No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
جو باکردار ہو اس کو سیانی کون کہتا ہے کسی مزدور کی بیٹی کو رانی کون کہتا ہے
صبحِ صادق کا وقت ہو چلا تھا جب کسی کے جھنجھوڑنے پر اس کی آنکھ بمشکل کھلی اور اپنے اوپر خطرناک تیوروں سمیت جھکی شبانہ بی کو دیکھ کر اس کی بچی کھچی نیند بھی بھک سے اڑ گئی تھی۔ وہ منہ بناتے ہوئے کسلمندی سے اٹھ بیٹھی۔
آج مہارانی کا بستر سے نیچے پاؤں اتارنے کا ارادہ ہے یا نہیں ؟ تو تو گھوڑے اور خچر بیچ کر سوتی ہے ایک میں ہوں کُھٹکا ہی لگا رہتا ہے کہ کب کون سی آفت نازل ہو جائے!!! صبح صبح شبانہ بی کی فراٹے سے چلتی زبان اور ان کی تیز آواز گویا اس کے کان کے پردے پھاڑ رہی تھی۔
اماں !! مِرحا نے زچ ہوتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ رات بھی کام دیر سے ختم ہونے کے باعث وہ لیٹ سوئی تھی اور صبح ہی صبح اٹھا کر بٹھا دی گئی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر لٹکی چھوٹی سی گھڑی کی جانب دیکھا تو گھڑی کی سوئیاں صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھیں۔ وہ بے بسی سے شبانہ بی کو دیکھ کر رہ گئی جو اب بستر تہہ کر کے سلیقے سے ایک جانب رکھ رہی تھیں۔ وہ جانتی تھی ان سے کچھ بھی کہنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا تھا سو وہ چپ چاپ اٹھی فریش ہوئی وضو بنایا اور نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اماں کے ساتھ انیکسی سے نکل کر حویلی کی جانب چل دی، جہاں معمول کے مطابق حویلی کے دیگر ملازمین کی طرح ان دونوں ماں بیٹی کے لئے بھی ڈھیروں کام منتظر تھے۔
مِرحا کے والد چار سال قبل ہی وفات پا چکے تھے۔ وہ بچپن سے ہی اس حویلی کی خدمت پر معمور تھے۔ چونکہ ان کے باپ اور داداؤں سے یہ روایت چلی آ رہی تھی تو ان کی وفات کے بعد بھی شبانہ بی اور مرحا اسی طرح حویلی والوں کی خدمت پر معمور رہیں جس طرح مرحا کے والد اپنی ساری زندگی حویلی والوں کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ یہاں بہت سے ملازمین ایسے بھی تھے جو بچپن سے یہاں رہائش پزیر اور کام پر معمور تھے۔ اور چند ملازمین ایسے بھی تھے جو نئے ملازمین کی فہرست میں آتے تھے۔ مرحا نے جب سے ہوش سنبھالا انہی حویلی کے در و دیوار کو اپنے ارد گرد پایا۔ اپنی زندگی کی انیس بہاریں اس نے اسی حویلی میں دیکھیں۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا تو شبانہ بی کی درخواست پر اسے قریبی مدرسے میں پڑھنے کی اجازت دے دی گئی، جہاں پر اس نے سب سے پہلے قرآن کریم مکمل کیا اور چونکہ قرآن کریم کے علاوہ یہاں اُردو، انگریزی وغیرہ کی بھی کلاسز مختلف اوقات میں دی جاتی تھیں تو وہ ان سے بھی فیضیاب ہو جاتی تھی۔ وہ اس میں ہی خوش تھی اور بقول شبانہ بی کے کہ “ہم نے اس حویلی کا نمک کھایا ہے، ہم اپنی جان تو دے سکتے ہیں پر غدارّی کے مرتکب نہیں ہو سکتے؛ یہی ان کے مرحوم شوہر داد بخش کا بھی کہنا تھا، اور اس کی یاد دہانی وہ بعض اوقات مِرحا کو بھی کراتی تھیں۔
💕💕💕💕💕💕
وہاج شاہ (دادا) کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ بڑے بیٹے جن کا نام سبحان شاہ تھا، ان کے دو بیٹے شموئیل شاہ اور سکندر شاہ و دو بیٹیاں زارا و اسوہ تھیں۔ دوسرے نمبر پر فرقان شاہ تھے جن کے تین بیٹے فاسق، عون، و زائر تھے جبکہ دو بیٹیاں مُنتہا و مریم تھیں۔ تیسرے نمبر پر زیشان شاہ تھے، جن کے دو بیٹے میر سالار و شاہ زر تھے اور دو بیٹیاں حرم و عفاف تھیں۔ چوتھے نمبر پر منہاج شاہ تھے جن کے تین بیٹے زائد، ابراہیم، و ولی تھے جبکہ ایک بیٹی روشانے تھی۔ پانچویں نمبر پر عرفان شاہ تھے جن کے تین بیٹے نوفل، موسیٰ، و زارون تھے جبکہ ایک ہی بیٹی عین تھی۔
سبحان شاہ کے بیٹے شموئیل شاہ جس کا نکاح اپنی چچا زاد مُنتہا سے بچپن میں ہی قرار پا گیا تھا اور سکندر شاہ کی منگنی زیشان شاہ کی دختر حرم سے ان دونوں کے بچپن میں ہی طے کر دی گئی تھی۔ سبحان شاہ کی بیٹی زارا کا نکاح فرقان شاہ کے بیٹے فاسق سے جبکہ زارا کی بہن اسوہ کا نکاح فاسق کے بھائی عون سے طے پایا تھا سو وہ دونوں بہنیں آپس میں دیورانی و جیٹھانی بھی تھیں۔ فرقان شاہ کی بیٹی مریم کا نکاح زیشان شاہ کے بڑے بیٹے شاہ زر سے طے پایا تھا جبکہ عرفان شاہ کی اکلوتی بیٹی عین منہاج شاہ کے بڑے بیٹے زائد کے نکاح میں تھی۔
وہاج شاہ جو کہ جرگے کے سرپنچ بھی تھے ان کے سگے بھائی فیاض شاہ کی حویلی بڑی حویلی سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھی۔ دونوں حویلیاں بڑی حویلی و چھوٹی حویلی کے نام سے مشہور تھیں۔ دونوں گھرانوں میں بہت میل ملاپ تھا۔ دیگر مواقع پر ان کا ایک دوسرے کے یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ فیاض شاہ کے دو ہی بیٹے تھے وقار شاہ و زکا شاہ۔ زکا شاہ کی بیٹی زوفا شاہ جو کہ زیشان شاہ کی بیٹی حرم کی کلاس فیلو بھی تھی اور ان میں بہت اچھی دوستی بھی تھی۔ وہ سکندر شاہ اور حرم کی محبّت سے واقف تھی لیکن سکندر شاہ کی باتیں اس سے شئیر کرنے والی حرم اس بات سے قطعی نابلد تھی کہ زوفا شاہ خود بھی سکندر شاہ کی محبّت میں شدید ترین طور پر گرفتار تھی۔ سکندر شاہ جو کہ اسٹڈی کے خاتمے کے بعد اب جاب کر رہا تھا۔ اس کی کُل متاعِ حیات حرم شاہ ہی تھی۔ سکندر شاہ ایک محسور کُن شخصیت رکھتا تھا۔ وہ بِلاشُبہہ بے حد جاذب نظر تھا۔ میر سالار جتنا سنجیدہ مزاج نہ سہی مگر اس کی طبیعت میں ایک رکھ رکھاؤ تھا۔ بلا کا ہینڈسم دکھنے والا سکندر شاہ ایک الگ ہی کشِش رکھتا تھا۔ آج کل وہ کام کی زیادتی کی وجہ سے حویلی میں موجود نہ تھا
لڑکیوں کو تمام تر روایات و اصول کی پاسداری کو مدِنظر رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی جبکہ صاحبزادگان میں کچھ جاب پر تو کچھ اسٹڈیز پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے۔
چوبیس سالہ میر سالار جو کہ ایک پولیس آفیسر بھی تھا، اپنے لمبے قد و جسامت پر ڈارک براؤن آنکھوں و گوری رنگت سمیت چونکا دینے والی شخصیت کا حامل تھا، وہ اپنی خاموش طبع، زہانت، رعب و دبدبے سے خاندان میں خاصا مشہور بھی تھا۔ اس کا پیشہ بھی اس کے مزاج کے عین مطابق تھا۔ وہ ایک روایت پسند و سخت گیر مرد تھا۔ مِرحا (جسے حویلی کی معمولی ملازمہ کا شرف حاصل تھا) کب اس سنگدل سے دل لگا بیٹھی تھی اس کی خبر اسے خود بھی نہ ہوئی تھی لیکن اس راز کو اس نے اپنے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ اس کی خبر اس نے شبانہ بی تک کو نہ ہونے دی تھی۔ زوفا شاہ اور مِرحا بخش میں محض حیثیت کا فرق تھا وگرنہ محبّت کے معاملے میں دونوں ہی تشنہ و خالی در پر سوالی کی مانند تھیں۔
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
او میرا شاہ بی بی نے تیرا بلاوا بھیجا ہے۔ جا چھیتی جا ان کی گل سُن لے !! وہ جو اوپری منزلہ پر سوکھے مرچے سمیٹ رہی تھی، سخی کی زناٹے دار آواز پر اچھل پڑی اور پھر وقت کا اندازہ ہوا تو ماتھا پیٹتے ہوئے نیچے کی جانب بھاگی۔
شاہ بی بی آپ نے بلایا جی؟ کچھ ہی پل میں وہ مؤدب سی بتول بیگم (مورے) کے حضور سر جھکائے کھڑی تھی۔ بتول بیگم نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا اور بنا کچھ کہے اپنے پاؤں کی جانب اشارہ کیا تو وہ ایک سیکینڈ بھی ضائع کئے بنا نیچے بیٹھی اور ان کی ٹانگیں دبانے لگی۔
تیرا مرحوم باپ تو تھا ہی لیکن تیری ماں بھی تو وقت کی بڑی پابند ہے تو تو، ہڈحرامی میں کس پر چلی گئی؟ اپنے مخصوص پاٹ دار لہجے میں انہوں نے اس سے سوال کیا تو اس نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا جو اب اخروٹ کا ٹکڑا منہ میں ڈال رہی تھیں۔
ش، شاہ بی بی و، وہ میں چھ چھت پر ! ہلکاتے ہوئے اس نے بات پوری کرنی چاہی مگر ان کی کھا جانے والی نظروں کو دیکھتے ہوئے باقی کے الفاظ اس کی حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئے۔
آئیندہ ایسی گستاخی نہ ہو !! انہوں نے تنبیہی لہجے میں کہا اور مزید پاؤں پھیلا لئے۔ مرحا کی تو جیسے جان میں جان آئی وہ جلدی جلدی پھرتی سے ہاتھ چلانے لگی۔ ان کے غصّے سے تو یہاں سب ہی خائف رہتے تھے تو مِرحا بخش کس کھیت کی مولی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️
کالج کے بڑے سے میدان میں چہل قدمی کرتے ہوئے وہ دونوں معمول کے مطابق اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہی تھیں۔
تمہیں پتہ ہے زوفا میں کبھی کبھی خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی تصوّر کرتی ہوں۔ سکندر سائیں اتنے اچھے ہیں اتنے اچھے ہیں کہ میں تمہیں لفظوں میں نہیں بتا سکتی۔ کاش، میرے پاس وہ الفاظ ہوتے جن سے میں بیان کر سکتی کہ وہ کتنے اچھے ہیں !!! حرم پرجوش سی اپنے ہی خیال میں گُم بولے جا رہی تھی۔ وہی بات جو وہ نجانے کتنی دفعہ زوفا کو بتا چکی تھی لیکن ہر بار کی طرح زوفا اپنے اندرونی خلفشار کا گلا گھونٹے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ سجائے بس اس کی ہی سنتی جا رہی تھی۔ جبکہ آنکھیں عجیب سا خالی پن لئے ہوئے تھیں۔
مجھے اپنا مستقبل بہت روشن نظر آتا ہے زوفا۔ حرم نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔
اور مجھے بہت تاریک، اتنا تاریک کہ مجھے میری محبت کا وجود بھی اس تاریکی میں بے مایا نظر آتا ہے !!! زوفا کے دل نے جیسے رو کر کہا، ساتھ ہی حرم کے چہرے کو یک ٹک دیکھتی اس کی آنکھوں میں نمی سی سمٹ آئی جسے اس نے جلدی سے پلکیں جھپک کر اندر اتارا تھا۔ اس کی حالت سے بے خبر حرم اپنی داستانِ محبّت سنائے جا رہی تھی اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سننے پر مجبور تھی۔
کبھی تشنگی، کبھی تیرگی، کبھی دکھ ملا تیرے نام پر
میری آبرو، میری جستجو، میرا سب گیا تیرے نام پر
💞💞💞💞💞
وہ جیسے ہی راہداری مڑی سامنے سے آتی ہستی کو دیکھ کر اس کا سانس جیسے تھم سا گیا۔ آس پاس کے مناظر جیسے رقص کرنے لگے تھے۔ مِرحا نے آج پورے ایک ہفتے بعد اسے دیکھا تھا۔ ویسے بھی وہ حویلی میں کم پایا جاتا تھا۔ وہ موبائل پر مصروف تھا جبکہ وہ تو جیسے اسے دیکھتی ہوئی بے خود سی ہوئی جا رہی تھی۔ یکایک میر سالار نے مصروف انداز میں سر اٹھایا تو سامنے سے آتی مِرحا پر نظر پڑی۔
بات سنو لڑکی !! اس کی بارعب آواز پر وہ گڑبڑا سی گئی۔
میرے روم میں ایک کپ سٹرانگ سی کافی لاؤ !! حکمیہ انداز میں کہتا وہ مڑ کر جانے کو تھا کہ دوسری جانب سے کوئی ردِعمل نہ پاکر اس کی پیشانی شکن آلود ہو گئی۔
کیا سماعت سے محروم ہو گئ ہو ؟ وہ تیز لہجے میں بولا تو مِرحا نے ہڑبڑا کر بمشکل اپنی بے خودی پر قابو پایا اور خشک لبوں پر زبان پھیر کر اسے دیکھا جو اب طیش کے عالم میں اسے گھور رہا تھا۔ اس لڑکی کی غائب دماغی اس نے پہلے بھی نوٹ کی تھی اس لحاظ سے اس کا طیش میں آنا بنتا تھا۔
ج،،جی سائیں ل لے کر آتی ہوں جی !! وہ کہتے ہوئے خود کو سرزنش کرتے الٹے قدموں بھاگی جبکہ وہ غصّے سے سر جھٹکتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
💛💛💛💛💛
کالج سے واپسی کے بعد کچھ دیر لاؤنج میں سب کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ آج دل معمول سے زیادہ اداس تھا، شاید حرم کی باتوں کا اثر تھا۔ چینج کرنے کے بعد وہ نمازِ ظہر ادا کرنے کی غرض سے جائے نماز پر کھڑی ہو گئی۔ اس کا اندروں بلکل خالی تھا اور اس وقت ذہن و دل پر عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔
نماز کے بعد دعا کے لئے اس نے ہاتھ پھیلائے تو بے بسی کے گہرے احساس سے اس کی آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر اس کی خالی ہتھیلی پر آن گرے۔ وہ بے جان سی سجدے میں آ گری۔
جو محبّت تمہیں حرم سے ہے وہ محبّت تمہیں مجھ سے کیوں نہ ہوئی سکندر شاہ؟ تمہیں مجھ سے محبّت کیوں نہیں ہے سکندر؟ وہ سجدے میں گری گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی، یا اللّٰہ میں حسد و کینہ جیسے فعل میں مبتلا نہیں ہوں تو میرے دل کا حال جانتا ہے لیکن اس دل کا کیا کروں جو کسی بھی دلیل پر سر خم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ائے میرے رب یہ نارسائی میرے ہی مقدر میں کیوں؟ اس کے لہجے میں آنسوؤں کی نمی کے ساتھ ساتھ اب شکوہ بھی در آیا تھا۔
تم کسی اور کے کیوں ہو؟ تم میرے کیوں نہیں ہو سکتے سکندر؟ تمہیں مجھ سے محبّت نہ ہو کر حرم سے کیوں محبّت ہو گئی؟ یا اللّٰہ میں کیا کروں، کیسے جیوں؟ وہ آہ و بکا میں مبتلا سراپا سوال بنی ہوئی تھی مگر اس کے دل کی طرح اس کے چار سو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
اداس راہیں، شکستہ آہیں، میرا مقدّر، میرا اثاثہ
طویل کاوِش پسِ سفر ہے، بہت ہی مشکل میرا خلاصہ
🥀🥀🥀🥀🥀
وہ کافی کا مگ ہاتھوں میں تھامے دھڑکتے دل سے میر سالار کے کمرے میں داخل ہوئی مگر وہ کمرے میں موجود نہ تھا۔ کافی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ جوں ہی مڑی واشروم کے دروازے کے کھلنے کی آواز پر ہڑبڑاہٹ میں کھڑکیوں پر لگے پردے کے پیچھے چھپ گئی۔ خوف و ہراس سے دل کی دھڑکن مزید رفتار پکڑ چکی تھی۔
وہ شاید چینج کر کے نکلا تھا۔ مِرحا نے دھک دھک کرتے دل کیساتھ پردے کو زرا سا کھسکا کر اس کی اوٹ سے جھانکا۔
یا اللّٰہ بچا لے مینو، یا اللّٰہ سائیں کافی پی کر باہر چلے جائیں تا کہ میں یہاں سے نکلوں ! وہ روہانسی ہوتی مختلف دعاؤں کے ورد میں مصروف ہو گئی۔
وہ اب کافی کے سِپ لیتے ہوئے موبائل پر مصروف تھا۔ یکایک اسے جیسے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ چاروں جانب اپنی زیرک نگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ اٹھا اور سائیڈ ٹیبل پر کافی کا مگ رکھتے ہوئے جوں ہی نظریں سامنے کھڑکی پر لگے پردے پر پڑیں تو وہاں کسی کے دھانی رنگ کے آنچل کی ہلکی سی جھلک دیکھکر پہلے تو بے یقین ہوا “اس کے کمرے میں یہ کون ہو سکتا تھا؛ طیش کی ایک شدید لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔
جارحانہ تیوروں سمیت وہ آگے بڑھا اور جوں ہی پردے ہٹائے سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر وہ چند ثانئے کو حیرت کی زیادتی سے ساکن رہ گیا، پھر یکایک ہوش میں آیا تو گرم خون دماغ میں گویا ٹھوکریں مارنے لگا، مرحہ نے سختی سے یوں آنکھیں میچ رکھی تھیں گویا روزِ قیامت ہی انہیں کھولنے کا تہیہ کر لیا ہو۔
تم ؟؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟ وہ بولا نہیں بلکہ غرایا تھا۔
وہ،، وہ سا سائیں وہ اماں چلی گئی تھیں ت تو میں ادھر ک کام سے آئی تھی ج جی !! وہ کپکپاتی آواز پر بمشکل قابو پاتی بولی۔ اس عجیب و غریب وضاحت پر میر سالار شاہ کا پارہ کچھ اور بھی ہائی ہو گیا۔
جسٹ شٹ اپ!! اگلی بار تم یہاں نظر آئی تو اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ دوں گا تمہارا! چبا چبا کر بولتے ہوئے نہایتـ بے دردی سے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے اس نے اسے اپنے کمرے کی دہلیز سے باہر پھینکا تھا، مرحا نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا اور بنا اپنی چوٹ کی پرواہ کئے اٹھی اور اندھا دھند بھاگتے ہوئے وہاں سے نکلی تھی۔
میرے قرب سے میرے وجود تک اسے اختلاف تو صدا کا تھا میرے غم سے میرے جنون تک یہ فاصلہ بس انا کا تھا میری حقیقت سے میرے خواب تک وہ بے خبر انتہا کا تھا میری زندگی سے میری سانس تک وہ فلسفہ بس دعا کا تھا میرے طلب سے میرے نصیب تک یہ معاملہ بس خدا کا تھا!!! 😍😍😍😍😍
اماں کیا میں خوبصورت نہیں ہوں؟ رات کے تقریباً سوا بارہ ہو رہے تھے جب وہ اپنے لمبے ریشمی بالوں کی چٹیا کھولتے ہوئے یاسیت زدہ سی لاتعداد چیر لگے شیشے میں اپنا عکس دیکھتی ہوئی شبانہ بی سے پوچھ بیٹھی۔
یہ تیرے دماغ میں یکایک یہ سوال کیوں آیا دھی؟ شبانہ بی جو اب اونگھنے لگی تھیں اس کے سوال پر اچھنبے سے اسے گھورتے ہوئے بولیں
بتائیں نا اماں! میں خوبصورت نہیں ہوں یا دیکھنے والوں کو میں خوبصورت نہیں لگتی؟ مرحا نے جھلاتے ہوئے اپنا سوال دہرایا۔
ہیں کون دیکھنے والے کیا بولے جا رہی ہے؟ اور یہ رات کے اس پہر تو شیشے کے سامنے چڑیل کیوں بنی بیٹھی ہے ؟ وہ تنک کر بولیں، ان کا اشارہ اس کے لمبے کھلے بالوں کی جانب تھا۔
چل سو جا بٹیا! صبح جلدی اٹھنا ہوتا ہے نا، پھر کہے گی کہ اماں آپ جلدی اٹھا دیتی ہیں! وہ باقاعدہ اس کی نقل اتارتے ہوئے بولیں اور کروٹ بدل کر دوبارہ سے اونگھنے لگیں، جبکہ وہ شیشے میں دوبارہ اپنا عکس دیکھنے لگی۔
سفید چاند کی طرح دمکتی پیشانی، ہرنی کی مانند چمکتی آنکھیں جو ہمہ وقت افسانے بیان کرتی تھیں۔ کھڑی ستواں ناک، گلابی و صندلی عارض، گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح نرم و نازک لب، لمبے ریشمی بال، مخروطی انگلیاں، سفید دمکتی صراحی دار گردن، بلاشبہہ وہ قدرتی حسن سے مالامال تھی، مگر اس کی یہ بے پناہ خوبصورتی بھی اس بے حِس شخص کو پگھلانے کے لئے ناکافی تھی۔
اپنے ہاتھ کی کلائی کو سہلاتے ہوئے اسے آج دوپہر والے واقعے کا خیال آ گیا۔ جب میر سالار کے درشتگی سے اسے دھکا دینے کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں موجود کانچ کی چوڑیاں اس کی کلائی میں کھب کر کلائی زخمی کر گئی تھیں۔ اس کے غصّے کی بابت سوچتے ہوئے وہ نئے سرے سے روہانسی ہونے لگی۔
اللّٰہ معاف کرے تجھے مِرحا تو کس پتھر سے دل لگا بیٹھی ہے!! نہ جانے کیا لکھا ہے تیری قسمت میں!! وہ سوچتے ہوئے گہری سانس بھرتے اٹھی اور سونے کی تیاری کرنے لگی۔
یہ بھی سچ ہے کہ سنبھلنا ہے ضروری میرا
یہ بھی سچ ہے کہ سنبھلنا ہی نہیں چاہتی میں
