Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

نئی صبح کے آغاز کے ساتھ ہی حویلی میں معمول کے مطابق گہماگہمی شروع ہو چکی تھی۔ مِرحا فریش ہو کر انیکسی چلی گئی تھی۔ یہاں آنے کے بعد اس کے دن کا زیادہ تر حِصّہ یا تو انیکسی میں گزر رہا تھا یا پھر اپنے کمرے میں۔ بعض اوقات وہ باغ وغیرہ کی جانب بھی چکّر لگا لیتی تھی۔ اسے پتہ تھا وہ اگر حویلی کی خواتین سے بات کرنے یا ان سے گھلنے ملنے کی کوشش کرے گی تو بدلے میں ناکامی و لاتعداد زِلّت ہی اس کا مقدر بنے گی، سو اس کے لئے ان سب سے الگ تھلگ ہی رہنا بہتر تھا۔
میر سالار ناشتے سے فارغ ہو کر نیچے حال کمرے میں ہی لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔ اسے نہایت ضروری کام نپٹانے تھے۔ ویسے بھی اب وہ واپسی کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ اب مزید لیٹ نہیں کر سکتا تھا۔ اسے یہاں آئے ہوئے بھی چار روز گزر چکے تھے۔ لیکن مسئلہ سکندر و حرم کی شادی تھا۔ جو بھی تھا اس کی شرکت تو لازمی تھی۔ شادی چونکہ اب نزدیک ہی تھی اس لئے وہ چاہتے ہوئے بھی فلحال نہیں جا سکتا تھا۔
وہ تیزی سے کی۔بورڈ پر انگلیاں چلانے میں مصروف تھا کہ سائرہ بیگم و عفاف چلی آئیں۔
“میر مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے! سائرہ بیگم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“بولیں میں سن رہا ہوں! وہ لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے مصروف سا بولا تو سائرہ بیگم اسے گھورنے لگیں۔
“ادا، امّی سائیں حرم ادی کی شادی کے متعلق بات کرنے آئی ہیں! عفاف نے کچھ خفگی سے اس کا مصروف انداز دیکھا۔
“کیا بات ہے؟ اس نے لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھ کر دونوں خواتین کے پھولے ہوئے چہروں پر نظر دوڑائی۔
“میں یہ پوچھنے آئی تھی کہ تم شادی میں شرکت کر کے جاؤ گے یا نہیں؟ ارے جس طرح تم نے سکندر سے بیر پال رکھا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس شادی میں بھی تمہاری دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے!! سائرہ بیگم کلس کر بولیں۔
“ظاہر سی بات ہے شرکت کر کے ہی جاؤں گا۔ اگر وہاں ہوتا تو بھی لازمی شرکت کرنے آتا، آفٹرآل حرم میری بہن ہے کوئی غیر تو نہیں ہے۔ رہی بات سکندر کی تو درست فرمایا آپ نے، اس کی بزدلی کی وجہ سے میں اسے سخت ناپسند کرتا ہوں۔ دوسری بات مجھے دلچسپی صرف اپنی شادی سے تھی، دوسروں کی شادیوں میں دلچسپیاں دکھا کر کیا میں نے آسکر اپنے نام کرنا ہے؟ آخر میں اس کا لہجہ کچھ شوخ سا ہو گیا تھا مگر چہرے کے زاوئیے ہنوز سنجیدگی سے بھرپور تھے۔ عفاف اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ سائرہ بیگم مزید جل کر راکھ ہو گئیں۔
“مجھے اس لڑکی کے متعلق بات کرنی ہے میر! “اس لڑکی؛ سے مراد یقیناً مرحا تھی سو نام لینے سے گریز برتا گیا تھا۔ یہ بات میر سالار بخوبی جانتا تھا۔
“کیوں؟ اب اس نے کیا کر دیا؟ میر سالار نے ابرو اُچکا کر پوچھا۔ لہجہ قدرے سرد سا ہو گیا۔
“میں چاہتی ہوں تم حرم کی شادی سے پہلے اسے شہر روانہ کر دو۔ تم شادی انجوائے کر کے بھلے ہی فوراََ چلے جانا مگر اسے یہاں سے بھیج دو۔ سائرہ بیگم نے درشتگی سے کہا۔ میر سالار کے ماتھے پر ان گنت بل پڑ گئے۔
“وجہ؟ آخر آپ کی اس بات کا مقصد کیا ہے؟ مجھ سے کلئیر کٹ بات کیا کریں۔ وہ اپنا امڈتا غصہ بمشکل ضبط کرتا بولا۔
“ارے بھانت بھانت کے لوگ آئیں گے۔ اسے دیکھکر طرح طرح کے سوالات کریں گے۔ یوں تو اب یہ خبر ہر کسی کے کانوں تک پہنچ چکی ہے مگر جب لوگ اسے روبرو دیکھیں گے تو ظاہر ہے پوچھیں گے تو سہی نا کہ ایسی بھی کیا مجبوری تھی جو ہمیں ایک دو ٹکے کی ملازمہ کو اپنی بہو بنانا پڑا۔۔ میں کیا انہیں بس اسی کا جواب دینے کے لئے وہاں معمور رہوں گی۔ منہ دکھانے کے قابل تو پہلے ہی نہیں رہی میں، اب میں مزید مصیبتیں اپنے سر مول نہیں لے سکتی!! سائرہ بیگم نے ناک سکوڑ کر حقارت سے کہا۔ عفاف بھی ان کی تائید میں سر ہلانے لگی۔ میر سالار کا چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخی مائل ہونے لگا۔
“مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کیا سوچیں گے مزید یہ کہ وہ کیا کہیں گے۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ جہاں میں رہوں گا وہاں وہ بھی رہے گی۔ وہ اس شادی میں شرکت بھی کرے گی۔ میرے ساتھ ہی اس کی شہر واپسی ہو گی۔ کوئی میرے سامنے کچھ بولنے کی جرت کرے گا تو اپنے انجام کا زِمّہ دار وہ خود ہوگا۔ بہتر ہوگا اس طرح کی مینٹیلٹی رکھنے والے اپنے مہمانوں تک میرا یہ پیغام لازمی پہنچا دیں۔۔!! اس نے چبا چبا کر بے تحاشہ طیش کے عالم میں کہا تو ان دونوں خواتین کا منہ کھل گیا جبکہ وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر ان دونوں کے تاثرات کو یکسر نظر انداز کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

              🧡🧡🧡🧡🧡

میں بھول جاؤں تمہیں اب یہی مناسب ہے
مگر بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں؟
کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو کوئی خواب نہیں!!
یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کیا کہوں کمبخت
بھلا نہ پایا کہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں،
وہ ایک خیال جو آواز تک گیا ہی نہیں!!
وہ ایک بات جو میں کہہ نہیں سکی تم سے
وہ ایک ربط جو ہم میں کبھی رہا ہی نہیں،
مجھے یاد ہے وہ سب جو کبھی ہوا ہی نہیں!!

اس شخص کی بے حِسی پر ڈھیروں آنسو بہانے کے بعد اب اس نے خود سے سختی سے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ چاہے اس کا دل لاکھ بین کرے، روئے چلائے مگر وہ اب مزید اس ظالم و جابر شخص کیلئے خود کو ہلکان نہیں کرے گی۔ اس نے زندگی کے اس بدترین دور کو قدرت کا فیصلہ سمجھ کر بالآخر اسے قبول کر لیا تھا۔
ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد بی جان کچھ دیر کے لئے دوبارہ سو گئی تھیں، کیونکہ وہ تہجّد گزار تھیں، سو اس لئے جلدی اٹھ جایا کرتی تھیں، پھر ناشتہ کرنے کے بعد ہی اپنی بقایا نیندیں پوری کرتی تھیں۔
زوفا ان پر لحاف ڈال کر خود لان میں چلی آئی۔ اسے یہاں ایک عجیب سے سکون کا احساس ہوتا تھا۔ وہ چپل پیروں سے نکال کر ننگے پاؤں گھاس پر چہل قدمی کرنے لگی کہ یکایک گاڑی کے ہارن پر چونک سی باہری گیٹ کی جانب دیکھنے لگی۔ چوکیدار کے گیٹ کھولنے پر گاڑی اندر داخل ہوئی۔ اتنی صبح صبح حاضری دینے والا کوئی اور شخص نہیں ایس۔پی حسن تھا۔ رات بھر کی تھکان کے بعد اب صبح صبح زوفا کو اپنے روبرو پا کر وہ خوشگوار سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ زوفا اس سے قدرے فاصلے پر تھی۔ وہ گاڑی سے اترا اور اس کی جانب بڑھ گیا۔
“اسلام علیکم؛ زوفا نے رسمی سی مسکراہٹ کیساتھ سلام کیا۔
“وعلیکم السلام، کیسی ہیں آپ؟ ایس۔پی حسن وہی چئیر پر بیٹھ گیا۔
“ٹھیک ہوں،،، وہ لئے دئے سے انداز میں بولی۔
“بی جان یقیناً سو رہی ہونگی! حسن نے اس کے معصوم چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے دوسرا سوال کیا۔
“جی؛ اس بار جواب پہلے سے بھی زیادہ مختصر تھا۔ جبکہ نظریں زمین پر ٹکی ہوئی تھیں۔ لائٹ پرپل کلر کے لان کے سوٹ میں وہ بالوں کی سادہ سی چوٹی بنائے بیحد معصوم و بے ریا لگ رہی تھی۔ حسن کا دل اسے دیکھکر قابو سے باہر ہونے لگا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب مزید اپنی محبت کو خود تک محدود نہیں رکھے گا۔ وہ اب زوفا سے اس متعلق روبرو بات کرنا چاہتا تھا۔
“زوفا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے؛ آئی ہوپ آپ مجھے غلط نہیں سمجھیں گی!! ٹرانس کی سی کیفیت میں حسن کے منہ سے وہ الفاظ نکلے تو زوفا اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں شروعات کہاں سے کروں! زوفا یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہوگا کہ میں آپ سے پہلی ہی نظر میں شدید ترین محبت کا شکار ہو گیا ہوں۔ میں نے آپ کے لئے جو محسوس کیا وہ کبھی کسی اور لڑکی کیلئے محسوس نہیں کیا۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے دل میں سکندر کے الاوہ کسی کیلئے جگہ نہیں ہے بلکہ میں اس بات پر بھروسہ رکھتا ہوں کہ انسان اپنے اخلاق اور اپنی محبت سے ہی دوسرے انسان کے دل میں جگہ بناتا ہے۔
وہ گمبھیر آواز میں کہتا جا رہا تھا دوسری جانب زوفا کے سر پر تو گویا آسمان ٹوٹ پڑا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایس۔پی حسن کے منہ سے اپنے لئے اظہارِ محبت سن رہی تھی۔ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ یکایک غم و غصّے کی ایک شدید لہر اس کے اندر اٹھی اور وہ جھٹکے سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ حسن چونک کر اس کو دیکھنے لگا اور خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی ایس۔پی صاحب کہ آپ میرے بارے میں اس طرح کے خیالات رکھیں؟ وہ سرخ چہرے کیساتھ بھینچی آواز میں ہلکے سے چلائی۔
“محبّت کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔ مجھے اگر آپ سے محبّت ہو گئی ہے تو اس میں میرا قصور کہاں ہے زوفا؟ ایس۔پی حسن نے بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ انداز اضطراب بھرا تھا۔
“نفرت ہے مجھے اس لفظ “محبّت؛ سے۔ آپ اپنی محبت اپنے پاس محفوظ رکھیں مجھے اب کسی محبت و الفت کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ کے گھر میں پناہ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مجھ سے کچھ بھی منوا لیں گے۔۔!! وہ پلکیں جھپک جھپک کر آنسو اندر اتارتی زہرخند لہجے میں بولی تو ایس۔پی حسن کے چہرے پر ایک شکستہ سی مسکراہٹ آ گئی۔
“زوفا، آپ کو بھلے ہی یہاں آئے بہت کم دن گزرے ہیں مگر پھر بھی میں کہوں گا کہ آپ مجھے سمجھ نہیں سکیں۔ میں ان مردوں میں سے ہرگز نہیں ہوں جو ایک کمزور عورت کا فاعدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو میری محبّت نہیں قبول تو نہ سہی مگر آپ میرے بارے میں ایسے مت سوچیں پلیز!!! حسن نے سرخ ہوتی آنکھوں کو مسلتے ہوئے کہا۔
“جلد از جلد یہ طلاق والا معاملہ نپٹ جائے اس کے بعد میں اب چھوٹی حویلی جانا چاہوں گی۔ اس انکشاف کے بعد میرا اب یہاں رہنا بہت مشکل ہے!! زوفا نے سپاٹ انداز میں کہہ کر اندر کی جانب قدم بڑھائے ہی تھے کہ حسن تڑپ کر اس کے سامنے آ گیا۔
“خدا کیلئے زوفا آپ اتنی بے اعتباری تو نہ دکھائیں۔ آپ کو میرا ساتھ نہیں منظور یہ بھی مجھے قبول ہے لیکن آپ کی آنکھوں میں میرے لئے یہ خوف اور بے اعتباری میرے لئے سوہانِ روح ہے۔۔!! وہ خود پر ہزار ضبط کر کے بھاری آواز میں بولا تو زوفا نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“جو کچھ میں نے سہا ہے اس کے بعد میرا اب کسی پر اعتبار کرنا محض بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں کہلائے گا۔۔!! اس نے شہادت کی انگلی سے بے دردی سے آنکھوں کو رگڑا تو ایس۔پی حسن کی آنکھیں مزید سرخی سمیٹ لائیں۔
“میں آپ کو تحفظ اور محبت دینا چاہتا تھا زوفا، میں تو صرف آپ کے غم سمیٹنا چاہتا تھا، لیکن میری محبّت ہرگز اتنی خود غرض نہیں ہے کہ میں آپ کی خواہش کی پرواہ نہ کر کے خود کو آپ پر مسلط کرنے کا سوچوں! مجھے نہیں پتہ کہ میں نے یہ کر کے صحیح کیا ہے یا غلط مگر مجھے کہیں پڑھے ہوئے الفاظ آج شدت سے یاد آ رہے ہیں کہ “عورت ہمیشہ غلط مرد سے دھوکہ کھانے کے بعد اس کا بدلہ صحیح مرد سے لیتی ہے؛ خیر، یہ آپ کی زندگی ہے سو مرضی بھی آپ کی ہی ہونی چاہئے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں! رہا سوال آپ کے یہاں رہنے کا تو بے فکر رہیں آج کے بعد اس ٹاپک کا گلہ میں یہیں گھونٹ دیتا ہوں۔ آپ کو آئیندہ اس بابت کچھ بھی سننے کو نہیں ملے گا۔ بس یہ سمجھ لیں میں نے کچھ کہا ہی نہیں اور نہ ہی آپ نے کچھ سنا!! وہ سنجیدگی سے اپنی بات ختم کر کے اندر کی جانب بڑھ گیا۔ انداز تھکا تھکا و شکستہ پا سا تھا۔ زوفا وہی کرسی پر ڈھے سی گئی۔ اس کا ذہن بری طرح ماؤف ہوا جا رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کسی ایسی جگہ بھاگ جائے جہاں انسانی روح کا نام و نشان تک نہ ہو! وہ وحشت سے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

              🌸🌸🌸🌸🌸

کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ ڈیرے پر چلا گیا تھا۔ وہاں سے لوٹا تو سیدھا اپنے کمرے میں جانے کیلئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ راہداری سے گزرتے ہوئے نظر سامنے سے آتی مِرحا پر پڑی تو سالار نے شوخ انداز میں اسے آنکھ ماری تو وہ مسکراہٹ دبا گئی۔
“کدھر غائب ہیں محترمہ؟ وہ اس کے نزدیک آئی تو میر سالار نے جھٹکے سے اسے خود سے قریب کیا۔ وہ بوکھلا کر اطراف میں دیکھنے لگی۔ یہاں کوئی بھی کسی بھی پل آ سکتا تھا۔
“سائیں یہ فارم ہاؤس نہیں ہے بلکہ حویلی ہے؛ وہ خفگی سے اپنی کمر سے اس کا ہاتھ ہٹانے لگی۔
“تو یہ تو مجھے بھی پتہ ہے جانِ من، کوئی نئی بات کریں؟ سالار نے مسکراہٹ ضبط کر کے اسے مزید تپایا۔
“آپ نہیں سدھریں گے؛ وہ آنکھیں گول گول گھما کر بولی
“سدھرنے کا کوئی ایک فاعدہ بتا دو! سالار نے اس کی ننھی سے ناک سے اپنی ناک ملائی تو وہ خفگی کے باوجود بلش کرنے لگی۔ میر سالار نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر کے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھاما اور کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“سنیں تو میری بات، مجھے ابھی اماں کے پاس جانا ہے؛ مِرحا نے گھبراہٹ پر قابو پا کر جلدی سے کہا۔ اس کی شدتوں و وارفتگیوں پر تو وہ پہلے ہی بوکھلاہٹ کا شکار تھی کجا کہ پھر سے وہ سب کچھ۔۔۔!! سوچ کر ہی اس کا دل سینے کی دیواریں توڑنے کے درپے ہونے لگا۔ میر سالار ان سنی کرتے ہوئے اسے لئے کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر کے اس کا مرمریں وجود دروازے سے لگا دیا اور خود اس کے اطراف میں دروازے پر دائیں بائیں اپنے ہاتھ ٹکا دیئے۔ مرحا نے شرمگیں تاثر پر بمشکل قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی شرٹ کے کالر پر نگاہیں ٹکا دیں۔ میر کی خمار آلود نظریں بیقراری سے اس کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔
وہ سی۔گرین کلر کے سمپل سے شرارے میں ملبوس تھی۔ دونوں ہاتھوں میں کانچ کی نازک سی چوڑیاں موجود تھیں۔ بالوں کی لمبی چوٹی بے ترتیبی سے آگے پڑی تھی۔ بنا کسی میک اپ کے اس سادگی میں بھی وہ سیدھی دل کے نہاں خانوں میں اتر گئی۔ اسے تکتی سالار کی آنکھیں لو دینے لگیں۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ مرحا نے نچلے دانتوں سے لب کچلتے ہوئے اسے دیکھا۔
“دیکھ رہا ہوں تم کس قدر ظلم کر رہی ہو ان نازک لبوں پر، کچھ مجھ سے ہی سیکھ لو یار، میں کتنے پیار سے انہیں،، اس سے پہلے کہ مزید کچھ بولتا مرحا نے بے اختیار اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ چہرہ گویا بھاپ بن کر اڑنے لگا تھا۔ شرم کی شدت سے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑنے لگی۔ میر سالار کی آنکھوں میں بلا کی شرارت بھری ہوئی تھی جبکہ وہ اس کی جانب دیکھنے سے مکمل گریز برت رہی تھی۔
کچھ پل ادھر سے ادھر دیکھنے کے باوجود اسے اپنے چہرے پر اس کی دلچسپی سے بھرپور گہری نگاہوں کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر اس نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔
“انتہا سے زیادہ خراب ہیں آپ؟ وہ چلبلا کر چلائی تو میر سالار کا خوبصورت قہقہہ کمرے کی فضا میں گونجا۔ وہ ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھوں کو ہٹانے لگا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ ہنوز دروازے پر ٹکا ہوا تھا۔ چہرے سے ہاتھ ہٹتے ہی مرحا اس کے شانے سے آ لگی۔ کمرے میں چوڑیوں کا شور اس دلکش ماحول کو مزید خوبصورتی بخش رہا تھا۔
“تمہاری یہ شرم و حیا بہت انمول ہے مِرحا۔ ہمیشہ ایسے ہی رہنا!!! وہ اسے خود میں بھینچ کر مدھم سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔ مرحا مزید اس میں چھپ گئی۔ میر سالار نے جھک کر اسے دیکھا اور پوری شدت سے اس کا گال پر اپنا لمس چھوڑا اور اس کے نازک وجود کو اپنے روبرو کیا۔ مرحا نے پلکوں کی باڑ جھکا لی۔

“جو اس کے چہرے پہ رنگِ حیا ٹھہر جائے تو سانس، وقت، سمندر، ہوا ٹھہر جائے وہ گنگنائے تو ہنس ہنس پڑیں کئی موسم وہ مسکرائے تو بادِ صبا ٹھہر جائے؛

اپنی سحر پھونکنے والی آواز میں اس نے یہ الفاظ بولے تو مرحا نے بے اختیار اسے دیکھا مگر اس کی نگاہوں سے چھلکتے تقاضوں پر وہ سر بے اختیار نفی میں ہلاتی اس کا حصار توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ میر سالار نے اپنی امڈتی مسکراہٹ دبا کر اس کی پیشانی چومی تو وہ جھینپ سی گئی۔
“چلو تیار ہو جاؤ، شاپنگ پر چلتے ہیں! میر سالار نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھا تو وہ الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“شاپنگ پر مگر کس لئے سائیں؟ میرے پاس تو وہاں بہت سے کپڑے موجود ہیں! اس نے ناسمجھی سے سوال کیا۔
“تو یہ کہاں لکھا ہے محترمہ کہ اب آپ مزید شاپنگ نہیں کر سکتی ہیں؟ وہ اس کے گال پر چٹکیاں بھر کر بولا تو وہ سی کی آواز نکال کر اسے گھورنے لگی۔
“تم چلو ساتھ میرے تمہیں حرم کی شادی کیلئے شاپنگ کرواتا ہوں اس کے الاوہ جو پسند آئے لے لیں گے۔۔! میں اپنی شاپنگ کل کر لوں گا۔۔ ہری اپ! وہ گھڑی دیکھتا عجلت میں والٹ جیب میں رکھنے لگا اور ساتھ ہی گاڑی کی کیز اٹھائی۔
مرحا نے لپک کر اپنی شال اٹھائی، اور خود پر اچھی طرح پھیلا کر میر سالار کی نوعیت میں کمرے سے باہر نکل گئی۔

               🌟🌟🌟🌟🌟

چھوٹی حویلی میں اتنے عرصے کے بعد پھر سے خوشیوں نے اپنی دستک دی تھی۔ زکا شاہ کے سرپنچ بننے کی خبر سن کر ساتھ ہی زوفا کی سلامتی کی خبر پا کر آسیہ بیگم و سویرا وغیرہ کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ایسے میں وہ یہ سوچ کر کچھ پُر ملال سی ہو گئیں کہ اگر بی جان آج موجود ہوتیں تو شاید وہ سب سے زیادہ خوش ہوتیں کیونکہ زوفا میں ان کی جان بستی تھی۔
“افففف اب صبر نہیں ہوتا، دل چاہ رہا ہے میں اڑ کر زوفا تک پہنچ جاؤں! سویرا بیقراری سے بولی تو آسیہ بیگم بھی آبدیدہ سی ہو گئیں۔
“ہاں تو صحیح کہہ رہی ہے۔ میری بچّی نے پہلے ہی بہت کچھ جھیلا ہے، ناحق ظلم سہے ہیں۔ وہ تو بھلا ہو میر کا جسے اس رب سوہنے نے فرشتے کے روپ میں میری زوفا کی مدد کیلئے بھیج دیا ورنہ شاید آج ہم اسے کھو چکے ہوتے! آسیہ بیگم کہتے کہتے بے آواز رونے لگیں تو سویرا اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے پاس آ بیٹھی۔
“جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہی ہوتا ہے امیّ سائیں، اب زوفا ہمارے پاس آئے گی تو میں تو کہتی ہوں اس کا نکاح چچا سائیں کے بیٹے سعد سے کروا دیں۔ سعد بھی اب اپنی پڑھائی کمپلیٹ کر کے یہاں آنے کو ہے۔ چچا سائیں کی فیملی بھی یہاں آ جانے کو ہے۔ گھر کی رونق بھی بڑھ جائے گی اور ہماری زوفا ہمیشہ ہمارے ساتھ اور ہمارے پاس رہے گی مجھے خوشی ہو گی کہ وہ میری دیورانی بنے گی۔۔!! سویرا نے ارقم (چچا) کے چھوٹے بیٹے سعد کا حوالہ دیا جس کی فیملی حویلی سے دور شہر میں مقیم تھی۔ سویرا ارقم شاہ کے بڑے بیٹے کے نکاح میں تھی جو کہ بچپن میں ہی طے پا گیا تھا۔ وہ لوگ بہت پہلے سے وہاں مقیم نہ تھے بلکہ انہیں وہاں شفٹ ہوئے کچھ ہی سال گزرے تھے مگر اب وہ پھر سے حویلی آنے کو تھے کیونکہ ارقم شاہ کا کہنا تھا کہ اپنی مٹی سے دور وہاں انہوں نے اپنا من تو بہت لگانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے سو اب وہ یہاں واپس آنا چاہتے تھے۔ زکا شاہ و فیاض شاہ تو یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئے ساتھ ہی گھر کی خواتین بھی نہال سی ہو گئیں۔ ویسے بھی بی جان کے گزر جانے کے بعد حویلی میں سناٹوں کا راج چل رہا تھا۔ دوسرا بڑا صدمہ زوفا کا تھا جس نے اس حویلی کو مزید خاموشی بخش دی تھی۔ مگر اب پہلے جیسی رونقیں دوبارہ اجاگر ہونے کو تھیں۔
“تم صحیح کہتی ہوں میری بچی، بہت اچھا فیصلہ ہوگا یہ، بھابھی بیگم آ جائیں تو میں ان سے اس بارے میں بات کروں گی۔ مجھے یقین ہے وہ بہت خوش ہونگی!! آسیہ بیگم کا انداز پُر امید تھا۔ سویرا نے مطمئن ہو کر ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔