No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
کیا اندھیروں کے غم کیا اجالوں کے دکھ جب ہرا دیں مقدر کی چالوں کے دکھ جن کی آنکھیں نہیں وہ نہ روئیں کبھی جان جائیں اگر آنکھ والوں کے دکھ میری منزل کہاں، ہمسفر ہے کدھر مار ڈالیں گے اب ان سوالوں کے دکھ دو گھڑی کیلئے پاس بیٹھو اگر بھول جائے گا دل کتنے سالوں کے دکھ تم ملے ہو تمہاری محبّت نہیں ہجر سے بھی بڑے ہیں وصالوں کے دکھ
گاڑی بڑی حویلی کے گیٹ کے اندر آ رکی تو وہ ملازمہ کے ہمراہ گاڑی سے نیچے اتری۔ گاڑی میں وہ اور ملازمہ اور ڈرائیور کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ سکندر شاہ تو نکاح کے فوراً بعد ہی وہاں سے ڈیرے پر چلا گیا تھا جبکہ وہاج شاہ نے بیٹوں سمیت حویلی کا رخ کر لیا تھا۔ زوفا نے یاسیت زدہ نظروں سے حویلی کی اونچائیوں پر ایک نظر ڈالی۔ اسے آج ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ یہاں پہلی دفعہ آئی ہو۔ آج پہلی دفعہ ایسا ہوا بھی تو تھا کہ یہاں آتے ہوئے اس کے دل سے وہ گرمجوشی مفقود تھی جو بڑی حویلی کا نام سنتے ہی دل میں گھر کر جاتی تھی۔
سر جھکائے آہستہ قدموں سے ملازمہ کی نوعیت میں چلتی وہ برآمدے کی جانب آ گئی۔ زرا سی نظریں اٹھا کر اس نے سامنے تخت پر بیٹھی شاہ بی بی کو دیکھا جن کے تیور غزب کی کرختگی لئے ہوئے تھے۔ اس وقت وہاں سوائے مردوں کے تمام خواتین موجود تھیں۔ اسے لگا اس کے پیروں میں مزید چلنے کی سکت باقی ہی نہیں بچی مگر اسے وہ بھی کرنا تھا جو اس کا دل کرنے پر راضی نہ تھا۔ وہاں موجود ہر فرد کی نظریں اسی کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔
زرا سی نظریں اٹھانے پر ہی اسے اس بات کا ادراک ہو چکا تھا کہ وہاں موجود نفوس کی آنکھوں میں اس کے لئے محض اجنبیت کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ زوفا کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی اس حویلی اور یہاں کے مکینوں سے کبھی آشنائی ہی نہ تھی۔
لرزتے دل کے ساتھ وہ تخت کے پاس آ کھڑی ہوئی اور جیسے ہی سلام کرنے کے لب واں کئے مورے نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روک دیا۔
“ہمارے اوپر دنیا جہاں کی مصیبتیں لا کر اب ہم پر سلامتی بھیجی رہی ہے واہ بھئی۔۔۔ مورے ہاتھ نچا کر طنزیہ لب و لہجے میں بولیں تو زوفا ان کے انداز پر ششدر سی رہ گئی۔ یہ وہ مورے تو نہ تھیں جو ہمیشہ اس کے یہاں آنے پر بڑی خوشدلی سے نہ صرف اس کے سلام کا جواب دیتی تھیں بلکہ گرمجوشی سے اِدھر اُدھر کی باتیں بھی کیا کرتی تھیں۔ اب ان کے لہجے کی نا شناسائی اس کا دل بری طرح گھائل کر گئی۔
“مورے؛ زوفا کے ہونٹوں سے آہستگی سے ان کا نام ادا ہوا جبکہ لہجے میں بے یقینی کی گہری چھاپ تھی۔
“خبردار جو مجھے مورے کہا تو، اس حویلی سے اب تم لوگوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تم ایک قاتل کی بہن ہو اور “قاتل؛ کا مطلب سمجھتی ہو نا؟ انہوں نے چنگھاڑتی آواز میں کہا تو زوفا کی آنکھوں میں دھند سی اتر آئی۔ جو جرم اس نے کیا ہی نہیں تھا اسے اس بات کی سزا دی جا رہی تھی۔ بے بسی سے اس کا دل کرلایا۔
جبھی آدھی طوفان کی طرح وہاں منتہا آئی تھی۔ اس سے پہلے کی زوفا کچھ سمجھتی ایک زوردار طمانچے نے اس کا نازک سا رخسار سرخ کر دیا۔
“بے حیا بے شرم، تمہارے اس شیطان صفت بھائی نے میرا سہاگ اجاڑ دیا۔ اور آخری وقت تک تم سب اسے بچاتے رہے۔ سب پتہ چل چکا ہے مجھے! وہ ہذیانی انداز میں چیختی زوفا کا گلا دبا دینے کے درپے تھی کہ حفضہ بیگم نے اسے زبردستی پیچھے کیا اور خود اس کے مقابل آ کر استہزائیہ تاثرات کے ساتھ اسے ملاحظہ کرنے لگیں جس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہو گیا تھا۔
“منتہا میری دھی، دھیرج رکھ، اس کا علاج تو میں کروں گی۔ بس مجھے اجازت دیں شاہ بی بی! حفضہ بیگم نے اس کا بازو دبوچتے ہوئے تخت نشین شاہ بی بی کی جانب دیکھا جو آنکھوں میں لطف لئے اب بڑا سا پان منہ میں ڈال رہی تھیں۔ زوفا کی بے اختیار سسکی نکل گئی۔ اس قدر زلت، اس قدر غیروں والا رویہ، اسے لگا درد کی شدت سے اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔
“جرگے میں ہوئے فیصلے کے مطابق ہم اس لڑکی کیساتھ چاہے جیسا بھی سلوک کریں ہمیں اس کی کھلی آزادی ہے۔ ویسے بھی ہماری روایات میں قاتل یا قاتل کے خاندان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کا زکر نہیں آتا۔ لے جاؤ اسے کال کوٹھری میں قید کر دو۔ اور یہاں سب کو اجازت ہے اس کے ساتھ جو دل چاہے جس کا وہ ویسا سلوک کرے۔ تاکہ اسے بھی “خون بہا؛ و “ونی؛ کا مطلب سمجھایا جا سکے!!! نخوت سے کہتی ہوئی مورے کے ہر انداز سے اس کے لئے حقارت عیاں تھی۔ حفضہ بیگم بیدردی سے اسے کھینچتے ہوئے لے جانے لگیں جبکہ اس کی سسکیاں مزید تیز تر ہو گئی تھیں۔
“مورے خدا کیلئے ایسا مت کیجئے۔ میرا کوئی قصور نہیں ہے مورے، خدا کے لئے رحم کیجئے میں یکسر بے قصور ہوں۔ آپ کو میرے رب کا واسطہ ہے۔۔۔ اس کی روتی ہوئی دل چیرنے والی آواز وہاں موجود کسی ایک فرد کا بھی دل نہیں پگھلا سکی۔ شاید کسی کو اس پر ترس آ بھی جاتا تو بھی شاہ بی بی و وہاج سائیں کا فیصلہ ان سب لئے سب سے افضل تھا۔ لڑکیوں کی جھرمٹ میں کھڑی حرم کی آنکھوں میں چمک کیساتھ ساتھ مزید بے اعتنائی اتر آئی تھی۔
♥️♥️♥️♥️♥️
لیپ ٹاپ پر مسلسل ٹائپنگ سے وہ اب کچھ تھکان سی محسوس کر رہا تھا سو لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھ کر وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر ایزی ہو کر بیٹھ گیا۔
نظریں چھت سے ٹکاتے ہوئے اس کا ذہن گردش کرنے لگا۔ بڑی حویلی کا خیال آتے ہی اس کا تن من سلگ گیا۔ وہاج شاہ نے جو عدل اپنا دکھایا تھا وہ اس کے لئے نا قابلِ برداشت تھا۔ مگر وہ جانتا تھا کہ اس کے پیچھے وہاں وہ سب ہو رہا ہوگا جس کی اسے توقع تھی۔ حرم کے ساتھ اس ناانصافی کو سوچتے ہوئے اس کا خون کھول گیا۔
وہ آنکھیں بند کئے پیشانی پر دائیں ہاتھ کے انگھوٹے سے ضربیں مار رہا تھا۔ یکایک سر میں درد کا احساس جاگنے لگا تھا۔ شاید تھکان کا اثر تھا۔
جبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کا چلتا ہاتھ رک گیا تاہم آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔
“سائیں؛ مدھم و سریلی آواز کانوں میں گونجی۔
“ہوں؛ اس نے ہاتھ سے پیشانی مسلتے ہوئے محض “ہوں؛ سے کام چلایا
“اگر آپ کے سر میں درد ہے تو میں دبا دوں؟ مِرحا نے جھجھکتے ہوئے پوچھا مبادا وہ آتشِ فشاں کی طرح دوبارہ نہ پھٹ پڑے۔
“دبا دو؛ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے بند آنکھوں سے ہی اسے اجازت دے دی۔ وہ تعجب سے بیہوش ہونے کو تھی مگر خود کو سرزنش کرتے ہوئے بمشکل ہوش میں لائی اور آگے بڑھ کر لرزتا ہوا نرم و ملائم ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھ دیا تو جیسے سر سے پاؤں تک سنسنی دوڑ گئی۔ وہ آہستگی سے سر دبانے لگی۔ دل اندر سے ڈر بھی رہا تھا۔ تقریباً پندرہ منٹ تک وہ یونہی اس کا سر دباتی رہی۔
“اب تم جا سکتی ہو؛ پندرہ منٹ بعد اس کی گمبھیر آواز کمرے کی فضا میں گونجی تو وہ سر اثبات میں ہلاتی بے تحاشہ دھڑکتے دل کیساتھ اس کے کمرے سے نکل گئی مگر پتہ نہیں کیوں کمرے سے باہر نکلتے وقت اسے اپنی پشت پر میر سالار کی گہری و پُرتپش نگاہوں کا احساس ہوا تھا۔ لیکن آج اس کا یوں اسے سر دبانے کی اجازت دے دینا اس کے لئے مقامِ حیرت تھا۔ وہ ہنوز بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
🌸🌸🌸🌸🌸
حفضہ بیگم نے نہایت بیدردی سے اسے اس خوفناک کمرے میں لا پھینکا تھا۔ وہ اس وقت کوئی جابر و سفاکیت سے بھرپور وہ عورت لگ رہی تھیں جس کے دل پر کسی کی آہیں و سسکیاں اثر انداز نہیں ہوتیں۔
“چچی سائیں، پلیز میرے ساتھ ایسا سلوک مت کریں۔ میں اپنے ناکردہ جرم کی معافی مانگتی ہوں خدا کیلئے۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بے بسی سے بلک اٹھی تو حفضہ بیگم کے چہرے پر زہرخند پھیل گیا۔ اسے بالوں کی جڑوں سے پکڑ کر انہوں نے اس کی جل تھل آنکھوں میں دیکھا۔
“میرے بیٹے کو مجھ سے ہمیشہ کیلئے جدا کرنے سے پہلے تیرے اس مردود بھائی کے دل میں رحم آیا تھا جو میں تجھ پر رحم کروں بول؟ انہوں نے اس کی گردن کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا تو وہ تکلیف کی شدت سے کراہ کر رہ گئی۔ دروازے پر کھڑی منتہا کی آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر آئی تھی۔
اس کے بالوں کو چھوڑ کر انہوں نے اسے زمین کی جانب دھکا دیا تو وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑی۔ انہوں نے پاس پڑا چھوٹا و وزنی چابک اٹھایا تو خوف کے مارے زوفا کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اور پھر اس کے بعد وہ اس کی پشت، و کمر پر نہایت ہی بے رحمی سے وہ چابک مارتی چلی گئیں۔ پوری کال کوٹھری اس کی کربناک چیخوں سے گونج اٹھی تھی۔
“اب تمہیں پتہ چلے گا “ونی؛ کا اصل مفہوم۔۔ ابھی تک تو ہماری نرمی دیکھ رہی تھی نہ اب یہ بھی دیکھ!! چبا چبا کر کہتے ہوئے وہ بس ہاتھ چلائے جا رہی تھی۔اس میں اتنی طاقت ہی نہ تھی کہ وہ اپنا بچاؤ کرتی۔ کچھ ثانیے بعد انہوں نے ہاتھ روکا تو وہ نیلو نیل ہو رہے وجود کیساتھ بے دم سی زمین پر گر گئی۔
“ہونہہ؛ حقارت سے اسے دیکھتے ہوئے حفضہ بیگم نے ایک جانب تھوک دیا اور خود تن فن کرتی منتہا کے ہمراہ وہاں سے نکل گئیں۔ زخموں سے چور چور جسم کیساتھ وہ زمین پر الٹی پڑی تھی۔ اس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ وہ اس وقت بے حد قابلِ رحم لگ رہی تھی۔
“ائے میرے اللّٰہ، مجھے موت دے دے، ایسے گھٹ گھٹ کر مرنے سے بہتر ہے کہ تو مجھے ابھی اور اسی وقت موت دے دے۔ یہ سب میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ خدا کیلئے مجھے کوئی جواب دے؛ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔ اس نے اپنی زندگی میں کبھی پھولوں کی چھڑی تک سے مار نہ کھائی تھی کجا کہ اس قدر ظلم و ستم سہنا،،، اس کا دل سسک اٹھا اور ہونٹوں سے کراہیں نکلنے لگیں۔
قدموں کی آہٹ پر اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھول کر دروازے کی سمت دیکھا تو وہاں “حرم؛ کو کھڑا دیکھکر اس کے آنسو ٹھٹھر سے گئے۔
“حرم؛ بے اواز اس کے لبوں سے حرم کا نام نکلا۔ وہ مشکلوں سے اٹھ کر بیٹھی اور سامنے نظر کی مگر یہ کیا، حرم کے چہرے پر اس کے لئے رحم تو بالکل بھی نہ تھا پھر یہ کیسا تاثر تھا اس کے چہرے پر جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
حرم سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے چلتی اندر آئی اور سرتاپا اس کا جائزہ لیا پھر وہ پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی۔
“جانتی ہو زوفا، تمہیں اس حالت میں دیکھکر پتہ نہیں کیوں مجھے سکون مل رہا ہے۔ کیونکہ تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ہے۔ اس وقت تم میری جگہ موجود ہو۔ نفرت محسوس ہو رہی ہے مجھے تم سے سمجھیں تم! سپاٹ آنکھوں سے اسے دیکھتے حرم کے لہجے میں بلا کی سرد مہری تھی۔ زوفا کی چہرہ فق جبکہ آنکھوں میں نمی سی در آئی۔
“حرم ان سب میں میرا قصور کہاں ہے؟ پلیز کوئی مجھے نہیں سمجھ رہا کم از کم تم تو سمجھو، تم تو میری دوست تھیں حرم، ایسا کیسے کہہ سکتی ہو تم میرے لئے… وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بے تحاشہ رو پڑی۔
“میرے منگیتر کے بارے میں عشقیہ خیالات رکھتے ہوئے تم نے یہی نہیں سوچا کہ میں تمہاری دوست ہوں زوفا؟ حرم نے اس کے چہرے پر نظریں جمائے چبھتے لہجے میں پوچھا تو زوفا اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔ چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حرم کو دیکھا تو اس نے قمیض کے اندر چھپا کر رکھی وہ ڈائری نکال کر زوفا کی آنکھوں کے سامنے لہرائی تو زوفا کو یوں لگا جیسے ہر سمت اندھیرا چھا گیا ہو گھپ اندھیرا!!
“حرم یہ، یہ ڈ، ڈائری؟ بمشکل اس کے لبوں نے حرکت کی تو حرم کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکان آ گئی
“حیران ہو نا کہ یہ میرے پاس کیسے آئی؟ ویسے میں بھی اسے پڑھکر حیران ہوئی تھی۔ نا صرف حیران ہوئی تھی بلکہ دل چاہ رہا تھا تمہارا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دوں۔ کیسے مان لوں آج کہ تم محض مجبوری میں یہاں ہو۔ تمہارے تو دل کی مراد بر آئی ہے۔ دل ہی دل میں خوش تو بہت ہوگی تم ہے نا؟۔۔۔ ہسٹریک انداز میں کہتے ہوئے اس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بری طرح جھنجھوڑ ڈالا۔ درد کی زوردار لہریں زوفا کے پورے وجود میں سرائیت کر گئیں۔
“میں نے سکندر سائیں سے محبّت ضرور کی ہے حرم، لیکن باخدا میں نے کبھی انہیں تم سے چھیننے کا نہیں سوچا۔ مجھے یہ الزام مت دو خدا کیلئے۔ اس الزام تراشی کے ساتھ میں جی نہیں سکوں گی۔ وہ ٹوٹے پھوٹے ہوئے لہجے میں کہتی بے بسی سے ایک بار پھر رو پڑی اور بے جان وجود کے ساتھ زمین پر گر سی گئی۔
“میں نے جو کہا ہے بالکل سچ کہا ہے زوفا شاہ، تم غاصب ہو سنا تم نے۔۔۔ ایک طرف تم کہتی ہو تم نے سکندر سائیں کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کبھی نہیں کی دوسری طرف تم ان کے نکاح میں شامل ہو کر آج میرے روبرو ہو۔ ہونہہ منافقت۔۔۔ زوردار ٹھوکر اس کی کمر پر مارتے ہوئے وہ تیز قدموں سے وہاں سے نکل گئی۔ جبکہ وہ زخموں سے چور چور وجود لئے ڈوبتے ذہن و نیم واں آنکھوں کے ساتھ دروازے کی جانب تک رہی تھی جہاں سے ابھی ابھی حرم نکلی تھی۔ اسے حرم سے اس رویئے کی امید نہ تھی۔ اس کے سبھی زخموں میں یہ سب سے بڑا زخم تھا۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گالوں پر بہہ نکلا۔
“خدا کیلئے تم مجھے ایسے الزام مت دو، میرا اللّٰہ جانتا ہے کہ میں غاصب نہیں ہوں حرم!! زیرلب اس کے لبوں سے ٹوٹ کر یہ الفاظ ادا ہوئے اور پھر اس کا ذہن گہری تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔
دل کا لُٹنا دیکھنا و دل کا سودا دیکھنا کس قدر پرسوز ہے خود کو اکیلا دیکھنا
خود ہی تنہائی میں کرنا خواہشوں سے گفتگو
اور ارمانوں کی بربادی کو تنہا دیکھنا
🤍🤍🤍🤍🤍
وہ ایک ہفتے کیلئے نہایت ہی ضروری کام سے جا رہا تھا۔ اس کی لیپ ٹاپ سمیت ضروری چیزیں ڈرائیور نے گاڑی میں رکھ دی تھیں باقی اس کے محافظ بھی تیار تھے۔ وہ لابی میں ملازمین کو ہدایات دے کر بس نکلنے کو ریڈی ہی تھا کہ وہ چلی آئی۔ لیمن کلر کے سوٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح پیاری مگر ازحد پریشان لگ رہی تھی۔ لب بھینچ کر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ پہلے تو وہ کچھ کشمکش کا شکار رہی پھر آخر ہمت کر کے بول ہی پڑی۔
“سائیں میں نے دینو سے سنا ہے کہ آپ ایک ہفتے کیلئے یہاں سے جا رہے ہیں۔ تو میں اکیلی کیسی رہوں گی۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے! وہ روہانسی ہو کر بولی تو سیکینڈ سے بھی کم وقت لگا تھا میر سالار کا پارہ ہائی ہونے میں!
“واٹ؟ دماغ درست ہے تمہارا؟ یہاں بیٹھ کر میں تمہیں پہرہ نہیں دے سکتا سمجھ آئی۔ اپنی حد میں رہو! وہ غصّے سے تیز لہجے میں بولا تو خفیف سی ہو گئی۔ مگر دوسرے ہی پل پھر سے رونے والا منہ بنا لیا۔
کچھ بھی تھا وہ صبح کا گیا شام تک یا پھر دوسرے روز ہی آتا تھا تو پھر بھی اسے ڈھارس رہتی تھی مگر یوں ایک ہفتے کے لئے وہ جا رہا تھا۔ اور وہ نوکروں کے رحم و کرم پر ایک ہفتے گزارنے کا سوچ کر ہی خوف زدہ ہو گئی تھی۔ وہ تھوڑا ڈرپوک ٹائپ تھی بھی دوسری بات وہ کسی پر اتنی جلدی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی۔
کوٹ اٹھا کر بازو پر لٹکاتا وہ لابی کے دروازے کی جانب بڑھا ہی تھا کہ وہ سسکتی ہوئی آگے بڑھ کر اس کے سینے سے لگ گئی اور سختی سے اسے جکڑ لیا جبکہ اس کی اس اچانک و غیر متوقع حرکت پر وہ جہاں تھا وہیں ساکت کھڑا رہ گیا۔
جاری ہے لا
