No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
گزشتہ رات تو آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔ کچھ اپنی تقدیر پر ماتم کرتے، اور کچھ آنسو بہاتے، وہ صبح اٹھی تو سر بے تحاشہ بھاری ہو رہا تھا اور آنکھیں الگ جل رہی تھیں مگر وہ بے حِس بنی نمازِ فجر کے بعد شبانہ بی کیساتھ حویلی چلی آئی تھی۔ جہاں کچھ کام نپٹا کر اسے مدرسے بھی جانا تھا۔ اس کے امتحانات بھی جلد شروع ہونے کو تھے۔
وہ صحن کے پاس سے گزری تو شاہ بی بی کی آواز سن کر وہیں ٹھہر گئی، وہ شبانہ بی سے مخاطب تھیں۔
“جلد از جلد اپنی بیٹی کو بھی اپنے گھر کا کر کے پرسکون ہو جا شبانہ، ویسے تو یہ رشتہ ہر لحاظ سے اچھا ہے۔ بس تجھے یہ بتانے کیلئے بلایا ہے تیری بیٹی امتحانات سے فارغ ہو جائے تو اس کا نکاح ہم ماجد سے پڑھوا دیں گے۔؛ انہوں نے بات ختم کر کے پان منہ میں رکھا تو شبانہ بی عاجزی و خوشی سے بیحال ہوتی ان کے قدموں میں گر گئیں۔
بہت شکریہ شاہ بی بی، میں تو بہت مطمئن ہوں اور میرو بھی۔ آپ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر !! انہوں نے خوشی سے لبریز کانپتے لہجے میں کہا اور شاہ بی بی کے پھیلے ہوئے پیروں کو دبانے لگیں، اور دروازے پر کھڑی مرحا کا دل ان کی گفتگو سن کر کر خون خون ہو گیا۔ آنکھوں میں دھند سی اتر آئی تھی۔ ٹوٹے دل کی کرچیاں سمیٹنے کی کوشش میں ہلکان وہ صحن کے دروازے سے ہٹ گئی۔
ایسا ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس دل نے جھیلے ہیں محبّت میں وہ آزار کہ بس ایک لمحے میں زمانے میرے ہاتھوں سے گئے اس قدر تیز ہوئی وقت کی رفتار کہ بس
کل بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑے تھے دونوں
درمیاں آج بھی پڑتی ہے وہ دیوار کہ بس
💚💚💚💚💚
بی جان سر ہاتھوں میں تھامے صدمے میں بیٹھی تھیں، پاس ہی بیٹھی آسیہ بیگم (زوفا کی امّی) کا حال بھی ان سے کچھ مختلف نہ تھا۔ سویرا اور زوفا بھی خاموشی سادھے بیٹھی ہوئی تھیں۔
نہ جانے اس لڑکے کی ہٹ دھرمی ہمیں کون کون سے دن دکھانے والی ہے۔ اسے سمجھاؤ آسیہ، یہ لڑکا تو بغاوت پر اتر آیا ہے! بی جان کو صارم شاہ کی آج کی حرکت پر حقیقی صدمہ پہنچا تھا۔ ان کی بات پر آسیہ بیگم گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔
میں کیا سمجھاؤں بی جان؟ وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ جب شکست ہو گی تو خود ہی ہار کر پیچھے ہٹ جائے گا۔ بیچارگی سے کہتے کہتے آخر میں ان کا انداز غصّے بھرا ہو گیا۔ سویرا نے بھی آسیہ بیگم کی تائید کی جبکہ زوفا نے دل ہی دل میں صارم شاہ سے بات کرنے کا تہیہ کر لیا۔
🌸🌸🌸🌸🌸
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب وہ حویلی میں داخل ہوا۔ وہ تخت پر بیٹھی مورے کے پاس چلا آیا جو آنکھیں بند کئے تسبیح کے دانے گرانے میں محو تھیں۔ سلام کی آواز پر انہوں نے آنکھیں کھولیں تو سامنے میر سالار کھڑا تھا۔ حیرت انگیز طور پر اس بار اس نے دو دنوں کے اندر ہی چکر لگا لیا تھا۔
وعلیکم السلام، خیر سے آ گیا بچہ شکر ہے تیرا مالک! یکایک ان کی نظر میر سالار کے بازو پر پڑی جہاں سفید شرٹ پر خون کے قطرے واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔
یہ، یہ کیا ہوا ہے میر ؟ انہوں نے فکرمندی سے پوچھا اسی اثناء میں سائرہ بیگم بھی وہاں آ گئیں۔ وہ بھی بیٹے کو دیکھکر خوش ہو گئی، مگر فوراً ہی ان کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمودار ہو گئے۔
کچھ خاص نہیں ہے مورے، بس کچھ ملزمان تھے جو درکار تھے ہمیں، کافی روز سے وہ فرار کی راہ تلاش کر رہے تھے۔ بالآخر سراغ لگا کر جب ریڈ کی تو ان کی جانب سے جوابی کارروائی میں یہ ہوا۔ فکر نہ کریں معمولی سا زخم ہے۔ وہ ہاتھ تو آ گئے۔ اب تو زندگی بھر رہائی ممکن نہیں!! انہیں تفصیل سے آگاہ کر کے وہ پاس کھڑی حرم کی جانب متوجہ ہو گیا۔ جو خود بھی کافی پریشان لگ رہی تھی۔
میر تجھے تو بخار ہو رہا ہے، اور تو کہہ رہا ہے کہ معمولی سا زخم ہے! وہ انہیں تسلیاں تو دے رہا تھا مگر درحقیقت اس کی سرخ آنکھیں اس کی اندرونی طبیعت کی خرابی کی نشاندہی کر رہی تھیں۔ سائرہ بیگم بے طرح پریشان ہو گئیں۔
افففف امی سائیں، آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں! سب ٹھیک ہے! وہ انہیں ریلیکس رکھنے کی کوشش کرتا ہوا بولا۔ کچھ ہی دیر میں گویا وہاں حویلی میں اس وقت موجود تمام نفوس موجود تھے۔ پتہ نہیں وہ کون مخبر تھا جس نے اس تیزی سے پوری حویلی میں خبر پھیلائی تھی۔
سالار یار، تو آرام کر، ایسی سچویشن میں بخار بھی آ جاتا ہے۔ فلحال تجھے ریسٹ کرنا چائیے۔ سکندر شاہ نے میر سالار سے کہا تو وہ گہری سانس بھرتا اٹھا اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے سائرہ بیگم سکینہ (ملازمہ) کو سالار کے کمرے میں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں لانے کا کہہ کر خود بھی اوپری سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئیں۔ ان کے پیچھے حرم و عفاف بھی تھیں۔
💛💛💛💛💛
وہ صغریٰ (ملازم دینو کی بیٹی) کیساتھ اوپر چھت پر پھیلائے میوے سمیٹنے آئی تھی۔ ساتھ ہی دونوں وہیں بیٹھ کر دنیا جہاں کی گپ شپ کرنے کے بعد ہی نیچے اتری تھیں۔ جُلابی مرحا کی ہی ہم عمر تھی۔ وہ دونوں ساتھ ہی مدرسے جاتی تھیں۔ وہ دونوں جیسے ہی نیچے اتریں تو جُلابی (ملازمہ) جیسے ان دونوں کے ہی انتظار میں تھی۔ وہ انہیں دیکھتے ہی شروع ہو گئی۔
او میرو اور صغریٰ، کچھ خبر ہے تم دونوں کو ؟ اس کا پر اسرار لہجہ اور انداز دیکھکر ان دونوں کے بھی چہرے پر تجسّس پھیل گیا۔
ارے اپنے میر سائیں ہے نا، وہ شہر سے آ گئے ہیں ایک گھنٹہ پہلے، اور انہیں گولی لگی ہے۔ طبیعت نہیں ٹھیک ان کی! مجھے تو بڑا دکھ ہو رہا ہے بیچارے!!! اس نے افسوس سے کہتے ایک ہاتھ کمر پر اور ایک ہاتھ کی ہتھیلی ٹھوڑی پر ٹکائی۔ صغریٰ کا منہ کھل گیا جبکہ مرحا پر تو جیسے آسمان گر پڑا۔
ک کیا، کب، میرا مطلب یہ کیسے ہوا؟ وہ ٹھیک تو ہیں نا؟ اس نے بیقراری سے پوچھا۔ دل بے حد گداز سا ہونے لگا۔
اب یہ تو نہیں پتہ کیسے، خبر تو مجھے بھی بعد میں ہوئی۔ وہ کہتی ہوئی باورچی خانے میں چلی گئی۔ مرحا کی دل کی دنیا میں تلاطم برپا ہو چکا تھا۔ کئی بار اس کا دل چاہا کہ وہ اوپر جا کر ایک نظر میر سالار کو دیکھ آئے لیکن وہ شبانہ بی کی ناراضگی کے خیال سے صرف سوچ کر ہی رہ گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی وہ حویلی کے اندر اب اس کی ایک ایک جنبش پر نظر رکھیں گی۔
تمام کاموں سے فارغ ہو کر وہ شبانہ بی کے ہمراہ انیکسی میں آئی تو نجانے کتنی دیر سے دل میں پنپتا سوال لبوں پر آ ہی گیا۔
اماں ! میں نے سنا ہے میر سائیں کو گولی لگی ہے۔ اب وہ کیسے ہیں؟ اس نے سوالیہ نظروں سے شبانہ بی کو دیکھا جو وضو بنانے کی تیاری میں تھیں۔
کیوں؟ تو کیوں پوچھ رہی ہے؟ انہوں نے تیکھے چتون سے اسے گھورا۔
کیا انسانیت کے ناطے بھی میں ان کا حال نہیں پوچھ سکتی اماں؟ اس کے سوال پر شبانہ بی بل کھا کر رہ گئیں۔
میں خوب اچھی طرح جانتی ہوں مرحا کہ تو درحقیقت مجھ سے کہنا کیا چاہ رہی ہے؟ آخر تیری ماں ہوں میں، انہوں نے جتانے والے انداز میں کہا۔
جب جانتی ہیں اماں سب کچھ تو کیوں نہیں ہے خیال آپ کو میرا بتائیں؟ آپ کو پتہ ہے میں کس قدر پریشان ہوں جب سے میر سائیں کی بابت یہ سنا ہے، خدا کیلئے اماں مجھے اجازت دیں میں انہیں صرف ایک نظر دیکھنا چاہتی ہوں۔ وہ لپک کر شبانہ بی کے پاس آئی اور روہانسی ہو کر بولی۔
خاموش مرحا بہت ہو گیا تیرا تماشہ، کیا کہا تھا تجھ سے میں نے کل کہ تو آئیندہ ایسی خرافات نہ سوچے گی اور نہ بیان کرے گی۔ تیرے پلے میری کوئی بات نہیں پڑتی جواب دے؟ اپنی حیثیت نہیں دیکھتی مہارانی اور خوابوں کی اونچائی تو دیکھو !! انہوں نے غصّے سے کچکچا کر کہا تو مرحا کی آنکھوں میں نمی سمٹ آئی۔
محبت حیثیت نہیں دیکھتی اماں! محبّت اگر حیثیت دیکھتی تو مجھے میر سائیں سے محبت ہونے کے بجائے کسی کم حیثیت انسان سے محبت ہوئی ہوتی؛ اس کے لہجے میں تھکن سمٹ آئی تھی۔
محبت حیثیت نہیں دیکھتی چل مان لیا، لیکن یہ جو دنیا ہے نا میری دھی یہ حیثیت ضرور دیکھتی ہے! اس لئے ان خوابوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دے جن کی تعبیر ہی ممکن نہیں؛ تیرے امتحانات ختم ہو جائیں تو جلد از جلد تیرے فرض سے بھی سبکدوش ہونا ہے۔ مزید اب کچھ نہیں سننا مجھے!! چبا چبا کر کہتے ہوئے شبانہ بی نے نماز کی نیت باندھ لی اور وہ اپنی جگہ ساکن کھڑی رہ گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️
ادا میں اندر آ جاؤں؟ زوفا صارم شاہ کے کمرے کے دروازے پر کھڑی اجازت طلب کر رہی تھی۔
ہاں آؤ نا! صارم جو بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا اور زوفا کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا، جبکہ وہ کچھ چپ چپ سی تھی۔ وہ بیڈ کے ساتھ رکھی چئیر پر بیٹھ گئی۔
ادا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے! اس کے لہجے میں خفگی کا تاثر صاف طور پر نمایاں تھا۔ اور صارم شاہ نے اس کے انداز سے ہی بھانپ لیا کہ وہ ضروری بات کیا ہو سکتی تھی۔
دیکھو زوفا! نہ تو تم مجھے دلیلیوں سے قائل کر سکتی ہو، اور نہ ہی حویلی والے، میں وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا۔ اس معاملے میں بحث نہیں پلیز!! وہ غصّے سے کہتا اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑا ہوا تو زوفا بھی چئیر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ادا کیا تم اپنے ہوش و حواس گنوا بیٹھے ہو۔ تم ان کا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ہاں؟ کیا ملے گا تمہیں دو دلوں کو توڑ کر جواب دو؟ جب جانتے ہو کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں تو تم خاموشی سے پیچھے کیوں نہیں ہٹ جاتے ادا۔ اسی میں ہم سب کی بہتری ہے! زوفا نے جیسے درخواست کی اور وہ اسی لحاظ سے بپھر اٹھا۔
بس زوفا، بہت بول لیا تم نے! تم اپنی فلاسفی یہاں مت جھاڑو۔ مُنتہا صرف میری ہے یہ میں پہلے ہی باور کرا چکا ہوں سب کو۔ اس کو پانے کیلئے کسی بھی حد تک جاؤں گا۔ پہلے ہی بتا دیا ہے میں نے، مزید وہی بات کر کے میرا دماغ مت کھاؤ سب! وہ سیخ پا ہو کے چلایا،،
“تم کتنی بھی کوشش کر لو ادا، لیکن منتہا ادی کی حقیقی خوشیاں شموئیل ادا کیساتھ جڑی ہیں۔ تم محض اپنا وقت برباد کر رہے ہو! زوفا نے کاٹ دار لہجے میں کہا تو صارم شاہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ بکھر گئی۔
مجھے مت سکھاؤ کہ اس کی زندگی کی خوشیاں کس سے جڑی ہیں، جب وہ میرے قبضے میں ہوگی تو اپنی زندگی پر ناز کرے گی۔ اس کے لہجے میں غرور رچا بسا تھا۔ زوفا اسے دیکھ کر تاسف سے سر ہلاتی تقریباً پیر پٹختی اس کے کمرے سے واک آؤٹ کر گئی۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کے دو بج رہے تھے اور نیند مِرحا کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ شبانہ بی تو نماز ادا کر کے بے خبری کی نیند سو گئی تھیں۔ ایک وہ تھی جسے کسی کروٹ سکون نہ تھا۔ کروٹیں بدل بدل کر جب وہ تھک گئی تو اٹھ بیٹھی اور اپنے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس نے محتاط نظروں سے شبانہ بی کی طرف دیکھا جو دوسری جانبـ کروٹـ لئے خراٹے لے رہی تھیں۔ وہ اپنے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور لاچارگی سے شبانہ بی کی پشتـ کو دیکھنے لگی۔
“مجھے معاف کر دینا اماں، لیکن تیری بیٹی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہے۔ وہاں میر سائیں تکلیف میں ہیں تو ادھر میں کیسے پرسکون ہو کر سو سکتی ہوں۔ یہ میرے نزدیک میری محبّت کی توہین ہے۔ جبـ تک میں انہیں ایک نظر دیکھ نہیں لیتی، دل کو قرار آنا مشکل ہے۔؛
اس نے نم آنکھوں سے دل ہی دل میں ماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، اور آہستہ قدموں سے چلتی انیکسی کا دروازہ دھیرے سے کھول کر باہر نکل آئی۔ ایکـ دفعہ پھر اپنے چاروں جانب نظریں دوڑانے کے بعد اس نے آہستہ سے دروازہ بھیڑا اور حویلی کی جانب بڑھ گئی۔ حویلی میں داخل ہو کر سہمے ہوئے انداز میں دوسرے منزلہ کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے دم بہ دم اس کی دھڑکنوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ راہداری سے ہوتے وہ میر سالار کے کمرے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ دھڑکتے دل کیساتھ اس نے آہستگی سے دروازہ کھولا تو نگاہیں سیدھی بیڈ پر گئیں جہاں وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ ہوش و خرد سے بیگانہ لیٹا ہوا تھا۔
لرزتے دل کیساتھ وہ دھیرے دھیرے چلتی میر سالار کے سرہانے آ کھڑی ہوئی۔ کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اس لئے وہ صاف طور پر اس کا چہرہ دیکھ سکتی تھی۔ وہ مکمل گہری نیند تھا۔ کھڑی مغرورانہ ناک اس کے اٹل ارادوں کا پتہ دیتی تھی۔ اور لب آپس میں پیوست تھے۔ وہ بلاشبہہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔
مرحا کے دل کی دھڑکن اسے قریب سے دیکھنے پر اور بھی رفتار پکڑ چکی تھی۔
تجھ کو شاید نہیں خبر سائیں عشق کرتا ہے معتبر سائیں اپنے صدمے سے مار دیتا ہے عشق ملتا نہیں اگر سائیں تجھ کو چاہا نہیں خدا کی قسم تجھ کو پوجا ہے عمر بھر سائیں تجھ کو بھولیں تو کس طرح بھولیں زور چلتا ہے عشق پر سائیں؟ کوئی دیوار ہے نہ در سائیں ہم فقیروں کا کیا ہے گھر سائیں آبلے پڑ چکے ہیں، پیروں میں ختم ہوتا نہیں سفر سائیں کون رہتا ہے اس خرابے میں ڈھونڈھتی ہے کسے نظر سائیں ساحلِ ریت کی طرح مجھ کو اپنی مٹھی میں قید کر سائیں
اس نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو بس پیشانی نیم گرم تھی۔ اس کا مطلب اس کا بخار کچھ حد تک اتر چکا تھا۔ مرحا نے سکون کا سانس لیا، اور اس کی پیشانی سے ہاتھ ہٹا کر جانے کیلئے مڑی، کچھ سوچ کر اس نے دوبارہ مڑ کر میر سالار کی جانب دیکھا جو ہنوز بے خبری کی نیند سو رہا تھا۔ وہ دھیرے سے اس کی جانب جھکی اور اپنے کانپتے ہونٹ ہولے سے اس کی پیشانی پر رکھ دئیے، اور پھر بے اختیار پیچھے ہٹی اور سرعت سے اس کے کمرے سے باہر نکل آئی۔ آہستگی سے کمرے کا دروازہ بند کر کے اس نے اپنی پیشانی پر موجود پسینے کے قطرے پونچھے۔ دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا گویا سینے کی دیواریں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔ وہ بھاگنے کے سے انداز میں سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔
لیکن محبت میں پاگل اس لڑکی کو یہ نہیں پتہ تھا کہ پیچھے کوئی اور بھی تھا جو یہ ساری چیزیں نہ صرف دیکھ چکا تھا بلکہ اپنے پاس پختہ ثبوت بھی جمع کر چکا تھا۔
جاری ہے
