No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
مورے تخت پر آنکھیں بند کئے تسبیح کا ورد کر رہی تھیں۔ پاس ہی حفضہ بیگم بھی بے آواز آنسو بہاتے ہوئے تسبیح کے دانے گرانے میں مصروف تھیں جبھی ثریا بیگم (منتہا کی امّی) وہاں چلی آئیں۔ ان کی آنکھیں بھی رونے کی شدت سے لال و چہرے پر ایک کربناک تاثر موجود تھا۔ جوان بیٹی کا یوں بیوہ ہو جانا ان کے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔
ہوش آیا اسے بھابھی بیگم؟ حفضہ بیگم نے تخت پر بیٹھتی ثریا بیگم سے منتہا کا پوچھا جو یہ دلدوز خبر سننے کے بعد سے ہی مسلسل بیہوشی کی سی کیفیت میں تھی۔
کیسے ہوش آ سکتا ہے اسے ثریا؟ میری بچی بھری جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی۔ ہمارا چاند سا خوبرو بچہ اس مردود صارم نے ہم سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا۔ ہائے میری بچی کیسے جئے گی۔ وہ دوپٹہ منہ پر رکھے زار و قطار رونے لگیں تو حفضہ بیگم جو کہ پہلے ہی سراپا اشکبار تھیں ان کے ساتھ ہی رو پڑیں۔ مورے تسبیح رکھ کر چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ان دونوں کی جانب متوجہ ہوئیں۔
“صارم نہ سہی، آ رہی ہے نا اس کی بہن،، ہم بھی کم نہیں ہیں کسی سے یہ سب کو معلوم ہے۔ خود چل کر حاضری نہ دی اس شیطان نے تو نام بدل دینا میرا۔۔۔ وہ حاضری دے دے تو زکا کی بیٹی کو طلاق دے گا سکندر ورنہ یونہی عمر بھر ہماری قید میں رلتی رہے گی۔ مورے کا لہجہ پتھر کی طرح سخت تھا۔
“انشاء اللّہ مورے، بہو تو میری حرم ہی بنے گی۔ اس قاتل کی بہن پر میں تھوکنا بھی پسند نہ کروں کجا کہ اسے بہو کے روپ میں اپنانا۔ نا ممکن!!! حفضہ بیگم نے آنسوؤں بھرے لہجے میں حقارت سے چور انداز میں کہا تو دونوں خواتین نے اس کی بھرپور تائید کی۔
🌸🌸🌸🌸🌸
آسیہ بیگم نے بی جان کو سکون کی دوا دے کر کچھ دیر کے لئے سلا دیا تھا، وگرنہ جس قدر سٹریس انہوں نے لیا تھا ان کی طبیعت مزید خراب ہونے کا خدشہ لاحق تھا۔
“ہوش میں آنے کے بعد وہ پتھر کی مورتی کی طرح ساکن بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ اس کی تقدیر نے اسے آخر کس موڑ پر لا پٹخا تھا۔ اس کا ذہن سوچنے و سمجھنے سے قاصر تھا۔ آنکھیں خالی و سوالی اور دل شہرِ خموشاں کی مانند ویران تھا۔
“میری بچی، کچھ تو بول مجھے یوں چپ کی مار تو نہ مار، ہمیں برا بھلا ہی کہہ لے مگر یوں خاموش مت رہ زوفا، تیری یہ خاموشی میری جان لے لے گی۔۔۔ پاس بیٹھی فریدہ بیگم اس کا چہرہ ہاتھ ہاتھوں میں تھامے بھرائی آواز میں بولیں مگر وہ ان کی جانب دیکھ کہاں رہی تھی۔ اس کی جامد نظریں سامنے خالی دیوار پر ٹکی ہوئی تھیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اس کا ذہن اس وقت خالی سلیٹ کی مانند تھا۔
“زوفا، اگر تو ایسے ہی چپ رہی تو میں مر جاؤں گی۔ خدارا ہماری طرف دیکھو تو سہی!! سویرا نے روتے ہوئے اس کا رخ اپنی جانب موڑا تو یکایک اس کی انکھ سے ایک آنسو ڈھلک کر گالوں پر بہہ نکلا۔
“سویرا ادی، شموئیل ادا کی تو نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے مگر آپ سب نے یہ نہیں بتایا کہ میری نمازِ جنازہ کب ہے؟ بہت آہستہ و ٹوٹے پھوٹے لہجے میں کانچ کی سی چبھن تھی۔ وہ اب بے تاثر انداز میں سویرا کے چہرے کو تک رہی تھی جس کی آنکھیں شدت سے برسنے لگیں تھیں۔ آسیہ بیگم کے تو دل پر گویا کسی نے خنجر چلا دیا تھا۔ بے تحاشہ روتے ہوئے وہ اٹھ کر وہاں سے تیز قدموں سے باہر نکل گئیں، جبکہ سویرا اس کے بے دم وجود کو سینے میں بھینچے اونچی آواز میں رونے لگی لیکن اب وہ پھر سے خاموش تھی مکمل خاموش!!
جتنے اپنے تھے سب پرائے تھے
ہم ہوا کو گلے لگائے تھے۔
جتنی قسمیں تھیں سب تھیں شرمندہ
جتنے وعدے تھے سر جھکائے تھے۔
جتنے آنسو تھے سب تھے بیگانے
جتنے مہماں تھے بِن بلائے تھے۔
سب کتابیں پڑھی پڑھائی تھیں
سارے قصّے سنے سنائے تھے۔
حاشئیے پر کھڑے ہوئے ہیں ہم
ہم نے خود حاشئیے بنائے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️
فجر کی اذان پوری فضا میں گونج رہی تھی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں پھٹتے ہوئے سر کو تھامے بیٹھا تھا۔ پوری رات اسے ایک پل کی بھی نیند نصیب نہیں ہوئی تھی۔ وہاج شاہ کے اس فیصلے نے اسے سرتاپا جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود کو ختم کر ڈالے۔ ایک طرف بھائی کی جدائی کا غم، دوسری جانب محبّت سے دستبردار ہو جانے کا صدمہ، اسے زوفا شاہ سے بے پناہ نفرت کا احساس ہو رہا تھا۔ بہن اس کی اور حرم کی محبت کے دوارن کانٹا بن گئی تھی اور بڑی حویلی کے سپوت کے قتل کا سہرا اسی لڑکی کے بھائی کے سر جاتا تھا۔ سوچتے ہوئے اس کی رگیں تن سی گئیں۔ وہ جتنا اس بارے میں سوچتا جاتا تھا ذہن اتنا ہی منتشر ہوتا جاتا تھا۔
وہ اپنی اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھا کہ یکایک دروازے پر دی گئی دستک پر وہ چونک اٹھا۔ سُست روی سے اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی حرم کو دیکھ کر دم بخود سا رہ گیا۔
الجھا بکھرا حلیہ، روئی روئی آنکھیں، ایسا لگتا تھا وہ بھی پوری رات نہیں سوئی۔ اس کی حالت دیکھکر وہ تڑپ کر رہ گیا۔
حرم !!! سکندر شاہ کے ہونٹوں سے بمشکل اس کا نام ادا ہوا۔
جی میں! سوچا آپ کو آپ کے “آج؛ ہونے والے نکاح کی مبارکباد پیش کر آؤں۔ اصولاً تو مجھے نکاح ہونے کے بعد ایسا کرنا چاہئے تھا مگر یہ خوبصورت خبر سن کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔۔ وہ اسے یک ٹک دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولی تو سکندر شاہ کی آنکھوں کی سرخی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
“حرم میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں پلیز مجھے اور مشکلات سے دو چار مت کرو، میں پہلے ہی تم سے نظریں ملانے سے قاصر ہوں؛ وہ ہاتھ کے انگوٹھے سے پیشانی پر ضربیں مارتے ہوئے بولا اور پلٹ کر واپس بیڈ پر بیٹھ گیا جبکہ وہ تن فن کرتی اس کے پیچھے ہی اندر آ گئی۔
“کیوں پریشان ہیں سکندر سائیں؟ اتنی حسین و جمیل بیوی تو مل رہی ہے آپ کو! یہ پریشانی تو ناحق ہے پھر؟ وہ طنزیہ انداز میں بولی لہجہ زہرخند ہو رہا تھا۔ اس کی بات پر سکندر نے سر اٹھا کر دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“حرم تم جانتی ہو میں تم سے کس قدر محبت کرتا ہوں۔ پھر یہ بدگمانی کیوں؟ تم یہ بھی تو جانتی ہو کہ یہ دادا سائیں کا فیصلہ ہے۔ میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے! اس کے لہجے میں بے بسی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی وہ وضاحت دینے پر مجبور تھا۔
“میں صرف آپ سے اتنا کہنے آئی ہوں کہ میں کسی قمیت پر کسی بھی لڑکی کو آپ کے ساتھ بانٹنے کی ہمت نہیں رکھتی، آپ ایسا نہیں کریں گے سنا آپ نے؟ وہ چیختی ہوئی بولی چہرہ شدتِ ضبط سے سرخ ہونے لگا تھا۔ سکندر شاہ نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔
“یہ دادا سائیں کا فیصلہ ہے حرم، کیا تمہیں واقعی نہیں لگتا کہ میں نے اس پر احتجاج نہیں کیا؟ میں نے بالکل کیا ہے لیکن وہ خود کے آگے کسی کی سننے کو تیار نہیں ہیں۔ ویسے بھی وہ لڑکی محدود مدت کے لئے یہاں ہوگی اس کے بھائی کے مل جانے کے بعد میں اسے طلاق دے کر فارغ کروں گا۔ میری شادی تم سے ہی ہوگی حرم یقین رکھو اس بات کا؛،، ہاتھوں سے سر اٹھاتے ہوئے وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔
“اور اگر اس کا وہ قاتل بھائی نہ ملا تو؟ وہ تفتیشی لہجے میں بولی
“اگر وہ نہ ملا تو اس کی سزا اس کی بہن تمام عمر اسی حویلی کے زندان میں گزارتے ہوئے بھگتے گی۔ لیکن ہماری شادی ہوگی حرم، ٹرسٹ می پلیز! کرخت لہجے میں کہتے کہتے آخر میں سکندر نے یقین دلانے والے انداز میں کہا تو حرم کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔
“اپنا فیصلہ تو سنا دیا آپ نے سکندر سائیں، اب میرا بھی سن لیں۔ اگر وہ بیغیرت (صارم) نہ ملا تو میں آپ سے شادی سے انکار کر دوں گی۔ زندگی بھر میرے سر پر زوفا نامی تلوار لٹکی رہے یہ مجھے قطعاً منظور نہیں۔ اس کا بھائی مل گیا تو ٹھیک، آپ اسے طلاق دے کر دھکے مار کر یہاں سے نکالیں گے لیکن اگر وہ نہ ملا تو پھر مجھ سے کسی قسم کے کوئی تعاون کی امید مت کیجئے گا۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر زہر آلود آواز میں بولی اور جیسے آئی تھی ویسے ہی پلٹ کر چلی گئی اور وہ بے یقین و ساکن سا لب بھیچے اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا۔
💛💛💛💛💛
بالآخر وہ وقت آ ہی گیا جب وہاج شاہ نے اپنی ہی کر کے دم لی۔ شام کے چار بجے وہاج شاہ سمیت ان کے تمام بیٹے ما سوائے زیشان شاہ کے گواہان کے طور پر سکندر شاہ کے ساتھ جرگے پہنچے تھے۔ جہاں نکاح خواں پہلے سے ہی موجود تھا۔ چھوٹی حویلی کے مرد حضرات بھی وہاں موجود تھے۔ بے تحاشہ سرخ آنکھوں و ضبطِ غم کے آخری دوراہے پر کھڑے سکندر شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے بھاگ جائے۔ نکاح خواں چند مردوں کے ساتھ پہلے چھوٹی حویلی کی جانب نکل گیا۔
مردہ آنکھیں جن میں زندگی کی کوئی رمق محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بالوں کی بکھری لٹیں جو بے ترتیبی سے چہرے کے اعتراف میں بکھری پڑی تھیں۔ ساکن انداز ایسا لگتا تھا وہ کوئی انسان نہیں گویا کوئی مجسمہ ہو۔ سر پر نکاح کے نام پر ایک لال دوپٹہ تھا۔
بی جان اس کے پاس بیٹھی اسے بازوؤں کے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں، ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ آسیہ بیگم بھی قریب ہی نیم جان سی بیٹھی ہوئی تھیں۔ سویرا سمیت باقی لڑکیاں بے آواز رو رہی تھیں، جبکہ لڑکے کم غم زدہ نہ تھے۔
نکاح خواہ نے اس سے اس کی مرضی پوچھی تو دو بار پوچھنے پر اس کے سوکھے پڑے ہونٹوں سے اہستگی سے ‘قبول ہے؛ نکلا۔ ایک دفعہ اور وہی جملہ دہراتے ہوئے اس کا دل ان پورے لمحات میں تھوڑی حرکت میں آیا اور گویا خون کے آنسو رونے لگا۔
“یہ کیسی شادی تھی۔ کیا اسے شادی کا نام دینا جائز ہے؟ یہ تو اس کی خواہشات میں کبھی بھی شامل نہیں تھا۔ وہ تو ایسے خواب دیکھنے کی عادی نہیں تھی پھر زندگی نے اس سے اتنا بھیانک مذاق کیوں کیا تھا کہ اس پر اسی کی سانسیں تنگ کر دی گئی تھیں۔ وہ زندگی کے کس دوراہے پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ہر سمت بس تاریکی ہی تاریکی تھی۔۔۔۔ اس کا دل تڑپ تڑپ کر فریادیں کر رہا تھا مگر آنکھیں جوں کی توں بنجر ہوئی پڑی تھیں۔ جبھی باہر سے پیغام آ گیا تھا کہ لڑکی کو باہر بھیجا جائے جو کہ بڑی حویلی کی ایک ملازمہ جو کہ گاڑی پر ساتھ آئی تھی وہ لے کر اندر آئی تھی۔
سب نے اپنی چیخوں کا بمشکل گلا گھونٹا۔ آسیہ بیگم نے اس کے بے جان وجود کو اپنی پوری طاقت صرف کرتے ہوئے اٹھا کر کھڑا کیا مگر جیسے اس میں چلنے کی سکت ہی نہ تھی۔ مشکلوں سے وہ اپنے قد پر کھڑی ہوئی۔
بی جان نے کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا اور تڑپ کر رونے لگیں۔ مگر اس کی ساکت آنکھوں سے ایک آنسو نہ نکلا۔
“میری جند جان، جا اللّٰہ تیری حفاظت کرے میرا جگر کا ٹکڑا، جا تجھے اس رب کے حوالے کیا۔۔۔ انہوں نے اس کی بے داغ پیشانی چومتے ہوئے ہوئے اسے کندھوں سے پکڑ کر آسیہ بیگم کے ساتھ لگایا۔ سویرا بھی دوڑ کر بہن سے لپٹ گئی مگر اسے تو گویا کسی نے نہ ہلنے اور بولنے کی قسم دے رکھی تھی۔
کچھ دیر زار و قطار رونے کے بعد آسیہ بیگم نے ہسٹریک انداز میں اسے خود سے جدا کیا وہ ہوش و خرد سے بیگانہ لگ رہی تھیں۔
“جا اب تجھے جانا ہی ہے ہم روکنے کا ہر اختیار کھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اسے دروازے کی جانب ہلکا سا دھکا دیتے ہوئے کہا تو ملازمہ نے اسے تھام لیا۔ اسے پکڑ کر وہ اسے باہر لے کر نکل گئی جبکہ آسیہ بیگم زور زور سے سینہ پیٹتے ہوئے بی جان سے لپٹ گئیں۔
دونوں خواتین کی کربناک چیخوں سے پوری حویلی گونج اٹھی تھی۔
“ہائے بی جان، میرا دل لے کر چلے گئے وہ، میری بچی کو مجھ سے چھین کر وہ لے گئے۔ ہائے میں اب کیسے جئیوں گی۔ میری سانسیں تک چھین لیں ہیں انہوں نے مجھ سے؛ وہ اونچی آواز میں اشک بہاتے ہوئے نوحہ کناں تھیں۔ چھوٹی حویلی کے در و دیوار وہاں کے مکینوں کے آنسوؤں سے تر ہو گئے تھے۔
🥀🥀🥀🥀🥀
میر سالار لاؤنج میں اپنے دو آدمیوں کیساتھ نہایت ہی اہم گفتگو میں مصروف تھا۔ پورے دن غائب رہنے کے بعد وہ ان دو آدمیوں کیساتھ ہی فارم ہاؤس پر لوٹا تھا۔
وہ سو کر اٹھی تو شام کے سوا چار بجنے کو تھے۔ وہ کچن میں چلی آئی جہاں خانساماں نے الریڈی شام کی چائے تیار کی ہوئی تھی۔ وہ چائے مگ میں نکال کر لاؤنج کی جانب بڑھ گئی۔ اپنے ہی خیالوں میں گم وہ مگ تھامے جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئی سامنے صوفوں پر بیٹھے ان دو آدمیوں پر نظر جا پڑی ساتھ ہی نظر میر سالار کے چہرے پر گئی جو آہٹ پر دروازے کی سمت متوجہ ہوا تھا۔ اب اس کی پیشانی شکن آلود جبکہ تیور انتہائی خطرناک سے دکھنے لگے تھے۔ مارے گھبراہٹ کے مرحا کے ہاتھوں سے مگ گر کر چھناکے دار آواز پیدا کرتا میر سالار کے جاہ و جلال میں مزید اضافہ کر گیا۔ گرم چائے چھلک کر اس کے پیروں کو جلا گئی تھی مگر وہ اپنی تکلیف کی پرواہ کئے بنا اندھا دھند بھاگتی ہوئی کمرے میں آ گئی۔
خوف کے مارے اس کا دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے بس کسی بھی پل باہر آ نکلے گا۔ اس شخص کا ڈر اس کے روم روم میں بسا ہوا تھا۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر مختلف دعاؤں کے ورد میں مصروف ہو گئی۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کمرے کا دروازہ پاؤں کی ٹھوکر کی آواز سے دھاڑ سے کھلا اور اندر آنے والی ہستی کو دیکھکر وہ کانپتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا اور اس کا بازو اپنی آہنی گرفت میں جکڑ کر اسے زوردار جھٹکا دیا مرحا کو تو جیسے چکر سے آ گئے۔ آنکھیں پل بھر میں پانیوں سے بھر گئیں۔
“کیوں آئیں تم وہاں جواب دو؟ بہت شوق ہے تمہیں اپنے حسن کی نمائش کا؟ وہ دہاڑتے ہوئے بولا تو اس نے تڑپ کر میر سالار کی اور دیکھا جو آنکھوں و چہرے پر وہی سرد مہری و سفاکیت لئے ہوئے تھا۔
“و، وہ غلطی سے،،، اس نے منمناتے ہوئے سہمے انداز میں اپنے دفاع میں کچھ کہنا چاہا۔
جسٹ شٹ اپ، زبان کھینچ لوں گا تمہاری مزید ایک اور لفظ بھی کہا تو،، تم جیسی لڑکیوں کی اصلیت ہی یہی ہے۔ مگر میں تمہیں چھوڑنے والا ہرگز نہیں ہوں سمجھ آئی تمہیں؟ آئیندہ اگر یہ کیا تم نے تو وہ انجام ہوگا تمہارا جس کی مثال اس پوری دنیا میں نہیں ملے گی۔۔۔ وہ غراتے ہوئے بولا اور جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا تو وہ پیچھے کی جانب لڑکھڑا سی گئی۔ شل ہوتا بازو سہلاتے ہوئے وہ آہستہ سے دو قدم پیچھے ہوئی۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ دل الگ دہائیاں دے رہا تھا۔
اسے بھینچے ہوئے جبڑے و جلتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ اس کی جانب بڑھنے لگا اور وہ سہمی سہمی سی پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے جا لگی۔ میر سالار اس پر اپنی سرد نظریں گاڑے اس کے قریب آیا اور ایک ہاتھ دیوار پر ٹکا کر دوسرے ہاتھ سے اس کا گلا پکڑ لیا۔ خوف و ہراس سے مرحا کی آنکھیں ابل اٹھیں۔
آہستہ آہستہ اس کے گلے پر اس کے ہاتھوں کا دباؤ بڑھنے لگا تھا۔ چہرہ خطرناک حد تک سفید ہو گیا تھا۔
“دل تو چاہتا ہے تمہیں جان سے مار دوں، مگر نہیں، اتنی آسانی سے تو تمہیں زندگی سے چھٹکارا نہیں ملے گا۔ میری قید میں رہ کر میرے ہی ہاتھوں آہستہ اہستہ موت کی طرف قدم بڑھاؤگی تم ۔۔۔ تم جیسی لڑکیوں کا یہی انجام ہونا چاہئے۔ اس کی اشکوں بھری آنکھوں میں جھانک کر کہتے ہوئے اس نے اس کا گلا چھوڑا تو مرحا کا گردن پر ہاتھ رکھ کر کھانستے کھانستے برا حال ہو گیا۔ چہرہ خون چھلکانے کی حد تک لال ہو چکا تھا۔ جبکہ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جوتوں کی دھمک تک مرحا کے نازک سے دل میں خوف پیدا کر رہی تھی۔ زرا نارمل ہونے پر وہ کسی طرح دروازے کی جانب آئی اور دروازہ بند کر کے اسی سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھ کر گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
جاری ہے
