No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
جس کی جھنکار میں دل کا آرام تھا وہ تیرا نام تھا
میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو ایک نام تھا، وہ تیرا نام تھا!!
مجھ سے منسوب تھیں داستانیں کئی ایک سے ایک نئی
خوبصورت مگر ایک جو الزام تھا، وہ تیرا نام تھا!!
کیسے کرتا کسی اور کی گفتگو یاد تھا صرف تو
مجھ کو میرے جنوں کا جو انعام تھا، وہ تیرا نام تھا!!
صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی وہ تیری آس تھی
شام تک جو کچھ لبِ بام تھا، وہ تیرا نام تھا!!
دوست جتنے تھے ناآشنا بن گئے، پارسا بن گئے
جو میرے ساتھ رُسوا سرِ عام تھا، وہ تیرا نام تھا!!
غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھے
ایک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا، وہ تیرا نام تھا!!
وہ پتھرائی ہوئی ساکت آنکھوں سے شاکڈ سا کھڑا سامنے بوسیدہ سے فرش پر بے ترتیب پڑے وجود کو دیکھ رہا تھا۔ جس کی حالت کسی لٹے ہوئے رہزن کی مانند لگ رہی تھی۔ دوپٹہ قدرے فاصلے پر زمین میں پڑا ہوا تھا، بکھرے بالوں و بکھرے لباس میں، وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ پڑی تھی۔ میر سالار اسے اس حالت میں دیکھکر کچھ لمحے تک اپنی جگہ سے ہلنے کے قابل نہیں رہا۔ یکایک وہ ہوش میں آیا اور تیر کی سی تیزی سے اندر کی جانب بڑھا۔ اس ہولناک منظر نے اس پل اس کے حواس مختل سے کر دیئے تھے۔ کچھ غلط ہو جانے کے خدشے نے اس کے دل کی دھڑکنوں میں اس قدر اضافہ کر دیا تھا کہ وہ اِس پل بخوبی اس کی آواز سن سکتا تھا! دوپٹہ زمین سے اٹھا کر وہ اس کی جانب بڑھا۔
“مِرحا،،،، اس نے گھٹنوں کے بل زمین پر ٹک کر اس کے بیہوش وجود کو اپنے بازوؤں میں سمیٹا۔ ساتھ ہی اس کے گرد دوپٹہ لپیٹ دیا۔
“مرحا، آنکھیں کھولو، میں یہاں ہوں تمہارے پاس، اوپن یور آئیز پلیز!!! اس کا پسینے سے تر چہرہ تھپتھپاتے ہوئے میر سالار کے لہجے میں اس پل بے بسی رچی بسی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایک پل کے اندر اسے اس کے قدموں پر کھڑا کر دے۔
“پانی لاؤ، یہاں کھڑے کھڑے دیکھ کیا رہے ہو ہاں؟ اس نے دہلیز پر کھڑے اپنے محافظوں کی جانب دیکھا اور غرا کر بولا۔ وہ سارے بھی ناسمجھی کی کیفیت میں سہمے سہمے سے کھڑے تھے۔ اس کی خوں اندام نظروں پر ان میں سے ایک شخص بوکھلاتے ہوئے فوراً پانی کی تلاش میں نکل گیا۔
“مرحا یار، گیٹ اپ پلیز!! تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ ان سب کو ایسی عبرتناک سزا ملے گی کہ مرتے دم تک “میر سالار؛ کا خوف ان کے ذہن و دل میں رہے گا۔۔۔ وہ ایک بار پھر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا سلگتا لہجہ آنے والے وقت کی نشاندہی کر رہا تھا!
تھوڑی دیر کے بعد انور پانی کی بوتل کے ساتھ آیا تو میر سالار نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ مزید سہم گیا۔
“تم کیا پانی کا چشمہ دریافت کرنے گئے تھے؟ عقل و شعور کھو بیٹھے ہو؟ اتنا وقت کیوں لگا تمہیں ہاں؟ بوتل اس کے ہاتھ سے لے کر اس نے جس انداز میں انور سے پوچھا، انور سمیت وہاں موجود مزید دو شخص بھی ہراساں سے نظر آنے لگے۔ اس وقت وہ جس ذہنی کیفیت سے گزر رہا تھا اس کے محافظوں کو اس کا بخوبی علم تھا۔ غصّے کی حالت میں تو وہ ویسے بھی کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا۔ وہ لوگ دل ہی دل میں اپنی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگے۔
“سائیں، یہاں کہیں پانی موجود نہیں ہے۔ یہ جگہ کھنڈرات سے بھری پڑی ہے۔ مجھے آبادی کی جانب جانا پڑا اس وجہ سے وقت لگ گیا۔۔!! انور نے ہمت کی اور اور تاخیر کی وجہ بتائی۔ میر سالار بنا کوئی رسپانس دئیے مرحا کے چہرے پر پانی چھڑکنے لگا۔ دو سے چار بار اس عمل پر اس نے ہلکی سی جنبش کی ساتھ ہی زرا سی آنکھیں کھول دیں۔ میر سالار کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہونے لگے۔
“مِرحا، میں ہوں سالار، تمہارے پاس ہوں میں میری جان، فکر کی قطعاً کوئی بات نہیں!! اسے اٹھا کر بٹھاتے ہوئے اس نے اس کے بکھرے بالوں کو سمیٹا اور پھر پانی کی بوتل اس کے منہ سے لگا دی۔ وہ ایک سانس میں ہی چند گھونٹ پی گئی اور پھر نم آنکھوں سے بے دم انداز میں اس کے ساتھ لگ گئی۔ میر سالار نے اپنا تحفظ بھرا حصار اس کے گرد باندھ کر اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔ وہ جانتا تھا وہ بہت سہم گئی ہے۔ فلحال وہ اس سے کوئی بھی سوال کر کے اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا پہلے وہ تھوڑی سی پرسکون ہو جائے پھر ہی جا کر وہ اس سے ان سب کے متعلق کچھ پوچھے گا۔
“تم سب گاڑی میں بیٹھو، میں آتا ہوں،، اس نے ان سب کو حکم دیا تو وہ وہاں سے چلے گئے۔
“میں بہت ڈر گئی تھی سائیں، مجھے لگا اب آپ کو کبھی دوبارہ نہیں دیکھ سکوں گی۔ وہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ مجھے ان سے بہت خوف محسوس رہا ہے۔۔ اس سے پہلے کہ وہ واپسی کیلئے اٹھتا مِرحا کی بھیگی اواز پر ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے سسکیاں لے رہی تھی۔
“کچھ نہیں ہوگا میری زندگی، تم ریلیکس کرو۔ ان کا پالہ اس بار میر سالار شاہ سے پڑا ہے۔ “موت؛ اور “زندگی؛ کا اصل مطلب تو انہیں اب پتہ چلے گا۔۔۔ اس کی آواز طیش و غضب کی حِدّت سے دہک رہی تھی۔
“سائیں، وہ سب مجھے بیدردی سے کھینچتے ہوئے یہاں لائے۔ میں چیختی رہی مگر انہیں مجھ پر ترس نہیں آیا۔ اس کے بعد وہ سب یہاں سے چلے گئے۔ میں تھوڑی دیر مدد کے لئے چلاتی رہی اور پھر مجھے کچھ بھی ہوش نہیں رہا۔ شکر ہے آپ آ گئے، ورنہ میں تو مر گئی ہوتی! مرحا نے سختی سے اس کے گرد اپنی گرفت مضبوط کی۔ آواز پست سی تھی۔
“چپ کرو۔ ایسی باتیں تو نہ کرو۔ ہم ہمیشہ ساتھ اور پاس رہیں گے۔ مِرحا مجھے تمہارے معاملے میں کسی پر اعتبار نہیں ہے اگر ہوتا تو میں تمہیں حویلی نہ چھوڑ کے آ جاتا، جبکہ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ وہاں تمہاری ماں بھی موجود ہے۔ بڑی حویلی میں واحد ہستی ہیں وہ جو تمہاری سچی خیر خواہ ہیں، مگر حویلی والوں کے سامنے وہ بھی مجبور ہیں میں جانتا ہوں۔ تم پر وہاں کوئی بھی مصیبت آتی تو وہ کر ہی کیا سکتی تھیں۔۔۔،، میں تمہیں ہمیشہ اپنے قریب دیکھنا چاہتا ہوں۔ بات یہ بھی ہے کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا یار۔۔!!! اس نے اسے خود میں بھینچ لیا۔ مرحا کے دل میں گونہ گونہ سکون اترنے لگا۔
“اب چلتے ہیں۔۔! میر اسے بازوؤں میں اٹھائے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کھنڈر عمارت سے نکلتا چلا گیا۔
🌸🌸🌸🌸🌸
ڈنر پر بس وہ اور بی جان موجود تھیں۔ ایس۔پی حسن کا کچھ پتہ نہ تھا۔ ڈنر سے فارغ ہو کر وہ اور بی جان باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ باتوں ہی باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور اب گھڑی کی سوئیاں بارہ کے ہندسے پر جا رہی تھیں۔ اس پر اب نیند کا غلبہ چھانے لگا تھا۔ بی جان بھی اب تھک سی گئی تھیں۔ وہ بی جان کو ان کے کمرے میں پہنچا کر خود بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ اس نے کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اپنے نام کی پکار سن کر ٹھہر گئی۔
“بہت خوش ہیں آپ!!! حسن کی آواز پر وہ اس کی جانب پلٹی جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ شاید ابھی ابھی لوٹا تھا۔
“کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہئے؟ زوفا نے کچھ حیرت سے پوچھا
“بالکل ہونا چاہئے، آفٹر آل آپ اتنے عرصے بعد حویلی جو جا رہی ہیں۔ مگر اس خوشی میں یہ مت بھول جائیے گا زوفا کہ یہاں کوئی اور بھی ہے جو آپ کا منتظر ہے۔۔! وہ اس کے بے داغ، چاندنی کی مانند چمکتے چہرے پر نظریں دوڑاتے ہوئے بیقراری سے بولا۔
“ایس۔پی صاحب، مانا کہ آپ نے میرے اوپر احسان کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ میرے بارے میں اس قسم کے خیالات رکھیں۔ معاف کیجئے گا مگر جو آپ چاہتے ہیں وہ سراسر ناممکن ہے!! وہ تپی ہوئی آواز میں بولی۔ چہرہ سرخ سا ہونے لگا۔
“میں کیا کوئی گناہ کر رہا ہوں جو آپ اس طرح سے ری ایکٹ کر رہی ہیں؟ زوفا میں نے آپ سے خلوصِ دل سے محبّت کی ہے۔ میں تب تک آپ کا انتظار کر سکتا ہوں جب تک آپ اپنی مکمل رضامندی نہیں دیتیں، مگر خدارا میری نیت پر تو شک مت کریں۔۔!! حسن گویا تڑپ کر بولا۔
“میں اب ان سب کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پہلے کیا کم میری زندگی میں مشکلات ہیں جو اب آپ بھی آ گئے ہیں۔ آپ کوشش بھی مت کیجئے گا کیونکہ میں اب اپنی باقی ماندہ زندگی تنہا ہی گزارنا چاہتی ہوں۔۔ خدا کیلئے میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔!! زوفا نے غم و غصّے سے لرزتی آواز میں کہا۔
“آپ ڈائریکٹ یہ کیوں نہیں کہتیں کہ سانس لینا ہی چھوڑ دوں؟ متغیر چہرے کے ساتھ ہونٹ بھینچ کر وہ زمین پر پڑی نادیدہ شئے کو گھورنے لگا۔ زوفا چونک کر اسے دیکھنے لگی جو بہت ہی شکشت خوردہ سا لگ رہا تھا۔
“آپ بہت اچھے انسان ہیں مگر میری زندگی جس نشیب و فراز کا شکار رہی ہے میں شاید اس سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ آپ کو مجھ سے بہتر بہت سی لڑکیاں مل جائیں گی۔ ایک نیک و وفا شعار لڑکی جب آپ کی زندگی کا حصہ بنے گی تو آپ خودبخود سب کچھ بھول جائیں گے!! اس کی بات پر حسن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی جس میں عجیب سی ٹوٹ پھوٹ تھی۔
“مشورے کا بہت بہت شکریہ محترمہ زوفا۔۔ مجھے کسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہئے اور کسے نہیں کرنا چاہئے مجھے لگتا ہے میں اس کا بہتر فیصلہ کر سکتا ہوں ٹھیک ویسے ہی جیسے آپ کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ بس ایک بات کہنا چاہوں گا “جو شخص ماضی کا طوق گلے میں لٹکائے پھرتا ہے وہ اپنے حال اور مستقبل کا کبھی خیر خواہ نہیں ہو سکتا؛ چلتا ہوں۔۔ خدا حافظ!! لفظ بہ لفظ ٹھہر ٹھہر کر کہتے ہوئے وہ جھٹکے سے پلٹا اور برق رفتاری سے سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چلا گیا۔ زوفا اپنی جگہ بے حس و حرکت خالی ذہن کیساتھ کھڑی رہ گئی۔
ہم زباں میرے تھے ان کے دل مگر اچھے نہ تھے منزلیں اچھی تھیں، میرے ہمسفر اچھے نہ تھے!!
جو خبر پہنچی یہاں تک اصل صورت میں نہ تھی
تھی خبر اچھی مگر، اہلِ خبر اچھے نہ تھے!!
بستیوں کی زندگی میں بے زری کا ظلم تھا
لوگ اچھے تھے وہاں کے، اہلِ زر اچھے نہ تھے!!
ہم کو خوباں میں نظر آتی تھیں کتنی خوبیاں
جس قدر اچھے لگے تھے، اُس قدر اچھے نہ تھے!!
اس لئے آئی نہیں گھر میں محبّت کی ہوا
اس محبت کی ہوا کے منتظر اچھے نہ تھے!!
💛💛💛💛💛
اس پر لحاف درست کر کے وہ آہستگی سے اس کی جانب جھکا اور جذب سے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے۔ وہ اسے ہی یک ٹک دیکھ رہی تھی
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میر سالار اس کا ہاتھ تھامے بیڈ کے پاس پڑی چئیر پر بیٹھ گیا۔ وہ چاہتا تھا وہ آرام کر لے مگر مِرحا کی آنکھوں میں نیند کا ابھی دور دور تک پتہ نہ تھا۔ اس دوران وہ اس کے کہیں نہ جانے کے متعلق دو دفعہ پوچھ چکی تھی۔
“آپ بہت اچھے ہیں سائیں، مِرحا نے اپنی ننھی سی گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط کی۔
“کیا واقعی؟ وہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔
“ہاں، اور مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔۔ وہ نثار ہو جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“جانتا ہوں میری زندگی، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مخمور انداز میں بولا
“آپ کہیں نہیں جا رہے ہیں نا؟ میرے پاس ہیں نا؟ مرحا نے ایک بار پھر وہی سوال دہرایا۔
“نہیں جا رہا کہیں بھی، اب جہاں بھی جانا ہو صبح ہی جاؤں گا۔ تم آنکھیں بند کرو میں یہیں ہوں۔۔ اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“آپ لیٹ جائیں نا،، کب تک یونہی بیٹھے رہیں گے؟ مرحا کی بات پر بیساختہ میر سالار کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی۔ وہ اس کی چالاکی خوب سمجھ رہا تھا۔ اکثر رات کو اسے کہیں نہ کہیں جانا ہی پڑ جاتا تھا۔ مِرحا کو اس کے یقین دلانے پر بھی یہی خدشہ لاحق تھا کہ وہ کسی بھی پل اٹھ کر چل دے گا۔
“آپ ہنس کیوں رہے ہیں سائیں؟ اس بار وہ کچھ خفگی سے بولی۔
“بس ایسے ہی، وہ مسکراہٹ دبا کر اس کا خفا خفا سا چہرہ اپنی آنکھوں میں بسانے لگا۔
“آپ آ رہے ہیں کہ نہیں؟ وہ منہ پھلا کر بولی۔ اشارہ اس کے لیٹنے کی جانب تھا۔
“آ رہا ہوں، وہ چئیر سے اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے کی لائٹ آف کر کے نائٹ بلب آن کیا اور بیڈ کی دوسری جانب آ لیٹا۔
“بہت ہنسی آتی ہے آپ کو اور وہ بھی “ایسے ہی؛ میں کیا پاگل ہوں؟ اندھیرے میں اس کی آواز سنائی دی تو میر سالار کا بیساختہ قہقہہ گونجا تھا۔
“تو آپ کو اس میں کوئی شک ہے کیا مائی سویٹ ہارٹ؟ مسکراتی آواز میں اس نے اس کے گال پر چٹکی بھری۔ مرحا نے ایک ننھا منا سا مکا اس کے کندھے پر دے مارا۔ سالار نے ہنستے ہوئے اس کے مرتعش وجود کو اپنی جانب کھینچا اور کسی قیمتی شئے کی مانند خود میں سمیٹ لیا۔
تیرا رابطہ میری ہر دوا یہ دوا ملے تو میں ٹھیک ہوں! ❤️❤️❤️❤️❤️
اس کے دو پیپرز اب بھی باقی تھے۔ شادی سے پہلے تو اس نے ایگزامز کی تیاری زور و شور سے شروع کی تھی اس کے چند پیپرز تو اچھے گئے تھے باقی جو دو رہ گئے تھے اب اسے اس کیلئے کافی پاپڑ بیلنے تھے، کیونکہ اب اس سے تیاری کیا خاک ہونی تھی۔ سکندر شاہ بھی اس سے ناراض تھا اور اپنے بے جا شکوک کی وجہ سے تو آج کل اس نے خود کو ویسے بھی خوار کیا ہوا تھا۔ وہ بیگ لئے بیڈ پر آ بیٹھی۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ سکندر شاہ بھی اب تک کمرے میں نہ آیا تھا۔ اس نے وقت دیکھا اور دل ہی دل میں بل کھا کر رہ گئی۔
“ہونہہ میں نے بھلا ایسا بھی کیا پوچھ لیا جو محترم اس حد تک سیخ پا ہو گئے؛ کڑھ کے سوچتے ہوئے اس نے بیگ سے بکس نکالی ہی تھیں کہ بکس کے ساتھ ہی وہ ڈائری بھی باہر نکل آئی۔ ڈائری دیکھ کر حرم کے نقوش تن سے گئے۔ پیشانی شکن آلود ہو گئی۔ اس دن کے بعد سے اس نے اس ڈائری کو ایک بار بھی نہیں کھولا تھا۔ وہ ڈائری کو گھورتی نظروں سے دیکھ ہی رہی تھی کہ آہٹ پر بے طرح ہڑبڑا کر ڈائری کو واپس بیگ میں ڈالا۔ اندر داخل ہونے والا سکندر شاہ تھا۔ حرم نے جس ہڑبڑاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا اس کی اس حرکت کو اس نے کچھ سے حیرت سے مگر بغور دیکھا تھا، جبکہ حرم اسے دیکھ کر بیڈ سے اٹھی اور لپک کر اس کے قریب آئی۔
“کدھر تھے آپ سکندر سائیں؟ آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ میں کس قدر پریشان تھی؟ اس کا بازو جکڑ کر اس نے کچھ تیز لہجے میں پوچھا۔
“کیوں؟ کیوں پریشان تھیں تم؟ تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ جو تم پریشان حال پھر رہی ہو اس میں سراسر تمہارا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ بے جا شک و وہم نے تمہاری عقل کو ناقص کر دیا ہے۔۔۔! وہ جھٹکے سے اس کی گرفت سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے جل کر بولا۔
“اوہ اچھا، میری باتیں آپ کو اتنی تکلیف کیوں دیتی ہیں ہاں؟ اس زوفا کا نام سنتے ہی آپ کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟ میں جب بھی اس کا نام لیتی ہوں آپ تو ہتھّے سے ہی اکھڑ جاتے ہیں! حرم نے لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچایا۔
“وہ لڑکی اب میری زندگی کا حصہ نہیں ہے حرم۔ اس کے بارے میں بات کر کر کے تم میری اور اپنی زندگی سے خوشی و سکون کو رخصت کر بیٹھو گی۔ میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسے طلاق دے چکا ہوں میں۔ تمہاری سمجھ میں میری بات کب آئے گی؟ وہ چبا چبا کر بولا اور وارڈروب سے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ نکال کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔ حرم ایک نظر ڈریسنگ روم کے بند دروازے پر ڈالتی بیڈ پر آ ٹکی۔ وہ نہ جانے کن سوچوں میں گُم تھی کہ وہ ڈریسنگ روم سے نکل آیا اور بنا اس کی جانب دیکھے آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ حرم اسے دیکھ کر فوراً اٹھی اور اس کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
“اچھا تو اب کیا ایسے ہی ناراض رہیں گے مجھ سے؛ اس نے نزاکت سے سکندر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ سکندر شاہ جو اپنے بالوں کو سنوار رہا تھا۔ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“حرم مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ تم بے بنیاد شک کرتی ہو۔ تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ تمہاری اس حرکت سے ہمارا رشتہ کس قدر متاثر ہو سکتا ہے؟ ہئیر برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا جس کے چہرے پر ندامت تو نہیں ہاں مگر کچھ خاموشی ضرور چھائی ہوئی تھی۔
“میں جو کچھ کہہ رہا ہوں کیا تمہیں اس کی سمجھ آ رہی ہے حرم؟ سکندر نے بغور اس کا انداز نوٹ کیا۔
“جی بالکل، ٹھیک ہے جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا مگر میں بتا دیتی ہوں کہ زوفا کیلئے میرے دل میں کبھی نرم گوشہ پیدا نہیں ہو سکتا!! وہ کچھ سوچتے ہوئے کچکچا کر بولی۔ سکندر شاہ کندھے اُچکا کر صوفہ کی طرف بڑھ گیا۔
“چھوڑو ان باتوں کو، تم زرا میرے لئے اچھی سی کافی بنا لاؤ ساتھ میں کچھ کھانے کیلئے بھی لے آنا۔ اس کے بعد ایک اچھی سی مووی دیکھیں گے۔۔! وہ ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے ہلکے پھلکے لہجے میں بولا تو حرم کا چہرہ خوشی کے مارے لشکارے مارنے لگا۔
“ابھی لاتی ہوں سائیں، وہ چہکتے ہوئے باہر نکل گئی۔ یکایک سکندر شاہ کی نظر غیر شعوری طور پر حرم کی پھیلائی کتابوں پر جا پڑی۔ اس کے ذہن میں چند منٹس پہلے والا منظر گھوم گیا۔ وہ الجھتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“دیکھوں تو سہی آخر حرم صاحبہ کو مجھ سے کیا چھپانے کی زحمت آن پڑی، وہ زیرلب بڑبڑاتے ہوئے بیڈ کے پاس آ رکا ساتھ ہی اس کے بیگ کو ہلکا سا چھوا تو ایک رنگین کور کا سرا اس کے ہاتھ آ لگا۔ اس نے اسے باہر کھینچا تو اپنے سامنے ایک ڈائری دیکھ کر بیساختہ اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آ گئی۔
“اوہو ڈائری؟؟ یعنی کہ محترمہ کو پڑھائی سے زیادہ ڈائری لکھنے میں دلچسپی ہے اور یہ ایسا بھی کوئی شوق رکھتی ہے مجھے کبھی خبر کیوں نہیں ہونے دی۔ خیر دیکھتے ہیں کیا کیا راز چھپے ہوئے ہیں اس میں!!! وہ ڈائری کے کور کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے خود سے بولا ساتھ ہی کور پلٹا تو پہلے صفحے پر خوبصورتی سے درج نام پر جیسے ہی اس کی نگاہ گئی وہ وہیں جم سا ہو گیا۔ اس کی ساکت نظریں اس نام پر ٹھہر سی گئی تھیں۔
