Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

بڑی حویلی میں اس وقت سب ڈائننگ روم میں ناشتے کی غرض سے موجود تھے، اور جن لڑکیوں کو کالج جانا تھا وہ صبح ہی کالج کے لئے روانہ ہو گئی تھیں۔
فریدہ میر کی طبیعت اب کیسی ہے؟ وہاج شاہ نے جوس کا گھونٹ بھرتے ہوئے فریدہ بیگم سے پوچھا۔ میز پر چائے رکھتی مرحا نے بھی اپنی تمام تر سماعتیں فریدہ بیگم کی جانب لگا دیں۔

الحمدللّہ اب بہتر ہے بابا سائیں، صبح میں نے چیک کیا ہے۔ اس وقت تو وہ ناشتہ کچھ ٹائم کے بعد کرنے کو کہہ رہا تھا، مگر اب تم اس کے لئے کچھ کھانے کیلئے لے جاؤ مرحا !! انہوں نے وہاج شاہ کو جواب دیتے ہوئے پاس کھڑی مرحا کو حکم دیا، اور وہ تو یہی سوچ کر خوش ہو گئی کہ پھر سے ایک بار اس دشمنِ جاں کا دیدار نصیب ہوگا، یکایک اسے گزری رات کا وہ لمحہ یاد آیا تو جیسے اس کے سر سے لے کر پاؤں تک ایک سنسنی سی دوڑ گئی، جبکہ چہرہ سرخ ہو گیا۔ بمشکل دل کی حالت پر قابو پاتے ہوئے وہ میر سالار کا ناشتہ لے جانے کی تیاری کرنے لگی۔
فریدہ بیگم کے کہنے پر وہ جوس کا گلاس، آملیٹ و بریڈ ٹرے میں سجائے اوپر چلی آئی۔ وہ تو شکر تھا کہ شبانہ بی باغ کی صفائی میں مصروف تھیں وگرنہ ان کی موجودگی میں تو یہ اب ممکن نہ تھا۔
وہ ٹرے ہاتھوں میں تھامے میر سالار کے کمرے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ کمرہ اندر سے بند تھا۔ اس نے ہولے سے دستک دی۔
آ جاؤ ؛؛ اجازت ملنے پر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو دیکھا وہ بیڈ پر تکئے کے سہارے نیم دراز لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔
سائیں یہ ناشتہ لائی ہوں جی! مرحا نے آہستگی سے کہا اور دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا، جس نے نظر تک اٹھا کر اسے نہ دیکھا تھا۔
رکھ دو ! مصروف سے انداز میں کہا گیا۔ اس نے پاس پڑی چھوٹی سی ٹیبل پر ٹرے رکھی اور ایک بار پھر اس ستمگر کو دیکھنے لگی، اس کا دل چاہا کہ وہ اس کی خیریت دریافت کرے، مگر وہ ایسا صرف سوچ سکتی تھی۔ وہ کشمکش میں مبتلا کھڑی تھی کہ میر سالار نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ جیسے ہوش میں آتی پزل سی ہو گئی۔
وہ، وہ سائیں، کافی لاؤں یا چائے؟ اس نے مؤدب انداز میں سر جھکاتے ہوئے پوچھا۔
چائے !! مختصراً کہہ کر وہ دوبارہ کام میں محو ہو گیا، وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ “اسپیشل چائے؛ کیساتھ دوبارہ اس کے کمرے میں موجود تھی۔ میر سالار اسی مصروفیات میں ناشتہ کر چکا تھا۔ اس نے چائے ٹیبل پر رکھی تو میر سالار نے ایک ہاتھ کی انگلیاں کی_بورڈ پر چلاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے چائے کا کپ اٹھا لیا۔ مِرحا خالی ٹرے اٹھا کر دروازے کی طرف مڑی۔

ٹھہرو! یہ کیا چیز ہے؟ اس نے واپس جاتی ہوئی مرحا کو آواز دی تو وہ پلٹ کر استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
ج جی سائیں کیا چیز ؟ اس نے اس کی گھورتی نظروں پر گڑبڑا کر پوچھا۔
چائے کی بات کر رہا ہوں، اس میں تم نے ایکسٹرا کچھ مکس کیا ہے کیا؟ اس نے آنکھوں سے چائے کی جانب اشارہ کیا لہجہ تفتیش بھرا تھا۔
جی سائیں، زرا سی ہلدی ڈالی ہے جی، اچھی بنی ہے نا؟ مرحا نے چہکتے ہوئے کہا۔
واٹ؟ آر یو آؤٹ آف یور سینسیس؟ چائے میں ہلدی کون ڈالتا ہے؟ وہ غصّے سے سلگتے ہوئے بولا، مرحا بری طرح بوکھلا گئی۔
وہ، وہ سائیں! بوکھلاہٹ میں اس کی آواز بھی بے ربط ہو رہی تھی کہ میر سالار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہیں روکا، وہ مزید گڑبڑا گئی۔
لے جاؤ اسے! اس نے ٹیبل پر رکھی چائے کی جانب اشارہ کیا، وہ لرزتے قدموں سے آگے بڑھی اور کانپتے ہاتھوں سے مگ اٹھایا اس دوران اسے میر سالار کی گھورتی و چبھتی نظروں کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔
اور ہاں اگلی بار چائے بنانے کا طریقہ کسی سے پوچھ لینا !!! وہ دروازے پر پہنچی تو پیچھے اس کی غصیلی آواز پر بنا مڑے ہی سر ہلاتی باہر کی جانب بھاگی۔
احمق !! زیرلب بڑبڑاتے ہوئے وہ سر جھٹکتا لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

               ❤️❤️❤️❤️❤️

اسے حرم کی زبانی پتہ چل چکا تھا کہ سکندر شاہ واپس چلا گیا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں بڑی حویلی کا چکر لگانے کا فیصلہ کر لیا، شام کے چار بجنے کو تھے جب تمام لڑکیاں باتیں کرتے ہوئے کالج کے گیٹ پر آ کھڑی ہوئیں۔
یار زوفا، مجھے آج تیرے ساتھ حویلی جانا ہے۔ اسی بہانے بی جان کیساتھ ساتھ سویرا و زری ادی وغیرہ سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ حرم نے چیونگم چباتے ہوئے زوفا سے کہا تو اس کا بھی چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔
حرم آپی، آپ کو تو بس موقع چاہئے زوفا آپی سے باتیں بگھارنے کا!! روشی کے تبصرے پر حرم کا تیزی سے چلتا منہ رک گیا، ساتھ ہی اس نے آنکھیں نکال کر روشانے کو گھورا تو اس کی کھی کھی کے ساتھ باقی لڑکیوں کی بھی ہنسی نکل گئی۔
اسی اثناء میں دونوں ڈرائیور آ گئے تو حرم زوفا کے ساتھ چھوٹی حویلی جبکہ باقی لڑکیاں زوفا سے جلد ہی آنے کا وعدہ کر کے بڑی حویلی کی جانب روانہ ہو گئیں۔
“چھوٹی حویلی پہنچنے کے بعد حرم کی گرمجوشی اور بھی عروج پر پہنچ گئی، جبکہ زوفا ملازمہ کو کھانا لانے کا کہہ کر سب کے درمیان بیٹھ گئی۔ بی جان و سویرا وغیرہ سے ڈھیروں باتیں کرنے کے بعد وہ زوفا کے ہمراہ اس کے کمرے میں آ گئی۔
ہائے قسم سے زوفا، کالج میں تو چلتے چلتے ہی خواری ہو جاتی ہے !! یار یہ صبوحی کدھر رہ گئی یار، بہت زوروں کی بھوک لگی ہے!! حرم نے زوفا کے نرم گرم بستر پر لیٹتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھ کے دہائی دی۔
بس آ جاتی ہے ابھی! تم لیٹو میں بس ابھی آئی، اس سے کہتی ہوں فالودہ بھی بنا دے، ہمارے اندر ٹھنڈک اتر جائے زرا !! زوفا شرارتًا کہتی باہر نکل گئی۔ حرم لیٹے لیٹے ہی بلا ارادہ ہی کمرے میں نظریں دوڑانے لگی کہ زوفا کی وارڈروب پر اس کی نظر آ ٹھہری۔

اوئے ہوئے، زرا شہزادی زوفا کی کلیکشن تو چیک کروں، دل ہی دل میں سوچتے ہوئے وہ اٹھی اور وارڈروب کھول کر کھڑی ہو گئی۔ جہاں سلیقے و ترتیب سے ڈھیروں پُر ستائش کپڑے ہینگر میں لگے ہوئے تھے۔ اس نے نچلی دراز کھولی تو اس میں رکھی ڈائری پر نظر پڑتے ہی چونک گئی۔
اوہ تو یہ گھنی میسنی صاحبہ ڈائری بھی لکھتی ہیں! زرا دیکھو تو اس لڑکی نے کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی، اب آئے گا مزہ جب تمہارے بھی راز فاش ہونگے ڈئیر زوفا !! حرم نے شوخ مسکراہٹ سمیت سوچتے ہوئے وارڈروب بند کی اور ڈائری اپنے بیگ میں ڈال لی۔
کچھ دیر میں زوفا ملازمہ کیساتھ ہی لوٹی تھی۔ شاید ہدایات دینے میں اسے اتنا وقت لگا تھا۔ کھانے سے انصاف کرتے ہوئے وہ دونوں دوبارہ شروع ہو گئیں۔ کھانے کے بعد کچھ دیر ریسٹ کر کے جب حرم بڑی حویلی لوٹی تو وقتِ مغرب ہو چکا تھا۔

                💛💛💛💛💛

ہائے اماں، کیا بتاؤں کس قدر پیاری چوڑیاں تھیں۔ مجھے بھی ویسی ہی چوڑیاں لے دیں اماں، تھوڑی مہنگی ہیں مگر میری خوشیوں سے زیادہ تو کچھ نہیں ہے نا آپ کے نزدیک!! وہ پچھلے دس منٹ سے ان چوڑیوں کی شان میں قصیدے پڑھ رہی تھی جو آج وہ مدرسے میں ایک لڑکی کے ہاتھوں میں سجی دیکھ کر آئی تھی، نہ صرف دیکھ کر آئی تھی بلکہ دام بھی پوچھ آئی تھی۔ اسے چوڑیوں کا بہت شوق تھا۔ اس لئے اب وہ ان چوڑیوں کے لئے پاگل ہو رہی تھی۔ وہ دونوں حویلی کی باہری سیڑھیوں پر بیٹھی تھیں۔ شبانہ بی کام کر کے تھک سی گئی تھیں تو زرا سستانے کو سیڑھیوں پر آ بیٹھی تھیں اور اب وہ مسلسل ان کے سر پر سوار تھی کہ وہ اسے چوڑیاں لے دیں۔

اتنی مہنگی چوڑیاں کیا کرے گی تو بتا؟ شبانہ بی نے اسے گھورا تو وہ روہانسی سی ہو گئی۔
اماں ظاہر ہے پہنوں گی، لے دیں اماں، کوئی ہزار کی تو نہیں ہیں۔ یہی کوئی پانچ سو کی ہیں! وہ کوئی عام چوڑیاں نہیں ہیں بلکہ راجھستانی چوڑیاں ہیں جو کہ خراب نہیں ہوتیں جلد !! اس نے انہیں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بیچارگی سے دیکھا۔
کہہ دیا نا نہیں لوں گی مرحا، بات ایک بار میں سمجھ جایا کر۔ تیرے لئے کوئی اور چوڑیاں لے لوں گی میں!! انہوں نے اسے سخت نگاہوں سے گھورا اس بار آواز میں رعب تھا۔ مرحا کا منہ بن گیا۔

کیا ہو رہا ہے یہاں؟ جبھی اپنے پیچھے مردانہ آواز پر وہ دونوں ماں بیٹی اچھل پڑیں اور جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ وہاں میر سالار کھڑا تھا۔ بلیک کرتہ و بلیک جینس میں، پیروں میں کھسّہ پہنے، و کندھوں پر شال لئے وہ بے حد جاذب نظر لگ رہا تھا۔ مرحا نے بے اختیار دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری، وہ شاید اب واپس جا رہا تھا۔
کچھ پوچھ رہا ہوں میں؟ اس نے سنجیدگی سے بولتے ہوئے دونوں کے چہروں پر باری باری نظر کی تو مرحا نروس سی ہوتی شبانہ بی کو دیکھنے لگی جو بری طرح بوکھلا گئی تھیں۔
کچھ نہ نہیں سالار سائیں، یہ میرو تو پاگل ہے! انہوں نے ہنستے ہوئے ٹالنا چاہا۔
ہاں وہ تو خیر یہ ہے، شک نہیں ہے اس میں کوئی، آپ مجھے اس میٹنگ کی تفصیلات سے آگاہ کیجئے جو یہاں سیڑھیوں پر بیٹھ کر ہو رہی تھی! اس نے اچٹتی نظر مرحا پر ڈال کر پہلے تو اس کو جتاتے ہوئے لہجے میں “تعریف؛ سے نوازا پھر شبانہ بی کی جانب متوجہ ہوا۔ مِرحا کا منہ کھل گیا۔ خیر جس قسم کے احمقانہ پن کا مظاہرہ اس نے اس کے سامنے اب تک کیا تھا، اس کے بعد اس کی جانب سے یہ تعریف تو مرحا کا جائز حق تھی۔

“بس سائیں چوڑیوں کی ضد کر رہی ہے؛! شبانہ بی نے لاشعوری طور پر مرحا کو گھورتے ہوئے سالار کو وجہ بتائی، جبکہ مرحا کچھ جزیز سی ہو گئی۔ بنا کچھ کہے اس نے جینس کی پاکٹ سے والٹ نکالا اور اس میں چند ہزار ہزار کے نوٹ نکال کے مرحا کی طرف بڑھائے تو وہ بری طرح گڑبڑا گئی۔ سرخ چہرے کیساتھ اس نے میر سالار کی طرف دیکھا جہاں ہمیشہ کی طرح سنجیدگی نے ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ تھام لئے۔
شکریہ سائیں!! اس نے دھیرے سے کہا مگر جیسے آواز گلے میں ہی پھنس گئی۔ پتہ نہیں کیوں اس شخص کے سامنے اس کے ہوش و حواس مختل سے ہونے لگتے تھے۔
اس کے بعد اس نے شبانہ بی کو بھی کچھ نوٹ پکڑائے اور اپنی ازلی بے نیازی سے چلتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔
مرحا نے نوٹوں کو مٹھی میں دباتے ہوئے گویا اس شخص کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرنا چاہا، سوچوں میں گم اس نے نظریں اٹھائیں تو شبانہ بی کو خونخوار نظروں سے خود کو گھورتے پایا۔
اب اس میں میری کیا غلطی ہے اماں؟ اس نے انہیں بیچارگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں تیری نہیں، ساری غلطی تو میری ہے !! تنک کر کہتے ہوئے وہ تن فن کرتی اندر چلی گئیں۔ وہ بھی منہ پھلائے ان کے پیچھے ہی حویلی میں چلی گئی۔
میر سالار کے جانے سے اس کی طبیعت پر تھوڑی اداسی سی چھا گئی تھی۔

              🌸🌸🌸🌸🌸

حویلی کی گہما گہمی حسبِ معمول عروج پر تھی۔ رات کے دس بج رہے تھے لیکن ہمیشہ کی طرح گپ شپ کا یہ سلسلہ تقریباً بارہ بجے تک جاری رہنے والا تھا۔ مدرسے سے آنے کے بعد آج اسے سستانے کا بھی موقع نہیں ملا تھا اس لئے وہ کافی تھک گئی تھی۔ شبانہ بی کے زِمے ابھی بہت سے کام تھے، مگر اس کی تھکان کا خیال کرتے ہوئے انہوں نے اس کو انیکسی بھیج دیا یہ سوچ کر کہ اس کے حصے کے بھی کام نپٹا کر وہ بعد میں چلی جائیں گی۔
وہ انیکسی آئی اور آرام کی غرض سے پلنگ پر لیٹ گئی کہ یکایک اس کا دھیان میر سالار کی جانب چلا گیا۔ وہ کیا گیا تھا کہ دل کی دنیا میں ہر سو اداسی چھا گئی تھی! اس نے اپنے پلو میں بندھے وہ نوٹ نکالے اور بستر سے اٹھ کر اپنی چھوٹی سی الماری کھولی اور وہ نوٹ حفاظت سے الماری کے ایک حصے میں رکھ دئیے۔ پھر کچھ یاد آنے پر اس نے اپنے کپڑوں کی تہوں میں جھانکا تو اس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمودار ہو گئے۔ میر سالار کا وہ رومال اس کی الماری سے غائب تھا جس پر گزشتہ راتوں میں کسی رات میں اس نے پین کی مدد سے “آئی لو یو میر سائیں؛ لکھا تھا۔
کہاں جا سکتا ہے ادھر ہی تو رکھا تھا میں نے!! سوچتے ہوئے وہ گھبراہٹ کا شکار ہونے لگی۔ اس کا ذہن شبانہ بی کی جانب چلا گیا کہ ہو سکتا ہے ان کے ہاتھ لگا ہو تو انہوں نے اس رومال کا وجود ہی ختم کر دیا ہو۔
اس نے کپڑوں کے پاس رکھا اپنا درمیانہ سائز کا باکس اٹھایا جس میں اکثر اوقات وہ ضروریات کی اشیاء رکھا کرتی تھی جس میں چوڑیاں سرِ فہرست تھیں۔ باکس کھولتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے۔ اس کی اپنی ایک عدد تصویر جو نہ جانے کس موقع پر لی گئی تھی، بہرحال اس نے وہ تصویر اپنے پاس محفوظ رکھی تھی، اور آج وہ تصویر بھی اس باکس سے غائب تھی۔ اس کی گھبراہٹ دو چند ہو گئی۔ اسی ادھیڑ بن میں اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب شبانہ بی کمرے میں آئیں اور اب اس کے عین پیچھے کھڑی اس کی حرکتیں ملاحظہ کر رہی تھیں۔
یہ تو کون سے خزانے تلاش کر رہی ہے؟ ان کی پاٹ دار آواز پر وہ اچھل پڑی۔
اففففف اماں، آپ نے تو ڈرا ہی دیا ! اس نے قدرے خفگی سے کہا پھر جھجھکتے ہوئے شبانہ بی کو دیکھا۔
اماں آپ نے میرا کوئی سامان ہٹایا ہے کیا؟ اس نے تھک ہار کر الماری کا پٹ کرتے ہوئے ان سے پوچھا۔
ہیں میں کیوں کوئی سامان ہٹانے بچانے لگی؟ مجھے بھلا فرصت ہے ان کاموں کی !! وہ کہتی ہوئی پلنگ پر بیٹھ گئیں جبکہ وہ اپنی جگہ بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی
“کون سا سامان تھا ویسے جسے تو اتنا دل لگا کر ڈھونڈ رہی تھی کچھ پتہ تو چلے؛ شبانہ بی کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی اور بمشکل لبوں پر مسکراہٹ سجائی۔
کچھ خاص نہیں تھا اماں، بس چوڑیاں تھیں میری! ہو سکتا ہے میں نے ہی صغریٰ کو دیں ہو! اس نے ان کی تسلی کی۔
تو صبح پوچھ لینا اس سے، فلحال جا کر نماز پڑھ ورنہ وقت نکل جائے گا! شبانہ بی اسے کہہ کر خود بھی نماز کے لئے اٹھ گئیں۔
مرحا کا دل ایک انجانے خدشے کے زیرِ اثر تھا۔
“کہیں وہ رومال حویلی کے کسی فرد کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا، لیکن کس کے؟ یہاں انیکسی میں تو حویلی کا کوئی بھی مکین کبھی نہیں آتا تھا تو یہ چیزیں اس کی الماری سے کون اڑا لے گیا تھا جس کی اسے خبر تک نہ ہونے دی تھی؛؛ اس کا دماغ بری طرح ماؤف ہونے لگا۔ آج کی رات بھی آنکھوں ہی میں کٹ جانی تھی۔ گہری سانس بھرتے ہوئے وہ بوجھل ذہن کیساتھ وضو کیلئے اٹھ گئی۔

طلسمِ خاک کے پھیلے ہوئے غبار میں ہوں

نہ جانے کون ہوں اور کس کے اختیار میں ہوں

                💚💚💚💚💚

زرا دیکھوں تو محترمہ زوفا صاحبہ نے اس ڈائری میں کیا کیا راز چھپائے ہوئے ہیں !! حرم نے بیگ سے ڈائری نکالتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا، ساتھ ہی ایک نظر عفاف پر ڈالی جو گہری نیند میں گُم تھی۔
وہ ڈائری کھول کر بیڈ پر تکئے کے سہارے آرام سے بیٹھ گئی۔ ڈائری کے پہلے صفحے پر نہایت خوبصورتی سے زوفا کا نام لکھا ہوا تھا، جسے پُر ستائش نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے دوسرا صفحہ پلٹا۔
مگر جوں جوں اس کی نظریں اس پر لکھے لفظوں پر پھسلتی گئیں دل و دماغ میں گویا آندھی و جھکڑ سے چلنے لگے۔ ایک، دو، تین ۔۔۔۔؛؛؛ وہ جتنے صفحے پلٹتی گئی اس کی آنکھیں بے یقینی کی شدت سے پھٹتی چلی گئیں۔ چہرے پر ناقابلِ فہم تاثرات لئے وہ ساکت سی بیٹھی ڈائری پر لکھے ان لفظوں کو دیکھ رہی تھی۔

✨✨✨✨✨ جاری و ساری ہے