Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

وہ زوفا کے گلے سے لگی ہوئی تھی جبکہ میر سالار اب گہرا سانس بھرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔ ملازمہ بھی خاموش کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ دوسری جانب زوفا کی آنکھیں اس قدر اپنائیت پر نم سی ہونے لگیں۔ مرحا کوئی جواب نہ پاکر اس سے علیحدہ ہوئی تو اس کی پرنم آنکھیں دیکھکر مزید الجھ سی گئی۔

“کیا بات ہے زوفا بی بی؟ آپ کو چوٹ آئی ہے یا کسی نے آپ پر تشدد کیا ہے۔ خدا کیلئے کچھ تو بتائیں؟ وہ حیران پریشان سی زوفا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتی بولی۔ اس کی بے چینی عروج پر تھی۔ زوفا کو اس حال میں دیکھکر اسے بہت دکھ پہنچا تھا۔ آخر اتنی پیاری لڑکی کیساتھ ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟ یہ سوچ اس کے دکھ میں مزید اضافے کا سبب بن رہی تھی۔

“مرحا فلحال اسے آرام کرنے دو اور خود بھی کرو! رات بہت ہو گئی ہے۔ صبح بات کر لینا ویسے بھی زوفا اب یہیں رہے گی ہمارے پاس!!! اس سے پہلے کہ زوفا کچھ بولتی، میر سالار نے سنجیدگی سے مرحا کو تنبیہہ کی۔ جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سیکنڈ کے اندر زوفا سے سب کچھ اگلوا لے۔ وہ بے بسی سے میر سالار کو دیکھ کر رہ گئی۔

“زوفا تمہارا جو بھی کھانے کا دل ہو بلاجھجک اسے کہہ دو پھر یہ تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دے گی۔۔۔ میر سالار نے بھرپور اپنائیت سے زوفا سے کہا۔
“نہیں میر ادا میں نے کھانا کھا لیا تھا۔ بس نیند آ رہی ہے زرا۔۔۔ مرحا تم سے انشاء اللّہ کل بات کروں گی۔ ابھی تم بھی جاؤ آرام کرو! زوفا نے میر سے کہتے ہوئے مرحا کا گال پیار سے سہلا کر اسے تسلی دی تو وہ بھی سمجھتے ہوئے آہستگی سے مسکرا دی تاہم اس کی الجھن ابھی بھی اپنی جگہ ہی تھی۔ پھر ملازمہ کے ہمراہ وہ بھی اسے اس کا کمرہ دکھانے چلی گئی جبکہ میر سالار بھی طمانیت کا سانس لیتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

کچھ دیر میں وہ قدرے پھولے ہوئے منہ کیساتھ واپس آئی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ پچھلے دو روز سے یہ کمرہ اب اس کا اور میر سالار کا مشترکہ کمرہ بن چکا تھا۔ تمام تر حق کیساتھ اپنی تمام چیزیں اب اس نے یہاں شفٹ کر لی تھیں۔

میر سالار شاید چینج کرنے کی غرض سے ڈریسنگ روم میں چلا گیا تھا۔ وہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کئے سونے کا دکھاوا کرتی کروٹ بدل گئی۔ کچھ پل یونہی گزر گئے، پھر ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر مرحا کی تمام سماعتیں اسی جانب لگ گئیں۔
وہ باہر نکلا تو سامنے اسے کروٹ کے بل لیٹا دیکھکر بے اختیار اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ وہ جانتا تھا وہ تجسّس کے مارے پاگل ہو رہی ہے۔ مگر فلحال وہ نہیں چاہتا تھا کہ زوفا کے تمام زخم پھر سے ادھڑ جائیں دوسری بات رات بھی کافی ہو گئی تھی مگر ان محترمہ کے پلے کوئی بات پڑتی تو نہ انہیں سمجھ آتا۔۔!!!

مرحا! موبائل کو چارجنگ پر لگاتے ہوئے اس نے گمبھیر آواز میں اسے پکارا مگر جواب بے سود!
تم اتنی جلدی اتنی بے خبری بھری نیند تو نہیں سکتیں مسز! نا ممکن! وہ مسکراہٹ دبا کر اس سے کہتا ہوا کمرے کی لائٹ آف کر کے بیڈ پر آ لیٹا ساتھ ہی احتیاط سے اس کا بازو تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا تو کٹی ہوئی شاخ کی مانند اس کی پشت میر سالار کے سینے سے آ لگی۔ تاہم چہرے کا رخ ابھی بھی اس کی جانب نہیں کیا تھا اور نہ اپنی بند آنکھیں کھولیں تھیں۔ کمرے میں سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کی روشنی میں وہ اس پر جھک کر نرمی سے اس کا رخ اپنی جانب کر کے بغور اس کا چہرہ دیکھنے لگا جس کی لمبی پلکیں اب لرزنے لگی تھیں۔

“تم ہو تو بلا کی بیوقوف یہ تو مجھے پہلے سے ہی معلوم ہے، مگر ایکٹنگ میں بھی صفر ہو تمہاری اس خاصیت کا آج پتہ چلا ہے! وہ شرارت آمیز لہجے میں کہہ کر اس کی ننھی منّی سی ناک چومتے ہوئے بولا تو وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔ منہ مزید پھول گیا۔

“جی نہیں میں بہت اچھی ایکٹنگ کر لیتی ہوں! غصّے سے لال ہوتے ہوئے کہا گیا تو میر سالار کا بے ساختہ قہقہہ نکلا تھا۔
“یعنی مسز میں صحیح تھا۔ تم واقعی نیند میں نہیں تھی! رائٹ؟ میر نے ابرو اچکا کر اس کی ہرنیوں جیسی آنکھوں میں دیکھا۔

“میں سچ میں نیند میں ہوں، دیکھیں۔۔!! اس نے خفگی سے کہتے ہوئے اپنی آنکھوں کی جانب اشارہ کیا۔
“دیکھ ہی تو رہا ہوں! میر سالار نے معنی خیزی سے اس کے سراپے کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ بری طرح سے سٹپٹا سی گئی۔ چہرہ شرم کے باعث سرخ سا ہونے لگا مگر اپنا بھرم رکھنے کیلئے کچھ نہ کچھ ٹر ٹر کرنا بھی اس کے لئے ضروری تھا۔

“ایک تو میں جاننا چاہتی ہوں کہ زوفا بی بی کی ایسی حالت کیوں ہے، اور اوپر سے آپ نے منع کر دیا۔ میں ناراض ہوں! وہ اپنے شانے پر پھیلا اس کا بازو ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے منمنا کر بولی۔

“صبح تمہیں سب پتہ چل جانا ہے۔ اب کوئی بحث نہیں! فلحال یہاں دیکھو! میر سالار نے اسی نرمی سے کہا ساتھ ہی اسے خود سے مزید قریب تر کر لیا۔ شرم کے مارے مرحا کے ہاتھ پاؤں برف سے ہونے لگے۔ وہ اس کے اس قدر قریب تھا کہ دھڑکنوں سے دھڑکنوں کی تال آپس میں ٹکرانے لگی تھیں۔ مرحا کانوں کی لوؤں تک سرخ ہو گئی۔ اس کی جانب دیکھنا تو دور وہ نظر بھی نہ اٹھا سکی۔

“آپ ک کیا کر رہے ہیں سائیں! وہ اس کے کشادہ سینے میں سر دئیے کانپتی آواز میں بولی۔ اس شخص کی قربت میں اس کے ہوش و حواس مختل سے ہونے لگتے تھے۔ اب بھی یہی حال ہو رہا تھا۔

“فلحال تو کچھ نہیں، تمہاری صحت میرے لئے دشمنِ جاں جو بنی ہوئی ہے۔ بس تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم صرف میری ہو! بوجھل سرگوشی اس کے کانوں میں کرتے ہوئے اس نے اس کا چہرہ سامنے کیا اور پوری شدت سے اس کے تپتے گالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا تو اس کی سانسوں کی تپش سے مرحا کا پور پور سلگنے لگا۔ آنکھوں میں حیا کی سرخی لئے وہ میر سالار کو دیکھنے لگی جو محبت پاش نظروں سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کی نگاہوں کے تقاضے ایسے تھے کہ وہ نظریں چراتے ہوئے جھینپ سی گئی۔

“اور آپ کس کے ہیں؟ اس کے کالر پر نگاہیں ٹکائے اس نے آہستگی سے سوال کیا۔
“صرف تمہارا! عقیدت سے اس کی پیشانی چومتے ہوئے سالار جذبات سے چور لہجے میں بولا۔ اس اقرار پر مرحا کے دل کی حالت عجیب سی ہو گئی۔ پورے جسم میں سکون کی ایک لہر سرائیت کر گئی۔

“تم اگر میری طرف دیکھو گی تو ہرگز کوئی مضائقہ نہیں ہے اس میں؟ میر سالار نے اس کی شرم محسوس کر کے شرارت آمیز لہجے میں ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ زرا سا اوپر اٹھاتے ہوئے کہا تو اس نے آنکھیں ہی بند کر لیں۔

“اگر تم نے آنکھیں نہیں کھولیں تو پھر بعد میں مجھ سے شکوہ مت کرنا! دیٹس اٹ!!! میر سالار کی دھمکی کام آ گئی تھی اس نے آنکھیں کھول کر اس کی سمت دیکھا تو وہ دھیرے سے ہنس دیا۔ مرحا جزیز سی ہو گئی۔
“میر سائیں پلیز مجھے آپ سے بہت شرم آ رہی ہے! وہ قدرے بے چارگی سے بولی تو سالار کندھے اچکا گیا۔

“تو؟ ویسے بھی یہ تمہارا ڈیپارٹمنٹ ہے میرا نہیں! بے نیازی سے کہہ کر وہ شہادت کی انگلی اس کی پیشانی سے کھینچتا ہوا گلاب کی پنکھڑیوں کی مانند لرزتے ہونٹوں تک لے آیا۔ مرحا کی سانسوں کی رفتار تیز جبکہ دھڑکنیں بے قابو سی ہونے لگیں۔ اس نے احتجاجاً کانپتا ہوا ہاتھ اٹھا کر میر سالار کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انداز میں معصوم سی مزاحمت تھی۔ میر سالار اس کی مزاحمت کو یکسر نظر انداز کر کے اس کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں بھینچ کر بے خود انداز میں اس کے نازک ہونٹوں پر جھک گیا۔ اس قدر شدت سے کہ مرحا کے حواس جواب دینے لگے تھے۔ سانسیں الگ بے ترتیب! ایسا لگتا تھا جسم کے ہر مسام سے پسینہ بہہ نکلا ہو! جسم میں ہلنے کی سکت تک باقی نہ رہی تھی۔
وہ بے دم سی پلکیں موندے اس کی گستاخیوں کو محسوس کر رہی تھی۔ کچھ ثانئے بعد وہ زرا سا پیچھے ہٹا اور خمار آلود آنکھوں سے اسے دیکھا جو چھوئی موئی اور قدرے نڈھال سی تھی۔

“اب سو جائیں مسز! ورنہ میرا خود پر رہا سہا کنٹرول بھی ختم ہو جائے گا! سالار نے گہری نگاہوں سے اس کے حسین چہرے پر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا تو مرحا یکلخت جیسے ہوش میں آئی۔ دوسرے ہی پل وہ اس کا بازو ہٹاتی اچھل کر بیڈ کے کونے میں جا لیٹی! چہرے سے گویا بھاپ نکل رہی تھی! میر سالار کی والہانہ نگاہیں خود پر محسوس کر کے اس نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔ سائیڈ لیمپ کی روشنی گل کر کے میر سالار سیدھا لیٹ گیا۔

“یہ تم کس خوشی میں اتنے کنارے پر جا لیٹی ہو؟ ادھر آؤ! کمرے کی خاموش فضا میں میر سالار کی آواز گونجی تو وہ جو ہاتھوں میں چہرہ چھپائے لیٹی ہوئی تھی۔ ہاتھ ہٹا کر کمرے میں پھیلی تاریکی کو دیکھا۔

“آ رہی ہوں سائیں پلیز، نیند آ رہی ہے! وہ شرم سے چور آواز میں کہتی زرا سا بیچ میں کھسک آئی۔ تاہم فاصلہ برقرار ہی رکھا اور آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی۔ میر سالار بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کھل کر مسکرا دیا ساتھ ہی خود بھی آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی گہری وادیوں میں اتر گیا تھا۔

                ❤️❤️❤️❤️❤️

صبح کے سات بجنے کو تھے۔ حسبِ معمول بڑی حویلی میں سب ناشتے کی میز پر اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے۔ مُنّی (ملازمہ) جوس کا جگ رکھنے کو آئی تو مورے نے اسے پکارا وہ ان کی کرسی کے نزدیک چلی آئی۔

“وہ مہارانی کدھر ہے ہوں؟ انہوں نے پاٹ دار لہجے میں استفسار کیا۔
“پتہ نہیں شاہ بی بی، وہ تو آج حویلی نہیں آئی جی؛ منّی نے ڈرتے ڈرتے بتایا تو مورے کے ماتھے پر ان گنت بل پڑ گئے۔

“کیوں نہیں آئی؟ کیا اسے خاص طور پر پیغام بھیجا جائے گا۔ جا بلا کر لا اسے فوراً سے پیشتر! تیز لہجے میں دنیا جہاں کا تکبر بھرا ہوا تھا۔ منّی سر ہلاتے ہوئے فوراً حکم کی تکمیل کو بھاگی۔ کچھ منٹ بعد وہ اکیلی ہی وہاں آئی تھی۔ مورے نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

” شاہ بی بی وہ زوفا تو اپنے کمرے میں موجود نہیں ہے جی نہ ہی حویلی میں کہیں موجود ہے! میں نے باقیوں سے بھی پوچھا ہے! منّی نے باقی ملازمین کا حوالہ دیتے ہوئے مورے کو اطلاع دی۔

“کیا مطلب کہیں نہیں ہے۔ کیا بکواس کر رہی ہو ہاں؟ وہاج شاہ نے کھا جانے والے انداز میں پوچھا۔ منّی مزید ڈر گئی۔
“س سچ کہہ رہی ہوں شاہ سائیں، وہ نہیں موجود ہے کہیں بھی! اس نے کپکپاتی آواز میں دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ باقی سب بھی اس خبر پر حیرانگی سے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ خبر ان سب کیلئے صبح کی تازہ ترین خبروں میں سے ایک تھی! البتہ سکندر شاہ خاموش ہی رہا تھا چونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ نہ بھی بتائے پھر بھی سچ سے پردہ اٹھ ہی جانا ہے۔ سو خاموشی ہی بہتر تھی۔ ویسے بھی وہ اپنا اس بابت کچھ بول کر اپنے لئے شامت کو آواز نہیں دینا چاہتا تھا۔

“جاؤ مُنتہا! تم چیک کر کے آؤ کدھر ہے وہ منحوس ماری! مل جائے تو اسے میری خدمت میں حاضر کرو! مورے نے منتہا سے کہا تو وہ میز سے اٹھ کر مُنّی کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی خود ڈائننگ روم سے باہر نکل گئی۔

“ناشتہ ختم کرو سب، وہ آ جاتی ہے ابھی! مورے ان سب سے کہتی خود ناشتے کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
منتہا کی واپسی کافی دیر بعد ہوئی تھی اس دوران ان سب نے ناشتہ بھی کر لیا تھا۔ وہ آئی تو چہرے پر ازحد مایوسی چھائی ہوئی تھی!

“مُنّی ٹھیک کہتی ہے مورے، وہ کمبخت کہیں نہیں ملی! منتہا نے دانت پیستے ہوئے کہا تو مورے سمیت وہاج شاہ بھی جھٹکے سے اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

“کہاں جا سکتی ہے وہ آخر! حویلی میں اس کی غیر موجودگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو چکی ہے! کس نے مدد کی اس کی، آخر کون ہے وہ! خود ہی سامنے آ جائے ورنہ اس کا انجام موت سے بھی بدتر ہوگا۔ وہاج شاہ دہاڑتے ہوئے ڈائننگ روم سے باہر نکلے۔ مورے بھی تن فن کرتی ان کے پیچھے نکلیں۔ حفضہ بیگم کا چہرہ غصے کی شدت سے لال ہوا جا رہا تھا یہی حال ان کی اولادوں و منتہا کا بھی تھا۔ باقی سارے بھی اپنی اپنی جگہ حیران تھے۔ سکندر شاہ ناشتے کے بعد ڈیرے پر چلا گیا تھا۔
“برآمدے کے تخت پر بیٹھتے ہوئے وہاج شاہ نے تمام ملازمین کی فوج کو اپنے سامنے اکھٹا کیا۔ وہ سارے دو قطار بنائے کھڑے انتہائی سہمے ہوئے اور ہراساں لگ رہے تھے۔

“جیسا کہ تم سب کو پتہ ہے کہ وہ لڑکی زوفا حویلی سے غائب ہے۔ آخر یہاں سے نکلنے میں اس کی مدد کس نے کی؟ بہتر ہے خود ہی اقرارِ جرم کر لو ورنہ بے موت مارے جاؤ گے! سفاک لہجے میں کہہ کر انہوں نے ان تمام کو وارننگ دی تو وہ سب خوف کی شدت سے کانپنے لگے۔

“سائیں، قسم سے ہمیں نہیں پتہ جی، خدا کیلئے ہماری جان بخشی کر دیں! شبانہ بی گھگھیا کر بولیں۔ وہاج شاہ و مورے کی سفاکیت سے یہاں کا بچہ بچہ واقف تھا۔
“خاموش بدبخت عورت! ہمیں پورا یقین ہے کہ تم میں سے ہی کسی نے مدد کی ہے اس کی! بنا کسی مدد کے وہ یہاں سے نکل ہی نہیں سکتی! ایک منٹ کے اندر بتاؤ ورنہ تم سب کو زندہ زمین میں دفن کر دیا جائے گا۔ وہ دہاڑتے ہوئے بولے تو مورے نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔

“اگر جان پیاری ہے تو منہ کھول دو۔ ورنہ ہماری دی گئی سزاؤں سے تم سب واقفیت رکھتے ہی ہوگے! مورنے نے سخت لہجے میں کہا تو وہ سب بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ جبھی راکھی ہمت کر کے دو قدم آگے بڑھ آئی۔ سب کی سوالیہ نظریں اس پر ٹک گئیں۔

“شاہ بی بی میں نے رات میں آخری بار میر سائیں کو اس کمرے کے پاس کھڑا دیکھا تھا جی پھر میں کام ختم کر کے سونے چلی گئی۔ مجھے مزید کچھ نہیں پتہ جی! سہمی ہوئی راکھی نے ہاتھ جوڑ کر بتایا اور دانستہ اس نے کھانے والی بات نہیں بتائی کیونکہ اسے پتہ تھا اس کی بھی شامت آ جانی ہے! لیکن اپنی جان بچانے کیلئے اسے آدھا سچ بتانا ہی تھا۔ دوسری جانب اس انکشاف پر ان سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

“اوہ! یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا! یہ کام اس گستاخ کے علاوہ بھلا اور کون کر سکتا ہے! یقیناً اس نے ہی یہ کیا ہے۔ اس کی یہاں غیر موجودگی اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ہی اس لڑکی کی یہاں سے نکلنے میں مدد کی ہے! شک و شبہات کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اسے ساتھ وہی لے گیا ہے!!! وہاج شاہ چنگھاڑتی آواز میں بولے۔ غصّے کی شدت سے ان کا چہرہ تھرا رہا تھا۔ یہی حال مورے سمیت حفضہ بیگم و منتہا وغیرہ کا تھا۔ باقی سارے ابھی سچویشن کر سمجھنے کی کوشش میں تھے جس میں سرِ فہرست حرم بھی تھی۔

“بالکل صحیح کہا آپ نے سائیں! سالار کے الاوہ یہاں کوئی اس حد تک گستاخ و بدتمیز نہیں ہے۔ اس نے ہی یہ کیا ہے۔ کیوں سائرہ صحیح کہہ رہی ہوں نا؟ مورے نے سائرہ بیگم کو بری طرح گھورتے ہوئے پوچھا تو وہ جو پہلے ہی حیران پریشان تھیں مزید خبط الحواس ہو گئیں۔
“مورے ہو سکتا ہے میر اپنے کمرے میں سو رہا ہو! اس کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے مورے! سائرہ بیگم نے دھیمے لہجے میں اپنی بات کہی۔

“ٹھیک ہے پھر اتنا ہی یقین ہے تو تمہاری بات بھی رکھ لیتے ہیں! جا شنّو جا دیکھ کے آ میر اپنے کمرے میں موجود ہے یا نہیں! انہوں نے ملازمہ کو حکم دیتے ہوئے کاٹ دار نظروں سے سائرہ بیگم کو دیکھا جن کے چہرے پر مزید ہوائیاں اڑنے لگیں تھیں۔ زیشان شاہ بھی پیشانی مسلتے ہوئے ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگے جبکہ وہاج شاہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بگڑے تاثرات کیساتھ ملازمہ کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد شنّو واپس آئی اور میر سالار کی غیر موجودگی کی خبر دی تو مورے کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھر آئی جبکہ وہاج شاہ غصّے سے بارود ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سائرہ بیگم روہانسی سی ہونے لگیں۔

“زیشان اس بار تمہارے بیٹے نے تو تمام تر حد ہی پار کر دی ہیں۔ بہت ہمدردی کا بخار چڑھا ہوا ہے نا اسے،،، بہت برا ہوگا زیشان اسے باور کرا دینا۔ ہمارے عتاب سے آج تک نہ کوئی بچا ہے نہ بچ سکے گا۔ سمجھے تم! یہ حرکت کر کے اس نے حویلی کی روایات پر تمانچہ مارا ہے۔ اچھا نہیں کیا اس نے زیشان۔ بہت برا کیا ہے اس نے!!! انہوں نے غرا کر کہتے ہوئے شہادت کی انگلی اٹھا کر زیشان شاہ کو باور کرایا تو ان کا چہرہ شِدّتِ ضبط سے مزید سرخ ہو گیا۔
اس کے بعد وہاج شاہ دھم دھم کرتے وہاں سے نکل گئے۔ مورے بھی تنتناتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب ہو لیں۔ باقی سارے بھی دھیرے دھیرے منظر سے ہٹنے لگے۔ زیشان شاہ نے اپنے کمرے کا رخ کر لیا تھا۔ میر سے ان کی ناراضگی میں آج مزید اضافہ ہو چکا تھا۔حفضہ بیگم طیش کے عالم میں بپھرتے ہوئے سائرہ بیگم کے نزدیک آئیں۔

“سائرہ تمہارے بیٹے سالار نے آج جو حرکت کی ہے وہ ناقابلِ معافی ہے۔ ہم سب کو یقین ہے وہی لے گیا ہے اسے! میرے بیٹے کے قاتل کی بہن کو تمہارے بیٹے نے قید سے رہائی دلوا کر بہت غلط کیا ہے سائرہ۔ اس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہوگا۔۔۔!! حفضہ بیگم کی اونچی و سخت آواز آخر میں بھرا سی گئی۔ ساتھ ہی وہ خود بھی وہاں سے نکل گئیں۔ سائرہ بیگم اپنے گھومتے سر کو ہاتھوں میں تھامے تخت پر ڈھے سی گئیں۔ ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو چکا تھا۔

               🌸🌸🌸🌸🌸

صبح تقریباً ساڑھے آٹھ کے قریب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے موندی موندی آنکھوں سے اپنے بازو میں دیکھا جہاں میر سالار بے خبری بھری نیند میں تھا۔ اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے رات کے وہ لمحات یاد آتے ہی مرحا کے پورے وجود میں برقی رو سی دوڑ گئی۔ یہ شخص ایک ساحر تھا جس نے اسے مکمل طور پر بے بس کر کے اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔ نہ جانے کتنے پل گزر گئے اسے احساس تک نہ ہوا۔ وہ یونہی سالار کے چہرے کو یک ٹک دیکھتی رہی۔

کچھ دیر یونہی گزارنے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ فریش ہو کر وہ کمرے سے نکلی اور لاؤنج میں چلی آئی جہاں زوفا خاموشی سے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ٹی وی آن تھا مگر وہ اپنے ہی خیالات میں گم بیٹھی ہوئی تھی۔ مرحا بغور اس کا گم صُم انداز نوٹ کرتے ہوئے ہلکے سے کھنکھاری تو زوفا چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

“صبح بخیر زوفا بی بی، رات کیسی گزری آپ کی؟ وہ پیار سے پوچھتی اس کے نزدیک آ بیٹھی۔
“بہت اچھی الحمدللہ، زوفا نے ہلکی مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا۔

آپ نے ناشتہ کیا؟ مرحا نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ چونکہ وہ جلدی ہی اٹھ گئی تھی تو بانو(ملازمہ) نے اس کا ناشتہ اسے تیار کر کے دے دیا تھا۔
“زوفا بی بی، اب صبر نہیں ہو رہا۔ مجھے بتائیں آخر کس ظالم نے آپ کا یہ حال کیا ہے؟ وہ بیقرار سی زوفا کا ہاتھ تھامے اس کے چہرے پر بکھرے جا بجا نیل کو دیکھتے ہوئے بولی۔ اس کے علاوہ اس کی گردن اور ہاتھوں پر بھی زخم کے نشانات موجود تھے۔ یہ تو صرف ظاہری زخم تھے جو مرحا کو دکھائی دے رہے تھے۔ اندرونی حصوں کے زخم دیکھکر شاید مرحا اپنے ہوش و حواس ہی کھو بیٹھتی۔

“بڑی حویلی والوں نے۔۔۔!! زوفا نے آہستگی سے جواب دیا۔ لہجہ یاسیت زدہ سا ہو گیا تھا۔ مرحا اس کے جواب پر ساکن رہ گئی۔
“کیا؟؟ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں زوفا بی بی؟ بڑی حویلی والوں نے آپ کا یہ حال کیوں کیا ہے آخر؟ خدارا مجھے تفصیلات سے آگاہ کیجئے!!! کچھ پل بعد وہ بولنے کے قابل ہوئی تو اپنے آنسوؤں پر بمشکل ضبط کرتی زوفا کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر پوچھا تو زوفا نے آہستہ آہستہ تمام روداد سنا ڈالی۔
مرحا حقیقت سے آگاہی کے بعد ساکت سی بیٹھی تھی۔ اس کے دل کو دھکا سا لگا تھا۔
“بڑی حویلی والے اس قدر سفاک ذہن تھے کہ انہوں نے اپنوں کو بھی نا بخشا؛! سوچتے ہوئے اس نے دکھ سے زوفا کو دیکھا جو اپنے آنسو پئے جا رہی تھی۔ مرحا نے بے اختیار اسے گلے لگا لیا۔ زوفا بے اختیار سسک اٹھی۔

“آپ فکر نہ کریں زوفا بی بی، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سائیں ہیں نا وہ سب ٹھیک کر دیں گے۔ میں آپ کے لئے بہت دکھی ہوں۔ اللّٰہ پاک آپ کی زندگی میں ڈھیروں خوشیاں لے آئے۔ انشاء اللّہ وہ دن دور نہیں جب ایک روز آپ کی زندگی سے بھی تمام غم رخصت ہو جائیں گے۔۔۔!!! وہ دھیرے دھیرے اس کی پشت سہلاتی نم آواز میں اسے تسلیاں دینے لگی۔ اس کی آواز میں اس قدر نرمی و محبت تھی کہ زوفا کے دل کو جیسے سکون سا ملنے لگا۔ وہ مرحا سے الگ ہوئی اور اس کی پیشانی چوم لی۔ ساتھ ہی اپنے گالوں پر ڈھلک آئے آنسوؤں کو انگلیوں کی پوروں سے صاف کیا۔

“تم بہت معصوم ہو مرحا! وہ اس کے گالوں پر چٹکی بھرتے ہوئے پیار سے بولی تو مرحا جھینپ سی گئی۔

“اور آپ بھی!! وہ زوفا کا ہاتھ گرمجوشی سے اپنے ہاتھوں میں دباتے ہوئے بولی۔
“ایک بات کہوں! زوفا نے اجازت چاہی
“ہاں بولیں نا زوفا بی بی! مرحا نے فوراً کہا۔

“تم آج سے مجھے زوفا ہی کہا کرو گی اور آپ جناب سے کام نہیں چلے گا بلکہ تم مجھے “تم؛ ہی پکارا کرو گی! زوفا نے اپنائیت سے کہا تو مرحا حیران رہ گئی۔

‘ل لیکن میں تو ہمیشہ، میرا مطلب؛ وہ جھجھکتے ہوئے بولی تو زوفا نے حوصلہ آمیز مسکراہٹ کیساتھ اسے دیکھا۔
‘پہلے کی بات اور تھی۔ اب سچویشن مختلف ہے۔ تم مجھے زوفا پکارو گی تو مجھے بہت خوشی ہو گی اور اچھا بھی لگے گا پلیز مرحا!! زوفا نے اصرار بھرے لہجے کہا۔

چلیں ٹھیک ہے اب سے میں آپ کو آپ کے نام سے ہی پکاروں گی! مرحا نے دوبارہ سے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
“ایک بات بتاؤ! میر ادا کیساتھ خوش ہو نا؟ زوفا نے پشت پر اس کی لمبی چٹیوں کو جھٹکا دیتے ہوئے پوچھا۔ لہجہ چھیڑتا ہوا تھا۔
“بہت خوش ہوں وہ بہت اچھے ہیں! مرحا نے کھلے ہوئے چہرے کیساتھ کہا۔

“اچھا جی، لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دو کہ کتنے اچھے ہیں!!! زوفا نے اسے گدگدی کرتے ہوئے پوچھا تو وہ کھلکھلا اٹھی۔ اس کے جگمگاتے چہرے کو دیکھکر زوفا نے بے اختیار اس کی نظر اتاری۔ جبھی بانو ناشتہ لے آئی تھی۔ اس نے زوفا سے کہا مگر وہ انکار گئی۔ وہ الریڈی ناشتہ کر کے فارغ ہو چکی تھی۔ مرحا زوفا سے ادھر ادھر کی ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے خود بھی ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔

               💛💛💛💛💛

دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ ایس پی حسن بے چینی سے ہاسپٹل کے کاریڈور میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔ بی جان کی طبیعت آج پھر گڑ بڑ ہو گئی تھی جس کے پیشِ نظر انہیں فوری طور پر ہاسپٹل داخل کرانا پڑا تھا۔
وہ سخت ٹینشن میں مبتلا تھا۔ اس کے لئے دنیا میں ایک واحد رشتہ بی جان کا ہی تو بچا تھا۔ ماں باپ کی وفات کے بعد بی جان و دادا جان نے اسے نہایت شفقت و محبت سے پالا تھا۔ پھر دادا جان کی ابدی جدائی کے بعد اب اس کے پاس صرف بی جان ہی تھیں جو اس کی سب کچھ تھیں۔ چونکہ اس کے والد صاحب اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے سو کسی اور رشتے کا آسرا بھی ساتھ نہ تھا۔ رہ گئے ننھیال والے تو وہاں بھی قِصّہ تقریباً سیم ہی تھا۔ اس کی ماں بھی اپنے والدین کی ایک ہی بیٹی تھی۔ ایک بیٹا تھا جو والدین کی وفات کے بعد فیملی سمیت بیرون ملک شفٹ ہو گیا تھا۔ اپنے اکلوتے ماموں سے بھی اس کا رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کی زندگی میں صرف ایک ہی مخلص دوست تھا “میر سالار؛ اس کے علاوہ اس کا کوئی دوست نہ تھا۔ لوگوں سے شناسائی ایک طرف مگر اس کا جگری دوست میر سالار ہی تھا۔

وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامتے ہوئے کاریڈور میں موجود چئیر پر آ بیٹھا۔ اس کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا۔ بی جان کو کوئی بڑی بیماری لاحق نہ تھی بس وہ تنہائی کے اس روگ سے اکتا سی گئی تھیں۔ وہ بھی کام کے سلسلے میں دو، چار روز گھر سے دور رہتا تھا۔ ایسے میں بی جان بہت زیادہ وحشت زدہ سی ہو جاتی تھیں۔ کئی بار انہوں نے اس سے کہا کہ “حسن تم شادی کر لو، تا کہ میری تنہائی بھی کچھ دور ہو؛ مگر وہ ہر بار ٹال جاتا تھا کیونکہ فلحال وہ ابھی شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
اس وقت بی جان ائی۔سی۔یو میں موجود تھیں۔ ڈاکٹر کے مطابق وہ کسی ٹینشن میں تھیں۔ ڈاکٹر نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ “انہیں ہر قسم کی پریشانیوں سے دور رکھا جائے وگرنہ ان کو خدانخواستہ ہارٹ اٹیک یا برین ہیمرج کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے؛،، یہ سننے کے بعد حسن کی فکر میں مزید اضافہ ہو گیا۔

نہ جانے کتنی دیر وہ اسی زاوئیے پر بیٹھا رہا پھر چئیر سے اٹھ کر دوبارہ چکر کاٹنے لگا۔ جبھی فون کی رنگ پر اس نے پاکٹ سے فون نکالا تو میر سالار کا نمبر سکرین پر دیکھ کر فون ریسیو کر کے کان سے لگایا۔
“یار حسن تو کدھر ہے؟ میں واپس آ گیا ہوں۔ اور بتا سب خیریت ہے نا؟ میر سالار نے فون ریسیو ہوتے ہی پوچھا! آواز سے ایسا لگتا تھا وہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے۔
“سالار یار بی جان کی طبیعت دوبارہ خراب ہو گئی ہے میں انہیں ہاسپٹل لایا ہوں! حسن نے اداسی سے کہا۔

“واٹ؟ اگین؟ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ کس ہاسپٹل میں ہو نام بتاؤ! میں ادھر ہی آ رہا ہوں! میر سالار کو یہ خبر سن کر جھٹکا لگا تھا۔ فوراً ہاسپٹل وغیرہ کا نام پوچھتے ہوئے اس نے فون کٹ کر دیا۔ حسن دوبارہ چئیر پر بیٹھتے ہوئے سالار کا شدت سے انتظار کرنے لگا۔