Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

وہ نہایت عجلت میں واپس جانے کی تیاری میں تھا۔ فریدہ بیگم (ماں) و زیشان شاہ سے وہ پہلے ہی ملاقات کر چکا تھا۔ اور وہاج شاہ سمیت باقی سب سے صبح مردان خانے میں اس کی الوداعی ملاقات ہو چکی تھی۔ چونکہ دونوں حویلیاں گاؤں و شہر کے وسط میں تھیں تو اس کو یہاں آنے جانے میں کوئی خاص مسئلہ درپیش نہ تھا، مگر بعض اوقات کام کی زیادتی کی بنا پر وہ شہر میں مقیم فارم ہاؤس پر ہی ٹھہر جاتا کرتا تھا۔ وہ کام کے سلسلے میں نکلتا پھر اس کی واپسی ایک یا دو ہفتے قبل ممکن نہ ہوتی تھی۔
میر سالار نے آج دو روز بعد واپس جانا تھا اس لئے وہ نہایت عجلت میں اب نکلنے کو تیار تھا جبھی، فریدہ بیگم چلی آئیں۔ میر سالار ماں کو دیکھکر ہولے سے مسکرایا وہ جانتا تھا وہ اداس ہیں۔ شاہ زر بھی بزنس کے سلسلے میں بیرون ملک ہوتا تھا۔ اور وہ بھی کام کے سلسلے میں حویلی سے دور، وہ ماں تھیں، ان کی اداسی فطری تھی اور بجا بھی!
میر تو کچھ دن سکون سے حویلی میں بھی ٹِک جایا کر ! وہ خفگی سے کہتی بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ میر سالار گہرا سانس بھرتے ہوئے ان کے نزدیک بیٹھا اور انہیں اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا۔
امی سائیں، آپ جانتی ہیں میرے کام کس قدر اہم ہوتے ہیں۔ میں کام سے لاپرواہی ہرگز نہیں برت سکتا۔ رہی بات حویلی کی تو میرا آنا جانا تو یہاں ہوتا ہی ہے نا۔ کوئی مہینوں تو غائب نہیں رہتا میں ! وہ تسلّی آمیز انداز میں بولا۔ فریدہ بیگم نے بیٹے اس کی پیشانی چوم لی۔
میر تجھ سے بہت ضروری بات کرنی ہے بیٹا ! کچھ توقف کے بعد انہوں نے کہا تو میر سالار نے ریسٹ واچ دیکھی۔
امی سائیں زرا جلدی، کیونکہ مجھے نکلنا ہے ابھی ! وہ ہمہ تن گوش ہوا۔
بیٹا سائرہ (چچی سائیں) نے مورے سے روشی کیلئے تمہارا کہا ہے۔ روشی کی بھی یہی خواہش ہے۔ مجھے مورے نے تمہاری مرضی معلوم کرنے کو کہا ہے۔ تمہارا جواب کیا ہے سالار ؟ وہ امیّد بھری نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولیں جبکہ میر سالار کے اعصاب تن سے گئے۔

امی سائیں، پلیز میں اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو پتہ ہے میں ان سب سے دور رہنا چاہتا ہوں۔ اور روشی کے متعلق میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا اور نہ ہی اسے کبھی کوئی ایسی امید دلائی ہے جو وہ میرے متعلق اس نوعیت کا سوچ کر بیٹھ گئی۔
آپ مورے کو بول دیں کہ میں فلحال ان سب کیلئے تیار نہیں ہوں! وہ سخت لہجے میں دو ٹک بولتا اٹھ کھڑا ہوا۔ فریدہ بیگم نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ انہیں اس کا جواب پہلے ہی معلوم تھا مگر، وہ مورے کے حکم پر دوبارہ میر سے بات کرنے آ گئ تھیں۔

میر بات تو سن بیٹا، ابھی صرف منگنی کریں گے، کون سا نکاح کر رہے ہیں۔ کیا کمی ہے روشی میں میر؟ خوبصورت ہے، سلیقہ مند ہے! انہوں نے پھر سے ایک کوشش کرنی چاہی مگر سامنے میر سالار تھا۔ اسے رام کرنا مشکل ترین امر تھا۔
میں لیٹ ہو رہا ہوں امی سائیں، اب اجازت دیں مجھے ! ان کی بات یکسر نظر انداز کر کے وہ ان کے سامنے پیار لینے کو جھکا تو فریدہ بیگم نے بھی چپ سادھ کر اس کی پیشانی چومی اور ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے اسے رخصت کرنے اس کے پیچھے ہو لیں۔
وہ لاؤنج پار کرتے ہوئے بڑے سے برآمدے میں مسند کے سہارے بیٹھی مورے کی جانب چلا آیا، جنہوں نے تازہ پان سے اپنے ہونٹ لال کئے ہوئے تھے۔
وہ ان سے رخصتی لینے کو ان کی جانب جھکا، انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیشانی چومی۔
جُگ جُگ جیو میرے پُتر، سوہنا رب مزید کامیابیاں دے آمین !! ان سے دعائیں لینے کے بعد وہ خدا حافظ بولتا ہوا حرم و عفاف سے الوداعی کلمات کے بعد باہر کی جانب بڑھ گیا۔

ہاں اب بول فریدہ، بات کی تو نے سالار سے ؟ فریدہ بیگم جو آبدیدہ سی تخت کے پاس ہی کھڑی بیٹے کی سلامتی کی زیرِ لب دعائیں کر رہی تھیں، مورے کی آواز پر چونک کر انہیں دیکھنے لگیں۔ مورے کھوجتی ہوئی نظروں سے فریدہ بیگم کے چہرے کا معائنہ کر رہی تھیں۔
وہ، وہ اصل میں مورے وہ تیار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ فلحال ان سب چیزوں کے لئے تیار نہیں ہے، اور مزید یہ بھی کہ اس نے روشی کے متعلق کبھی ایسا نہیں سوچا۔ فریدہ بیگم نے جھکے ہوئے سر کے ساتھ جواب دیا۔
مطلب انکار کر دیا، لیکن کیوں کیا وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے ؟ مورے نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا
نہیں مورے، اتنا تو مجھے یقین ہے کہ وہ کسی کو پسند نہیں کرتا، بس وہ فلحال تیار نہیں ہے۔ فریدہ بیگم کے جواب پر مورے نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ اسی اثناء میں سائرہ بیگم وہاں آ گئیں۔
کیا کہا میر نے بھابھی بیگم؟ مجھے پتہ ہے وہ انکار نہیں کرے گا، میری روشی تو لاکھوں میں ایک ہے پھر انکار کی کوئی وجہ تو بنتی ہی نہیں! پرجوش سی سائرہ بیگم ایک تسلسل سے بولتے ہوئے دھپ سے تخت پر بیٹھ گئیں۔
تو جا فریدہ، میں بات کر لوں گی! مورے کے کہنے پر فریدہ بیگم جلدی سے وہاں سے کھسک لیں۔ ویسے بھی انہیں سائرہ بیگم کے ردعمل کا بخوبی علم تھا۔

               💛💛💛💛💛 

بلیک شرٹ و جیکٹ پر بلیک ہی جینس زیب تن کئے و نوکدار جوتوں سمیت سن گلاسز لگائے و بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔ ہوا کے جھونکے سے کچھ لائٹ براؤن بال کشادہ پیشانی پر آ گرے تھے۔ مرحا جسے آج اس کے جانے کی خبر ہو چکی تھی، صرف اس کی الوداعی جھلک کے لئے اتنی بڑی حویلی عبور کرتے پھولی سانسوں سمیت انیکسی کی جانب آئی تھی، تاکہ گاڑی گیٹ سے باہر نکتے وقت اسے میر سالار کی صرف ایک جھلک نصیب ہو جائے اور وہ واقعی ہو بھی گئی تھی۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی، مگر وہ ہمیشہ کی طرح اس کی موجودگی سے بے خبر تھا۔ گاڑی جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلی وہ جیسے ٹرانس سے نکل کر حال میں لوٹ آئی۔ آس پاس کے مناظر اس کے جاتے ہی پھیکے لگنے لگے تھے۔ یہاں تک کہ یہ وسیع و عریض حویلی جس میں مکینوں کی کمی نہیں تھی مگر اس ایک شخص کے چلے جانے سے ویران لگنے لگی تھی۔ وہ ایک اداسی کی سی کیفیت میں چلتی ہوئی حویلی کے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

عالمِ محبت میں ایک کمالِ وحشت میں بے سبب رفاقت میں دکھ اٹھانا پڑتا ہے، تتلیاں پکڑنے کو دور جانا پڑتا ہے! 🌸🌸🌸🌸🌸

حرم کی کالج سے دو روز کی غیر موجودگی کے باعث آج وہ خود سویرا ادی (بہن) و بی جان کیساتھ بڑی حویلی چلی آئی تھی۔ بڑی حویلی سے بقیہ جو لڑکیاں ابھی تعلیم مکمل کر رہی تھیں وہ بھی اسی کالج میں جاتی تھیں، بس درجات کا فرق تھا۔ اسے حرم سے ملنے کا بھی موڈ ہو رہا تھا ساتھ ہی وہ یہ سوچ کر آئی تھی کہ بڑی حویلی میں سب سے ہی ملاقات ہو جائے گی۔
بی جان تو مورے کے پاس تخت پر ٹک گئیں۔ ہمیشہ کی طرح مورے نے ان کا بھرپور سواگت کیا تھا۔
ارے زلیخاں، آؤ بیٹھو، تمہیں ہی یاد کر رہی تھی میں، سوچ رہی تھی شنّو کے ہاتھوں پیغام بھجواؤں، اور دیکھ تو خود ہی آ گئی۔ انہوں نے ایک بڑا سا پان منہ میں رکھتے ہوئے کہا، ساتھ ہی ایک پان بنا کر زلیخا بی کو تھمایا۔ وہ دونوں خواتین اب اِدھر اُدھر کی باتوں میں مصروف ہو چکی تھیں۔ سویرا اور زوفا مورے سے سلام دعا کر کے مسکراتے ہوئے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئیں۔ جہاں گویا کزنز کا میلہ لگا ہوا تھا۔ اور ایک دوسرے کے مابین گپ شپ جاری تھی۔ شام کا وقت تھا کچھ لڑکے شکار پر گئے ہوئے تھے جبکہ کچھ ڈیرے پر، سو اسوقت بس لڑکیوں نے ہی رونق لگائی ہوئی تھی۔
زوفا اور سویرا کو دیکھکر ان سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ وہ دونوں بھی ان سب کیساتھ علیک سلیک میں مصروف ہو گئیں۔

زوفا اچھا ہوا حرم نہیں گئی دو روز کالج، تم نے اسی بہانے بڑی حویلی کا چکر تو لگایا۔ تم پورے دو ہفتے بعد آئی ہو۔ باقی سب تو چکر لگاتے رہتے ہیں۔ مگر تم اپنا کوٹہ بس حرم سے مل کر پورا کر لیا کرو۔ ہم تو تمہارے کچھ نہیں لگتے نا! اسوہ نے ناراضگی سے کہا تو زوفا فوراً اپنی جگہ سے اٹھی اور اسوہ کے قریب بیٹھ کر اسے ساتھ لگاتے ہوئے چٹاچٹ اس کے گالوں پر پیار کیا۔
ارے کیسی باتیں کر رہی ہیں ادی؟ میں بھلا ایسا سوچنے کی گستاخی کر سکتی ہوں کیا؟ کالج سے تھکی ہوئی آتی ہوں پھر نکلنے کا دل نہیں کرتا، اور آج کل اسٹڈیز کا برڈن بھی زیادہ ہے نا؛؛ اس نے اپنے مخصوص میٹھے لہجے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا تو اسوہ کی ناراضگی زائل ہوئی۔
یار ہمیں سویرا ادی کا تو پتہ ہے کہ وہ الریڈی ایک کھونٹے سے بندھی ہوئی ہیں، پر زوفا بی بی کا بھی اب کوئی انتظام ہو جانا چاہئے۔ زارا کے شرارتی انداز پر جہاں باقی سب نے اس کا ساتھ دیا وہیں زوفا کے چہرے کا رنگ فق سا ہو گیا اور شِدّت ضبط سے چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس کے چہرے کی سرخی کو سب نے شرم سے تشبیہ دی اور مزید اسے چھیڑنے لگے۔ زوفا کو ایسا محسوس ہوا، یہ سب لوگ اس کے رِستے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ کا یہ سلسلہ نجانے کب تک جاری رہتا کہ اسے لاؤنج میں کسی کی آمد کا احساس ہوا، جوں ہی اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا وہیں ساکن رہ گئی۔ فاسق کیساتھ کھڑا وہ کوئی اور نہیں بلکہ سکندر شاہ تھا۔
اس نے گُم صُم سی کیفیت میں حرم کو دیکھا، جس کے چہرے پر سکندر شاہ کو دیکھکر قوسِ قزح کے رنگ بکھر گئے تھے۔ گویا حرم کی کالج سے دو روز کی غیر حاضری کی وجہ یہ تھی۔ اس نے ٹرانس کی سی کیفیت میں سکندر شاہ کو سلام کیا تو وہ اس پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر فاسق کیساتھ صوفے پر براجمان ہو گیا۔ بہت عام سی نظر تھی بلکل زوفا شاہ کی محبت کی طرح،، حرم بھی اٹھ کر سکندر کے پاس جا بیٹھی تھی۔
زوفا نے سختی سے اپنے دل کو سرزنش کی اور دل پر جبر کر کے اپنا پورا دھیان اسوہ وغیرہ کی باتوں کی جانب لگانا چاہا، مگر بے سود، سکندر شاہ سے اس کا سامنا کافی دنوں بعد ہوا تھا کیونکہ وہ اس کی موجودگی میں یہاں آتی ہی نہ تھی۔ سکندر کی حاضری و غیر حاضری کی خبر اسے باآسانی حرم سے مل جایا کرتی تھی، مگر اس بار حرم کے کالج نہ آنے کی وجہ سے یہ اہم خبر اس تک نہ پہنچ سکی تھی۔
وہ اس وقت سکندر شاہ کی جانب دیکھنے سے مکمل طور پر اجتناب برت رہی تھی، حالانکہ وہ اس سے زیادہ فاصلے پر نہ تھا، اسے لگا اس نے اگر ایک بار اور اسے دیکھ لیا تو وہ یہیں پتھر کی ہو جائے گی۔ مگر آخر کب تک؟؟
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے چور نگاہوں سے ان دونوں کی جانب دیکھا ان کے مسکراتے چہروں کو دیکھکر گویا اس کے زخم کچھ اور بھی ہرے ہو گئے۔ وہ اسی لئے اس شخص کے سامنے آنے سے ڈرتی تھی۔ وہ خود کو اذیت دینے سے ڈرتی تھی۔
تھوڑی دیر بعد سکندر شاہ کے چلے جانے حرم اس کے پاس آ بیٹھی اور پھر اس کی نا ختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ غائب دماغی سے ہوں ہاں کرتی رہی۔ زہن و دل پر جو شگفتگی حویلی میں داخل ہونے پر تھی وہ اپنا وجود کھو چکی تھی۔ وہاں اب اداسی تھی اور ایک سکوت، مکمل سکوت!!
وقفے وقفے سے وہ ان سب کی باتوں میں حصہ لیتی رہی تا کہ ان لوگوں کو کچھ محسوس نہ ہو، لیکن دل کی دنیا میں ایک تباہی سی مچ چکی تھی۔

فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا! 💕💕💕💕💕

سائرہ بیگم نے میر سالار کے انکار کا جب روشانے کو بتایا تو اس کے اندر بھانبھڑ جل اٹھے تھے۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میر سالار اسے ٹھکرا سکتا ہے اس جیسی حسین و جمیل لڑکی کو،، غصّے سے اس کا انگ انگ جل رہا تھا۔
اس نے دل ہی دل میں طے کر لیا تھا کہ وہ اس چیز کا بدلہ کسی نہ کسی صورت میں میر سالار سے لے کر رہے گی۔ اس کے نزدیک میر سالار نے اس کی خوبصورتی کی توہین کی تھی، چونکہ سائرہ بیگم کو بھی بیٹی کا یوں ٹھکرائے جانا پسند تو نہ آیا تھا لیکن بقول ان کے کہ ان کی پریوں جیسا حسن رکھنے والی اکلوتی بیٹی کو اس حویلی میں بہت سے لڑکے مل جائیں گے۔ ان کے برعکس ان کی بیٹی نے اب اس چیز کو اپنی انا و نسوانیت کی توہین کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ اب پتہ نہیں وہ اپنے مزاج کے کون کون سے جوہر دکھانے والی تھی۔

                💚💚💚💚💚

مرحا حویلی کے دوسرے منزلہ کی صفائی کر رہی تھی۔ پھر وہ صفائی کی غرض سے میر سالار کے کمرے میں داخل ہوئی تو جیسے روم روم میں ایک سکون کی لہر سی دوڑ گئی۔ اس کی غیر موجودگی میں صفائی کی بھی غرض سے کوئی اس کے روم میں۔ داخل ہونے کی جرت نہیں کرتا تھا پھر اس کی موجودگی میں تو بات ہی بہت دور کی تھی، مگر مرحا بخش اس پل یہ بات بالکل فراموش کر چکی تھی۔
وہ کمرے میں نظریں دوڑانے لگی، جہاں ہر چیز نفاست و سلیقے سے اپنی جگہ موجود تھی۔ آہستہ قدموں سے بے خود انداز میں چلتی ہوئی وہ بیڈ پر آ بیٹھی اور میر سالار کے تکئے پر دھیرے سے ہاتھ پھیرا تو روح تک میں ایک گداز سا احساس اتر گیا۔
اس کے بعد وہ ڈریسنگ ٹیبل کے نزدیک آ کھڑی ہوئی، جہاں مختلف برانڈ کے پرفیومز و دیگر چیزیں نفاست سے رکھی ہوئی تھیں۔ وہ ایک ایک شئے کو چھو کر اس شخص کا لمس اپنے اندر اتار رہی تھی۔
ڈریسنگ ٹیبل کے بعد وہ وارڈروب کھول کر اس کے کپڑے دیکھنے لگی ساتھ ہی وارڈروب کے ایک حصے میں رکھے چند رومال میں سے اس کا ایک رومال اٹھا کر اس کی خوشبو کو اس میں تلاش کرنے لگی، پھر وہ یکایک ہوش میں آئی اور رومال رکھنے ہی لگی تھی کہ پھر کچھ سوچ کر اس نے رومال کو چھوٹا سا تہہ کر کے اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھا تھا۔ ان سب کے دوران وہ اس بات سے قطعی طور پر بے خبر تھی کہ دو شعلہ بار نگاہیں بالکنی کی جانب سے کھلنے والی کھڑکی کے شیشے کے اس پار اس کی ایک ایک حرکت ملاحظہ کر رہی ہیں۔ مرحا بخش کا یہ اقدام اس کے لئے کون سی تباہی لے کر آنے والا تھا وہ اس بات سے انجان اپنی محبت کے نشے میں سرشار تھی۔

               🥀🥀🥀🥀🥀

صبح کے سات بج رہے تھے۔ چھوٹی حویلی میں سب ناشتے کی میز پر براجمان ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔
بی جان اس بار زوفا نے کافی دنوں بعد چکر لگایا بڑی حویلی کا کیوں زوفا؟ سویرا نے زوفا سے پوچھتے ہوئے چائے کا سِپ لیا تو وہ نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے خاموشی سے سر ہلا گئی۔
اوہ اچھا تو آپ لوگ بڑی حویلی گئے تھے کل؟ وہ بیغیرت شموئیل خان موجود ہے یا نہیں حویلی میں؟ جاب سے واپس آیا اپنی؟ صارم شاہ نے نخوت و نفرت سے چور لہجے میں شموئیل خان کا پوچھا۔
تمہیں اس چیز سے کیا سروکار ہے صارم؟ فیاض خان نے پوتے کو برہمی سے گھورا۔ جبکہ بی جان سمیت آسیہ بیگم و سویرا تاسف سے سر ہلا کر رہ گئیں۔ زوفا خاموش نظروں سے بھائی کو دیکھ رہی تھی جبکہ باقی سب بھی ان کی گفتگو ملاحظہ کر رہے تھے۔
سروکار ؟؟ مجھے ہی تو سروکار ہے اس سے دادا سائیں، جب تک اپنا بدلہ نہیں لے لیتا چین کی سانس نہیں لوں گا۔ کان کھول کر سن لیں سب !! وہ اونچی آواز میں بولا
خاموش ہو جاؤ صارم، لحاظ بھول چکے ہو ؟ کس چیز کا بدلہ ہاں آخر کس چیز کا بدلہ؟ وہ ہمارے بڑوں کا فیصلہ تھا نہ تو اس میں شموئیل کا کوئی قصور ہے اور نہ ہی کسی اور کا سمجھے ! زکا خان نے سخت لہجے میں بیٹے کو باور کرایا تو وہ طنزیہ ہنسی ہنس دیا۔
ہونہہ !! کچھ بھی کہہ لیں بابا سائیں، منتہا میری ہے صرف میری، اسے پانے کے لئے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں۔ اگر ان دونوں کا نکاح بچپن میں ہی طے پا گیا تھا تو میں بھی تو بچپن سے محبّت کرتا ہوں منتہا سے۔ جب تک وہ میری نہیں ہو جاتی نہ تو میں چین کی سانس لوں گا اور نہ کسی اور کو لینے دوں گا۔ صارم شاہ جنونی انداز میں بولتے ہوئے اٹھا اور تنتناتا ہوا باہر نکل گیا۔ وہ سب اس کے گستاخانہ رویے پر ساکت سے بیٹھے رہ گئے۔ اتنے برس گزر چکے تھے اور آج بھی اس کی ضد اور ہٹ دھرمی وہیں کی وہیں تھی۔ نجانے اس کی یہ ضد انہیں حالات کا کون سا روپ دکھانے والی تھی۔

              💗💗💗💗💗

رات کے گیارہ بج رہے تھے جب مرحا شبانہ بی کے ساتھ تھکی تھکی سی انیکسی میں داخل ہوئی اور چارپائی پر گر سی گئی، جبکہ شبانہ بی منہ ہاتھ دھونے کے بعد اب نمازِ عشاء پڑھنے کی تیاری میں تھیں۔ اسی دوران مرحا کو یکایک اپنے پلو میں بندھا اس سنگدل کا وہ رومال یاد آیا وہ بیساختہ اٹھ بیٹھی، اور شبانہ بی سے نظریں بچا کر چھوٹی سی الماری میں رکھے اپنے کپڑوں کی تہہ میں احتیاط سے وہ رومال رکھ لیا۔ اس کے بعد اس نے بھی پھرتی سے وضو بنایا اور نماز ادا کی۔ اسی اثناء میں اب شبانہ بی سونے کیلئے لیٹ چکی تھی جبکہ وہ نماز پڑھکر حسبِ معمول اپنی لمبی چٹیوں کے بل کھول کر بیٹھ گئی۔ اس کی عادت تھی کہ وہ ہر رات سلیقے سے بالوں کی چوٹی کر کے سوتی تھی۔
اماں سو گئی ہیں کیا ؟ اس نے شبانہ بی کو مخاطب کیا
نہیں دھی، آج میں بہت خوش ہوں۔ سمجھ نہیں آ رہی اپنی خوشی لفظوں میں کیسے بیان کروں۔ شاہ بی بی نے تو میری آدھی فکر دور کر دی ہے۔ بس جلدی سے یہ کام بھی ختم ہو جائے ! وہ خوشی سے کانپتے لہجے میں بولیں اور بستر پر اٹھ بیٹھیں۔

ایسا بھی کیا کہہ دیا شاہ بی بی نے اماں؟ آپ کی خوشی دیکھکر تو یوں لگتا ہے گویا آپ کے ہاتھوں ہفتِ اقلیم آ لگی ہو ! مرحا شرارت سے کہتی فرش سے اٹھ کر ان کے پاس آ بیٹھی۔
میری دھی، تجھے کیسے بتاؤں کتنی خوش ہوں۔ شاہ بی بی نے آج مجھے بلا کر تیرے رشتے کی بات کی ہے۔ میر سائیں ہیں نا ان کا ایک بہت وفادار ملازم ہے وہاں شہر میں تو شاہ سائیں نے اس کی بابت شاہ بی بی کو بتایا ہے اور تیرے لئے سوچا ہے۔ تجھ سے عمر میں کوئی کوئی بیس اکیس سال ہی بڑا ہے لڑکا۔ لیکن عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا بچی، تجھے بہت خوش رکھے گا۔ میں کہاں تیرے لئے رشتہ ڈھونڈھتی پھرتی بول؟ شاہ سائیں کا بڑا احسان ہے ہم پر !! شبانہ بی خوشی سے چہک اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے بولتی چلی گئیں جبکہ مرحا کو ایسا لگا کہ کسی نے اس کے سر پر زوردار دھماکہ کر کے اس کا وجود ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اچھال دیا ہو۔ وہ ساکت سی پتھرائی آنکھوں سے شبانہ بی کو دیکھے جا رہی تھی۔ یکایک وہ ہوش میں آئی اور تڑپ کر ان کا ہاتھ اپنے چہرے کے گرد سے ہٹا کر بستر سے نیچے اتر گئی۔
یہ یہ ک کیا کہہ رہی ہیں اماں؟ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ ن نہیں یہ نہیں ہو سکتا یہ میں نہیں ہونے دوں گی اماں! وہ ہذیانی انداز میں بولتی بے بسی کے گہرے احساس سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ شبانہ بی منہ کھولے حیرت زدہ سی اسے تکنے لگیں۔
یہ کیا کہہ رہی ہے میرو بول؟ تو انکار کیسے کر سکتی ہے؟ شاہ بی بی تیرا برا نہیں سوچ سکتی میری دھی! شبانہ بی بستر سے اتر کر اس کے پاس آئیں جو بے جان سی حالت میں کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔

آپ کی میرو مر جائے گی اماں، میرے ساتھ یہ ظلم نہ کریں، میں مر جاؤں گی اماں سچ میں !! وہ گھٹی گھٹی آواز میں روتے ہوئے بولی
کیا مطلب ہے تیرا بول ؟ اس بار شبانہ بی نے تقریباً اسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا
نہیں رہ سکتی میں ان کے بغیر، سنا آپ نے اماں؟؟ میں نے محبت نہیں عشق کیا ہے۔ خدارا میرے جسم سے روح مت کھینچیں اماں !! وہ شبانہ بی کے گلے سے لگ کر زور زور سے رونے لگی۔ شبانہ بی نے جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا اور اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما مگر اس بار گرفت سخت تھی۔
کس کے بغیر مرحا بول؟ وہ کون ہے نام بتا؟ ان کے لہجے میں انجانا سا ڈر بسا ہوا تھا۔
میر سائیں، میں میر سائیں سے محبّت کرتی ہوں اماں، آپ کی میرو ان کے بغیر ادھوری اور نا مکمل ہے۔ خدارا مجھ سے میرے میر سائیں کو الگ مت کریں۔ مجھے اپنی دعاؤں پر پورا بھروسہ ہے۔ ایک روز وہ میرے ہو جائیں گے۔ اپنی حلق سے امڈتی چیخوں کو دبائے وہ کہتی چلی گئی۔ اسوقت وہ سراپا لاچارگی و عاجزی کا پیکر بنی ہوئی تھی۔
شبانہ بی کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ انہوں نے اسے پیچھے کی جانب دھکا دیا اور تقریباً دوڑتے ہوئے کمرے میں لگی چھوٹی سی کھڑکی کے پٹ بند کئے تھے پھر خوف زدہ انداز میں دروازے کی جانب دیکھا جو کہ پہلے سے ہی بند تھا۔ دوسرے کمرے میں مقیم ملازمین کے کانوں تک یہ بات جا پہنچتی تو نہ جانے ان دونوں ماں بیٹی کا کیا حشر ہوتا۔
وہ اب بھی زار و قطار رو رہی تھی۔ شبانہ بی لپک کر اس کے پاس پہنچی اور اس کے ہونٹوں پر ہاتھ جما کر گویا اس کی سسکیوں کا گلا گھونٹنا چاہا۔
میری بات غور سے سن مرحا، آج تو تونے یہ بات کر دی، لیکن اگلی بار میں نے تیرے منہ سے ایسی کوئی بھی بکواس سنی تو تجھے زندہ دفن کر دوں گی۔ تو اپنی اوقات بھول گئی ہے کیا بول؟ ارے ہماری اوقات تو ان کے برابر کھڑے ہونے کی نہیں ہے اور یہ تو کیا کیا خرافات سوچے بیٹھی ہے بول ؟ غم و غصّے سے کانپتی آواز میں شبانہ بی نے اس کے منہ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ کچھ اور بھی بڑھا دیا تھا۔ مرحا کی آنکھیں و چہرہ خطرناک حد تک سرخ ہو رہے تھے۔ شبانہ بی کو احساس ہوا تو ہاتھ ہٹا کر اسے بستر کی جانب دھکیلا وہ کھلے بالوں سمیت بستر پر ڈھے سی گئی۔

وعدہ کر مرحا، بول کہ اب تو ایسی کوئی بکواس نہیں کرے گی بول ؟ انہوں نے جھٹکے سے اس کے شکستہ وجود کو اٹھا کر بٹھاتے ہوئے پوچھا جس کے چہرے کے تاثرات پتھر سے جبکہ انداز ساکن تھا۔

اماں کیا ہم جیسے لوگوں کا محبت کرنا جرم ہے؟ اس نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کر کے شبانہ بی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ لہجہ عجیب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ آنکھوں میں عجیب سا درد ہلکورے لے رہا تھا۔ شبانہ بی بیساختہ نظریں چرا گئیں۔
یہی سمجھ لے، انہوں نے سپاٹ لہجے میں کہا تو مرحا کے ہونٹوں پر ایک مضمحل سی مسکراہٹ آ گئی جو فوراً ہونٹوں کے ہی گوشوں میں کہیں گم ہو گئی۔
تو پھر مجھے اپنے ہاتھوں سے مار کر دفن کر دیں اماں، کیونکہ میر سائیں کے بغیر تو میری اس زندگی کا تصور میرے لئے ناممکن ہے۔ اب کی بار اس نے بے تاثر آنکھوں سے شبانہ بی کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
یہی کروں گی، فکر نہ کر، اب اگر تونے ایسا ویسا کچھ سوچا اور کہا مرحا تو سمجھ لے تیری ماں تیرے لئے مر گئی، اور ہاں کان کھول کر سن لے ہوگا وہی جو میں چاہتی ہوں سمجھی۔ اب چپ چاپ سو جا۔ صبح بہت سے کام ہیں۔ وہ سخت لہجے میں کہہ کر اپنے بستر پر لیٹ گئیں جبکہ وہ لٹی پٹی سی بال بکھرائے بیٹھی اپنی تقدیر پر ماتم کناں تھی۔ کیا اتنی ارزاں تھی اس کی محبّت؟ کیا وہ ساری عمر ایسے ہی تہی داماں رہ جائے گی؟ سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں نئے سرے سے برسنے لگیں۔ اور یہ برسات نہ جانے کتنی دیر تک جاری رہنے والی تھی۔

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں جاری و ساری ہے

آ