No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
وہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک جنون کی داستان تھی جو لفظوں کے ذریعے اس ڈائری کے اوراق پر رقم کر دی گئی تھی۔ بمشکل چند صفحات پڑھنے کے بعد اس نے بھینچے ہوئے تاثرات کیساتھ ڈائری بند کی۔ دل و دماغ ایک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھے۔
وہ لرزتے قدموں سمیت اٹھی اور ڈائری بیگ میں رکھ کر بیڈ پر ڈھے سی گئی۔
کیوں زوفا؟ تم نے کیوں کیا ایسا؟ تم سکندر سائیں سے میری محبّت کی شدّت پسندیدگی سے اچھی طرح واقف تھی، پھر تمہاری جرت کیسے ہوئی کہ تم میری محبّت کے بارے میں اس طرح کے خیالات رکھو،،، میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں!!
آنسو پونچھتے ہوئے وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اٹھا لیا۔ غم و غصّے سے اس کا برا حال تھا۔ زوفا کے نمبر پر کلک کرتے ہوئے کسی خیال سے اس کے ہاتھ رک گئے، ایک طنزیہ مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کر لیا۔
“میں کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہوں بھلا، جبکہ مجھے پتہ ہے کہ سکندر سائیں صرف میرے ہیں۔ انہیں مجھ سے زوفا تو کیا کوئی بھی نہیں چھین سکتا کوئی بھی نہیں۔ اس لئے میں تم سے کوئی بازپرس نہیں کروں گی زوفا، لیکن معاف کرنا، اب چاہ کر بھی میں تم سے پہلے کی طرح نہیں رہ سکتی کیونکہ تم نے میرے ساتھ خیانت کی ہے،، تمہیں کبھی معافی نہیں ملے گی سمجھی تم؛؛ وہ پتھریلے تاثرات کیساتھ سوچتی ہوئی ہسٹریک ہو رہی تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸
آج مدرسے میں اس کا رتی برابر بھی دل نہ لگا تھا۔ دل عجب کشمکش میں مبتلا جبکہ وہ خود بھی کافی پریشان حال تھی۔ اس کی سہیلیوں نے کئی مرتبہ اس کی غائب دماغی نوٹ کی پر وہ ٹال گئی، مگر حقیقتاً اس کا دل ایک انجانے خوف سے لرز رہا تھا۔
مدرسے سے واپس آنے کے بعد سب سے پہلے وہ حویلی گئی تا کہ شبانہ بی کو اپنی شکل دکھا کر مطمئن کر سکے، وگرنہ وہ پریشان ہو جاتی تھیں، کیونکہ وہ کام کے دوران بار بار انیکسی کے چکر نہیں لگا سکتی تھیں۔ انہوں نے اسے چینج کر کے ریسٹ کرنے کا کہا تو وہ انیکسی چلی آئی۔ بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی وہ پلنگ پر آ بیٹھی اور سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
یا اللّٰہ،، میری مدد کر، مجھے کوئی راستہ دکھا! میں کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا! بے اختیار اوپر والے سے مدد طلب کرتے ہوئے بے بسی سے اس کی آنکھوں میں نمی در آئی۔ وہ نہ جانے کب تک اسی زاوئیے پر بیٹھی رہتی کہ دروازے پر انگلیوں کی ٹک ٹک پر چونک کر سر اٹھایا تو جیسے اپنی جگہ جم سی گئی۔ دروازے پر روشانے عجیب سی پر اسرار مسکراہٹ سمیت کھڑی تھی۔ مرحا کے رگ و پے میں جیسے ایک خوف سا سرائیت کر گیا۔ وہ ہڑبڑا کر پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ر، روشی بی بی آپ یہاں؟ اس کے لڑکھڑاتے لہجے میں حیرت رچی بسی تھی۔ حویلی کسے کسی بھی فرد کی یہاں موجودگی اس کے لئے باعثِ حیرت ہی ہو سکتی تھی۔
کیوں کیا میں یہاں نہیں آ سکتی؟ بھول گئی ہو کیا کہ تم لوگوں کے لئے یہ جو انیکسی ہے، یہ بھی بڑی حویلی کی ہی کرم نوازیاں ہیں تم لوگوں پر!! وہ ٹھہر ٹھہر کر جتانے والے انداز میں کہتی اندر داخل ہو گئی جبکہ تیکھی نظریں مرحا کے چہرے پر ہی دوڑ رہی تھیں۔
ن نہیں روشی بی بی، میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔ ہماری یہ سوچنے کی مجال کیا ہے بھلا!! اس نے نظریں جھکاتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ روشانے عجیب سے تاثرات کیساتھ کمرے کا معائنہ کرنے لگی اور پھر اسے دیکھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
کافی پریشان حال لگ رہی ہو، ایسا لگتا ہے کہ تمہاری بہت قیمتی چیز گم گئی ہے اور وہ مل کے نہیں دے رہی کیوں صحیح کہہ رہی ہوں نا؟ اس کے چبھتے ہوئے لہجے پر مرحا بے اختیار اس کو دیکھنے لگی، دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
ک کیا مطلب روشی بی بی؟ میں کچھ سمجھی نہیں!! بمشکل تھوک نگلتے ہوئے اس نے بات پوری کی، نہ جانے کیوں اسے روشانے کا ہر انداز بہت عجیب و پر اسرار لگ رہا تھا۔
واہ بھئی واہ، یعنی کہ اب تمہیں مطلب بھی میں ہی بتاؤں؟ یہ تو پتہ تھا کہ معصوم ہو، لیکن اس حد تک بیوقوف بھی ہو اس کا علم آج ہوا ہے؛؛ وہ کاٹ دار آواز میں بولی۔ مرحا کا چہرہ اندرونی خلفشار کے باعث سرخ سا ہونے لگا۔ جبھی روشانے نے اپنے ہاتھ میں پکڑا موبائل آن کیا اور ایک تصویر اوپن کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے کی جسے دیکھکر مرحا کے سر پر گویا پہاڑ گر پڑا۔ خوف و ہراس سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ ساکت سی موبائل کی سکرین کو دیکھ رہی تھی جہاں وہ میر سالار کی پیشانی پر جھکی بوسے لے رہی تھی۔ اس کا مطلب اس کی وہ تصویر بھی روشی نے ہی لی تھی، آخر کیوں وہ اس کی تصویر کیساتھ کیا کرنے والی تھی؟ اس سے آگے اس کا ذہن سوچنے و سمجھنے سے قاصر تھا۔
حیران تو ضرور ہوئی ہوگی تم کہ یہ راز آخر مجھ تک کیسے پہنچا ہے نا؟ روشانے نے اس کے تاثرات سے حظ اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ یکایک جیسے ہوش میں آئی اور تڑپ کر اس کے ہاتھوں سے موبائل لینا چاہا مگر اس نے ہاتھ پشت پر کر لیا۔
نا،، جرت بھی مت کرنا! اپنی اوقات میں رہو سمجھی! میرے پاس صرف یہ ہی نہیں بلکہ یہ بھی موجود ہے؛؛؛ اس نے بائیں ہاتھ کی مٹھی میں دبا رومال اس کے سامنے کیا تو مارے دہشت کے مرحا کو جیسے غشی سی آ گئی۔ وہ اپنی جگہ ساکن پتھر بنی کھڑی تھی۔ روشانے اب اسے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کے اطراف چکر کاٹنے لگی؛؛
وہ تو بھلا ہو میرے امتحانات کا، جس کی تیاریوں میں میں نصفِ شب تک جاگتی رہتی ہوں، اور پھر میرے ہاتھ یہ دلچسپ منظر کیپچر کرنے کا سنہری موقع آ گیا۔ خیر تمہیں کیسے خبر ہوگی، تمہیں تو عشق کے امتحانات ہی دینے سے فرصت نہیں ہے۔ کیوں صحیح کہہ رہی ہوں نا؟ اس کا بازو اپنے شکنجے میں بے دردی سے دبوچتے ہوئے اس نے چبا چبا کر پوچھا تو تکلیف کی شدت سے مرحا کی آنکھیں بھر آئیں۔
روشی بی بی خدا کیلئے رحم کریں مجھ پر، میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں روشی بی بی خدارا مجھے ان مشکلات میں نہ ڈالیں!! اس نے گڑگڑاتے ہوئے کہا، آواز جیسے ڈوب رہی تھی۔ چہرہ خون چھلکانے کی حد تک سرخ ہو گیا تھا۔
ٹھیک ہے ! تو جو میں کہوں گی وہ تمہیں کرنا پڑے گا ہر حالت میں، بولو کرو گی؟ اس کا بازو جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے اس نے سخت لہجے میں پوچھا تو وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ روشانے کے چہرے پر شاطرانہ سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
یہاں نہیں، رات میں تمام کاموں سے فارغ ہو کر تم مجھے سب سے اوپر والی منزلہ پر ملو، وہاں تمہیں تفصیلات سے آگاہ کروں گی۔ اور ہاں وقت پر پہنچ جانا ورنہ تم مجھے جانتی نہیں ہو کہ میں کیا چیز ہوں! دھمکی آمیز انداز میں کہتی وہ اٹھلاتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ مرحا کی آنکھوں میں دھند سی چھا گئی۔ اپنے بے دم ہوتے وجود و چکراتے ہوئے سر کیساتھ وہ جیسے پلنگ پر ڈھے سی گئی۔ مارے گھبراہٹ کے ہاتھ پاؤں برف سے ہونے لگے تھے۔ نہ جانے اب اس کی تقدیر اسے اپنے کون کون سے روپ دکھانے والی تھی۔
کبھی رک گئے کبھی چل دئیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے یونہی عمر ساری گزار دی یونہی زندگی کے ستم سہے، کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی دربدر، غمِ عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے! ❤️❤️❤️❤️❤️
آج حرم کالج نہیں آئی تھی۔ اور وہ صبح سے کئی بار اس کے نمبر پر ٹرائی کر چکی تھی مگر دوسری جانب سے فون ریسیو نہیں ہوا تھا۔
آخر یہ لڑکی ہے کہاں؟ وہ سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ موبائل کی رنگ پر چونک اٹھی، اٹھا کر چیک کیا تو حرم کی کال آ رہی تھی، اس نے جلدی سے کال ریسیو کی۔
کدھر ہو تم حرم؟ فون کدھر تھا تمہارا؟ اور یہ آج تم کالج کیوں نہیں آئی؟ اس نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔
بولو کیا بات ہے؛ کچھ کام تھا کیا؟ اس کے برعکس دوسری جانب حرم کے لہجے سے وہ شگفتگی غائب تھی جو زوفا سے باتیں کرتے ہوئے خودبخود اس کے لہجے میں در آتی تھی۔
کیا ہوا حرم؟ کوئی بات ہوئی ہے کیا؟ تم اتنی سنجیدہ کیوں لگ رہی ہو؟ زوفا نے فکرمندی سے پوچھا۔
نہیں بھلا مجھے کیا ہونا ہے، میں ٹھیک ہوں، دل نہیں تھا میرا آج کالج آنے کا سو نہیں آئی۔ بس سکندر سائیں کا فون آیا تھا ان سے باتیں کرتے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تم تو جانتی ہو! خیر، معاف کرنا زوفا، مجھے لگتا ہے پھر سے سکندر سائیں کی کال آ رہی ہے۔ میں تم سے پھر بات کروں گی ! حرم نے عجلت بھرے انداز میں کہا
کوئی بات نہیں حرم تم کر لو بات، انشاء اللّہ کل کالج میں ملاقات ہوگی!!! زوفا نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ نرمی سے کہا اور کال کٹ کر دی، لیکن پتہ نہیں کیوں اسے حرم کے انداز سے آج ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اس سے جان چھڑانے کے چکر میں تھی۔
پتہ نہیں کیا بات ہے، وگرنہ حرم نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا،، یا ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو،،، سوچتے ہوئے اس نے ذہن سے اپنے خیالات کو جھٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے پاس پڑی کورس کی کتاب اٹھا لی۔
💛💛💛💛💛
یار صارم بس تو حکم کر، کیا کرنا ہے بتا؟ صارم شاہ کے دوست وحید نے پرجوش انداز میں اس سے پوچھا
کرنے کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں، تجھے اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے! بس شموئیل خان کی یہاں موجودگی کا انتظار ہے مجھے! صارم شاہ نے بھینچے ہوئے جبڑے کے ساتھ کہا۔
آنکھوں میں شموئیل خان کے لئے بے تحاشہ نفرت نظر آ رہی تھی۔ اس وقت وہ اپنے دوست وحید کیساتھ ڈیرے پر موجود تھا، اور ان کی گفتگو کا حصہ شموئیل خان تھا۔
لیکن تو نے سوچا کیا ہے اس کی تو خبر کر مجھے! وحید نے اسے جانچتے ہوئے پوچھا
پتہ چل جائے گا میرے یار، اتنی جلدی کاہے کی ہے؟ بس شموئیل خان کے آنے کی دیر ہے۔ گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلا تو انگلی ٹیڑھی بھی کرنی آتی ہے مجھے۔ ہوگا وہی جو میں چاہوں گا!!! اس نے دھوئیں کے کش اڑاتے ہوئے وحید کو دیکھ کے ایک آنکھ ماری پھر وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
✨✨✨✨✨
دل و دماغ پر اس قدر وحشت طاری تھی کہ اسے لگ رہا تھا بس کسی پل اس کا دم نکل جائے گا۔ خود کو ان سوچوں کے شکنجے سے وقتی طور پر آزاد کرنے کو وہ روشانے کے جانے کے تھوڑی دیر کے بعد بمشکل اٹھی اور چینج کر کے حویلی چلی آئی۔ جہاں کام کاج میں اس کا ذہن تھوڑا بہت محو ہو ہی جانا تھا، مگر دل و ذہن اس قدر بوجھل تھا کہ اس سے ایک نوالہ تک نہ کھایا گیا حالانکہ اس نے دن بھر کچھ نہیں کھایا تھا۔ شبانہ بی کے بہت اصرار پر بھی اس کے حلق سے کچھ نہیں اتر سکا۔ وہ چاہ کر بھی ان سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، کیونکہ اسے ان کے متوقع ردعمل کا پتہ تھا۔ بے بسی ہی بسی تھی۔
شبانہ بی آج معمول سے زیادہ تھک گئی تھیں سو وہ کمرے میں آ کر نماز ادا کرنے کے فوراً بعد ہی سو گئیں۔ ان کے سونے کا یقین کرتے ہوئے وہ لرزیدہ قدموں سے انیکسی سے نکلی اور حویلی چلی آئی۔
اوپری منزلہ تک کا سفر طے کرتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا وہ دم بہ دم دار پر چڑھ رہی ہے۔ عجیب سی بے کلی نے اس کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ بمشکل وہ سیڑھیاں عبور کرتی اوپر آئی تو حویلی کی بڑی سی چھت پر روشنیوں کی چکاچوند میں اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔۔
اس نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا تو اسے چھت پر یہاں سے وہاں چکر کاٹتی روشانے نظر آ گئی۔ آہٹ پر وہ تیزی سے اس کی جانب لپکی۔ انداز غصّے سے بھرپور تھا۔
کدھر رہ گئی تھی تم ہاں؟ غراتے ہوئے اس نے اسے جھٹکا دیا وہ ہلکے سے پیچھے کی جانب لڑکھڑا سی گئی۔
اماں جاگ رہی تھیں روشی بی بی،، مِرحا نے سر جھکاتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
میں نے تمہیں کام کاج سے فارغ ہو کر آنے کو کہا تھا،، یہ نہیں کہا تھا کہ اپنی ماں کو لوری سنا کر آنا،، تمہیں پتہ ہے میں کتنی دیر سے انتظار میں ہوں یہاں پر؟ یہ نہیں کہہ سکتی تھی تم ان سے کہ مورے نے کسی کام سے بلایا ہے؟ وہ بدتمیزی سے بولی تو مرحا کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ ہو گیا۔
اب جو میں پوچھوں اس کا جواب دو ہاں یا ناں میں؟ اس کے کہنے پر مرحا نے اپنی سوالیہ نظریں اٹھائیں۔
تم میر سائیں سے محبت کرتی ہو چلو اس بات کا اندازہ تو مجھے ہو ہی گیا ہے، لیکن یہ بتاؤ کیا تم انہیں کھونے کی ہمت رکھتی ہو؟ اس کی نظریں گویا مرحا کے چہرے کا ایکسرے کر رہی تھیں، اس کی بات پر بے اختیار مرحا نے تڑپ کر نفی میں سر ہلایا۔
روشانے کا زوردار قہقہہ فضا میں بکھر گیا۔
کھونے کی ہمت بھی نہیں ہے پانے کی قوت بھی نہیں ہے،، واؤ کیا ون سائڈیڈ لو سٹوری ہے،، وہ مزاق اڑاتے ہوئے بولی تو مرحا کے زخموں سے گویا خون رسنے لگا۔ اس نے پلکیں جھپک جھپک کر آنکھوں میں در آئی نمی کو پیچھے دھکیلا۔
دیکھو مِرحا، تم اگر ان سے جا کر اپنی محبت کا برملا اظہار کر بھی دو تو بھی دھتکار ہی تمہارا مقدر بنے گی، کیونکہ تمہیں اپنی حیثیت کا تو پتہ ہے نا! لیکن میرے پاس ایک راستہ ہے۔ کچھ ثبوت بھی ہیں میرے پاس کچھ میں خود سے بنا لوں گی تم فکر نہ کرو!! مکروہ مسکراہٹ کیساتھ اس نے اپنی بات کہی تو مرحا کا رواں رواں کانپ اٹھا۔ وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی۔
نہ نہیں ہرگز نہیں، میں یہ نہیں کر سکتی روشی بی بی خدا کیلئے مجھے بخش دیں۔ یہ لوگ مجھے جان سے مار دیں گے خدا کا واسطہ ہے آپ کو؟ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بلک بلک کر رو دی۔
تو پھر ٹھیک ہے،، دیکھتی رہنا، جب تمہاری آنکھوں کے سامنے میر سائیں کی زندگی میں کوئی اور لڑکی شامل ہو جائے گی!! برداشت کر پاؤ گی تم بولو؟ وہ بے نیازی سے کہتے ہوئے اپنی چوٹیوں سے کھیلنے لگی اور مرحا کے آنسو وہیں ٹھٹھر سے گئے۔
کیوں؟ تکلیف ہوئی نا؟ اور سنا ہے تمہارے لئے بھی رشتہ آیا ہے۔ تو خود سوچو کہ تم نے کیا بننا ہے مرحا میر یا مرحا امجد؟ وہ اس کی پوری طرح واں آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔
نہ نہیں، مجھ میں میر سائیں کو کھونے کا حوصلہ نہیں ہے میں ان کے بغیر مر جاؤں گی۔ لیکن آپ جو کہہ رہی ہیں میں وہ بھی نہیں کر سکوں گی روشی بی بی!! وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
لو جی،، میں نے تو سنا ہے کہ محبت میں بڑی طاقت ہوتی ہے،، محبوب کو پانے کے لئے انسان کچھ بھی کر گزرتا ہے۔ لیکن تمہاری محبت تو بڑی بودی نکلی، تم اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتی؟ روشانے نے اس بار نیا حربہ استعمال کرنا چاہا۔
روشی بی بی میں میر سائیں سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ لیکن میں مجبور ہوں خدارا مجھ سے وہ نہ کرنے کو کہیں،، جسے کرنے کو میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا۔۔۔ وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے سسک اٹھی۔ اس کے انگ انگ سے اس کی بیچارگی ظاہر ہو رہی تھی۔
ٹھیک ہے پھر میں وہ تصویر اور رومال جا کر دادا سائیں و مورے کی خدمت میں حاضر کر دیتی ہوں اب وہی فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے!!! وہ بے رحمی کی انتہا پر تھی۔ مرحا کے جسم سے تو جیسے کسی نے روح کھینچ لی۔ وہ تڑپ کر روشانے کے قدموں میں جا بیٹھی۔
روشی بی بی خدا کیلئے یہ نا کریں، یہ لوگ مجھے زندہ دفن کر دیں گے روشی بی بی، اور میں میر سائیں کیساتھ ایسا مر کے بھی نہیں کر سکتی خدا کے لئے نہ ہی ان کے لئے کچھ ایسا کبھی سوچا ہے میں نے،، آپ ایسی باتیں نہ کریں خدارا !!! وہ گھٹی گھٹی آواز میں روتی ہوئی بولی تو روشانے نے اسے کندھوں سے دبوچتے ہوئے جھٹکے سے اس کے وجود کو کھڑا کیا۔
تو پھر اس کا آسان سا حل تو بتا رہی ہوں تمہیں، لیکن تمہیں ہی زلیل ہونے کا شوق ہے تو میں کیا کروں!! سارے ثبوت میں مورے کی خدمت میں حاضر کر دوں گی اور فکر نہ کرو،، میر سائیں کی جانب سے بھی ثبوث جمع کر لئے ہیں میں نے، وہ بھی ایسے کہ کوئی ان کی بات پر چاہتے ہوئے بھی یقین نہیں کر سکے گا!! تمہیں بس یہ کرنا ہے کہ تم سے پوچھا جائے تو ہامی بھر لینا اس سے اس بات پر مہر لگ جائے گی۔ فکر نہ کرو، تھوڑا بہت تو سب کے مظالم تمہیں سہنے ہونگے۔ محبت کی ہے تم نے تو اتنا تو جھیلنا تمہارا فرض ہے بھئ۔ بعد میں میر سائیں بھی تمہارے ساتھ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ وہ بولتی جا رہی تھی اور مرحا منہ پر ہاتھ رکھے اپنے آنسوؤں کا گلا گھونٹنے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں روشی بی بی؟ اس کے حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
ہونہہ!! میں تو تمہارا ہی بھلا چاہ رہی ہوں لیکن لگتا ہے تمہیں عزت راس نہیں،، تم دونوں کو ملانا چاہتی ہوں اور تم مجھ سے ہی یہ سوال کر رہی ہو ہاں؟ اس نے اس کی کلائی اپنے ہاتھوں میں دبوچی۔
اور میری بات سنو مرحا،، اگر تم نے کسی کے سامنے یہ کہا کہ میں نے تم سے یہ کہا تھا کرنے کو تو یہ مت سمجھنا کہ لوگ یقین کر لیں گے تمہاری بات کا، تم ایک ملازمہ ہو کوئی تمہاری باتوں پر کان نہیں دھرے گا، اور مجھے اپنا بچاؤ کرنا بہت اچھی طرح آتا ہے، لہٰذا کوشش بھی مت کرنا نہیں تو تمہیں میرے عتاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔۔۔ اب جا سکتی ہو تم !! اس نے اس کی کلائی کو جھٹکا دیتے ہوئے گویا لفظوں کو چبا چبا کر بات کہی۔ مرحا بے اختیار پلٹی اور اپنی سسکیاں دباتی تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی پیچھے روشانے کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ بکھر گئی۔
“”تم بہت معصوم ہو مرحا بخش، تمہاری معصومیت کا فاعدہ اٹھانے میں مزہ آئے گا۔ میرا بدلہ پورا ہونے کا وقت بس ہوا چاہتا ہے، آپ نے مجھے ٹھکرا کر اچھا نہیں کیا میر سائیں، اب آپ کو تذلیل کا اصل مطلب بتاؤں گی میں ؛؛ وہ سرشار سی سوچتی خود بھی نیچے جانے کے لئے بڑھ گئی۔
کمرے میں داخل ہو کر مرحا نے ہراساں نظروں سے شبانہ بی کی پلنگ کی جانب دیکھا تو وہ دوسری جانب کروٹ لئے بے خبر سو رہی تھیں۔ وہ اپنے بستر پر بے دم سی گر پڑی۔ اس کا سانس جیسی دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔
آپ کی محبت نے مجھے رول دیا ہے میر سائیں،، میں بہت مجبور ہو گئی ہوں۔ میرے آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی، مجھے سِمتوں کی سمجھ نہیں آ رہی،، میں وہ دن آنے سے پہلے ہی مر جانا چاہتی ہوں، یا اللّٰہ مجھے موت دے دے۔۔۔ اپنے خوف کی شدت سے شور کرتے دل پر ہاتھ رکھ کر وہ اذیت کی انتہا پر پہنچتی بے آواز ایک تسلسل سے رو پڑی۔ اسے ہر جانب تاریکی نظر آ رہی تھی۔ اور اس تاریکی میں وہ خود کو ایک بند گلی میں تنہا کھڑی محسوس کر رہی تھی۔
اب تو خواہش ہے یہ درد ایسا ملے سانس لینے کی حسرت میں مر جائیں ہم اب تو خواہش ہے یہ ایسی آندھی چلے جس میں پتوں کی مانند بکھر جائیں ہم، اب تو خواہش ہے یہ دنیا والوں کا غم ایسی ٹھوکر لگائے کہ جی نہ سکیں
ایسی الجھیں یہ سینوں میں سانسیں کہ پھر
کہ ہم دوا پینا چاہیں تو پی نہ سکیں؛؛
کوئی ہمدم، نہ راہی نہ راحت ملے
ایک پل کا سہارا نہ چاہت ملے!
اب تو خواہش ہے یہ۔۔۔۔۔
دشت ہی دشت ہو ننگے پاؤں چلیں
ہم سرِ بزم شمع کی مانند جلیں!
اب تو خواہش ہے یہ کہ سزا وہ ملے
کوئی صحرا، قلعہ یا بیابان ہو
جس میں سالوں تلک قید ہی قید ہو
تجھ سے کرنے کی ہمت نہیں دل میں جو
بیوفائی وہاں پر وہ ناپید ہو!
اب تو خواہش ہے یہ کہ سزا وہ ملے
روئیں جائیں تو چپ نہ کرائے کوئی
دور جنگل میں یا پھر کسی دشت میں
ہاتھ پکڑے میرا چھوڑ آئے کوئی!!
🥀🥀🥀🥀🥀
جاری و ساری ہے
