No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
بہت دشوار ہوتا ہے زرا سا فیصلہ کرنا
کہ جیون کی کہانی کو،،
بیانِ بے زبانی کو،
کہاں تک یاد رکھنا ہے
کہاں سے بھول جانا ہے،
اسے کتنا بتانا ہے،
اسے کتنا چھپانا ہے!
کہاں آنسو بہانے ہیں
کہاں خاموش رہنا ہے،
کسی غم کو کہاں پر
کون سی شدت سے سہنا ہے!
کہاں رستہ بدلنا ہے،
کہاں سے لوٹ آنا ہے!
بہت دشوار ہوتا ہے
زرا سا فیصلہ کرنا!!!
پوری رات جاگنے کے باعث جب وہ صبح اٹھی تو آنکھوں کی جلن میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔ اس کے امتحانات شروع ہونے کو تھے اس لئے وہ کسی قیمت پر مدرسے سے چھٹی نہیں کر سکتی تھی۔ اسے مدرسے بھی جانا ہوتا تھا مگر وہ حویلی میں کچھ کام نپٹا کر ہی مدرسے جاتی تھی۔ رات بھر اسی ادھیڑ بن میں وہ بالآخر ایک فیصلے پر پہنچ چکی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ہرگز روشانے کی بات پر عمل نہیں کرے گی بلکہ اسے انکار کر دے گی۔ فجر پڑھ کر وہ شبانہ بی کے ساتھ حویلی چلی آئی تھی جہاں رونقوں کا وہی عالم تھا۔ صبح صبح شموئیل شاہ کی آمد پر سارے خوش ہو گئے تھے، اس بار وہ کافی عرصے بعد حویلی آیا تھا۔
حویلی میں کچھ کام نپٹا کر وہ مدرسے کے لئے تیار ہونے انیکسی چلی گئی۔ تیار ہو کر وہ دوبارہ حویلی آئی تو دیکھا کہ روشانے اطمینان سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھی، شاید آج اس کا کالج جانے کا ارادہ نہ تھا۔ اس کا اطمینان دیکھکر مرحا نے اندازہ لگایا اور موقع غنیمت جان کر وہ اس کے پاس چلی آئی۔ باقی لڑکیوں نے بھی ناشتے کے بعد جلدی جلدی کا شور مچاتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
روشی بی بی مجھے آپ سے بات کرنی ہے! مرحا نے سپاٹ لہجے میں آہستگی سے کہا تو ناشتہ کرتی ہوئی روشانے چونک سی گئی، اور سر اٹھا کر کڑے تیوروں سے اسے گھورا۔
تم اپنی انیکسی چلو! میں وہیں آتی ہوں سمجھی! دانت کچکچاتے ہوئے اس نے کہا تو مرحا اثبات میں سر ہلاتی انیکسی چلی آئی۔ روشانے سے ہر حال میں اسے وہ بات کرنی تھی، پھر اسے مدرسے بھی جانا تھا۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ پیچھے سے تن فن کرتی روشانے اندر داخل ہوئی اور اس کا بازو اپنی مضبوط گرفت میں پکڑ کر کھینچا تو وہ بری طرح بے توازن ہو گئی۔
سب کے سامنے تمہارا منہ کھولنا ضروری ہے کیا بولو؟ اگر کسی کو بھنک بھی پڑ جاتی تو میں تمہارا کلیجہ چبا جاتی سمجھی تم! ایسی بھی کیا آفت نازل ہو گئی تھی تم پر صبح صبح جو تم سے صبر نہیں ہو سکا ہاں؟ خونخوار لہجے میں بولتی روشانے واقعی ہی مرحا کو اس پل کوئی آدم خور لگی تھی۔ مرحا کی آنکھوں میں ایک انجانا سا خوف اتر آیا لیکن اس نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس پر قائم تھی۔
روشی بی بی، معاف کیجئے گا لیکن آپ جو چاہتی ہیں میں ہرگز وہ نہیں کر سکتی! میں نے محبت کی ہے بیشک، لیکن میں خود غرض نہیں بن سکتی! میں میر سائیں کے ساتھ مر کر بھی وہ سب نہیں کر سکتی جو کچھ کرنے کو آپ مجھے کہہ رہی ہیں۔ مجھ میں حوصلہ نہیں ہے۔ میں معافی چاہتی ہوں! اس نے نم آنکھوں سے سر جھکا کر کہا۔ لہجہ لرزہ خیز تھا۔
کیا؟ کیا کہا تم نے؟؟ تمہاری اتنی جرت کہ تم مجھے انکار کرو؟ مجھے تو پہلے ہی تم پر شک تھا کیونکہ تم نے رات بھی کوئی حامی نہیں بھری تھی! ٹھیک ہے ڈئیر مرحا، نہ تو نہ سہی،، اب تم سکون سے مدرسے جاؤ۔ لیکن بھولنا مت کہ روشی اتنی آسانی سے تمہارا پیچھا چھوڑ دے گی۔۔۔ اس کے ہاتھ کی کلائی مروڑتے ہوئے روشانے کوئی جنونی لگ رہی تھی۔ مرحا تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھی۔ چہرہ بے تحاشہ لال ہو گیا تھا، کچھ توقف کے بعد اس نے اس کا ہاتھ چھوڑا تو وہاں اس کی سخت گرفت سے نشان پڑ گئے تھے، جبکہ روشانے اسے شعلہ بار نظروں سے گھور رہی تھی۔ بے تحاشہ درد کرتے ہاتھ کی تکلیف کو نظر انداز کر کے مرحا نے اپنا بیگ اٹھایا جس میں چند کتابیں نوٹ بک و پین رکھ کر وہ مدرسے جاتی تھی۔ دھک دھک کرتے دل کیساتھ وہ تقریباً بھاگتی ہوئی انیکسی سے نکلی تو گیٹ پر کھڑی صغریٰ کئی بار اسے آوازیں لگانے کے بعد انیکسی کی ہی جانب آتی دکھائی دی۔
میرو تو کدھر رہ گئی تھی؟ چل دیر ہو رہی ہے!! اس نے قدرے خفگی سے کہا تو مرحا سر ہلاتی ہوئی تیز رفتاری سے بنا پیچھے مڑے اس کے ساتھ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
پیچھے روشانے نے مرحا کی الماری سے اس کا معمولی سا دوپٹہ نکالا اور طنزیہ مسکراہٹ سمیت انیکسی سے نکلی۔ مرحا کے انکار نے اس کے اندر گویا لاوا بھر دیا تھا۔
“تمہیں پتہ نہیں ہے مرحا بخش کہ روشانے شاہ سے پنگا لینے کا کیا انجام ہوتا ہے، اب میں تمہارے کندھے پر بندوق رکھ کر چلاؤں گی،، میرا بدلہ بھی ہورا ہو جائے گا اور تم اور میر سائیں دونوں زلیل بھی ہو جاؤ گے پورے خاندان کے سامنے۔۔۔ بس دیکھتی جاؤ میں کیا کیا کرتی ہوں!! اس کا دوپٹہ اپنی مٹھیوں میں بھینچتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر کمینگی سے بھرپور مسکراہٹ اور آنکھوں میں شیطانی چمک رقص کر رہی تھی۔
💛💛💛💛💛
مورے مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے! شام کے تقریباً چار بجنے کو تھے۔ جب روشانے دنیا جہاں کی شرافت چہرے پر سجائے شاہ بی بی کے سامنے کھڑی تھی۔ پاس بیٹھی راکھی (ملازمہ) ان کے پاؤں دبا رہی تھی۔
ہاں بول کیا بات ہے روشی؟ انہوں نے اجازت دیتے ہوئے پاس پڑا پاندان کھولا اور ساتھ ہی راکھی کو جانے کا اشارہ کیا۔
بات ہی کچھ ایسی ہے مورے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں وہ سب کن الفاظ میں بیان کروں! اس نے پر افسوس لہجے میں کہا، سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔ مورے بے اختیار چونک کر اسے دیکھنے لگیں۔
ہیں؟ ایسی بھی کیا بات ہے؟ تمہید مت باندھ، سیدھی طرح بتا! انہوں نے پان پر کسیلی کا ٹکڑا رکھتے ہوئے کہا۔ اسی اثناء میں فریدہ و سائرہ بیگم بھی وہاں آ گئیں، اور روشانے کو وہاں موجود دیکھکر سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں کیونکہ، شاہ بی بی سے بلا ضرورت کوئی یہاں بات نہ کرتا تھا۔ ان کی سخت گیر طبعیت کی وجہ سے ان کے پوتے و پوتیاں ان کے پاس بیٹھ کر ہنسی مذاق تک نہ کرتے تھے۔ کوئی ضروری کام یا اجازت درکار ہو تو ہی ان کی خدمت میں ان سب کی حاضری لگتی تھی۔ خاص طور پر لڑکیوں کی!!!
مورے، جس روز میر سائیں سے میرے رشتے کی بات چلی تھی اسی روز شبانہ بی کی بیٹی مرحا میرے پاس آئی تھی۔ میں امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں آدھی راتوں تک جاگتی ہوں نا تو وہ رات کو ہی میرے پاس اوپر برآمدے میں آئی تھی۔ اس نے مجھ سے رو رو کر کہا کہ “روشی بی بی آج میں بہت ڈر گئی تھی جب میں نے یہ سنا کہ حویلی میں میر سائیں و آپ کی شادی کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں! وہ تو اچھا ہوا میر سائیں نے انکار کر دیا، کیونکہ میں اور میر سائیں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں!!؛ روشانے نے تسلسل سے بتاتے ہوئے چور نگاہوں سے تینوں خواتین کی جانب دیکھا جن کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھیل گئی تھیں۔ اس نے دوبارہ سر جھکا لیا اور اپنی بات جاری رکھی!
ساتھ ہی اس نے کہا “روشی بی بی میری مدد کریں، میر سائیں کو کھونا نہیں چاہتی، اور میر سائیں نے بھی آپ سے شادی سے انکار صرف اس لئے کیا ہے کیونکہ وہ بھی مجھ سے محبّت کرتے ہیں؛ پہلے تو مجھے اس کی باتوں پر یقین نہیں آیا مورے مگر میں نے خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا ہے وہ تو اچھا ہوا میں نے اسے اپنے موبائل میں قید کر لیا تا کہ ثبوت باقی رہے،، یہ دیکھیں!! اس نے موبائل کی سکرین ان تینوں کی جانب کی تو گویا ان کو سانپ سونگھ گیا، پھر اس نے وہ رومال بھی ان کے سامنے حاضر کر دیا۔ فریدہ بیگم بے یقینی کی کیفیت میں دھیرے دھیرے سر کو نفی میں ہلا رہی تھیں۔ دل و دماغ یقین کرنے کو تیار ہی نہ تھا کہ میر سالار شاہ ایسا بھی کر سکتا ہے! مورے غم و غصّے سے کانپتی ہوئی سامنے پڑا رومال دیکھ رہی تھیں جبکہ سائرہ بیگم اپنی طنزیہ مسکراہٹ کو بمشکل ہونٹوں کے گوشے میں دبائے بیٹھی ہوئی تھیں۔
“مورے میں نے اس سے کہا کہ میر سائیں کی طرف سے بھی تمہاری جانب پیش و رفت ہے اس کا یقین میں کیسے کروں؟ تو اس نے کہا جیسے میرے پاس میر سائیں کا دیا ہوا رومال ہے ویسے ہی میری تصویر و میرا دوپٹہ میر سائیں کے پاس موجود ہے؛ اس نے تو مجھے یہی کچھ کہا ہے مورے، باقی کی تفتیش آپ خود کریں تو زیادہ بہتر ہوگا! آہستگی سے کہتی ہوئی وہ وہاں سے نکل گئی۔ فریدہ بیگم نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
شبانہ کدھر مر گئی ہے، چھیتی ادھر آ ۔۔۔۔ یکایک مورے کی چنگھاڑتی آواز پر شبانہ بی تقریباً دوڑتی ہوئی تخت کی جانب آئیں۔
ج جی شاہ بی بی، بلایا جی آپ نے! انہوں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا!
ابھی اور اسی وقت اپنی بیٹی کو مدرسے سے بلا فوراً، پھر تجھے بتاتی ہوں اس کے کارنامے!! ان کی تیز آواز پورے برآمدے میں گونج رہی تھی۔
بس اب ابھی آ جاتی ہے شاہ بی بی، وقت ہو گیا ہے واپسی کا ! شبانہ بی نے لرزتی آواز میں کہا، ان کے غصے سے شبانہ بی اتنا خوف زدہ ہو گئی تھیں کہ یہ تک نہ پوچھا کہ وہ مرحا کو مدرسے سے کیوں بلوا رہی ہیں!
تو فوراً دینو کو بھیج کر بلا اسے، یہ میرا حکم ہے! انہوں نے کینہ توز نظروں سے شبانہ بی کو گھورا تو وہ ہڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئیں۔
کچھ ہی دیر میں حویلی کی تمام لڑکیوں کی بھی واپسی ہو چکی تھی! ہمیشہ کی طرح وہ سب سب سے پہلے مورے کو سلام کرنے آئیں تو وہاں کا منظر دیکھ کر سب نا سمجھی سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔ ڈرتے ڈرتے سب نے سلام کیا تو دوسری جانب سے جواب ہی موصول نہ ہوا۔ روشانے دوبارہ تماشے سے لطف اندوز ہونے کو وہاں حاضر ہو چکی تھی۔
کیا ہوا امی سائیں؟ حرم فکرمندی سے فریدہ بیگم کا رویا رویا چہرہ دیکھنے لگی۔
یہ تو تو اپنے ادا سے پوچھ حرم، ہماری عزت و ناموس تار تار کرے گا یہ لڑکا! وہ دوپٹہ چہرے پر رکھ کر پھپھک کر رو پڑیں۔
خاموش فریدہ، سب سے پہلے تو مجھے اس غدار سے نپٹ لینے دو، اس کے بعد میر سے بات ہو گی! انہوں نے سختی سے کہا تو فریدہ بیگم منہ پر ہاتھ رکھ کر بے آواز رونے لگیں۔ حرم سمیت ساری لڑکیاں منہ کھولے اصل معاملہ سمجھنے کی کوشش میں تھیں۔
جبھی شبانہ بی مرحا کے ساتھ آتی دکھائی دیں۔
وہ ڈرتے ڈرتے تخت کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
آپ نے مجھے بلایا شاہ بی بی؟ اس کی اواز میں خوف بسا ہوا تھا۔ وہاں سب کو اکھٹا دیکھکر کسی انہونی کے احساس سے اس کا نازک سا دل بے ہنگم شور مچانے لگا تھا۔ اسے حقارت آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے مورے نے اپنا دایاں پیر اٹھا کر ایک زوردار ٹھوکر مرحا کے پیٹ پر دے ماری۔ وہ درد سے تڑپتی دور جا گری۔ شبانہ بی تڑپ کر بے اختیار اس کے پاس آئیں اور اس کے کراہتے وجود کو سینے سے لگا لیا۔ وہاں موجود تمام لڑکیوں کے ہوش اڑ گئے جبکہ فریدہ بیگم کو گونہ گونہ سکون ملا تھا۔ دھیرے دھیرے اس موقعے پر حویلی میں اس وقت موجود جتنے بھی فرد موجود تھے وہاں جمع ہو چکے تھے۔ لڑکے بھی نا سمجھی سے خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔
“بے حیا، بے شرم، شرم نہ آئی تجھے، جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا! او شبانہ تیری بیٹی کی جرت کیسے ہوئی کہ وہ میر کے بارے میں عشق و عاشقی جیسے خیالات رکھے پوچھ اس سے، بہت شوق ہے اسے اپنی خوبصورتی کے جال میں مردوں کو پھنسانے کا بول! یہ صلہ دیا ہے تیری اولاد نے ہمارے احسانات کا؟؟ انہوں نے چیختے ہوئے کہا تو شبانہ بی جو اپنے سینے میں سر چھپائے سسکتی ہوئی مرحا کی پشت سہلا رہی تھیں وہیں ساکت رہ گئیں، صرف وہ ہی نہیں مرحا سمیت وہ سارے افراد بھی اپنی اپنی جگہ جم سے گئے جن پر یہ انکشاف ابھی ہوا تھا۔
شاہ ب بی یہ آپ ک کیا کہہ رہی ہیں؟ شبانہ بی ہلکاتے ہوئے بولیں، ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شاہ بی بی کو اس راز کی خبر ہو چکی ہے جو تین روز قبل صرف ان کے اور ان کی بیٹی کے مابین تھا۔
تو کیا غلط کہہ رہی ہوں ہاں؟ روشی نے سب کچھ بتا دیا ہے کہ کیسے تیری بیٹی نے نہ رو رو کر اسے اپنی داستانِ محبت سنائی ہے بلکہ اپنی محبت کی نشانیاں بھی دکھائی ہیں! پوچھ اس سے تو!! انہوں نے حقارت سے چور لہجے میں زمین پر پیٹ پکڑے بیٹھی سسکتی مرحا کو دیکھکر کہا تو اس الزام پر وہ جیسے رقصِ بسمل کی طرح تڑپ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور بھاگتے ہوئے شاہ بی بی کے قدموں میں آ گری۔
“شاہ بی بی خدا کیلئے میرا یقین کریں، یہ میرے اوپر الزام ہے خدارا، میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے شاہ بی بی، روشی بی بی جھوٹ بول رہی ہیں!! بے تحاشہ روتے ہوئے وہ ہاتھ جوڑے ان کے پیروں پر جھکی ہوئی تھی کہ انہوں نے ایک اور زوردار لات اس کے کندھے پر رسید کی وہ بری طرح اوندھی ہو کر زمین پر جا گری! مرحا کو ایسا محسوس ہوا آج ہی روزِ قیامت ہے! تکلیف کی شدت سے اس کا دل پھٹ گیا۔ شبانہ بی سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ اس بار وہ اس کی جانب نہیں بڑھی تھیں۔
زرا بے حیائی تو دیکھیں اس کی مورے! ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری،، توبہ توبہ، خود اتنا سب کچھ کر کے سارا ملبہ روشی پر ڈال رہی ہے؛ حالانکہ روشی نے تو پختہ ثبوت بھی پیش کر دیا ہے! سائرہ بیگم نے مزید جلتی پر تیل ڈالا۔
وہاں کھڑے کچھ نفوس تو ہنوز سکتے میں جبکہ کچھ حقارت سے اسے دیکھ رہے تھے جن میں فریدہ بیگم سمیت ان کی بیٹیاں بھی شامل تھیں۔ روشانے تو اپنی فاتحانہ مسکراہٹ چھپانے کی کوشش میں ہلکان ہوئی جا رہی تھی۔
جا مریم! میر کی وارڈروب چیک کر، بقول اس حرافہ کے کہ اس کا بھی کچھ سامان میر کے پاس ہے۔ جا چیک کر کے آ، خود ہی پتہ لگ جائے گا کہ یہ کتنے پانی میں ہے! وہ استہزائیہ انداز میں ہنسیں تو مرحا بے اختیار سسکتے ہوئے شبانہ بی کی جانب دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی، گویا اپنے بے قصور ہونے کا یقین دلانا چاہا، لیکن شبانہ بی نے آنکھیں پھیر لیں۔ مرحا کی سسکیاں مزید تیز ہو گئیں۔ آج وہ ہر لحاظ سے ہار گئی تھی۔ سب کی نظریں برآمدے کے دروازے پر ہی ٹکی تھیں جہاں سے مریم گئی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️
آج کالج میں حرم نے زوفا کے ساتھ جس قسم کی بے رخی دکھائی تھی اس کے بعد زوفا کی فکروں میں مزید اضافہ ہو چلا تھا، حالانکہ اس نے کئی دفعہ حرم سے اس کے اس رویئے کی وجہ دریافت کرنی چاہی مگر حرم نے آگے سے اسے کوئی خاص جواب نہ دیا تھا۔
وہ چینج کر کے جیسے ہی نیچے آئی لاؤنج میں رکھا لینڈ لائن فون چیخ اٹھا۔ اس نے لاؤنج میں داخل ہو کر فون اٹھایا۔
اسلام وعلیکم، جی کون؟ وہ ناسمجھی سے بولی
وعلیکم اسلام، سکندر شاہ بات کر رہا ہوں! دوسری جانب سے گمبھیر سی آواز سن کر اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
سکندر ا،ادا کیسے ہیں آپ، امممم میں زوفا؟ اس نے بمشکل لبوں پر مسکراہٹ سجا کر پوچھا، وگرنہ دل تو اس شخص کی آواز سن کر ہی بے قابو سا ہونے لگا تھا۔
الحمدللہ تم سناؤ، پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ اگلا سوال زوفا کی توقع کے عین مطابق تھا۔
پڑھائی اچھی جا رہی ہے الحمدللہ! اس نے آہستگی سے کہا۔
بی جان کیسی ہیں؟
بی جان سو رہی ہیں! آپ کہیں تو بات کرا دوں؟ زوفا نے اسے بی جان کے سونے کی اطلاع دی۔
نہیں ان کی نیند میں خلل پیدا ہوگا، میں پھر کروں گا، خیر حرم صاحبہ کالج جا رہی ہیں یا نہیں! دوسری جانب سے اس کی قدرے شوخ آواز پر وہ چونک سی گئی۔
یہ تو آپ اسی سے پوچھیں، ویسے اب وہ گیپ کرتی ہے ! اس نے بھی شگفتگی سے کہا۔
میری دراصل اس سے تین، چار روز سے بات نہیں ہو سکی مصرفیات کے باعث، خیر یہاں کال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ میں معلوم کرنا چاہ رہا تھا کہ بڑی حویلی میں سب خیریت تو ہے نا؟ میں نے کال کی کسی نے ریسیو نہیں کی!! سکندر شاہ نے وجہ بتائی۔
ہاں سب خیریت ہی ہو گی انشاء اللّہ،، شاید ادھر ادھر ہونگے سب تو کسی نے دھیان نہیں دیا ہوگا۔ آپ دوبارہ ٹرائی کریں! اس نے پرسوچ انداز میں کہا اور پھر دوسری جانب سے الوداعی کلمات کے بعد سکندر شاہ نے فون کٹ کر دیا۔
زوفا عجیب سے احساس میں گھِر گئی، یہ اس کی سکندر سے فون پر پہلی “تفصیلی گفتگو؛ تھی وگرنہ اس سے کبھی سامنا ہوتا بھی تو بس وہ سلام کر کے ہی رہ جاتی تھی۔ سکندر شاہ بھی ریزرو نیچر رکھتا تھا۔ خوامخواہ فری ہونا اسے بھی پسند نہ تھا۔
“یکایک زوفا کا ذہن حرم کی جانب چلا گیا۔ بقول سکندر شاہ کے کہ اس کی حرم سے تین یا چار روز سے بات ہی نہیں ہوئی اور حرم نے کل زوفا کا فون یہ کہہ کر کٹ کر دیا کہ سکندر شاہ کی کال آ رہی ہے، وہ بعد میں بات کرے گی؛
“آخر کیوں؟ حرم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہے؟ اس نے کل مجھ سے جھوٹ کیوں بولا اور دو روز سے اس کا رویہ اتنا سرد کیوں ہے میرے ساتھ؟؟ کہیں حرم کو کچھ پتہ تو نہیں چل گیا؟؟؟ نہیں یہ میں کیا سوچ رہی ہوں اس بات کی خبر تو آج تک میں نے خود کے سوا کسی کو نہ ہونے دی تو پھر اسے کیسے خبر ہو سکتی ہے۔۔۔ پتہ نہیں کیا وجہ ہے، آئی ہوپ سب ٹھیک ہو جائے!! سوچتے ہوئے اس کا ذہن بیچینیوں سے بھر گیا۔
🌸🌸🌸🌸🌸
مریم واپس لوٹی تو اس کے ہاتھ میں ایک عدد معمولی سا دوپٹہ اور ایک تصویر تھی جسے دیکھ کر حویلی کے تمام نفوس پر روشی کی کہی باتوں کی تصدیق ہو گئی تھی۔ مریم کے جانے کے بعد حرم نے برق رفتاری سے میر سالار کے یہاں کال کی اور اسے فوری حویلی پہنچنے کو کہا۔ مصروفیات کے باعث اس نے پہلے انکار ہی کیا مگر حرم نے ایمرجنسی کا کہا تو وہ بھی فکرمند ہو گیا کہ آخر ایسی بھی کیا وجہ ہے جو حرم اسے اتنی عجلت میں حویلی آنے کا کہہ رہی تھی۔ دو گھنٹے میں حویلی پہنچنے کا کہہ کر وہ فون بند کر گیا۔
تھو تھو !! یہ دن بھی دیکھنا تھا مجھے!! مورے نے فریدہ بیگم کو دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا، گویا میر سالار کے اوپر طنز کیا۔ فریدہ بیگم سبکی کے احساس سے مزید غم و غصّے کا شکار ہونے لگیں۔ مرحا بمشکل اپنے چور چور ہوتے وجود کیساتھ اٹھی اور زخمی نگاہوں سے روشانے کی جانب دیکھا، تو اسے طنزیہ نظروں سے خود کی جانب دیکھتے پایا۔ اس کی آنکھیں فتح کے احساس سے چمک رہی تھیں! مرحا کا دل گویا خون کے آنسو رونے لگا تھا۔ اس لڑکی نے اس پر قیامت برپا کر دی تھی اور خود کتنے سکون میں تھی۔
یہ خبر تو مجھے شاہ سائیں کو فوری طور پر دینی ہوگی۔۔ او شنّو جا مردان خانے سے شاہ سائیں سمیت اور مردوں کو بلا لا! زیشان کو بھی تو پتہ چلے کہ اس کے صاحب زادے کے کرتوت کیا ہیں! اور اس لڑکی کا کیا کرنا ہے شاہ سائیں خود فیصلہ کریں گے!! ان کی پاٹ دار آواز حویلی کے در و دیواروں میں گونج رہی تھی! مرحا نے بے تحاشہ ہراساں ہو کر شبانہ بی کو دیکھا جن کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔
مرحا گھٹی گھٹی آواز میں بیساختہ رونے لگی، شبانہ بی اس سے پہلے کہ مورے کوئی اور التجا کرتیں، وہاج شاہ سمیت، زیشان شاہ و منہاج شاہ بھی وہاں آ گئے۔
مورے نے سر جھکائے تھر تھر کانپتی مرحا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں تمام تفصیلات و ثبوت مہیا کئے تو وہاج شاہ کا جاہ و جلال عروج پر پہنچ گیا۔
شبانہ، یہ ہم کیا سن رہے ہیں، کیا یہ سچ ہے یہ تربیت کی ہے تم نے اپنی اولاد کی؟ اسے اپنی اوقات میں رہنا نہیں سکھایا ؟ انہوں نے شیر کی مانند چنگھاڑتے ہوئے شبانہ بی سے پوچھا۔۔ تو وہ گھگھیاتی ہوئی ہاتھ جوڑے ان کے قدموں میں جا گریں۔ زیشان شاہ نا قابلِ یقین تاثرات کیساتھ غصّے سے لال چہرہ لئے مرحا کو گھور رہے تھے۔ منہاج شاہ کے لئے بھی یہ مقامِ حیرت تھا۔
سائیں رحم کریں سائیں، میں اسے سمجھا دوں گی۔ بچی ہے سمجھ جائے گی ۔۔۔ آپ اس کی جان بخشی کر دیں سائیں!! انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے بیٹی کی زندگی کی بھیک مانگی تو مرحا نے اذیت کے احساس سے آنکھیں میچ لیں۔ اس قدر سبکی، اس قدر زلت، زمین پھٹ کیوں نہیں جاتی اور وہ اس میں سما کیوں نہیں جاتی۔۔۔ سوچتے ہوئے اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی۔
وہاج شاہ بے حسی سے بھرپور تاثرات لئے تخت سے اٹھے، اور تخت کے قریب ایک کونے میں کھڑی بندوق اٹھا کر کچھ قدم کے فاصلے پر کھڑی مرحا کے قریب چلے آئے۔ جس کا رنگ خطرناک حد تک فق ہو گیا تھا۔ سب ایک دوسرے کی جانب ہکا بکا سے دیکھنے لگے۔
انہوں نے بندوق کا سرا مرحا کی ٹھوڑی پر رکھا اور اس کا جھکا سر اٹھایا۔ جو شاید کسی بھی پل بس ہمت ہار کر گرنے کو تھی!
تمہاری ماں نے تمہیں تمہاری حدود میں رہنا نہیں سکھایا، چلو کوئی بات نہیں،، اب میرا حکم ہے آج سے تمہارا مدرسے جانا بند، تم داد بخش کی بیٹی ہو اور وہ ہمارا بہت وفادار ملازم رہا ہے، اس لئے تمہاری جان بخشی ہو گئی،، نہیں تو خدارا اس وقت تمہاری لاش کسی جنگل میں پڑی ہوتی!! دانت پیستے ہوئے وہ سفاکیت کی انتہا پر تھے۔
اور بات سنو شبانہ، کل ہی اس کے نکاح کی تیاری کرو، امجد کیساتھ سادگی سے اسے رخصت کر دیا جائے گا۔۔۔ دفع ہو اسے لے کر یہاں سے !! کٹھور لہجے میں انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تو مرحا کے آنسو گویا آنکھوں میں ہی ٹھٹھر گئے۔ وہ پتھر بنی شبانہ بی کے ساتھ بس کھینچی چلی جا رہی تھی۔ مورے کے چہرے پر جاندار سی مسکراہٹ جبکہ باقی سب بھی تھوڑا پرسکون ہوئے۔ روشانے کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ مگر ابھی ایک اور مرحلہ باقی تھا اور وہ تھا “میر سالار؛
میر سالار سے بھی آمنے سامنے بات ہو گی، اس نے حویلی کی روایت کے خلاف جا کر اچھا نہیں کیا۔ اس کا بدلہ اسے چکانا ہوگا۔ وہاج شاہ غراتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ فریدہ بیگم زیشان شاہ کا سرخ چہرہ دیکھنے لگیں۔۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ حرم و عفاف بھی سہمی سہمی سی تھیں!
🥀🥀🥀🥀🥀
وہ حویلی پہنچا تو سوا سات بجنے کو تھے۔ اس نے حویلی کی خلافِ معمول خاموشی نوٹ کی! اس کے آنے کی اطلاع شاید سبھی کو ہو چکی تھی اس لئے سب آہستہ آہستہ مورے کے دیوان کے گرد جمع ہونے لگے۔ وہاج شاہ سمیت بقیہ مرد حضرات بھی وہاں موجود تھے۔ وہ سلام کرنے سیدھا مورے کے پاس آیا تو وہاں پہلے سے ہی کم غفیر دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔
کیا ہوا خیریت؟ اس نے سوالیہ نظروں سے سب کے چہروں کی جانب دیکھا۔
خیریت والا کوئی کام تم نے کیا ہے برخوردار، جو خیریت کی امید کر رہے ہو؟ وہاج شاہ نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا تو میر سالار کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اسے پہیلیاں بجھانے والے لوگوں سے سخت کوفت ہوتی تھی۔
ہوا کیا ہے دادا سائیں، کچھ پتہ تو چلے! وہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ابرو اُچکا کر بولا۔
تمہاری محبوبہ نے ہر راز سے پردہ اٹھا دیا ہے! کیا تمہیں خبر نہیں اس بات کی؟ انہوں نے اپنے تئیں تیکھا سا وار کیا، میر سالار سخت کنفیوز ہو گیا۔
میں کچھ سمجھا نہیں، کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟ اس بار اس کا بھی انداز غصّے بھرا تھا۔ فریدہ بیگم تاسف بھری نگاہوں سے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔ یہی حال حرم و عفاف کا تھا۔۔
میں بتاتی ہوں تمہیں تو سنو،، مورے تنک کر تیز آواز میں بولیں اور اسے تفصیلات سے آگاہ کیا تو پہلے تو بے یقینی کی شدت سے میر سالار کا دماغ سلگنے لگا تھا پھر آنکھوں میں گویا خون اتر آیا۔ چہرہ بے تحاشہ سرخ ہو گیا تھا۔
کدھر ہے وہ؟ وہ بولا نہیں دہاڑا تھا۔۔ ساتھ ہی وہ وہاں سے نکل کر انیکسی کی اور جانے کو بڑھا تو فریدہ بیگم تیر کی سی تیزی سے اس کے سامنے آئیں۔
کدھر جا رہے ہو میر ہاں؟ تم میں زرا سی بھی شرم باقی ہے بتاؤ؟ تم اپنا سٹینڈرڈ بھول گئے ہو؟ ایک ملازمہ سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہوئے تم نے حویلی کی روایات عزت، و ناموس تک کا خیال نہیں کیا۔۔۔ اور اب پھر سے اس ڈائن کے پاس جا رہے ہو شاید یہ کہنے کہ اس نے یہ راز فاش کیوں کر دیا اتنی جلدی ہے نا؟ فریدہ بیگم غصّے سے کانپتی ہوئی بولیں تو میر سالار کی آنکھوں کی سرخی میں کچھ اور بھی اضافہ ہو گیا۔
ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں آپ سب،، مجھے صفائیاں پیش کرنے سے نفرت ہے اور نہ ہی میں کروں گا۔ میری طرف سے اجازت ہے جس کا جو دل کرے وہ جیسا دل کرے وہ میرے بارے میں ویسے خیالات رکھے!! وہ سلگتے لہجے میں گویا انگارے چباتے ہوئے بولا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اس کا رخ انیکسی کی جانب تھا۔
✨✨✨✨✨
شبانہ بی اسے پیٹ پیٹ کر جب تھک گئیں تو خود ایک طرف بیٹھ کر رونے لگیں۔ جب کہ وہ بے دم سی زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ آنکھیں ایک ہی زاوئیے پر ٹکی اور ساکن تھیں۔ سر سے پاؤں تک لے کر اس کا بدن چور چور تھا۔ اس نے اپنی وضاحت میں بہت کچھ کہنا چاہا مگر شبانہ بی کچھ سننے کو تیار نہ تھیں۔
کاش تو پیدا ہوتے ہی مر گئی ہوتی! نہ تو ہوتی نہ یہ دن دیکھنا ہوتا! اللّٰہ کرے تو مر جائے!! وہ زار و قطار رونے لگیں۔ ساکت و بے جان پڑی مرحا کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر اس کے بالوں میں ہی کہیں جذب ہو گیا۔
مجھے معاف کر میرے ہمسفر تجھے چاہنا میری بھول تھی
کسی موڑ پر جو اٹھی نظر تجھے دیکھنا میری بھول تھی۔
کوئی رات ہو یا کوئی سحر، کوئی شام ہو یا کوئی غزل
وہ گلی گلی وہ شہر شہر تجھے ڈھونڈنا میری بھول تھی
میرے غم کی کوئی دوا نہیں، مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں
کوئی میرا تیرے سوا نہیں، یہی سوچنا میری بھول تھی۔
جاری و ساری ہے
