کا دل گویا آتشِ فشاں بن گیا۔ حد تھی سفاکیت و بے رحمی کی!! وہ سختی سے لب بھینچ گیا۔

“کچھ کھایا ہے! میر سالار نے اس سے پوچھا تو اس نے سر جھکاتے ہوئے آہستگی سے نفی میں سر ہلا دیا۔
“میں ابھی آیا! وہ اس سے کہتا ہوا اس زندان سے باہر نکل آیا اور راکھی کو اونچی آواز میں پکارا وہ سیکنڈ میں اس کے سامنے حاضر تھی

“جاؤ زوفا کے لئے کھانا لاؤ، اور ہاں کھانا وہی لانا جسے واقعی میں کھانے کا نام دیا جا سکے۔ فوراً جاؤ۔ اگر لیٹ ہوا تو تمہارا بہت برا حشر کروں گا۔۔۔!! وہ تیز لہجے میں بولا تو راکھی خوف کے مارے کپکپاتی ہوئی اندر کی سمت بھاگی جبکہ وہ وہیں کھڑا رہا تھا۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ دکھ اور افسوس کی عجیب سی کیفیت میں مبتلا تھا۔ اسے وہاج شاہ سے بے تحاشہ نفرت محسوس ہوئی، ساتھ ہی سکندر شاہ کی میٹیلٹی پر وہ جتنا افسوس کرتا کم ہی تھا!!!

کچھ ہی دیر میں راکھی کھانے کی دوسری ٹرے کیساتھ موجود تھی مگر اس بار پلیٹ میں پتلی دال و سوکھی روٹی کے بجائے بریانی موجود تھی۔ ساتھ ہی پانی کا گلاس بھی رکھا ہوا تھا! وہ شاید کافی چپکے سے کھانا لائی تھی جبھی ابھی تک چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میر سالار نے کڑے تیوروں سے اسے گھورتے ہوئے اندر کی جانب اشارہ کیا تو وہ جلدی سے ٹرے لے کر اندر چلی گئی۔ کھانے کی ٹرے پلنگ پر بیٹھی زوفا کے سامنے رکھتے ہوئے وہ زمین پر پڑی ٹرے اٹھائے باہر نکل گئی۔ اس کے جانے کے بعد میر سالار اندر داخل ہوا جبکہ زوفا ہاتھوں پر ہاتھ رکھے نہ جانے کس جہان میں گم تھی۔
“کھانا کھاؤ زوفا، پھر میرے ساتھ تم نے یہاں سے نکلنا بھی ہے؛ وہ اس کے کھوئے کھوئے انداز کو نوٹ کرتا کھانے کی جانب اس کی توجہ مرکوز کراتے ہوئے بولا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

“میر ادا،، کیا آپ مجھے حویلی چھوڑیں گے؟ اس نے دل میں پنپنے سوال کو زبان دی۔
“نہیں!! تم کھانا کھاؤ آرام سے،،، میں آتا ہوں کچھ ٹائم میں!! وہ مختصراً کہتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر کے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ زوفا کچھ حد تک پرسکون سی ہو گئی تھی۔ فلحال وہ دل ہی دل میں خود یہی چاہتی تھی کہ وہ ابھی حویلی نہ جائے وگرنہ وہاج شاہ سمیت بقیہ تمام بڑی حویلی والے چھوٹی حویلی کا جینا حرام کر دیتے۔ بے اختیار اوپر والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ سی گئیں جس نے میر سالار کو اس کی مدد کا ذریعہ بنایا تھا۔ چھوٹے چھوٹے نوالے لیتے ہوئے وہ آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگی۔
میر سالار سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یکایک کچھ سوچتے ہوئے وہیں سیڑھیوں پر رک گیا۔ جینس کی پاکٹ سے فون نکالتے ہوئے اس نے سکندر شاہ کا نمبر ملایا۔
دو تین رنگ کے بعد دوسری جانب سے سکندر شاہ کی آواز ابھری۔

“ہاں سالار بولو! سکندر شاہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
“میں اپنے روم میں ہوں تم مجھے وہیں آ کر ملو! تم سے اہم گفتگو کرنی ہے! وہ نپے تلے لہجے میں کہتے ہوئے بنا دوسری جانب کی سنے فون کٹ کر کے بقیہ ماندہ سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

               🌸🌸🌸🌸🌸

کیا بات ہے سائرہ ایسے کیوں بیٹھی ہو؟ زیشان شاہ کمرے میں داخل ہوئے تو سائرہ بیگم سمیت عفاف کو غمگین حالت میں بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر ان کے نزدیک آ بیٹھے۔

“میر کی وجہ سے پریشان ہوں! انہوں نے افسردہ انداز میں کہا تو زیشان شاہ کے ہونٹوں پر استہزائیہ مسکراہٹ آ گئی۔

“ہونہہ اس نے جو ہمیں پریشان کر کے رکھا ہوا ہے اپنی حرکتوں سے اس کا کیا؟ کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے غم میں خود کو ہلکا کرنے کی۔۔!! خود تو ایک دو ٹکے کی چھوکری سے نکاح کر کے اس نے خاندان کی عزت ملیامیٹ کر دی۔ اور اب بابا سائیں کا بھی دوبدو جواب دینے پر اتر آیا ہے وہ۔۔۔ خبردار جو آئیندہ اس کے لئے آنسو بہائے کسی نے! انہوں نے بپھر کر کہا ساتھ ہی ہاتھ اٹھا کر دونوں کو وارن کیا تو وہ دونوں بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔

‘لیکن بابا سائیں، ادا اتنے دنوں بعد آیا ہے ہو سکتا ہے وہ کل چلا بھی جائے۔ پچھلی بار بھی سب اس سے ناراض تھے اور اس بار بھی۔۔۔ٹھیک ہے انہوں نے جو کیا وہ غلط تھا مگر ایسے؛؛ عفاف روہانسی ہو کر مزید کچھ بولنے کو تھی کہ زیشان شاہ کی کڑی نظروں پر بے ساختہ چپ کر گئی۔

“میں نے کہہ دیا نا کہ اس کے بارے میں مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔ تم دونوں تو یوں اس کا دفاع کر رہی ہو جیسے بہت اچھے کارنامے کئے ہیں اس نے! انہوں نے طنز کے تیر چلائے۔
“ماں ہوں میں، اولاد کیلئے دل کا دکھنا فطری عمل ہے آپ سمجھتے کیوں نہیں؟ سائرہ بیگم نے احتجاجاً کہا۔

“کچھ سوچنا سمجھنا نہیں ہے مجھے، میں سونے جا رہا ہوں بہتر ہے تم دونوں بھی اب آرام کرو! وہ سپاٹ لہجے میں کہہ کر بیڈ سے اٹھتے ہوئے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئے جبکہ عفاف گہرا سانس بھرتی اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ سائرہ بیگم بھی پیشانی مسلتے ہوئے سونے کیلئے لیٹ گئیں!!!

                ❤️❤️❤️❤️❤️

کیا میں اندر آ سکتا ہوں سالار؟ سکندر شاہ نے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے پوچھا تو اس نے ہنکارا بھرا۔ وہ اندر داخل ہوا تو دیکھا میر سالار شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے کھڑکی میں کھڑا حویلی کے وسیع و عریض لان پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔

“کیا بات ہے سالار سب خیریت تو ہے؟ سکندر نے بغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو میر سالار نے اپنی سرخ جلتی ہوئی آنکھیں پھیر کر اسے دیکھا۔

“ایک بات بتاؤ سکندر! اگر شموئیل ادا نے صارم کا قتل کیا ہوتا اور بدلے میں زارا کو زوفا کا اگرچہ کوئی دوسرا بھائی ہوتا اور اس کے نکاح میں بطورِ ونی دے دیا جاتا۔ وہاں اس کے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو یہاں زوفا کے ساتھ ہو رہا ہے تو تمہارا کیا ردِعمل ہوتا؟ وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے جانتچتی آنکھوں سے سکندر شاہ کو دیکھتے ہوئے اس کے روبرو آ کھڑا ہوا۔ سکندر شاہ کا چہرہ نہ جانے کس احساس سے سرخ ہو گیا۔
“میرا بھائی ہرگز اتنا بیغیرت نہ تھا جو اس قسم کی کسی گستاخی کا مرتکب ہوتا۔ یہ کام صرف وہ مردود ہی کر سکتا ہے! وہ چبا چبا کر بولا۔

“تم نے جواب درست نہیں دیا پیارے! میں نے تم سے پوچھا ہے کہ تمہارا ری ایکشن تب کیا ہوتا جس طرح میں فرض کر رہا ہوں اسی طرح تم بھی فرض کرو تو شاید تمہارے لئے میرا جواب دینے میں کچھ آسانی پیدا ہو! میر سالار ابرو اچکا کر جتانے والے انداز میں کہا تو سکندر شاہ نہ جانے کیوں اس پل نظریں چرا گیا۔ میر سالار کی زیرک نگاہوں ابھی بھی اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔

“کیا ہوا سکندر شاہ! اتنا مشکل سوال تو نہیں ہے میرا! سالار نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا تو سکندر شاہ اسے خاموشی سے دیکھنے لگا۔

“تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے میر؟ اس نے بات بدلتے ہوئے پوچھا تو میر سالار پلٹ کر دوبارہ کھڑکی میں جا کھڑا ہوا۔
“تمہیں پتہ ہے آج میں نے زوفا کو دیکھا ہے اور جس حالت میں دیکھا ہے مجھے حقیقتاً دھچکا لگا ہے۔ میں نے سب کے ساتھ ساتھ تمہارے ضمیر پر بھی فاتحہ پڑھ لی ہے سکندر! میر سالار نے بھاری آواز میں کہتے ہوئے سرخ آنکھوں سے سکندر شاہ کو دیکھا۔ سکندر شاہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔

“جو لڑکی تمہارے نام سے منسوب کرا کے اس حویلی میں لائی گئی ہے تم اس کے حالات سے واقف ہو کر بھی اس سے ایسا رویہ اپنائے ہوئے ہو تو میں تمہیں شاباشی تو نہیں دے سکتا جبکہ تم جانتے بھی ہو کہ وہ بے قصور ہے۔۔! میر نے دوسرا وار کیا۔

“دیکھو میر! اس کے بھائی نے میرے بھائی کا قتل کیا ہے۔ وہ لڑکی ونی ہو کر یہاں آئی ہے تو پھر ظاہر ہے حویلی کے روایات کے مطابق اس کے لئے یہی سزا بنتی ہے! سکندر شاہ نے بے حسی سے کہا تو میر سالار کی آنکھیں مزید خون چھلکانے لگیں۔

“تمہیں پتہ ہے وہاج شاہ کی جگہ میں اگر جرگے کا سرپنچ ہوتا تو یہ ایسا فیصلہ ہرگز نہ کرتا جو کسی مظلوم و معصوم کو جیتے جی مار دینے کا سبب بنے۔ یہ وہی زوفا ہے سکندر جس کا بچپن ہمارے ساتھ گزرا ہے۔ جس نے اس گھر کی فضاؤں میں سب کے ساتھ قہقہے بھی لگائے ہیں۔ جس کا ماضی سے لے کر مستقبل سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔ اور آج اس کے ساتھ اس قدر انسانیت سے مبرّا سلوک؟؟ میں محض افسوس ہی کر سکتا ہوں! وہ نفی میں ہلکے سے سر ہلاتے ہوئے خطرناک حد تک سنجیدہ لگ رہا تھا۔ سکندر شاہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔

“تم جانتے ہو میں حرم سے محبّت کرتا ہوں میر! میں اس کی محبت میں بے بس ہوں! میں تو خود چاہتا ہوں کہ جلد از جلد وہ صارم شاہ ملے تا کہ میری اس بوجھ سے جان چھوٹے! سکندر شاہ نے جھلاتے ہوئے کہا لہجے میں بیزاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

“محبّت کا دوسرا نام بے بسی ہے۔ مانتا ہوں! مگر مردانگی کا دوسرا نام بزدلی ہرگز نہیں ہونا چاہئے سکندر شاہ! واٹ یو سے؛؟ میر سالار نے اس بار کاری وار کیا تھا سکندر شاہ چپ کا چپ رہ گیا، البتہ چہرے کے تاثرات دیکھنے لائق تھے۔

“اب آتا ہوں اصل بات کی جانب، جس کے لئے تمہیں یہاں بلایا ہے۔ نہایت سوچ سمجھ کر مجھے اپنے جواب سے آگاہ کرو فوری طور پر! تمہارے سامنے دو آپشنز رکھتا ہوں۔ یا تو اسے حرم کے ساتھ ساتھ باعزت طور پر اپنا لو یا پھر اسے طلاق دو! میر سالار نے دو ٹک بات کی

میں اسے اپنا نہیں سکتا یہ قطعی ناممکن ہے، لیکن میں اسے فلحال طلاق بھی نہیں دے سکتا کیونکہ میں جرگے میں ہوئے فیصلے کا پابند ہوں! سکندر شاہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

صارم شاہ کہاں ہے اس کا پتہ تو اب میں لگاؤں گا۔ فلحال میں اسے لے کر یہاں سے جا رہا ہوں۔ سب کچھ کلئیر ہونے کے بعد تم بآسانی طلاق کے پیپرز پر سائن کر دینا یہی اس کے حق میں بہتر ہوگا۔ اب تم جا سکتے ہو!! میر سالار نے سلگتے ہوئے لہجے میں کہا تو سکندر شاہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلا کر واپسی کیلئے پلٹ گیا۔

“بات سنو سکندر، یہ بات محض تمہارے اور میرے مابین ہی رہنی چاہئے۔ بعد میں سب کو پتہ چلے تو بیشک چلتی رہے۔ مجھے ہرگز کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ فلحال اسے لے کر یہاں سے نکلنے تک امید ہے کوئی شور شرابہ نہیں ہوگا! میر سالار نے سنجیدگی سے کہا تو سکندر شاہ نے گردن موڑ کر ہامی بھرنے والے انداز میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ پیچھے میر سالار گہرا سانس بھرتے ہوئے بیڈ پر ڈھے سا گیا۔ اس کی تھکان مزید کئی گناہ بڑھ چکی تھی۔

              🥀🥀🥀🥀🥀 

رات کے بارہ بجنے کو تھے۔ پوری حویلی میں خاموشی کا راج تھا۔ چند گھنٹوں کی نیند کے بعد اب وہ قدرے فریش ہو چکا تھا۔ وہ سائرہ بیگم سے ملاقات کے ارادے کے کمرے سے نکلا۔ یوں تو پہلے اس کا ارادہ یہاں سے ایک رات گزارنے کے بعد ہی جانے کا تھا مگر وہ اب مزید دیر نہیں کر سکتا تھا۔
سائرہ بیگم کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ وہ یقیناً سو چکی ہونگی۔ وہ مایوس ہوتے ہوئے واپس پلٹا اور عجلت میں حرم و عفاف کے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ ادھ کھلے دروازے سے بیڈ پر ان کے بے خبر سوئے ہوئے وجود کو دیکھتے ہوئے وہ کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے تیزی سے وارڈروب کی جانب بڑھا اور جو بھی سوٹ اس کے ہاتھ آیا اسے وہاں سے اٹھا کر وہ دروازہ بھیڑ کر باہر نکل گیا۔ تاہم ان دونوں کی نیند میں زرا سا بھی خلل پیدا نہیں ہوا تھا۔

سیڑھیاں اتر کر اس نے زندان کا رخ کیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا شاید زوفا اسی کے انتظار میں تھی۔ اسے اندر داخل ہوتا دیکھکر وہ پلنگ سے بمشکل اٹھ بیٹھی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے خوف بھی چھلک رہا تھا۔ شاید وہ آگے کی سچویشن کا سوچ کر خوف زدہ تھی۔ کھانا بھی اس نے برائے نام ہی کھایا تھا۔

“اسے پکڑو زوفا اور فوری طور پر چینج کر کے باہر آؤ! وہ اسے سوٹ پکڑاتے ہوئے بولا تو وہ سوٹ لئے اپنے وجود کو گھسیٹتے ہوئے واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
میر سالار نے فرسٹ ایڈ باکس سے پین کلرز بھی لے کر رکھ لی تھیں۔ اس کا ارادہ وہاں پہنچ کر اسے کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھانا تھا۔ اس علاقے میں وہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جانا چاہتا تھا۔

تھوڑی دیر میں وہ چینج کر کے نکلی تو وہ جو کمرے کے دروازے کے پاس منتظر کھڑا تھا اسے پین کلرز تھما دیں۔ زوفا نے گلاس میں رکھے پانی سے پین کلرز نگل لیں۔ اس دوران میر سالار فون پر مصروف رہا۔
دوپٹہ خود کے گرد اچھی طرح پھیلا کر زوفا نے میر سالار کو دیکھا تو اس نے موبائل پاکٹ میں رکھتے ہوئے اسے باہر آنے کا اشارہ کیا۔
لرزتے قدموں سے وہ اس کے پیچھے باہر نکل گئی۔۔ یہاں سے حویلی کے گیٹ تک اچھا خاصا وقفہ درکار تھا۔ وہ خود کو سنبھالنے بمشکل چلتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل آئی۔ میر سالار گاڑی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی جبکہ زوفا کیلئے پچھلا دروازہ کھلا ہوا تھا تا کہ وہ لیٹنا بھی چاہے تو لیٹ سکے۔ سفر چونکہ لمبا تھا اور اتنا لمبا سفر اس کے لئے بیٹھے بیٹھے ہی کاٹنا انتہائی مشکل تھا۔ اپنا چہرہ اس نے دوپٹے کی اوٹ میں قدرے چھپا رکھا تھا۔

میر سالار کے محافظین بھی اس کے لئے تیار کھڑے تھے۔ انہیں اشارہ کرتے ہوئے اس نے گاڑی سٹارٹ کی۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی گاؤں کے بیرونی راستے کی سمت رواں دواں تھی۔ زوفا باہر کے تاریکی بھرے نظارے میں گم ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔ وہ وہاں سے نکل آئی تھی اسے اس بات پر یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ اس کے پیچھے نہ جانے کیا حشر برپا ہوگا۔ سوچتے ہوئے اس نے میر سالار کو دیکھا جو سنجیدگی سے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔
وہ جتنا سالار کا شکر ادا کرتی کم تھا۔ تشکر کے احساس سمیت اس کی آنکھیں بھیگ گئیں مگر دل انجانی خوشی و خوف دونوں کے احساس سے لرز رہا تھا۔

              🧡🧡🧡🧡🧡

رات کے تقریباً سوا تین بجنے کو تھے جب وہ فارم ہاؤس پہنچا۔ زوفا جو کہ دورانِ سفر تھوڑا سو لی تھی مگر اب مکمل طور پر جگی ہوئی تھی۔
وہ گاڑی سے اترا تو وہ بھی دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے باہر نکل آئی اور اطراف میں سہمی سہمی نظروں سے دیکھتے ہوئے فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوئی۔
اسے لئے وہ لابی میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر میر سالار کی آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی۔

وہ نئی نویلی ملازمہ کیساتھ نیم دراز پاپ کارن ٹھونستے ہوئے ٹی وی پر چلتی کسی ہارر مووی کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے میں مصروف تھی۔ زوفا بھی حیرت سے مرحا کو دیکھ رہی تھی۔ میر سالار و مرحا کے نکاح کے فوراً بعد ہی تو شموئیل شاہ کے قتل کا واقعہ پیش آ گیا تھا سو اس کے بعد جو آفت زوفا پر نازل ہوئی تھی اسے اپنی خبر نہ تھی کجا کہ وہ اس قسم کی باتوں پر دھیان دیتی۔ چھوٹی حویلی کی ایک ملازمہ کی باتیں اڑتے پڑتے اس کے کانوں تک بھی پہنچی تھیں مگر آج اس کی صداقت پر اسے یقین آ گیا تھا۔ تو گویا سچ میں اب مرحا میر سالار کی بیوی تھی۔ زوفا نے خوشگوار حیرت مرحا کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

وہ دونوں اس قدر مووی میں گم تھیں کہ انہیں ان کی آمد کی خبر تک نہ ہو سکی۔ میر سالار نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے گلہ کھنکھارا تو وہ دونوں جو پہلے ہی ہراساں بیٹھی ہوئی تھیں۔ بیساختہ ان کی حلق سے زوردار چیخیں نمودار ہوئیں۔ مرحا کے ہاتھ سے ریموٹ اچھل کر دوسری جانب جا گرا جبکہ وہ خود اچھل کر کاؤچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ میر سالار نے بے ساختہ زوردار قہقہہ لگایا جبکہ اب وہ آنکھیں پھاڑے میر سالار کو دیکھ رہی تھی۔ تاہم اس کا دھیان پیچھے کھڑی زوفا پر ابھی نہیں گیا تھا۔

“سائیں آپ، اللّٰہ یہ سچ ہے نا؟ آپ تو کل آنے والے تھے نا؟ وہ بائیں ہاتھ کی مٹھیوں سے آنکھیں مسلتی ہوئی بولی مبادا وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔ مگر نہیں وہ تو مجسم اس کے روبرو کھڑا تھا۔
وہ بیقرار سی تیزی سے آگے بڑھی اور اس کے ساتھ آ لگی۔ ملازمہ یوں آنکھیں بند کئے کھڑی تھی جیسے اس پل اس کیلئے آنکھیں کھولنا گناہِ کبیرہ میں شامل ہوتا ہو! زوفا نے بھی نظریں جھکا لیں۔ جبکہ میر سالار نے اسے خود سے علیحدہ کرنا چاہا مگر اس نے بائیں ہاتھ سے مزید اس کے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے اس کے سینے میں چھپا لیا۔

“قسم سے سائیں، آپ کو بہت یاد کیا میں نے! شکر ہے آپ آ گئے۔ میں بہت خوش ہوں سچی! وہ خوشی سے لبریز آواز میں بولی تو میر سالار نے جذب سے اس کے بالوں پر ہونٹ رکھ دیئے۔ اس پل وہ بھی جیسے سب کچھ بھولنے لگا تھا۔ رگ و پے میں ایک عجیب سا سکون سرائیت کرنے لگا۔ مرحا کا نرم و گداز سا سراپا الگ اس کے وجود میں ارتعاش پیدا کرنے لگا۔ بے ساختہ اس نے اسے خود میں مزید بھینچ لیا ساتھ ہی اس کی پیشانی چومتے ہوئے اسے خود سے علیحدہ کیا جبھی مرحا کو اس کے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس کے لمبے قد کے باعث وہ اس ہستی کو نہ دیکھ سکی اس لئے دوسری جانب سے گھوم کر وہ جیسے ہی سامنے آئی اپنے مقابل کھڑی زوفا کو دیکھکر حیرت کی زیادتی سے اس کی چیخ نکل گئی۔ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بے یقینی سے زوفا اور اس کے حال کو دیکھ رہی تھی۔

“زوفا بی بی آپ یہاں؟ اللّٰہ خیر کرے، یہ آپ کو کیا ہوا ہے زوفا بی بی؟ منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے وہ روہانسی ہو کر کہتی زوفا کی جانب لپکی اور اسے گلے سے لگا لیا۔

جاری و ساری ہے