No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
“وہ ششدر سا اپنے بازوؤں میں خون میں رنگی بے سدھ پڑی مِرحا کو دیکھ رہا تھا۔ جس آدمی نے گولی چلائی تھی وہ اب تیزی سے واپسی کی سمت بھاگ رہا تھا۔ میر سالار یکلخت ہوش میں آیا اور جیسے وحشت زدہ سا ہو گیا۔ اس کے کچھ محافظ بھی اب منہ کھولے اس کے اطراف میں کھڑے مِرحا کی ڈوبتی حالت کو دیکھ رہے تھے۔
مرحا!!! اس کی بے یقینی بھری گونج سے گویا جنگل تھرا اٹھا تھا۔ اس نے اس کا دم بہ دم زرد پڑتا چہرہ دیکھا۔ غم و غصّے سے بپھرتے ہوئے اس نے محافظوں پر نظریں دوڑائیں۔
پیچھا کرو ان کتوں کا فوراً سے پیشتر سمجھے، مجھے ہر حالت میں وہ لوگ چاہئیں۔ کسی قیمت پر وہ یہاں سے نہ نکل سکیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ورنہ تم سب کو موت کی نیند سلا دوں گا۔ دہاڑتے ہوئے اس نے ان تمام کو حکم دیا تو وہ جنگل کے بیرونی سمت کی طرف بھاگے۔ کچھ محافظ پہلے ہی ان سب کا پیچھا کرنے کو دوڑے تھے۔ تاہم اس کا ایک آدمی اس کے پاس کھڑا رہا تھا۔
مِرحا آنکھیں کھولو! تمہیں کچھ نہیں ہوگا بس ایک بار آنکھیں کھولو!! ضبط سے بے تحاشہ سرخ پڑتے چہرے کیساتھ وہ بھینچی آواز میں اس کا گال تھتھپاتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر وہ مکمل بیہوشی کے عالم میں تھی۔ میر سالار پاگل ہو جانے کے درپے تھا۔ اسے بچانے کے چکر میں اس نے خود کیلئے خطرہ مول لیا تھا۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
“مِرحا میں کہہ رہا ہوں اوپن یور آئیز یار؛ اس بار وہ قدرے اونچی آواز میں بولا۔ اسے اس وقت اپنی کیفیت خود سمجھ میں نہیں آ رہی تھی دل کی حالت بہت عجیب سی ہو رہی تھی۔
صابر! تم ڈرائیو کرو جلدی! مرحا کا خون تیزی سے ضائع ہو رہا تھا وہ اب مزید دیر نہیں کر سکتا تھا۔ عجلت میں اسے حکم دیتے ہوئے اس نے اس نے اس کے نازک وجود کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور خود گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس کا سر اپنے زانوں پہ رکھتے ہوئے وہ اس کے یخ پڑتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلانے لگا۔
فاسٹ ڈرائیونگ کرو! دس منٹس کے اندر وہاں پہنچنا ہوگا۔ اس نے صابر سے کہا تو صابر نے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھا دی۔
“مِرحا یار اتنی بھی کیا بے خبری آنکھیں کھولو تو سہی یار! وہ ہنوز اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے قدرے عاجزی سے بولا مگر بے سود! دوسری جانب اس پر تو میر سالار کی پکار بھی آج کوئی اثر نہیں دکھا رہی تھی۔ دم بہ دم اس کی سانسیں ڈوبتی جا رہی تھیں۔ میر سالار کی آنکھیں اس کی حالت دیکھکر اس قدر سلگ رہی تھیں کہ ان کی سرخی دیکھکر خوف کا سا گمان ہوتا تھا۔
تقریباً دس منٹ بعد بالآخر ہاسپٹل آ گیا تھا۔ وہ برق رفتاری سے اسے لئے ہسپتال کے اندر داخل ہوا جہاں فوراً اسے ایمرجنسی میں آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔ آپریشن تھیٹر کے باہر چکر کاٹتے ہوئے وہ اب سرفراز کو کال کرنے لگا تھا۔ دوسری جانب ایک ہی رنگ پر فون ریسیو کر لیا گیا
“یس سر! سرفراز الرٹ سا بولا
“کیا شہلا اور اس کے آدمی ان کی پکڑ میں آ گئے یا فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے؟ بھینچے ہوئے جبڑے کے ساتھ اس نے سلگتے لہجے میں پوچھا
“سر دراصل ہم بھی عین مؤمنٹ پر جنگل کی سمت جا پہنچے تھے چونکہ وہ لوگ بھاگتے ہوئے بیرونی سائیڈ کی اور ہی آ رہے تھے اور ہم اندرونی سمتوں کی طرف جا رہے تھے تو ہماری نظر ان پر جا پڑی اور موقعے پر ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔۔۔ سرفراز نے اسے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
“ویل ڈن! اب ان کا علاج میں کروں گا۔ فلحال اس وقت میں ہاسپٹل میں موجود ہوں۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو انہیں بعد میں میں دیکھ لوں گا۔ آگ کی مانند دہکتی ہوئی اواز میں کہتے اس نے فون کٹ کر دیا اور خود ہاسپٹل کے کاریڈور میں دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے لیفٹ رائٹ کرنے لگا۔ صابر ہاتھ باندھے اس کے قریب ہی کھڑا تھا۔
“یہ سب کیا تھا؟ آخر کیوں؟ اس لڑکی کی تکلیف سے اسے اتنی تکلیف کیوں پہنچی تھی آخر کہ دل کی دنیا ہی زیر و زبر ہو گئی تھی۔ یہ احساس بالکل نیا تھا ایسے احساسات اس نے آج سے پہلے کبھی کسی لڑکی کے لئے خود میں نہیں دیکھے تھے تو پھر آج اس کی تکلیف نے اسے اتنی اذیت سے کیوں دو چار کیا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ بالوں میں چلاتے گہری سانسیں بھر گیا۔
“اس لڑکی نے اس کے لئے اتنی تکلیفیں اٹھائی تھیں کیا اس کے بعد بھی اس کی محبت پر کسی قسم کا شک جائز تھا؟ نہیں ہرگز نہیں!! اسے آج ہی تو اس لڑکی کی خود سے بے پناہ محبت کا اندازہ ہوا تھا۔ اور شاید اپنے دل میں پنپنے والے اس جذبے سے بھی آج ہی وہ آشنا ہوا تھا جبھی درد حد سے سوا تھا۔ وہ گھنے بالوں میں ہاتھ پھنسائے چئیر پر بیٹھ گیا۔ آج اسے ادراک ہوا تھا کہ خود پر اس نے جو بے حسی کا کھول اس معصوم لڑکی کے لئے چڑھا رکھا تھا وہ دراصل کتنا کمزور تھا اتنا کمزور کہ آج اسے ٹوٹنے میں لمحہ بھی نہ لگا تھا۔
“مِرحا بس ایک دفعہ تم ٹھیک ہو جاؤ پھر تمہیں میں کبھی خود سے جدا نہیں کروں گا۔ تم نے جو کچھ بھی کیا، ان سب باتوں کو میں مکمل طور پر بھلا دینا چاہتا ہوں! کیونکہ تمہارا یہ اقدام ان سب پر بھاری ہے۔ تمہاری محبت کے آگے آج یہ میر سالار بھی اپنی بھرپور شکست کا اعتراف کرتا ہے؛ یار تم تو یہی سننا چاہتی تھیں نا شاید تو پھر تم تک میری کوئی آواز کیوں نہیں پہنچ رہی؟ دل ہی دل میں اسے مخاطب کرتے ہوئے اس کی بیقرار نگاہیں آپریشن تھیٹر کے دروازے کی جانب اٹھیں جو ہنوز بند تھا۔ وہ دوبارہ سے اٹھ کر ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا۔ اس کی بیقراری و وحشت کا کوئی انت نہ تھا۔
تم نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا آنکھ تازہ منظروں کی آس میں کھو جائے گی دل پرانے موسموں کو ڈھونڈتا رہ جائے گا ❤️❤️❤️❤️❤️
ڈھیروں برتن دھونے کے بعد اسے دیگر مختلف کام دے دئیے گئے۔ تھکان اور جسمانی درد سے اس کا حال بیحال تھا۔ ذہنی اذیت الگ اپنے ہی لے پر تھی۔ وہ تو بے زبان جانوروں پر بھی ترس و رحم کی عادی لڑکی تھی ان پتھر دل لوگوں میں وہ کیسے اور کیونکر سلامت رہ سکتی تھی۔ یہ لوگ اس قدر ظالم تھے کہ انہیں خوفِ خدا تک نہ تھا۔ باقی کے ملازمین انیکسی میں چلے گئے تھے۔ مگر وہ نہیں جا سکتی تھی کیونکہ یہ مورے کی دی ہوئی سزا تھی۔ مختلف بڑے کام اس کے سپرد کرنے کے بعد وہ بھی سب کی طرح رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں۔
وہ گُم صُم سی چاول کی تھال لئے بیٹھی تھی۔ چاول چنتے چنتے اس کی آنکھیں ایک بار پھر نیند کے احساس سے بند ہونے لگیں۔ جبھی قدموں کی آہٹ پر وہ سیدھی ہو بیٹھی۔ دل لرزنے لگا مگر دوسرے ہی پل سکندر شاہ کو باورچی خانے میں داخل ہوتا دیکھکر وہ وہیں فریز ہو گئی۔ وہ شاید ڈیرے وغیرہ پر جا رہا تھا کیونکہ بعض اوقات وہ فجر کے ٹائم سے زرا پہلے ہی ڈیرے کی چہل قدمی کو نکلتا تھا۔ اس پہر باورچی خانے میں کسی کی موجودگی کا احساس کر کے وہ وہاں چلا آیا مگر سامنے زوفا کو دیکھکر چہرے کا تاثر کڑواہٹ بھرا ہو گیا۔ وہ تھال لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور سکندر شاہ کے چہرے پر اپنے لئے اتنے تلخ تاثرات دیکھ کر اس نے اپنی جلتی آنکھیں نیچے جھکا لیں۔ اسے انہی نظروں سے دیکھتا وہ دو قدم آگے بڑھ آیا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو ہاں؟ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے تم اس کی ہی مستحق ہو! اس نے جتاتے ہوئے کہا تو زوفا کی حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹکنے لگا۔
“سکندر سائیں، جو جرم میں نے کیا ہی نہیں تو اس کی سزا کی مستحق میں کیسے ہو سکتی ہوں؟ اس نے بھیگی آواز میں سامنے کھڑے بے حس شخص سے سوال کیا
“میرے سامنے فلاسفی مت جھاڑو، جو سزا تمہیں دی گئی ہے بہتر ہے اس پر عمل درآمد کرو وگرنہ ہمارے پاس سزاؤں کی کمی نہیں ہے! مقابل کا لہجہ اتنا زہر آلود تھا کہ وہ اس کے اثر سے سرتاپا نیلی ہو رہی تھی۔
“میں آپ کو اتنا ظالم نہیں سمجھتی تھی! آپ ہرگز وہ نہیں ہیں جو میں آپ کے بارے میں سوچتی آئی تھی۔ اپنی سسکیوں کا بمشکل گلہ گھونٹتے ہوئے اس نے اذیت سے چور لہجے میں کہا۔
“میں یہی ہوں جتنا جلدی ہو سکے اس حقیقت کو تسلیم کر لو! اور ہاں پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں مجھ سے کسی قسم کی امید رکھو گی تو خسارہ ہی ہوگا بہتر ہے اس قسم کی بیوقوفی سے پرہیز کرنا! میرے دل اور میری زندگی کی ملکہ صرف اور صرف حرم ہے۔ تم اس کے برابر کبھی نہیں آ سکتی لہذٰا کوشش بھی مت کرنا۔۔۔ لفظوں پہ زور دیتا ہوا وہ اس کی شدتِ گریہ سے بھیگی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا انتہائی خشک لہجے میں بولا اور پلٹ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔ وہ ہاتھ میں تھال تھامے وہیں کھڑی رہ گئی۔ آنسو ایک تسلسل سے اس کے گالوں کو بھگو رہے تھے۔ دل پوری شدت سے کوئی مٹھیوں میں لے کر بھینچ رہا تھا۔ درد ایسا تھا کہ جس کی کوئی سرحد ہی نہ تھی۔
کس قدر تکلیف دہ تھا آرزوؤں کا سفر سلسلہ در سلسلہ، سانحہ در سانحہ 💛💛💛💛💛
دو سے تین گھنٹے گزر گئے تھے۔ اس کے بقیہ محافظ بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ وہ ہاسپٹل کے قریب قیام پزیر مسجد سے بھی ہو آیا تھا جہاں مرحا کی سلامتی کی دعا اس ربِ کریم کے آگے کرتے ہوئے وہ کچھ حد تک خود کو ریلیکس فیل کر رہا تھا۔ مگر اس کے لئے اب پریشان کن بات یہ تھی کہ اتنے ٹائم کے بعد بھی مرحا اب تک ہوش میں نہیں آ سکی تھی۔
وہ ہاسپٹل کے کاریڈور میں بھوکے شیر کی مانند چکر کاٹ رہا تھا۔ جبھی آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا تو وہ ایک جست میں ڈاکٹرز تک جا پہنچا۔
کیسی کنڈیشنر ہیں اب اس کی؟ اس نے بیقراری بھرے لہجے میں ایک ڈاکٹر سے استفسار کیا۔
سر؛ گولیاں تو تمام نکال دی گئی ہیں۔ بلڈ کافی حد تک ضائع ہونے کی صورت میں بعض اوقات پیشنٹ کو ہوش آنے میں تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لئے زرا انتظار کرنا ہوگا یا پھر ہوش نہ آنے پر پیشنٹ کوما۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کے بقیہ کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب اس نے ایک کے بعد پے درپے جھانپڑ اسے رسید کئے اور ڈاکٹر کا بازو کھینچتے ہوئے اسے کاریڈور کی دیوار سے لگا دیا۔ اس اچانک افتاد پر ڈاکٹر کے چہرے کا رنگ اڑ سا گیا۔ بقیہ سارے لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ مگر اس کی جانب پیش قدمی کی کسی میں ہمت تک نہ ہوئی تھی۔ اس کے حیثیت و مرتبے سے یہاں کا بچہ بچہ واقف تھا۔
“شٹ اپ، جسٹ شٹ اپ، مجھے ہر حال میں وہ مکمل ہوش و حواس میں چاہئے سمجھے! تین گھنٹے تم سب نے جھک مارے ہیں جو ایک پیشنٹ کو ہوش تک میں نہ لا سکے ہاں؟ اگر وہ مجھے ویسے نہ ملی جیسے میں چاہتا ہوں تو باخدا نہ تم لوگ بچوگے نہ ہی تمہارا یہ ہاسپٹل۔۔۔ اس کے کالر کو اپنی آہنی گرفت میں جکڑتے ہوئے وہ پھنکارتے ہوئے بولا۔ پارہ بے انتہا ہائی ہو چکا تھا۔ اس کے تیور دیکھکر ڈاکٹر کا سانس اوپر کا اوپر رہ گیا۔ آس پاس کچھ لوگ بھی جمع ہونے لگ گئے تھے۔ اس نے زوردار انداز میں ڈاکٹر کو ایک طرف جھٹکا دیا تو وہ لڑکھڑا کر کالر صحیح کرتا اسے دیکھنے لگا۔ میر سالار اسے شعلہ بار نظروں سے گھورنے لگا۔
“سر ہم نے اپنی پوری کوششیں کی ہیں۔ انشاء اللّہ انہیں ایک گھنٹے تک ہوش آ جائے گا، پھر ہم انہیں پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیں گے سر۔ فلحال آپ انہیں دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ وہ کانپتی ہوئی آواز میں کہتا فلحال کے لئے بقیہ ڈاکٹرز کے ساتھ خود بھی وہاں سے ہٹ گیا۔ ویسے تو یہاں عام شخص کو یہ اجازت نہ تھی کہ وہ اپنے پیشنٹ کو آپریشن تھیٹر میں جا کر دیکھ سکے مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔ اس شخص سے کچھ بعید نہ تھا کہ کیا کر بیٹھتا۔ اپنے آدمیوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کرتا وہ آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھ گیا۔
آہستگی سے دروازہ کھولتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا۔ نظر سامنے بیڈ پر لیٹی مِرحا پر گئی۔ عجیب سی کیفیت کے زیرِ اثر وہ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لئے بیڈ کے قریب آ کھڑا ہوا۔ لمبی پلکیں عارضوں پر سایہ فگن تھیں۔ چہرہ خون کی کمی کے باعث زرد پڑ گیا تھا۔ یاقوتی لب مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔
بے خودی سے اسے دیکھتے ہوئے وہ دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھ کر اس پر جھکا۔
“پہلے کی بات کچھ اور تھی پر اب صورتِحال مختلف ہے۔ تمہیں ہوش میں آنا ہی ہوگا مسز سالار۔۔۔۔ سرگوشی نما آواز میں کہتے ہوئے اس کی نظریں مرحا کے چہرے کے ہر نقوش کو بڑے غور سے ازبر کر رہی تھیں۔ بے خود انداز میں وہ بیساختہ جھکا اور اسکی دمکتی پیشانی پر پوری شدت سے اپنے لب رکھ دئیے۔
مِرحا کی ساکن پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی مگر وہ اس سے بے خبر تھا۔
کچھ ثانئے بعد وہ اس کی پیشانی سے لب ہٹاتے ہوئے سیدھا ہوا اور اس کے چہرے کو اسی بے خودی سے دیکھتے ہوئے جھک کر اس کے دونوں عارضوں کو باری باری چوم لیا۔ اس کے بعد وہ سیدھا ہوتے ہوئے لاچارگی سے اسے دیکھتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اور اسی وقت اسے اٹھا کر کھڑا کر دے۔ وہ واپس پلٹ کر دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
سائیں۔۔۔۔۔۔۔؛؛؛ مرحا کے ساکت لب یکایک حرکت میں آئے آواز بہت تیز بھی نہ تھی مگر اس خاموش فضا میں اور چونکہ میر سالار کی ساری حسیات ہی اسی کی جانب لگی ہوئی تھیں وہ آواز اس تک نہ پہنچتی یہ بھلا ممکن تھا؟ وہ بے یقین سا پلٹا اور مرحا کو دیکھنے لگا جس کی آنکھیں بند تھیں مگر لب اب آہستگی سے جنبش کر رہے تھے۔
خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتا وہ تیر کی سی تیزی سے واپس بیڈ کے قریب آ کر اس پر جھک گیا۔
“مرحا میں یہاں ہوں آنکھیں کھولو دیکھو مجھے، تمہارے پاس ہی ہوں میں۔۔۔۔ میر سالار نے اس کے گال سہلاتے ہوئے اسے پکارا تو اب کی بار اس کی آنکھیں نیم واں ہوئی تھیں۔ خود پر جھکے میر سالار کو وہ ناسمجھی کی سی کیفیت میں دیکھ رہی تھی۔ یکایک ذہن پر جھماکہ ہوا اور سب کچھ یاد آتا چلا گیا۔ آنکھیں اب پوری طرح کھل گئی تھیں۔ میر سالار طمانیت کا گہرا سانس بھرتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
سائیں آپ ٹھیک ہیں نا؟ وہ آہستہ لب و لہجے میں بولی۔
میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بس تم ٹھیک ہو جاؤ جلد از جلد! وہ اس کے معصوم چہرے کو تکتے ہوئے بولا۔
‘میں ڈاکٹر کو اس متعلق انفارم کرواتا ہوں؛ کہتے ہوئے وہ باہر نکل گیا جبکہ مِرحا یک ٹک دروازے کی جانب دیکھے جا رہی تھی جہاں سے وہ گیا تھا۔ اسے میر سالار کا لمس اپنی پیشانی و گالوں پر محسوس ہوا تھا۔ اس وقت وہ نیم بیہوش تھی۔ سوچتے ہوئے اس کا چہرہ پتہ نہیں کس احساس کے تحت سرخ ہونے لگا۔ تو کیا وہ اس کے اس قدر قریب تھا؟ کیا اس شخص کا دل اس کیلئے پگھل چکا ہے؟ اس خیال کے آتے ہی وہ سرتاپا نئی امید اور خوشی سے سرشار ہونے لگی۔ جبھی ڈاکٹرز چلے آئے۔ اس کا چیک اپ کر کے تسلی کرتے ہوئے انہوں نے اسے پرائیویٹ روم میں شفٹ کروا دیا۔ میر سالار نے پیمنٹ کر کے ڈسچارج کا کہا تو انہوں نے صبح دس بجے تک اس کے ڈسچارج کی نوید سنا دی۔
وہ اب پرائیویٹ روم کے بیڈ پر آرام سے لیٹی ہوئی تھی۔ نظریں دروازے پر ہی جمی ہوئی تھیں۔ دل الگ ہی لے پر دھڑک رہا تھا۔ جبھی وہ دشمنِ جاں چلا آیا۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ شرم سے لرزتی پلکیں جھکا گئی۔ میر سالار اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا ہوا روم کا دروازہ بند کر کے اپنے بھرپور قد و قامت سراپے کیساتھ جیبوں میں ہاتھ ڈالے نپے تلے قدموں سے اس کی جانب بڑھا۔ مرحا کی ساری جان گویا ہتھیلی میں سمٹ آئی تھی۔ اس شخص کی معنی خیز نظروں کا سامنا کرنا اسے انتہائی مشکل لگ رہا تھا مگر وہ اس پر یہ قطعی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اس کے شرم و حیا کی دراصل وجہ کیا ہے۔۔۔۔!
وہ بیڈ پر اس کے قریب آ بیٹھا تو اس نے بوجھل پلکیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ اس کی ساری حسیات الرٹ سی ہو گئی تھیں۔
🥀🥀🥀🥀🥀
کام نپٹا کر وہ جب اٹھی تو بے حد تھک چکی تھی۔ اس کا انگ انگ دہائی دے رہا تھا۔ اس نے برائے نام کھانا بھی کھایا تھا اب اسے شدت سے بھوک کا بھی احساس ہو رہا تھا۔
فجر کے بعد ملازمین بھی اب حویلی کا رخ کر چکے تھے۔ راکھی نے اسے واپس اسی زندان میں جانے کو کہا بقول اس کے کہ اب وہ بنا کسی کے کہے خود کام کیلئے حویلی آ جایا کرے۔ تھوڑی دیر آرام کی غرض سے اسے بھیجا گیا تو وہ زخمی زخمی دل و وجود کیساتھ وہ واپس اپنی اسی تاریکی بھری دنیا میں لوٹ آئی جو اب اس کا مقدر بن چکی تھی۔
بے حد یاسیت زدہ سی وہ اس ٹوٹے پھوٹے پلنگ پر آ بیٹھی۔ ذہن بھٹک کر آسیہ بیگم و بی جان کی جانب چلا گیا پھر گویا یادوں کے دریچے کھلتے ہی چلے گئے۔ زکا شاہ، سویرا، بی جان، آسیہ بیگم اور باقی سب اس کے بنا کیسے ہونگے؟ کیا وہ بھی اسی کی طرح دن رات اذیت میں ہونگے یا پھر اسے گزرے ہوئے ماضی کی طرح بھول چکے ہونگے! اس کا دل بے آواز رونے لگا۔ نیند اڑ چکی تھی ان آنکھوں میں اب سمندر ہی سمندر تھے۔ اس نے ذہن پر زور دیتے ہوئے ان کے چہروں کو یاد کرنے کی کوشش کی مگر ان کا دھندلا سا عکس جو اس کی آنکھوں میں ہی کہیں رہ گیا تھا بس وہی اسے دیکھائی دے رہا تھا۔ اسے لگا وہ اگر مزید چند دن انہیں نہ دیکھ سکی تو ان کی تشبیہات وہ مکمل طور پر بھول بیٹھے گی۔
جس قدر ذہنی و جسمانی اذیتیں وہ سہہ رہی تھی اسے لگ رہا تھا وہ اگر اسی حال میں رہی تو بہت جلد ذہنی مریضہ بن جائے گی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ نہ کوئی آس، نہ دوا، نہ امید کا کوئی ستارہ، اور نہ ہی کوئی اپنا۔۔۔۔!!!
“میرا کیا قصور تھا اللّٰہ، یہ کن گناہوں کی سزا ہے جو میں بُھگت رہی ہوں۔۔۔ خدارا مجھے کوئی جواب دے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا میری زندگی کا کیا مقصد ہے آخر؟ میں یہ کن سفاک ذہن لوگوں کے بیچ میں آ پھنسی ہوں جنہوں نے میرے وجود کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے؛ جنہیں میں خلوصِ دل سے اپنا سمجھتی رہی انہوں نے ہی مجھ پر ناحق ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے، اور سکندر سائیں۔۔۔۔۔،، رنج و غم کی آخری انتہا پر پہنچ کر وہ سوچتے ہوئے اس ایک نقطے پر آ ٹھہری۔
“آپ نے میرے اندر کی اس نازک سی لڑکی کو جیتے جی مار ڈالا ہے سکندر سائیں جو آپ سے بہت محبت کرتی تھی۔ آپ مجھ سے بیشک محبت نہ کرتے مگر مجھے اس حال میں دیکھ کر کم از کم ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے مگر آپ کی خود غرضی و سفاکیت نے اُس زوفا کو منوں مٹی تلے دفن کر دیا ہے جسے آپ سے محبّت نہیں عشق تھا۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں۔۔۔۔۔مرتے دم تک نہیں،،،،،! وہ دہاڑیں مار مار کر رونے لگی اس کے رونے کی آوازیں پورے زندان میں گونج رہی تھیں اور شاید گونج گونج کر اسی زندان کی زمینوں تلے دفن ہو جانی تھیں۔
ایک “عین؛ تھا
ایک “ش؛ تھا
ایک “آگ؛ تھی
ایک “راکھ؛ تھی
ایک “دشت؛ تھا،،
ایک “ہجر؛ تھا
“صحرا؛ بھی تھا
اور “پیاس؛ تھی۔
پھر ایک خلا بے انت سا
ویرانیاں، تنہائیاں
پھر اس کے بعد ایک “ق؛ تھا
پھر سارا منظر “راکھ؛ تھا
سب “خاک؛ تھا!!!
🌸🌸🌸🌸🌸
بہت شوق ہے نا تمہیں جھانسی کی رانی بننے کا؟ میں نے کہا تھا چپ کر کے گاڑی میں بیٹھنا اور تم پھر بھی باہر نکل آئیں بولو؟ یکایک وہ تیور بدل کر اسے گھورتے ہوئے استفسار کرنے لگا تو وہ جو شرمانے میں مصروف تھی بے ساختہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ کچھ غلط تو نہیں کہہ رہا میں!! اس کی حیرت پر وہ ابرو اچکاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تو وہ گڑبڑا گئی مگر پھر فوراً ہی ہمت کر کے بول اٹھی۔
سائیں دیکھیں میں بیمار ہوں اس حالت میں آپ کو مجھے ڈانٹنا نہیں چاہئے۔۔۔۔،، خفگی سے اپنی ننھی مُنّی سی ناک سکور کر کہتے ہوئے وہ چہرے کا رخ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔
“اوہ رئیلی؟ یہ تو مجھے پتہ ہی نہیں تھا۔ پھر مجھے آپ خود بتا دیں کہ اس حالت میں مجھے ڈانٹنے کے الاوہ وہ کون کون سے کام ہیں جو کرنے چاہئیں؟ مسکراتی آواز پر وہ بری طرح جھینپ گئی۔ تاہم چہرے کا رخ نہیں موڑا۔
ادھر دیکھو! وہ بارعب لہجے میں کہتا اسے دیکھنے لگا۔
“سائیں میں تب تک نہیں دیکھوں گی جب تک آپ مجھے یہ نہیں بتا دیتے کہ اس چڑیل کو آپ نے جیل میں بند کیا یا نہیں؟ اس نے ہنوز خفگی سے پوچھا تو میر سالار کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ آ گئی
“کون سی چڑیل؛ ایک تو میرے سامنے ہی لیٹی ہوئی ہے کیا کوئی اور بھی ہے جس کی تم بات کر رہی ہو؟ لہجے کو نہایت سنجیدہ بناتے ہوئے اس نے مرحا سے سوال کیا تو مرحا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا وہ بھرپور سنجیدہ تاثرات لئے ہوئے تھا مگر آنکھوں میں مسکراتا تاثر موجود تھا۔ وہ جانے کیوں سٹپٹا سی گئی۔
تم ٹھیک ہو نا؟ اس نے اس کے بازو کو دھیمے سے سہلاتے ہوئے پوچھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“بے فکر رہو، میرے خلاف چلنے والوں کی سانسیں میں انہی پر تنگ کر دیتا ہوں۔۔۔۔ آئی وِش کہ تم جلدی سے کمپلیٹلی ٹھیک ہو جاؤ! وہ اس کا ہاتھ ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔
“ابھی عارف تمہارے لئے کچھ کھانے کو لے آتا ہے، میں یہیں ہوں تمہارے پاس!! وہ زرا سا اس کی جانب جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
سائیں آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ میرا مطلب آپ مجھ پر غصّہ کیوں نہیں ہو رہے؟! مرحا نے جھجھکتے ہوئے اپنے تیئں مطلب کی بات کرنی چاہی تو میر سالار ایک ابرو اچکاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم میرے اُس روپ کی اس قدر بڑی مداح ہو چلو کوئی نہیں میں وہی انداز دوبارہ اپنا لوں گا؛ اس نے بے نیازی سے کہا تو مرحا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“ن نہیں سائیں، میرا مطلب وہ روپ تو مجھے زہر لگتا ہے آپ بس ایسے ہی رئیے گا۔۔۔۔ اس نے سہمے ہوئے لہجے میں دل کی بات کہی۔
واٹ؟ اس نے حیرانگی کی ایکٹنک کی تو مرحا مزید گڑبڑا گئی۔
‘مم میرا مطلب وہ بھی اچھا لگتا ہے لیکن آپ ایسے زیادہ اچھے لگ رہے ہیں نا!! اس نے چالاکی سے بات بدلنے کی کوشش کی۔ میر سالار بنا کچھ بھی کہے اس کے اور بھی نزدیک جھک آیا۔ وہ بے طرح نروس ہو گئی۔
“سائیں ک کیا کر رہے ہیں؟ وہ ہکلاتے ہوئے میر سالار کو دیکھتی خود میں سمٹ سی گئی۔
“میں صرف کھڑوس نہیں ہوں محترمہ، بلا کا رومینٹک بھی ہوں تمہیں بس اس کی ہلکی سی جھلک دکھانا چاہ رہا ہوں تا کہ تمہارے حافظے میں یہ چیز ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائے!! اس نے ایک مہکتی ہوئی سرگوشی کی تو وہ وہیں جم سی گئی۔ دھڑکنیں بے تحاشہ اتھل پتھل سی ہونے لگیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی وہ خمار آلود انداز میں اسے دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر جھک گیا۔
نہایت شدت سے اس کی شہہِ رگ پر جھکتے ہوئے وہ گویا آج اس کی جان نکال لینے کے درپے تھا۔ مرحا اس اقدام پر ساکت سی رہ گئی۔ ویسے بھی اس کے ہلنے کی گنجائش ہی نہ تھی کیونکہ میر سالار اس پر جھکا ہوا تھا۔ بے ہنگم طریقے سے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ آنکھیں بند کئے اس شخص کا ہوشربا لمس محسوس کرنے لگی۔ یہ سب اس کے لئے کسی خواب سے کم نہ تھا۔ وہ شخص جو ہمیشہ اسے خود سے میلوں فاصلے پر کھڑا نظر آتا تھا آج اس کے اس قدر قریب تھا کہ وہ ہنوز ایک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔
جاری و ساری ہے
