No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
ڈائری کے پہلے صفحے پر درج “زوفا شاہ؛ دیکھکر سکندر شاہ کی پیشانی پر نہ جانے کیوں پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس نے دوسرے صفحے پر انگلی رکھی ہی تھی کہ پھر کچھ سوچ کر اس نے محتاط نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھا۔ حرم کسی بھی پل آ سکتی تھی اور وہ پھر سے کوئی نیا تماشہ ہرگز نہیں چاہتا تھا۔ حرم کے سو جانے کے بعد اس نے اس ڈائری کو پڑھنے کا مسمم ارادہ دل ہی دل میں باندھا اور ڈائری کو واپس اسی زاوئیے سے بیگ میں ڈال دیا۔
اس کا دھیان اب مکمل طور پر بٹ چکا تھا، مگر نا چاہتے ہوئے بھی اسے اب حرم سے کیا اپنا وعدہ پورا کرنا ہی تھا۔ وہ ٹی۔وی آن کئے صوفے پر آ بیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد حرم چند لوازمات و بھاپ اڑاتی کافی کے ساتھ حاضر تھی۔ چہرہ اندرونی خوشی سے جگمگ کر رہا تھا۔ اس کے برعکس سکندر شاہ کی تمام حسیات اس کے بیگ میں موجود ڈائری پر لگی ہوئی تھیں۔
“آخر اس ڈائری میں ایسا بھی کیا ہے جو حرم نے اسے اتنا سنبھال کر رکھا ہوا ہے؟ پہلے کی بات جو بھی ہو مگر اب تو یہ زوفا سے اپنی بیزاری و نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ ایسے میں اس کی ڈائری کو اتنا سینت کر رکھنے کی وجہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی!! سکندر شاہ کے دل میں ڈھیروں سوال تھے۔ کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے اس نے ایک نظر حرم پر ڈالی جو ٹی۔وی کی جانب متوجہ تھی۔ سکندر شاہ نے بھی اپنی نظریں سکرین پر چلتے مناظر پر جما دیں، یہ الگ بات کہ اس کا ذہن کہیں اور گردش کر رہا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️
وہ اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا گرل پر دونوں ہتھیلیاں ٹکائے رات کی تاریکیوں میں نا جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔ زوفا کے ردعمل سے اس کے دل پر چوٹ سی لگی تھی جس سے وہ ابھی تک خون رستا محسوس کر رہا تھا۔ اس نے زندگی میں بے شمار محرومیوں کا سامنا کیا تھا۔ اس کی زندگی بہت سی مشکلات کا شکار رہی تھی۔ وہ آج جو کچھ بھی تھا بی جان کی ہی بدولت تھا۔ زندگی کی بساط پر جہاں ہزار محرومیاں اس کے ساتھ تھیں وہاں اب محبت کی یہ محرومی اس کا دل چیر رہی تھی۔ اس کے جذبے تو خالص تھے مگر دوسری جانب جس ہستی سے وہ محبت کا مرتکب ہو بیٹھا تھا شاید اس کے نزدیک ان خالص جذبات کی بھی کوئی قدر نہ رہی تھی۔ وہ بے حس ہو چکی تھی یا شاید اب جان بوجھ کر ان سب چیزوں سے منہ موڑ لینا چاہتی تھی۔
وہ تھکا تھکا سا کمرے کے اندر آ گیا۔ دونوں ہاتھوں میں سر گرائے وہ بیڈ پر ڈھے سا گیا۔
“غلطی میری ہی ہے۔ میں کیوں ان کے آگے اتنا بے اختیار ہوا لیکن، یہ معاملہ شاید میرے بس کا تھا ہی نہیں، اگر میرے بس میں سب کچھ ہوتا تو بھلا میں اس لاحاصل مسافت کا حِصّہ ہی کیوں بنتا! میری غلطی بس یہ ہے کہ مجھے اپنی محبّت کا اظہار زوفا کے روبرو قطعی نہیں کرنا چاہئے تھا جبکہ اس بات کا مجھے بھی کہیں نہ کہیں علم تھا کہ مایوسی ہی میرا مقدر بنے گی۔ کم از کم اپنی خوش فہمیوں میں، میں خوش تو تھا؛ لب بھینچ کر سوچتے ہوئے وہ اذیت کی انتہا پر تھا۔
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا
میری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا!!
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا!!
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا!!
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھئے
مری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا!!
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ میرے ہی شہر کے لوگ تھے میرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا!!
ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا!!
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا!!
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال میری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں میں لٹا ہوا!!
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا!!
💛💛💛💛💛
رات کے سوا دو بجنے کو تھے۔ نیند و چین سکندر شاہ سے کوسوں دور تھے۔ وہ بستر پر کروٹیں بدل بدل کر تھک سا گیا تھا۔ اس نے ایک نظر اپنے برابر لیٹی حرم پر ڈالی جو محو استراحت تھی۔ ایک نظر اس کے بے خبر سوئے وجود پر ڈال کر وہ بستر سے نیچے اتر آیا ساتھ ہی صوفے پر پڑے حرم کے بیگ کو دیکھا جو وہ سونے سے پہلے وہاں رکھ گئی تھی۔
سکندر شاہ نے دوبارہ سے ایک محتاط نظر اس پر ڈالی اور خود صوفے کی جانب بڑھ گیا۔ آہستگی سے اس کے بیگ سے زوفا کی ڈائری نکالتے ہوئے اسے اس پل خود پر کسی چور کا سا گمان ہو رہا تھا، مگر وہ اپنے تجسّس کے ہاتھوں بے بس و مجبور تھا۔ وہ ڈائری لئے سیدھا ڈریسنگ روم میں چلا آیا ساتھ ہی ڈریسنگ روم کا دروازہ اندر سے لاک کر لیا تاکہ حرم کی آنکھ کھلے تو اس کے پوچھنے پر وہ یہ کہہ سکے کہ وہ لیپ ٹاپ پر کچھ ضروری کام کر رہا تھا، ساتھ ہی اس کی ضروری کالز وغیرہ سے اس کی نیند میں کوئی خلل نہ پڑے اس لئے روم لاک کیا ہوا تھا۔ ڈائری تو وہ اپنے لیٹ ٹاپ بیگ میں بھی چھپا سکتا تھا مگر فلحال اس ڈائری کو اسے جلد از جلد پڑھنا تھا یہ اس نے سوچ لیا تھا۔
وہ چئیر پر آ بیٹھا ساتھ ہی بیقراری سے ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔
“١٣ جولائی؛ بروز بدھ؛
زندگی کے اس موڑ پر ہوں کہ جہاں اپنے لئے کوئی غمگسار نہ پایا تو تمہیں چن لیا میری پیاری ڈائری۔ آج سے تم میری دوست، میری ہمدم، میری رازداں، اور میری تنہائیوں کی ساتھی ہو۔ میں تمہارے رنگین اوراق پر اپنی زندگی کے سیاہ باب بے فکری سے رقم کر سکتی ہوں۔ مجھے تم سے کسی قسم کا خطرہ جو لاحق نہیں ہے۔ کہنے کو تو ایک کنبہ میرے ساتھ ہے مگر ان میں سے میں کسی کو خود کے ساتھ ایسا نہیں پاتی جو میرا ساتھ دے سکے۔ سب سے پہلے تو واحد اوپر والی ذات ہے جس کے سامنے میں اپنا دکھ، درد بتا کر دل کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہوں اس کے بعد اب تم ہو جو بطورِ دوست میرے ساتھ خاموش آنسو بہا کر مجھے تسلیاں اور دلاسے دے سکتی ہو!!!
“١٦ جولائی؛
جس طرح موت اور زندگی ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی ٹھیک اسی طرح محبت بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو بس ہو جاتی ہے بنا کسی اجازت کے، بنا کسی رکاوٹ کے، ٹھیک ویسے ہی جیسے مجھے ہو گئی۔ کاش میرے اختیار میں ہوتا تو میں کبھی اس شخص سے محبت نہ کرتی جس کا ملنا میرے مقدر کی لکیروں میں مجھے دور دور تک نظر نہیں آتا۔ “سکندر شاہ؛ نامی یہ ناسور آہستہ آہستہ میری رگوں میں اتر کر مجھے نیلا کرتا جا رہا ہے اور میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوں۔
“١٩ جولائی؛
ہر بار اس کے چہرے پر سکندر شاہ کے متعلق بات کرتے ہوئے قوس و قزح کے رنگ بکھر جاتے ہیں، اور ہر بار میں اس سے نظریں چرا لیتی ہوں مبادا میری نظر نہ لگ جائے۔ میں اس کی خوشیاں چھین کر اپنی خواہشات کا تاج محل تعمیر کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ مجھے اس کی خوشی اس کا سکون ہر چیز سے زیادہ عزیز تر ہے۔ نہ ہوتا تو اس کے منہ سے اپنی محبّت کے متعلق باتیں سن کر میں اس کی ہنسی کے ساتھ ہنس نہ رہی ہوتی۔ کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہر جانب کانٹے ہی کانٹے اگے ہوتے ہیں، دور کھڑی قسمت قہقہہ لگا رہی ہوتی ہے، اور ہمیں ننگے پاؤں انہی کانٹوں پر چلنے کو مجبور کرتی ہے۔ شاید اسی کا نام “مقدر؛ ہے۔
“٢٠ جولائی؛
میں نے اس شخص کو اپنی ہر دعا میں مانگا ہے۔ اس سے پاگلوں کی طرح “عشق؛ کیا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ میری قسمت کا ستارہ نہیں ہے۔ جس راہ سے بھی اس کا گزر ہوا ہے میں نے اس دھول تک سے محبّت کی ہے۔ اس کے ملنے کا امکان تو کہیں بھی نہیں ہے مگر اس عرصے میں، میں نے اتنا ضرور جان لیا ہے کہ جو چیز مقدر میں نہ ہو اس کیلئے اگر ہم ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جان بھی لے لیں پھر بھی وہ لاحاصل ہی رہتی ہے۔
“٢٩ جولائی؛
جب ان دونوں کو ساتھ دیکھتی ہوں تو مجھے اپنا وجود اُن کے درمیان بہت دھندلا سا دکھائی دیتا ہے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ حقیر!!! بے مایا، بیکار!!
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں ایک بند گلی میں تن تنہا کھڑی ہوں اور ان دونوں کی سرگوشیاں و قہقہوں کی گونج ہر سمت اس قدر تیز ہے کہ یوں لگتا ہے یہ آوازیں میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی ہوں۔ بے بسی سی بے بسی ہے۔ جسم زخموں سے چور ہے اور میں مطلوبہ مرہم ڈھونڈنے سے قاصر ہوں۔
“زندگی اپنے روگ سے ہے تباہ اور درماں کی کچھ سبیل نہیں؛
“١ اگست؛
اس شخص کی ایک جھلک کیلئے میں بے چین بھی ہوتی ہوں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ مجھے اس کے روبرو آنے سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ میری آنکھوں سے چھلکتے افسانوں کا راز نہ پا لے۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جس سے محبت ہو اسے ہماری محبت کی خبر ضرور ہونی چاہئے مگر میں اس بات سے ہرگز متفق نہیں ہوں۔ جب سامنے والے کو آپ میں زرہ برابر بھی دلچسپی نہ ہو تو اس کے سامنے اپنی محبت کا ڈھنڈورا پیٹنا اپنی “سیلف رسپکٹ؛ کا جنازہ نکالنا ہے۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ چیزیں اس مقام پر آ جائیں جہاں میں اس شخص کے سائے سے بھی کتراؤں!!!
“٣ اگست؛
پتہ نہیں کیوں میں جو بھی سوچتی ہوں ہر بار اس کے برعکس ہی ہو جاتا ہے۔ جتنا سوچتی ہوں کہ اس شخص سے سامنا درپیش نہ ہو سچویشن وہی بن جاتی ہے۔
آج ہم نے بڑی حویلی کا چکر لگایا مگر میری ساری خوشی اداسی میں تبدیل ہو گئی۔ مجھے علم نہیں تھا کہ سکندر شاہ بھی وہاں موجود ہے ورنہ میں جانے سے گریز برتتی۔ وہاں سے لوٹی ہوں تو تھکن حد سے سوا ہے اور اس بار ایسا لگتا ہے جیسے یہ تھکن محض قدموں کی نہیں ہے بلکہ “دل؛ بھی اس میں شامل ہے۔ جسم تو پہلے ہی ایک عجب سی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اب تو آنسو بھی بنجر زمین کی مانند ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ دل ایک تپتا صحرا بن چکا ہے اور وہاں ہر سو قحط کا عالم ہے۔
سکندر شاہ کے ہاتھوں سے ڈائری چھوٹ کر نیچے جا گری۔ مزید پڑھنے کی ہمت اب اس میں ناپید تھی۔ اسے پتہ ہی نہ چلا کب ان لفظوں کو پڑھتے پڑھتے اس کے اشک اس کی آنکھوں کی سرحد کو پار کر کے گالوں پر لڑھک آئے ہیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں کی پوروں سے اپنا چہرہ چھوا تو پوروں کا گیلا پن محسوس کر کے اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بری طرح سے سسک اٹھا۔
“ائے میرے خدایا، یہ مجھ سے کیا ہو گیا۔ یہ میں نے کیا کر دیا؟ میری بزدلی نے سب کچھ تباہ و برباد کر دیا۔ اس کے دل میں میرے لئے بے پایاں محبت کی مجھے خبر ہوئی بھی تو کب!! یہ آگہی کا عذاب میری جان لے لیگا میرے اللّٰہ۔۔،، مجھ سے میرا حافظہ چھین لے میرے مالک!!! وہ خود سے سرگوشی کرتے ہوئے بچوں کی طرح سسک رہا تھا۔ ندامت اور پچھتاوے کا کوئی انت نہ تھا۔ وہ اس کی دسترس سے اب اس قدر دور تھی کہ وہ لاکھ چاہتا تب بھی ان فاصلوں کو طے نہیں کر سکتا تھا۔ یہ نارسائی تو اب اس کا مقدر بن جانی تھی اور اسے اب اسی کے ساتھ جینا تھا۔ اس پل وہ یہ مکمل بھول بیٹھا تھا کہ اگر حرم اٹھ گئی تو وہ اسے کیا جواب دیگا یا شاید اسے اس بات کی اب پرواہ ہی نہ رہی تھی۔ دکھ و پچھتاوا حد سے سوا تھا اور کمرہ اس کی آہ و گریہ کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے ہماری زندگی برباد کر کے!! پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے!! رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے مگر ہاں مِنّتِ صیاد کر کے!! ہر آمر طول دینا چاہتا ہے مقرر ظلم کی میعاد کر کے!! 🌸🌸🌸🌸🌸
وہ تاسف سے وہاج شاہ کو دیکھ رہا تھا جن کی حالت پاگلوں سے بھی بدتر ہو رہی تھی۔ ان کے اپنے گناہوں نے انہیں آج اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا لیکن بجائے شرمندگی کے ان کا ڈھیٹ پن ابھی بھی عروج پر تھا۔ وہاج شاہ کے تمام آدمی بھی پاس والے لاک اپ میں قید تھے۔
“آپ نے سوچا بھی کیسے دادا سائیں، اس قدر گھناؤنا فعل سر انجام دیتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آئی؟ اپنے ہی پوتے کی بیوی کو اغواہ کروایا آپ نے! آپ اب یہاں سے نکلنے کے محض خواب دیکھیں۔ اپنی رہائی کو بھول جائیں۔۔!! میر سالار نے اپنی شعلہ بار نظریں وہاج شاہ پر گاڑیں۔
“میں نے یہ نہیں کیا سالار! میرے نام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے سمجھے تم۔ تم ایک قابل آفیسر ہو ایسے کیسے کسی کے بھی بہکاوے میں آ سکتے ہو؟ وہاج شاہ نے آخری حربہ استعمال کرنا چاہا۔
“ہونہہ، آپ کو کیا لگتا ہے میں آپ کی چالبازیوں سے واقفیت نہیں رکھتا؟ اتنے پارسا تو آپ ہیں نہیں یہ مجھ سے بہتر کس کو معلوم ہو سکتا ہے؟ لاک اپ میں رہ کر بھی آپ اپنی گھٹیا حرکتوں سے باز نہیں آئے۔ ایک لڑکی کو اغواہ کروانے کے جرم میں اب میں آپ کی سزا میں مزید اضافہ کرواؤں گا۔ آپ کی عدالتی پیشی تو ویسے بھی اب شروع ہونے کو ہے۔ میرے پاس گواہان کی کمی نہیں ہے۔ آپ کے تمام “وفادار محافظین؛ بھی اب میری کسٹڈی میں ہیں۔ آپ کو اپنی تمام عمر اسی جیل میں گزارنی ہے سو انجوائے کریں۔ آپ کے آدمیوں کو بھی میں دیکھ لوں گا ڈونٹ ٹیک ٹینشن!! وہ سلگتے لب و لہجے میں بولا اور واپسی کے لئے پلٹ گیا۔
“سالار، میں کہہ رہا ہوں تم اچھا نہیں کر رہے میرے ساتھ۔ تمہاری غیرت کیا تم نے بیچ کھائی ہے؟ مجھے یہاں سے نکالو سالار! میں یہاں نہیں رہ سکتا ہرگز نہیں!!! وہاج شاہ اپنا بال نوچتے ہوئے اونچی آواز میں چلائے۔ وہ اس وقت کوئی ذہنی مریض لگ رہے تھے۔ اپنی شکست نے ان کے ہوش و حواس چھین لئے تھے۔
میر سالار کے ہونٹوں پر طنز سے بھرپور مسکراہٹ آ گئی۔ وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے نپے تلے قدموں سے چلتا ہوا واپس لاک اپ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“یہ سب تو آپ کو پہلے سوچنا تھا۔ افسوس ہے آپ پر کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی بجائے خدا سے معافی مانگنے کے آپ کی اکڑ بدستور قائم ہے۔ سمجھ آئے گی آپ کو بھی کبھی نہ کبھی کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے یہی “مکافاتِ عمل؛ ہے۔۔! وہ تاسف سے بھرپور انداز میں بولا۔ ساتھ ہی پاس کھڑے آفیسر پر ایک نظر ڈالی جو خود وہاج شاہ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
“جیسے باقی ملزمان کو ایک خاص پروٹوکول کیساتھ رکھا جاتا ہے ویسے ہی ان کو بھی رکھا جائے۔ ان کو ہر لمحہ یہ احساس دلایا جائے کہ یہاں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے نہیں آئے ہیں یہ بلکہ اب تک لوگوں کے ساتھ جو زیادتیاں کی ہیں اس کا خمیازہ بھگتنے کو آئے ہیں اور ہاں ان سب کی بھی خاطر مدارت بہت اچھے طریقے سے کرنا ایسی کہ ان کی سات نسلیں اسے یاد رکھیں!! دونوں لاک اپ کی جانب اشارہ کر کے اس نے آفیسر کو حکم دیا اور ایک اچٹتی مگر سرد نگاہ دانت کچکچاتے وہاج شاہ پر ڈالی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے وہاج شاہ پاگلوں کی طرح دیوار پر مکا برسانے لگے۔
“مجھے یہاں سے نکالو میر، میں اس زندان میں نہیں رہ سکتا۔ نکالو مجھے یہاں سے کوئی!! ان کی چیخوں کی آواز سے پورا زندان گونج رہا تھا۔ آس پاس کے لاک اپ میں بھی سکوت سا چھا گیا تھا۔ وہاں مقید بقیہ ملزمان بھی اس نئے مجرم کی چیخ و پکار کو خاموشی اختیار کئے سن رہے تھے۔ بیشک اسی کا نام “مکافاتِ عمل؛ ہے۔
🧡🧡🧡🧡🧡
اس کی خوشی کا کوئی انت نہ تھا۔ نہ جانے کتنی ہی دیر وہ زکا صاحب کے سینے سے لگی کھڑی رہی۔ کس قدر ترسی تھی وہ اس لمس کیلئے، یہ بس وہی جانتی تھی۔ زکا صاحب بھی اسے خود سے لگائے ابھی تک خود کو یہ یقین دلانے کی کوششوں میں مصروف تھے کہ ان کی زوفا صحیح سلامت ان کے روبرو کھڑی ہے۔
وہ اس وقت حال کمرے میں موجود تھے۔ پاس ہی صوفے پر بی جان باپ بیٹی کا ملن ہونٹوں پر بری میٹھی سی مسکان سجائے دیکھ رہی تھیں۔ قریب ہی ایس۔پی حسن مؤدب انداز میں کھڑا ان دونوں کی ملاقات ملاحظہ کر رہا تھا۔ اس کی پشت سہلاتے ہوئے زکا صاحب اس سے علیحدہ ہوئے اور اپنی نم آنکھیں رگڑیں۔ زوفا بھی اپنی بھیگی پلکوں کو جھپکتی بی جان کے پاس آ بیٹھی جبکہ زکا صاحب حسن کے ہمراہ دوسرے صوفے پر بیٹھ گئے۔
“میں کس زبان سے آپ دونوں کا شکریہ ادا کروں مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔ میری بیٹی کیلئے آپ دونوں فرشتہ ثابت ہوئے ہیں۔ آج کے دور میں کون کس کی اتنی مدد کرتا ہے۔ آپ دونوں کا یہ احسان میں تاعمر یاد رکھوں گا۔۔۔ زکا صاحب عاجزی سے چور لہجے میں بی جان و حسن سے مخاطب ہوئے۔
“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ؟ یہ ہمارا فرض تھا۔ زوفا تو میری بچی ہے اسے تو میں ہرگز خود سے جدا نہیں کرنا چاہتی تھی مگر یہ آپ کی امانت ہے ہم روکنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ سچ کہوں تو اس سے انسیت سی ہو گئی ہے۔ میری تنہائیوں کو دور کیا ہے اس نے۔ اب اس کی واپسی کا سوچ کر میں بہت اداس ہوں مگر یہ سوچ کر خوش بھی ہوں کہ اب یہ خوشی خوشی اپنوں میں جا رہی ہے۔۔ بی جان دلگیری سے بولیں۔
“بالکل انکل، پلیز یہ نا سوچیں کہ ہم نے کوئی احسان کیا ہے۔ آپ یہ سوچ کر ہمیں شرمندہ نہ کریں۔ ہم نے جو کچھ بھی کیا یہ ہمارے فرائض میں شامل تھا۔۔۔ حسن نے ان کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے انہیں تسلی دی تو زکا صاحب کا دل تشکر کے احساس سے بھر گیا۔ حسن سے مل کر وہ حقیقتاً بہت متاثر ہوئے تھے۔ اس کی باتوں پر ان کی آنکھوں میں تعریف کے رنگ اتر آئے۔
“اللّٰہ پاک تم جیسی نیک اور صالح اولاد سے ہر کسی کو نوازے آمین۔ ماں جی یہ آپ کی ہی تربیت کا نتیجہ ہے۔ آپ کا پوتا کسی ہیرے سے کم نہیں ہے۔ اللّٰہ کرے اس ہیرے کی چمک دمک بدستور قائم رہے۔ آمین!!! زکا صاحب کی بات پر بی جان کا چہرہ اندرونی خوشی سے چمک اٹھا، جبکہ حسن کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی۔ اس دوران اس نے سامنے بیٹھے وجود کو دیکھنے سے مکمل اجتناب برتا تھا مگر پتہ نہیں کیوں اسے گاہے بگاہے اپنے چہرے پر زوفا کی نگاہوں کا احساس ہو رہا تھا، تاہم اس نے اب بھی گریز ہی برتا۔ وہ اس کی جانب دیکھ کر خود کو کمزور نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ہلکی پھلکی باتوں کا سلسلہ چل نکلا اسی دوران ملازمہ بھی لوازمات سے بھرپور ٹرے رکھ گئی۔ زکا صاحب بی جان و حسن سے گفتگو کے دوران ان کے متعلق کافی کچھ جان چکے تھے۔ حسن کے پیشے سے تو وہ خیر ویسے بھی واقف تھے کیونکہ میر سالار نے انہیں پہلے ہی اس بارے میں بتا دیا تھا۔ تقریباً پون گھنٹہ کے بعد وہ ان دونوں سے اجازت لے کر واپسی کے ارادے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“بیٹا میں گاڑی میں ہوں آپ آ جاؤ؛؛؛ زکا صاحب زوفا سے کہہ کر باہر نکل گئے۔ حسن بھی ایک نظر اس پر ڈال کر ان کے ہمراہ ہی باہر نکل گیا۔
“اپنا خیال رکھئے گا بی جان۔ میں آپ کو بہت یاد کروں گی۔ بیشک آپ میری زندگی کا خوشگوار باب ہیں آپ کو بھولنا ناممکن ہے؛؛؛ زوفا آبدیدہ سی ہوتی ان کے گلے لگ گئی۔ بی جان نے بھی نم آنکھوں سے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ بی جان سے علیحدہ ہو کر وہ ان سے ڈھیروں دعائیں لینے کے بعد بیرونی دروازہ پار کر کے باہر نکلی تو نظریں ایس۔پی حسن پر جا پڑیں جو گاڑی کے قریب کھڑا تھا۔ اسی پل اس نے بھی نظر اٹھائی۔ نگاہوں کے تصادم پر زوفا نے بے اختیار نظریں چرا کر بہت آہستگی سے “خدا حافظ؛ کہا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر زکا صاحب کے ہمراہ بیٹھ گئی۔ زکا صاحب نے حسن کی جانب دیکھ کر الوداعی انداز میں ہاتھ ہلایا تو اس نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوبارہ اس دشمنِ جاں کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہی تھی۔ ایس۔پی حسن ایک خاموش نظر اس پر ڈالتا اندر کی جانب پلٹ گیا اور گاڑی گیٹ سے باہر نکلتی چلی گئی۔
تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو!!
جانے والے سے سوالات نہیں ہوتے “میاں؛
تم یہاں اپنا بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو!!
تم سے باتوں میں کچھ اس درجہ مگن ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو!!
جانا چاہو تو کسی وقت بھی خود سے باہر
اپنے اندر کی گھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو!!
💚💚💚💚💚
