Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

رستے میں مل گیا تو شریکِ سفر نہ جان جو چھاؤں مہرباں ہو اسے اپنا گھر نہ جان

اس شخص کے خوف سے اس کی زبان جو تالو سے چپکی تو پھر پورے راستے اس کی ایک آواز تک نہ نکل سکی۔ بخار کی شدت اور بھی زور پکڑ چکی تھی جس کی وجہ سے اس کو اب چکر سے آنے لگے تھے۔
اس نے بمشکل بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی کھول کر میر سالار کی جانب دیکھا جو سرد تاثرات کے ساتھ گاڑی بھگانے میں مصروف تھا۔ لب سختی سے آپس میں پیوست تھے۔ مرحا کے اندر نئے سرے سے ایک عجیب سی اداسی اترنے لگی۔ وہ شخص ملا بھی تھا تو کن حالات میں، وہ جانتی تھی میر سالار کے دل میں اس کے لئے محض نفرت ہی نفرت ہے۔
“کیا میں یہ نفرت بھرا رویہ سہہ سکوں گی؟ جس شخص کو میں نے صدقِ دل سے چاہا، اس کی اپنے لئے اس قدر حقارت و نفرت میرا دل برداشت کر سکے گا؟؛ سوچتے ہوئے اس کا دل مزید بوجھل ہو گیا۔ نہ جانے سفر اور کتنا باقی تھا، اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی جا رہی تھیں۔ اس نے سر گاڑی کی پشت سے ٹکایا اور کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی اسے پتہ ہی نہ چلا۔

میر سالار کے محافظوں کیساتھ اس کی گاڑی بڑے سے فارم ہاؤس کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو ایک شعلہ بار نظر اس ہوش و خرد سے بیگانہ وجود پر ڈال کر وہ سلگتے ہوئے ذہن کے ساتھ گاڑی روک کر جھٹکے سے باہر نکلا۔ گاڑی کا دروازہ بند ہونے کی زوردار آواز پر وہ اچھل پڑی، اور جوں ہی دوسری جانب آتے میر سالار کو دیکھا تو مزید بوکھلا گئی۔ وہ اس کی جانب آیا اور ڈور کھول کر کڑے تیوروں سمیت اسے ایسے گھورا گویا سالم کا سالم نگل جائے گا۔ مرحا کی جان پر بن آئی۔
اگر سونے کا شوق پورا کر لیا ہو محترمہ نے تو کیا باہر آنے کی زحمت کر سکتی ہیں؟ وہ غراتے ہوئے بولا تو سہمی سہمی سی باہر نکل آئی۔ جبکہ وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ بھی اندر داخل ہوئی۔ راہداری سے ہوتے ہوئے لابی، اور پھر وہ لاؤنج میں چلی آئی۔ میر سالار نہ جانے کس سمت چلا گیا تھا وہ اندازہ ہی نہ کر سکی۔
فارم ہاؤس واقعی میں قابلِ ستائش تھا۔ بے حد نفیس و جدید قسم کے نقشے سے آراستہ یہ فارم ہاؤس مرحا کی آنکھوں کو بہت بھایا۔ وہ لاؤنج کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے ہی دھیان میں گم تھی۔

کیا کھڑے کھڑے ہی فوت ہو گئی ہو؟ یکایک اپنے پیچھے تیز آواز پر وہ سٹپٹا کر پلٹی تو سامنے اس دشمنِ جاں کو دیکھکر وہ پلکیں جھکا گئی۔ اسے سرد تپتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ صوفے کی جانب بڑھ گیا۔
“ادھر آؤ؟ وہ آرام سے صوفے کی پشت پر دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گیا۔ وہ کانپتے قدموں سے اس کے قریب آ کھڑی ہوئی۔ پلکیں جھکانے کے باوجود میر سالار کی پر تپش نظریں اسے اپنے چہرے پر واضح محسوس ہو رہی تھیں۔ تاہم اس نے نظریں نیچی ہی رکھیں۔
میرے جوتے اتارو! اس نے حکمیہ انداز میں اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کیا تو مرحا نے بے اختیار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
کچھ کہہ رہا ہوں میں، تمہیں سمجھ نہیں آئی اس کی یا ساری عقل و فہم سازشیں کرنے میں ہی صرف کر دی ہیں؟ سرد نگاہوں سے اسے دیکھتے میر سالار نے کھولتے ہوئے لہجے میں طنز کیا تو وہ اہانت کے احساس سے سرخ چہرہ لئے سر جھکا گئی۔ دل تو جیسے چھلنی ہو گیا تھا۔ آنسوؤں کو ضبط کرنے کی ناکام سی کوشش کرتی وہ اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ اور کانپتے ہاتھوں سے اس کے پیروں سے جوتے نکال کر رکھے اور اس کے سامنے سر جھکائے کھڑی ہو گئی۔ اسی اثناء میں ملازم نے نفیس سا سلیپر لا کر میر سالار کے قدموں میں رکھا اور جیسے سر جھکائے آیا تھا ویسے ہی پلٹ گیا۔
“میرے سامنے مظلومیت کا ناٹک مت کرنا آئیندہ، تم کتنی مظلوم ہو یہ بہت اچھی طرح معلوم ہے مجھے، تم جیسی لڑکیاں جن کی کوئی وقعت نہیں ہوتی انہیں بڑا شوق ہوتا ہے اونچے اونچے خواب دیکھنے کا، اور دوسری بات، یہاں اب تم میری قید میں ہو، تمہاری ہر ایک حرکت پر میری نظر ہے۔۔۔ سو یہاں سے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ انجام کی زمہّ دار تم خود ہوگی۔ تیسری اور آخری بات، تمہارے لئے جو نفرت ہے میرے دل میں وہ کبھی کم نہیں ہو سکتی، مجھ سے کسی قسم کی کوئی امید مت رکھنا۔۔۔ تمہیں میں قابلِ نفرت بھی نہیں سمجھتا یہ اوقات ہے تمہاری میرے نزدیک!!! اسے خوں اندام نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے اسے اس کی حیثیت سے باور کرایا تو ہزار ضبط کے باوجود اس کی آنکھوں سے سیل رواں ہو گیا۔

سائیں آپ کا یہ رویہ میری جان لے لے گا۔ میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کریں !! وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی، تو میر سالار کی آنکھیں گویا انگارے برسانے لگیں۔ وہ جھٹکے سے صوفے سے اٹھا اور جارحیت سے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا۔ مرحا کی سہمی سہمی سی آنکھیں پھیل گئیں۔
تمہیں میں نے کہا تھا کہ تمہاری زندگی میں جہنم بنا دوں گا تو ڈئیر مرحا یہ تو ابھی شروعات ہے۔ دیکھتی جاؤ تمہارے ساتھ آگے کیا کیا ہوتا ہے۔ تم میری نفرت سے واقف نہیں ہو ابھی سمجھ آئی تمہیں! اپنے یہ نام نہاد آنسو سنبھال کر رکھو آگے کام آئیں گے۔ اس کے گالوں پر ساکن ٹھہرے ہوئے آنسوؤں کو شہادت کی انگلی سے جھٹکتا آہستہ آواز میں شیر کی مانند غرا غرا کر کہتے ہوئے اس نے جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا جبکہ وہ شل ہوتے بازو کو تھامے بخار سے چور ہوتے بدن و اذیت سے بیحال ذہن و دل کیساتھ صوفے پر گر سی گئی۔

ایک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی! ❤️❤️❤️❤️❤️

شموئیل شاہ ڈیرے پر موجود تھا۔ رات کے تقریباً آٹھ بجنے کو تھے۔ وہ ڈیرے پر موجود آدمیوں کو کل کے لئے ہدایات دے کر وہاں سے نکلا ہی تھا جبھی وہاں صارم شاہ چلا آیا۔ اس کے ساتھ کوئی موجود نہ تھا۔
کیسے ہو شموئیل شاہ؟ اس بار بڑے دنوں کے بعد چکر لگایا حویلی کا، خیر تو ہے؟ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے صارم نے مسکرا کر شموئیل سے سوال کیا تو وہ بھی ہلکے سے ہنس دیا۔
ہاں بس اس دفعہ مصروفیات کچھ زیادہ تھیں! مختصر جواب کے بعد وہ صارم شاہ کی ہمراہی میں چلتا ڈیرے پر موجود چارپائی پر بیٹھ گیا۔
تم بتاؤ صارم، کدھر ہوتے ہو؟ کیا چل رہا ہے آج کل؟ شموئیل شاہ نے گرمجوشی سے بات کا آغاز کیا۔
کچھ خاص نہیں، ادھر ہی ہوتا ہوں، شکار کا شوق پورا کرتا ہوں۔۔ خیر اب آتا ہوں کام کی بات پر، مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے شموئیل شاہ۔ امید ہے تم سمجھو گے۔ اس نے سنجیدگی سے کہا تو شموئیل شاہ ہمہ تن گوش ہوا۔
دیکھو شموئیل شاہ، ہمارا بچپن ایک ساتھ گزرا ہے۔ تم میرے بارے میں بہتر جانتے ہو میں کوئی اوباش فطرت شخص نہیں ہوں۔ اس لئے بنا کسی تمہید کے تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ منتہا جو کہ تمہارے نکاح میں ہے میں اس سے بچپن سے محبّت کرتا ہوں، بہتر ہوگا تم اسے طلاق دے کر فارغ کرو تا کہ وہ جلد از جلد میری ہو جائے۔۔۔۔ اس نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا جبکہ دوسری جانب شموئیل شاہ پر جیسے آسمان گر پڑا۔ صارم شاہ کی اتنی گھٹیا گفتگو پر اس کا خون ابل اٹھا۔
صارم شاہ! تمہاری ہمت کیسے ہوئی اتنی سطحی بات کرنے کی؟ تلملا کر وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا اور صارم شاہ کا گریبان اپنی گرفت میں لے لیا، اس کے برعکس صارم مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
میں نے تو نہایت ہی احترام کے ساتھ اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے، بنا کسی شور شرابے کی امید کی، لیکن لگتا ہے تمہیں خاموشی و سکون راس نہیں ہے شموئیل شاہ! وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر بولا تو شموئیل خان کا چہرہ غصّے کی شدت سے تھرانے لگا۔
“ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو صارم شاہ کہ منتہا صرف میری ہے۔ اس کی جانب اٹھنے والی میلی نظر کو میں نوچ ڈالوں گا سمجھے، مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمہاری سوچ اتنی پست ہے!؛ طیش کی شدت سے تیز تنفس کے ساتھ شموئیل شاہ نے اپنی بات کہی۔
“تو میری بات نہیں مانو گے تم؟ صارم نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا
ہرگز نہیں، تمہاری جان لے لوں گا میں صارم، تمہیں پتہ ہے میں ایسا کر سکتا ہوں! شموئیل شاہ نے دہاڑتے ہوئے کہا تو صارم نے جھٹکے سے جیب میں رکھا تیز دار چاقو نکالا۔
تم میری جان کیا لو گے ہاں، تمہیں تو میں اوپر بھیج کر ہی دم لوں گا آج۔۔۔۔ اس نے سفاکی چاقو شموئیل کی آنکھوں کے سامنے لہرا کر کہا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا اس نے چاقو سے یک کے بعد دیگرے اور اس کے بعد کئی وار شموئیل شاہ کے پیٹ میں کر ڈالے۔
چیخوں کی آواز پر ڈیرے پر موجود آدمی جو کہ اندر کے حصے کی جانب اصطبل والی سائیڈ پر تھے بھاگتے ہوئے آئے اور سامنے کا منظر دیکھکر ان کے ہوش اڑ گئے۔ صارم شاہ پھرتی سے وہاں سے بھاگ نکلا۔۔ جبکہ ان میں سے کچھ آدمی شموئیل کو سنبھالنے میں لگ گئے جبکہ کچھ نے صارم شاہ کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ مگر وہ تیز قدموں سے دوڑتا ہوا کچھ دور کھڑی بائیک پر بیٹھ کر فرار ہو گیا۔ وہ سب ناکام ہوتے واپس لوٹے مگر ان سب نے واضح طور پر صارم شاہ کا چہرہ دیکھ لیا تھا۔
ڈیرے پر واپس آ کر انہوں نے شموئیل شاہ کی نازک ہوتی حالت دیکھی جو زمین پر گرا درد سے تڑپ رہا تھا۔
“سائیں زرا ہمت کریں آپ، سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللّہ۔۔۔۔ ایک نے اس کا سر گود میں رکھتے ہوئے تسلی دی لیکن شموئیل شاہ کی سانسیں آہستہ آہستہ ڈوب رہی تھیں۔؛ ان لوگوں نے مل کر اس کے خون سے لت پت وجود کو زمین سے اٹھا کر چارپائی پر منتقل کیا۔
‘رحیم جا تو جلدی شاہ سائیں کو خبر کر فوراً نکل؛ ان میں سے ایک نے کسی رحیم نامی شخص سے چلا کر حویلی اطلاع دینے کو کہا تو وہ فوراً اٹھ کر حویلی کی جانب بھاگا۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ شاید شموئیل شاہ کی زندگی کی ڈور وہیں پر آ کر ٹوٹ جانی تھی۔ ایک بہت بڑا طوفان آنے کو تھا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جانے کو تھا۔

ہمارے قافلے کا ہر گھڑی منظر بدلتا ہے کبھی رہزن بدلتا ہے کبھی رہبر بدلتا ہے 🌸🌸🌸🌸🌸

کچھ دیر وہیں صوفے پر پڑی رہنے کے بعد وہ ہمت کر کے اٹھی اور یونہی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آ گئی۔ یہ دو منزلہ پر مشتمل فارم ہاؤس تھا۔ اوپر کا حصہ بھی نیچے کی طرح کافی وسیع و عریض تھا۔ اس نے اوپری لاؤنج کی سائیڈ میں بنے ایک روم کا دروازہ آہستگی سے کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔ دروازہ یونہی بند کر کے وہ پلٹی تو خوبصورت و نفیس سے اس کمرے کے خوابناک ماحول میں بے اختیار اس کی آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی۔ جبھی نظر سائیڈ ٹیبل پر موجود میر سالار کی تصویر پر جا پڑی جو کہ فریم شدہ تھی۔ تصویر میں بھی وہ انتہا کا جاذب نظر دکھ رہا تھا۔ وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں چلتی ہوئی سائیڈ ٹیبل کے نزدیک آ رکی۔
فریم اٹھا کر بغور تصویر دیکھتے ہوئے پتہ نہیں کس احساس کے تحت اس کی آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔
کچھ ثانئے یک ٹک تصویر کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنے کانپتے ہونٹ تصویر پر رکھ دیئے۔

وہ نہیں میرا مگر اس سے محبّت ہے تو ہے یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے

سچ کو میں نے سچ کہا جب کہہ دیا تو کہہ دیا
اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے تو ہے
کب کہا میں نے کہ مل جائے وہ مجھ کو میں اسے
غیر نہ ہو جائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے
جل گیا پروانہ گر تو کیا خطا ہے شمع کی
رات بھر جلنا جلانا اس کی قسمت ہے تو ہے
پاس رہ کر دشمنوں سا وہ ستاتا ہے مجھے
پھر بھی اس ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے

تصویر کو اس کی جگہ رکھ کر وہ پلٹ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کی جو اندرونی حالت تھی وہ جوں کی توں تھی، بلکہ اس کی طبیعت کی ناسازی تو اس کے چہرے سے ہی ظاہر ہو رہی تھی، اسے اب بھوک کا شدت سے احساس ہونے لگا تھا کیونکہ اس نے حویلی میں بھی کل صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ سرخ جلتی ہوئی آنکھیں، تپتی پیشانی و دہکتے عارض، زردی لئے ہوئی رنگت، مگر وہ شخص اتنا کٹھور اور اس کی جانب سے اتنا بے خبر تھا کہ وہ اس سے اس کی بے اعتنائی کا شکوہ بھی نہیں کر سکتی تھی نہ ہی اپنا حال بیان کر سکتی تھی۔ بے تحاشہ سست ہوتے جسم، درد سے پھٹتے سر و تاریک ہوتے ذہن کیساتھ وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور جلتی آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ہی سیکینڈ بعد وہ بے خبری بھری نیند سو رہی تھی۔

               💛💛💛💛💛

بڑی حویلی میں ایک قیامت برپا ہو چکی تھی۔ چونکہ صارم شاہ کو ڈیرے پر موجود آدمیوں نے صاف طور پر دیکھا تھا اس لئے یہ خبر بھی چھپی نہ رہ سکی۔
بڑی حویلی والوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ چھوٹی حویلی کا وجود ہی نست و نابود کر دیں۔ دونوں حویلیوں میں جس قدر میل ملاپ و محبت تھی اب شموئیل شاہ کے قتل کے بعد وہ انتہائی نفرت میں بدل جانے کو تھی۔ وہاج شاہ کے آدمیوں نے صارم شاہ کی تلاش میں گاؤں کا چپہ چپہ کھنگال ڈالا مگر وہ نہ جانے کس بل میں جا چھپا تھا جس کا سراغ لگانا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔

بی جان نے یہ خبر سنی تو ہتھڑ مار مار کر اپنا سینہ پیٹ ڈالا۔ باقی سارے بھی اپنی اپنی جگہ ڈھے سے گئے تھے۔ یہ صدمہ واقعی میں نا قابلِ برداشت تھا۔ کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ صارم شاہ اس حد تک گزر جائے گا۔ چھوٹی حویلی میں اس وقت مرد حضرات موجود نہ تھے۔۔۔ یہ خبر سننے کے بعد زکا شاہ و فیاض شاہ وغیرہ بڑی حویلی کی ہی جانب گئے ہوئے تھے۔
“یا اللّٰہ مجھے یہ دن دیکھنے سے پہلے اٹھا لیا ہوتا، میری بوڑھی ہڈیوں میں طاقت نہیں ہے کہ میں اتنا بڑا صدمہ سہہ سکوں؛ بی جان زور زور سے روتی ہوئی بولیں۔۔۔ آسیہ بیگم کو تو بار بار بیہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ زوفا و سویرا وغیرہ بھی شدید صدمے کے زیرِ اثر تھیں۔

صارم شاہ، بیغیرت انسان، کہاں چھپے بیٹھے ہو نکلو فوراً۔۔۔ مرد ہو تو مردوں کی طرح مقابل آؤ۔۔۔ انتہائی زوردار دہاڑ پر وہ سب خوف زدہ سی اپنی اپنی جگہ سے اٹھ گئیں۔ جبھی بے تحاشہ سرخ چہرے و لال آنکھوں سمیت سکندر شاہ لاؤنج میں داخل ہوا۔ اسے دیکھکر زوفا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ وہ اس وقت اس قدر طیش میں تھا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا وہاں موجود کوئی بھی افراد اس کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکے گا۔ گردن کی رگیں تنی ہوئی جبکہ تنفس تیز تر تھا۔

کدھر ہے صارم شاہ؟ کہاں چھپا بیٹھا ہے وہ؟ میرے ہاتھوں سے قتل ہوگا اس کا آج۔۔۔۔ ناقابلِ معافی جرم کیا ہے اس نے، بہت بڑی قیمت چکانی ہوگی اسے!! وہ غصّے کی شدت سے اونچی آواز میں چیخا۔ بی جان دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھ گئیں۔
“یا اللّٰہ مجھے اٹھا لے؛ سخت بے بسی سے وہ زیرلب دعائیں کرتی زار و قطار رونے لگیں۔ آسیہ بیگم کا تو ویسے بھی برا حال تھا۔
“سکندر ادا میری بات سنیں؛ زوفا کانپتے ہوئے لہجے میں بولتی آگے آئی ہی تھی کہ بے تحاشہ سرخ آنکھیں اس کے چہرے پر ڈالتے ہوئے وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روک گیا۔ وہ وہیں فریز ہو گئی۔
خاموش! کچھ کہنا سننا نہیں مجھے۔۔۔ صارم شاہ کے مقدر میں موت ہی لکھی ہے بہت عبرتناک موت،، انتظار کریں سب اس وقت کا؛ اس نے بھینچے ہوئے لہجے میں کہا تو زوفا کا دل خوف سے سکڑ گیا۔ صارم شاہ کے اس فعل نے نہ جانے اب کیا کیا دن دکھانے تھے۔ سوچتے ہوئے اس کا ذہن مشتعل ہونے لگا۔
جبھی وہاں عون و نوفل شاہ چلے آئے۔ ان کا بھی انداز پر طیش تھا۔
چلیں سکندر ادا، اب یہ معاملہ تو جرگے میں جائے گا۔۔۔ صارم شاہ کسی قیمت نہیں بچے گا یہ ہمارا وعدہ ہے! نوفل نے چبا چبا کر کہا جبکہ سکندر شاہ قہر آلود نظریں سب پر دوڑاتا تیز قدموں سے وہاں سے نکل گیا۔ وہ ساری خواتین اپنی جگہ ساکن کھڑی تھیں۔

              😍😍😍😍😍

رات کے دو بج رہے تھے۔ ہر طرف شور برپا تھا کہ شاہ سائیں کے پوتے کا قتل ہو گیا ہے۔ بچے بچے کی زبان پر صارم شاہ کا نام قاتل کی جگہ موجود تھا۔ ہر کسی پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی تھی۔

ہائے یہ کیا کر دیا میرے بچے کیساتھ اس بیغیرت صارم نے، میں کہہ رہی ہوں سائیں ہرگز جان بخشی نہیں ہو گی۔۔۔۔ کسی طرح ڈھونڈھیں اسے، خون کا بدلہ خون کی صورت میں لیا جائے گا۔ بڑی حویلی میں ایک محشر برپا تھا۔ مورے اونچی آواز میں روتے ہوئے دہائیاں دے رہی تھیں ساتھ ہی اپنے بے تحاشہ غصّے کا اظہار بھی کر رہی تھیں۔
پاس ہی شموئیل شاہ کا بے جان وجود کفن میں لپٹا پڑا ہوا تھا۔ جسے دیکھ کر بڑی حویلی کے ہر فرد کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ ایک نہ رکنے والا حجوم تھا جو آتا چلا جا رہا تھا۔ حفضہ بیگم (سکندر شاہ کی امّی) ہوش و خرد سے بیگانہ پڑی تھیں۔ ان کی باقی اولادیں بھی اپنے ہوش و حواس میں نہ تھیں۔ اس صدمے نے انہیں اندر تک توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ہر آنکھ اشک بار ہر دل ماتم کناں تھا۔ وہاج شاہ سمیت ان کے بیٹوں کا اشتعال عروج پر تھا۔
شرمندگی کے احساس سے چور فیاض شاہ و ان کے بیٹے جب بڑی حویلی کے مردان خانے میں آئے تو انہیں دیکھ کر وہاج شاہ سمیت سبھی کا خون کھول اٹھا۔
انہوں نے شموئیل شاہ کے قتل کا افسوس کرنا چاہا، تو وہاج شاہ نے انہیں وہیں روک دیا۔ زکا شاہ تو باقاعدہ وہاج شاہ کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہو گئے اور انہیں یقین دلایا کہ صارم شاہ کی اس پلاننگ کے بارے میں انہیں یا کسی کو بھی قطعاً کوئی علم نہ تھا ورنہ با خدا وہ اسے اپنے ہاتھوں سے ہی مار چکے ہوتے۔۔۔۔۔
مگر زکا شاہ کا ہاتھ جوڑنا و معافی مانگنا سب کچھ بیکار گیا تھا۔ بڑی حویلی کا کوئی بھی فرد ان کی معافی یا تلافی سننے کو تیار نہ تھا۔

“فیاض شاہ، یہ معاملہ اب جرگے میں جائے گا، کل اس پر تفصیلی گفتگو ہوگی، ابھی بہتر یہی رہے گا کہ تم اپنے بیٹوں کے ساتھ یہاں سے چلے جاؤ،، جرگے میں جو بھی فیصلہ ہوگا میرا ہوگا فیاض شاہ، اسے ہر کسی کو ہر قیمت پر قبول کرنا ہوگا؛ وہاج شاہ نے سخت لہجے میں باور کرایا تو فیاض شاہ ایک بے بس نظر ان پر اور پھر اپنے بیٹوں پر ڈال کر ان کے ساتھ مردان خانے سے نکل گئے۔ اس واقعے نے دونوں حویلیوں کے بیچ ایک دیوار سی لا کھڑی کی تھی اور وہ تھی “نفرت کی دیوار؛۔۔۔!!!

              🥀🥀🥀🥀🥀

وہ بے حد گہری نیند میں تھی جب دروازہ کھلنے کی زوردار اواز پر یکایک اس کی آنکھ کھل گئی۔ پھر جیسے ذہن میں جھماکہ ہوا۔ جبھی کمرے کی آن ہوتی لائٹ کے ساتھ ساتھ وہ بھی بستر پر ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ میر سالار لائٹ آن کر کے بیڈ کی جانب پلٹا اور جارحانہ تیوروں سے اس کی جانب بڑھا تو وہ خوف کے مارے پیچھے کی جانب کھسک گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی انتہائی بیدردی سے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور بیڈ سے نیچے کھڑا کر دیا۔ مرحا کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ہاتھ جڑ سے اکھڑ گیا ہو۔ تکلیف کی شدت سے وہ “سی؛ کر کے رہ گئی۔
کس کی اجازت سے تم میرے کمرے میں موجود ہو “مرحا بخش؛؟ اس نے سلگتے ہوئے لہجے میں پوچھا لہجہ بے حد ہتک آمیز تھا۔ مرحا نے کچھ بولنے کے لئے لب واں کئے مگر اس کا اشتعال دیکھ کر وہ کچھ بول ہی نہ سکی جبکہ وہ اسی لحاظ سے مزید بپھر اٹھا۔
اس کا بازو اپنی فولادی گرفت میں جکڑ کر اس نے اسے اپنے بے تحاشہ قریب کر لیا۔ اتنا قریب کہ اس کی سانسوں کی تپش مرحا کے چہرے کو جلاتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ نم آنکھوں سے اس کو دیکھنے لگی۔
‘کچھ بکواس کر رہا ہوں میں؟ اوہ میں یہ کیوں بھول گیا کہ محترمہ میری قربت کی تلاش میں میرے کمرے تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں؛ آخر مجھ سے اتنی محبت جو ہے، کیوں صحیح کہہ رہا ہوں نا؟ اس کی بات پر مرحا نے تڑپ کر اسے دیکھا، جو آنکھوں و چہرے میں استیزائیہ تاثر لئے اسے دیکھ رہا تھا۔
سائیں، مجھے خبر نہیں تھی اس بات کی، چھوڑیں مجھے؛ بھیگی آواز میں کہتے ہوئے اس نے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کرانا چاہا جبکہ وہ اسی تاثر کیساتھ اسے مزید خود سے قریب گیا۔ مرحا کی جان پر بن آئی۔
“کیوں تمہاری خواہش ہی تو پوری کر رہا ہوں تو اب کیا ہوا ہاں؛ دھیمے کرخت لہجے میں وہ کہتا بے حسی کے آخری دہانے پر تھا۔ مرحا نے شدتِ گریہ سے تھکی تھکی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ جبھی میر سالار کے موبائل کی رنگ پر اس نے اسے بیڈ پر دھکیلا اور فون اٹھا کر کان سے لگایا دوسری جانب سے نہ جانے کیا کہا گیا کہ اس کے چہرے کا رنگ فق سا ہو گیا۔
واٹ؟؟ کیا بکواس کر رہے ہو یہ؟ بے یقینی بھرے لہجے میں چیختا وہ فون کان سے لگائے ہی تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ جبکہ وہ نا سمجھی کی کیفیت میں وہیں بیٹھی رہ گئی۔ تنہا، بالکل تنہا،،،!!!

جاری و ساری ہے