No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
سوچ کیا رہے ہو سکندر؟ مزید تاخیر مت کرو اور جلد از جلد اس رشتے کو اس کے انجام تک پہنچاؤ!! میر سالار نے ہاتھ میں پیپرز اور پین تھامے چپ چاپ بیٹھے سکندر کو مخاطب کیا تو وہ جیسے کسی خیال سے چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے میں سائن کر دیتا ہوں! سکندر شاہ نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے میر سالار کے بتانے پر جس جس پوائنٹ پر اس کے دستخط دستیاب تھے وہاں دستخط کر دئیے۔ میر سالار نے بیساختہ سکون کا گہرا سانس لیا اور پیپرز اس کے ہاتھ سے لے کر واپس اسے لفافے میں ڈال دیا، ساتھ ہی اسے دیکھا جو جوتے کی نوک سے زمین خرچ رہا تھا۔
“کن خیالات میں گم ہو سکندر شاہ؟ سالار نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔
“کچھ نہیں، میں سوچ رہا تھا کہ طلاق نامے پر دستخط کرنے سے پہلے ایک بار زوفا سے ملاقات ہو جائے، مقصد میرا اسے منا کر واپس اپنی زندگی میں شامل کرنا نہیں ہے کیونکہ یہ تو مجھے بخوبی معلوم ہے کہ حرم کے الاوہ میرے دل اور میری زندگی میں کسی کی گنجائش نہیں ہے، مگر میں اس کے ساتھ ہوئی زیادتی کے لئے اس سے معافی کا خواہاں ہوں۔ کیونکہ جو کچھ بھی ہوا دیکھا جائے تو اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے اس صورت میں تو بالکل نہیں جب اصل مجرم پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ اب جب مجھے بھی اس حقیقت کا علم ہوا ہے تو ظاہر سی بات ہے میں بھی اس کے ساتھ کئے گئے اپنے فعل پر شرمندہ ہوں! مگر سچ کہوں تو مجھ میں اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے اسی لئے میں نے دستخط کر دئیے۔ اچھا ہوتا کہ اس سے ملاقات کر کے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر لیتا۔۔۔!! سکندر شاہ نے ندامت سے چور لہجے میں آہستگی سے کہا۔
“بہت خوب، کافی جذباتی تقاریر کی ہے آپ نے، یقین مانیں میں اس سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ میر سالار نے طنز کے تیر چلائے۔
“کیا مطلب ہے سالار؟ تمہیں لگتا ہے میں ڈرامہ کر رہا ہوں؟ سکندر شاہ نے شہادت کی انگلی سے اپنے سینے کی جانب اشارہ کیا۔ انداز استفہامیہ تھا۔
“میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو اسے یہی محسوس ہوتا سکندر شاہ، تم کوئی دودھ پیتے بچے نہیں ہو جسے ہر چیز سمجھانے کی ضرورت ہے۔ جب تمہیں حقیقت کا علم نہیں تھا تب تو بنا کسی شرمندگی کے تم سب کے ساتھ اس گناہ میں شامل تھے۔ اس پر تشدد ہوتے ہوئے دیکھنا، اسے حقیر سمجھنا وغیرہ۔ تب تو تمہارے دل میں یہ خیال ایک بھی دفعہ نہیں آیا کہ یہ لڑکی بے قصور ہے۔ اس عقلمندی کا مظاہرہ تم نے پہلے کیوں نہیں کیا؟ اب تمہیں یہ جو بے جا ہمدردی کا بخار چڑھ رہا ہے، تو بہتر ہوگا اسے اتار پھینکو، کیونکہ اب تمہاری معافی طلافی سے اس کو کوئی غرض نہیں ہے۔ تم بہت خود غرض انسان ہو۔ اب بھی صرف اپنے سکون کی خاطر اس سے معافی کے خواہاں ہو۔ میں اب بھی کہوں گا کہ وہ تم سے بہتر انسان ڈیزرو کرتی ہے اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی آر نہیں کہ تم اس کے قابل نہیں ہو! میر سالار نے ٹھہر ٹھہر کر چبھتی آواز میں کہا اور جھٹکے سے چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ سکندر شاہ زمین پر نظریں گاڑے اپنی جگہ خاموش بیٹھا تھا۔
“شہر جا کر میں ان کاغذات پر زوفا کے سائن بھی لے لوں گا۔ جتنی جلدی یہ معاملہ رفع دفع ہو جائے بہتر ہے۔۔۔!!! سالار سنجیدگی سے کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے سکندر شاہ اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️
شام کے پانچ بجنے کو تھے جب وہ حویلی میں داخل ہوا۔ اس نے سیدھا مردان خانے کی جانب رخ اختیار کیا کیونکہ اسے معلوم تھا اس وقت وہاج شاہ اسے وہیں ملیں گے۔ اس کا اندازہ درست نکلا، وہ مردان خانے میں بیٹھے سگار سلگائے گاؤں کے کچھ لوگوں کو اپنے قدموں میں بٹھائے ہوئے ان کی خدمت سے فیضیاب ہو رہے تھے۔
“اسلام علیکم، میر سالار لب بھینچے ان سے کچھ فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔ وہاج شاہ اس کی آواز پر چونک کر اسے دیکھنے لگے۔
“کہو میر کیسے آنا ہوا؟ وہاج شاہ نے سلام کا جواب دینے کی زحمت کئے بغیر تلخی سے پوچھا ساتھ ہی ان سب کو جانے کا اشارہ کیا۔ اب وہاں صرف میر سالار و وہاج شاہ موجود تھے۔
“آپ میرے آنے کا مقصد تو بخوبی جانتے ہیں یہ الگ بات کہ آپ سب کے ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے، خیر میں یہاں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ سکندر نے خلع کے کاغذات پر دستخط کر دئیے ہیں سو آج رات میرا جرگہ بیٹھے گا جس میں میں اپنے فیصلے کے متعلق سب کو آگاہ کروں گا۔۔!! اس نے جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے دو ٹک لہجے میں کہا تو وہاج شاہ کا رنگ فق سا ہو گیا۔
“میں ایک بار پھر تم سے کہتا ہوں میر، سنبھل جاؤ۔ تم یہ اچھا نہیں کر رہے۔ بغاوت کر رہے ہو تم ہماری روایات سے۔ اور تمہیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔۔!! وہاج شاہ نے خود پر قابو پا کر دانت کچکچا کر کہا۔
“دادا سائیں، اس بغاوت پر مجھے اکسانے والے بھی آپ ہی ہیں۔ آپ کو وہ سب کرنے سے پہلے اس کے انجام کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے تھا۔ جرگہ تو بیٹھے گا اور میں فیصلہ بھی سناؤں گا۔ جو لوگ آپ کو بہت نیک پرور سمجھتے ہیں مجھے ایسا لگتا ہے اب ان کی آنکھوں سے بھی پردہ ہٹ جانا چاہئے۔ یہاں ہر کسی کو اس سچائی کا علم ہونا چاہئے۔۔۔!! وہ طمانیت سے بولا۔ وہاج شاہ کے تو گویا سر پر لگی اور تلوؤں پر جا کر بجھی۔
“یہاں کا بچہ بچہ میرے حکم کا محتاج ہے۔ یہاں سب میرے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ تم ان سب کو میرے خلاف بھڑکاؤ گے تو کیا وہ مان جائیں گے سب کچھ؟ غلط بالکل غلط اندازہ ہے تمہارا سالار۔۔۔!!! وہاج شاہ کے لہجے میں غرور رچا بسا تھا۔
“سب سے پہلی بات کہ ہم سب صرف اس پاک ذات کے حکم کے محتاج ہیں۔ اس کے سامنے ہم انسانوں کی کوئی وقعت نہیں۔ دوسری بات ہر انسان کو اس کے حصّے کا رزق خدا تعالیٰ فراہم کرتا ہے پھر چاہے زریعہ جو بھی بنا ہو۔ آخری بات، میں یہ بھڑکانے والی مہیم سے قدرے دور ہوں۔ میں صرف حقائق کو بیان کرتا ہوں اور وہی کروں گا باقی لوگ خود سمجھدار ہیں۔ لوگوں میں اتنی سینس تو ہے کہ وہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہیں گے۔۔۔ اب میں چلتا ہوں۔ جرگے میں ملاقات ہو گی۔۔ اس نے سنجیدگی سے نظریں ان کے سرخ چہرے پر جمائے ہوئے کہا ساتھ ہی وہاں سے نکل گیا۔ وہاج شاہ غصے کی شدت سے بیحال اٹھ کھڑے ہوئے اور اضطراری کیفیت میں اِدھر سے اُدھر چکّر کاٹنے لگے۔
🧡🧡🧡🧡🧡
میر سالار کا ڈرائیور اس کا سامان یہاں پہنچا گیا تھا اور اب وہ انہیں اپنے نئے کمرے کی خالی وارڈروب میں ترتیب دینے میں مصروف تھی۔ اس کے بعد اس کا ارادہ بی جان کے پاس جانے کا تھا۔ وہ جلدی جلدی ہاتھ چلانے میں مصروف تھی کہ دروازے پر دی گئی دستک پر وہ چونک اٹھی۔
“آ جائیں، اس نے مصروف سے انداز میں کہا۔
“کیا میں اندر آ سکتا ہوں مِس زوفا؟ ایس۔پی حسن کی آواز پر وہ چونک کر پلٹی تو اسے دروازے میں استاذہ پایا۔ وہ سنجیدہ تاثرات لئے کھڑا تھا۔
“ہاں کیوں نہیں بیٹھیں، زوفا نے صوفے کی جانب اشارہ کیا اور وارڈروب بند کرتے ہوئے خود صوفے پر آ بیٹھی۔ اس نے سوالیہ نظروں سے حسن کو دیکھا۔
“آپ سے اہم بات کرنی ہے زوفا، ایکچولی سالار کی کال آئی تھی کچھ ٹائم پہلے،، اس نے وکیل سے خلع کے کاغذات تیار کرنے کو کہے تھے جو کہ آج شام سالار تک پہنچ بھی گئے۔ سمجھ نہیں آ رہی میں آپ کو کیسے بتاؤں۔ یہ خبر شاید بیک وقت آپ کی خوشی اور آپ کے غم دونوں کا سامان بنے۔ مگر آپ کو اطلاع دینی بھی ضروری ہے۔۔!! ایس۔پی حسن کا انداز کشمکش سے بھرپور تھا۔
“آپ بتائیں، میں خود کو سنبھال لوں گی۔۔!! زوفا نے بے حِس لہجے میں کہا۔ اس کی نظریں اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھنے لگیں۔
“سالار نے ان کاغذات پر سکندر شاہ کے دستخط لے لئے ہیں۔ اب سالار جب شہر آئے گا تو آپ کے دستخط بھی مطلوب ہوں گے۔ یوں یہ کاروائی پوری ہو جائے گی۔۔!! ایس۔پی حسن نے اس کے چہرے پر جیسے کچھ کھوجتے ہوئے پوچھا، جبکہ دوسری جانب زوفا کا چہرہ پل بھر کے لئے متغیر ہو کر رہ گیا۔ اس کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ آس اب بھی بچی تھی کہ شاید سکندر شاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔ اسے بھلے ہی اپنی زندگی میں نہ رکھتا مگر اس کے ساتھ ہوئی زیادتی پر کم از کم اسے ندامت تو ہوتی،،، کیا اتنی بے وقعت تھی وہ اس شخص کیلئے، اس قدر حقیر کہ اس کے ساتھ اس بے جا ظلم پر وہ شخص انسانیت کے واسطے بھی آواز نہیں اٹھا سکا؟ سوچتے ہوئے اس کا دل خون خون ہو گیا اور چہرہ شِدّتِ ضبط سے بے تحاشہ سرخ پڑ گیا۔ آنکھوں میں دھند سی اترنے لگی۔
“آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ناقابلِ فراموش ہے مگر ایسے شخص کی سنگت کا کیا فاعدہ جس کو آپ کے مرنے یا جینے سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو! تھنک اباؤٹ اِٹ!! حسن تسلّی آمیز انداز میں بولا مگر وہ بُت کی طرح اپنی جگہ پر ساکت و جامد بیٹھی تھی۔
“زوفا میں آپ سے مخاطب ہوں! حسن نے اس کا ساکن انداز نوٹ کرتے ہوئے دوبارہ اسے مخاطب کیا تو وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ ایسا کیا گناہ مجھ سے ہو گیا آخر جس کی بھرپائی مجھے اس طرح کرنی پڑی ہے!! وہ کھوئی کھوئی سی ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی تو ایس۔پی حسن کے دل کو جیسے کچھ ہوا تھا۔ اس کا ٹوٹا پھوٹا انداز اس کے اندر کی داستان بیان کر رہا تھا۔
“دیکھیں زوفا، اسی کا نام “زندگی؛ ہے۔ آزمائش اللّٰہ کی طرف سے اپنے بندے کیلئے ایک امتحان کا نام ہے۔ مجھے پتہ ہے جس پر گزرتی ہے وہ بہتر سمجھتا ہے لوگ تو بس تسلیاں ہی دے سکتے ہیں، مگر آپ اس کہانی کا مثبت پہلو بھی تو دیکھیں۔ جو چیز آپ کے قابل نہیں تھی وہ آپ سے دور کر دی گئی۔ اسے آپ چاہیں تو اپنی “خوش قسمتی؛ کا نام بھی دے سکتی ہیں!! ایس۔پی حسن نے ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات کہی۔ زوفا پلکیں جھپک جھپک کر بمشکل اپنے آنسو اندر اتارنے لگی۔ درد حد سے سوا تھا اور اسے وہ ہی سمجھ سکتی تھی۔
“جس شخص سے میں نے اس قدر محبّت کی وہی میری محبّت میری خوشیوں کا قاتل نکلا۔ میری زندگی کے باب میں سب سے بے رحم و سفاک باب بڑی حویلی میں گزرا ہوا وہ وقت ہے جسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکتی۔۔!! وہ آنسوؤں سے بھیگی آواز میں بولی۔
“گزرا ہوئے وقت کو بھول جائیں زوفا۔ یہ آپ کو محض اذیت کے سوا کچھ نہیں دیں گے! حسن نے اس کے چہرے پر اپنی بیقرار نظریں دوڑائیں۔
“یہی تو فیکٹ ہے کہ انسان سب کچھ بھول سکتا ہے مگر اپنا ماضی نہیں بھول سکتا۔ ہمارے 100 فیصد دکھوں میں ہم 95 فیصد دکھ اپنے ماضی کا لے کر چلتے ہیں۔ کہنا بہت آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا انتہائی مشکل۔ ماضی تو گزر جاتا ہے مگر ہم وہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ یہی زندگی کی حقیقت ہے حسن صاحب!! وہ یاسیت زدہ سی بولی۔ چہرہ اندرونی خلفشار کے باعث سرخ ہوا جا رہا تھا۔
“میں آپ کی بات سے بالکل متفق ہوں۔ مگر مجھے امید ہے وقت کیساتھ ساتھ آپ سنبھل جائیں گی۔ میں چلتا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ بی جان کے ساتھ آپ کا وقت اچھا گزرے گا۔ دل بھی بہل جائے گا۔ وہ کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا اور اسے باہر آنے کا کہہ کر خود باہر نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی زوفا کا خود پر بندھا ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بری طرح سے سِسک اٹھی۔ اس کی سسکیوں کی آواز سے پورا کمرہ گونج رہا تھا۔
دل پہ ہم ایک چوٹ کھا کر رو پڑے
بیوفا سے دل لگا کر رو پڑے!!
لکھ کے اس کا نام دل کے ورق پر
اپنی ہستی کو مٹا کر رو پڑے!!
جس نے پوچھا ہم سے بچھڑے یار کا
اس کو سینے سے لگا کر رو پڑے!!
🌸🌸🌸🌸🌸
اس کے حکم کے مطابق گاؤں میں یہ اعلانِ عام کر دیا گیا تھا کہ وہاج شاہ کے پوتے میر سالار نے آج جرگے میں ایک اہم سماعت کرنی ہے لہٰذا وقتِ مغرب سب حاضر ہو جائیں۔ وہاج شاہ کے بجائے میر سالار کا نام سن کر لوگ چونک سے گئے اور تجسّس کے مارے عین جرگے کے وقت لوگوں کی ایک بھیڑ سی امڈنے لگی۔ یہ سماعت تمام گاؤں والوں کے سامنے ہونے تھی۔ لوگ یہ جاننے کے لئے بیتاب تھے کہ “آخر وہاج شاہ کے بجائے ان کے پوتے نے کیوں جرگہ بٹھایا ہوا ہے جبکہ وہ تو سرپنچ بھی نہیں ہے؛ بڑی حویلی سے بھی تمام مرد حضرات وہاں موجود تھے۔ وہاج شاہ بھینچے ہوئے جبڑے کیساتھ وہاں بیٹھے بمشکل اپنا غصہ ضبط کرنے میں مصروف تھے۔ چھوٹی حویلی کے مرد حضرات نے بھی اس جرگے میں اپنی شمولیت کی تھی۔
میر سالار سرپنچ کا شملہ ہاتھ میں لئے اپنے لمبے قد و قامت کیساتھ خود تخت نشین ہو گیا۔ وائٹ کرتا پاجامہ ساتھ ہی کندھے پر شال ڈالے، نفاست سے سنوارے بالوں میں وہ بلا کا جاذب نظر لگ رہا تھا۔ وہاج شاہ اس کی عین سائید پر ہی بیٹھے اسے کینہ توز گھور رہے تھے۔
“میرے گاؤں کے معزز لوگوں، جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ میرا شمار وہاج شاہ کے پوتے و زیشان شاہ کے چھوٹے فرزند کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ آج کی یہ سماعت دادا سائیں کے بجائے میری طرف سے کیوں رکھی گئی ہے اس کی وجہ بھی آپ سب کو جلد ہی پتہ چل جانی ہے۔ مجھے امید ہے کہ بنا کسی جھجھک و ڈر کے آپ میری بات پر غور فرمائیں گے اور میرے فیصلے کو ترجیح دیں گے۔ وہ اپنی مخصوص گھمبیر آواز میں بولا تو وہاں موجود لوگوں کے چہرے پر تجسّس کا رنگ مزید گہرا ہو گیا۔ وہاج شاہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے۔
“آپ سب سے یہ بات چھپی ہوئی نہیں ہے کہ سبحان شاہ کے بڑے بیٹے شموئیل شاہ کا قاتل زکا شاہ کا بیٹا صارم شاہ ہے۔ لیکن ایک نہایت ہی اہم بات یہاں ہر کسی سے چھپائی گئی یہاں تک کہ حویلی والے بھی اس سے کافی دنوں تک ناواقف رہے!! اس نے وہاج شاہ پر تیکھی نظر ڈال کر اپنی بات جاری رکھی۔ وہاج شاہ کا چہرہ دھواں دھواں ہونے لگا۔ وہاں ہر کوئی سوالیہ تاثر لئے کھڑا اور بیٹھا تھا۔
“وہ اہم خبر میں آپ سب تک پہنچاتا ہوں۔ شموئیل شاہ کے قتل کے دو روز بعد صارم شاہ ہمارے آدمیوں کو مل گیا تھا گاؤں سے کچھ دوری پر۔ جب انہوں نے اس بابت دادا سائیں کو خبر کی تو ان کا یہ حکم تھا کہ صارم کو مار کر وہیں کہیں اس کی تدفین کر دو اور اس بات کی بھنک کسی کو نہ پہنچے۔ قاتل کو مارنے کے باوجود انہوں نے صارم کی بہن جس کا اس کا اس سارے معاملات سے کوئی لینا دینا ہی نہ تھا، نہایت ہوشیاری سے اسے ونی میں مانگ لیا۔ اس پر تشدد کیا گیا اسے غیر انسانی حالت میں رکھا گیا، یہاں تک کہ اس سے اس کی نازک حالت میں حویلی کے کام بھی کرائے گئے۔۔۔ ایسا کرنے کے پیچھے ان کا واحد مقصد اپنی نسل پرستی کا تھا!! اب بتائیں کیا وہاج شاہ اپنی جگہ درست ہیں؟ اس نے تفصیلات سے آگاہ کیا تو گاؤں والوں کے آنکھیں اس انکشاف پر پھٹ سی گئیں۔ وہ تو اب تک اصل بات سے ناواقف تھے بلکہ وہ سب تو شدت سے صارم شاہ کے ملنے کا انتظار کر رہے تھے مگر، یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا تھا۔ یہ خبر واقعی میں ان سب کو شاکڈ کر دینے والی تھی۔ وہاج شاہ زمین پر نظریں گاڑے سرخ چہرہ لئے بیٹھے تھے۔ ان کے بیٹے بھی سرد تاثرات کیساتھ خاموش بیٹھے تھے۔ سکندر شاہ کا جھکا سر مزید جھک گیا تھا۔ باقی لڑکے بھی اپنی اپنی جگہ چپ سادھے ہوئے تھے۔
“میری نظر میں اس شملے کی بہت عِزّت ہے۔ اسے کسی کم ظرف کے سر پر نہیں، بلکہ کسی عدل پسند انسان کے سر پر ہونا چائیے۔ تو بتائیں سب، کیا وہاج شاہ کی جانب سے اس غیر انسانی سلوک پر اب بھی آپ سوچتے ہیں کہ وہاج شاہ کو جرگے کا سرپنچ ہنوز رہنا چاہئے؟ میر سالار نے ہاتھ میں پکڑے شملے کو عقیدت سے آنکھوں سے لگا کر سوال اٹھایا۔ گاؤں والے ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگے۔ جبکہ چھوٹی حویلی کے مردوں پر تو گویا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ زکا شاہ صدمے سے اپنی جگہ سے لڑکھڑا سے گئے مگر بیک وقت انہیں فیاض شاہ نے سہارا دیا جن کو خود ابھی تک اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ گاؤں والے سخت کبیدہ خاطر نظر آ رہے تھے البتہ ان کی زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وجہ وہ خوف تھا جو وہاج شاہ نے لوگوں کے دلوں میں اپنے متعلق بٹھایا ہوا تھا۔
“دیکھا جائے تو اس حویلی کے سبھی لوگ اس گناہِ عظیم میں شامل ہیں۔ مگر وہاج شاہ کا نام سرِ فہرست اس لئے ہے کیونکہ جو کچھ ہوا انہیں کے حکم پر ہوا تھا۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں فیصلہ آپ سب کا ہے۔ کھل کر اپنی اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ کیا وہاج شاہ کو جرگے کا سرپنچ رہنا چاہئے؟ میر سالار نے اس بار قدرے سخت لہجے میں کہا۔
“نہیں رہنا چاہیئے۔ ہم اس کے سخت خلاف ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے بہت سے دل دکھانے والے فیصلے کئے ہیں اب تو حد ہی ہو گئی۔ ہم انہیں اب مزید بطورِ سرپنچ قبول نہیں کر سکتے!! ایک آدمی نے نڈر انداز میں آگے بڑھ کر کہا تو اس کی آواز کیساتھ ساتھ وہاں سبھی گاؤں والوں کی آوازیں بلند تر ہوتی چلی گئیں۔ ہر کوئی وہاج شاہ کے خلاف بول رہا تھا۔ وہاج شاہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنا ابتدائی زوال دیکھ رہے تھے۔ بقیہ حویلی والے بھی حیرت زدہ سے بیٹھے تھے۔ زکا شاہ سمیت فیاض شاہ نے سکھ کا گہرا سانس بھرا جبکہ میر سالار کے چہرے پر محضوظ مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو آہستہ آہستہ آواز دبنے لگی۔
“جو آپ سب چاہتے ہیں وہی ہوگا۔ یہ تو ہو گیا آپ سب کا فیصلہ، اب میں اپنے فیصلے کے متعلق سب کو آگاہ کرنے جا رہا ہوں! اس نے ایک جتاتی نظر بدحواس بیٹھے وہاج شاہ پر ڈالی ساتھ ہی ان سب سے مخاطب ہوا۔ وہاں موجود ہر شخص اس وقت ہمہ تن گوش تھا۔
